Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 30

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 30

–**–**–

سو تو تھوڑی دیر کے لیے کچھ سال پیچھے ناران کے جنگل میں گزری رات میں چلتے ہیں

علی سبحان کی آنکھ ایک عجیب سے احساس سے کھلی تھی
ایک نرم و نازک ہاتھ اسکی مونچھوں اور رخسار سے ٹکرا رہا تھا
اس نے سر کو زرا کی زرا پلٹا کر دیکھا جسکی وجہ سے وہ ہاتھ اسکے ہونٹوں سے مس ہونے لگا تھا
ٹھنڈ سے اکڑ چکے جسم میں ایک نرم گرم سے احساس نے انگڑائی لی تھی
ٹھنڈی برف جیسی فسوں کرتی تنہا رات اور پاس بے خبر سوئے نسوانی وجود نے اسکے اندر کے نفس پرست مردکو بیدار کیا تھا

پھر اس سے پہلے کے وہ نفسانی خواہشات کے دھاروں میں بہہ کر کچھ بہت غلط کر بیٹھتا رب کی رحمت جوش میں آئی تھی اور پاس کی کسی پہاڑی بستی سےفجر کہ آذان بلند ہوئی

لڑکی کی طرف بدنیتی سے بڑھتا اسکا ہاتھ یکلخت کپکپایا تھا پھر جیسے جیسے آذان ہوتی گئی اسکے جسم میں جھٹکے لگنے لگے اور آنکھیں شدے ندامت سے زمین میں گڑنے لگیں

وہ فوراً سے اٹھا تاکہ فلوقت اس جگہ سے دور جاسکے یا اپنے نفس کو لعنت ملامت کر سکے
باہر کی طرف اٹھتے قدم کسی چیز سے الجھے تھے ۔
وہ پھر سے لڑکی کے قریب گرا تھا اتنا کے وہ اسکے چہرے کو دیکھ سکتا تھا ۔
لیکن اسکی نظریں نیچی تھیں اس نے اٹھتے ہوئے آنکھیں زور سے میچ لیں
کیونکہ پہلہی بار کی غیر ارادی نظر کے بعد نگاہیں ہی ابتدائی گناہ کرتی ہیں پھر اسکے بعد ایک کے بعد ایک ہمارا دل ہمارا نفس حتٰی کے جسم گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور انسان روح سمیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ٹہرایا جاتا ہے جب تک کے لیے سچے دل سے توبہ نہ کر لے۔۔

سو پھر تو ثابت ہوا نا کہ جو انسان ابتدائی غیر ارادی نظر کے بعد نگاہوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے وہ ہمیشہ گناہوں سے بچا رہتا ہے اور وہ توبہ کہ وقت کی ندامت سے بھی بچا رہتا ہے

علی سبحان بھی چاہتا تھا کہ گناہ کہ اس اولین جذو کو استعمال کرتے پھر سے اپنے نفس کو بھٹکنے کا موقع نا دے
پاوں میں اس لڑکی کا مفلر الجھا ہوا تھا اس نے پیروں کو مفلر کی قید سے آزاد کروایا اور اٹھا تو ایک بلکل غیر ارادی غیر متعین گستاخانہ سی نظر لڑکی کے چہرے پر پڑی
اسکا دل بے اختیار دھڑکا اور وہ تھم سا گیا دماغ ماؤف ہوگیا بلکہ جنگل کا ہر چرند پرند جہاں تھا وہاں رک گیا
بلکہ جیسے جیسے وقت رک سا گیا ۔
(رات برف ٹھنڈ کی وجہ سے چہرے پر جما خون ہیٹر اور سلیپنگ بیگ کی ہیٹ کی وجہ سے پگھل گیا تھا کچھ چہرے پر اور بھونوں پے گری برف کی وجہ سے چہرہ کسی حد تک واضح ہوا تو رہی سہی کسر زلیخا نے رات اٹھ کر چہرے صاف کرتے پوری کردی تھی)

وہ زلیخا علی کریم تھی جسکےنام پر علی سبحان کا دل خود بخود لہہ اور تال بدل کر سروں میں دھڑکنے لگتا تھا جسے اس نے خود سے بھی چھپ کر چاہا تھا اور بے حساب چاہا تھا۔

وہ یک ٹک بنا کسی جنبش کے زلیخا کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا
یہاں تک کہ بہت آہستہ سے اسکے جسم نے ایک بار پھر سے کپکپانا شروع کیا وہ لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے ہٹنے لگا اور الٹے قدموں چلتے کپکپاتے جسم ماوف ہوچکے دماغ کے ساتھ خیمے سے باہر چلا آیا جہاں کئی فٹ تک برف پڑچکی تھی
لیکن وہ خیمے سے دور ہوتا چلا گیا گرتا پڑتا الٹے قدم چلتا وہ خیمے سے کافی دور ہوگیا
خیمے پر ٹکی نظریں دھندلانے لگیں پھر بہنے لگیں
صبح کی سپیدی تاریکی کو نگل رہی تھی اور ہر طرف خدائی نور پھیل رہا تھا ۔

رات بھر برف سے ڈر کر دبکے بیٹھے پہاڑی پرندے جو ساری رات رب سے خیر مانگتے رہے تھے اب ایک ایک کرکے اس پاک ذات کی حمد و ثنا کرنے لگے تھے
کیونکہ تاریکی کے مسحور کن شر کو سر نگوں ہونا پڑا تھا اور رب رحیم نے خیر کی تھی

پھر ان پرندوں نے بڑی حیرانی سے دیکھا برف پوش پہاڑوں کے ساتھ برف سے اٹے اونچے لمبے درختوں نے بھی بڑے تعجب سے دیکھا کہ کوئی خوبرو شہزادوں جیسا مرد گھٹنوں کے بل برف پر جھکا اسکی آنکھیں زارو زار بہہ رہی تھیں پھر وہ بہتی آنکھوں سے ہی سجدے میں جھک گیا تھا
ان سب پرندوں درختوں پہاڑوں کی آنکھوں میں حیرانی اور تعجب کی جگہ اس پیارے سے شخص کے لیے عقیدت نے لے لی جو شاید دنیا میں پہلا ایسا انسان تھا جو چیڑ کے بلند وبالا برفانی جنگل میں سجدہ شکر بجا لایا تھا۔

علی سبحان کا پہلی بار کپکپانا خشیت الہیٰ کی وجہ سے تھا لیکن اب اسکے جسم میں کپکپاہٹ شکر کہ وجہ سے تھی کہ خدا نے رحم کیا اور اسے بچا لیا اپنی ہی محبت کو داغداد کرنے سے جبھی تو وہ آس پاس کو فراموش کیے وہاں برف میں سجدہ شکر کیے رو رہا تھا ۔

پس پھر ایک اور بات ثابت ہوئی کہ جب رب کی رحمت ہمیں کچھ بہت انتہائی اور برا کرنے سے باز رکھے یا بچا لے تو آزامائش کی ان گھڑیوں کے گزرنے کے بعد سجدہ شکر بجا لانا ہم پر واجب ہوجاتا ہے

پھر نا ناران کا جنگل دیکھنا چاہئے نا کئی فٹ تک پڑی برف بس فوراً سے جھک جانا چاہئے کیونکہ یہ زمین پر جھکنا ہمیں آسمان کی بلندیوں جتنا بلند کرتا ہے۔

وہ کافی دیر رب کے حضور رزو نیار کرتا رہا کافی رو چکنے بعد جب دل کو تھوڑی تسلی ہوئی تو اٹھ کھڑا ہوا اور واپس خیمے کی طرف بڑھا لیکن خیمے کر قریب پہنچ کر اسے اچانک ثانیہ اور اسکی کہی گئی باتیں یاد آئیں ۔
اسے یہ بھی یاد آیا کہ ثانیہ بھی ان لوگوں کے ساتھ تڑپ پر آئی ہوگی
اور اب اگر پولیس زلیخا کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں آ پہنچی اور علی کو یہاں پایا تو؟
تو زلیخا بدنام ہو جائے گی اور اسی کے نام سے بدنام ہوگی
نہیں مجھے یہاں نہیں رکنا چاہئے اسکے ذہن نے کہا تھا
لیکن میں زلیخا کو یوں چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟
دل نے آخر اپنی ہی کہنی تھی
سو دل اور دماغ جب ایک فیصلے پر یکجا ہوئے تو وہ کی خیمے سے دور بہت دور اتنا دور کے خیمہ بامشکل نظر آرہا تھا ایک درخت کی اوٹ میں خیمہ کو نظر، میں رکھے چھپ کر کسی مدد کا انتظار کرنے لگا ۔

جب اس نے دور پہاڑوں سے مقامی لوگوں کے ساتھ پولیس کو آتے دیکھا ۔
وہاں سے واپس جانے کے لیے نکل پڑا جب یونی انتظامیہ وہاں پہنچی تب تک وہ نیچے سڑک پر ناران جانے کے لیے بس پکڑ چکا تھا۔

اور زلیخا کی خوشبو میں بسا مفلر کا ایک پلو اسکی گردن کے گرد سے ہوتے اسکے عین دل علاے مقام ہر گر رہا تھا ۔
اسے سکون پہنچا رہا تھا کہ وہ اپنے رب کی بارگاہ میں بھی سرخرو تھا وقت آنے پر محبوب کی بارگاہ میں بھی سرخرو ٹہرے گا
.————–
زلیخا نے بہت چاہا کے احمد کو لے کر دادا کے گاؤں انکے گھر چلی جائے لیکن وہ بہت چاہ کر بھی کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا پائی تھی۔
یونہی خود سے لڑتے جمعہ کا وہ مبارک دن آن پہنچا جب اسے زلیخا علی کریم سے زلیخا علی سبحان بننا تھا۔

بہاروں کا پیام تھا بہاریں خود لے کر آئیں تھین لالیاں شہر کہ اس گھر میں رنگ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اترے تھے ۔

ربنواز صاحب سارے انتظامات کرواتے بہت خوش نظر آرہے تھے لیکن آنکھوں ۔میں عجیب سی چمک جھلکتی تھی ظاہر ہے مرد تھے رو تو نہیں سکتے تھے نا۔
لیکن اگر کوئی غور سے دیکھتا تو جان جاتا کہ ان بوڑھی آنکھوں ۔میں ایک دکھ ایک اذیت چمک رہی تھی ۔
اپنے اکلوتے جوان بیٹے کی من چاہی چیز کسی اور کو سونپنا آسان تو نہیں ہوتا نا پھر چاہے وہ کسی سگا بھتیجا ہی کیوں نا ہو
لیکن سب دکھوں سے ہٹ کر انہیں خوشی تھی سکون تھا۔
شہر بانو بیگم بار بار ہنستی مسکراتی اور پھر آنکھین صاف کرتی تھیں گویا ہر جذنے کا کھل اظہار کر رہی تھیں عورت ہونے کے ناطے ان پر کوئی حد نہیں لگتی تھی ۔۔

کتنی عجیب بات ہے نا ہم ہر طرح کی حدود و قیود مرد پر لگا دیتے ہیں جب کہ عورت ان سے بچی رہتی ہے؟
کیوں بھئی؟
مرد انسان نہیں ہوتے کیا؟
انہیں بھی درد ہوتا ہےانکا دل بھی کھل کر رونے کا چاہتا ہے لیکن صرف ایک طعنے ( مرد ہوکر روتے ہو) سے بچنے کے لیے مرد اندر ہی اندر گھلتے ہیں؟
نہیں یقین؟
تو کوئی جاکر پوچھے اس باپ سے جس نے اپنا سوہنا شیر جوان پتر درد ناک آنکھوں سے ہنستے ہنستے کھویا ہو۔

کوئی پوچھے اس باپ سے جاکر جسکی جوان بیٹی بنا کسی قصور کے طلاق جیسا داغ ماتھے پر سجائے اسکی دہلیز پر آبیٹھی ہو ۔

پھر بھی نا سمجھو تو پوچھو جاکر اس باپ سے جس نے راتوں کو جاگ کر خود اپنا پیٹ کاٹ لر بیٹے کو کسی قابل بنایا ہو. اور اب وہی بیٹا کہے ابا جی آپکو تو پتا ہی نہیں ہے؟؟

عورت لاکھ محترم سہی دنیا میں لیکن ایک مرد جیسی محترم نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ باپ ہے وہ بھائی ہے وہ بیٹا ہے وہ شوہر ہے ہر رشتے میں ایک الگ رنگ لیے ہوئے

احمد ادھر ادھر چہکتا پھرتا خوش نظر آ رہا تھا
علی سبحان بہت خوش مسرور اور مطمئن تھا اس نے سوچا تھا کہ زلیخا کو آج ہی سب کچھ بتا دے گا تاکہ رخصتی سے پہلے وہ اپنے آپکو ذہنی طور پر تیار کرسکے

وہ نہیں چاہتا تھا کہ زلیخا اسے کسی بوجھ کی طرح قبول کرے ہر مرد کیطرح اسکی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنی محرم راز کا من چاہا خواب بن کر اسکی زندگی میں داخل ہو
پھر زلیخا تو اسکی پہلی اور آخری خواہش تھی جسے اس نے بڑی شدتوں سے مانگا تھا۔

اس سب میں صرف زلیخا تھی جس کے احساسات ساکت و جامد تھے کچھ بے طرح کی عجیب سوچیں اور کچھ پیچھلے کچھ دن سے آنیوالے خوابوں کی وجہ سے اسکے دل کے اندر باہر خاموشی کا راج تھا
یہ خاموشی اس وقت بھی نا ٹوٹی جب اس نے علی سبحان کے نام پر تین بار کہا تھا

قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے

—————————-
سب مہمانوں کے جانے کے بعد وہ بنواز صاحب کی اجازت سے زلیخا کے کمرے کے باہر کھڑا تھا ۔
دستک دے کر اندر داخل ہوا ۔

زلیخا کسی سے فون پر بات کر رہی تھی علی کو دیکھ کر اس نے جلدی سے الوداعی بات کی اور فون بند کرکے اسکی طرف متوجہ ہوئی
انداز و اطوار جامد تھے علی سمجھ نہیں پایا کہ اسکے ذہن میں کیا چل رہا ہے ۔

لیکن بات تو کسی طور کرنی ہی تھی اور آج ہی کرنی تھی کیونکہ کل اسے کچھ دن کے لیے واپس جانا تھا جہاں اسکی بھتیجی کی شادی لا کوئی سلسلہ چک رہا تھا اور بھائی نے ضروری بلوایا تھا۔

اسی لیے وہ آگے بڑھا اور چپکے سے ہاتھ میں پکڑا پیکٹ اسکی طرف بڑھایا
یہ تمہارے لیے ہے؟
زلیخا نے ایک پل کو اسے دیکھا پھر پیکٹ کو اور چپ کرکے اسکے بڑھے ہاتھ سے پیکٹ تھام کر بیڈ پر رکھ دیا؟
کھولو گی نہیں؟
بعد مین دیکھ لوں گی
علی کے کہنے پر اس نے ٹکا سا جواب دیا تھا ایک بار کھول کر دیکھوں تو سہی
اس نے نجانے کیوں اسرار سا کیا تھا
اس نے بھاری ہوتے دل کے ساتھ نا چاہتے ہوئے بھی وہ پیکٹ، کھولنا شروع کیا اور، بیچ سے نکلنے والی چیز نے اسکو چونکا دیا تھا

یہ کوئی اونی مفلر تھا جسکی ایک سائیڈ پر خون لگا تھا
یہ یہ وہ صرف اتنا بول پائی کیونکہ وہ پہچان نہیں سکی تھی
علی سبحان ہلکا سا مسکرایا اور بولا
یہ ایک سلیپنگ بیوٹی کا ہے ایک رات وہ برف پوش پہاڑوں میں کھو گئی تھی۔

زلیخا کو کچھ یاد آیا اور اسکے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔
پھر وہ ایک شاہ زادے کو ملی شاہ زادے نے رات بھر
چٹاخ
ایک زور دار تھپڑ علی سبحان کے منہ پر لگا تھا۔
تو وہ تم نے وہ تمہاری نحوست تھی جس نے مجھے رسوا کیا؟

علی سبحان گال پر ہاتھ رکھے غم کی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا جو اچانک آپے سے باہر ہوگئی تھی؟
رات، بھر کیا رات بھر ہاں؟
رات بھر میری بے ہوشی کا فائدہ اٹھاتے رہے اور صبح ہوتے ہی اپنا کالا منہ لے کر غائب ہوگئے

اس بار علی سبحان خان کے اندر کچھ ٹوٹا تھا پھر شدید طیش اور غمزدہ لہجے میں بولا

نہیں نہین زلی تم غلط
میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا
میں تو تم سے محبت
اور تمہارا ہی خیال کرکے چلا گیا تھا
اگر میں وہاں رہتا تو میرا کیا بگڑنا تھا۔
تمہارا احساس تھا مجھے
چپ ایک دم چپ علی سبحان خان صاحب ایک دم چپ
تم مرد احساس محبت چاہت سب پر اپنا حق سمجھنے والے
تم لوگوں کےلیے تمہاری خوشی تمہارا درد تمہارا دکھ تمہاری محبت ؟
تم تم تم ہر طرف تم تم
تو ہم کہاں ہیں ؟
علی سبحان بس اسے دیکھ رہا تھا۔

ایک نے رات گزار کر چھوڑ دیا یہ ناسوچا کہ عورت کمزور ہوتی ہے کس کس کو صفائیاں دیتی پھرے گی کہ میں اب بھی پہلے جیسی ہوں جس کے ساتھ ۔میں رات بھر رہی وہ محافظ تھا راہزن نہیں؟

دوسرے نے اپنا کر چھوڑ دیا
جی اسے لگا کہ میں اسکے ساتھ خوش نہیں ہوں؟
کیسا کم عقل تھا یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ عورت صرف من چاہے مرد کو اپنا آپ پورے حق سے سونپتی ہے ۔
ان چاہے مرد کو جسم تو سونپتی ہے مگر، اپنا آپ نہین دیتی
میں نے اسے خود، کو روح سمیت سونپا تھا مگر پھر بھی اسے لگا
اسکی آواز بھرا گئی تھی

عورت کو انسان کیوں نہیں سمجھتے تم لوگ اس کے خواب ٹوٹتے ہیں تو اسے بھی درد ہوتا ہے لیکن پتہ ہے وہ تم لوگوں کی طرح واویلا نہیں کرتی
ارے انسان ہوتی ہے وہ بھی
کم از کم سنبھلے کا موقع تو اسے ملنا چاہئے اسکا حق ہے لیکن نہیں؟

تم مرد کیا جانو کہ عورت چپ چاپ ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں اپنے وجود میں سمیٹے ہنستے ہنستے کسی اور کے خوابوں کو پورا کرنے کے تعاقب میں چل پڑتی ہے۔

کبھی باپ کا شملہ اونچا کرنے کو تو کبھی بھائی کا دل آباد کرنے کو خود کو اپنے دل کو اجاڑ دیتی ہے اف تک نہیں کرتی۔

ان چاہے ہمسفر کے ساتھ بڑی چاہ سے زندگی گزارتی ہے پھر بھی تم مردوں کو اپنا دکھ اپنا درد اپنی محبت اپنی چاہت یاد رہتی ہے۔۔

ظالم ہو تم مرد سب ایک سے ہوتے ہو میں سے شروع ہوکر میں پر ختم کرنے والے اب وہ شدت سے رونے لگی تھی

علی سبحان تڑپ کر آگے بڑھا لیکن وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی
خبردار ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو
مجھے کسی بے اعتبار بزدل مرد کی نا کوئی. چاہ ہے نا ضرورت چلے جاؤ.
یہاں سے اس سے پہلے کے مجھے کچھ دیر ہوئی بن چکا رشتہ بوجھ لگنے لگے جاؤ
علی زلیخا کو بتانا چاہتا تھا وہ جیسا سوچ رہی ہے ایسا کچھ نہیں لیکن اسکی اگلی بات نے قدم آگے کی بجائے پیچھے موڑ دیے

ایک بات یاد رکھنا مسٹر علی سبحان خان
کوئی بھی عورت کسی بزدل مرد سے کبھی محبت نہیں کرتی اور تم ایک بزدل مرد ہو.

وہ چپ چاپ باہر نکل گیا اور اسی رات شہر سے واپس چلا گیا تھا۔
——————–

وہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا کوریڈور، تھا جہاں ایک مرد ایک طرحدار سی عورت کو اپنے ہمراہ لیے چلا جارہا تھا ۔
پھر ایک کمرے کے دروازے، پر، رک کر مرد نے عورت کو وکٹری کا نشان بنا کر، ہمت دلائی اور، خود واپس چلا گیا
عورت کے میک اپ ذدہ خوبصورت چہرے پر تاریکی چھا گئی جیسے صدیوں کی مسافت رقم ہوگئی ہو
اس نے دروازے پر دستک دی
اندر سے دروازہ ایک ادھیڑ، عمر مرد نے کھولا عورت کو دیکھتے ہی اس مرد کی آنکھوں میں ہوس ذدہ چمک لہرائی

او مائے سویٹ ہارٹ ثانیہ گردیزی ویلکم ویلکم خوش آمدید اگر مجھے پہلے پتا ہوتا کہ تمہارا شوہر تمہاری دلالی کرتا ہے تو بہت پہلے اس سے رابطہ کر لیتا یوں تمہارے پیچھے ذلیل نہ ہوتا

وہ جواباً صرف، مسکرا سکی تھی کیونکہ یہ سامنے نظر آنیوالا بندہ بیوروکریٹ تھا اور اسکے شوہر کو کسی فائل پر اپرول چاہئے تھی

اسی لیے وہ ثانیہ کو پہلی بہت سی بار کہ طرح اپرول لینے یہاں چھوڑ گیا تھا
اسے ہر بار کیطرح صبح ثانیہ کو لینے آنا تھا
اور یہ پوری رات ثانیہ کو فائل پر صرف ایک سائن کے لیے اس بیوروکریٹ کی حسب منشاء گزارنی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: