Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 4

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ آہستہ آہستہ جھیل کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھی جھیل تک جاتے راستے میں جابجا لگے پہاڑی پھولوں کی جان لیوا خوشبو اسکے آنچل میں سمٹ آئی تھی اور بہت سی شوخ رنگ تتلیاں اسکی ہمسفر ہوئی تھیں

کسی کی ٹھنڈی مسحور کن سانسوں نے ماوتھ آرگن کے سروں کو کچھ ایسا تال میل بخشا تھا کہ وہ دور دور تک پھیل رہے تھے

اس نے پل کے پل گردن گھما کر اطراف میں دیکھا اور بھی کئی سمتوں سے لوگ ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں کھنچے چلے جارہے تھے اس ساحر کی طرف جسکی سانسیں جادو کرتی تھیں ۔

اچانک زلیخا کو خود اپنا آپ اور باقی لوگ کہیں بچپن میں سنی جانے والی کہانی ( peid Piper) کا کردار لگے جسمیں کسی گاؤں کا ذکر تھا جہاں ایک بانسری والا جادو گر آتا ہے

جو جادوئی بانسری بجاتا ہے اور لوگ سحر ذدہ سے بانسری کی لہہ پر مچلتے تھرکتے اسکے پیچھے چلتے چلے جاتے ہیں اسکے غلام بن جاتے ہیں۔

اسے لگا تھا اس سمیت بہت سے لوگ اس جادوگر کے سحر کے تابع ہوکر اسکی طرف چلتے چلے جارہے ہیں
ایک پل کو اسے ڈر لگاکہیں وہ قید نا کر لی جائے غلام نا بنا لی جائے

وہ جو کوئی بھی تھا جھیل کی طرف منہ کیے بیٹھا ساری دنیا سے بیگانہ ہو کر اپنی سانسوں سے محبتوں کے سروں کو امر کیے جارہا تھا۔

زلی

زلیخا اس ساحر کے کافی قریب پہنچ چکی تھی جب رملہ نے اسکا کندھا جھنجھوڑا تھا وہ ایک دم چونکی ہاں ہاں

یار کب سے آوازیں دیے جارہی ہوں کہاں گم ہو بھئی رملہ کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں جیسے بھاگتے ہوئے یہاں تک آئی ہو

زلیخا نے پہلے رملہ کو پھر تھوڑی ہی دور ماوتھ آرگن بجاتے جادوگر کو دیکھا پھر چپ چاپ سر ہلا دیا کہیں نہیں یار

رملہ اسکی بےچینی نوٹ کرچکی تھی تبھی بولی
او ہو یہ یار یہ عام سی بات ہے سوہنی

یہاں کے مقامی لوگ سیاحوں کو لبھانے کے لیے ایسے بہت سے کام کرتے ہیں بدلے میں سیاح کچھ دیتے دلاتے ہیں اور انکی گزر بسر اچھی ہوجاتی ہے ۔
ابھی یہ تو کچھ بھی نہیں رملہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپسی کے لیے قدم بڑھائے
تم زرا ادھر چلو وہاں گروپ کے پاس ایک انکل جی شہزادہ سیف الملوک اور پری بدالجمال کی کہانی سنا رہے ہیں

زلیخا اسے کہنا چاہتی تھی یہ محبت کے سر بجاتا دلوں کو قید کرتا بندہ مقامی تو کہیں سے نہیں لگ رہا اسکا حلیہ تو کسی ریاست کے شہزادے سے بلکل کم نہیں ہے لیکن وہ چپ چاہ اسکے ساتھ چلتی گئی۔
اوپر اپنے گروپ کے پاس جاکر اس نے ایک سرسری سی نظر نیچے جھیل پر ڈالی تھی

دور وہ جو ( pied Piper) تھا بہت سے لوگوں کے جھرمٹ میں گھرا کھڑا تھا
جیسے جیسے
پتا نہیں کیا ہو
(اس سے کوئی جواب نہیں بن ہایا تھا)

پھر ٹھیک اسی وقت گردن موڑتے ہوئے نجانے کیوں زلیخا کے چہرے پر ایک بڑی ہی پیاری مسکان نے احاطہ کیا تھا۔

————————–

نکاح خواں نکاح کے بولوں کہ ادائیگی کروا رہا تھا
میجر شاہنواز ملن رت کے حسیں خوابوں کے زیر اثر دل لبھاتی مسکان کے ساتھ قبول کیے جارہا تھا

اور وہ جو تھا علی سبحان خان
وہ چپ چاپ خیالوں میں کھویا بیٹھا تھا ابھی کچھ دیر پہلے سنی جانے والی سریلی سی آواز نے اسکے دل کے تار ہلا دیے تھے دل یہ ماننے سے انکاری تھا کہ اسکی سماعتیں دھوکہ کھا سکتی ہیں
پھر اس نے یاد کرنے کی کوشش کی اور اسے بخوبی یاد آبھی گیا۔

—————————

وہ دن بہت تھکا دینے والا تھا ایک تو نرم گرم سا موسم اور فائنل ائیرز کے پیپرز بھی چل رہے تھے
دن دو بجے کے بعد وہ تھک کر اپنے آفس آکر سیٹ پر بیٹھا تھا تھوڑی دیر سستانے کے لیے اس نے بیک سے سر ٹکا دیا

اس سے پہلے کہ وہ نیند کی آغوش میں جاتا کچھ شور اسکے کانوں میں پڑا بلکہ شور نہیں کسی بہت ہی بے سری لڑکی کا گانا تھا وہ جی کر بدمزہ ہوا۔

((دل دیاں
ہو دل دیاں
دل دیاں ں ں ہائے دل دیاں

دل دیاں لگیاں نوں کون جاندا میں جاندی یا میرا رب جاندا))

کچھ دیر تو وہ ضبط کیے بیٹھا رہا شائد سٹوڈنٹ لڑکیاں کوئی گیم کھیل رہی تھیں اور وائے قسمت ٹھیک اسکے آفس کی کھڑکی کے نیچے وہ کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھا کھڑا ہوا کھڑی تک آیا مگر کھڑکی بند کرتے اسکے ہاتھ رک گیا
وہ بے سری لڑکی ابھی بھی گائے جارہی تھی

((ہنجواں دا پانی کیویں اکھاں ساڑدا میں جاندی یا میرا رب جاندا))

لیکن اسکے ہاتھ روکنے کی وجہ گانا نہیں بلکہ گانے کے ساتھ ساکت وجامد خاموشی تھی اسے گماں سا ہوا یہ کوئی سٹوڈنٹ اکیلی ہی گارہی ہے شائد دماغ چل گیا ہو بیچاری کا یہی دیکھنے کے لیے وہ تھوڑا آگے کو جھکا تو اسکی ہنسی نکل گئی کیوں کہ وہ اکیلی نہیں تھی ۔
لڑکیوں کا پورا گروپ تھا جو ڈوپٹے منہ میں ڈالے ہنسی روکے اور انگلیاں کانوں میں دیے بیٹھی تھیں۔۔

کیسا لگا گانا وہ کچھ دیر وہیں ٹہر گیا

بس کیا بتائیں رملہ جانو تمہاری آواز میں بہت سوز ہے بہت درد ہے
تبصرہ نگار جو کوئی بھی تھی لیکن اس نے علی سبحان کو چونکا دیا تھا

اتنا بے سرا درد
یعنی کے حد ہوگئی

رملہ کی بتیسی کھل گئی کیا سچ مچ اس نے سامعہ سے آنکھیں میچ کر بڑے بھولپن میں پوچھا تھا
یس ڈیر رملہ چوہدری دوسروں کا تو پتا نہیں لیکن میری طرف سے سچ مچ کیوں کہ تمہاری آواز میں اتنا درد ہے اتنا درد ہے کہ

قسم خدا کی میرے تو سر میں درد شروع ہوگیا ابھی ہاسٹل جاکر دو کی بجائے چار پیناڈول لینی پڑیں گی مجھے

علی سبحان کی مسکراہٹ بےساختہ تھی تو نیچے پورا گروپ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگا تھا۔

پرے مرو سامعی ڈرامی تم تو پہلے ہی دن سے مجھ سے جیلس ہو تمہاری بات کا میں برا نہیںں مناؤں گی۔

رملہ نے بڑے تنفر سے کہتے آیت کی طرف چہرہ موڑا تم بتاؤ آیت اچھا گایا نا میں نے؟ سوز ہے نا میری آواز میں؟

وہ جو یوں باتیں سننا غیر اخلاقی حرکت سمجھ کر ہٹنے لگا تھا آیت نامی لڑکی کا جواب سننے کے لیے رک گیا۔

ہاں رملہ یار قسم سے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمہاری آواز میں سوز ہے انفیکٹ تمہیں تو ابھی اسی وقت بغیر کسی انٹرویو کے کہیں جاب آسانی سے مل سکتی ہے اس ابیلٹی پر

ہائے آیت تم کتنی اچھی ہو نا اللہ اللہ مجھے یقین تھا کہ میرے اندر کوئی فنکار چھپا بیٹھا ہے
رملہ اس بار حقیقی معانی میں خوش ہوئی تھی

ویسے آیت جان تمہاری نظر میں ہے کوئی جاب تو بتاو نا یار دو ماہ بعد شیر علی جی کی برتھ ڈے ہے کیوں نا جاب کرکے اس بار انہیں اچھا سا گفٹ دوں؟؟

رملہ نے لگے ہاتھوں بات پکی کی

ہاں ہے تو لیکن شائد انکا پیکج اتنا اچھا نا ہو آیت نے پراسرار لہجہ بنا کر کہا۔

او ہو جو بھی پیکج ہو تم کام بتاؤ یار ایک دو ماہ کے لیے کر لوں گی مینج
رملہ تو جاب پر ابھی سے پکی ہوگئی تھی۔۔

بات ایسے ہے ڈیر رملہ چوہدری جی آیت آہستہ سے اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی تھی رملہ کے علاوہ سب نے اسکا یوں اٹھنا محسوس کیا تھا۔

تمہاری آواز کے سوز اور درد کو دیکھتے ہوئے تمہیں مسجد میں فوتگی کا اعلان کرنے کی جاب مل جائے گی آسانی سے یہ کہتے ہی آیت نے دوڑ لگا دی تھی ۔

وہ بھی کھلکھلا کر ہنستے کھڑکی سے ہٹا تھا ابھی وہ اپنی سیٹ تک گیا ہی تھا کہ اسکے پاؤں زنجیر ہوئے تھے۔

((کب تک چپ بیٹھیں اب تو کچھ ہے بولنا

کچھ تم بولو کچھ ہم بولیں او ڈھولنا))

اتنی پیاری میٹھی آواز اس نے پہلی بار سنی تھی

او ڈھولناااااااا او ڈھولناااااااااا

گانے والی جو بھی تھی لیکن اسکے سر اور تال نے علی سبحان کے لہو کو گرما دیا تھا۔

((مر جانا تھا یہ بھید نہیں تھا کھولنا))

اسکا دل چاہا تھا فوراً سے اس آواز کی مالک اپسرا کو دیکھے جاکر

((او ڈھولنا ااا او ڈھولنا))

وہ بڑے تیز قدم لیے اپنے آفس سے باہر نکلا تھا۔

مسٹر علی سبحان لسن پلیز

علی سبحان وہ اچانک ماضی سے باہر آیا تھا شاہنواز نے بہت کرختگی سے اسے پکارتے ٹہوکا دیا تھا۔۔

ہاں یار سن رہا ہوں کیا ہوا
جناب ہوگیا ہے نکاح اب یہ منہ میٹھا کرواؤں جناب سب کا تاکہ رخصتی ہوسکے یاد ہے نا اپنا وعدہ ؟

علی سبحان ہاں مین سر ہلاتے اٹھ کھڑا ہوا اسکی سوچ یہی تھی اس دن نہیں دیکھ سکا تھا لیکن آج ضرور دیکھوں گا کہ کون ہے وہ آ خر جسکی آواز میری روح کے تار چیھڑنے لگتی ہے میری رگوں میں بہتا خون ابلنے لگتا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: