Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 5

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 5

–**–**–

وہ دونوں اپنے گروپ کے پاس آگئیں تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد ایک گائیڈ نے انہیں بتایا کے یہاں سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر ستارہ جھیل ہے جو آجکل میں بھی نرف سے ڈھکی رہتی ہے۔
اتنا سننا تھا کہ سب کا دل للچانے لگا اور پھر ٹھیک ایک گھنٹے بعد ان میں سے کچھ جھیل سیف الملوک سے آدھے گھنٹے کی مسافقت پر ستارہ جھیل جانے کی تیاری کرنے لگے ۔۔

ستارہ جھیل تک جانے کا راستہ نا ہونے کی وجہ سے کوئی پراپر انتظام نہیں تھا ۔۔
ان لوگوں نے خچر ہائر کیے اور سفر شروع کر دیا راستے میں دو ایک جگہ انہیں مسلہ ہوا لیکن سب نے بغیر کچھ کہے سفر جاری رکھا اور بل آخر پچاس منٹ بعد وہ لوگ چوٹی پر کھڑے تھے جس کے دامن میں ستارہ جھیل واقع تھی۔۔

رملہ آیت اور زلیخا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ایسا ہی حال کم و بیش سب کا تھا وہ جھیل کیا تھی رب کی قدرت کا حسین نظارہ تھا ایسا لگتا تھا رات آسمان پر جو روشن ستارے چمکتے ہیں ان میں سے ایک ٹوٹ کر زمیں کے اس خطے پر آگرا ہو

وہ جھیل دور سے دیکھنے پر واقع ستارہ معلوم ہورہی تھی گائیڈ کے مطابق اس جھیل کی سطح سال کے نو ماہ برف بنی رہتی ہے اب چونکہ جولائی کا مہینہ ہے تو اسلیے برف کی بڑی بڑی پٹیاں تیر رہی ہیں باقی کے نو ماہ جھیل اسی حالت میں رہتی ہے ۔

انہیں یہاں آئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں اور ٹھنڈ بڑھنے لگی گائیڈ نے فوراً واپسی کا سگنل دیا بہت سے لوگ رکنا چاہتے تھے لیکن گائیڈ کا کہنا تھا کسی بھی وقت برف باری شروع ہو سکتی ہے۔

جسکے نتیجے میں واپس جانا بہت خطرناک ثابت ہوگا
گائیڈ کی بات سب کے پلے پڑ گئی تھی اور سب واپسی کے لیے چل پڑے تھے۔

زلیخا کا خچر سب آخر میں تھا اس سے آخر میں خچر کا مالک پیدل چلا آرہا تھا اسکے ہاتھ میں بید کا ایک ڈنڈا تھا جسے وہ دور سے لہراتا تھا تاکہ خچر رکنے یا سست ہونے لگیں تو انہیں ڈرا سکے۔

وہ لوگ تھوڑا ہی چلے تھے کے تیز ہوا کے ساتھ برف باری شروع ہوگئی جہاں کچھ من چلوں نے خوشی میں چیخیں ماریں وہیں لڑکیوں کی ڈر سے چیخیں نکل گئیں

ان کے پاس سب کے سب جنگلی خچر تھے ایسی ہاہاکار اور شور کم ہی سنا تھا انہوں نے جبھی ان میں تھوڑی ہلچل مچ گئی
رہی سہی کسر آخر میں چلتے خچر بان نے پوری کردی ۔
وہ سمجھ نہیں پایا تھا کیوں شور ہو رہا ہے اس لیے خراب موسم کو دیکھتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا زور سے لہرایا تاکہ کی خچر تیز چلیں اور جلد از جلد منزل پر پہنچ جائیں یہی اس سے غلطی ہوگئی زلیخا کا خچر بدکا تھا اور اپنی سمت بدل بیٹھا تھا۔۔

———————–

انہیں دیوسائی میں بھورا ریچھ نہیں ملا تھا آخر تھک ہار کر وہ لوگ جھیل آگئے تھے یہاں انہوں نے اپنا خیمہ جھیل اے کافی اوپر آنسو جھیل اور ستارہ جھیلکے راستے میں تھوڑا ہٹ کر جنگل کی طرف لگایا تھا۔

صبح پوری طرح اپنا رنگ جما چکی تھی جب بلال ناران کچھ سامان لانے کے لیے چلا گیا وہ خود بور ہونے سے بچنے کے کیے اپنا ماوتھ آرگن لیے جھیل پر چلا آیا پھر ایک پرسکون سا گوشہ دیکھ کر اس نے اپنی سانسیں اسے سونپیں اور سر چھیڑنے لگا وہ قدرت کا شروع سے شدائی تھا اای لیے سیاحت اسکا پہلا شوق تھا اور ماوتھ آرگن بجانا دوسرا وہ جب بھی اسے بجاتا تھا دنیا جہاں سے بے خود ہوکر بجاتا تھا

اب بھی ایسا ہی ہوا اسے ہتا ہی نہیں چلا لوگوں کی بھیڑ اسکے گرد اکھٹی ہونے لگی پھر جب اپنی دھن مکمل کرنے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو ایک ساتھ کئیں ہاتھوں تالیوں کے ساتھ کئی سراہتی کچھ کہتی قید ہوچکی انجانے پیام دیتی آنکھوں نے اسے سراہا تھا۔

موسم خراب ہورہا تھا جبھی وہ اپنے خیمے کی طرف چل دیا جب تک وہ خیمے میں پہنچا اچھی خاصی برف باری شروع ہوچکی تھی اس نے اندر آکر ہیٹر آن کیا ور چائے بنانے لگا ۔

چائے بنا کر وہ سلیپنگ بیگ تک آیا تھا جب ایک ساتھ بہت سی چیخیں اسے سنائی دیں

اللہ خیر کا ورد کرتے اس نے اہنے بندوق اٹھائی اور فوراً سے باہرنکل گیا اسکا. حتی القین گماں یہی تھا کہ کسی بھولے بھٹکے بھورے ریچھ نے حملہ کردیا ہوگا۔

وہ آواز کی سمت کا تعین کرتا ایک طرف بھاگنے لگا ابھی تھوڑا ہی دور گیا تھا کہ اسے چونک کر رکنا پڑا

دور ایک خچر اپنی دونوں ٹانگوں سے کھڑا ہوا تھا جسکی پیٹھ سے ایک انسانی وجود برف پر لڑکھا تھا۔
لیکن اسکے چونکے کی وجہ ان سے تھوڑا ہی دور بھورے ریچھ کا وہ جوڑا تھا جو بہت غصے میں خچر کو گھور ی جارہے تھے۔
اسے برف میں دبتے وجود کی فکر نے آلیا لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتا تھا اسکی ایک ہلکی سی جنبش اسکے لیے اور دور برف میں دبتے وجود کے لیے یقیناً موت کا پیش خیمہ بنتی کیوں کہ ریچھوں کے جوڑے نے ایک لمحہ لگانا تھا اسے چیڑ پھاڑ کر رکھ دینا تھا۔

——————————

زلیخا کے خچر کے ساتھ کئی اور خچر بھی بدکے تھے لیکن ان میں سے اکثر پر لڑکے بیٹھے تھے جنہوں نے با مشکل ہی سہی انہیں کنٹرول کر لیا تھا لیکن زلیخا کا کی خچر سب سے آخر میں تھا جب وہ بدکا تو زلیخا نے ڈر کر چیخنا چلانا شروع کر دیا جانور مزید ڈر گیا اور سمت کا تعین کیے بغیر بھاگنے لگا۔۔

اسکے پیچھے خچر بان بھاگے تھے لیکن تیز سے تیز تر ہوتی برف باری میں زلیخا کا خچر آنکھوں سے اوجھل ہوگیا تھا ۔

آسمان سے اترتی روئی جسے میدانی علاقے کے لوگ آئیڈیلاز کرتے ہیں کبھی پہاڑوں میں رہنے والوں سے پوچھیں تو پتا چلے کہ یہ کیسا عذاب ہے ۔
اور آج یہ روئی زلیخا کے لیے عذاب بن کر اتر رہی تھی
خچر تیز برف باری میں ایک ہی سمت میں بھاگے جارہا تھا۔

پھر ایک مقام پر آکر وہ جھٹکے سے رکا اور اچانک اپنے دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا جیسے کسی چیز سے ڈر رہا ہو خچر کے ایسا کرنے پر زلیخا اسکی پیٹھ سے پھسلتی چلی گئی اور برف پر ڈھیر ہوگئی

اسکا جسم بلکل ماؤف ہوچکا اور ذہن آہستہ آہستہ ہوتا جارہا تھا
اسے محسوس ہوا تھا وہ برف کی قبر، میں اتر رہی ہے جیسے اسکی زندگی آہستہ آہستہ ٹھنڈی پڑتی جارہی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: