Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 7

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 7

–**–**–

وہ نجانے کتنی دیر سے اتنی ٹھنڈ میں بیٹھا ماوتھ آرگن بجاتے خود کو بہلانے کی کوشش کررہا تھا لیکن اب ٹھنڈ اسکی برداشت سے باہر ہوتی جارہی تھی ۔۔۔

اس نے بیگ میں پڑی رانا بلال کی وائن نکالی اور ایک گلاس میں ڈال کر پینے لگا وہ عام حالات میں کبھی بھی ایسا نا کرتا کیوں کہ امیر ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود اس میں اپنی کلاس کی کوئی برائی نہیں پائی جاتی تھی

وہ پکا مومن نا سہی پر ایک اچھا مسلمان ضرور تھا لیکن اب معاملہ جان بچانے کا تھا اور جان بچانے کے لیے تو مذہب میں مردار کھانے کی اجازت بھی ہے ۔

اس نے ایک کے بعد وائن کا دوسرا گلاس پیا اور اپنے بیگ کے پاس ہی پڑے دوسرے سلیپنگ بیگ میں آکر لیٹ گیا اس بیگ کی زپ خراب ہوچکی تھی اور بلال نیو بیگ کا ارینج کرنے ہی ناران گیا تھا ۔

علی سبحان نے بیگ کے اوپر اس بے ہوش لڑکی کا سٹالر اوڑھا اور آنکھیں موند لیں۔۔۔

رات کا نجانے کون سا پہر تھا یا شائد صبح ہونے والی تھی کسی احساس کے تحت اسکی آنکھ کھلی کوئی چیز اسکے سر اور کان کی لو کو ٹچ ہورہی تھی ۔

برف باری رک چکی تھی اسکا سر بری طرح چکرا رہا تھا دماغ کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے عاری محسوس ہورہا تھا اسے لگتا تھا سردی سے اسکا جسم اکٹر چکا ہے۔

دفعتا اس نے ََ رخ پھیرا اور سر کو ترچھا کر کے دیکھا نظر سلیپنگ بیگ میں بے ہوش پڑے نسوانی وجود پر پڑی جسکا نازک ریشمی سا سانولہ ہاتھ پہلے اسکے سر اور کان کی لو سے ٹکرا رہا تھا ۔

اب سر ترچھا کرنے پر اسکے رخسار اور مونچھوں تو کبھی ہونٹوں سے ٹچ ہونے لگا تھا۔

اسے عجیب سا احساس ہوا سانولے سے ہاتھ کی نفاست اور رعنائی رخسار سے ہلکا سا ٹچ ہونا اسے لودیتا محسوس ہوا یکایک اسکے اندر نفس پرست مرد نے انگڑائی لی
وہ ایک پل کو سیدھا ہوا تھا۔
کچھ دیر وہ سلیپنگ بیگ میں بے سدھ پڑے وجود کو دیکھتا رہا پھر اس پر نفس غالب آگیا۔
وہ جو کھلا دشمن ہے انسان کا جو روشنی سے تاریکی میں لے جاتا ہے وہ جو بلندی پستیوں میں لے جاتا ہے
وہی جو برائیوں کو گناہوں کو آراستہ و پیراستہ کر کے دکھاتا ہے پل بھر کی لغزش، کروا کر نیکوں کو بدوں کی فہرست میں لاکھڑا کرتا ہے

وہی مردود غالب آیا تھا اور علی سبحان خان نے اس نحیف سے خوبصورت سانولے سلونے سے نرم ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا تھا ۔
گویا روشنی سے تاریکی تک بلندی سے پستی تک کے سفر پر پاؤں دھرا تھا ۔
علی سبحان نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہا ہی تھا اس سے پہلے کہ اسکا نام نیکوں کی فہرست سے نکال کر ہمیشہ کے لیے بدوں میں لکھ دیا جاتا۔

تبھی وہ جو رحیم بھی ہے وہ جو کریم بھی جو غفار بھی اور ستار بھی ہے اسکی رحمت کو اسکی کریمی کو گوارا نا ہوا اسکی رحمت جوش میں آئی تھی اور قریبی کسی پہاڑی بستی سے صدائے حق بلند ہوئی تھی

اللہ ہو اکبر اللہ ہو اکبر

علی سبحان کا لڑکی کے چہرے کی طرف بڑھتا ہاتھ جھٹکے سے رکا تھا وہ اچانک ہوش میں آیا تھا

اللہ ہو اکبر اللہ ہو اکبر

اسکے ہاتھ کے ساتھ پورے وجود میں جھٹکے لگنے لگے تھے وہ لرزنے لگا تھا آنکھیں بھرنے لگی تھیں سارا نشہ کہیں دور جا سویا تھا ۔۔۔

پھر ساری آذان کے دوران اسکا جسم دل اسکی روح لرزتی رہی تھی خشیت الہیٰ سے آنکھیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔

یہ کیا کرنے لگا تھا میں یہ کیا ہونے جا رہا تھا مجھ سے او میرے اللہ اگر کچھ ہوجاتا تو اس سے آگے آنسو اور ندامت اسے کچھ سوچنے ہی نہیں دے رہے تھے ۔

پھر اس نے ایک فیصلہ کیا اور بغیر کچھ سوچے سمجھے خود پے پڑا سٹالر لپیٹ کر خیمے سے باہر نکلتا چلا گیا۔

————————

اسکا ذہن تاریکی سے جاگنے لگا تھا شائد وہ حرارت کا احساس زندگی کا احساس تھا۔
جو سب سے پہلے اسے ہوا تھا پھر اسکی سماعتوں میں کوئی میٹھا سا رس سا گھلنے لگا تھا۔

وہ بہت خوبصورت اور روح افزاء ساز تھا جو کہیں دور بہت دور سے سنائی دے رہا تھا۔
اسے لگتا تھا دور سے آتی ان سریلے مدھر سازوں کی آواز اسکے دل کو جسم کو روح کو جکڑتی جارہی ہے یاشائد وہ جکڑی جا چکی ہے۔

اسکا دماغ بیدار ہونے لگا تھا اور آواز مدھم ہونے لگی تھی پھر جب وہ آواز مکمل بند ہوگئی تو اسکی آنکھ کھلی کچھ دیر وہ بے حس و حرکت پڑی رہی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کہاں ہے اس نے ہلکا سا سر گھما کر دیکھا اسکے بلکل پاس ہی وہ سویا ہوا تھا ۔
وہی جادو گر تھا کالے گاؤن پر گولڈن رومال سر پر لپیٹے ہوئے ( pied Piper) جو سانسوں سے جادو کرتا تھا جسکا جادو شام کو جھیل سیف الملوک پر زلیخا علی کریم کے علاوہ بیسیوں لوگوں پر چل چکا تھا۔
بس اب فرق صرف اتنا تھا کہ ریشمی رومال سر سے ڈھلک کر اسکا منہ چھپائے ہوئے تھا زلیخا کو یہ سب کوئی خواب سا لگ رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر اس جادوگر کو چھونا چاہا پھر اس سے پہلے کہ اسکا ذہن حقیقت اور خواب میں فرق تلاش کرتا غنودگی ایک بار پھر سے غالب ہونے لگی اور ذہن تاریکی میں کھونے لگا۔۔

————————

اس بار اسکی آنکھ کسی کے بلکہ بہت سے لوگوں کے اونچا اونچا بولنے پر کھکی تھی خود کو ایک انجان جگہ پاکر وہ سوچنے لگی کہ میں کہاں ہوں پھر اچانک اسے رات برف باری والا واقع یاد آیا وہ ایک چیخ مار کر اٹھ کھڑی ہوئی خیمے میں اسکی فیکلٹی کے کچھ لوگ اور چند مقامی اور پولیس کے دو بندے ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے

اسکو چیخ کر اٹھتے دیکھ مس فرخندہ پاس آئی تھیں اور اسے گلے لگا لیا زلیخا کیسی ہیں بیٹا آپ وہ پریشان لگ رہی تھیں
زلیخا انکی بانہوں کے حصار میں منہ دیے رونے لگی یہ سب شاک کی وجہ سے تھا مگر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے کچھ اور سمجھا تھا۔

زلیخا زلیخا بریو گرل بتائیں کیا ہوا تھا کیوں رو رہی ہیں؟

میم وہ میم

زلیخا نے بامشکل آنسوؤں کے درمیان کہا تھا۔

جی جی زلیخا بتائیں پلیز کیا ہوا تھا اور کون تھا رات آپکے ساتھ؟

زلیخا سوال پر غور کیے بغیر ایک بار پھر سے بولنے لگی ۔
میم وہ ریچھ تھے وہ دو ریچھ تھے وہ میرا خچر اچانک بھاگنے لگا تھا پھر اسنے مجھے گرا دیا پھر پھر ہر طرف برف تھی۔

اوکے آگے مس فرخندہ نے نہایت پیار سے پوچھا۔

زلیخا نے بڑی عجیب سی نظروں سے انہیں دیکھا کہ آگے کیا؟

بچے پھر اسکے بعد کیا ہوا آپ کیسے بچیں کس نے بچایا آپکو یہاں کیسے آئیں؟

زلیخا یک ٹک انکا منہ دیکھتی رہی تھی
اور منہ ات صرف اتنا نکلا

پتا نہیں؟
مس فرخندہ اسکی غائب دماغی نوٹ کر چکی تھیں جبھی پولیس والوں سے معذرت کی پھر چند مقامی لوگوں کی مدد سے زلیخا کو پہلے جھیل پھر اسکے بعد ناران ہوٹل میں لے گئیں تھیں

ہوٹل میں ساری لڑکیاں لڑکے اسکے لیے پریشان تھے لیکن اسکو زندہ سلامت دیکھ کر اور یہ جان کر کے زلیخا رات بھر کسی شکاری کے خیمے میں اسکے ساتھ گزار کر آئی ہے بہت سی معنی خیز نظریں اس پر اٹھی تھیں۔

زلیخا ابھی ساری حقیقت سے لاعلم تھی مس فرخندہ نے اسے کمرے میں جاکر ریسٹ کرنے اور فریش ہونے کے بعد انکے کمرے میں آنے کا کہا تھا اسی لیے وہ اپنے کمرے میں آگئی ۔

پیچھے پیچھے رملہ بھی چلی آئی زلی کہاں تھی یار اس نے روہانسی ہوکر زلیخا کو گلے لگالیا

پتا نہیں یار میں وہاں کیسے پہنچی وہ محسن کو ہے جا نے میری جان بچائی؟؟

زلیخا بہت عقیدت سے اس انجان مسیحا کا نام لے رہی تھی

رملہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی پھر کچھ سنبھل کر بولی
زلی کیا تمہیں واقعی نہیں پتا کس نے تمہاری جان بچائی؟

زلیخا کے نا میں سر ہلانے پر رملہ نے دکھ سے آہ بھری

کیوں کیا ہوا رملو زلیخا نے پریشانی سے پوچھا

رملہ نے ایک نظر اسکو دیکھا پھر بولی

زلی کل جھیل پر ایک اجنبی جو ساز بجارہا تھانا؟
زلیخا کو اچانک اپنے خواب میں انی جانے والی آواز یاد آئی اس کی گردن ہاں میں ہلی

وہ ایک شکاری تھا اور تمہاری جان اسی نے بچائی تھی پھر وہ ساری رات تمہارے ساتھ جنگل میں لگے اس خیمے میں رہا کیوں کہ سلیپنگ بیگ ایک تھا تو سب کا خیال ہے کہ وہ اور تم ۔

زلیخاکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر رملہ کو اپنی بات ادھوری چھوڑنی پڑی۔

یہ یہ تم رملہ یہ کیا؟
نہیں میرا اللہ جانتا ہے میں بلکل ٹھیک ہوں میں میں
وہ کیسے نہیں نہیں رملے
میں تو بلکل ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: