Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 8

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 8

–**–**–

زلیخا پر جیسے دیوانگی کا دورہ پڑ گیا تھا کوئی بھی بات پوری نہیں کر پارہی تھی ۔

تم بے ہوش تھیں زلی اور تمہارے پاس ہی اسکا ماوتھ آرگن پڑا ملا تمہارے ہاتھ کے نیچے اسکا گولڈن رومال پڑا تھا جو جل رات اسنے باندھ رکھا تھا
بیسیوں لوگوں نے دیکھا تھا اسے اور تمہارا سٹالر بھی تمہارے پاس نہیں تھا تمہارا کوٹ اترا پڑا تھا اور وہ رات بھر تمہارے

رملہ رونے لگی تھی

َاسکا ہر جملہ زلیخا کے جسم کو برف کرتا جارہا تھا بلکل ٹھنڈا

کہاں ہے وہ زلیخا کی آواز کسی کنوئے سے آئیں تھی۔

پتا نہیں جب گاؤں والے اور باقی لوگ خیمے میں پہنچے تم وہاں بے ہوش تھیں اور وہاں کوئی نہیں تھا ایک امیر ذادہ وہاں آیا تھا پولیس کے استفسار پر اس نے کہا کہ تمہیں اس کے دوست نے رات بھر کے لیے تمہاری مرضی سے روکا تھا کیوں کہ تم اس پر دل ہار بیٹھی تھیں اور جان بوجھ کر اسکے خیمے میں گئیں
َ
زلی زلی زلییییییی
رملہ نے روتے ہوئے بات مکمل کرتے زلیخا کی طرف دیکھا جو زمیں پر گری پڑی تھی۔

————————

پھر اسکے بعد زلیخا پر زندگی تنگ ہونے لگی وہ جہاں سے گزرتی سٹوڈنٹس منہ سے ماوتھ آرگن کی آواز نکالنے لگتے ۔

کوئی جادوگر کی ملکہ تو کوئی فارسی شہزادے کی محبوبہ کا فقرہ کستا وہ چپ چاپ گزر جاتی آیت ثانیہ نے اسے بات کرنا چھوڑ دی اسکا کمرہ تک چھوڑ دیا صرف رملہ تھج جو اسکے ساتھ ساتھ تھی اور بکت سے لوگوں کو جواب بھی دیتی تھی۔

پھر ایک دن اسکی زندگی کی تاریکی میں مزید تاریکی کا باعث بنا اور اسے دوسرے ہی سال کے شروع میں ہی پڑھائی چھوڑ کر واپس گاؤں جانا پڑا تھا

وہ بھی ایک عام سا دن تھا وہ زلیخا کلاس لے کر باہر نکلی ہی تھی کہ دو بہت معزز نظر آنیوالی خواتین نے اسے گھیرا لیا

کیسی ہیں آپ زلیخا ایک عورت نے بہت محبت کا مظاہرہ کیا؟

جی میں ٹھیک ہوں بٹ سوری میں آپکو پہچانی نہیں زلیخا نے الجھن آمیز جواب دیا۔

اٹس اوکے بیٹا آپ ہمیں جانتی بھی نہیں ہیں اصل میں ہمیں آپ پر گزری قیامت کا سن کر بہت افسوس ہوا ۔

عورت نے باقاعدہ آنکھیں پونچھنا شروع کردیا
آپکی ابھی عمر ہی کیا تھی محض اٹھارہ سال اور یہ داغ لگوا بیٹھیں ۔

کافی سٹوڈنٹس اردگرد جمع ہونے شروع ہوگئے تھے زلیخا بس برف کی مورت بنی کھڑی تھی جو آہستہ آہستہ پگھلتی جارہی تھی۔

پھر دوسری عورت نے آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگایا بچے ہم (WRO) این جی او سے ہیں ہم ریپ وکٹمز کا کیس لڑتے ہیں.۔۔

ریپ وکٹم کے نام پر بہت دی لڑکیوں کے منہ کھلے تھے انہوں نے ترحم بھری نظروں سے زلیخا کو دیکھا تھا۔

ہم مظلوموں کی آواز بنتے ہیں آپکی آواز بنیں گے اور دیکھیئے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپکا مجرم بہت جلد جیل کی سلاخوںکے پیچھے ہوگا۔

زلیخا کے پگھلتے وجود مین دراڑیں پڑنے لگی تھیں کسی لڑکی نے محج حظ اٹھانے کے لیے اس این جی او کو زلیخا بن کر فون کیا تھا۔

ارے اگر کوئی مجرم ہوہی نہیں تو پھر کیسے اسے سلاخوں کے پیچھے دھکیلں گیں؟
کسی نے فقرہ کسا تھا۔

روتی ہوئی عورت نے سر اٹھا کر پوچھا کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ کوئی ریپ نہیں ہو ا انکے ساتھ جو کچھ بھی ہوا بلجبر نہیں بلرضا تھا۔

انفیکٹ انہی کی تو رضا شامل تھی دوسرے فریق کو جبراً شامل ہونا پڑا ہوگا

کیوں کہ یہی اس شکاری کے ساحر ساز کی دیوانی ہوئی اسکی جائے قیام پر جا پہنچیں تھیں وہ نہیں آیا تھا بلانے؟

یہ ثانیہ تھی جونجانے کس دشمنی کا بدلہ اس طرح زہر اگل کر لے رہی تھی۔

زلیخا کے برف وجود میں جنبش ہوئی پھر و روتی آنکھوں کے ساتھ وہاں سے بھاگی تھی

وہ اسکا یونی میں آخری دن تھا اسکے بعد کسی نے اسے یونی میں نہیں دیکھا تھا۔

اور یونی میں دیکھا تو ایک عرصے سے کسی نے سر میسی کو بھی نہیں تھا لیکن اس غیر حاضری پر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔

————————–

وہ اس رات ناران سے نکل کر سیدھا لاہور آگیا تھا
اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا اسے اپنے آپ سے گھن آرہی تھی وہ اپنے آپکو ایک نفس پرست گھٹیا انسان لگ رہا رھا تھا ۔

لاہور آنے پر اسے پتا چلا کہ امی بابا لندن گئے ہیں اسکی بڑی بہن کی طرف وہ بھی اگلے دن کی فلائیٹ سے لندن چلا گیا

: اپنے آپ کو اپنے دل کو اس نےبہ حوصلہ دیا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہے کچھ بھی غلط ہونے سے پہلے لیکن اگر کچھ ہوجاتا تو؟
یہ ایک سوال اسے چین نہیں لینے دیتا تھا

آخرکار تین ماہ بعد اپنے اندر کی جنگ سے تنگ آکر اسنے شاہنواز سے رابطہ کیا اور رابطہ ہوتے ہی ساری بات بتا دی؟

شاہنواز نے ساری بات چپ کر کے سنی آخر میں صرف ایک اتنا بولا

علی سبحان خان یہ تو پیغمبرانہ صفت ہے یارا
ایسی صفات تو آب صرف ولیوں میں پائی جاتی ہی میرے یار جس صفت کا مظاہرہ تم نے کیا۔۔

تم شر کو خیر سے شکست دی تم نے یہ ثابت کیا کہ مرد نفس پرست نہیں ہوتا بلکہ نفس پرستی کو کسی سے بھی مشروط نہیں کیا جاتا۔۔

نفس پرست وہی ہوتا ہے جو نفس کو خود پر غالب ہونے دیتا ہے ۔

میرے بھائی تم یہ کیوں سوچتے ہو اگر ہوجاتا تو؟
تم یہ سوچو کہ کچھ ہوا تو نہیں نا؟

تم یہ بھی تو سوچو کہ خدا کی رحمت نے تمہیں اور اس نیک بخت عورت کو میلا نہیں کیا اسکی رحمت نے گوارا نہیں کیا؟

عجیب بندے ہو تم بجائے اپنے رب کی شکر گزاری کے کہ اس نے تمہیں ذلت کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا؟

تم سوگ منارہے ہو؟ اسکی رحمت سے ناامید ہوکر؟
یعنی کہ حد ہوگئی علی سبحان خان؟؟

وہ کچھ ہلکا پھلکا ہوا دل سے منوں بوجھ ہٹ گیا تھا ۔
شاہنواز نے اور بھی بہت سی باتیں کیی اسکے دل کو مزید ڈھارس ملی پھر جب اسنے فون رکھا تو اپنی خود ساختہ گناہگاری سے کافی حد تک باہر آچکا تھا۔

ایک ہفتے بعد وہ اس ٹراما سے مکمل باہر آگیا تھا جبھی شاہنواز کی شادی کا شور بلند ہونے لگا اور وہ شادی کے لیے پاکستان واپس آگیا ۔

شادی کے بعد اسکا واپس کالج جوائن کرنے اور اس سانولی سلونی سی لڑکی کو پرہوز کرنے کا ارادہ تھا۔

—————————

وہ سب چھوڑ چھاڑ واپس آگئی تھی دادا کو رملہ نے تھوڑ ا بہت حذف کرنے کے بعد مسلہ بتادیا تھا۔

جسے سن کر علی کریم پورے قد سے لڑکھڑائے تھے لیکن پھر انہیں اپنا آپ سنبھالنا پڑا تھا زلیخا علی کریم کے لیے
آج رملہ تین دن رہ کر واپس چلی گئی تھی

رملہ جتنے دن بھی رہی زلیخا نے یا انہوں نے ایک دوسرے سے دانستہ کوئی بات نہیں کی تھی۔

اب رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ خود زلیخا کے کمرے میں آئے تھے کسی ایک کو تو پہل کرنی تھی نا؟

َزلیخا چپ چاپ کمرے میں اندھیرا کیے آنکھیں موندے لیٹی تھی یہ چپ اسے جنگل والی رات کے بعد سے لگی تھی اور ابھی تک چپ قائم تھی

اسکا دل نہیں مانتا تھا کہ قدرت اسکے ساتھ اتنا بڑا مزاق کرسکتی ہے اسی لیے وہ ابھی تک شاک میں تھی۔

علی کریم چپکے سے آئے اور جھک کر اسکی پیشانی چومی زلیخا نے بامشکل اپنی سسکی روکی وہ دیر تک اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے رہے تھے ۔

جب انہوں نے اٹھتے ہونے دوبارہ اسکی پیشانی چومنی چاہی وہ ضبط نہیں کر پائی تھی آہ کے ساتھ دو آنسو اسکی آنکھ سے نکلے تھے تھے۔

نا نا نا میرے زلی پتر علی کریم کے مان بھرے لہجے میں اتنا کہنا تھا کہ وہ خود پر کیے سارے بندھ کھو ببیٹھی علی کریم کی گود میں سر رکھ کر اس نے دھاڑیں ماری وہ سسکی تھی تڑپی تھی

علی کریم کے اپنے آنسو تھمنے کا نام نہیں، لے رہے تھے انہی آنسوؤں کے درمیان وہ بولے

زلی ہتا ہے جب تو پیدا ہوئی تھی نا تو تیرے بابا کو لوگوں کی باتوں کے زیر اثر میں نے کہا پہلا تو بیٹا ہونا چاہئے تھا بیٹا وارث ہوتا ہے

تو پتا ہے اس نے مجھ سے کیا کہا تھا۔

زلیخا نے روتی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔

اس نے کہا تھا

میرے لیے بوا کھولنے والی آگئی ہے ابا جی بیٹے تو ایویں نام کے وارث ہوتے ہیں اصل میں تو بیٹیاں باپوں کی پگ کو اونچا کرتی ہیں انکی شان بڑھاتی ہیں ۔
اللہ سائیں نے میری شان بڑھانے والی بھیج دی ہے

دادا زلیخا درد سے تڑپ کر بولی تھی میں غلط نہیں دادا

نا نا دادا کی جان ایک لفظ نہیں مجھے اپنے خون پر اپنے زلی خان پر پورا بھروسہ ہے یہ ساری دنیا مل کر بھی کہے نا کہ میرا زلی خان غلط ہے میں کبھی نا مانوں

دنیا میں بچے اپنے واحد رشتے اپنے پیارے دادا کے منہ سے نکلے چند جملی زلیخا کے لیے آب حیات ثابت ہوئے تھے اس نے دکھ سے محبت سے انکے سینے سر چھپا لیا تھا اور سسکنے لگی تھی

نا نا نا میرا پتر دادا کے ہوتے میرے زلی خان کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا میری جان

علی کریم نے حوصلہ دیتے اسکے گرد اپنے کمزور نحیف سی بانہوں کا حصار قائم کیا تھا ۔
زلیخا کو ایسا لگا تھا جیسے وہ دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ میں آگئی ہو ۔

لیکن انکے اپنے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔

کافی دیر وہ زلیخا کا سر اپنے سینے سے لگائے تھتھپاتے رہے
زلیخا کی اتنے دنوں سے جاری ذہنی کشمکش کو سکون ملا تھا جبھی کچھ دیر بعد وہ سکون سے سو گئی تھی

علی کریم صاحب نے احتیاط سے زلیخا کا سر نیچے رکھا اور اسے کمبل اڑھاتے دروازہ بند کرتے کمرے سے باہر نکل گئے۔

——————-

بارات واپسی کی تیاریوں میں تھی وہ بہت بے چین تھا اسکا دل بار بار کہہ رہا تھا کہ گانے والی کی صورت دیکھ لے بس ایک بار اسکا وجدان کہتا تھا کہ یہ وہی یونی والی لڑکی ہے اور یونی والی لڑکی وہی ہے سانولی سلونی سی زلیخا علی کریم جس سے علی سبحان خان کو پہلی نظر میں محبت ہوئی تھی ۔۔۔

وہ اسی کشمکش میں تھا جب شاہنواز کے والد نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔

اس نے چونک کر دیکھا دلہا دلہن گاڑی میں بیٹھ چکے تھے وہ بھی ناچاہتے ہوئے شاہنواز کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور برے دل کے ساتھ گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی۔

وہاں سے نکلتے ایک آخری سوچ جس نے اسکے دل کو ڈھارس دی تھی وہ یہ کہ شاہنواز کی بیوی سے اس لڑکی کے بارے پوچھے گا پھر بھابھی ہی کے ذریعے اس تک پہنچے گا ۔

لیکن اسے شاہنواز کی بیوی سے بات تو کجا اسے ملنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا

———————

جاری ہے

بات ہے ایسے کہ جو لکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ لفظوں کا بھی ایک مخصوص وقت ہوتا ہے جس میں وہ ہمارے ذہن میں اترتے چلے جاتے ہیں اور ہم لکھتے چلے جاتے ہیں ۔
کبھی کبھی ہم لاکھ کوشش کریں ایک لفظ بھی لکھنا محال ہوتا ہے۔

اس ایپی کو لکھتے میری حالت کچھ ایسی ہی تھی لگتا تھا لفظ سارے روٹھے روٹھے سے ہیں وجہ آپکو ناول کے ختم ہونے کے بعد پتا چل جائے گی ۔۔۔

وسلام

میرب علی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: