Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Last Episode 31

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – آخری قسط نمبر 31

–**–**–

صبح جب وہ جانے لگی تو ادھیڑ عمر شخص مسکراتے ہوئے بولا تھا
چھوڑ دو اس بے غیرت کو اور میرے حرم میں آجاؤ
ثانیہ نے اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھا تھا
ارے بھئی شادی نہیں کروں گا لیکن یوں تمہاری دلالی بھی نہیں کروں گا
ہاہاہاہہااہ
وہ چپ چاپ فائل اٹھاتی باہر نکل گئی تھی۔

گھر آکر اس نے آفان گردیزی سے ایک بار، پھر التجاء کی تھی
پلیز آفان مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا گھن آتی ہے مجھے خود سے پلیز
ارے ارے
ہاہاہاہاہاہا
بے بی اتنی جلدی؟
یاد ہے نا؟
میں تو تم سے محبت کرتا تھا اور محبت ہی میں شادی کی تھی جب بھی تم کسی مرد سے دوستی کرتیں تو میرے سمجھانے پرکہتیں تھیں مین اپنی مڈل کلاس سوچ کو تم پر لاگو نا کروں؟
اب جب میں تمہاری کلاس کے مطابق چلتا ہوں؟
میں صرف دوستی کرتی تھی اس سے آگے کچھ نہیں تم نے مجھے بازارو عورت
وہ چیخ اٹھی تھی
ہش ہش چپ
کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اگر کوئی عورت کسی غیر محرم سے دوستی کرے اسکے لیے آہیں بھرے تو ایسی عورت بازارو ہی ہوتی ہے ڈارلنگ
ویسے بھی مجھے اس مقام تک لانے والی تم خود ہو؟
ثانیہ بی بی اگر عورت کا کردار پختہ ہو تو بدکرادر سے بدکردار گندے سے گندہ مرد بھی اسے میلا نہیں کرسکتا
لیکن اگر عورت بدکردار کو تو وہ پارساؤں تک کو گناہگار کر چھوڑتی ہے ۔

اور تم ایک بد نیت و بدکرادر عورت ہو
یاد ہے نا وہ معصوم زلیخا کریم جسکو تم نے رسوا کروایا تھا میرے ہی ذریعے تصویریں ایڈیٹ کروائی تھیں؟
بھلا کس کے لیے؟
اس پرفیسر کے لیے؟ مینز ایک مرد کے لیے؟
پھر جب تم مردوں کی اتنی عادی ہو تو اب اپنی من چاہی زندگی سے یہ بیزاری کیسی؟
ایک لمحے کو ثانیہ کے سامنے اپنی گزری زندگی گھوم گئی
اور ہر اسٹیج پر اسے اپنا آپ ہی قصور وار لگا
———————
اس رات اور اسکے بعد کی کئی راتوں کی صبحیں بہت بوجھل تھیں
علی کچھ دن کا کہہ کر گیا تھا اب تین مہینے ہونے کو آئے تھے
آس پاس کے لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے ۔

وہ بار بار رشاہنواز اور اسکے عمل کے بارے میں سوچتی لیکن ذہن ہر چیز کو فراموش کیے جھرنے کے قریب کالے چوغے اور سر پر سونے رنگوں سےمزین عربی صافہ پہنے شخص میں جا الجھتا تھا تو وہ علی سبحان تھا ۔

پھر اسے ایک عجیب سا احساس ہوا کہ جیسے وہ جھیل پر گزرے خود فراموشی کے لمحات کو برفانی جنگل میں گزری اس مہرباں نظر آتی ظالم رات کو کبھی بھلا ہی نہیں پائی تھی ۔

خود پر اپنے کردار پر اٹھائی جانے والی انگلیاں اور زہر اگلتی زبانوں کے وار آج بھی کہیں اسکے وجود میں میخوں کی طرح گڑے تھے۔۔
پھر ان سب یادوں سے جڑے مرکزی خیال کو کیسے بھول جاتی ۔
اسے لگا گزرے آٹھ نو سالوں میں وہ جانا پہچانا سا اجنبی شخص اسکے لاشعور میں اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمیشہ رہا تھا۔
وہ اجنبی نہیں تھا بس میں ہی اسے پہچان نہیں پائی تھی
اسے ایک پل کو اس سے نفرت سی محسوس ہوئی تھی لیکن پھر اگلے ہی لمحے اسکے دل نے لعنت ملامت کی تھی
جو اگر وہ اسے درندوں سے نا بچاتا تو؟
جو وہ اسے وہیں برفانی جنگل میں چھوڑ جاتا تو؟
لیکن اس نے مجھے میرے کردار کو دنیا والوں کے لیے سوالیہ نشان بنا دیا اگر وہ وہاں رکا رہتا تو
اس نے خود کو بودی سی دلیل دی تھی

(اگر وہ وہاں رکا رہتا تو ) اس کے اندر سے کسی نے دہرایا تھا
تو جن لوگوں کو تمہاری بے گناہی کا یقین تھا انکے یقین پر سوالیہ نشان لگ جاتا ۔
کیونکہ وہ سب تمہیں ایک مرد کے ساتھ اسکے خیمے میں پاتے جہاں تم نے ایک پوری برف پوش رات گزاری تھی
کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نا ہوتا کہ اس بھرپور مرد میں کوئی اللہ والا کوئی ولی چھپا بیٹھا تھا کیا؟؟۔
جسکے نفس نے خود کو قہر جماتے موسم میں گرمانا نا چاہا ہو
یا
جس کے ہواسوں پر تنہا رات کو فسوں نا چھایا ہو
اور اگر سب کو پتا چل جاتا کہ وہ پروفیسر علی سبحان تھے تو/؟
تو قیامت تک تم بدکرادر ٹہرائی جاتی
کیسی عورت ہو تم جس نے تمہاری تمہارے وقار کی حفاظت، کی اسی کو برا بھلا کہہ دیا تم نے؟

رات فون پر رملہ نے بھی ایسی ہی باتیں کہیں تھیں
وہ پچھتاؤے کا شکار تو پہلے دن سے ہی تھی لیکن جب رملہ نے بتایا کہ سارا کیا دھرا ثانیہ کا تھا
اور یہ کہ ثانیہ سر کو تمہارے حوالے سے بلیک میل کرتی رہی تھی
جبکہ سر ہمیشہ تمہاری عزت کو حرف نا آنے دینے کے لیے سرنڈر کرتے تھے
شاید اس رات بھی سر نے ایسا ہی کچھ سوچا ہو کیونکہ وہ جانتے تھے ثانیہ بھی ٹرپ پر آئی ہوئی ہے ۔
رملہ کی باتوں کے بعد آج جب اس نے اپنا احتساب کیا تو ہمیشہ سے اسے اپنا آپ ہی غلط نظر آرہا تھا۔

آخر کار وپ اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ ناشکری ہے اسکا دل نا شکرا پہلے بھی شاینواز خان جیسے پیارے شخص کے ملنے پر اس نے ناشکری کی تھی تو نعمت اس سے چھین لی گئی اب کی بار پھر اس نے ناشکری کی
اس سے پہلے کہ آگے سوچتی وہ فوراً رو دی

نانانا
نا اللہ میاں
نا اس بار نہیں پلیز
اللہ جی
معاف کردے میں کوڑی میں مندی میں کم عقل مجھے معاف کردے
میں تیرے ہر فیصلے میں راضی ہوں
میں تیری عطاء کی گئی ہر نعمت کو آمین کہتی ہوں
وہ روتے ہوئے دل ہی دل میں ندامت کے آنسو بہا رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔——–—–

۔
تقریباً تین ماہ ہوگئے تھے علی سبحان کا کچھ پتا نہیں تھا ۔
ربنواز صاحب اور شہربانو بیگم کی طرف سے بھی بلکل خاموشی تھی انکا رویہ زلیخا کے ساتھ نارمل تھا اور یہی بات اسے چبھ رہی تھی کہ کوئی بھی علی سبحان کے بارے کسی قسم کی بات کیوں نہیں کرتا آخر؟
اسکی ندامت بڑھنے لگی تو سجدے طویل ہونے لگے
اپنی ناشکری پر وہ ہر روز تہجد سے فجر تک توبہ استغفار میں گزار دیتی

پھر اس سے پہلے کہ وہ خود کو ہمیشہ کے لیے ناشکری سمجھ کر اپنا نام رب کے ناپسندیدہ لوگوں شمار کرتی ایک دن اچانک سے اسکا فون آگیا۔۔
وہ کتنی ہی دیر موبائل پر علی سبحان کا جگمگاتا نام دیکھتی رہی تھی ۔۔
رشتہ بدلا تو دل بھی بدلا تھا
اب بدلے دل نے اس محرم راز اس محافظ خاص کا نام دیکھا تو بڑے میٹھے سے انداز میں دھڑکنا شروع کردیا ۔
موبائل کی بیل بند ہوئی تو وہ چونکی تھی ۔

اللہ اللہ کیا ہو گیا ہے مجھے انہوں نے کس وجہ سے کال تھی میں کتنی کم عقل ہوں
وہ خود کو کوس رہی تھی جب ایکبار پھر سے بیل ہونے لگی
زلیخا نے پلک جھپکتے میں پک کرکے فون کان سے لگا لیا۔
لیکن دل کی حالت کچھ ایسی تھی کہ اس سے کچھ بولا نا گیا۔
ہیلو زلی
اسلام وعلیکم
وہ بہت سادہ سے لہجے میں بولا تھا مگر وہ جو تھی زلیخا علی سبحان؟

علی سبحان کے پکارنے پر اسکی سماعتوں میں کوئی رس سا گھلا تھا اسے لگا تھا کیا ہی کبھی کسی نے اسکا نام اتنے پیارے انداز ۔میں پکارا ہوگا۔
اسے زندگی میں پہلی بار اپنا نام بہت ہی خاص بہت ہی پیارا لگا تھا

علی سبحان زلیخا کی خاموشی کو کچھ اور سمجھا تھا جبھی کچھ پل کے توقف کے بعد پھر سے گویا ہوا
(سمیرا ) میری بھتیجی کی شادی ہے اسی ماہ جسکی تیاریوں کے سلسلے میں مجھے یہاں رکنا پڑا
( تو آپ مجھ سے ناراض نہیں تھے ؟ )
وہ صرف سوچ پائی کہہ نہیں پائی

کیونکہ شادی لاہور میں ہے تو اماں بابا کے ساتھ تمہیں بھی آنا پڑے گا-
احمد اور تمہارا ٹکٹ مل جائے گا
(خود آجاتے لینے یہ بھی صرف اس کی اپنی سوچ تھی۔)
میں خود آجاتا لیکن مجھے پتا ہے تم میری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتیں اور پلیز شادی پر آنے سے انکار مت کرنا کیوں کہ میں نے ابھی تک اماں بابا بلکہ کسی کو بھی کچھ نہیں بتایا
سو میرا نا سہی اماں بابا کا بھرم رکھ لینا انہیں دکھ سے بچالینا۔
میں آؤں گی میں ضرور آؤں گی اس بار اماں بابا کا نہیں بلکہ آپکا اپنے دل کا بھرم رکھنے کو آؤں گی
وہ بہت دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی لیکن دوسری طرف سے کب کی کال کٹ چکی تھی۔

———————–

شادی کی فکس کی گئی ڈیٹ سے کچھ دن پہلے وہ لوگ لاہور پہنچ گئے تھے
سرگودھا ائیر پورٹ سے روانہ ہوتے زلیخا کی حالت عجیب سی تھی شرمندگی پچھتاوا اور نجانے کون کون سے احساس تھے جن کے بار سے وہ دوھری ہوئی جاتی تھی
لیکن جیسے ہی کیبن کیور نے لاہور لینڈ کرنے کی اناونسمنٹ کی ہر احساس پر حاوی تھا ایک احساس
علی سبحان خان وہ جو اس کا محرم تھا اسکا سامنا کرنے کا اس سے نظریں ملانے کا یہ سب سوچتے اسکا دل کئی سالوں بعد عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔

جب وہ لوگ بورڈنگ سے باہر نکلے تو سامنے ہی وہ کھڑا تھا

بلو جینز کے ساتھ مرون جرسی پہنے آستین فولڈ کی ہوئی تھیں۔
ہلکی بڑھی شیو کے ساتھ وہ کافی تھکا تھکا سا لگ رہا تھا
ربنواز صاحب نے اسے بڑی چاہ سے بازو کے گھیرے میں لیا
شہربانو بیگم نے پیشانی چومی تو وہ احمد کی طرف متوجہ ہوگیا احمد کو خود سے لپٹا کر اٹھاتے اس نے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیے
اور وہ جو کھڑی سوچ رہی تھی کہ وہ پوچھے گا کیسی ہو کیا حال ہے
اس پر نظر تک نا ڈالی گئی تھی۔
خود پر ایک بار پھر سے افسوس کرتے وہ اماں بابا کے پیچھے چل دی تھی۔
—————
علی سبحان کے گھر والوں نے زلیخا کو ہاتھوں ہاتھ لیا تھا ۔۔
اسکی بھابھیاں اور باقی خواتین رشتہ دار زلیخا کو دیکھ کر گنگ رہ گئی تھیں.
بڑی بھابھی نے مہندی سے ایک رات پہلے کھانے پر جسکا اظہار کردیا تھا
ارے علی ہم تو سمجھے تھے کہ کوئی پکی عمر کی عورت ہوگی لیکن یہ تو ہماری سمی کہ ہم عمر ہے؟
پکی عمر سے آپکی کیا مراد؟
کیا علی بھائی کی عمر ؟
کسی رشتے دار لڑکے نے تبصرہ کیا تو سب ہنسنے لگے تھے
َزلیخا نے گبھرا کر نظر پھیری چہرے پر حیا کے رنگ چھائے تھے
ٹھیک اسی وقت علی سبحان کی بڑی گہری سی نظر بھی اسکی طرف اٹھی تھی۔

کیا کچھ نہیں تھا ان ٹہری ٹہری گہری آنکھوں میں طلب کی خواہش محبت چاہت اثرائی زلیخا کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی محسوس ہوئی تھیں لیکن پھر بھی نجانے کیوں وہ نظر نا جھکا سکی نا ہی ہٹا سکی
پھر اس سے پہلے کہ اسکی بدلتی حالت کوئی پاکر کچھ استفسار کرتا علی سبحان نے نظریں پھیر لیں تھیں
اور زلیخا علی سبحان اسکی نظریں پھیرنے کو ایک بار پھر سے اپنے کیے کی سزا سمجھ کر دکھی ہوئی تھی

چونکہ انکی رخصتی نہیں ہوئی تھی تو علی سبحان کے بھائی کی درخواست پر ربنواز صاحب نے ان کی رخصتی شادی کے ہی کے دنوں میں کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
———————–

وہ مہندی کی رات تھی زلیخا کے بارہا چاہنے کے باوجود اسے علی سبحان سے اکیلے میں بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا

یا شاید علی نے کوئی موقع نہیں دیا تھا یونہی کرتے سمیرا کی مہندی کا دن آن پہنچا
مہندی خالصتاً دیسی سٹائل میں کرنے کا ارینج کیا گیا جبھی تمام لڑکیاں دھولک رکھے بیٹھی تھیں ۔
لیکن مسئلہ یہ تھا سوائے چند ایک بڑی خواتین کے کسی کو بھی اردو یا پنجابی گانا نہیں آتا تھا
وہ سرخ اور پیلے کامدانی فراق میں جب لاونج میں داخل ہوئی تو کسی لڑکی نے اونچی آواز میں کہا
مامی آگئیں مامی گانا گائیں گیں

وہ جو مامی کہنے پر ہی سرخ ہوگئی تھی گانے کی فرمائش پر بوکھلا گئی
لیکن اسکی کسی بھی پس پشت کو خاطر میں لائے بغیر اسے محفل میں گھسیٹ لیا گیا۔۔

کچھ دیر وہ سوچتی رہی جب اچانک سے اسے بڑی پیاری سی خوشبو آئی تھی وہ لاکھوں ۔میں بھی پہچان سکتی تھی اس خوشبو کو
اسکے ہونٹ خود بخود وا ہوئے تھے
اور اس نے ایک پیاری سی تان اٹھاتے اپنا من پسند گیت شروع کیا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ جس کے لیے گارہی ہے وہ یہیں کہیں ضرور سن رہا ہوگا
———————-
وہ وقت سے زرا پہلے ہی ایرپورٹ پہنچ گیا تھا
دل کی حالت عجیب سی تھی تین ماہ بعد اسے جی بھر کر دیکھنے کی خواہش بڑی منہ زور ہورہی تھی۔
انکے درمیان بن چکے رشتے کا احساس تھا کہ زلیخا کو صرف دیکھنے کی خواہش ہی اس پر عجیب س طمانیت طاری کیے ہوئے تھی۔

پھر وہ آگئی اماں بابا کے پیچھے جھکی نظروں کے ساتھ چلتی
علی سبحان نے ایک ہی نظر میں خود کو دل جسم اور روح سمیت سیراب کیا تھا پھر نظر پلٹ دی
کیونکہ ابھی تک زلیخا نے اسے ایسا کوئی حق نہیں دیا تھا۔
وہ اس انتظار میں ہی رہا کب زلیخا اسے نظر اٹھا کردیکھے گی یا مخاطب کرے گی

ایسا کچھ نا ہوا تو وہ اپنا سامنہ لے کر احمد کو اٹھاتا باہر کی طرف نکل گیا ۔

گزرے دنوں میں علی سبحان کو بارہا لگا کہ زلیخا اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے ۔

لیکن وہ جان بوجھ کر زلیخا کو ایسا کوئی موقع نہیں رہا تھا کیونکہ وہ ڈرتا تھا کہیں زلیخا غلط فہمی میں کوئی انتہائی فیصلہ نا کر بیٹھی ہو

وہ ڈرتا تھا زلیخا کو کھونے سے اسکا سوچنا تھا چاہے زلی اس کے ساتھ نا رہے بات نا کرے اسے دیکھے تک نہیں، لیکن اسکی رہے ہمیشہ کے لیے اسکی ہوکر رہے
اسے فاصلے منظور تھے لیکن ہجر سہنا اسکے بس سے باہر تھا ۔

پھر ایک رات کچھ عجیب سا ہوا وہ مہندی سے پہلے کی رات تھی
جب کھانے کے دوران بھابھی نے کچھ کہا اپنے ہی خیالوں میں مگن وہ سن نہیں پایا تھا
لیکن جب اسکا اور زلیخا کا نام ایک ساتھ لیا گیا تو بے اختیار ہی اسکی نظریں زلیخا کی طرف اٹھی تھیں

کیا کچھ نہیں تھا ان نظروں میں شرم حیا جھجھک پچھتاوا اور سب سے بڑھ کر دبی دبی سی محبت کی کرنیں جو زلیخا کی آنکھوں سے پھوٹ رہی تھیں
علی سبحان ایک پل کو اچھا خاصا چونکا آنکھوں میں سرخی سی چھلکہ تو نظریں مزید گہری ہوگئیں

پھر اس نے پایا کہ محبت کی جو کرنیں کچھ دیر پہلے زلیخا کی آنکھوں چھلک رہی تھیں اب ان کرنوں کی شعاعیں اسکے پورے وجود نکلنے لگی ہیں
علی سبحان خان کے دل میں کسی بہت خاص بہت انمول سے جزبے نے انگڑائیاں لینا شروع کردیں
وہ جذبہ اسکی خواہش اتنی زور آور تھی کہ علی کی آنکھوں سے لہو چھلکنے لگا تھا۔

پھر اس سے پہلے کہ علی سبحان کی آ نکھوں کی سرخی کو کوئی زلیخا کے چہرے پر جالیتا
وہ آنکھیں پھیر گیا تھا
کچھ پلوں کی بات تھی کچھ پلوں میں گزر گئی
لیکن وہ کچھ پل امر ہو گئے تھے
علی سبحان اور زلیخا علی سبحان کی زندگیوں میں ہمہشہ ہمیشہ کے لیے
کیونکہ وہ پل ادراک کے تھے اقرار کے تھے
اور سب سے بڑھ کر پیار کے تھے۔
———————-
مہندی کا دن تھا وہ صبح سے ہی کافی مصروف تھا ۔
رات بھر ویسے ہی نئے نئے اندیکھے خوابوں کے سحر نے اسے سونے نا دیا تھا
علی سبحان فیصلہ نہیں کرپایا تھا کہ وہ ساری رات جاگتی آنکھوں سے اس نے زلیخا کی ہمراہی میں گزاری تھی
یا پھر ساری زلیخا نے اسکی محبتوں شدتوں بھری پناہوں میں گزاری تھی

جو بھی تھا رات بھر کا فسوں اب سارا دن گزار کر بھی اس پر چھایا تھا وہ آج کا سارا دن بات بات پر بڑی دھیمی من موہن سی مسکراہٹ لٹاتا کئی لوگوں کے دل دھڑکاتا رہا تھا۔

شام ہوئی تو اسے چینج کرنے کا خیال آیا تواپنے کمرے میں چلا آیا اس کا کمرہ نیچے تھا اور لاونج سے منسلک تھا ۔
جب وہ چینج کرکے باہر نکلا تو کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس وقت وہ نیوی بلیو رائل کاٹن کے سوٹ میں بڑا نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔
الہوی سی ہنسی ہنستے دروازے کو نظر انداز کرتے اس نے اپنا پسندیدہ پرفیوم Tom ford اٹھایا اور بلا دریغ خود پر سپرے کیا ۔

پرفیوم رکھ کر اس نے برش اٹھایا ہی تھا کہ اسکا ہاتھ ساکت ہوگیا۔
جسم کا ایک ایک جذو سماعتوں میں دھڑکنے لگا تھا۔
( دو چار قدم پے تم تھے
دو چار قدم پے تم تھے)
( یہ دو چار قدم بھی جانا
سو سالوں سے کیا کم تھے)

علی سبحان نے کافی عرصے بعد اس سریلی آواز کو دھنک کے سارے رنگ لیے سنا تھا
اسکا روم روم مچلنے لگا تھا
اسے محسوس ہوا تھا کہ اسکا سارا وجود ان سروں میں بہتے رنگوں سنگ بہنے لگا ہے

(مرجانا تھا یہ بھید نہیں تھا کھولناااااا
او ڈھولنا او ڈھولنااااااا
علہ بال بنائے بنا ہی باہر نکل آیا تھا
کب تک چپ بیٹھیں اب تو کچھ ہے بولنا
کچھ تم بولو کچھ ہم بولیں او

وہ جو بڑی ترنگ میں یہ بھول بیٹھی تھی کہ جا کے لیے گا رہی ہے اگر مجسم حقیقت بن کر سامنے آگیا تو جب آخری بولوں پر اونچی ہوتی آواز کے ساتھ اسکی نظر سامنے اٹھی
تو اسکی زبان لڑکھڑا گئی کیونکہ اسکا ڈھولنا سامنے دروازے کی چوکھٹ سے اوٹ لگائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بڑی ہی جانثار ہوتی گہری سر خ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

اب بیچ میں رک نہیں سکتی تھی اسی لیے تھوڑا دھیمے سے لرزتی آواز کے ساتھ مصرعہ مکمل کیا
او ڈھولنا
او ڈھولنااااااا

اور وہ جو ڈھولنا تھا
اس نے انکھیں بند کرکے سینے ہر ہاتھ رکھے انکھیں ایک انداز میں جھکا کر سر جھٹکا تھا۔

زلیخا منہ ہی منہ ۔میں کچھ بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
———————-
تین ماہ بعد

وہ ناران کا جنگل تھا جہاں انکا خیمہ لگا تھا
زلیخا اکیلی بیٹھی جھنجھلا رہی تھی جب علی سبحان مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا
مسٹر علی سبحان خان؟؟ زلی کا غصہ عروج پر تھا
جی مسسز علی سبحان خان
یہاں جانثاری عروج پر تھی
زلیخا کا غصہ ہوا ہونے میں ایک پل لگا تھا نظریں خود ہی جھک گئیں

جی جی حکم کریں مادام
اس طرف جانثاری میں دلداری شامل ہوئی تھی وہ وہ
زلیخا کی زبان کسی کی لو دیتی نظروں نے گنگ کردی تھی ۔

جی جی فرمائیں علی سبحان خان کی
اس سے پہلے کہ وہ کوئی گلافشانی کرتا زلیخا جھٹ سے بول اٹھی
مجھے پہلے پتا ہوتا کہ آپ یوں اپنی من مانیاں کریں گے تو
علی سبحان کی کچھ جتلاتی کچھ خمار جھلکاتی نظروں نے اسے بتایا کہ وہ جلدی جلدی میں کوئی بونگی مار گئی ہے جبھی زبان دانتوں تلے دبا لی

وہ زلیخا کی اس ادا پر ہنس دیا تھا
ارے زلی خان صاحبہ آپ کریں نا جناب اپن من مانیاں کس نے روکا ہے؟
ہم بھی تو دیکھیں آپکی من مانیاں کتنی اور کس حد تک جاتی ہیں
وہ مخمور سے لہجے میں بولا
علیییی. زلیخا چیخی تو اسے سنبھلنا پڑا
اچھا اچھا سوری یار
اصل میں اماں نے کہاں تھا کہ تمہارے ہاتھوں سے آج ہی صدقہ دلوا دوں اسی لیے پہاڑی بستی سے لوگوں کو بلانے گیا تھا ۔
تو؟؟ زلیخا نے بھونویں اچکائیں ؟
تو یہ کہ شاہ زادی صاحبہ باہر آئیں اور ان لوگوں کو خیرات دیں
علی نے کہتے ہوئے اسکے ہاتھوں میں پیسے پکڑائے خود اس نے تھوڑی دیر پہلے لائے شاپر پکڑ رکھے تھے جن میں کپڑے اور دوسری چیزین تھین
وہ باہر آکر لائن میں کھڑے لوگوں کو کپڑے اور پیسے خیرات کرنے لگی کپڑے ختم ہوئے تو علی سبحان خیمے کے دروازے میں جاکھڑا ہوا
زلیخا پیسے دیتے ہوئے جب آخری عورت تک پہنچی تو اسکے پاس کچھ نہیں بچا تھا

اس نے چونک کر پیچھے کھڑے علی سبحان کو دیکھا
جس نے زلیخا کی نظروں کا جواب کندھے اچکا کر سر کو ایک طرف جھٹکتے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دیا تھا۔
وہ جب بھی یوں سرجھٹک کر مسکراتا تھا زلیخا گنگ سی رہ جاتی تھی اس بار بھی ایسا ہی ہو ا

خدا جوڑی سلامت رکھے بی بی
عورت نے دعا دی اور جانے لگی جب زلیخا فوراً بولی
ایک منٹ
اور اگلے ہی پل اپنے ہاتھوں میں پہنا سونے کا بریسلٹ اس عورت کو دے دیا
عورت کے ساتھ ساتھ علی سبحان کا منہ بھی کھل گیا تھا
لیکن زلیخا عورت کو بھیج کر علی کے پاس آئی اور اسکے کان مین جھک کر بہت شیریں لہجے میں بولی؟؟
اگر میں سچ میں گزرے قدیم زمانوں کہ شاہ زادی ہوتی تو اپنے شاہ زادے کے یوں سر جھٹک کر ہنسنے والی ادا، پر ہر بار بلکہ بار بار ایک غلام آزاد کرتی خزانوں کے منہ کھلوا دیتی۔
میسی شہزادے
میسی شہزادے کو دو جہانوں کی خوشیاں سونپ کر وہ اندر بڑھنے تھی جب اس میسی شہزادے کی آوازگونجی

اور یہ شاہ زادہ اپنی شاہزادی کی اس ادا پر اپنا تم من دھن بلکہ پورا کا پورا خود خیرات کر دیتا زلی شاہ زادی

زلیخا نے مڑ کر دیکھا تو وہ اپنا پورا والٹ ایک بچے کے ہاتھوں پر خالی کر رہا تھا جو شاید ابھی ابھی آیا تھا۔
سارے بستی والے انہیں دعائیں دیتے گئے تھے

پھر جب شام نے رات کا پیرہن اوڑھا تو وہ جادو گر اپنی ملکہ کو لیے پہاڑی جھرنے کے پاس چلا آیا
چاند اپنے جوبن پر تھا ہوا میں رات کی رانی اپنی کھٹی میٹھی سی خوشبو پورے حق سے پھیلائے ہوئے تھی
پھر جھرنے کے بہتے سروں میں ایک جاں فزا سی لہہ شامل ہوئی تھی

اس قدیم زمانوں کے شاہ زادے نے ماوتھ آرگن کو بہت محبت سے اپنی سانسیں سونپی تھین
اس بار سر پیچھلی ہر بار سے زیادہ سحر کرتے تھے کیونکہ اس بار جادو گر کے کندھے پر وہ ہستی سر دھرے بیٹھی تھی
جسکی وجہ سے جادوگر کی سانسیں سرہھونکتی تھیں اثیر کرتی تھیں

جیسے سروں کی آواز بلند ہوتی گئی جنگلوں کی باسی کئی ان دیکھی مخلوق انکے آس پاس تھوڑے فاصلے پر اکھٹی ہونی شروع ہوگئی تھی

پھر ایک وقت آیا جب ناران کے جنگل مین پورے چاند کی روشنی لٹاتی رات میں سب کچھ چھپ گیا واضح رہا تو بس وہ پیڈ پائپر اور اسکے کندھے سے سر ٹکائے آنکھیں موند کر بیٹھی اسکی شاہزادی
اور واضح رہی تو ہر ذی روح کو اپنے سحر میں جکڑتی وہ محبت کی دھن ۔

جو کہتی تھی محبت کہ جائے تو اعتبار کیا جائے کیونکہ بے اعتباری کی بڑی سزا ملتی ہے جیسے شاہنواز کو ملی
جو کہتی تھی جب رب کی طرف سے نعمت ملے تو شکرگزاری کی جائے نا شکرے انسان اے نعمت چھین لی جاتی ہے جیسے زلیخا اے چھین لی گئی
جو کہتی تھی محبت اگر سچے دل سے کی جائے جیسے علی سبحان نے کی تھی تو اوپر والا کن کہتا ہے ضرور کہتا ہے
جیسے علی سبحان کی محبت پے کن کہا گیا

ختم شد

کیسی لگی آپکو محبت کی یہ داستاں اپنا اپنا رویو ضرور دیجے گا اور دعا میں یاد رکھیے گا
طالب دعا
میرب علی بلوچ

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: