Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 1

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ ایک اندھیری رات کا منظر تھا ۔۔۔طوفانی بارش زور شور
سے برس رہی تھی۔۔۔
بارش نے پسماندہ علاقوں میں تباہی مچا رکھی تھی۔۔۔
اچانک سنسان سڑک پر ایک بس آ کر رکی۔۔۔
جس میں سے ایک نسوانی وجود اتر کر تیز تیز قدم اٹھاتا سڑک پار کر کے تنگ گلی میں داخل ہو گیا۔۔۔ چہرہ چادر سے مکمل چھپا رکھا تھا۔۔۔
وہ برستی بارش میں مکمل بھیگ چکی تھی۔۔۔ پھر بھی تیز قدم اٹھاتی وہ گھر کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔
جلدی میں گلی کے نکڑ پہ مڑتے اچانک وہ سامنے سے آتے کسی بھاری بھر کم وجود سے ٹکرائی۔۔۔۔اسے اپنا سر ٹکرانے سے اور اس نامعلوم افراد سے اٹھتی شراب کی بدبو سے گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔
جیسے ہی اس نے سنبھل کر دیکھا ,,,
سامنے کھڑے شخص کو.. تو دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی.. آنکھوں میں خوف کے سائے واضح نظر آرہے تھے۔۔۔
یہ برستی بارش یک دم بھیانک روپ دھار چکی تھی..
سامنے کھڑا شخص ہونٹوں پہ کمینی مسکراہٹ سجائے حریص نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
یہ اس محلے کا سب سے اوباش شرابی ایک نمبر کا چھچھورا انسان ناصر تھا۔۔۔
جو اس وقت مکمل نشےمیں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتی.. خود کو سمبھالتی گلی میں داخل ہوئی۔۔۔
لیکن ناصر بھی کہاں بخشنے والوں میں سے تھا۔۔۔
لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے پیچھے آیا اور کلائی دبوچ لی …. خوف کے باعث ماہرہ کے حلق سے چیخ بلند ہوئی ۔۔۔جو آسمان پہ بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ کہیں دب سی گی ۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہے بلبل؟؟؟
دو گھڑی ہمارے ساتھ بھی بیتا لے آج آخر محلےداروں کے بھی کچھ حقوق ہیں۔۔۔۔
وہ کمینگی سے کہہ کر اسے بازو سے پکڑے اپنے بوسیدہ گھر کی جانب گھسیٹنے لگا۔۔۔۔
ماہرہ مسلسل نفی میں سر ہلاتی اس کے ہاتھ سے اپنی بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
جس پر اس خبیث انسان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔۔۔۔
وہ خود کو چھڑوانے میں ہلکان ہوتی جا رہی تھی.. آنکھوں سے بہتا سیلاب بارش کے قطروں میں گم ہوتا جا رہا تھا…چھڑوانے کی تمام کوششیں رائیگاں گئی .. برستی بارش میں کوئی اس کی درد بھری فریاد نہ سن سکا…
تھک ہار کر رب العزت کو پکار ڈالا ۔۔۔ جو سب کی سننے والا ہے .. وہ دل ہی دل میں رب کے حضور دعاگوہ تھی……
اس گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے کئی بار دل میں وہ دعا کر چکی تھی..
اے میرے رب مجھے رسوا مت ہونے دینا.. اس رسوائی سے بہتر ہے تو میری جان لے لے..
لیکن کسی کی حوص کا نشانہ نہ بنے۔۔۔۔
اچانک اس کی نظر خالہ رضیہ کے گھر پہ آ کر رکی تو… ایک امید کی کرن اس کے وجود میں جیسے نئی روح پھونک گئی ..
ماہرہ نے ایک دم سے خالہ رضیہ کو آوازیں دینا شروع کر دیں۔۔۔
کیوں کہ ان کا گھر ساتھ ہی تھا۔۔۔
خالہ رضیہ ماہرہ کے انتظار میں ٹہل رہی تھیں۔۔۔
اس کی آواز سن کر جلدی سے دروازے تک آئیں اور اسے کھول کر باہر جھانکا۔۔۔۔
باہر کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔۔۔۔
جہاں ناصر ماہرہ کو منہ سے پکڑے اور بازو سے دبوچے گھر کے اندر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
ماہرہ بھی اپنا آپ چھڑوانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھی۔۔۔۔
خالہ رضیہ تیزی سے گھر کے اندر گئی اپنے بیٹے کو جگانے ماہرہ کی مدد کے لیے۔۔۔کیوں کہ خود تو وہ ایک بوڑھی عورت تھیں ناصر جیسے غنڈے کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔۔۔
ان کے اندر جاتے ہی گلی کی مخالف سمت میں کھڑے ایک اور وجود جو کہ کب سے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
اس وجود میں حرکت ہوئی وہ بہت تیزی سے ہاتھ میں ایک پتھر اٹھا کر دوڑتا ہوا آگے بڑھا۔۔۔اور پتھر ناصر کے سر میں دے مارا۔۔
اچانک سر میں بھاری چیز لگنے سے ناصر چکرا کر رہ گیا۔۔۔۔
اور اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔۔۔
ماہرہ بھی جلدی سے خود کو آذاد کرواتی اپنے محسن کو دیکھنے لگی۔۔۔
جس نے ایک بار پھر سے وہ پتھر اٹھا کر ناصر کی ٹانگ پہ دے مارا۔۔۔
ناصر تکلیف سے بلبلا اٹھا.. پھر جیسے ہی مڑک ر پھتر مارنے والے کو دیکھا… اسے گویا ایک جھٹکا لگا تھا… اس پر وار کرنے والا کوئی عام انسان نہیں ایک خواجہ سرا ہے۔۔۔۔
اس سب شور پکار میں کچھ لوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے تھے۔۔۔۔
ناصر کی زخمی حالت دیکھ کر پوچھ گچھ کرنے لگے۔۔۔۔
جس پر اس زلیل بدتمیز انسان نے سارا الزام ماہرہ پر ڈال دیا۔۔۔۔
یہ گشتی اوباش عورت اس ہجڑے کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔۔۔
میں نے اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھا ہے جی۔۔۔۔
ماہرہ تو حیرت سے منہ کھولے اس کو دیکھے جا رہی تھی جو کتنی صفائی سے جھوٹ بول کر خود کو سچا ثابت کرنے والا تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں آپ سب لوگ میری بات کا یقین نہیں کریں کیوں کہ میں ایک غنڈہ شرابی انسان ہوں۔۔۔
لیکن آج تک کسی زنانی کی طرف سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔۔۔
اور میرے سچ کا ثبوت یہی ہے یہ عورت رات کے اس پہر برستی بارش میں اکیلی اس ہجڑے کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔۔۔۔؟؟؟
آخری بات پر تو اس نے اپنے جھوٹ پر سچ کی پکی مہر لگادی تھی۔۔۔۔
جھوٹ بول رہا ہے یہ بےغیرت انسان
اس خواجہ سرا سے اب برداشت نہ ہوا آخر بول ہی پڑا۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ باجی جی کے ساتھ زبردستی کر رہا تھا میں نے صرف ان کی مدد کی۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ نچھا کر بولنے لگا۔۔۔
اس کی آواز لڑکیوں کے جیسے نازک اور باریک تھی۔۔۔
جس کو سن کر وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے زور دار قہقہے لگانے شروع ہو ۔۔گئے ۔
اب ہم ایک ہجڑے کی بات کا یقین کریں گے جو کہ بات سننے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔۔۔
سب لوگ جانتے ہیں تم لوگ ایسے غلیظ کام کرتے ہو تب ہی ہم شریف لوگوں پہ بھی اللّٰہ کا عذاب آتا ہے تم لوگوں کی وجہ سے۔۔۔
یہ غیر اخلاقیہ جملے کہنے والے محلے کے نامی گرامی حاجی صاحب تھے۔۔۔
جن کی بات سن کر وہ بےچارہ شرم سے اپنا سر جھکا گیا۔۔۔
کیوں نہیں کریں گے آپ لوگ اس کی بات کا یقین؟؟
صرف اس لئے کہ یہ آپ سب کی طرح مکمل مرد نہیں ٹھیک ہے میں بتا دیتی ہوں آپ لوگوں کو اصل بات۔۔۔
اس شخص نے میرے ساتھ زبردستی کی کوشش کی اور اسی ہجڑے نے میری جان بچائ۔۔۔
پر بی بی ہم تمہاری بات کا بھی یقین کیسے کریں اتنی رات کو تم باہر کر کیا رہی تھیں؟؟
یہ بات کہنے والی حاجی صاحب کی زوجہ محترمہ تھیں جو دروازے سے سر نکال کر ہمہ تن گوش ہوئیں۔۔۔
خالہ ایسے بول رہی ہو جیسے کچھ جانتی نہیں ہو تم۔۔
سب جانتے ہیں یہاں کھڑا ایک ایک شخص جانتا ہے میں اس وقت فیکٹری سے واپس اتی ہوں روزانہ اور بارش کی وجہ سے آج بس مشکل سے ملی اس لیے دیر ہو گئی۔۔۔
بچی سچ ۔کہہ رہی ہے ۔۔۔میں نے خود دیکھا ہے ناصر کو غلط حرکت کرتے ہوئے۔۔۔
اب بولنے والی خالہ رضیہ تھیں جن کی بات پر سب کو یقین آگیا تھا۔۔۔
رہنے دیں خالہ ان سب کو یقین کیوں آئے گا میری بےگناہی کا کیوں کہ میں ایک اکیلی عورت ہوں جو اپنا دفاع نہیں کر سکتی اور یہ ایک خواجہ سرا ہے جو یقین کے قابل ہی نہیں۔۔۔
حقیقت تو یہ ہے آپ سب لوگ مرد کہلانے کی لائق نہیں۔۔۔
بچپن سے میں بھی اس محلے میں ہوں اور یہ آوارہ گرد بھی۔۔۔
سب جانتے تھے کون سچا ہے اس کے باوجود آپ لوگوں نے جھوٹ کا ساتھ دیا۔۔۔
ایک اکیلی عورت کی حفاظت کرنے کے بجائے اسے انصاف دلانے کی بجائے آپ اس کے کردار پر انگلیاں اٹھا کر خود کو مرد سمجھتے ہیں۔۔۔
افسوس ہے ایسی مردانگی پہ۔۔۔۔
وہ غصے میں وہاں کھڑے سب افراد پر آنکھیں گاڑھے حقیقت کا آئینہ دکھا رہی تھی۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے ایک تاسف بھری نظر ڈالتی خالہ رضیہ کے پاس آئی۔۔۔
خالہ آج بہت بارش ہے ابراھیم سو چکا ہوگا۔۔۔
آج اسے اپنے گھر رکھ لو کل چھٹی ہے میں سویرے اسے آ کر لے جاؤں گی۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا فکر کی کوئی بات نہیں وہ یہاں آرام سے سو رہا ہے۔۔۔
خالہ کی بات سن کر وہ اپنے گھر کی جانب بڑھی محلے والے بھی اپنے اپنے گھروں میں جانے لگے۔۔۔
اچانک کچھ یاد آنے پر پیچھے پلٹ کر اس طرف آئی۔۔۔
جہاں وہ اب تک بت بنا کھڑا تھا۔۔۔
اتنی عزت کافی نہیں ہے کیا اور کرانے کا من ہو رہا ہے۔۔۔
نہيں باجی میں تو بس ویسے ہی۔۔۔
وہ اس کی بات پہ گھبرا کے بولنے لگا۔۔۔
ماہرہ نے کسی کی بھی پرواہ کیے بناء اس کا ہاتھ پکڑا اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔
یہ سچ ہے اکیلی عورت دنیا کی نظر میں مشکوک ہی رہتی ہے
چاہے وہ کتنی پاکدامن ہو۔۔۔
یہ منظر پانچ کنال پر بنی خوبصورت کوٹھی کا ہے جس کے لان میں خوبصورت پودوں کی تراش خراش اور ہر طرف مہکتے پھول گھر کے مکینوں کی پودوں میں دلچسپی کا پتہ دیتے ہیں۔۔۔
اس کوٹھی کے مالک آفتاب شیرازی ہیں جوکہ ملک کے مشہور بزنس مین ہونے کے ساتھ خواجہ سرا کے حقوق کے لیے ایک این جی او بھی چلا رہے ہیں۔۔۔
اور یہی ان کی وجہ شہرت ۔
آئے دن کے چیرٹی شو اور مارننگ شو میں ان کی شرکت باعث فخر سمجھتے ہیں لوگ۔۔جن میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی ضرور جاتی ہیں۔۔۔
کوٹھی کے اندر آلو کے پراٹھوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔۔۔
کچن میں جھانکیں تو ماہم کام کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔۔۔
ویسے تو کوٹھی میں نوکروں کی پوری فوج ہے۔۔۔
لیکن اپنے محبوب شوہر کے لیے ماہم اپنے ہاتھ سے یہ پراٹھے بناتی۔۔۔
یہ اس نے خاص آفتاب کی فرمائش پر سیکھا تھا۔۔۔
وہ کچن سے نکل کر ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئی جہاں آفتاب پہلے سے ہی اس کا انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔
اسے آتا دیکھ کر فوراً اپنی جگہ سے اٹھا ماہم کے ہاتھ سے پلیٹ پکڑنے کے بعد اسے بھی محبت سے کندھوں سے تھامتا ٹیبل تک لایا ایک کرسی پر اپنے برابر بٹھایا۔۔۔
کتنی بار منع کر چکا ہوں مت جایا کرو کچن میں یہ تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں۔۔
وہ محبت سے اس کا ہاتھ تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا۔۔۔
اس کے لحجے میں سچی فکر جھلک رہی تھی۔۔۔
جسے سن کر ماہم خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرتی۔۔
اتنے محبت کرنے والے شخص کا ساتھ پا کر بہت خوش تھی۔۔۔
اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب ایک چیرٹی شو میں اس کی ملاقات آفتاب شیرازی سے ہوئی تھی۔۔۔
دونوں کے درمیان دوستی ہوگئی۔۔
جو کہ بعد میں محبت کی شکل اختیار کر گئی۔۔
جلد ہی آفتاب نے اپنی فیملی کے ہاتھ پروپوزل بھیجا جسے فوراً ہی قبول کر لیا گیا۔۔
کیوں کہ ماہم کے فادر بھی بزنس مین تھے اور وہ آفتاب شیرازی کو بھی اچھے سے جانتے تھے۔۔۔
ان کی بیٹی کے لیے آفتاب کا پروپوزل بھیجنا خوش قسمتی تھی انکی۔۔۔
اس طرح ماہم شادی ہو کر آفتاب کی ذندگی میں آگئی۔۔
آفتاب ایک محبت کرنے والا اور جان نچھاور کرنے والا شوہر تھا۔۔
ماہم اس کی سنگت میں بہت خوش تتھی۔۔۔
اب کچھ مہینے بعد ان کی محبت کو مکمل کرنے ننھا مہمان آنے والا تھا ۔۔
جس کی آمد کا سن کر دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے ۔۔۔
آفتاب پہلے سے بھی ذیادہ خیال رکھنے لگا تھا ماہم کا وہ بھی کوشش کرتی آفتاب کو شکایت کا موقع نہیں دے۔۔۔
ماہم ماضی میں کھوئی ہوئی تھی جب آفتاب کی آواز سے چونکی۔۔۔
کہاں کھو گئیں؟۔۔۔کیا آج میں ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں؟؟
وہ مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ماہم کو ناشتہ کرانے لگا۔۔
وہ تو آپ ہمیشہ ہی لگتے ہیں۔۔۔
ماہم بھی محبت سے اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔
آہاں۔۔۔۔کبھی تعریف نہیں کی جناب نے۔۔۔
روزانہ کرتی تو ہوں۔۔۔ ماہم بریڈ پر جیم لگا کر جگ سے جوس نکال رہی تھی گلاس میں۔۔۔
اس دوران آفتاب پراٹھوں سے مکمل انصاف کر چکا تھا۔۔۔
کبھی میرے انداز میں بھی کرو نا تعریف اس کا موڈ ماہم کو تنگ کرنے کا تھا۔۔۔
جسے سمجھ کر ماہم کے لبوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آگئی۔۔۔
اس نے فوراً سے جوس کا گلاس لبوں سے لگا لیا۔۔
اچھا ٹھیک ہے آرام سے ناشتہ کرو میں کمرے سے سامان لے کر اتا ہوں۔۔۔۔
آفتاب کے آنے تک ماہم ناشتہ کر چکی تھی۔۔۔
اب کرسی پر رکھا آفتاب کا کوٹ اٹھا کر اسے محبت سے پہنانے لگی۔۔۔
آفتاب نے اسے اپنے قریب کر کے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔
اپنا اور ہمارے بچے کا خیال رکھنا میں کوشش کروں گا جلدی واپس آنے گی۔۔۔
جی آپ بھی اپنا خیال رکھیئے گا۔۔
آفس پہنچ کر مجھے کال کر دیجئیے گا۔۔
ماہم نے اسے تلقین کی جو کہ روز کرتی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے ضرور کروں گا۔۔۔
اب چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا۔۔۔
ایک بار پھر یاد دہانی کروا کر وہ باہر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔۔۔
جسے دیکھ کر گارڈ نے فوراً گیٹ کھولا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: