Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 10

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 10

–**–**–

شمیم اب کافی حد تک خود کو اس ماحول میں ڈھال چکا تھا ۔۔
ماھرہ کی مدد سے اس نے میٹرک کا امتحان پرائیویٹ پاس کیا ۔۔
آگے بھی تعلیم جاری رکھی۔۔
ماہرہ اس کی زندگی میں ایک بڑی بہن جیسی حیثیت رکھتی تھی ۔۔
وہ اپنے سگے بہن بھائی کا بھی بہت خیال رکھتا ۔۔
وہ آفتاب شیرازی کو کسی قسم کی بھی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔
اگرچہ آفتاب اس سے کم مخاطب ہوتا تھا لیکن دوسرے ملازمین سے اس کے کام کے متعلق پوچھ گچھ لازمی کرتا ۔۔
جس کا جواب وہ ہمیشہ تسلی بخش دیتے ۔۔
آفتاب کی نظر جب بھی شمیم پہ پڑتی اسے اپنی اولاد اور اپنی بیوی شدت سے یاد آنے لگتے اور ساتھ ہی پچھتاوے کا احساس اور بڑھنے لگتا ۔۔
شمیم لان میں بیٹھا اپنے بہن بھائی کو کچھ کھلا رہا تھا جب آفتاب آفس سے وواپس آ کر لان میں اس کے قریب بیٹھ گیا ۔۔
شمیم دل جمعی سے اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔
سعد اور سعدیہ کھاتے کم تھے کپڑوں پر ذیادہ گراتے تھے ۔۔
آفتاب غور کر رہا تھا شمیم بالکل بھی تنگ ہوئے بنا بار بار ان کے منہ اور کپڑے صاف کرتا اور پھر سے کھلاتا ۔۔
آفتاب آج پہلی بار شمیم کو ذیادہ توجہ سے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کے کانوں میں کسی کے کہے الفاظ گونجنے ۔۔
” تم اسے پڑھا لکھا کر ایک اچھا انسان بھی بنا سکتے ہو یہی بچہ تمہارا سہارا بنےگا “
میں نہیں رکھ سکتا اس کو اور ایک ھجڑا کیا سہارا بنےگا میرا ؟؟
اپنے ہی کہے الفاظ یاد کر کے اس کے دل پر مذید بوجھ بڑھنے لگا ۔۔
شمیم اب دونوں کو اندر لےکر جارہا تھا ۔۔
آفتاب کے پکارنے پہ پلٹا ۔۔
سنو شمیم اگر کسی چیز کی ضرورت ہو یا کوئی بھی مسئلہ ہو تم مجھے بلا جھجھک کہہ سکتے تھے ۔۔
باپ کی شفقت کی ضرورت ہے ۔۔
شمیم صرف دل میں سوچ کر رہ گیا ۔۔
جی بہت شکریہ صاحب ۔۔
اتنا کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
آفتاب اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔

*********************

شمیم کو گرو جی کی بہت یاد ستاتی تھی ۔۔
وہ شہر آ کر واپس نہیں گیا تھا لیکن انہیں بھولا بھی نہیں تھا ۔۔
اس کا دل چاہا وہ آفتاب سے اجازت لےکر کچھ دن کے لیے گاؤں چلا جائے ۔۔
یہی سوچ کر باہر لان میں گیا جہاں آفتاب بچوں کے پاس بیٹھا تھا ۔۔
صاحب جی؟؟
اوہ شمیم آؤ بیٹھو ۔۔دیکھو تمہارے کہنے پر میں نے ان کے کانوں میں سماعتی آلہ لگوایا ہے ۔۔
اب یہ دونوں میری باتوں پر کچھ ردعمل تو دے سکیں گے ۔۔
آفتاب خوشی سے شمیم کو بتا رہا تھا ۔۔شمیم بھی ہلکے سے مسکرانے لگا ۔۔
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟
ہاں کہو کیا کہنا چاہتے ہو ؟؟
آفتاب پوری طرح متوجہ ہوا ۔
کچھ دن کی چھٹی چاہئیے تھی گاؤں جانا ہے ۔۔
شمیم نے دھیمے لحجے میں کہا ۔۔
گاؤں کیا تمہارا کوئی گاؤں بھی ہے تم نے کبھی بتایا نہیں ؟۔
آفتاب نے حیرت سے پوچھا ۔۔
جی میرا گاؤں بھی ہے جہاں میں بچپن سے پلا ہوں جہاں میری گرو جی رہتی ہیں ۔۔
لفظ گرو جی پر آفتاب کچھ چونکا ۔۔لیکن ظاہر نہیں کیا ۔۔
ٹھیک ہے کل چلے جاؤ لیکن جلدی واپس آجانا ۔۔کیوں کہ جانتے ہو نا بچے تم سے کتنے مانوس ہو چکے ہیں ۔
آفتاب نے اجازت دیتے ہوئے ضروری نصیحت بھی کی ۔ ۔
جی دو تین دن میں آجاؤں گا ۔۔
شمیم نے تابعداری سے جواب دیا ۔
آفتاب پھر سے بچوں کو پیار کرنا لگا اور بچے بھی شاید اس کی باتیں سمجھتے یا نہیں لیکن ہنسنے لگے ۔۔
ایک سوال پوچھوں آپ سے ؟؟
شمیم کچھ سوچ کر کہنے لگا ۔۔
آفتاب نے پہلے اسے غور سے دیکھا اس طرح پوچھنے پہ ۔۔
ہاں پوچھو ؟؟
آپ کی کوئی اور اولاد نہیں ہے ؟؟
شمیم کے سوال کرنے پہ آفتاب ایک دم خاموش ہو گیا جسے شمیم نے بھی محسوس کیا ۔۔
ہاں تھی میری ایک اولاد اور بھی ۔۔
اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔
تھی مطلب اب نہیں ہے ؟؟
شمیم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔۔
نہیں۔۔۔پتہ نہیں کہاں ہے ؟؟
شکر اپنی اولاد ماننے سے انکار نہیں کیا شمیم دل میں سوچنے لگا ۔۔
کیا ایک سوال میں پوچھوں تم سے ؟؟
آفتاب نے بھی حساب برابر کرنا ضروری سمجھا..
جی ؟؟؟
تمہاری گرو جی کہاں رہتی ہے کوئی کون ہے کیا نام ہے ؟؟
آفتاب کسی امید کے تحتِ ایک ہی سانس
میں اتنے سوال پوچھنے لگا ۔۔
جی ان کا نام ریشماں گرو ہے شمیم نے اپنی حیرت کو چھپاتے ہوئے سادہ لہجے میں جواب دیا ۔۔
جسے سن کر آفتاب کچھ بےچین ہو گیا ۔۔
کل کس وقت جانا ہے تم نے ۔؟؟
میں بھی ساتھ چلوں گا ۔۔
بہت سوال کرتے ہو تم اب جاؤ یہاں سے آفتاب کا روکھا لحجہ سن کر شمیم کو دکھ ہوا لیکن چپ چاپ وہ وہاں سے چلا گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
اگلے دن شمیم آفتاب کے ساتھ گاؤں جانے کے لیے نکلا راستے میں دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں غرق تھے ۔۔
دن تک گاؤں پہنچ گئے ۔۔
شمیم آفتاب کو گرو جی کے گھر لے آیا دروازے پر پہنچ کر اسے فیروزہ کی آوازیں آرہی تھیں جو نئے خواجہ سراؤں کو ناچ گانا سکھا رہی تھی ۔۔
دستک دینے پر اسی نے دروازہ کھولا اور سامنے شمیم کو دیکھ کر ساتھ لپٹ گئی ۔
ہئے رے شمی کتھے چلا گیا تھا تو بے وفا ہماری یاد بھی نہیں آئی ۔۔
پیچھے ہٹے گی کہ کچھ بتاؤں گا شمیم نے ہنستے ہوئے اسے خود سے الگ کیا جو آج اس کی ہڈیاں توڑنے کا پکا ارادہ کیے ہوئے تھی ۔۔۔
شمیم سے علیدہ ہو کر جب پیچھے کھڑے آفتاب پر اس کی نظر پڑی وہ حیرت کا بت بن گئی۔۔
شمیم نے کندھا ہلا کر اسے ہوش دلایا اور آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔
اندر گرو جی بستر پہ بیمار پڑی تھی ۔۔
شمیم دوڑ کر اس کے پاس گیا اور گلے لگا کر پیار کیا ۔۔
میرے بیٹے آگئے تم اتنی دیر سے کیوں آئے تمھاری بوڑھی ماں تمھاری راہ تکتے بیمار پڑ گئی ۔۔
گرو جی کے لحجے میں آج بھی وہی سچی شفقت جھلک رہی تھی ۔
میں اکیلا نہیں آیا دیکھو میرے ساتھ کون آیا ہے ؟؟
شمیم نے سہارا دے کر اسے بیٹھنے میں مدد کی ۔۔
آفتاب کو دیکھ کر گرو جی حیرت میں پڑ گئی ۔۔
میں تم سے ملنا چاھتا تھا آفتاب نے اپنے آنے کی وجہ بیان کی ۔۔
گرو جی جانتی تھی وہ کیوں آیا ہے لیکن پھر بھی آفتاب کو بولنے دیا ۔۔
کیسے میرے غریب خانے کی یاد آگئی آفتاب باؤ ۔؟؟
برسوں پہلے تم میری ایک قیمتی امانت لے آئی تھی ۔۔
وہ قیمتی ہوتی تو تم مجھے کیوں دیتے ؟؟
اس وقت قیمتی نہیں تھی لیکن بعد میں احساس ہو گیا تھا ۔۔
دونوں کی گفتگو شمیم خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔
دل میں حیران ہو رہا تھا اس کے باپ کو بھی یاد آتی تھی اس کی ۔۔
اچھی بات ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور رہی بات امانت کی تو وہ پہلے ہی میں نے تم تک پہنچا دی ہے ۔ ۔
گرو جی نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔
کیا مطلب ہے تم کیا کہ رہی ہو ؟؟
میں وہی کہہ رہی ہوں جو تم سمجھ گئے ہو یہ شمیم ہی تمہارا بیٹا ہے ۔۔
گرو جی نے شمیم کی طرف اشارہ کیا جو سر جھکائے بیٹھا تھا ۔۔
میرا بیٹا ؟
آفتاب غائب دماغی سے بول رہا تھا ۔۔
ہاں یہی ہے تمھاری اولاد ۔۔
تم یہ بات جانتے تھے نا مجھے کیوں نہیں بتایا ؟
آفتاب نے اٹھ کر شمیم کو اپنے ساتھ لگا لیا اور زاروقطار رونے لگا ۔۔
میری بیوی اپنی اولاد کی دوری کا غم لیے دنیا سے چلی گئی ۔۔
وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھا معافی مانگ رہا تھا ۔۔۔
گرو جی اور شمیم اس بات پر بہت خوش تھے آفتاب کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور اس نے اپنی اولاد کو دل سے تسلیم کر دیا ۔۔۔
(کاش سب ماں باپ ایسے ہی ہو جائیں ۔۔)
شمیم نے کچھ دن رکنے کی خواہش ظاہر کی گرو جی نے اسے واپس بھیج دیا ۔۔
آفتاب نے اپنی غلطی کا ہر طرح سے مداوا کیا شمیم کو پڑھایا اس کے ساتھ باپ جیسا شفقت بھرا رویہ اختیار کیا ۔۔
اسے یقین تھا روز آخرت ماہم ضرور اسے معاف کرے گی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: