Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 2

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 2

–**–**–

یہ صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا منظر ہے۔۔۔
جہاں سادہ لوح دیہاتی رہتے ہیں۔۔۔
جو دن بھر کھیتی باڑی کرتے اور مویشی پالتے ہیں ۔۔۔
اس گاؤں میں ایک خواجہ سرا گرو جی کے نام سے مشہور ہے ۔۔۔
جن کے پاس لوگ اپنے ایسے بچوں کو چھوڑ جاتے جو نہ تو مکمل مرد اور نہ ہی مکمل عورت ہوتے۔۔۔
جنہیں عام الفاظوں میں خواجہ سرا کہتے ہیں۔۔۔
والدین ایسی اولاد کی پرورش کرنا یا گھر میں رکھنا باعث شرمندگی سمجھتے۔۔۔
ایسے میں گرو جی ان بچوں کو اپنے سینے سے لگا کر اپنی اولاد کی طرح پالتی۔۔۔
ان خواجہ سراؤں کو مخصوص انداز گفتگو ہاتھ سے اشارے کرنا اور ناچنے کی تربیت دی جاتی۔۔۔
جوان ہو جانے پر یہی بچہ جو پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن سکتا تھا۔۔۔
ایک خواجہ سرا بن جاتا جسے دنیا والے کھسرا یا ہجڑا کہہ کر پکارتے۔۔۔۔
گاؤں کے لوگ بھی انہیں اچھا نہیں سمجھتے لیکن گاؤں کے چوہدری کو ناچ گانے کی محفل لگانے کا ذیادہ ہی شوق تھا۔۔
انہی کے احسان کی بدولت ان خواجہ سرا کو گاؤں میں رہنے کے لیے جگہ ملی تھی۔۔۔
گاؤں میں کوئی بھی شادی یا کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہجڑوں کو بلوا کر خوشی منائی جاتی۔۔۔
سستے میں یہ خواجہ سرا سب کو خوش کر دیتے۔۔۔۔
شام ڈھلے چوہدری کی حویلی میں ہر طرف چہل پہل تھی.. ایک ہجوم سا امڈ آیا تھا…
ہجوم کے درمیان فیروزہ جو کہ خواجہ سرا کے گروہ میں سب سے خوبصورت تھی۔۔۔
اپنے عجیب بےڈھنگے رقص سے شغل لگائے ہوئے تھی۔۔۔
لڑکے جس گانے کی فرمائش کرتے اسی پر ناچنے لگتی۔۔۔
چل اب انجمن کی طرح ناچ۔۔۔۔کسی دیہاتی کی فرمائش۔۔۔
ہائے ہائے کیوں باؤ تمہیں اپنی کھیت عزیز نہیں۔۔؟؟؟
وہ ۔ہاتھوں کی تالی بجا کر بولی۔۔۔
چل ناچ نا جتنا بولے گی اتنے دونگا۔۔۔
دیہاتی اب لالچ دیتے ہوئے بولا۔۔۔
ٹھیک ہے پانچ پانچ کے دس سکے لونگی۔۔۔
ماہی آوے گا میں پھلاں نال دھرتی سجاواں گی۔۔۔
وہ پھر سے تالیاں بجا کر اپنے مخصوص انداز میں ناچنے لگی۔۔۔
حویلی تالیوں ں کی آواز سے گونج اٹھی تھی.. ۔
ناچ ختم کر کے اس نے دیہاتی کی طرف ہتھیلی بڑھائ۔۔۔
جس پر اس نے صرف پانچ سکے رکھے۔۔۔
فیروزہ کے چہرے پہ غصے کے آثار نمایاں ہوئے۔۔۔
چل نا ادھار سمجھ باقی اگلی بار دے دوں گا۔۔۔۔
جلدی جلدی سارے پیسے جمع کر کے وہ گھر کی طرف چل دی۔۔۔
آج تو اچھی دیہاڑی لگ گئی یہ پیسے تو میں گرو جی کو نہیں دینے والی۔۔۔شہری کپڑے اور اچھے والا کاجل لوں گی۔۔۔
وہ پیسوں کو چھپا کر خود سے باتیں کرتی ہوئی گھر کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
دور سے ہی گاؤں کی کچی مسجد کے اونچے مینار نظر آرہے تھے۔۔۔
وہ دل میں اب مسجد کے مولوی صاحب کو صلواتیں سناتی جا رہی تھی۔۔۔
یہ مولوی صاحب بالکل ویسے ہی تھے۔۔۔جن کے بارے میں یہ مثال تھی نیم ملاء خطرہ ایمان۔۔۔
مولوی صاحب نے گاؤں کے سادہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی۔۔۔
یہ کھسرے اللّٰہ کا عذاب ہیں انہیں مسجد کے اندر آنے اور قریب سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔
دیہاتی بھی مولوی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین رکھتے۔۔۔
وہ اب مسجد کے قریب پہنچ گئی تھی۔۔۔
یہ کیا مسجد کے دروازے پر سیڑھیوں کے پاس مولوی صاحب بیٹھے روئے جا رہے تھے۔۔۔
وہ حیران و پریشان ہوتی ان کے پاس آئی۔۔۔
مولوی جی کیوں روندے ہو کی ہویا جی؟؟؟
وہ پاس ہی بیٹھ کر رونے کی وجہ پوچھنے لگی۔۔۔
او میری بیوی مر گئی ہے سب مرنے والوں کے اعلان میں کرتا تھا۔۔۔
اب کیا اپنی بیوی کے مرنے کا اعلان بھی خود کروں۔۔۔
گاؤں سے اب تک کوئی نہیں آیا۔۔۔
مولوی صاحب ساتھ روئے جاتے اپنا ماتھا پیٹ کر وجہ بھی بتاتے۔۔۔
جسے سن کر فیروزہ منہ پر ڈوپٹہ رکھے ہنس رہی تھی۔۔
اچانک اس کے شیطانی دماغ میں اس ایک منصوبہ آیا۔۔۔
مولوی صاحب ای کیڈا مشکل کم ہے جی۔۔۔میں ابھی کر دیتی ہوں اعلان۔۔۔
مولوی صاحب رونا بھول کر اسے دیکھنے لگے۔۔۔
اور دل میں سوچنے لگے اگر یہ کھسرا نہ ہوتا ضرور مرد ہوتا۔۔۔
مولوی صاحب کی اپنی سوچیں تھیں۔۔۔
مولوی صاحب کے جواب دینے سے قبل وہ مسجد میں چلی گئی۔۔۔
لاؤڈ سپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنا گلہ کھنگھارا۔۔۔۔
“وے لوگو پاؤ لڈی مر گئی اج مولوی دی بڈھی۔”۔۔
ایک بار کر کے دوسری بار بھی یہی اعلان کیا۔۔۔
تیسری مرتبہ بھی کرنے لگی تھی۔۔۔
مولوی صاحب ہانپتے کانپتے اس تک پہنچے کھینچ کر پرے دھکیلا۔۔۔
اس نے بوکھلانے کی بھرپور اداکاری کی۔۔۔
کیا ہوا جی اعلان پسند نہیں آیا۔۔۔
نکل جا یہاں سے۔۔۔مولوی صاحب انتہائی غصے میں بپھرے ہوئے تھے۔۔۔
یہ آپ کی کم علمی کی سزا ہے جس سے آپ لوگوں کو ہمارے متعلق غلط علم اور معلومات دیتے ہیں۔۔۔
اسی آشنا میں لوگ دوڑتے ہوئے مسجد تک آئے۔۔
فیروزہ نے جلدی سے مولوی صاحب کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگنے میں عافیت جانی۔۔۔
لیکن جاتے جاتے نیم ملاء خطرہ ایمان کو اچھا سبق سکھا گئی تھی۔۔۔۔
وہ ہانپتی کانپتی گھر تک پہنچ,,,تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔۔۔
گھر کے اندر اتے ہی اس نے دروازے کو کنڈی لگائی اور وہیں کھڑی ہو کر اپنی سانس درست کرنے لگی۔۔۔
گرو جی اندر کمرے سے اسے دیکھ رہی تھی غصے میں بھری ہوئی باہر آئی۔۔۔۔
ہائے رے غضب ہی کر دیا آج تو تونے۔۔۔۔
کیا ہوا گرو جی وہ انجان بنتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔۔
تو سب جانتی ہے کیا کر کے آئی ہے تو ۔۔۔
کتنی بار سمجھایا تجھے مت منہ لگا کر اس ملے کے لیکن تونے قسم کھائی ہے پچھلی عمر میں اس گاؤں سے مجھے نکلوا کر ہی چھوڑے گی۔۔۔
ہاں تو کیا ہوا وہ بھی تو ہمارے بارے میں الٹی سیدھی باتیں سکھاتا گاؤں والوں کو وہ مولوی کہلانے کے لائق نہیں۔۔۔
سامنے بھی فیروزہ تھی جس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا تھا۔۔۔
اس کی بیوی مری ہے اور تو لوگوں کو لڈیاں ڈالنے کا کہہ آئی ہے۔۔۔
گرو جی اس کے انداز پر مذید غصہ ہو گئیں۔۔۔
تو گرو جی تم ہی تو ہمیں سکھاتی ہو کچھ بھی ہو جائے ہم نے ناچ گانا کرنا ہے اور لوگوں کو بھی یہی بتانا ہے۔۔۔
اب تم نے مجھے اگر مرنے والے کے اعلان کرنا بھی سکھایا ہوتا تو میں آج ایسا کرتی بھلا ۔۔
اس کی باتیں سن کر گرو جی کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے یا فیروزہ کا سر دیوار سے مار دے۔۔۔
پھر بھی وہ برداشت کر گئیں۔۔۔
اب جلدی جا سامان تیار کر گاؤں والوں کے آنے سے پہلے ہمیں شہر نکلنا ہے کچھ دن بڑی گرو کے پاس رہ کر آئیں گے سب بھول چکے ہوں گے,,,آج والا واقعہ۔۔۔
شہر جانے کی بات سن کر فیروزہ فوراً سے خوش ہوتی اندر کی طرف بھاگ گئی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: