Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 3

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 3

–**–**–

آفتاب آفس میں ایک ضروری میٹنگ میں مصروف تھا۔۔۔
جب اسے سیکرٹری نے گھر سے کال آنے کی اطلاع دی۔۔۔
وہ سب چھوڑ کر باہر نکلا اور ماہم کے نمبر پر اپنے فون سے کال کی۔۔
آج کل اس کا ذہن گھر کی طرف ہی لگا رہتا کیوں کہ ماہم کا ڈلیوری ٹائم نذدیک تھا۔۔۔۔
گھر کال کرنے پر اسے توقع کے عین مطابق اطلاع ملی ماہم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی وہ ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل کے لیے نکل گئی ہے۔۔۔
آفتاب بھی اپنی پرسنل سیکرٹری کو تمام معاملات سنبھالنے کی تلقین کر کے خود بھی ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔۔۔
*********************
ہاسپٹل کے کوریڈور میں پریشانی سے ٹہلتا آفتاب اپنی بیوی اور بچے کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہا تھا۔۔۔
اسے ایک ایک لمحہ صدیوں کے برابر لگ رہا تھا۔۔۔
آخر کار انتظار کے مراحل اختتام کو پہنچے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور نرس کمبل میں لپٹا ایک بچہ لےکر اس کی طرف بڑھی۔۔
وہ بھی تیز قدم اٹھاتا نرس کے قریب پہنچا اور بچہ اس کے ہاتھ سے تھام لیا۔۔۔
عام طور پر بچوں کی ولادت پر نرس اور ڈاکٹر خوشی سے مبارک باد دیتے ہیں۔۔۔
لیکن یہاں نرس کے چہرے پر مایوسی کے آثار دیکھ رہا آفتاب فکر مند ہوا۔۔۔
تیزی سے اس کا ذہن ماہم کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
نرس میری وائف کیسی ہیں وہ ٹھیک تو ہیں؟؟؟
جی جی ۔۔۔آپ کی وائف بالکل ٹھیک ہیں فلحال بےہوش ہیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد انہیں روم میں شفٹ کیا جائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں ان سے۔۔۔
ماہم کے متعلق سن کر آفتاب کو کچھ تسلی ہوئی۔۔۔
اب وہ اپنے بچے کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
بچہ بہت خوبصورت اور صحت مند تھا۔۔۔
آفتاب اس کے چہرے پہ پیار کرنے لگا اور نرس کو واپس دیتے ہوئے اچانک پوچھا آپ نے بتایا نہیں لڑکا ہے یا لڑکی؟؟
نرس اب مذید مشکل میں پڑ گئی۔۔۔
بچہ دیکھ کر بھی آپ کو نہیں پتہ چلا کیا ؟؟
وہ ایکچوئلی چھوٹے بچے سب ایک جیسے ہی لگتے ہیں تو اس وجہ سے میں نہیں بتا سکتا آپ کو۔۔۔
آپ اندر ڈاکٹر شمسہ کے کیبن میں چلے جائیں وہ آپ سے ڈیٹیل میں بات کریں گی۔۔۔
انہی کے پاس آپ کی وائف کا کیس بھی ہے۔۔۔
نرس آفتاب کو حیران و پریشان چھوڑ کر بچے کو تھامے تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔
آفتاب کو بھی واپس آ کر ماہم کو دیکھنے کی جلدی تھی وہ ڈاکٹر شمسہ کے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
ڈاکٹر شمسہ اپنے سامنے رکھی کرسیوں پر آفتاب کو بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود الفاظوں کا چناؤ کرنے لگی بات کا آغاز کر سکے ۔۔۔
آفتاب شیرازی آپ اپنے بےبی سے ملے ؟؟؟
جی میں مل چکا ہوں,,,لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا اور کتنا سرپرائز دینگی آپ۔۔۔
میری وائف کو بھی آپ نے نہیں بتایا تھا کہ بیٹا ہے یا بیٹی۔۔۔
ابھی تک بچہ دیکھ کر بھی میں نہیں سمجھ سکا۔۔۔
وہ خوش دلی سے اور پر تجسس انداز میں جواب دے رہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔آفتاب شیرازی یہ بات آپ انتہائی حوصلے سے سنیئے گا۔۔۔
آپ کا بچہ نہ لڑکا ہے نہ لڑکی۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا آفتاب کچھ سمجھ تو گیا تھا پھر بھی اس کا دل چاہا یہ جھوٹ ہو۔۔۔
وہ ایک ٹرانس جینڈر ہے۔۔۔
لیکن مجھے امید ہے آپ اپنے بچے کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے۔۔۔
آپ دوسرے ایسے بچوں کے لیے اتنا کچھ کر چکے۔۔۔
آپ اپنے بچے کو بھی ایک اچھا انسان بنائیں گے۔۔۔
آفتاب کو لگا ہسپتال کی چھت اس پر گر گئی ہے۔۔۔
لفظ ٹرانس جینڈر سے آگے وہ کچھ نہیں سن سکا۔۔۔
میری بات سنیں ڈاکٹر ڈلیوری کے دوران جتنا بھی آپ کا اسٹاف تھا ان سب کو یہ بات سمجھا دیں ہسپتال سے باہر یہی خبر جانی چاہیے ۔۔۔
آفتاب شیرازی کا بیٹا پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا۔۔۔
اور اس کے لیے آپ کو منہ مانگی قیمت ملے گی مردہ بچے کی رپورٹس جلد بنائیں۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟؟؟
میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔ڈاکٹر دم بخود سی آفتاب کی باتی سن کر کافی دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی۔۔۔
میں جو کہہ رہا ہوں آپ ویسا ہی کریں گی۔۔۔
اور آپ کی مسز؟؟؟
ان کو میں سمجھا دوں گا۔۔۔
ویسے بھی ماہم آپ کی اچھی دوست ہے اور کیا آپ اپنی دوست کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔
جبکہ میں اس کام کی بھاری قیمت ادا کرنے کو بھی تیار ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔۔۔
ڈاکٹر شمسہ سمجھ گئی تھیں سامنے بیٹھا شخص فرشتے کے روپ میں بہت بڑا بہروپیا ہے۔۔۔
لہٰذا بھاری رقم کا موقع گنوانا نہیں چاہئیے۔۔۔
کل تک رپورٹس بن جائیں گی۔۔۔
ٹھیک ہے رقم بھی کل ہی مل جائے گی سب کو۔۔۔
لیکن یاد رہے دھوکہ نہیں ہونا چاہئے۔۔۔
وہ اپنی بات کہہ کر کیبن سے باہر نکل آیا۔۔۔
بوجھل قدموں سے چلتا کمرے میں داخل ہوا جہاں ماہم کو شفٹ کیا گیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: