Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 4

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 4

–**–**–

بڑی گرو جی کے گھر آج خوب رونق تھی۔۔۔
فیروزہ باقی سب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔۔
ان سب کو اپنے گاؤں والے کارنامے سنا رہی تھی۔۔۔
جنہیں سن کر باقی سب بھی قہقہے لگا رہی تھیں ۔۔۔
صحن میں ایک طرف تخت پر بڑی گرو جی اور ریشماں گرو بیٹھی تھیں۔۔۔
ہاں رے اب بتا کیسے آنا ہوا شہر ؟؟؟
کیا بتاؤں بڑی گرو ؟؟؟
بس بیمار رہتی ہوں بہت گاؤں میں اتنا ہی کماتے ہیں جس سے دو وقت کا کھانا کھا سکوں۔۔۔
اب دوائیوں اور علاج کے پیسے کہاں سے لاؤں۔۔۔
اسی لیے تمہارے پاس شہر چلی آئی کوئی کام وام دلوا دو مجھے۔۔۔
اس عمر میں ناچ تو سکتی نہیں ہو۔۔۔اور کیا کام کرو گی۔۔۔؟؟
یا پھر ہمیں کام دیتا کون ہے؟؟؟
بڑی گرو کی باتیں سن کر ریشماں گرو کے چہرے پہ مایوسی کے آثار نمایاں ہوئے۔۔۔
لیکن تو فکر نہ کر علاج اور دوائیوں کا خرچہ مل جائے گا تجھے۔۔۔
لیکن کیسے۔؟؟؟
ادھر شہر میں ایک باؤ ہے آفتاب شیرازی ۔ ۔
بڑا بھلا انسان ہے ہمارے لیے تنظیم چلا رہا ہے۔۔۔
بہت مدد کرتا ہے سب کی۔۔۔
آج ہی مجھے پیغام ملا ہے اس کے ہاں کاکا ہوا ہے ۔۔۔
میری جگہ تم جانا کل ان سب نکمیوں کو بھی لے جانا۔۔۔
اس سے کہنا وہ ضرور کرے گا مدد تمہاری۔۔۔
بڑی گرو نے ایک اور پان منہ میں دکھتے اپنی بات مکمل کی۔۔۔
سچ بڑی گرو۔۔۔ریشماں کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
ایک دم سچ کہوں خود جا کر دیکھ لینا کل۔۔
ٹھیک ہے کل مجھے سویرے جگانا پتہ بھی سمجھا دینا۔۔۔
مطمئن ہو کر ریشماں نے اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
*********************
بس سے اتر کر وہ سب آفتاب شیرازی کی کوٹھی کی طرف بڑھیں۔۔۔
چوکیدار انہیں دیکھ کر پہلے ہی کھڑا ہو گیا اور بڑا گیٹ کھولنے لگا۔۔۔
ریشماں گرو کو کچھ عجیب محسوس ہوا اتنی عالیشان کوٹھی کے لوگ کب سے ہجڑوں کو بلانے لگے؟؟
یہ تو راہ چلتے خواجہ سرا کو بھی نفرت سے دیکھتے ہیں۔۔
پھر ساتھ ہی یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں آگئی۔۔۔
کوٹھی کا مالک خواجہ سرا کے حقوق کی تنظیم بھی چلا رہا ہے۔۔
ضرور اس کے دل میں بھی انسانیت کے لیے ہمدردی ہوگی۔۔۔
چوکیدار نے انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔۔۔
وہ مین دروازے پر ہی زور سے گانا شروع ہو گئیں۔۔۔
ہاں نی دسو چوکیدار باؤ گھر والے کہاں ہیں۔۔۔؟
شور نہیں مچاؤ تم سب اور چپ چاپ اندر جاؤ۔۔۔
چوکیدار کے بری طرح پیش آنے پر فیروزہ جو سب سے آگے تھی۔۔۔
منہ بناتی اندر کی طرف چل دی۔۔
ہو وے,,, ہووے قاقا ہووے
سارے گھر دا راکھا ہووے۔۔۔
وہ سب اندر پہنچ کر زمین پر دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں۔۔۔
ایک نے ڈھول سنبھال لی باقی سب بےسرے انداز گانے لگی فیروزہ دائرے کے درمیان کھڑی ناچ رہی تھی۔۔۔
گھر کے نوکر بھی پاس جمع ہو کر یہ سارا تماشہ دیکھنے لگے۔۔۔
آفتاب شیرازی کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آیا۔۔۔
وہاں کا منظر دیکھ کر وہ غصے میں تلملا اٹھا۔۔۔
اس نے اپنے ملازم کو خواجہ سرا کے گرو کو لانے کا بولا تھا لیکن یہاں تو پورا کنبہ اٹھ کر آگیا تھا۔۔۔
آفتاب شیرازی کو آتا دیکھ کر گرو نے سب کو خاموش کروایا۔۔۔
خود اٹھ کر آفتاب کی طرف بڑھی۔۔۔
اللّٰہ کاکے کی بھلی وار کرے لمبی عمر دے صحت و سلامتی قائم رہے خوشیوں بھری زندگی گزارے۔۔۔
آمین۔۔
ساری بولو رے آمین گرو نے پیچھے بیٹھے خواجہ سرا کو اشارہ دیا۔۔۔
سب نے بیک ذبان ہو کر آمین کہا۔۔۔
بیٹھ جاؤ باؤ ہم کچھ نہ لیں گے بس خوشی منا کر چلتے چلیں گے۔۔۔
بس سنا ہے تم بھلے انسان ہو میں ان سب کی گرو ہوں دوائی کے پیسے اور علاج کروا دو۔۔۔۔
سامنے کھڑا آفتاب خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اپنی ہی بات کیے جا رہی تھی۔۔۔
خاموش اب ایک لفظ نہیں نکالنا نہیں ہوا ہے یہاں کوئی بچہ ۔۔
آفتاب بہت اونچی آواز میں دھاڑا۔۔۔
گرو جی سمیت سب خواجہ سرا سہم گئے۔۔۔
میری بات غور سے کان کھول کر سنو,,,!
اس بچے کو یہاں سے لے جاؤ اور تم لوگ پالو گے اسے۔۔۔
اس بات کی کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہو ورنہ تم سب کا حشر بگاڑ دوں گا۔۔
گرو جی آفتاب کی بات سن کر حق دق رہ گئی۔۔
باقی سب بھی ایک دوسرے کے چہروں کی طرف دیکھنے لگے ۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تم باؤ باقی خواجہ سراؤں کی مدد کرتے ہو تو کیا اپنے بچے کو نہیں پال سکتے؟؟؟
آفتاب کی دھاڑ اور خواجہ سرا کی آواز سن کر ماہم بھی کمرے سے باہر آگئی۔۔۔
اسے بھی آج ہی آفتاب نے حقیقت بتا کر اپنا فیصلہ سنایا تھا۔
جس پر وہ دل سے رضامند نہیں تھی۔۔۔
وہ ماں تھی اس کادل کسی طور پر اپنی اولاد کو خود سے جدا کرنے پر نہیں مان سکتا تھا۔۔
لیکن وہ آفتاب کی باتوں اور آئیندہ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا سوچ کر چپ ہو گئی۔۔۔
آفتاب گرو کی باتوں کو نظر انداز کرتا کمرے میں چلا گیا واپسی پر بچہ اس کے ہاتھ میں تھا۔۔۔
جو لا کر اس نے گرو کی طرف بڑھایا۔۔۔
باؤ میں یہ بچہ نہیں لےکر جاؤں گی۔۔۔
تم ایک دولت مند انسان ہو۔۔۔
اس بچے کو پڑھا لکھا کر ایک اچھا انسان بنا سکتے ہو یہی بچہ کل کو تمہارا سہارا بنے گا۔۔۔
میں نہیں رکھ سکتا اس کو اور ایک ہجڑا کیا سہارا بنے گا ۔ میرا۔۔۔
آفتاب کے منہ سے لفظ ہجڑا سن کر ماہم کا دل لرز اٹھا۔۔۔
وہاں موجود سب لوگوں کو آفتاب پر افسوس ہو رہا تھا۔۔۔
خواجہ سراؤں سے محبت کا دعویدار ان کے حقوق کے لیے تنظیمیں چلانے والا۔۔اپنی اولاد کو پالنا باقیوں کی طرح شرمندگی سمجھتا تھا۔۔۔
میں تمہیں اس کی قیمت دوں گا ہر مہینے۔۔۔
فلحال یہ پیسے تم رکھ لو۔۔
اس بچے کو بھی پکڑو اور چپ چاپ یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔
اس نے انتہائی نخوت سے کہہ کر کمبل میں لپٹا خوبصورت بچہ اور نوٹوں کی ایک گڈی گرو کی طرف بڑھائے۔۔۔
بچہ گرو نے تھام لیا اور نوٹ وہیں پھینک دیے۔۔
باقی سب خواجہ سرا کو بھی چلنے کا اشارہ کر کے وہ وہاں سے باہر نکل آئی۔۔۔
گرو جی,,, وہ پیسے لینے تھے نا تمہاری دوائی کیسے لیں گے اب؟؟
فیروزہ کے لحجے میں فکر مندی تھی۔۔۔
ہائے ری,,, رہنے دے جو اپنے بچے سے نفرت کرتا ہو۔۔۔وہ ہم جیسے خواجہ سراؤں کی کیا مدد کرے گا۔۔۔؟؟
ان انسانوں کے دلوں میں ہم خواج سرا کے لیے کوئ انسانیت نہیں ہے۔۔۔
یہ تنظیمیں صرف پیسہ کمانے کے لیے چلاتے ہیں۔۔۔۔گرو کی آواز میں دکھ ہی دکھ تھا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: