Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 5

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 5

–**–**–

بچے کو لےکر وہ دکھی دل سے بڑی گرو جی کے گھر واپس آگئی ۔۔۔
بڑی گرو جی کو بھی بہت دکھ تھا ۔۔۔
لیکن دکھ کے باوجود سب نے بچہ پاس رکھ لیا ۔۔۔
سب ہی خواجہ سرا بچے کی وجہ سے خوش تھے۔۔۔
بڑی گرو نے مسجد کے امام صاحب سے بچے کے کان میں آذان دلوائی۔۔۔
وہ جیسا بھی تھا لیکن ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔۔۔
آفتاب کا انداز دیکھ کر ان سب کو یہی شک تھا کیا پتہ بچے کے کان میں آذان بھی دی گئی تھی یا نہیں؟؟؟؟
بڑی گرو جی کی فرمائش پر اس بچے کا نام شمیم رکھ دیا۔۔۔
کچھ دن بعد ہی ریشماں گرو اور فیروزہ بچے کے ساتھ گاؤں واپس آگئیں ۔۔
گاؤں والوں نے ہمیشہ کی طرح بہت سوال پوچھے بچے کے متعلق۔۔۔لیکن ریشماں گرو بھی ہمیشہ کی طرح مسکرا کر ایک ہی جواب دیتی۔۔۔
“بچہ ہے انسان کا ہی ہے میرے ہاتھوں پلنا لکھا تھا تقدیر میں تو لے آئی میں اپنے ساتھ۔۔۔
*********************
اس طرح شمیم کی پرورش گاؤں میں ہونے لگی ۔۔۔
اپنے اصول کے مطابق ریشماں گرو کبھی واپس نہیں گئی آفتاب شیرازی کے گھر۔۔۔
شمیم کہنے کو ایک خواجہ سرا ہی تھا لیکن اس کی عادات و اطوار بہت مختلف تھے۔۔۔
پانچ سال کی عمر میں اس نے سکول جانے کی ضد لگا دی۔۔۔
ریشماں پریشانی میں پڑ گئی۔۔۔
اب تک کوئی بھی خواجہ سرا سکول نہیں گیا تھا۔۔۔
آخر کار گاؤں والوں کی پرزور مخالفت کے باوجود ماسٹر صاحب نے شمیم کے شوق کو دیکھتے ہوئے اسے سکول میں داخلہ دے دیا۔۔۔
جس پر شمیم تو خوش ہو گیا لیکن ریشماں گرو اور پریشان ہو گئی۔۔۔
خیر وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرتا چلا گیا۔۔۔
گاؤں کا سکول صرف آٹھویں جماعت تک تھا۔۔
اس سے آگے نویں اور دسویں جماعت کے لیے لڑکے نذدیکی قصبے جاتے,,,لیکن ہزار منتوں کے بعد بھی شمیم کو وہاں داخلہ نہ دیا گیا جس سے اس کا پڑھنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔۔
وہ بہت اداس رہنے لگا۔۔۔
ریشماں سے اس کی اداسی نہ دیکھی جاتی۔۔۔وہ سب سے ذیادہ لاڈلا تھا۔۔۔
آخر کار اس نے شمیم کو اس کے اصل ماں باپ کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔
*********************
ماہم ایک بار پھر امید سے تھی ۔۔۔
لیکن پہلے بچے کو دینے کے بعد اس کے اور آفتاب کے رشتے میں سرد مہری کی دیوار حائل ہو گئی تھی۔۔۔
آخر وہ دن بھی آگیا جب پریشانی سے کوریڈور میں چکر کاٹتے آفتاب کو نرس نے دو جڑواں بچوں کی نوید سنائی۔۔۔
لیکن ساتھ بری خبر بھی منتظر تھی۔۔
دونوں ہی بچے معزور ہونے کے ساتھ بولنے اور سننے کی سماعت سے بھی پیدائشی محروم تھے۔۔۔
یہ خبر سن کر وہ ساکت ہو گیا۔۔۔لیکن پھر بھی ہمت جمع کر کے ماہم کے پاس آگیا۔۔۔
ماہم کے چہرے پہ خوشی تو نہیں تھی لیکن دکھ کے بھی کوئی آثار آفتاب کو نہیں نظر آئے۔۔۔
تم جانتی تھیں نا پہلے سے ہی یہ بات؟؟؟
ماہم نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا جانتی تھی میں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟؟؟؟
ذیادہ انجان بننے کی کوشش نہیں کرو۔۔
تم جانتی تھی کہ دونوں ہی بچے معذور ہیں اسی لیے تم نے مجھ سے الٹراساؤنڈ کی ریپورٹس چھپائیں ۔
ہاں۔۔۔میں جانتی تھی اور اگر آپ بھی جان جانتے تو کیا کر لیتے۔۔۔
بہت کچھ ہو سکتا تھا اگر تم وقت سے پہلے بتا دیتی تو۔۔
اچھا کیا کر لیتے آپ ذرا مجھے بھی تو بتائیں؟؟
ہم ٹائم پہ ابارشن کروا لیتے تو آج یہ معذور بچے نہیں آئے ہوتے ۔۔۔
سائنس آخر اسی دن کے لیے ترقی کر رہی ہے۔۔۔
ایسے بچے جو ساری زندگی کے لیے پریشانی بنتے ہیں انھیں وقت سے پہلے آپ ختم کروادیں۔
واہ آفتاب واہ۔۔۔پہلا بچہ آپ کو ہجڑا اور عذاب لگا ۔۔
دوسرے دو بچے آپ کو پریشانی لگ رہے ہیں۔۔۔
میں آپ کی گری ہوئی سوچ سے واقف تھی اسی لیے نہیں بتایا۔۔
میری ایک بات اور بھی سن لیں,,اسی عذاب کی سزا یہ ہیں جن کو آپ ساری زندگی سنبھالیں گے۔۔۔
اسے تو آپ نے پھینک دیا تھا اب میں دیکھتی ہوں انہیں آپ کہاں پھینکیں گے۔۔۔
میری بات سمجنے کی کوشش کرو ماہم اس بچے ساتھ ہم ہائی سوسائٹی میں کیسے موو
کرتے اسی لیے اس کا جانا ہی بہتر تھا ۔۔۔
تو کیا اب ہم ان بچوں کے ساتھ ہائی سوسائٹی میں موو کر سکیں گے ؟؟
بات کرنے کے دوران ماہم کی سانس تیز ہو گئی تھی۔۔
اب اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر آفتاب بھی گھبرا گیا جلدی سے ڈاکٹر کو بلانے بھاگا ۔ ۔
ڈاکٹر کے آنے تک ماہم آخری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔
اس کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا۔۔۔
اس طرح ایک ماں اپنی اولاد کی دوری کا روگ پالے دنیا سے چلی گئی۔۔۔
آفتاب پہ پل بھر میں ہی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔۔۔
محبوب بیوی کی اچانک موت اور دو معذور بچوں کی ذمہ داری نے آفتاب کو پوری طرح توڑ دیا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: