Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 7

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 7

–**–**–

آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے ۔۔۔
چلتی ٹھنڈی ہوائیں بارش کا پتہ دے رہی تھیں ۔۔۔
شمیم صبح سویرے ہی شہر جانے کے لیے گھر سے نکل پڑا تھا ۔۔ اس کے دل میں خوف بھی دبا سانس لے رہا، سو طرح کے وہم سر اٹھائے کھڑے تھے…
خدایا کیا ہو گا؟ اگر باپ نے اپنانے سے انکار کیا، یا پھر وہ مجھے سرے سے پہچانے سے ہی انکاری ہوا تو..!!
اگر ایسا ہوا تو کیا، مجھے پھر سے اس دلدل میں واپس آنا ہو گا..
وہ سوچوں میں گم آگے بڑھتا رہا ، وہ خود میں ہی الجھا ہوا تھا… یہاں دل میں خوف سانس لے ریا تھا، وہیں امید کی کونپل بھی سرسراہٹ کر رہی تھی.. ایک موم سی امید اس آگے بڑھنے کا سہارا دے رہی تھی..
بیشک وہ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھے ۔۔۔ لیکن انسانیت کی خاطر میری خواہش کا احترام کرتے ہوئے میری تعلیم جاری رکھنے کے لیے کچھ مدد ضرور کرے گا ۔۔
ایک چھوٹی سی امید اب بھی تھی اسے اپنے باپ سے ۔۔۔
وہ ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد اس عالیشان کوٹھی کے آگے پہنچ گیا تھا جہاں سے بچپن میں اس کے باپ نے اسے ہمیشہ کے لیے نکال دیا تھا ۔۔۔
بڑے گیٹ پر بیٹھے چوکیدار کو اس نے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس سے آفتاب شیرازی کا پوچھا ۔۔۔
صاحب گھر پہ نہیں ہیں ۔۔
چوکیدار پلٹنے لگتا تھا جب شمیم نے سوچتے ہوئے اسے پھر مخاطب کیا ۔۔۔
سنو باؤ میں یہیں انتظار کر لیتا ہوں ۔۔۔
جب صاحب آئیں گے میں ان سے مل لوں گا ۔۔۔
تم سے کہا نا صاحب گھر پہ نہیں ہیں ۔۔
اس بار چوکیدار نے تھوڑے تیز لحجے میں جواب دیا ۔۔۔
اور اب ان کی کوئی تنظیم نہیں ہے ۔۔
نہ ہی وہ اب ہجڑوں سے ملتے ہیں ۔۔۔
بہتر ہوگا یہاں سے چلے جاؤ ۔۔
ورنہ میں خود تمہیں یہاں سے بھیجوں گا
گھر کے باقی نوکروں کی مدد سے ۔۔۔
اتنی بیستی کے بعد شمیم کے لیے وہاں رکنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔
اوپر سے موسم بھی ابر آلود تھا ۔۔
اس نے وہاں سے چلے جانا بہتر سمجھا ۔۔۔
دل میں جو چھوٹی سی امید کی کونپل تھی وہ بھی دم توڑ گئی ۔۔۔
وہ وہاں سے چلتا ہوا کافی دور نکل آیا ۔۔۔
آسمان سے بجلی گرجنے کی ساتھ موسلادھار بارش بھی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔
اس وقت وہ گاؤں نہیں جا سکتا تھا.. دوسرا یہ اجنبی شہر تھا، نہ ہی کسی سے کوئی جان پہچآن تھی ۔۔۔
پریشانی اور سوچوں میں گم چلتے ہوئے وہ ایک پسماندہ علاقے میں آگیا جہاں تنگ گلیاں اور مکان چھوٹے چھوٹے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے تھے ۔۔
وہ ۔ایک تنگ گلی میں پہنچ کر سوچنے لگا کہاں جائے کس سے مدد مانگے ؟؟؟
بارش زور و شور سے برس رہی تھی ۔ ۔
وہ مکمل بارش میں بھیگ چکا تھا ۔۔۔
اچانک اس کی نظر گلی کے آخری سرے پہ پڑی جہاں اسے دو انسانی سائے نظر آئے ۔
گلی میں ایک سٹریٹ لائٹ جل رہی تھی جس کی روشنی بالکل نہ ہونے کے برابر تھی ۔۔۔
وہ کچھ قدم چل کر آگے آیا غور کرنے پر اسے ایک مرد ایک لڑکی کو زبردستی گھسیٹ کے لے جاتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔
لڑکی اپنا آپ چھڑانے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
شمیم کو لگا اسے لڑکی کی مدد کرنی چاہیے ۔۔۔
بنا سوچے سمجھے اس نے ایک پتھر اٹھایا اور دوڑ کر اس آدمی کے سر میں مار دیا ۔۔۔
اسی طرح اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر ایک اور وار بھی کر دیا ۔۔۔
گلی والے شور شرابہ سن کر اکٹھے ہو گئے اور اس لڑکی کو شمیم کے ساتھ دیکھ کر لعن تعن کرنے لگے ۔۔۔
جب اس نے ہمت کر کے حقیقت بتانا چاہی۔۔
تو ہجڑے جیسا لقب دے کر چپ کروا دیا کہ جیسے ہجڑے انسان نہیں انہیں بولنے کا حق نہیں ۔۔۔
شمیم کے لیے یہ سب بہت تکلیف دہ تھا وہ پہلی بار ایسے حالات سے دو چار ہوا تھا ۔۔۔
اسے یہ تو پتہ تھا عجیب حلیہ بنا کر ناچنے پر لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔۔لیکن یہ آج ہی پتہ چلا تھا لوگ خواجہ سراؤں کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا سمجھتے ہیں ۔۔۔
ماہرہ نامی لڑکی جس کی مدد کرنے وہ آیا تھا اس نے وہاں موجود سب کو خوب کھری کھری سنائیں اور شمیم کو لےکر گھر کی طرح بڑھ گئی ۔۔۔
ماہرہ کے لیے یہ بات معنی نہیں رکھتی تھی وہ ایک خواجہ سرا ہے بلکہ اس کے لیے یہ بات بہت اہمیت رکھتی تھی ۔۔
اسی انسان نے اس کی مدد کر کے آج ایک درندہ صفت انسان سے بچایا تھا ۔۔۔
وہ اس کا محسن تھا ۔۔
اگر آج وہ وقت پر نہیں پہنچتا تو اس کی عزت محفوظ نہ رہتی ۔۔۔
*********************
دو کمروں کا یہ گھر صاف ستھرا تھا ۔۔۔
جس میں وہ لڑکی شمیم کو لےکر آئی تھی ۔۔۔
اسے بیٹھنے کا کہہ کر وہ خود کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
لیکن واپس آنے پر شمیم کو اسی جگہ دیوار کے ساتھ کھڑے دیکھ کر وہ بولے بنا نہیں رہ سکی ۔۔۔
تم بیٹھ سکتے ہو اس چارپائی پہ ,,,وہاں کیوں کھڑے ہو ؟؟
نہیں میں یہاں ٹھیک ہوں ۔۔وہ شاید اپنے کپڑوں کی وجہ سے بیٹھنے سے گریز کر رہا تھا ۔۔جو مکمل بھیگ چکے تھے ۔۔۔
تم کھانا کھاؤ گے ؟
ماہرہ کے اگلے سوال پر شمیم تھوڑا ہچکچاہٹ کا شکار ہو گیا ۔۔
بھوک تو اسے واقعی بہت لگی تھی کیوں کہ صبح کا گھر سے ناشتہ کر کے نکلا تھا اور اب تک ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پیا تھا ۔۔۔
تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں یہاں کوئی تمہیں کچھ نہیں کہنے والا ۔۔۔
ماہرہ اسکے پریشان حال چہرے کو دیکھتے ہوئے تسلی دینے لگی ۔۔۔
لیکن شمیم اب بھی کچھ نہ بولا اسے ویسے ہی چپ چاپ کھڑا دیکھ کر ماہرہ اندر کچن کی طرف چلی گئی ۔۔۔
کچھ دیر بعد اپنے ساتھ کھانے کی ٹرے لےکر پلٹی۔۔۔
جس میں کھانے کی اشیاء رکھی تھیں.
ٹرے چارپائی پہ رکھ کر وہ اس کے پاس آئی ۔۔
کیا نام ہے تمہارا ؟؟
اس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔
شمیم مختصر سا جواب دے کر وہ پھر زمین کو گھورنے لگا ۔۔۔
تمہارا نام تو بہت پیارا ہے ۔۔
کس نے رکھا ہے ؟؟
ماہرہ نے مسکراتے ہوئے ستائشی انداز میں کہا ۔۔۔
شمیم کو اب وہ لڑکی تھوڑی عجیب لگی کیونکہ باقی لوگوں کی طرح اس کے نام کا مذاق اڑانے کے بجائے تعریف کر رہی تھی ۔۔۔
میری گرو جی نے رکھا ہے ۔۔۔
اچھا نام ہے..!! چلو کھانا کھا لو…
وہ بنا کچھ کہے کھانے سے انصاف کرنے لگا.. لیکن چہرے پہ چھائی پریشانی نمایاں تھی.. جسے دیکھ کر ماہرہ بنا پوچھے نہیں رہ سکی…
۔۔۔شمیم کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے تم مجھ سے کہہ سکتے ہو ۔۔۔
نہیں سب ٹھیک ہے ۔۔۔
پھر ایسے نظریں جھکائے مجرموں کی طرح کیوں کھڑے ہو جبکہ تم نے ایک اچھا کام کیا ہے ۔۔۔
ایک بےسہارا عورت کی عزت بچائی ہے ۔۔۔
ایسی بات نہیں باجی جی۔۔۔وہ باہر سب لوگ کہہ رہے تھے کہ میں اور آپ ۔۔۔
اس سے زیادہ شرمندگی سے اس سے بولا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔
لوگ تو وہی بولتے ہیں جو آج کل ہو رہا ہے ۔۔۔
مردوں کے مردوں سے اور عورتوں کے عورتوں سے ۔۔
یہاں تک کے مردوں اور عورتوں کے خواجہ سراؤں سے بھی جنسی تعلقات قائم ہیں ۔۔۔
اس میں لوگوں کی سوچ کا کوئی قصور نہیں وہ سچ کہہ رہے تھے ۔۔۔
ماہرہ تلخ لہجے میں اسے حقیقت کا آئینہ دکھا رہی تھی ۔۔۔
لیکن میں ایسا نہیں ، جی۔۔
میرا یقین کریں ۔۔۔
بات کرنے کے دورانِ ہی شمیم کی آنکھوں میں نمی آتر آئی ۔۔۔
بالکل صحیح کہا تم ایسے نہیں ہو ۔۔
ایک اچھے انسان ہو اسی لیے میری مدد کی ۔۔۔
لیکن یہ بھی سچ ہے خواجہ سرا کے تین ہی کام رہ گئے ہیں ۔۔۔
ناچ گانا
بھیک مانگنا
جنسی تعلق قائم کرنا ۔۔۔
لیکن مجھے پتہ ہے تم ایسے نہیں ایک اچھے انسان بنو گے ۔۔۔
اس کا اچھا کہنے سے شمیم کو تھوڑا حوصلہ ملا ۔۔۔
کوئی تو اسے اچھا سمجھتا ہے ۔۔۔
اب کھانا کھاؤ
وہ چپ چاپ بیٹھ کر کھانے لگا ۔۔
کھانے کے دوران ماہرہ اس سے اس کی تعلیم علاقے ماں باپ کے بارے میں پوچھتی رہی ۔۔۔
شمیم نے مختصر سا اپنے بارے میں بتایا اس کو ۔۔۔
آپ یہاں اکیلی ہیں ؟ نہیں میرا بیٹا بھی ہے ۔۔۔
بارش کی وجہ سے آج خالہ رضیہ کے گھر سو رہا ہے ۔۔۔
اور آپ کے مرد۔۔۔
فوت ہو گئے وہ میں بیوہ ہوں ۔۔۔
شمیم نے کچھ جواب نہیں دیا وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا ماہرہ کے لیے مذید مشکلات پیدا ہوں لوگ مذید باتیں بنائیں اس کے کردار پر۔۔۔
گھر سے نکل کر وہ پھر سے نامعلوم سمت کی جانب چل پڑا ۔
بارش تھم گئی تھی لیکن آسمان پر اب بھی کالے بادل چھائے ہوئے تھے ۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کسی محفوظ ٹھکانے کو تلاش کرنے لگا جہاں رات گزار سکے ۔۔۔
چلتے چلتے وہ شہر سے کافی دور نکل کر ایک ویرانے میں آگیا تھا ۔۔۔
آس پاس نظر دوڑانے پر اسے ایک چھوٹی جھونپڑی نظر آئی ۔۔
جھونپڑی کے اندر روشنی کسی کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھی ۔۔۔
تھوڑا قریب جا کر وہ ایک درخت کے پیچھے چھپ کر جھونپڑی کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔
وہ ایسی جگہ کھڑا تھا جہاں سے اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن اسے جھونپڑی کے اندر سب واضح نظر آ رہا تھا ۔۔۔
جلتے دیے کی روشنی میں کوئی بزرگ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے ۔۔۔
ان کے چہرے پہ چھایا نور شمیم کو بہت کشش کر رہا تھا ۔۔
اس کا دل چاہا وہ بھی دوڑ کر جھونپڑی میں بیٹھے بزرگ کے پاس جائے اور کچھ دیر باتیں کرے ان سے ۔۔
لیکن اگر باقی سب کی طرح وہ بھی مجھے برا انسان سمجھ گئے تو پھر ؟؟
اس سوچ کے آتے ہی شمیم نے اپنا ارادہ بدل دیا اور وہیں درخت کے تنے سے سر ٹکا کر زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔
تلاوت کرنے کے دوران بزرگ کے چہرے پہ ایک شفیق سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی ۔۔۔
رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی ۔۔
نیند شمیم کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ویسے بھی اس جگہ اسے نیند آ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
وہ بےچینی سے صبح کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
اس کی نظر جھونپڑی کی طرف بھی جاتی جہاں اب جلتا دیہ بجھ کر مکمل اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔۔
کسی پہر تھکاوٹ سے شمیم کو نیند آگئی اس کی آنکھ صبح چڑیوں کے چہچہانے سے کھلی ۔۔۔
ابھی سورج پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا لیکن ہلکی ہلکی صبح کی روشنی ہو گئی تھی ۔۔۔
آنکھ کھلنے کے بعد بھی اس نے پہلے جھونپڑی کو ہی دیکھا جہاں کچھ لوگ برتنوں میں کھانے کا سامان لیے کھڑے تھے اور وہی بزرگ مسکرا کر شاید ان کا شکریہ ادا کر رہے تھے ۔۔۔
شمیم کو یہ سب بہت عجیب سا لگا ۔۔
لیکن کسی کی بھی نظر اس پر پڑنے سے پہلے وہ وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا اس لیے تیز چلتا اس ویرانے سے نکل کر ایک بار پھر سے انسانی بستی میں آگیا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: