Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 8

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 8

–**–**–

آفتاب ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا ۔۔
صبح کی چند پہلی کرنیں ہر طرف پھیل چکی تھیں ۔۔
شمیم اس ویرانے سے نکل کر شہر کی جانب قدم بڑھانے لگا ۔ پیاس سے حلق میں کانٹے چھب رہے تھے.. بھوک کے مارے چچلنادشوار ہو رہا تھا ۔۔
اچانک اس کی نظر ایک جگہ رک سی گئی ، یہ کوئی بازار تھا جہاں کچھ دکانیں ابھی بند تھیں اور کچھ کو دکاندار کھول رہے تھے ۔۔
بازار میں ابھی اتنی ذیادہ چہل پہل نہیں تھی اک دکا ہی لوگ تھے ۔۔۔
اس کی نظر ایک پھل فروش کے ٹھیلے پر پڑی,, جو لکڑی کی پیٹیوں سے تازہ اور نئے پھل نکال کر ٹھیلے پر سجا رہا تھا اور خراب پھل الگ کر رہا تھا ۔۔
وہ کچھ سوچ کر اس کی طرف بڑھا ۔۔
باؤ ,,,!بات سنو باؤ ؟؟
پھل فروش نے اپنا کام روک کر پیچھے پلٹ کر دیکھا جہاں ایک خواجہ سرا کھڑا تھا ۔۔
لو جی ,,کر لو گل۔۔ کمائی ہوئی نہیں اور آگئے مانگنے والے ۔۔
ابھی جاؤ یہاں سے میں کچھ نہیں دینے والا ۔۔۔
نہیں باؤ میں مانگنے والا نہیں ۔۔۔
تو ناچنے والے ہو گے ۔۔
پھل فروش اس کی بات کاٹتے ہوئے اپنی کہے جا رہا تھا ۔۔
نہیں باؤ میں ناچتا بھی نہیں ۔۔۔
مجھے کام دےدے ۔۔
وہ جلدی جلدی بولتے ہوئے وضاحت دینے لگا کہیں یہ پھر سے اسے غلط نہ سمجھے۔۔
کام کیا کام کرے گا تو اور آتا کیا ہے تجھے ؟؟
وہ اب ہنس کر طنزیہ کہنے لگا ۔۔
میں کچھ بھی کام کروں گا بلکہ یہ سارے پھل ترتیب سے لگا دوں گا ۔۔
اچھا ۔۔ا کچھ بھی کرو گے ۔۔
چل پھر اندر اور مجھے خوش کر بدلے میں تھوڑے پیسے لے جانا ۔۔
پھل فروش اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر گودام کی طرف بڑھنے لگا ۔۔
شمیم کو ایک لمحہ لگا تھا اس کی بات سمجھنے میں ۔۔
نہیں میں ایسا نہیں ہوں ۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کے لیے جتن کر رہا تھا ۔۔
وہ پھل فروش زبردستی اسے گھسیٹنے لگا ۔۔
ٹھیلہ بازار سے تھوڑا دور تھا اس لیے کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا ۔۔
آخر شمیم کی عقل نے کام کیا اور ریڑھی کے پاس سے گزرتے پھل تولنے والا ویٹ اٹھا کر اس حوص کے پوجاری کے سر پر دے مارا ۔۔
زوردار وار سے وہ شخص چلا اٹھا اور شور مچانے لگا ۔۔۔
اس نے شمیم کا ہاتھ چھوڑ کر اپنا سر تھام لیا ۔۔
شمیم نے موقع دیکھ کر وہاں سے سر پٹ دوڑ لگا دی ۔۔
ناجانے کتنا وقت وہ تیز دوڑتا رہا آخر نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑا ۔۔
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں روانی آگئی ۔۔
اے اللہ کیا اس ذلت کے لیے پیدا کیا تونے ہمیں ؟؟
کہیں مذاق اڑاتے ہیں تیرے مکمل بندے ہمارا تو کہیں بد فعلی کرتے ہیں ۔۔
وہ روتے ہوئے اپنے رب سے شکوہ کر رہا تھا ۔۔۔
کافی لمحے اسے زمین پر بیٹھے ہوئے گزر گئے ۔۔
وہ ہمتِ کر کے اٹھ کھڑا ہوا اور ایک بار پھر اس کا رخ جھونپڑی کی طرف تھا ۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا جھونپڑی کے نزدیک پہنچا ۔۔
جھونپڑی کے باہر وہ بزرگ بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت کرنے میں مشغول تھے ۔۔
اور لوگ آس پاس بیٹھے خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔
وہ بھی ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔
کسی نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔۔۔
بزرگ کی خوبصورت آواز میں کی گئی تلاوت اور قرآن پاک کی آیات اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی ۔۔
وہ بھی خاموشی سے آنکھیں بند کر کے سننے لگا ۔۔
تلاوت مکمل ہونے پر لوگ سبحان اللہ اور جزاکاللہ کہتے رخصت ہو گئے ۔۔
لیکن شمیم وہیں بیٹھا رہا ۔۔
بزرگ کی آواز پر چونکا ۔۔
اندر آنے کا ارادہ بھی رکھتے ہو یا رات کی طرح باہر سے ہی لوٹ جاؤ گے ۔۔
بزرگ کی بات پر شمیم حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا ۔۔
کیا تم رات میں نہیں آئے تھے ۔۔
جی,,جی میں آیا تھا ۔۔
وہ کچھ ہکلاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
خیر اندر آجاؤ باہر دھوپ تیز ہو گئی ہے اور گرمی کی شدت بھی بڑھ رہی ہے ۔۔
بزرگ اپنی بات کہہ کر جھونپڑی میں چلے گئے ۔۔
شمیم بھی حیران پریشان سا اندر آیا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: