Umeed Novel By Ifrah Khan – Episode 9

0
امید از افراح خان – قسط نمبر 9

–**–**–

شمیم حیرانگی چھاپتے، اور ڈرا سہا ہوا نورانی چہرے کے پیچھے جھونپڑی میں داخل ہو گیا ۔۔۔
جھونپڑی چھوٹی تھی لیکن صاف ستھری تھی ۔۔۔
ایک طرف ایک چارپائی بچھی تھی اور دوسری طرف لکڑی کا ایک تخت رکھا تھا جس پر قرآن مجید ایک کھجور کی چھال سے بنا جائنماز چند اسلامی کتب ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں ۔۔۔
زمین پر بھی کھجور کی چھال سے بنی چٹائی بچھی تھی جس پر پانی کا ایک گھڑا اور کھانے پینے کے چند برتن تھے۔۔
شمیم کو اس چھوٹی سی جھونپڑی میں بھی ایک راحت سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
آؤ بیٹھو میرے ساتھ کھانا کھاؤ ۔۔
بزرگ نے شمیم کو زمین پر اپنے قریب بیٹھنے کے لیے کہا ۔۔۔
آپ کے ساتھ کھاؤں گا ؟؟؟
شمیم شش و پنج میں مبتلا ہو گیا ۔۔
کیوں میرے ساتھ کھانے میں کوئی برائی ہے یا تم پسند نہیں کرتے ؟؟
بزرگ کے سوال پر شمیم چپ چاپ بیٹھ گیا اور کھانے لگا ۔۔۔
کھانے کے دوران شمیم کے دماغ میں کئی سوال محور رقص کنال تھے جنہیں اس نے کھانے کے بعد بزرگ سے پوچھنے کا ارادہ باندھ کر کھانے کی طرف دوبارہ متوجہ ہو گیا ۔۔۔
کھانے کے بعد بزرگ برتن ایک طرف رکھ کر ہاتھ میں تسبیح پکڑتے واپس شمیم کے پاس آ کر بیٹھ گئے ۔۔۔
چند لمحے خاموشی کی نظر ہوئے پھر بزرگ نے ہی بات کا آغاز کیا ۔۔
کہو کیا پریشانی ہے جو تمہیں یہاں تک لے آئی ؟؟؟
جی ۔۔نہیں نہیں کوئی پریشانی نہیں ہے ۔۔
شیمشم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا !!
صرف ایک سوال پوچھنا تھا آپ سے ؟؟
پوچھو جو بھی پوچھنا چاہتے ہو ۔۔
بزرگ نے محبت سے جواب دیا ۔
خدا کو بہترین تخلیق کار مانتے ہیں یہ لوگ تو پھر اس کی تخلیق سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟؟
شمیم کا سوال سن کر بزرگ کے چہرے پہ شفقت بھری مسکراہٹ آگئی ۔۔
تخلیق خود سے محبت کروا رہی ہے ؟؟؟
بزرگ نے مسکرا کر سوال کیا لیکن شمیم کو ان کے لحجے میں طنز کہیں بھی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔
اگر ہم ایسے ہیں مکمل انسان نہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟؟
اچھے انسان تو بن ہی سکتے تھے کیا وہ بننے کی کوشش کی کبھی ؟؟؟
بزرگ کے پوچھنے پر شمیم لاجواب ہو گیا ۔۔۔
اگر ہم اچھے بھی بن جائیں گے تب بھی یہ لوگ ہمیں برا ہی سمجھیں گے ۔ ۔
غلط بالکل غلط ۔۔ بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر شمیم کی بات کی نفی فرمائی ۔۔
اگر تم اچھے ہو,,,تو کوئی تمہیں غلط نہیں کہہ سکتا ۔۔۔
کیا تم نے کبھی اپنا حلیہ اچھا بنانے کی کوشش کی ؟؟
نہیں شمیم نے سر نفی میں ہلایا ۔۔
تو پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو لوگ تمہیں برا جانتے ہیں ؟؟
لوگ آپکو اپکے ظاہر سے زیادہ پہچانتے ہیں اور باطن سے کم۔۔
پہلے تم اپنا ظاہر اچھا بناؤ پھر باطن اور عمل اچھا رکھو اس کے باوجود بھی اگر کوئی تمہیں برا کہتا ہے تو اچھا کہلوانے کی امید کبھی نہیں چھوڑنا ۔۔۔
( یہاں ظاہر سے مراد خواجہ سراؤں کے عجیب سے لباس اور ان کے انداز ہیں جو کہ میری سوچ کے مطابق اگر بدل ڈالیں تو لوگوں کی سوچ میں کافی تبدیلی آسکتی ہے )
امید کیسی امید شمیم نے کچھ الجھ کر پوچھا ؟؟؟
وہی امید جس کے سہارے کسان ایک بنجر زمین کاشت کرتا ہے اور اس میں بارش کے پانی سے اچھی فصل کی امید رکھتا ہے ۔۔۔
ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ فصل اچھی ہو ,,,کبھی ہوتی نہیں کبھی بہت کم ہو جاتی ہے اور کبھی قحط سالی کے دور سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔لیکن کسان اپنی امید نہیں چھوڑتا وہ پھر سے اسی زمین پر وہی فصل کاشت کرتا ہے ۔۔۔
اور وہی امید جس سہارے آج تم یہاں ہو
تم چاہتے تو ایک غلط کام کر کے بھی رزق کھا سکتے تھے ۔۔۔
لیکن تم اچھے کی امید پر میرے پاس چلے آئے اور تم نے ایک اچھا حلال لقمہ کھایا ۔۔۔
شمیم کو صحیح معنوں میں اب حیرانگی ہو رہی تھی بزرگ کا اشارہ صبح والے واقعے کی طرف تھا ۔۔۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں بابا جی ۔۔
میں اچھے کی امید رکھوں گا تو اچھا ہی ہوگا سب اور میرے عمل پر لوگوں کو یقین نہیں کیوں کہ میرا ظاہر واقعی میں اچھا نہیں ہے ۔۔۔
شمیم نے سر جھکائے جواب دیا ۔۔۔
اب تم سمجھ گئے ہو میری بات مجھے امید ہے جب اگلی بار تم میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو تمہارے پاس ایک اچھی امید ضرور ہوگی ۔۔۔
میرا ایک سوال اور ہے ؟؟ شمیم نے ہچکچاتے ہوئے کہا ۔۔۔
ضرور پوچھو ۔۔
بزرگ نے ایک بار پھر نرمی سے جواب دیا ۔۔۔
آپ اس ویران جگہ پر اکیلے رہتے ہیں؟؟
شمیم کے سوال پر بزرگ کا ہلکا سا قہقہہ جھونپڑی میں گونجا
پہلی بات جس جگہ اللّٰہ کا نام لیا جائے اس کا پاک کلام پڑھا جائے وہ جگہ ویران نہیں بہت آباد ہوتی ہے ۔۔۔
دوسری بات میں بھی یہاں اس امید پر ہوں میرے بعد بھی یہ جگہ ایسے ہی آباد رہے گی ۔۔۔
شمیم ذیادہ عقل فہم نہیں تھا بزرگ کی کچھ باتیں وہ نہیں سمجھ سکا پھر بھی تابعداری سے سر ہلاتا گیا جس سے بزرگ مسکرا دیتے ۔۔۔
کچھ دیر مزید ٹہرنے کے بعد وہ ان سے اجازت لےکر وہاں سے رخصت ہو گیا ۔۔۔
اس کے دل میں نئی امید جاگ چکی تھی ۔۔
اس کا رخ ماہرہ کے گھر کی طرف تھا ۔۔
چھٹی ہونے کے باعث آج ماہرہ گھر پر تھی ۔۔
صحن میں بیٹھی اپنے بیٹے کو سکول کا کام کروا رہی تھی ,,جب دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔
شمیم کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی ۔۔اسےاندر آنے کا بول کر خود دروازہ بند کر کے اس کی طرف پلٹی۔۔
کیا ہوا شمیم ؟؟
کیا کوئی پریشانی ہے ؟؟
وہ فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی۔
نہیں باجی جی کوئی پریشانی نہیں ہے ,کچھ مدد چاہیے تھی آپ سے؟
کہو کیا کر سکتی ہوں میں ؟؟
میں بازار جا کر اچھے کپڑے خریدنا چاہتا ہوں میرے پاس پیسے نہیں ہیں ؟؟
جلد کام ڈھونڈ لوں گا واپس لوٹا دوں گا آپکے سارے پیسے ۔۔
وہ نظریں جھکائے اپنی بات کہہ رہا تھا ۔۔
صرف اتنی سی بات ہے اور تم نے کہنے میں صدیوں لگا دیں شمیم۔۔
ماہرہ نے مسکرا کر کہا ۔۔
کوئی بات نہیں میں تمہیں آج ہی بازار لے جاؤں گی اور جب تمہارا کام لگ گیا تم پیسے مجھے واپس کر جانا ۔۔ ماہرہ خوشدلی سے رضامند ہو گئی ۔۔
اور اگر میں پیسے لےکر واپس نہ آیا تو پھر ؟؟؟
شمیم نے کچھ سوچتے ہوئے یہ سوال پوچھا ۔
مجھے یقین ہے تم ایک اچھے انسان ہو تم ضرور واپس آؤ گے اور اگر نہیں بھی آئے تو لازمی تم پیسوں کا بندوبست نہیں کر سکو گے ۔۔۔
ماہرہ کا جواب سن کر شمیم کو دلی سکون محسوس ہوا اور بزرگ کی کہی بات یاد آئی ۔۔۔”اگر آپ اچھے ہیں تو کوئی آپکو غلط نہیں کہے گا اور اگر کہتا بھی ہے تو اچھا کہلوانے کی امید ہمیشہ رکھو “
پھر ماہرہ شمیم کے لیے بازار سے چند مردانہ کپڑے لے کر آئی ۔۔
شمیم نے اپنے لمبے بال جو کہ گرو جی نے بچپن سے رکھے تھے وہ بھی کٹوا دیے ۔۔
مخصوص اشارے اور بات کا انداز جو اس خواجہ سراؤں کی شخصیت کا اہم حصہ ہیں ,,شمیم نے ان کو بھی ختم کرنے کی پوری کوشش کی ۔۔
اپنا ظاہری حلیہ کافی حد تک بہتر بنا کر وہ ایک بار پھر اپنے باپ کے گھر گیا ۔۔
لیکن اس دفعہ شمیم نے چوکیدار سے پوچھنے کے بجائے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلے کے قریب ہی آفتاب شیرازی کے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔
دوپہر سے شام تک انتظار کرنے کے بعد آخر کار آفتاب شیرازی کی گاڑی گھر کی طرف آتی شمیم کو نظر آ گئی ۔۔
چوکیدار کے دروازہ کھولنے پر گاڑی اندر چلی گئی ۔۔
شمیم بھی دوڑ کر گیٹ پر گیا اور اندر جانے کے لیے چوکیدار سے پوچھا ۔۔
اسے دیکھ کر چوکیدار نہیں پہچان سکا لیکن آواز سے پہچان گیا ۔۔۔
چوکیدار کا ارادہ ایک مرتبہ پھر اسے وہاں سے بھگانے کا تھا لیکن اندر بڑھتا آفتاب شیرازی دونوں کی تکرار سن کر ان کی طرف بڑھا ۔۔
کیا بات ہے فضلو کس سے الجھ رہے ہو ؟؟
صاحب یہ ہجڑا روز آجاتا ہے آپ سے ملنے کی بات کرتا ہے ۔۔
فضلو کی بات سن کر آفتاب شیرازی سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھنے لگا جو ہجڑا نہیں لگ رہا تھا ۔۔
شمیم بھی پہلی بار اپنے باپ کو قریب سے دیکھ رہا تھا ۔۔
جس کے چہرے پہ کچھ تھکن اور الجھن کے آثار نمایاں تھے ۔۔
لیکن وہ آج بھی اٹھارہ انیس سال گزر جانے کے بعد بھی جوان اور صحت مند تھا ۔۔
کہو کیا کہنا چاہتے ہو ؟؟
آفتاب کے بولنے سے وہ چونکا جو کب سے اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔
کیا پیسے چاہیئے ہیں تمہیں ,,بولو کتنے دوں؟؟
نہیں ۔۔نن۔۔نہیں صاحب مجھے پیسے نہیں چاہئیں ۔۔
شمیم نے جلدی سے جواب دیا ۔
تو پھر ؟؟
آفتاب نے کچھ الجھتے ہوئے پھر پوچھا
کام ۔میں کام کروں گا صاحب ۔۔
آپ مجھے اپنے گھر میں کام دے دیں ۔۔
شمیم نے مقصد کی بات کہی۔۔
کام ؟؟ کیا کام کرو گے تم ؟؟
نام کیا ہے تمھارا ؟؟؟
آفتاب نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ۔۔
شمیم نام ہے جی اور جو بھی آپ کہیں گے گھر کے سارے کام کرنے آتے ہیں مجھے ۔۔
ٹھیک ہے اسے اندر آنے دو چوکیدار ۔۔
آفتاب اپنی بات کہہ کر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔
شمیم کے لیے فلحال اتنی کامیابی بھی بہت تھی وہ اپنے باپ کے گھر میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔
گھر کا ایک ملازم اسے بڑے سے کمرے میں چھوڑ گیا تھا ۔۔
اتنا بڑا اور خوبصورت گھر وہ پہلی مرتبہ دیکھ کر حیران بھی ہو رہا تھا اور دل میں سوچ بھی رہا تھا اگر وہ بھی مکمل انسان ہوتا تو آج اس گھر میں اہم فرد کی طرح ذندگی بسر کرتا ۔۔۔
وہ غور سے ایک ایک چیز کا جائزہ لینے میں مگن تھا ۔۔
جب آفتاب اسے اندر آتا دکھائی دیا وہ سنبھل کر ایک طرف بیٹھ گیا ۔۔
آفتاب کے ساتھ وہیل چیئر پر دو معزور بچے بھی تھے ۔۔
ایک لڑکا اور ایک لڑکی جن کی عمریں تقریباً پندرہ سال ہونگیں ۔۔
شمیم حیران ہو کر انہیں دیکھ رہا تھا اور متجسس بھی ہو رہا تھا ان کو لےکر ۔۔
تمہیں کام چاہئیے تھا نا ۔۔تو یہ لو کام ۔۔
آفتاب نے اس کے قریب ہی ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔
ان دونوں بچوں کو آج سے کھانا کھلانا اور باہر لےکر جانا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔
اس کے علاوہ تم لڑکے کے پاس ہی سونا اور اس کی ہر ضرورت کا بھی خیال رکھنا ۔۔
لڑکی کے لیے ایک ملازمہ پہلے سے رکھی ہوئی ہے ۔۔
شمیم آفتاب کی بات تابعداری سے سنتا رہا اور کام سمجھتا رہا ۔۔
آفتاب کی طہ کردہ تنخواہ پر بھی اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا کیوں کہ وہ اس کے بعد کافی تھی ۔۔
آفتاب اپنی بات ختم کر کے وہاں سے جانے لگا ۔۔
شمیم کو کچھ خیال آیا اس نے آواز دی ۔۔
صاحب ایک سوال پوچھوں آپ سے ؟؟
پوچھو ؟؟؟ آفتاب چونک کر پیچھے پلٹا ۔
یہ دونوں بچے آپ کے اپنے ہیں ؟؟؟
ہاں میرے اپنے ہیں اس نہیں دونوں بچوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا ۔۔
اب میرے بچوں کو بھوک لگی ہوگی رات کا کھانا میں انہیں کھلاتا ہوں ۔۔
کل ملاقات ہوگی آج تم آرام کرو ۔۔
اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
شمیم کے ذہن میں کئی سوچیں گردش کرنے لگیں ۔۔۔
یہ بچے اس کے بہن بھائی تھے ۔۔۔
اور وہ بھی ایسے جیسے ذندہ لاشیں ۔۔نہ سنتے تھے اور نہ ہی کچھ بولتے تھے ۔۔
پھر بھی اس کے باپ کے لحجے اور انداز میں ان کے لیے کتنی محبت جھلک رہی تھی ۔۔
کیا اتنے برے ہوتے ہیں خواجہ سرا؟؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: