Umeed Novel By Ifrah Khan – Last Episode 11

0
امید از افراح خان – آخری قسط نمبر 11

–**–**–

شمیم جو کہ شمی کے نام سے خواجہ سرا تھا اب ایک بیٹا ایک بھائی ایک رحم دل انسان بن گیا تھا ۔۔
پڑھائی مکمل کرنے کے بعد آفتاب کاروباری معاملات اس کے حوالے کر کے اپنی ذمہدار ی پوری کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
تم نے سچ میں ایک اچھا بیٹا بن کر میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔۔
آپ بھی ایک عظیم والد بنے ہیں ۔۔
شمیم سچائی سے کہہ رہا تھا ۔
آج اس کا آفس میں پہلا دن تھا آفتاب صبح سے ہی اس کے ساتھ تھا ۔۔
شمیم بھی اتنی سارے رشتے اور کامیابیاں پا کر بہت خوش تھا ۔۔
جب وہ آفس میں داخل ہوا تمام اسٹاف نے اسے عزت سے سلام کیا اس کا شاندار استقبال کیا ۔
اسے کچھ بھی عجیب محسوس نہیں ہوا ۔۔
آفس میں پہلا دن ہونے کی وجہ سے کام نہیں تھا ۔۔
اس لئے اس نے ماہرہ سے ملنے کا ارادہ کیا اور اپنے کمرے سے نکلا ۔۔۔
اسٹاف کے کیبن کے پاس سے گزرتے اسے کچھ آوازیں سنائی دی وہ کسی احساس کے تحت رک گیا ۔۔
یار سر نے بھی کمال کر دیا ہے ۔۔
یہ ایک ورکر کی آواز تھی ۔۔
ہاں نہیں تو کیا ۔۔ اب ایک کھسرا ہمارا افسر بنےگا ۔۔
ایسا وقت بھی آنا تھا ۔۔
یہ دوسرے ورکر کی آواز ابھری ۔۔
کچھ نہیں ہوگا چند دن بعد ہی یہاں شغل لگائے گا اور ہم سب کی موجیں ہوں گی ۔۔ ہجڑوں نے بھلا کب کیے کاروبار ۔۔
ان سے ناچ گانا اور موج مستی کروا لو بس ۔۔۔
ان سب کے زوردار قہقہے گونجنے لگے ۔۔
شمیم دیوار کا سہارا لےکر کھڑا ہوا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔
ایک دم ہی گھٹن کا احساس کچھ بڑھنے لگا ۔۔۔
وہ مردہ قدموں سے چلتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
اور سر تھام کر سوچنے لگا ۔۔
وہ جہاں سے چلا تھا آج بھی وہیں کھڑا ہے ۔۔
کچھ بھی تو نہیں بدلا ۔
کل بھی ہجڑا تھا آج بھی ہے ۔
لوگوں کی سوچ نہیں بدل سکا ۔۔
اور اگر اچھا بن جانے کے بعد بھی لوگ آپ کو برا ہی سمجھیں تو کیا کرناہے ؟؟
اس کے کان میں اپنے کہے الفاظ گونجے۔۔
تو اچھا کہلانے کی امید ھمیشہ رکھنا ۔۔
بزرگ کی کہی بات اسے یاد آتے ہی گاڑی کا رخ اسی ویرانے کی طرف موڑ دیا ۔۔

———————-

ویرانے میں قبر دیکھ کر وہ جان گیا کہ بزرگ فوت ہو گئے۔۔
ان کی جھونپڑی میں سب کچھ آج بھی ویسے ہی رکھا تھا ۔۔
البتہ وہ دیہ جو بزرگ کبھی جلایا کرتے تھے وہ بجھ چکا تھا ۔۔
شمیم نے تیل ڈال کر اس دیے کو ایک بار پھر سے روشن کیا ۔۔
بزرگ کا قرآن پاک جس پر اکثر وہ تلاوت کرتے تھے اسے عقیدت سے چوم کر دل سے لگا لیا ۔۔
اور اسی چارپائی پر بیٹھ کر تلاوتِ قرآن پاک کرنے لگا ۔۔
اس کی آواز بلند ہونے لگی ۔۔
اور رفتہ رفتہ قریبی بستی کے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو کر تلاوت سننے لگے ۔
شمیم کو بزرگ کے آخری الفاظ سنائی دیے۔۔
” میں بھی اس امید پر یہاں ہوں میرے بعد بھی اس جگہ کو کوئی ایسے ہی آباد رکھے گا “
وہ تلاوت کرتا رہا لوگ سنتے رہے ۔۔۔
جب اس نے تلاوت مکمل کی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا جھونپڑی پھر سے آباد ہو گئی تھی ۔۔
ان کی باتوں سے شمیم کو سکون حاصل ہوا اور آفس والی بات کا اثر زائل ہونے لگا ۔۔۔
وہ وہاں روز آنے کا وعدہ کرتا ماہرہ کے گھر گیا ۔۔
ماہرہ اور ابراھیم اسے اتنے دنوں بعد دیکھ کر بہت خوش تھے ۔۔
شمیم بھی اطمینان محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
ساری دنیا اسے اچھا نہیں سمجھتی لیکن کچھ لوگ اسے اچھا سمجھتے ہیں ۔۔۔ وہ اسی میں خوش تھا ۔۔
ہمیشہ اچھے کی امید آپ کو سہارا دیتی ہے برائی سے روک کر اچھائی کی طرف لے جاتی ہے ۔۔۔
بیشک امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہئیے ۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: