Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 1

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 1

–**–**–

سورج آہستہ آہستہ غروب ہوچکا تھا اور شام کا اندھیرا ہر طرف پھیل کر ہر چیز کو آنکھوں سے اوجھل کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں ڈھیروں اداسی لیے کھڑکی سے باہر اس بدنام شہر کو اندھیرے سے روشنی میں بدلتا دیکھ رہی تھی۔
دل ہمیشہ کی طرح یہی سوچ رہا تھا کہ کاش یہ اندھیرا کبھی نا ہوتا۔۔۔۔یہ سورج ہمیشہ چمکتا رہتا۔۔۔۔۔ نا یہ اندھیرا ہوتا اور نا لوگ اس اندھیرے میں اپنی اصلیت دکھانےآتے۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی چیزوں پہ پڑے پردے ہمیشہ پڑے رہتے۔۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب کوئی آہستہ آہستہ چلتا اسکے برابر کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔۔
وہ یونہی کھڑی باہر دیکھتی رہی۔۔۔۔اور اپنی قسمت کا ہر روز کی طرح رونا روتی رہی۔۔۔
کیا ہوا گل بہارکہاں کھوئی ہوئی ہیں آپ؟؟؟؟
کنیز نے اسے مخاطب کیا مگر اس نے اپنی آنکھیں ایک پل کو بھی نا جھپکی۔۔۔وہ یونہی کھڑی رہی جیسے کہ روز کا معمول ہو۔۔۔
یہ اندھیرا ہمیشہ کیوں نہیں رہتا؟؟؟
اس نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔۔۔۔
لہجہ ایسے تھا جیسے اندر ایک ساتھ کئی قبریں موجود ہوں۔۔
سچ ہی تو تھا۔۔۔کبھی ارمانوں کی قبر۔۔۔کبھی خواہشوں کی قبر۔۔اور کبھی عزتوں کی قبر۔۔۔۔ہر طرح کی قبریں جب اندر بنی ہوں تو وہ انسان ایک مردہ تو ہوسکتا ہے پر زندہ نہیں۔۔۔۔۔۔اور مردوں کے الفاظ بھی مردہ ہوتے ہیں۔۔۔۔تو لہجہ کیا چیز ہے۔۔۔
“ہر اندھیرے کی قسمت میں کبھی نا کبھی روشنی اور ہر روشنی کی قسمت میں اندھیرا ضرور ہوتا ہے۔۔۔۔
یہ تو وقت طے کرتا ہے کہ کب کس کے حصے میں کیا آنا ہے”۔۔۔۔۔۔
کنیز نے اسکے اندر ابھرتے تمام سوالوں کا جواب دیا۔
شاید ایسے ہی جواب کی وہ اس سے امید رکھتی تھی۔۔
وہ ایسے کھڑی تھی جیسے کچھ ہی دیر میں اسکا جنازہ اٹھایا جانے والا ہو۔۔
کنیز اسے دیکھ کر خون کے آنسو روتی تھی مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔وقت نے دونوں کو ایک ایسی دلدل میں دھنسا دیا تھا جہاں سے صرف جنازے ہی نکلتے ہیں۔۔۔۔وہ بڑھاپے کی دہلیز پہ کھڑی تھی اور اپنی ساری جوانی انہی درو دیوار کو تکتے اور ان سے رہائی کی امید میں گزار دی۔۔۔۔وہ بھی کبھی گل بہار کی طرح جوان اور خوبصورت تھی۔۔۔اور بلکل اسی کی طرح سوچتی تھی۔۔۔۔۔ پر وقت نے کب کسی کی سنی ہے۔۔۔۔۔
اس جیسی سب کی قسمت میں شاید عمر بھر کی قید لکھ دی گئی تھی۔۔۔۔
آنسو اسکا اندر بھگو رہے تھے بڑی ہمت کرکے وہ بولی۔۔۔
گل بہار صبر کرو۔۔۔سارے صلے اس جہان کے لیے نہیں ہوتے اگر سبھی کچھ اس جہان میں مل جائے تو اگلے جہان کے لیے کیا باقی رہ جائے۔
وہ خود بکھر چکی تھی مگر اپنے سامنے کھڑے اپنے عکس کو امید دلا رہی تھی۔۔۔۔۔
کنیز تمہیں ابھی بھی کسی صلے کی امید ہے؟؟کیا واقعی ہماری قسمت میں کچھ لکھا ہوگا۔۔۔اس سب کے بعد بھی جو ہم نے کیا۔۔۔جو کر رہے ہیں۔۔۔۔اور آگے اللہ جانے کیا کیا کریں گے۔
گل بہار کی نظریں ایک ہی جگہ پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔وہ بول تو رہی تھی مگر جان نہیں تھی۔۔۔۔وہ اپنی روح اور جسم کے جنازے کی تیاری دیکھنے میں مگن تھی جو لگ بھگ مکمل ہوچکی تھی۔
ہاں گل بہار مجھے ابھی بھی امید باقی ہے۔۔۔۔جب تک سانس باقی رہے امید کو قائم رکھنا چاہیے۔۔۔۔مر کر تو ویسے بھی ساری امیدوں نے دم توڑ ہی جانا ہے۔۔
چلو چھوڑو اب بس کرو بہت ہوگئیں باتیں۔۔۔جلدی سے تیار ہو جاوں ورنہ جودہ بائی کے ہاتھوں ہماری خیر نہیں۔۔
آج بھی اس رابیل کو بہت مار لگائی۔۔۔۔۔ہنٹر سے مارا ہے اسے اور جو کوئی اسکی ہمدردی میں گیا اسکو بھی مارا۔۔
وہ ایک دم سے چونکی۔۔پہلی بار اس نے نظریں باہر سے اندر کی طرف کھڑی کنیز پر ڈالیں۔۔۔۔۔ اسکے چہرے پر موجود جھریوں اور ساری عمر کے درد کی تحریر ابھری۔۔
کیوں مارا سے؟؟ وہ فکر مندی سی پوچھ رہی تھی۔۔
تمہیں نہیں پتا کہ یہاں کس کو کس بات پر مار پڑتی ہے۔۔۔گل بہار۔
لیکن وہ تو ابھی نئی ہے اسکو ان سب چیزوں کی عادت نہیں ہے۔۔۔
تم شاید گل بہار اسکی ہمدردی میں بھول رہی ہو کہ یہاں تمہارے ساتھ کیا کیا ہو چکا ہے۔۔
اور کنیز کی بات سن کر ایک دم سے اسے وہ رات یاد آ گئ جس کو یاد کر کے اسکی روح تک کانپ جاتی تھی۔۔۔۔۔ وہ ساکت سی ہوگئ۔۔
اچھا میں جارہی ہوں ساری تیاری دیکھ لوں۔۔۔اور سب کچھ تمہارے کمرے میں صبح ہی رکھوا دیا تھا ۔۔۔تیار ہو جاو اور ذیادہ مت سوچو۔۔۔۔
وہ پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی آہستہ آہستہ قدم باہر کی طرف رکھتی چلی گئیں۔۔
اور وہ بے دلی سے اپنے اوپر کفن چڑھانے اور اپنی روح و جسم کو قربان کرنے کی تیاری میں مصروف ہوگئ۔۔۔
____________
لال فراک جو پیروں تک آرہا تھا۔۔۔۔سر پر دوپٹہ۔۔۔بالوں میں موتیے کے پھول۔۔۔۔آنکھوں میں کاجل،ہونٹوں پہ لال سرخی،زیورات سے لدی ہوئی سر سے پیر تک تیار بلکل ایک دلہن کی طرح دکھائی دیتی تھی۔۔۔
مگر ۔۔۔ پاوں میں ایک چیز ایسی بھی تھی جو دلہن نہیں پہنتی اور وہ تھی۔۔۔۔”گھنگھروں”۔۔
کیا صرف یہی ایک فرق تھا؟؟نہیں۔۔۔صرف اسی ایک چیز نے ہی تو ہر فرق کو واضح کر دیا تھا۔۔
وہ خود کو آئینے میں سجا سنورا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔دل ہر روز کی طرح رونے کو چاہ رہ تھا مگر اب وقت رونے کا نہیں تھا۔۔
جتنا رونا چاہو اسکی اسے اجازت اپنے کام کے بعد تھی اس سے پہلے نہیں۔۔۔۔ یہ جودہ بائی کا حکم تھا اور اس حکم سے انکار کی اجازت کسی کو نا تھی۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ گل بہار۔۔۔آج تو ہر ایک کے دل پر چھریاں چلنے والی ہیں۔۔۔
جودہ بائی نے اس کے قریب آ کر کہنا شروع کیا اور پھر آہستہ سے اسکی تھوڑی کو چھوا۔۔۔
گل بہار کو یوں لگا جیسے وہ منڈی میں بکنے والا ایک جانور ہے جسے ہر زاویے سے پرکھنے کے بعد یہ طے کیا جا رہا ہو کہ وہ بکنے کے قابل ہے یا نہیں۔۔۔
سچ مچ وہ ایک جانور ہی تو تھی جس پر ہر کوئی اپنی مرضی سے بولی لگاتا۔۔۔نوٹ برساتا۔۔۔۔اور پھر سورج نکلنے سے پہلے منہ چھپا کر روشنی میں گم ہوجاتا کہ کہیں اسکی اصلیت نا کھل جائے۔۔۔۔اور پھر اگلی رات وہی بولی وہی نوٹ وہ ساری کہانی دہرائی جاتی۔۔۔۔
اسے تو منڈی میں بکنے والے جانور بھی خود سے زیادہ خوش قسمت لگتے تھے کم از کم انکے خریدار انہیں دن کے اجالے میں بھی اپنا کہتے تھے۔۔۔۔
اے ہے کہاں کھو گئ رے گل بہار۔۔۔۔ایک تو تیری مجھے ہر وقت کھوئے رہنے کی عادت نا زہر لگتی ہے۔۔۔۔پتا نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہے۔۔۔خوش رہا کر پگلی۔۔۔۔
چل اب سارے مہمان آچکے ہیں تیری راہ تک رہے ہیں۔۔۔ساری تیاریاں مکمل ہیں ۔۔۔۔
اور گل بہار نے صرف سر ہلانے پہ ہی اکتفا کیا۔۔۔اور جودہ بائی کے ساتھ ہو لی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے انکے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔۔۔اور وہ مسلسل بولتی رہیں۔۔۔
ہاں گل بہار تجھے یاد ہے نا کہ کل تیری بولی لگنی ہے۔۔۔اتنا تو مجھے پتا ہے کہ تیری بولی سب سے اونچی ہو گی۔۔۔ارے ہوبھی کیوں نا “حور” ہے تو شان ہے اس کوٹھے کی۔۔۔۔۔میں تو شکر ادا کرتی ہوں تیرے ماں باپ کا کہ تجھے کچرے کے ڈھیر پہ چھوڑ گئے اور اس دن میری تجھ پہ نظر پڑ گئ۔۔۔۔ورنہ ہم تو اتنے قیمتی ہیرے سے محروم ہی رہ جاتے۔۔۔۔
دونوں اب سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔۔۔ کوٹھہ کافی بڑا تھا اور اسکے کمرے سے مہمان خانہ کافی فاصلے پر تھا۔۔۔۔ہر طرف پھولوں کی سجاوٹ،روشنیاں قالین۔۔ہر چیر کی تیاری میں روز کی طرح خوب محنت کی گئ تھی۔۔
پر اس سب کی پرواہ کسے تھی۔۔
اس نے ابھی تک سر نہیں اٹھایا تھا بس جودہ بائی کے پیروں کے ساتھ پیر ملا رہی تھی۔۔۔
ویسے سچ ہے گل بہار جتنا خرچہ تجھ پہ ہم نے کیا ہے اتنا کسی پہ نہیں کیا۔۔۔۔ تجھے اب تک میلا اس لیے نہیں ہونے دیا کہ ایک ہی بار میں ساری رقم وصول کرکے تجھے اس آدمی کے ساتھ ہی رخصت کر دیں۔۔۔۔
اب بس کل کی بولی کا انتظار ہے اور تجھے اس آدمی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے۔۔۔۔بس۔۔۔۔جودہ بائی کی آنکھوں میں کمینگی ، مکاری اور فحاشی صاف جھلکتی تھی اور ہونٹوں پہ شاطرانہ مسکراہٹ قائم رہتی تھی۔۔
آخر کار دونوں مہمان خانے میں پہ پہچ گئیں جہاں سارے مہمان موجود تھے۔۔۔۔۔۔بڑے بڑے رءوسا۔۔۔بزنس مین ۔۔۔۔سیاستدان۔۔۔۔۔مہمان کی بجائے جسموں کے پجاری کہنا زیادہ بہتر ہے۔
جودہ بائی نے اشارہ کیا اور رقص شروع ہوا۔۔۔۔
گل بہار نے بڑی مہارت سے رقص شروع کیا۔۔اسی چیز کی تو اسے سالوں مشق کروائی گئ تھی۔
اسکے قدم فرش پر دھرک رہے تھے اور تبلے کی تھاپ۔۔۔۔ اسکے پیروں میں بندھے گھنگھروں کی آواز اور ان سب کے ساتھ ان لوگوں کی واہ وائی۔۔
وہ وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی بس ایک گڑیا کی چابی گھما دی گئ تھی اور وہ گھوم رہی تھی۔۔۔۔نا اسکے جزبات تھے نا احساسات ۔۔۔۔بس ناچنا تھا سو وہ ناچ رہی تھی۔۔
اردگرد بیٹھے سارے لوگ اپنی جیب سے نوٹ نکال نکال کر گل بہار کے قدموں میں نچھاور کر رہے تھے۔۔۔۔ لبوں پر واہ واہ سبحان اللہ ، ماشاءاللہ کے القابات ۔۔۔منہ میں پان،ہاتھ میں شراب کا گلاس اور آنکھوں میں بے حیائی ہی بے حیائی دکھائی دیتی تھی۔
جتنا پیسا وہ ایک رات میں ایک رقاصا کے اوپر لٹا رہے تھے اتنا شاید اپنی پوری ذندگی میں اللہ کے نام پر خرچ نا کیا ہو۔۔
رقص آخر کار دوگھنٹے کے بعد ختم ہوا۔۔۔۔گل بہار کے پاوں سوج چکے تھے اور چکر آرہے تھے مگر پرواہ کسے تھی۔۔۔۔۔وہاں پرواہ کرتا بھی کون۔۔۔
پرواہ انکی کی جاتی ہے جو آپ کے اپنے ہوتے ہیں۔۔۔۔اور وہ اپنے نہیں تھے صرف خریدار تھے۔
جودہ بیگم نے باری باری سب سے گل بہار کا تعارف کروایا اور خصوصی مدعو کیا کہ وہ کل کی نیلامی میں ضرور شرکت کریں۔۔۔۔
اور وہ سب کے سب ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔۔۔۔
جی جی جودہ بائی ۔۔۔ہم تو کب سے آپ سے گزارش کر رہے ہیں کہ اس گل کو ہمارے گھر میں بہار بن کر آنے دیں پر آپ ہی بضد تھیں اور ہمیں ہر رات کانٹوں پر سلا دیتی تھیں۔۔۔۔۔شکر ہے آپکو ہمارا خیال آ ہی گیا۔۔۔۔۔
گل بہار سے ان لوگوں کے درمیاں کھڑا رہنا کافی مشکل ہو رہا تھا وہ لوگ پوری طرح نشے میں تھے اور انکے ہاتھ بھی بے قابو تھے اور بار بار بھٹک کر اس کی طرف آ رہے تھے۔۔۔۔۔
اس لیے اس نے خراب طبیعت کا بہانا بنا کر اپنی جان چھڑوائی اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔ اور جودہ بائی ان سب کو اپنے کوٹھے کی باقی لڑکیوں کے کمروں میں بھیجنے لگیں۔۔۔۔ جن کی وہ قیمت ادا کرچکے تھے۔
کمرے میں آکر اس نے خود کو قید کر لیا۔۔۔۔اب سے وقت اور آنسو گل بہار کی مرضی کے تھے تب تک جب تک اگلے دن کا سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔۔۔
_______
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی اور اپنی زندگی میں آنے والے طوفان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
اس نے زور سے آنکھیں بند کی تو آنسووں نے اسکے چہرے کو بھگونا شروع کر دیا۔۔۔
دل میں ہر روز کی طرح دعا تھی ایک امید تھی کہ اے اللہ جیسے تو نے مجھے ہمیشہ بچائے رکھا اب بھی بچا لینا۔۔۔۔تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاپتا ہے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔۔۔
میں ذلیل و رسوا ہو کر تیرے دربار میں حاظر نہیں ہونا چاہتی بچا لینا مجھے۔۔بچا لینا۔
گل بہار ظاہر اور باطن دونوں میں پاک تھی۔۔۔اسکی وجہ کنیز تھی جس نے اسے یہاں کی گندگی سے بچا کر رکھا ۔۔۔وہ خود کو تو نا بچا پائی مگر اپنے اس عکس کو بچانے اور اسکی تربیت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نا رکھی۔۔۔
کنیز جب بیس سال کی تھی تو اسے اغوا کر کے یہاں قید کر دیا گیا۔۔۔وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی اور مذہب سے بھی اسکا کافی رجھان تھا اور یہی دو چیزیں اس نے گل بہار میں منتقل کی تھیں۔
جودہ بائی نے کچرے سے اٹھائی گئ لڑکی کی ذمہ داری کنیز پر ڈال دی۔۔اور جب کنیز نے اس معصوم سی پری کو پہلی بار اپنی بانہوں میں لیا تو اسے لگا جیسے وہ اسی کی بیٹی ہو۔۔۔۔اسی کا عکس ہو۔۔۔۔تب سے کنیز نے گل بہار پر ایک آنچ نا آنے دی۔۔۔جودہ بائی کے دماغ میں بھی یہ بات ڈالنے والی کنیز ہی تھی کہ اسے ابھی استعمال نا کریں۔۔۔بلکہ کچھ انتظار کریں۔۔۔کنیز کوئی راہ تلاش کرکے گل بہار کو یہاں سے نکالنا چاہتی تھی مگر اسکی ساری کوششیں بے کار گئیں۔۔
کنیز بلاشبہ گل بہار کی زندگی میں ایک رحمت سے کم نا تھی۔۔۔۔اس نے ہمشہ گل بہار کو اپنے آنچل میں چھپا کر رکھا۔۔۔۔۔کنیز کو گل بہار کے ماں باپ پر رہ رہ کر غصہ آتا تھا ناجانے یہ کیسے ماں باپ ہیں جو اپنی اولاد کو یوں چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔یہ سوچے بغیر کہ وہ کسی کوٹھے کی زینت بھی بن سکتی ہے۔۔۔۔۔جب پال نہیں سکتے تو پھر پیدا کرنے کا کیا تک بنتا ہے۔۔۔
بہرحال اگر گل بہار کو بہت کچھ نہیں ملا تھا تو اسکے بدلے اسے کنیز کے روپ میں ایک خوبصورت تحفہ ضرور ملا تھا۔۔
وہ بند آنکھوں سے آنسو بہارہی تھی۔۔۔اور اس وقت کمرے میں اس قدر خاموشی تھی جیسے قبرستان میں ہوتی ہے۔۔
تبھی اسے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔۔۔پہلے تو اسے اپنا وہم لگا۔۔۔پھر جب آواز مسلسل آنے لگی تو اسنے فورا آنکھیں کھول دیں۔۔۔
آواز کمرے سے باہر کی طرف سے آرہی تھی۔۔۔دروازہ کھول کر وہ نگے پیر باہر نکل آئی۔۔۔اردگرد نظریں دوڑائیں پر کوئی نظر نہیں آیا۔۔۔
وہ واپس کمرے کے اندر جانے لگی تو آواز پھر سے آنے لگی۔۔۔اس نے اپنے بہتے ہوئے آنسووں کو صاف کیا اور آواز کی سمت چلنے لگی۔۔۔۔
تبھی اسے سیڑھیوں کے نیچے کسی کے ہونے کا احساس ہوا تو وہ نیچے جھک کر وہاں دیکھنے لگی۔۔۔
وہ رابیل تھی اور گل بہار کو دیکھ کر اس نے زور سے چیخ مار دی۔۔
گل بہار نے فورا آگے بڑھ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ارے ڈرو مت میں ہوں گل بہار۔۔۔۔دیکھوں آنکھیں کھولوں۔۔۔
رابیل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔۔۔وہ بے حد ڈری سہمی سی بلکل دیوار کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔جیسے وہ ایک جنگل میں ہو اور ابھی کوئی جنگلی جانور اسے آکر کھا جائے گا۔۔۔
اور اسکی یہ بات سچ ہی تو تھی وہاں سب کے سب بھیڑیے اور درندے ہی تو تھے۔۔۔جن کے لیے عورت صرف استعمال کرنے کی چیز تھی اور اسکے بعد وہ کچرے کے ڈھیر کے سوا کچھ نا تھی۔۔۔
جانور صرف جنگل میں ہی تو نہیں ہوتے سب سے بڑا جانور تو انسان خود ہے جس نے ہر جانور پر اپنی برتری کو ہر دور میں ثابت کیا ہے۔۔۔اور جانور اسکو دیکھ کر شرمندہ ہوگیا کہ جانور تو میں تھا تم نے تو مجھے بھی پیچھے چھوڑ دیا۔۔۔۔واہ رے انسان تیرے کیا کہنے۔۔
اس نے گل بہار کو دیکھا تو فورا اس کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔۔اسکی ہچکی بندھی ہوئی تھی۔۔۔اور وہ مسلسل بولنے کی کوشش کر رہی تھی پر گل بہار کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ پیار سے اس کا سر سہلا رہی تھی اور دلاسہ دے رہی تھی۔۔۔۔چپ ہو جاو رابیل میں ہوں یہاں دیکھو میں یہی ہوں تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔ اور خود وہ جو کچھ دیر پہلے جس کرب میں مبتلا تھی اب سامنے والے کو اسی کرب میں دیکھ کر اپناآپ یاد ہی نہیں تھا۔
رابیل نے گل بہار کو بہت مضبوطی کے ساتھ پکڑا ہوا تھا وہ کسی صورت اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔۔۔
رو رو کر اسکا برا حال تھا۔۔۔۔گل بہار کافی دیر اسے یونہی اپنے سینے سے لگائے رات کی خاموشی میں سیڑھیوں کے نیچے چھپ کر بیٹھی رہی۔۔۔
بہت دیر کے بعد رابیل نے بولنا شروع کیا۔۔۔۔
میرا کیا قصور ہے جو مجھے یہاں قید کر دیا گیا۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔۔میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔۔۔۔آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اور ہچکی ابھی تک بندھی ہوئی تھی جسکی وجہ سے وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔۔
میں کتنی خوش تھی اپنے گھر میں۔۔۔۔ سب ٹھیک تھا۔۔۔۔۔
صرف ایک غلطی ہی تو کی تھی میں نے صرف ایک
گل بہار خاموشی سے اسکے سر کو سہلاتی رہی بولی کچھ نہیں۔۔۔وہ چاہتی تھی کہ رابیل اپنے سارے درد آج بانٹ لے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔۔۔کیونکہ کل کے بعد اسے یہ کندھا میسر نہیں ہونا تھا۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر خود بھی جل رہی تھی مر رہی تھی۔۔۔۔۔سسک رہی تھی مگر اسکے باوجود وہ رابیل کو حوصلہ دینا چاہتی تھی۔۔۔ اسکا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی۔۔
مجھے میری ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا کیوں مل رہی ہے۔۔۔۔۔صرف محبت ہی تو کی تھی۔۔۔کیا یہ کوئی بہت بڑا جرم تھا جسکی سزا مجھے اس صورت میں ملتی۔۔
کتنا یقین تھا مجھے اس شخص پر کتنا مان تھا۔۔۔لیکن اس نے۔۔۔
آنسووں کی رفتار میں اضافہ ہوگیا اور بولنا اور بھی مشکل ہو گیا۔۔۔وہ ایک دم سے گل بہار سے الگ ہوئی۔۔۔۔
گل بہار نے آنسووں سے بھیگے چہرے اور سرخ آنکھوں میں چھپے اس درد کو اس وقت شدت سے محسوس کیا تھا جو ایک “محبت” کی دین تھا۔۔۔۔۔ زندگی کی ایک اور حقیقت سے آج آشنا ہو رہی تھی اور وہ تھی” محبت”
وہ بھلا پہلے محبت کو کہاں جان پائی تھی اسکے لیے تو بس اسکی کنیز ہی کا پیار اسکی محبت تھا۔۔۔۔۔ایک الگ طرح کی بھی محبت ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے۔۔۔۔وہ دل میں شکر ادا کرنے لگی کہ وہ کسی ایسی محبت میں نہیں پڑی نا ہی کسی ایسے جزبے سے آشنا ہوئی۔۔۔۔۔محبت انسان کو کہاں سے کہاں لا سکتی ہے اور اسکا انجام کتنا بھیانک ہو سکتا ہے وہ آج جان رہی تھی۔۔
وہ بمشکل اس سے پوچھ پائی۔۔۔۔ کیا کیا اس نے۔۔
اس نے ۔۔۔اس نے مجھ سے میری ذندگی کی ساری خوشیاں چھین لیں اور مجھے اس نے رابیل نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔مجھے اس نے محض پانچ لاکھ میں فروخت کر دیا۔۔
اب تو وہ بہت خوش ہو رہا ہوگا کہ میں اسکی دلہن بننے کی بجائے اوروں کی دلہن بن رہی ہوں ۔۔۔۔ہر رات۔۔۔۔ اللہ پوچھے گا اس سے۔۔۔۔اسے اسکے کیے کی سزا بھگتنی پڑے گی۔۔۔
پھر رابیل کی ہمت ٹوٹ گئی اور دونوں بس تاریک رات میں بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہیں جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ اب انکی زندگی میں کیا لکھا جائے گا۔۔۔۔۔کیا کوئی امید باقی ہوگی کیا کوئی نیا سویرا انکی ذندگی میں بھی روشنی بکھیرے گا۔۔۔۔ وہ دونوں ہر امید سے پرے بس اسی رات میں ہی ساری زندگی گزار دینا چاہتی تھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: