Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 10

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 10

–**–**–

 

آپ کی طبیعت مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔کل رات کو بھی آپ کی خیریت معلوم کرنے آیا پر آپ شاید سو چکی تھیں۔۔
بلال گل بہار کی آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ ہلکے اور آنکھوں کی سرخی دیکھ کر فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔۔
تینوں اس وقت کھانے کی میز کے گرد بیٹھے تھے۔۔
میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سر میں درد تھا اور کچھ خاص نہیں۔۔۔۔ گل بہار بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔
ماما رات کو میں بھی آپکے کمرے میں آنا چاہتی تھی… آپ کا سر دبانا چاہتی تھی پر پاپا نے منع کر دیا کہ آپ کو ڈسٹرب نا کروں۔۔۔رانیہ بھی گفتگو میں شامل ہوگئی۔۔
تھینکیو میری جان لیکن اس کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ گل بہار نے پیار سے اسکے چہرے کو چھوا۔۔
آپ کو پتا ہے ماما مجھے کتنے سارے گفٹس ملے پر مجھے سب سے زیادہ آپ کا گفٹ اچھا لگا۔۔
واقعی؟؟
جی ماما وہ فیئری واقعی بہت بیوٹی فل ہے بلکل میری طرح۔۔۔۔ہیں نا پاپا۔۔۔اب وہ پاپا کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔
بلکل جناب ہماری پرنسس کی طرح ہے۔۔۔۔بلال نے بھی مسکرا کر اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔۔
پر مجھے تو آپ زیادہ کیوٹ لگتی ہیں اس فئیری سے کہیں زیادہ۔۔۔گل بہار رانیہ کو ناشتا کروانے والے کے ساتھ ساتھ کہہ رہی تھی۔۔
بلال کی نظر اس پر ٹھہر سی گئی۔۔۔۔ کل میں اس سے اپنے دل کی بات کہنے والا تھا پر ۔۔۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔۔۔پتا نہیں یہ ہاں کرے گی یا نا۔۔۔اور اگر نا کر دی تو۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہی اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا۔۔۔ گلاس فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا تو پھر جیسے وہ ہوش میں آیا۔۔
رانیہ اور گل بہار دونوں نے اسکی طرف چونک کر دیکھا۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ؟؟
کیا ہوا پاپا؟؟
وہ دونوں اس سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔ کچھ نہیں بس گلاس ہاتھ سے پھسل گیا۔۔۔۔وہ جلدی سے کھڑا ہوا۔۔۔ اچھا میں کمرے سے اپنی ساری چیزیں لے آوں۔۔ رانیہ آپ جلدی نے ناشتا ختم کروں۔۔۔۔پھر سکول کے لیے نکلتے ہیں۔۔کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔
اگر گل بہار نے سچ مچ انکار کر دیا تو؟؟؟ ایک پل کے لیے وہ رکا اور پھر سر جھٹک کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
دو دن کے بعد سکندر گھر آ چکا تھا ۔۔اسکی طبیعت کافی بہتر تھی۔۔۔محسن چوبیس گھنٹے اسکے سر پر سوار تھا۔۔۔بیچ میں دو تین بار اسکے پیرنٹس بھی سکندر کو دیکھ گئے تھے
سکندر آنکھیں موندے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور محسن اس کے سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔آج اسکی طبیعت کافی بہتر تھی تو اس نے آخر کار اسکی شادی والے موضوع پر بات کرنا مناسب سمجھا۔۔
وہ سکندر کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
اس نے اسی طرح بند آنکھوں سے جواب دیا۔
ہہم۔۔
اٹھو اور میری طرف دیکھو۔۔
کیوں تمہاری شکل بدل گئی ہے کیا ؟
میری تو نہیں البتہ تمہاری ضرور بدلنے والی ہے میرے ہاتھوں۔
وہ کیوں؟؟سکندر نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا۔
کیونکہ تمہارے کرتوت ہی ایسے ہیں اس لیے۔
میں نے کیا کیا ہے؟؟؟؟ وہ ماتھے پر بل ڈالے پوچھ رہا تھا۔۔
تم نے آمنہ سے شادی کے لیے ہاں کہا ہے؟
ہاں تو اس میں کیا ہے۔۔۔۔کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
کیا میں اس فضول حرکت کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔
اس میں فضول حرکت والی کونسی بات ہے۔۔۔کبھی نا کبھی تو شادی کرنی تھی تو بس کر رہا ہوں۔۔۔ آخر میرا بھی تو خوشیوں پر کچھ حق ہے۔۔۔۔۔کہہ کر آنکھیں چرا گیا۔۔
خوشیاں؟؟اچھا واقعی تمہیں لگتا ہے کہ تم اس شادی سے خوشیاں اکھٹی کر لو گے؟؟ تم کس سے جھوٹ بول رہے ہو سکندر۔۔۔کیا میں تمہیں نہیں جانتا؟
کیا جانتے ہو تم؟؟ فضول باتیں مت کرو اور تم نے اپنے گھر نہیں جانا دو دن سے جونک کی طرح چپکے ہوئے ہو۔۔
وہ بیڈ سے اٹھنے لگا تو محسن نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔
جب تک میں تم سے بات نا کر لوں یہاں سے ہلنا مت۔۔۔محسن نے تھوڑے غصے سے کہا تو وہ واپس بیٹھ گیا۔
اس شادی سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہونا۔۔۔جب دل و دماغ میں کوئی اور ڈیرے ڈال کر بیٹھا ہو تو سامنے کھڑا انسان کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ تم تین لوگوں کی زندگی برباد کرو گے بس۔۔۔۔۔۔ تمہارے ہاتھ خالی ہی رہیں گے۔۔۔۔ اس لیے یہ بیوقوفی مت کرو۔۔
تین لوگ؟؟ہا ہا ہا۔۔۔تین لوگ۔۔۔۔وہ زور دار قہقہ لگا کر کہہ رہا تھا۔۔۔ برباد تو صرف میں ہوا ہوں۔بےوفائی تو صرف میرے مقدر میں آئی ہے۔۔۔وہ بڑے آرام سے کسی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہی ہے۔۔۔
تم گل بہار کی بات کر رہے ہو؟؟؟کہاں ملی وہ تمہیں؟؟؟وہ بےتابی سے پوچھنے لگا۔۔
ہاں ملی وہ مجھے ایک ڈاکٹر سے شادی کرکے بڑے سے عالیشان محل میں رہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ میں نہیں پھنسا تو کوئی اور بکرا پھانس لیا۔۔۔بے چارہ ڈاکٹر بلال۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوش ہے وہ اس بلال کے ساتھ۔۔۔۔۔تو پھر کیا میرا خوشیوں پر کوئی حق نہیں۔۔۔۔ وہ غصے سے کہہ رہا تھا اور اس غصے کے پیچھے چھپے درد کو محسن بخوبی سمجھ رہا تھا۔
اگر وہ وہاں خوش ہے تو تم بھی اسے معاف کردو تاکہ خود کو اس اذیت سے باہر نکال سکو۔۔
اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ سب ایسا نا ہوا ہو جیسا تم سمجھ رہے ہو۔۔۔شاید تمہیں اس کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو؟
میں نے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا راجو اور وہ۔۔۔۔بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
تو غلط فہمی کس چیز کی۔۔۔۔۔ اور معافی ۔۔۔۔۔۔اسکا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ تم تمہارے دل میں اس کے لیے کیوں اتنی ہمدردی پیدا ہو رہی ہے۔۔۔۔تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہاری اس کے بارے میں رائے صحیح ثابت ہوئی۔۔
کاش میں تمہیں سچ بتانے کی ہمت کر پاتا۔۔۔محسن نےدل میں سوچا۔۔۔۔۔پھر بولا
سکندر کبھی کبھی جیسا ہمیں نظر آتا ہے ویسا نہیں ہوتا۔۔۔تم ایک بار گل بہار سے بات تو کرو شاید۔۔
بس کرو محسن بہت ہوگیا۔۔۔۔ تم آئیندہ مجھ سے اس بارے میں بات مت کرنا ۔۔۔۔۔ سب ختم ہو چکا ہے۔۔۔میں بہت جلد شادی کررہا ہوں وہ بھی خوب دھوم دھام سے ۔۔۔تو سارا انتظام تمہیں ہی دیکھنا ہے۔۔۔۔سکندر کہہ کر فورا اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
اور خالی کمرے میں بیٹھا سوچنے لگا۔۔۔
تم کس کو بیوقوف بنا رہے ہو سکندر ۔۔۔۔۔کم از کم مجھے نہیں بنا سکتے۔۔۔۔ مجھے گل بہار سے ایک بار تو ضرور بات کرنی چاہیے۔
ہمم۔۔۔۔ بلکل
۔کیا نام بتایا اس نے ڈاکٹر بلال اور شاید یہ وہی ڈاکٹر ہے جس کے پاس یہ ڈپریشن ریلیز کرنے کے لیے ریگولر سیشن لے رہا ہے۔۔۔اور راجو سکندر کا پرانا نوکر جسے اس نے فارم ہاوس بھیج دیا تھا اور میرے اسکے متعلق پوچھنے پر بھی کوئی خاص جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ چلوکچھ تو ہاتھ لگا
کوئی امید تو نظر آئی۔
____________
سکندر کمرے سے نکل کر تایا سائیں کے پاس آیا جو ٹی وی لاونج میں بیٹھے نیوز دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔۔
اسے دیکھ کر بولے۔۔۔۔تم نیچے کیوں آگئے ۔۔اپنے کمرے میں آرام کرو۔۔۔
بس لیٹ لیے کر تھک گیا تو سوچا نیچے آکر آپ سے گپ شپ لگا لوں۔۔۔۔۔سکندر نے بہانا گھڑا
چلو اچھا کیا۔۔۔۔میں بھی یہاں بور ہو رہا ہوں۔۔۔سارا دن فارغ بیٹھا رہتا ہوں کوئی کام وام بھی نہیں ہے۔۔۔
جی یہ تو ہے۔۔۔۔۔پھر تھوڑا وقفہ لےکر بولا۔۔۔۔۔تایا سائیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔
ہاں بولو بیٹا۔۔
میں جلد سے جلد آمنہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اگر اسی مہینے ہو جائے تو ۔۔
ارے کیوں نہیں بیٹا۔۔ہماری بھی یہی خواہش ہے۔۔۔ ہم اسی مہینے کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔۔۔انکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔۔کتنی مشکل سے تو یہ مانا ہے اگر ہم نے دیر کی تو کہیں پھر سے ہی انکار نا کر دے۔۔۔۔انہوں نے دل میں سوچا۔۔۔
شکریہ تایا سائیں۔۔۔۔سکندر بے تاثر چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا۔۔
ارے شکریہ کی کیا بات ہے۔۔۔وہ تمہاری امانت ہے جب چاہو آکر لے جاو۔۔
وہ بس “جی” ہی کہہ پایا اور پھر آرام کرنےکا بہانا بنا کر اپنے کمرے میں واپس آگیا۔۔
محسن شکر ہے نہیں ہے ورنہ پھر دماغ خراب کرتا۔۔۔۔۔اس نے سوچ کر سکون کا سانس لیا۔۔
اور محسن اپنے مشن پر روانہ ہوچکا تھا اسے ہر حال میں اس رات کا سچ جاننا تھا۔۔۔
________
مرکزی شہر سے کوئی پچاس کلو میڑ دور ایک خوبصورت ، وسیع و عریض فارم ہاوس موجود تھا۔۔
محسن اس کے گیٹ کے سامنے ہارن بجانے لگا۔۔۔
محسن سے وہاں سبھی ملازم واقف تھے تو فورا ہی گیٹ کھول دیا گیا۔۔
جیسے ہی گاڑی اندر داخل ہوئی قاسم بابا فورا اسکی طرف آئے۔۔
وہ گاڑی سے اترا تو وہ بولے۔۔
محسن صاحب بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔۔۔
آپ کیسے ہیں بابا؟؟
محسن بچپن سے ہی یہاں آ رہا تھا تو یہاں کے سبھی لوگوں سے واقف تھا خاص کر قاسم بابا سے۔
وہ اپنے جھریوں والے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے بولے۔۔
بس اب تھوڑا بوڑھا ہو گیا ہوں تو بیماری کا ساتھ کچھ زیادہ ہی رہنے لگا ہے۔
آپ سنائیں آپ اور سکندر صاحب تو یہاں کا راستہ ہی بھول گئے۔۔
بس تھوڑی مصروفیت رہی اس لیے ہم دونوں چکر نہیں لگا سکے۔
اب وہ دونوں ساتھ ساتھ آگےچلنا شروع ہوگئے۔۔۔
اور بابا سب ٹھیک یے یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں؟؟
نہیں سب کچھ ٹھیک ہے۔۔۔سکندر صاحب کو میں باقاعدگی سے فون کرکے یہاں کے سارے حالات سے آگاہ کرتا رہتا ہوں۔۔
اب وہ گھوڑوں کے اصطبل کے سامنے پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
سب گھوڑوں کا کیا حال ہے؟؟خاص کر سکندر کے” شیرو “کا۔
وہ ” شیرو” کی پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔شیرو سب گھوڑوں میں سے سب سے خوبصورت اور اعلی نسل سے تعلق رکھتا تھا ۔۔
صاحب جی ۔۔۔۔خاص طور پر اسی کا خیال رکھتا ہوں۔۔۔سکندر صاحب کو اتنا پسند جو ہے۔۔۔اور ہمیشہ اسی پر ہی گھڑ سواری کرتے ہیں۔۔۔ قاسم بابا نے فخر سے بتایا۔۔
ہاں بلکل سکندر کی تو جان ہے اس میں۔۔۔میں اس سے کبھی بھی گھڑ سوری میں نہیں جیت سکا۔۔
سکندر صاحب سے جیتنا بہت مشکل ہے ۔۔۔ ان کو کبھی ہارنا پسند نہیں۔
بابا اپنی ہی دھن میں بول رہے تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہارنے جا رہا ہے اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔تم ہمیشہ جیتے ہو اور جیت ہمیشہ سکندر کا مقدر رہی ہے تو بھلا تم اپنی خوشیوں کی بازی کیسے ہار سکتے ہو۔۔
کیا ہوا صاحب جی کہاں کھو گئے؟؟بابا کی آواز پر وہ چونک
_________
کچھ خاص نہیں۔۔۔بابا ۔۔
“راجو ” کہاں ہے وہ نظر نہیں آرہا ؟؟چھٹی پر ہے کیا؟؟ وہ اردگرد نظر دوڑائے پوچھ رہا تھا۔
وہ تو فارم ہاوس کے دوسرے پورشن میں ہے وہاں کچھ نئے پودے لگا رہا ہے۔۔۔آپ کو کچھ کام تھا اس سے تو میں بلا لاوں؟؟
کچھ خاص نہیں بس سوچا حال چال پوچھ لوں ۔۔۔۔ کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔محسن نے سرسرسی سا جواب دیا جیسے اسے راجو سے کوئی خاص سروکار نہ ہو۔۔۔
راجو کو میں ابھی بھیج دیتا ہوں۔۔۔
آپ اندر چل کر بیٹھیں آپ کے لیے چائے پانی کا اچھا سا بندوبست کرواتاہوں۔۔۔
قاسم بابا نے اصطبل سے واپسی پر اس سے کہا۔۔
وہ صرف ” ہمم” کر کے خوبصورت جدید طرز کی بنی عمارت میں داخل ہوگیا۔۔۔۔ اندر صوفے پر بیٹھ کر وہ راجو کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ ایک ہاتھ میں چائے کی پیالی تھامے دوسرے ہاتھ میں موبائیل لیے بیٹھا تھا۔۔۔جب راجو سلام صاحب جی کہتا حاضر ہوا۔
اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔وہ پہلے کے مقابلے میں کچھ بڑا بڑا لگ رہا تھا۔۔
کیسے ہو راجو۔۔
میں ٹھیک ہوں صاحب جی آپ کیسے ہیں اور سکندر صاحب کیسے ہیں؟؟وہ ادب کے ساتھ ہاتھ باندھے کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں اور سکندر بھی بلکل ٹھیک ہے۔۔۔اور سب ٹھیک ہے یہاں کسی قسم کی کوئی پریشانی تو نہیں؟
نہیں صاحب جی اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہے۔۔۔سکندر صاحب خیال ہی اتنا رکھتے ہیں۔۔
ہمم۔۔۔ارد گرد دیگر ملازمیں کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہاں بات نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔اس لیے راجو سے کہا۔۔
آو زرا میرے ساتھ اور مجھے دکھاو کون سے نئے پودے لگا رہے تھے۔۔۔اگر اچھے لگے تو میں بھی اپنے فارم ہاوس پہ یہی لگوالوں گا۔
جی صاحب جی چلیں ۔۔۔وہ دونوں وہاں سے اٹھ کر فارم ہاوس کی پچھلی طرف آگئے۔۔
راجو خوش ہو کر سارے پودے اور ان کی تفصیل بتا رہا تھا۔۔۔محسن کو بھلا کہاں دلچسپی تھی وہ بس خاموشی سے سنتا رہا۔۔
پھر ارد گرد نظر دوڑائی تو وہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔
یہی اچھا موقع ہے مجھے اس سے بات کر لینی چاہیے۔۔۔۔اس نے سوچ کر راجو کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
راجو مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم میری ہر بات کا سچ سچ جواب دو گے۔۔
جی جی صاحب جی پوچھیں۔۔۔۔ وہ محسن کی بات پوری توجہ سے سننے لگا۔۔۔
راجو اس رات کیا ہوا تھا؟
اور راجو کے تو یہ سن کر رنگ ہی اڑ گئے۔۔۔۔پھر بمشکل بولا۔۔۔۔۔کب محسن صاحب آپ کس رات کی بات کر رہے ہیں؟؟
راجو تم اچھی طرح جانتے ہو میں کس رات کی بات کر رہاہوں۔۔۔۔زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اس رات تمہارے اور گل بہار کے درمیان کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے سکندر نے تمہیں فارم ہاوس بھیج دیا اور گل بہار کو گھر سے نکال دیا۔۔۔ محسن اسکے چہرے پر نظریں جمائے کہہ رہا تھا اور اسکے تو گویا رنگ ہی اڑتے جارہے تھے۔۔
صاحب جی میں معافی چاہتا ہوں پر میں آپکو کچھ بھی نہیں بتا سکتا۔۔۔۔۔آپ سکندر صاحب سے پوچھ لیں۔۔۔۔اس نے یونہی سر جھکائے جواب دیا۔۔
سکندر نہیں بتا رہا تبھی تو تم سے پوچھ رہا ہوں کہ آخر کیا ہوا تھا۔۔۔۔ضد مت کرو اور مجھے بتاو ۔۔
صاحب جی میں مر تو سکتا ہوں پر آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔۔۔چاہے آپ میری جان لے لیں ۔۔۔۔میں سکندر صاحب کے ساتھ نمک حرامی نہیں کر سکتا۔۔۔وہ کہہ کر جانے لگا تو محسن فورا بولا۔
نہیں بتانا تو مت بتاو چاہے تمہارا صاحب اس درد کو جھیلتے جھیلتے خود کو مار ہی کیوں نا ڈالے۔۔۔جانتے ہو وہ کس تکیلف سے گزر رہا ہے۔۔ارے تمہیں بھلا کیا پرواہ۔
محسن کی بات سن کر وہ رک گیا اور واپس محسن کی طرف آیا۔۔۔
سکندر صاحب اتنی تکلیف میں ہے اب تک ۔۔۔۔اور اس بات کو تو دوسال ہوگئے۔۔۔۔۔مجھے تو لگا تھا وہ سب بھول گئے ہوں گے۔۔
نہیں بھولا وہ اب تک خود کو ہر روز اس آگ میں جلا رہا ہے۔۔۔۔تم مجھے سب بتاو تاکہ میں اسکی تکلیف کم کر سکوں۔۔
راجو نے ہتھیار ڈال دیئے وہ جانتا تھا کہ محسن جھوٹ نہیں بول رہا۔۔
بڑی ہمت کرکے اس نے اس شام کی ساری کہانی سنانی شروع کی۔۔۔۔۔ دونوں کی حالت اس وقت عجیب تھی۔۔۔راجو بڑی مشکل سے سارا سچ بتا رہا تھا اور محسن کا اس سارے سچ پر یقین کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہو رہا تھا۔
صاحب جی آپ سکندر صاحب کو کچھ مت بتائیے گا۔۔۔۔ اوپر والا جانتا ہے کہ میں نے یہ راز ہمیشہ اپنے دل میں ہی دبا کر رکھا ہے کسی کو نہیں بتایا۔۔۔
ساری بات کہنے اور سننے کے بعد راجو نے درخواست کی۔۔
تم بلکل فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔محسن اسکے کندھے کو تھپتھپاتا آگے بڑھ گیا اور وہ اسکی پشت کو تب تک تکتا رہا جب تک محسن اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔۔
اس نے واپسی کی راہ لی۔ دماغ میں راجو کی باتیں گونج رہی تھیں۔۔
کیا گل بہار ایسا کر سکتی ہے؟
یقینا نہیں۔۔۔۔اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ سکندر جیسے شاندار انسان کو چھوڑ کر ایک نوکر سے رشتہ قائم کرنا چاہتی۔۔۔۔اور دوسری بات اسے اس گھر میں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے تھے۔
جس دن میں نے اس سے بات کی تو وہ کتنا ڈری ہوئی تھی۔۔۔بھلا ایسی لڑکی اتنی بڑی پلینگ نہیں کر سکتی۔
اور کنیز اسکی آنکھیں گل بہار کے متعلق سارا سچ کہہ رہی تھیں۔۔۔۔ اور وہ سب سن کر اور دیکھ کر مجھے بھی یقین ہو گیا۔۔
تو پس ثابت ہوا گل بہار صاحبہ آپ نے سکندر کو مزید کسی دکھ اور پریشانی سے بچانے کے لیے خود کو سکندر کی نظروں میں گرا دیا۔
پلین اچھا تھا۔۔۔
مگر اس سب کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔۔سکندر کا درد اور بھی بڑھ گیا۔
ہم سب سکندر سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور جب وہ تکلیف میں ہے تو بھلا ہم کیسے سکون میں رہ سکتے ہیں۔۔
تمہیں واپس آنا ہوگا ہر حال میں آنا ہی ہوگا تاکہ میرے دوست کی زندگی میں خوشیاں لوٹ آئیں
اور میں ایسا کر کے رہوں گا۔۔۔۔آئی پرامس۔۔
جودہ بائی کا کوٹھا آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ آباد تھا۔۔
گل بہار کی جگہ رابیل نے لے لی تھی۔۔پر رابیل کی قسمت اتنی اچھی نہیں تھی جتنی گل بہار کی تھی۔۔
رابیل کو ہر رات دلہن بنا کر کسی کے کمرے میں رخصت کر دیا جاتا۔۔۔
شروع شروع میں اسے تکلیف ہوتی تھی. دکھ ہوتا تھا.وہ چیختی تھی مگر اسکی چیخیں اس چاردیواری میں ہی دم توڑ جاتی تھیں۔۔۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے حالات اور قسمت کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ۔
آج وہ اپنا مجرہ مکمل کر کے کنیز کے کمرے میں آگئی۔۔۔انکے پاس آکر اسے تھوڑا سکون ملتا تھا۔۔
وہ اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی تھی ۔۔وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئ۔۔
کنیز نے کچھ پڑھ کر اسکے چہرے پر پھونکا۔۔۔تو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔
جتنے بھی دم درود کر لیں ہماری قسمت کی سیاہی نہیں مٹ سکتی۔۔۔لہجہ شکست خردہ تھا۔
اسکا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو۔۔۔
اور ایک بات کبھی مت بھولنا۔۔ہم اپنی مرضی سے یہاں پر نہیں آئے۔۔ہماری قسمت ہمیں یہاں لائی ہے اور قسمت لکھنے والا وہاں اوپر بیٹھا سب دیکھ رہا ہے۔۔۔۔اور سب کو دیکھ رہا ہے۔۔۔وہ حساب کرے گا سب کا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔
بس دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم کرنے والے لوگوں کا حساب اس دنیا سے شروع ہوتا ہے یا اگلی دنیا سے۔۔
پر اتنا تو طے ہے کہ حساب ضرور ہوگا اور ہر صورت ہوگا۔۔۔اسی امید پہ ہم جیسے کتنے لوگ زندہ ہیں اور یہ امید کبھی ٹوٹنی نہیں چاہیے۔
رابیل کنیز کے چہرے پر نظریں جمائے غور سے اسے سنتی رہی۔۔۔
اور سوچتی رہی کہ اسکا چہرہ کتناپاکیزہ ہے۔۔۔اسکی سوچ کتنی پاکیزہ ہے۔۔۔ہر بار اسکی باتیں ایک نئی امید باندھ دیتی ہیں۔۔میری مایوسیوں کو مجھ پر حاوی نہیں ہونے دیتی۔
اور اگر یہ نا ہوتی تو۔۔۔میں تو کب کی اس دلدل میں دھنس کر مر گئی ہوتی ۔۔۔
کنیز دوبارہ نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی اور وہ وہی بیٹھی رہی۔
کنیز ٹھیک ہی کہتی ہے مجھے امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔۔
بلکہ انصاف کے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔۔۔کبھی نا کبھی تو اس دن کا سورج ضرور طلوع ہوگا اور اس دن انصاف کی کرنیں ہر طرف پھیل کر گناہگاروں کے جسموں کو جلا کر خاک کر دیں گی۔۔۔۔اس دن ہمیں آزادی ضرور ملے گی۔۔۔
بس انتظار کرنا ہے اس دن کے سورج کے طلوع ہونے کا….

 

Read More:  Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 15

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: