Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 11

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 11

–**–**–

 

محسن نے ساری رات جاگنے اور اور اپنے کیے پر پچھتانے میں گزار دی۔۔
اگلی صبح بخار نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ دو دن تک بستر سے نا ہل سکا۔۔
لیکن محسن نے ڈاکٹر بلال کے متعلق پورے دن کی تمام سرگرمیوں کے متعلق معلومات اکٹھی کر لی تھیں ۔
تیسرے دن صبح فجر کے بعد وہ گل بہار کے گھر کے باہر تھوڑے فاصلے پر موجود تھا۔۔۔۔
جانتا تھا کہ وہ ساڑھے آٹھ بجے اپنی بیٹی کو سکول ڈراپ کرنے جاتا ہے۔۔۔وہ اب خاموشی سے گاڑی میں اسکے باہر جانے کا انتظار کرنے لگا کہ جیسے ہی بلال گھر سے باہر جائے گا وہ گل بہار سے ملنے جائے گا۔۔۔۔۔
محسن کے پاس وقت بہت کم تھا اسے سب کچھ بہت جلدی جلدی کرنا تھا اور اس چیز نے اسکی پریشانی اور بھی بڑھا دی تھی۔۔
تقریبا دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد گیٹ کیپر نے گیٹ کھولا اوربلال اپنی گاڑی میں چھوٹی سی بچی جو سکول یونیفارم میں تھی اسکے ساتھ گیٹ سےباہر نکلا اور پھر گاڑی کو سڑ ک پر ڈال دیا۔۔
یہی صحیح موقع ہے۔۔اس نے سوچا اور پھر تیزی سے اپنی کار سٹارٹ کی اور بلال کے گھر کے باہر روک دی۔۔
کار سے اتر کر گیٹ کھٹکھٹایا تو ایک باوردی چوکیدار باہر آیا۔
جی کس سے ملنا ہے آپ کو ؟؟اس نے پوچھا۔
مجھے گل بہار سے ملنا ہے وہ یہیں رہتی ہیں نا؟؟محسن نے پرسکون لہجے میں کہا۔۔
جی رہتی تو ہیں پر آپ ہیں کون؟؟ چوکیدار نے تھوڑی حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ آج تک کوئی بھی اس انجان لڑکی سے ملنے نہیں آیا تھا۔۔۔جو پتا نہیں کہاں سے آئی تھی اور یہیں پر ٹک گئی تھی۔۔
میرا نام محسن ہے اور میں ان کا رشتہ دار ہوں۔۔۔آپ ان کو میرا نام بتائیں گے تو وہ پہچان جائیں گی۔۔۔
پھر دل میں سوچا۔۔۔پتا نہیں میرا نام سننے کے بعد مجھے کتنی گالیوں سے نوازے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ مجھ سے ملنے یا پھر ہوسکتا ہے پہچاننے سے ہی انکار کر دے۔۔۔۔اچھا ہے مجھ جیسا گھٹیا انسان یہی ڈیزرو کرتا ہے۔۔
جی آپ یہیں رکیں میں ان سے پوچھتا ہوں۔۔۔ اس نے اندر جا کر انٹرکام پر گل بہار سے پوچھا۔۔۔
بی بی جی آپ سے کوئی محسن صاحب ملنے آئےہیں اور وہ کہتے ہیں کہ آپکے رشتہ دار ہیں۔۔۔کیا انہیں اندر بھیج دوں۔۔
گل بہار کی تو جیسے سانس ہی اٹک گئی۔۔۔ محسن کیا یہ وہی محسن ہے سکندر کا دوست۔۔۔۔اور درد کی ایک شدید لہر اسکے پورے وجود میں دوڑ گئی۔
بی بی جی کیا انہیں بھیج دوں؟؟چوکیدار کے دوبارہ پوچھنے پر وہ جیسے ہوش میں آئی۔۔
اگر منع کر دیا تو ہوسکتا ہے وہ یہاں پر سب کے سامنے کوئی تماشا کردے اور میری عزت کی ایک بار پھر دھجیاں بکھیر دے۔۔۔۔۔۔تو بہتر ہے کہ میں اس سے مل لوں۔۔۔۔تاکہ وہ جو بھی کہے وہ مجھ سے کہے۔۔
یہی سوچتے ہوئے آخر کار اسے نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔جی جی بھیج دیں۔۔
جائیں آپ اندر بی بی جی آپ کو بلا رہی ہیں۔۔۔چوکیدار نے کہا تو بے اختیار اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔جسے اس نے فورا کنٹرول کیا کہ اگر چوکیدار دیکھ لیتا تو پتا نہیں کیا کیا سوچتا۔
اندر ہی اندر وہ شدید شرمندگی سے بھی دوچار تھا۔۔۔آخر اس نے کیا بھی تو ایسا ہی تھا اور اب اس لڑکی کا سامنا کتنا مشکل ہوگا یہی سوچ کر ہی وہ آج صبح سے اسکے گھر کے باہر کھڑا اپنی ساری ہمت جمع کرتا رہا۔۔
گل بہار اسے لان میں ہی پریشانی سے ٹہلتی نظر آگئی اور اس نے قدم اسی طرف بڑھا دیئے۔
اس کے قریب پہنچ کر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔دوسال گزر چکے تھے۔۔۔
گل بہار آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی اور اسکی سادگی بھی پہلےجیسی ہی تھی۔۔لیمن کلر کے فراک اور چوڑی دار پاجامہ اور ایک بڑا سا دوپٹہ جو اس نے شانوں پر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔۔کسی بھی قسم کی جیولری اور میک اپ کے بغیر بھی وہ بلاشبہ کوئی بھی بیوٹی کونٹسٹ بڑی آسانی سے جیت سکتی ہے۔۔۔محسن اس کا بغور جائزہ لیتا رہا۔۔۔ہر بار وہ اس میں کھو سا جاتا ہے پتا نہیں کیوں؟؟اس نے سر جھٹکا۔
گل بہار نے صرف ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔۔۔ اس میں آج بھی کچھ نہیں بدلا بلکل ویسے کا ویسے ہی ہے۔۔۔۔اندر کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی کہ اب اس شخص کو مجھ سے کیا چاہیے۔۔۔۔سب کچھ تو قربان کر چکی ہوں۔۔۔اب تو میرے پاس میری اپنی ذات بھی نہیں۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد محسن نے سلسلہ کلام کا آغاز کیا۔
اسلام علیکم!کیسی ہیں آپ گل بہار؟؟
شاید آپ کو یہ جان کر افسوس ہوگا مسٹر محسن کہ میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔
نظریں محسن کے چہرے پر جمائے ہوئے جواب دیا۔۔
آپ ٹھیک ہیں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی۔۔۔ محسن نے مسکرا کر کہا
اچھا واقعی۔۔۔اس نے مصنوعی حیرت سے کہا۔آپ مجھے بتائیں کہ یہاں کس لیے آئیں ہیں ؟ظاہر ہے میری خیریت معلوم کرنے تو نہیں آئے ہوں گے؟؟اورمجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ آپ یہاں آئے ہی کیوں ہیں جب سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہوگیا ہے تو؟
وہ غصے سے کہہ رہی تھی اور اس نے باتوں باتوں میں وہ بات کہہ دی تھی جسکا محسن کو یقین تھا۔۔۔۔ایک ہلکی سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئی اور دل باغ باغ ہو گیا۔۔۔
آپ نے سچ کہا میں یہاں آپکی خیریت معلوم کرنے کی غرض سے نہیں آیا ہم دونوں کے درمیان ایک ہی مشترک چیز ہے اور وہ ہے سکندر ۔۔
سکندر ہم دونوں کے درمیان مشترک نہیں ہے۔۔۔آپ ماضی کی باتیں ماضی میں ہی رہنے دیں۔۔۔۔اب ہم دونوں اس ماضی سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔۔۔۔گل بہار نے کہہ کر رخ پھیر لیا ۔۔۔۔ دل کے زخم پھر سے ہرے ہو رہے تھے۔
ہم دونوں اچھا واقعی ؟؟کس کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے آپ دونوں نے؟؟؟
وہ پاگل عاشق ہر وقت آپ کے عشق میں جل رہا ہے روز جیتا ہے اور روز مرتا ہے خود کو بڑا مضبوط ظاہر کرتا ہے مگر اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر رہا ہے۔۔۔
اور آپ؟ آپ بھی تو وہیں کھڑی ہیں۔۔۔۔تو دونوں کہاں آگے بڑھے ۔۔۔۔۔صرف وقت بڑھا ہے درد بڑھا ہے تکلیف بڑھی ہے باقی سب تو دوسال پہلے والے مقام پر ہی ہے۔۔
گل بہار نے بڑی مشکل سے اپنے بہتے آنسو صاف کیے اور پھر خود پر قابو پاتی ہوئی اسکی طرف پلٹی۔۔
ہم دونوں ہی اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ چکے ہیں۔۔۔۔
میں بلال کی بیوی ہوں اور میرا سکندر سے کوئی واسطہ نہیں۔
اور سکندر بھی۔۔۔وہ ابھی کچھ بولتی محسن بول پڑا۔
مگر سکندر وہیں کا وہیں کھڑا ہے جہاں آپ نے اسے چھوڑا تھا۔۔۔ محسن نے اسے یقین دلانا چاہا۔۔
ہا ہا اچھا واقعی۔۔۔وہ ہنسی اور اس ہنسی میں چھپا درد بھی کہیں نا کہیں واضح ہوا۔۔۔۔
واقعی محسن صاحب۔۔۔۔ وہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔۔۔کسے بیوقوف بنا رہے ہیں۔۔۔ظاہر ہے مجھے ہی بنا رہے ہیں۔۔۔مجھ جیسی عورت کے ساتھ ہی تو آپ ہر طرح کا سلوک کرنا جائز سمجھتے ہیں۔۔
پلیز ایسا مت کہیں میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔۔۔۔آپ مجھے معاف کر دیں اور ۔۔
بس کر دیں اپنی یہ ڈرامہ بازی یہ کھیل اب آپ دونوں کسی اور کے ساتھ کھیلیے گا میرے ساتھ نہیں۔۔۔اس نے ہاتھ اٹھا کر محسن کو خاموش کروا دیا۔
کونسا کھیل کس کھیل کی بات کر رہی ہیں؟؟۔۔۔ہم آپ کے ساتھ کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔۔۔میں دل سے آپ کی عزت کرتا ہوں اور آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں اور یہ بتانے آیا ہوں کہ سکندر آپ سے بےپناہ محبت کرتا ہے۔۔۔
محسن چیخ چیخ کر ساری سچائی بتا رہا تھا مگر کبھی کبھی ہر سچ جھوٹ ہی لگتا ہے۔۔۔دوسرے کے سامنے آپ کے لفظ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔آپ کے کہے گزشتہ الفاظ اور رویے کبھی کبھی اتنے گہرے نقش چھوڑ جاتے ہیں کہ پھر چاہے کوئی کتنی ہی معافی مانگے کتنا ہی گڑ گڑائے کتنا بھی روئے وہ نقش کبھی نہیں مٹتے کبھی بھی نہیں۔۔
وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتی اندر کی طرف بڑھ گئی اور تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ میں ایک کارڈ لیے واپس آئی اور پوری قوت کے ساتھ وہ کارڈ اسکے منہ پر دے مارا۔۔
وہ شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھے گیا۔۔۔۔گل بہار کی آنکھوں سے انگارے برس رہے تھے۔۔۔۔
اس نے فورا وہ کارڈ تھاما۔۔۔۔۔اور اسے دیکھنے لگا۔۔۔
گل بہار فورا واپس مڑ گئی اور وہ اسکی پشت کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔
محسن نے جب کارڈ کھولا تو ایک دم سے چکراکر رہ گیا۔۔۔۔
یہ یہ سب اتنی جلدی۔۔۔اوہ میرے خدا تبھی وہ ہم دونوں کو ایسا سمجھ رہی ہے۔۔۔
کارڈ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر وہیں لان میں گر گیا۔۔
جس پر سکندر اور آمنہ کا نام لکھا تھا۔۔شادی کی تاریخ اسی ماہ کی بیس تاریخ تھی۔۔
مہندی مایوں ابٹن نکاح ہر ایک فنگشن کی ڈیٹیل درج تھی۔۔
اس مہینے کی بیس مطلب اگلے ہفتے۔۔
اوہ میرے خدایا یہ کیا کیا تم نے سکندر۔۔۔۔اس نےنے دونوں ہاتھوں سےاپنا سر پکڑ لیا۔۔
اور پھر وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا سب کچھ اسکی آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہا تھا یا شاید ہوچکا تھا کاش وہ واپس اس وقت کو لاسکتا کاش اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دوست کی خوشیوں کو آگ نا لگائی ہوتی۔۔۔۔۔اسے اتنی بڑی تکلیف نہ پہنچائی ہوتی۔۔۔
کاش وہ اس حد تک نا گرتا گل بہار پر اتنا بڑا بہتان نا لگاتا کہ آج بار بار معافی مانگنے پر بھی اسے معافی نہیں مل رہی۔۔۔۔اسکی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جارہا۔۔۔۔ وقت نے اسے کس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں۔۔۔۔اور وہ خاموش تماشائی بنا صرف دیکھ رہا ہے۔۔
اس کے ذہن میں سورہ الاحزاب کی ایک آیت کا ترجمہ گونجا جو اس نے اپنی امی سے سنا تھا۔۔
” اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کابوجھ اپنے سر پر اٹھایا “
اور محسن کو لگا کہ اس نے اپنے اوپر ایک بھاری بوجھ لاد لیا ہے اور اگر گل بہار اور سکندر نے اسے معاف نا کیا تو وہ اس بوجھ کے نیچے دب کر مر جائے گا اور شاید ا یک بار نہیں بار بار۔۔
___________
محسن کو وہیں لان میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں آ گںئ۔
اسے یوں لگا جیسے دل درد سے پھٹ جائے گا۔۔۔۔۔آنکھوں سے آنسووں کی برسات جاری تھی۔۔
اسے رہ کر رہ محسن اور سکندر پر غصہ آرہا تھا۔۔۔ان دونوں نے اسے سمجھ کیا رکھا ہے۔۔۔۔ جب جس کا جو دل کرتا ہے آتا ہے اور کہہ کر چلا جاتا ہے۔۔
جانتی ہوں ان جتنی عزت مند اور غیرت مند خاندان سے نہیں ہوں۔۔۔مانتی ہوں کہ ان جتنی دولت نہیں ہے میرےپاس۔۔۔
تو کیا جب ان کا دل کرے گا آکر مجھے ذلیل کرجائیں گے۔۔۔۔کیوں آخر کیوں؟؟
وہ بہتے آنسووں کے ساتھ سوچے جارہی تھی اور اس کے ذہن کے پردے پر گزشتہ تین دن کی داستان چلنے لگی۔۔۔
تین دن پہلے شام کو سکندر گھر آیا تو بلال نے بہت خوشی سے اس کا استقبال کیا اور اسے لیکر ڈرائینگ روم میں آگیا۔۔۔
گل بہار ڈرائینگ روم کےآگے سے گزر رہی تھی تو بلال نے اسے کہا کہ اندر آجائے تاکہ سکندر سے مل لے۔۔۔۔۔ پارٹی والے دن بھی دونوں کی کوئی خاص ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
سکندر سے بلال کو عجیب قسم کا لگاو ہو گیا تھا اور وہ اسے اپنا اپنا سا لگتا تھا۔۔۔۔
اس لیے گل بہار کو اس سے ملوانے میں اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔
اور گل بہار بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتی اندر آئی اور ہیلو کہہ کر خاموشی سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔۔کیونکہ وہ بلال کو کسی صورت انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
سکندر نے بھی جواب میں ہیلو کہا۔۔۔۔۔ اور پھر فورا سے نظریں پھیر لیں۔۔
گل بہار کو نا جانے کیوں اس وقت لگا کہ سکندر کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔چہرے کی رونق مانند پڑ گئی ہے۔۔۔۔۔ کیا یہ آج بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی پہلے کرتا تھا۔۔۔۔کیا یہ یہاں دوبارہ میری وجہ سے آیا ہے۔۔۔
گل بہار سکندر پر سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی پر دل نے انکار کر دیا اور ضد پکڑ لی کہ نہیں یہ نظریں تو آج اسی کا طواف کریں گی۔۔۔۔چاہے جو بھی ہو جائے۔۔
نوکر کو چائے کا کہہ کر بلال نے گفتگو کا آغاز کیا تو وہ ایک دم سے جیسے ہوش میں آئی۔۔
تم آج یہاں کا راستہ کیسے بھول گئے سکندر۔۔۔۔مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا۔۔۔۔بلال خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
بس انسان کبھی کبھی بھول کر ایسی جگہ پر آجاتا ہے جہاں پر نہ آنے کی قسم کھا چکا ہوتا ہے۔۔۔۔ سکندر نے کہا تو بلال نے ایک دم سے حیرانگی سے کہا۔۔
ارے کیوں بھئی۔۔۔یہاں نا آنے کی قسم کیوں کھا رکھی تھی۔۔۔۔ہماری مہمان نوازی پسند نہیں آئی یا پھر ہم؟
دونوں ایک دوسرے کی طرف متوجہ تھے تبھی گل بہار کے چہرے کے رنگ نہیں دیکھ پائے اور نا ہی اسکی گھبراہٹ محسوس کر سکے۔۔۔۔۔جو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ نا جانے سکندر اب کیا کہے گا۔۔۔
سکندر نے ایک نظر گل بہار پر ڈالی اور سوچا کہ میں تم جتنا گرا ہوا نہیں ہوں جو تمہیں تمہارے ہی گھر میں ذلیل کر دے۔۔۔۔ اور واپس بلال کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔ اور گل بہار کو یوں لگا جیسے اس کا سارا خون خشک ہو گیا ہو۔۔۔
ارے نہیں بس ویسے ہی کہہ رہا تھا۔۔۔۔دراصل میں آپ دونوں کو اپنی شادی میں انوائیٹ کرنے آیا ہوں۔۔
کہہ کر گل بہار کو دیکھا تو وہ بغیر کوئی تاثر لیے بیٹھی تھی اوریہ بات صرف گل بہار ہی جانتی تھی کہ اس وقت اس کے دل کی کیا حالت تھی۔۔
“سکندر تم نے بھی وہی کیا نا جو تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو کرتا۔۔۔۔ محبت محبت کا راگ الاپ کر کسی اور کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔۔ تم نے آخر میرے اندازے کو میری سوچ کو صحیح ثابت کر دیا”۔۔۔۔ وہ اپنے آنسووں کو روکے وہیں بیٹھی رہی ایک زندہ لاش کی طرح۔۔۔
بلال نے اٹھ کر سکندر کو گلے سے لگایا اور ڈھیروں مبارکباد دی۔۔۔
ہم ضرور آئیں گے سکندر ۔۔۔۔
ضرور آئیے گا میں ہر فنگنشن پر آپکا بےچینی سے انتظار کروں گا۔۔۔۔اور اکیلے مت آئیے گا مسسز کوبھی ساتھ لائیے گا۔۔
بلال کو بھی یہ سن کر حیرت ہوئی پر اس نے سکندر کی غلط فہمی دور نہیں کی۔۔۔وہ بھی تو یہی چاہ رہا تھا۔۔
پر مسسز کا سن کر گل بہار کو ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔تو کیا یہ مجھے بلال کی بیوی سمجھ رہا ہے ۔۔۔۔ اوہ میرے خدایا۔۔۔ میں تمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی سکندر تو تمہارے علاوہ کسی اور کا نام اپنے نام کے ساتھ کیسے جوڑ سکتی ہوں؟؟؟ دکھ اور تکلیف بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
بلال کا موبائیل بجا تو وہ ایکسکیوز کرتا وہاں سے باہر نکل گیا۔۔گل بہار بھی اب مزید اپنے آنسووں کو روک نہیں پا رہی تھی تو اٹھ کر جانے لگی۔۔
سکندر نے ایک دم کھڑے ہوکر اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو وہ اسکی حرکت پہ حیران رہ گئی۔۔
سکندر نے ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا کارڈ زور سے گل بہار کے منہ پر دے مارا۔۔۔۔آنکھوں میں شدید غصہ اور نفرت تھی پر آواز کو ہلکا رکھتے ہوئے کہا کہ کہیں بلال نا سن لے۔۔
یہ میری شادی کا کارڈ ہے ایک بہت ہی شریف خاندان اور اعلی نسل کی لڑکی سے شادی کر رہاہوں۔۔۔بہت محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔سکندر کی گرفت اور بھی مضبوط ہوتی جارہی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے۔۔
چلو اچھا ہی ہوا کہ اسے میری شادی کی غلط فہمی ہے اور ویسے بھی بھلا یہ مجھ جیسی لڑکی کہان ڈیزرو کرتا تھا۔ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔وہ سوچ رہی تھی۔۔
اور سکندراسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔بہت خوش رہوں گا میں اسکے ساتھ۔۔سکندر نے جیسے خود کو تسلی دینے کے لیے کہا تھا۔۔۔میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ تم جیسی عورت سے میرا کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔جو پہلے میرے ساتھ اور اب اس بچارے کے ساتھ اور آگے پتا نہیں کس کس کے ساتھ۔۔۔۔۔گل بہار کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہوجائے۔۔۔
ایک دم سے سکندر نے اسکا بازو چھوڑا تو وہ صوفے پر گرگئی۔۔۔
ہر فنگشن میں تمہیں آنا ہے اور ہر صورت آنا ہے۔۔۔ورنہ تمہاری اصلیت میں سب کو بتا دوں گا۔۔۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔سکندر نے انگلی دکھاتے ہوئے تنبیہہ کی۔۔
اور پھر تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
آخر اب خود اپنی خوشیوں کی قبر پر ۔۔اسکی بےوفائی پر ۔۔۔ اور اپنی بربادی پر بھی تو آنسو بہانے تھے۔۔
تیزی سے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور فل سپیڈ سے گاڑی سڑک پر ڈال دی۔۔آنسووں نے اسکے گالوں کو بھگونا شروع کردیا ۔۔
جن سے محبت کی جاتی یے ان کو ہر دکھ اور تکلیف سے بچایا جاتا ہے اور میں تو خود اسکو نا چاہتے ہوئے بھی تکلیف دے آیا ہوں۔۔
میں کیوں یہ چاہتا ہوں کہ جس آگ میں میں جل رہا ہوں وہ بھی جلے۔۔۔۔جتنا میں تڑپ رہا ہوں وہ بھی تڑپے۔۔۔۔۔۔جتنا میں رویا ہوں وہ بھی روئے۔
پر میں ایسا کیوں چاہتا ہوں سب کچھ جانتے ہوئے بھی۔۔۔
اس نے سوچ کرغصے سےایک ہاتھ سٹیرنگ پر مارا ۔۔۔۔
کیوں آخر کیوں نہیں نکل جاتی میرے دل و دماغ سے ۔۔۔کیوں آزاد نہیں کر دیتی ہو مجھے کیوں؟؟یونہی اپنی سوچ سے لڑتے گاڑی ایک جگہ روک کر سر سٹیرنگ پر ٹکا لیا۔۔
_______________
اگلےدن گل بہار کا سر ساری رات رونے کی وجہ سے درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ بڑی مشکل سے رانیہ کو ہوم ورک کروا رہی تھی تاکہ اسکا ذہن بٹ جائے۔۔
گل بہار،بلال اور رانیہ تینوں ہال میں موجود تھے۔۔۔
گل بہار اور بلال چائے پی رہے تھے اور گل بہار چائے پینے کے ساتھ ساتھ رانیہ کو ہوم ورک بھی کروا رہی تھی۔۔
چلو رانیہ بیٹا آپ کا ہوم ورک تو کمپلیٹ ہوگیا اب اپنی ساری چیزیں سمیٹو اور روم میں رکھ آو۔۔۔ گل بہار نے کہا
اوکے ماما۔۔۔وہ اپنی ساری چیزیں سمیٹتی اپنے کمرے کر طرف چلی گئی۔۔
گل بہار بھی وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تو بلال نے فورا کہا۔۔۔
مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔پلیز بیٹھیں۔
گل بہار بیٹھ گئی اور بلال کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔جی کہیے۔۔
وہ دارصل بات یہ ہے کہ بلال نے بڑی ہمت مجتمع کی اور پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔
دراصل بات یہ ہے کہ دیکھیں آپ مجھے بلکل بھی غلط مت سمجھئے گا اور آپ کو پورا اختیار یے فیصلہ کرنے کا۔۔۔۔کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں یے۔۔
گل بہار کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بلال کیا کہنا چاہتا ہے اس لیے بولی۔۔۔
آپ کھل کر کہیں جو بھی کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ میں سن رہی ہوں۔
گل بہار میں آپ سے ۔۔۔ وہ اصل میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
یہ سن کر وہ ایک دم شاک سے کھڑی ہوگئی۔
تو اس کے ساتھ وہ بھی ایک دم سے کھڑا ہوگیا۔۔۔
بلال نے وضاحت دینی شروع کی۔۔
دیکھیں گل بہار یہ صرف میری خواہش ہے اگر آپ کو میری بات بری لگی ہو تو آئی ایم سوری اور میں آئیندہ اس بارے میں کبھی بات نہیں کروں گا۔۔
گل بہار حیران پریشان سی کھڑی بس بلال کو دیکھے جارہی تھی اسکی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ بلال نے اس سے یوں اچانک ایسی بات کیوں کہہ دی۔۔۔سب جانتے ہوئے بھی۔۔۔۔کیا پھر سے کوئی نیا امتحان میرا منتظر ہے؟؟لیکن میرے اندر اب ہمت ختم ہوچکی ہے۔۔
بلال نے کچھ دیر گل بہار کے بولنے کا انتظار کیا پر وہاں مکمل خاموشی تھی۔۔۔پھر خود ہی پوچھا۔۔
گل بہار آپ ایسے کیوں کھڑی ہیں پلیز کچھ تو بولیں ۔۔۔ مجھے فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔
بلال کو اندر ہی اندر شدید گھبراہٹ ہو رہی تھی کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔۔۔
گل بہار کو اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔ “مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔”۔۔بس اتنا ہی کہہ کر اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ گئی۔۔۔۔ چہرے کے رنگ اڑ چکے تھے اور دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔
کمرے میں آکر اس نے دروازہ بند کیا اور اسی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی رہی۔۔۔رکے ہوئے آنسو پھر سے بہنا شروع ہوگئے۔۔
اس نے شدت سے خواہش کی تھی کہ کوئی اپنا ہوتا جس کے کندھے پر سر رکھ کر رو سکتی۔۔۔جس کو اپنا ہر دکھ بتا سکتی۔۔۔ کوئی تو ہوتا جو اسے دنیا والوں کی نظروں بچا کر اپنے اندر چھپا لیتا۔۔۔۔کاش کوئی تو ہوتا۔۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی پچھلے تین دنوں کی داستان سوچ رہی تھی۔۔۔پہلے سکندر پھر بلال اور اب محسن کی یہ باتیں۔۔۔
زندگی میں نا جانے اور کیا کیا دیکھنا باقی ہے۔۔۔ آنسو بھی ساتھ ساتھ جاری تھے ان کا ساتھ تو ازل سے ابد تک کا ہے۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: