Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 12

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 12

–**–**–

 

سبز اور پیلے رنگوں سے بنے ایک خوبصورت فراک اسکے ساتھ چوڑی دار پاجامہ اور لمبا سا دوپٹہ جو کندھوں پر اچھی طرح پھیلایا ہوا تھا ہاتھوں میں بھی انہی دو رنگوں کی چوڑیاں اور باقی جیولری کے ساتھ ساتھ ہیل کی ٹک ٹک کرتی آواز کےساتھ گاڑی تک پہنچی جہاں بلال اور رانیہ اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
دونوں کی نظریں گل بہار پر جم گئیں۔۔
واو ماما یو آر لکنگ سو بیوٹی فل۔۔۔رانیہ نے خوش ہو کر پرجوش آواز میں کہا
تھینکیو سویٹ ہارٹ۔۔۔ گل بہار نے آگے بڑھ کر اسکے گالوں کو تھپتھپایا ۔۔۔رانیہ بھی اسی قسم کی ڈریس پہنے ہوئے بلکل تیار تھی۔۔
بلال کی نظر جم سی گئیں تھی پھر جب ہوش آیا تو رانیہ اور گل بہار گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں۔۔
یہ مجھے گل بہار کو دیکھ کر کیا ہو جاتا ہے۔۔۔اس نے ہلکی سے مسکراہٹ سے سوچا۔۔
پاپا چلیں نا۔۔
آرہا ہوں بیٹا ۔۔۔ خود کو نارمل رکھتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔ساتھ ہی گل بہار بیٹھی تھی اور اسکے پرفیوم کی خوشبو اسکی سانسوں میں گھل مل رہی تھی۔۔
ماما میری چوائس اچھی ہے نا؟؟رانیہ نے گل بہار کے لیے شادی کی ساری شاپنگ خود کی تھی اور اب وہ اپنی تعریف سننا چاہتی تھی۔۔
جی جان۔۔۔۔۔ہر چیز بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ کچھ لائیں اور مجھے پسند نا آئے۔۔۔۔ہمم۔۔
گل بہار پیسنجر سیٹ پر بیٹھی رانیہ کی طرف پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
اور اپنی تعریف سن کر وہ خوشی سے مسکرانے لگی۔۔
بلال کو ایک بار پھر اسی سوچ نے گھیر لیا جس میں وہ تب سے تھا جب سے اس نے گل بہار کو پرپوز کیا تھا ۔۔اور گل بہار کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔۔۔۔اسے بار بار یہی خیال آتا کہ اگر اس نے انکار کر دیاتو۔
پاپا ہم سکندر انکل کے گھر کیوں جارہے ہیں۔۔۔ میں تو ان کو جانتی بھی نہیں ہوں۔۔۔بس ایک بار دیکھا تھا۔۔۔رانیہ نے پوچھاتو وہ اپنی سوچ سے باہر نکلا۔
اس لیے کیوں کہ وہ آپ کے پاپا کے دوست ہیں۔۔اورآپ دونوں اس لیے میرے ساتھ جارہی ہیں کیونکہ اس نے بہت انسسٹ کیا ہے صبح سے دس بار کال کر چکا ہے اور اب میں انکار تو نہیں کرسکتا تھا نا مائی پرنسس
اوہ۔۔۔پھر۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔رانیہ مطمئن سی ہوکر بیٹھ گئ۔۔اور آئی پوڈ پر گیم کھیلنے لگی۔۔۔
بلال ڈارئیو کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ گل بہار کو بھی دیکھ رہا تھا جو ونڈو سے باہر دیکھنے میں مگم تھی۔
گل بہار پھر سے سکندر کی یادوں میں قید ہوگئ اور اسکی باتوں کو یاد کرنے لگی۔۔۔
گل بہار کو سکندر کی کہی ہوئی وہ بات یاد آگئی۔۔۔۔ جب اس نے کہا تھا کہ
“اگر تم نہیں آو گی تو میں تمہاری اصلیت ساری دنیا کو بتا دوں گا تمہیں ہر حال میں آنا ہے”
اگر میں نہیں جاوں گی تو وہ سب کو میری اصلیت بتا دے گا۔۔۔پر اب میں جا تو رہی ہوں۔۔پر میرے آنے کی وجہ یہ نہیں ہے سکندر۔۔
وہ گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔
میں تمہاری محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہاری شادی میں آ رہی ہوں۔۔۔ شاید بے انتہا محبت سے مجبور ہوکر ۔۔۔
پتا نہیں یہ محبت کیوں ہو جاتی ہے۔۔۔میں تو اس لفظ کے معنی سے بھی ناواقف تھی۔۔۔میرے نزدیک تو محبت کے وہ معنی تھے جو مجھے رابیل نے بتائے تھے پر سکندر تم نے میرے اندر پیار کا بیج بو دیا اور آج دو سال بعد وہ ایک قد آور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اسکی جڑیں میرے جسم میں میری ہر ایک نس تک پھیل چکی ہیں۔۔۔اور میں چاہ کر بھی ان سے آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔۔
دل کی حالت نا قابل برداشت تھی۔۔۔آنسو مسلسل دل پر وار کررہے تھے۔۔۔۔۔۔وہ یونہی باہر دیکھتی سوچتی رہی۔۔
آج میں نے خود کو کتنی مشکل سے اکٹھا کیا ہے اس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے سکندر۔۔
مجھے لگتا ہے جیسے میرا دل درد سے پھٹ جائے گا ۔۔۔ یہ سوچنا ہی کتنا اذیت ناک ہے کہ تم کسی اور کے ہونے جارہے ہو۔۔۔ تم کسی اور کے ساتھ۔۔۔ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر گرا جسے اس نے فورا صاف کر لیا۔۔۔۔آنکھیں البتہ سرخ ہو چکی تھیں۔۔۔۔
وہ خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔پر ہر کوشش اس درد کے سامنے بے کار تھی۔۔
پر مجھے یہ سب دیکھنا ہوگا سب برداشت کرنا ہوگا تمہاری خوشی کے لیے۔۔۔
تم ایک عزت دار لڑکی سے شادی کر رہے ہو جو تم سے بہت محبت کرتی ہے وہ ہمیشہ تمہیں خوش رکھے گی اور میں بھلا تمہیں کیا دے سکتی تھی سوائے ذلت و رسوائی کے۔۔
سچ ہی تو ہے بھلا مخمل میں کبھی ٹاٹ کا پیوند کہاں لگا کرتا ہے سکندر ۔۔۔ تم اس وقت یہ بات نہیں سمجھ سکتے تھے ۔۔ پر۔۔۔ اب تم سمجھ چکے ہو ۔۔۔۔ مجھے بھول چکے ہو اور آگے بڑھ چکے ہو۔۔۔۔یہی میرا انعام ہے جو میں نے خود کو گرا کر پایا ہے اور میری سب سے بڑی خوشی بھی۔۔۔
ایک زخمی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئی
بلال گاڑی سکندر کے عالیشان محل کے اندر لے گیا۔۔۔۔پورے محل کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔۔ہر طرف رنگ برنگی روشنیاں پھولوں کی سجاوٹ اور کانوں کے پردے کو پھاڑ دینے کی حد تک اونچا اسٹیج کے ایک طرف میوزک کا انتظام کیا ہوا تھا جہاں ڈی جے مختلف قسم کا میوزک پلے کر کے اپنی مہارت دکھا رہا تھا۔
کھانے پینے کا بھی بھرپور انتظام کیا گیا تھا۔
اسٹیج ابھی تک خالی تھا۔۔مطلب مہندی کافنگشن ابھی تک شروع نہیں ہوا تھا۔۔۔
ہر طرف لوگوں کا ہجوم ناچتے گاتے قہقے لوگ نظر آرہے تھے ۔۔
پاپا سکندر انکل پرنس ہیں کیا؟وہ تینوں اب لان میں کھڑے سارے مہمانوں کی طرف آرہے تھے جب رانیہ نے پوچھا۔۔
بلال نے تھوڑی حیرت سے رانیہ کو دیکھا جو ہر چیز کو حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔
پھر رانیہ کی بات کا جواب دیا۔۔۔۔”نہیں تو وہ پرنس نہیں ہیں میری پرنسس”
ہمم۔۔مجھے لگا شاید وہ پرنس ہیں۔۔۔۔یہ تو بلکل ایک محل کی طرح ہے ۔۔۔ہے نا پاپا؟؟اس نے اپنی بات کی تصیدق چاہی
ہاں بلکل واقعی میں نے آج تک اتنا خوبصورت سیٹ اپ کہیں نہیں دیکھا۔۔۔۔۔آپ کیا کہتی ہیں گل بہار؟
اور گل بہار اپنے نام پر چونکی جو مسلسل نظریں جھکائے چلتی جارہی تھی۔۔
جی کیا؟
بلال نے مسکرا کر کہا۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔آئیں وہاں چلتے ہیں۔۔۔شاید سکندر بھی ادھر ہی ہے۔۔
اور وہ بس سر ہلا کر ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔۔
سکندر انہیں وہاں کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔تو وہ تینوں ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔۔اور اردگرد کا نظارہ کرنے لگے۔۔۔۔۔۔ویٹر انہیں مختلف چیزیں سرو کرتے رہے۔
کچھ دیر کے بعد بلال کو کوئی جان پہچان والا نظر آیا تو گل بہار کو کہہ کر ان سے ملنے چلا گیا۔
رانیہ بھی بچوں کےساتھ کھیلنے میں مصرف ہوگئی۔
وہ اکیلی اس ٹیبل پر بیٹھی تھی۔۔
گل بہار کو شدید گھٹن محسوس ہورہی تھی وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی رونا چاہتی تھی پر وہ خاموشی سے اس ماحول کا نا چاہتے ہوئے بھی حصہ بنی رہی۔۔
اسے اس وقت کسی سہارے کی تلاش تھی پر کوئی نہیں تھا جو اس کے درد کو سمجھ سکتا۔۔۔۔اس وقت اسے کنیز کی شدت سے یاد آئی۔۔۔آج اتنے عرصے کے بعد اس نے وہ لاکٹ اپنے گلے میں پہنا ہوا تھا جس پر کنیز کالمس تھا۔۔۔وہ گلے میں پہنے اس لاکٹ کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھی رہی اسے لگا جیسے اس نے کنیزکا ہاتھ تھاما ہوا ہو۔
_______________
سکندر تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے۔۔۔وہ کمرے میں بیٹھا ایک کے بعد ایک سگرٹ سلگا رہا تھا اور محسن پچھلے ایک گھنٹے سے اسے تیار ہونے کو کہہ رہا تھا پر وہ تو ایسے بیٹھا تھا جیسے سنا ہی نا ہو۔۔
سکندر اگر تم نے یہی سب کرنا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی یہ سارا تماشا لگانے کی۔۔۔۔بےتہاشا پیسا برباد کرنے کی۔۔۔۔تمہیں کتنا سمجھایا کتنی منتیں کی پر تم نے میری ایک نہیں سنی۔
وہ یونہی بیٹھا سگرٹ کا دھواں اڑاتا رہا ۔
محسن نے اسے پھر سے سمجھانے کی کوشش کی۔۔
دیکھو سارا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے سکندر تم اب اس طرح نہیں کرسکتے۔۔
سکندر ایک دم سے کھڑا ہوا اور شکست خردہ لہجے میں کہنا شروع کر کیا۔۔
محسن میں کیا کروں میں اسے نہیں بھول پا رہا ہوں ۔۔۔۔اس بےوفا کو نہیں بھول پا رہا ہوں۔۔۔آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہی نظر آتی ہے کھولتا ہوں تو وہی نظر آتی ہے ۔۔۔۔تم نہیں سمجھ سکتے میں کس اذیت میں ہوں کس آگ میں جل رہا ہوں۔۔۔۔میں ہمت نہیں کر پا رہا ہوں کسی اور کو وہ جگہ دینے کی جو اس کے نام کر چکا تھا آج بھی میرے دل دماغ میری روح پر صرف اسی کا نام ہے میں کس طرح اسے ان سب سے نکالوں کس طرح۔۔
وہ اب محسن کے گلے لگ کر پوچھ رہا تھا۔۔
کس طرح اسے ان سب سے نکال کر آمنہ کا نام لکھوں۔۔
۔کسطرح۔۔
اسکے آنسووں نے محسن کے کندھوں کو بھگونا شروع کردیا۔۔
محسن کا دل چاہا کہ وہ اپنے آپ کو پھانسی پر لٹا دے اسکے جرم کی یہی سزا ہونی چاہیے۔۔۔۔وہ سب کچھ سکندر کو بتا دے پر اس سب کے بعد سکندر کی تکلیف اور بھی بڑھ جائے گی۔۔۔
وہ خود بھی اسے ساتھ لگائے رونے لگا۔۔۔۔بہت کچھ کہنا چاہتا تھا پر ہمت نہیں کر پایا اور صرف سوچ کر ہی رہ گیا
جب اسے پتا چلے گا کہ گل بہار نے وہ سب کچھ میری وجہ سے کیا وہ بےگناہ ہے تو وہ مجھ سے تو نفرت کرے گا ہی اور واپس گل بہار کی طرف جانا چاہے گا مگر پھر بھی اسے مایوسی ہی ہوگی کیونکہ وہ تو کسی اور کی ہوچکی ہے۔۔۔اورسکندر پھر اسی مقام پر پہنچ جائے گا۔۔۔یااللہ میں نے کیا کردیا۔۔۔۔۔کیا مجھے میرا اللہ اور یہ دونوں کبھی معاف کریں گے؟شاید کبھی نہیں۔۔۔میں ہمیشہ اس بوجھ کو اٹھائے ہر روز جیوں گا اور مروں گا۔۔۔۔نا اس دنیا میں سکون ملے گا نا اگلی نا دنیا میں ۔۔۔۔یہی میرے بہتان کی سزا ہے۔۔۔۔ یہی میری سزا ہے۔۔۔۔ کاش میں وقت کو بدل سکتا۔۔۔میں اس سب کو بدل سکتا۔۔۔۔میں اپنے دوست کی خوشیاں واپس لاسکتا۔۔۔۔کاش ایسا ہوسکتا۔۔
__________
جلدی کرو آمنہ دیر ہو رہی ہے اب اس موبائیل کی جان چھوڑ بھی دو۔۔
امی دو منٹ رک جائیں دیکھ تو رہی ہیں کہ میں بات کر رہی ہوں۔۔
پتا نہیں یہ لڑکی کب سدھرے گی۔۔۔ سکندر کی تائی جان نے ایک لمحہ آمنہ کو دیکھا جو مہندی کا جوڑا پہنے کھڑی تھی۔۔۔ کسی بھی قسم کا شرم وحیا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔
کہیں سے بھی لگتا ہے کہ اس کی آج مہندی ہے۔۔۔دل میں سوچا۔۔۔
انہوں نے غصے سے اسے ایک بار پھر موبائیل رکھنے کوکہا تو اب کی بار اس نے موبائیل بند کر دیا۔۔
او ہو امی ایک تو آپ بھی حد کرتی ہیں۔۔۔ایک تو مجھے اس شادی کے لیے مجبور کیا حالانکہ آپ اچھی طرح جانتی تھیں کہ میں راشد کو پسند کرتی ہوں۔۔۔اور اب اس سے دو منٹ بات بھی نہیں کرنے دے رہیں۔
آمنہ تم کیوں اس کنگلے کے پیچھے پڑی ہو اور یہاں تمہارے سامنے کھلی تجوری پڑی ہے بلکہ ہوں کہنا چاہیے کہ سونے کی کان ہے کان۔۔۔
اتنا پیسا ہے سکندر کے پاس جتنا ہمارے پورے خاندان میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہے اور تم پھر بھی اس دو ٹکے کے راشد کے پیچھے پڑی ہو۔۔۔وہ اب اسے سمجھاتی ہوئی گلے سے لگا رہی تھیں۔۔
بس اسی وجہ سے میں یہ شادی کر رہی ہوں ۔۔۔ ورنہ راشد تو میرے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔۔۔پر خیر دولت کے آگے محبت بھلا کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔۔
بے چارہ راشد وہاں بیٹھا آنسو بہا رہا ہے۔۔۔ اسی لیے سوچا اس پر تھوڑا سا ترس کھا کر بات کر لوں۔۔
اور پھر دونوں ماں بیٹی قہقہ لگا کر ہنسنے لگیں۔۔
اچھا چلو اب جلدی کرو دیر ہو رہی ہے۔۔
چلیں میں تو بلکل تیار ہوں۔۔
ہاں تیار تو ہو اور یہ جو دوپٹہ تم نے گلے میں لٹکایا ہوا ہے اسے صحیح طرح سر پر لو۔۔
آمنہ نے منہ بسورتے ہوئے دوپٹہ سر پر لیا اور پھر دونوں باہر اسٹیج کی طرف آگئیں۔
آمنہ اپنی باقی سہیلیوں کے ہمراہ اسٹیج پر آکر بیٹھ گئی اور تائی مہمانوں سے ملنے چلی گئیں۔۔
گل بہار نے آمنہ کو دیکھا تو اس کی قسمت پر رشک کرنے لگی ۔۔۔ وہ ہنستی مسکراتی ہوئی اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
سکندر اس کے ساتھ خوش رہے گا۔۔۔۔۔ دونوں کی جوڑی خوب جچے گی۔۔۔ آمنہ سکندر سے محبت کرتی ہے وہ اسے ہمیشہ خوش رکھے گی۔۔۔سکندر کا دامن خوشیوں سے بھر دے گی۔۔۔کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہے گی سکندر کی زندگی میں۔۔۔میری سب سے بڑی خواہش پوری ہو رہی یے۔۔۔۔میری قربانی رائیگاں نہیں گئی۔۔۔
گل بہار اپنی بےحد خوبصورتی کے باعث بہت سے لوگوں کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔۔۔اور جب تائی نے لوگوں کی نظروں کا تعاقب کیا تو پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔
اور فورا اس کی طرف آگئی۔۔
تم تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟ تائی غصے سے اسے کہہ رہی تھیں آواز تھوڑی آہستہ تھی کہ کہیں دوسرے مہمان نہ سن لیں۔۔
وہ ایک دم سے کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ سکندر کے کچھ رشتہ دار اس سے واقف ہیں اور وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے۔۔
ایسے بت بنی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو بتاو کیا لینے آئی ہو اب تم یہاں ۔۔۔
چلو میرے ساتھ ۔۔وہ گل بہار کا ہاتھ پکڑے وہاں سے قدرے خاموش اور تاریک جگہ پر لیں آئیں۔۔۔
بولو کیوں آئی ہو ۔۔۔میری بیٹی کی خوشیوں کو ڈسنے آئی ہو ناگن۔۔۔۔ دو ٹکے کی طوائف۔۔۔نیچ ذات۔۔
گل بہار کی ہمت اب جواب دے گئی۔۔۔آخر کب تک چپ رہتی اور کس کس کی سنتی۔۔۔وہ بھی انسان تھی۔۔۔
اس لیے بہت دلیری سے جواب دیا۔
بس بہت ہوگیا آپ نے جو کہنا تھا کہہ لیا۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔۔ مجھے آپ سے اور آپ کی بیٹی سے کوئی واسطہ نہیں اور نا ہی سکندر سے میرا کوئی لینا دینا ہے۔۔۔۔میں یہاں اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہوں صرف اس شادی میں شرکت کرنے کے لیے اور اسکے علاوہ میرا کوئی مقصد نہیں ہے۔۔۔۔سمجھ گئیں آپ۔۔
وہ کہنے کے بعد فورا وہاں سے نکل گئی اور اندر کی طرف چلی گئ ۔۔۔تائی کے الفاظ کے زہر کو منہ ہاتھ دھو کر کچھ کم کیا اور پھر جیسے ہی باہر لان کی طرف جارہی تھی کسی نے اس کا ہاتھ زور سے اپنی طرف کھینچا تو ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی پر اتنے شور شرابے میں دب گئی۔۔
جتنا مرضی چیخنا ہے چیخ لو یہاں کسی نے نہیں سننا۔۔۔
اس نے اسے دونوں بازوں سے مضبوطی سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
گل بہار کی چوڑیاں ٹوٹ کر اس کے بازووں میں پیوست ہورہی تھیں اور اسے شدید درد ہورہا تھا۔۔
سکندر اس کے بہت قریب کھڑا تھا اور وہ حیرانگی سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جہاں پر صرف نفرت ہی نفرت دکھائی دیتی تھی ۔۔
چھوڑو مجھے سکندر یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔تم ہوش میں تو ہو۔۔۔
ہوش میں تو میں اسی دن آگیا تھا جس دن تمہاری اصلیت معلوم ہوئی تھی۔۔۔تم اتنا کیسے گر گئ گل بہار کوئی اتنا کیسے گر سکتا ہے۔۔۔۔وہ غصے سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا ۔۔
تم نے ثابت کردیا کہ تم کہاں کی پیداوار ہو ۔۔۔۔ پہلے میں اور اب وہ بلال۔۔۔۔کیسے پھنسایا تم نے اسے۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ اور پھر اس کی دوسری بیوی بھی بن گئ۔۔۔۔ ارے ہاں ظاہر ہے بھئی دولت کے لیے۔۔۔۔اور دولت کے لیے تو تم کچھ بھی کر سکتی ہو ہیں نا ۔۔
اچھا ویسے بلال کے بعد کس کو پھنسانے کا ارادہ ہے اگر کوئی نہیں ہے تو میں ڈھونڈ دوں بتاو۔۔
آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔
یااللہ اورکتنے آسمان میرے اوپر گرنے ہیں اور کتنی بار میں نے رسوا ہونا ہے اور کتنی بار۔۔۔۔وہ بس سوچ کر رہ گئی۔
اور سکندر نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں کو صاف کرنے لگا جیسے کسی گندی چیز کو ہاتھ لگا لیا ہو ۔۔
نفرت ہے مجھے تم سے تمہارے وجود سے اور کہہ کر وہاں سے نکل گیا اور وہ وہاں ناجانے کتنی دیر کھڑی اپنی بدنصیبی پر آنسو بہاتی رہی۔
عزت صرف عزت دار گھروں میں رہنے والی لڑکیوں کی ہوتی ہے کوٹھے پر رہنے والیوں کی نہیں۔۔
کنیز تم ہمیشہ کہتی تھی کہ کبھی امید مت چھوڑنا۔۔۔۔ پر میں اب امید چھوڑ چکی ہوں۔۔۔جو میں ہوں اس کے ساتھ ہی میں نے خود کو قبول کر لیا ہے اور کسی بھی چیز کے بدلنے کی امید چھوڑ دی ہے۔
میں بلال سے شادی بھی کبھی نہیں کروں گی کبھی نہیں کرسکتی میں خود کو اس دنیا سے گم کر لینا چاہتی ہوں اتنی دور چلی جانا چاہتی ہوں کہ پھر کوئی مجھے نا پہچان سکے۔۔
اس نے نفرت سے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر بہتے آنسووں کو صاف کیا اور لان میں آگئ۔۔
وہ اپنی دھن میں چلتی جارہی تھی ۔۔۔تائی جو ایک ٹیبل کے گرد بیٹھی ہوئی تھی جیسے ہی گل بہار ان کے پاس سے گزری تو انہوں نے اپنی ایک ٹانگ باہر نکال لی اور گل بہار بےخیالی میں اس سے ٹکرائی اور لڑکھڑا کر گرنے ہی والی تھی جب کسی نے اسے تھام لیا۔۔۔
ارے ارے بیٹا دھیان سے ابھی گر جاتیں تو۔۔۔۔ محسن کی ماما نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا ورنہ بہت بری طرح گرتی اور اب وہ بڑی فکر مندی سے اس سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ اس نے خود کو قدرے سنبھالتے ہوئے کہا
تائی نے اپنا منصوبہ ناکام ہونے پر غصے سےرخ پھیر لیا
آپ کا شکریہ ۔۔۔ گل بہار کہہ کر آگے بڑھنے لگی تو انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا وہ ہر روز کسی نا کسی لڑکی کو ایسے ہی پیار کرتی تھیں اور سوچتی تھیں کہ میری بیٹی بھی آج اتنی ہی بڑی ہوگی ۔
گل بہار کو ایک عجیب سی اپنائیت کا احساس ہوا ویسا جیسا اسے کنیز کے چھونے سے ہوتا تھا۔۔۔
وہ دونوں کچھ دیر یونہی کھڑی رہیں تھوڑی بہت بات چیت کے بعد گل بہار تیزی سے گیٹ عبور کرکے ہمیشہ کے لیے سب کی زندگیوں کو خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔۔
وہ چند لمحے وہاں سے جاتی انجان لڑکی کی پشت کو دیکھتی رہیں۔۔۔۔۔ پھر اپنا دوپٹہ درست کرتی آگے بڑھنے لگی تو نظر ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کے ساتھ الجھے ہوئے لاکٹ پر پڑی۔
انہوں نے اسے احتیاط سے نکالا اور جب غور سے دیکھا تو

 

Read More:  Jaan e Jaana Novel by Asra khan – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: