Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 13

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 13

–**–**–

 

وہ چند لمحے وہاں سے جاتی انجان لڑکی کی پشت کو دیکھتی رہیں۔۔۔۔۔ پھر اپنا دوپٹہ درست کرتی آگے بڑھنے لگی تو نظر ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کے ساتھ الجھے ہوئے لاکٹ پر پڑی۔۔۔
انہوں نے اسے احتیاط سے نکالا اور جب غور سے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئیں۔
اس لاکٹ پر ایک چھوٹا سا گلاب کا پھول بنا ہوا تھا اور ساتھ باریک سی چین تھی۔۔
فریدہ کے ذہن میں اس وقت کے کہے نایا ب کے الفاظ گونجے۔۔
“یہ لاکٹ میں اپنی بہو کے لیے لائی ہوں دیکھو اس کے اوپر گلاب کا پھول بنا ہوا ہے یہ میں نے خاص طور پر اپنی بہو کے لیے بنوایا ہے کیونکہ سکندر کو گلاب کے پھول بہت پسند ہیں۔۔۔
فریدہ نے بےاختیار اس لاکٹ کو چومنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ محسن اور تیمور کو آوازیں دینے لگیں۔۔
فریدہ کی آنکھوں میں بے پناہ خوشی تھی اور ساتھ میں آنسو بھی لگا تار بہہ رہے تھے۔۔
آوازیں سن کر تیمور اور محسن تقریبا بھاگتے ہوئے فریدہ کے پاس پہنچے
باقی مہمان بھی حیرت اور فکرمندی سے دیکھ رہے تھے کہ آخر اس عورت کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔
جب دونوں پاس آئے تو فریدہ کو روتے ہوئے دیکھا۔۔
ماما کیا ہوا ہے ؟ کیوں رو رہی ہیں آپ ؟؟آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟
تیمور بھی فکر مندی سے اپنی بیگم سے پوچھ رہا تھا۔۔
تیمور محسن یہ ۔۔یہ۔۔دیکھو۔۔۔ان آنکھوں میں ایک چمک تھی اور خوشی سے وہ لاکٹ دونوں کو دکھارہی تھی۔۔۔
یہ لاکٹ یاد ہے تیمور آپ کا یہ نایاب اور حیات نے پہنایا تھا ہماری بیٹی کو۔۔
تیمور نے وہ لاکٹ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور غور سے دیکھنے لگا۔۔
ہاں لگ تو وہی رہا ہے ۔۔۔۔ بے چینی بڑھ گئی تھی۔۔۔
محسن نے بھی اس کو غور سے دیکھا ۔۔۔
وہ تینوں ایک دوسرے کو خوشی اور حیرت سےدیکھ رہے تھے آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔
ماما یہ آپ کو کہاں سے ملا؟
فریدہ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والا سارا واقعہ بیان بتایا۔۔۔
ماما یہ ضرور تو نہیں کہ وہ ہماری ماہم ہی ہو؟؟آپ کو غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے؟؟
ہاں فریدہ محسن بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے اور ویسے بھی اس جیسے اور بھی تو لاکٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔
نہیں تیمور مجھے یقین یے کہ وہ ہماری ماہم ہی ہے۔۔ وہی رنگت وہی نین نقش۔۔۔اور وہ لاکٹ اور کسی کے پاس ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔میں اسے اچھی طرح پہچانتی ہوں۔۔۔آپ کو میری بات کا یقین کیوں نہیں آرہا۔۔
وہ کہہ کر اور بھی رونے لگیں تو دونوں کو واقعی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔
اچھا ماما اب وہ کہاں ہے؟؟
ہاں فریدہ جلدی بتاو کہاں ہے وہ؟؟
وہ تو ابھی ابھی اس گیٹ سے باہر چلی گئی۔۔۔اور یہ سن کر وہ دونوں گیٹ سے باہر بھاگے اور باہر آ کر دیوانہ وار اسے ڈھونڈنے لگے۔۔۔مگر ہر طرف خاموشی تھی کسی کا بھی وجود نہیں تھا۔۔۔
وہ تیزی سے اندر واپس آئے اور فریدہ جو بے چینیی سے اپنی بیٹی سے ملنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ان دونوں کو واپس دیکھ کر پوچھا
کہاں ہے وہ ملی آپ دونوں کو؟؟
نہیں ماما باہر تو کوئی نہیں ہے ہم گاڑی میں جارہے ہیں اسے ڈھونڈنے آپ تسلی رکھیں ہم اسے ڈھونڈ کر رہیں گے۔۔
وہ دونوں پلٹنے لگے تو محسن نے ماما سے پوچھا ۔
ماما آپ اس کا تھوڑا حلیہ بتا دیں تاکہ ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔۔۔۔ تو فریدہ نے بتانا شروع کیا۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔
فریدہ تم نے اس سے نام نہیں پوچھا؟؟ شاید یہاں کوئی اسے جانتا ہو تو ہم آسانی سے اسے ڈھونڈ لیں گے۔
نام نام ہاں میں نے پوچھا تھا کیا نام بتایا تھا میری بچی نے۔
ہاں یاد آیا گل بہار وہ اپنا نام یہی بتا رہی تھی۔۔
سب لوگوں ان کے اردگرد جمع ہوگئے تھے اور بہت سے لوگ بہت سی باتیں کر رہے تھی کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔۔
ان سب لوگوں میں بلال بھی کھڑا تھا جو قدرے فاصلے پر تھا اور فریدہ بہت مشکل سے بات کرتی ہوئی سب بتارہی تھی اس لیے بلال گل بہار کا نام سن نہیں پایا۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے ۔۔۔۔تیمور کہہ کر گاڑی کی طرف جانے لگا اور جب محسن کو دیکھا تو وہ اپنی جگہ پر سن سا کھڑا تھا۔۔
چلو محسن جلدی کرو کس سوچ میں پڑ گئے ہو۔۔۔ تیمور نے محسن کو پکارا تو وہ جیسے سکتے سے باہر آیا۔۔
ماما آپ کو پورا یقین ہے کی اس نے اپنا نام گل بہار ہی بتایا تھا؟؟ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ نے شاید غلط سنا ہو؟؟
محسن کو لگا شاید ماما نے غلط سنا تھا بھلا گل بہار ماہم کیسے ہو سکتی ہے؟؟
نہیں محسن مجھے اچھے سے یاد ہے اس نے اپنا نام یہی بتایا تھا۔۔۔۔ان کا رو رو کر برا حال تھا۔۔۔۔
جلدی جائیں آپ لوگ کب سے یہاں کھڑے سوال جواب کر رہے ہیں اور وہ پتا نہیں کہاں چلی گئ۔۔۔۔ جلدی جائیں۔
محسن نے ماما کو کرسی پرر بٹھانا چاہا ماما آپ یہاں بیٹھیں میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے۔۔
مجھے نہیں بیٹھنا محسن تم جانتے ہو تو جلدی سے مجھے اس کے پاس لے جاو آج بیس سال کے بعد مجھے میری بیٹی ملی ہے مجھ سے اب اور صبر نہیں ہوتا۔۔۔
پاپا آپ ماما کو سنبھالیں میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔ ماہم مل جائے گی آپ دونوں پریشان مت ہوں۔۔۔وہ کہہ کر وہاں سے آگے بڑھا اور اردگرد نظر دوڑائی تو بلال اسے تھوڑے فاصلے پر کھڑا نظر آگیا۔۔۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں کے ہجوم سے دور لے گیا۔۔۔
بلال اسے حیرت سے دیکھتا رہا کہ یہ کون ہے اور مجھے اس طرح کیوں لے کر جارہا ہے۔۔۔۔اور پھر پوچھا
آپ کون ہیں اور مجھے اس طرح سے یہاں کیوں لائیں ہیں؟
آپ مجھے نہیں جانتے پر میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔۔میں محسن ہوں سکندر کا دوست اور اسکے علاوہ بتانے کا میرے پاس بلکل وقت نہیں ہے۔۔۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ گل بہار کہاں ہے
پر آپ کیوں گل بہار کا پوچھ رہے ہیں؟؟بلال کی حیرت بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
وہ میں آپ کو بعد میں سمجھاوں گا یہ ایک لمبی داستان ہے پلیز آپ مجھے جلدی سے بتا دیں کہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔ محسن نے منت بھرے لہجے میں کہا۔۔
بلال کو معاملہ تھوڑا پیچیدہ لگ رہا تھا تو اس نے کہا کہ
گل بہار یہیں ہے ہم سب ساتھ ہی آئے ہیں بلال نے اردگرد نظر دوڑائی مگر وہ کہیں نہیں نظر نہیں آئی۔۔۔
سامنے تو نظر نہیں آرہی شاید اندر ہو میں دیکھتا ہوں۔۔۔
بلال وہ یہاں نہیں ہے یہاں سے جاچکی ہے اور آپ مجھے بتائیں کہ وہ کہاں گئی ہے؟؟
اور بلال کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔
نہیں وہ یہیں یے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو میں نے اسے دیکھا ہے اور ویسے بھی وہ بغیر بتائے بھلا کیوں جائے گی۔۔۔
یہ تو آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں گئی ہے آخر آپ شوہر ہیں اسکے متعلق معلوم ہونا چاہیے آپ کو۔۔۔۔ محسن شدید پریشانی کا شکار تھا۔۔
دیکھیں محسن صاحب آپ کو شاید غلط فہمی ہو رہی ہے پہلی بات تو یہ کہ گل بہار میری بیوی نہیں ہے اور دوسری بات ہوسکتا ہے کہ وہ گھر چلی گئی ہو۔۔۔پر وہ ایسے کیسے جاسکتی ہے مجھے خود سمجھ نہیں آرہا۔۔
کیا مطلب آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟محسن اس وقت اتنا پریشان تھا کہ اسے بلال کی کہی ہوئی بات سمجھ ہی نہیں آئی۔۔
دیکھیں محسن جب تک آپ مجھے ساری بات نہیں بتائیں گے میں آپ کو نہیں کچھ نہیں سمجھا سکتا۔۔۔
ویسے میں ابھی گھر کال کر کے پوچھتا ہوں کہ گل بہار پہنچی ہے یا نہیں۔۔۔لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہاں سے چلی گئی ہے آپ کو یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں اندر جا کر دیکھتا ہوں وہ یہیں کہیں ہوگی۔۔
بلال نے گھر کا نمبر ملایا اور گل بہار کے متعلق نوکر سے پوچھا تو وہاں سے ” نہیں “کا جوب ملا۔۔۔
محسن بلال کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر بلال نے نفی میں سر ہلا کر اپنی بات کی تصدیق کر دی۔
چلو دونوں اندر دیکھتے ہیں ۔۔۔
کافی دیر تک وہ گل بہار کو ڈھونڈتے مگر وہ انہیں کہیں پر نہیں ملی۔۔۔
کہاں چلی گئی وہ؟؟محسن پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا جب وہ سکندر سے ٹکرا گیا۔
کیا ہوا ہے تمہیں؟ خیریت تو ہے؟؟سکندر فکر مندی سے پوچھ رہا تھا وہ باہر والے سارے معاملے سے لاعلم تھا۔۔
سکندر گل بہار نہیں مل رہی پتا نہیں کہاں چلی گئی۔۔
اگر چلی گئی ہے تو تم کیوں اتنے پریشان ہورہے ہو۔۔دفع کرو اور چلو میرے ساتھ نیچے مہندی کا فنگشن شروع ہونے والا ہے ۔۔۔۔ سکندر نے محسن کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے جانے لگا مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلایا۔۔
اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔
نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ مجھے گل بہار کو ڈھونڈھنا ہے پتا نہیں کہاں چکی گئی۔۔۔وہ بس رو دینے کو تھا۔
محسن تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔۔۔کیوں اس دو ٹکے کی لڑکی کو ڈھونڈ رہے ہو ۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
ایک منٹ ایک منٹ کہیں تمہارا بھی اس پر دل تو نہیں آگیا۔۔۔مطلب بلال کے بعد تمہارا نمبر۔۔۔۔ابھی وہ کچھ اور کہتا۔۔۔بلال نے غصے سے اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے سکندر کو دیکھا اور ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی سمجھے تم۔۔
بہن ہے وہ میری ۔ سنا تم نے گل بہار بہن ہے میری
پھر انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی۔۔۔ اور چیخ چیخ کر کہنے لگا
اور خبردار جو اسکے بارے میں مزید ایک لفظ بھی کہا تو۔
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔وہ کہہ کر نکل گیا اور سکندر بے یقینی سے اسکی پشت کو دیکھتا رہا ۔۔
یہ کیا کہہ کر گیا ہے ۔
بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔
_________
محسن اس سے جو بات کہہ کر گیا تھا اس نے سکندر کو اندر تک ہلا دیا تھا اور اب ایسی حالت میں وہ یہ شادی بھلا کیسے کر سکتا تھا۔۔
اس لیے تایا سائیں کے پاس آیا۔۔
تایا سائیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔
ہاں بولو بیٹا سکندر کیا بات ہے۔۔
آپ اس شادی کی تاریخ کو آگے بڑھا دیں۔۔۔ سکندر نے بغیر کسی تمہید کے سیدھی بات کہہ دی۔۔
اور یہ سن کر تایا سائیں کے سر پر گویا آسمان گر پڑا اس لیے تلملا اٹھے۔۔
سکندر تم یہ کیا کہہ رہے ہو ہوش میں تو ہو۔۔۔ اب جب سارے مہمان آچکے ہیں۔۔۔ مہندی لگ چکی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہہ تاریخ آگے بڑھا دوں۔۔۔ آخر کیوں۔۔
تایا سائیں میں جانتا ہوں کہ یہ سب آپ کے لیے بہت مشکل ہے پر آپ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کریں اور فلحال شادی کو ملتوی کردیں۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے کہہ رہا تھا جانتا تھا کہ سارا قصور اسی کا ہے۔۔
سکندر تم نے شادی بیاہ کو کھیل تماشا سمجھا ہوا ہے کہ جب دل چاہا ہاں کر دی اور جب دل چاہا نا کر دی۔۔۔ ہمارے خاندان میں اس طرح نہیں ہوتا سمجھے تم۔۔۔ ہم اپنی گردن کٹوا دیتے ہیں پر اپنی بات سے نہیں پھرتے۔۔۔پتا نہیں تم کس پہ چلے گئے ہو۔۔۔
اگر ایسی بات ہے تایا سائیں تو ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس کے ساتھ ایک بار رشتہ طے ہو جائے تو چاہے جو بھی ہو جائے کوئی اسے توڑنے کی جرات نہیں کرسکتا۔۔۔
ایسا ہے نا تایا سائیں۔۔۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے تایا سائیں سے پوچھ رہا تھا۔۔
ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔اور یہی تو میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ جب آمنہ سے تمہاری نسبت طے ہو چکی ہے تو تم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔۔۔سمجھ گئے۔۔۔ اور ہر حال میں اس شادی کو اپنے انجام تک پہنچاو۔۔
میں ایسا ضرور کرتا تایا سائیں اگر آمنہ سے ہی شروع سے میری نسبت طے ہوتی تو۔۔
تم کہنا کیا چاہتے ہو سکندر کھل کر بات کرو۔۔
میرے ماں باپ نے بچپن میں ہی میرا رشتہ طے کر دیا تھا اور میں اسی سے شادی کرنے کا پابند ہوں۔۔
ہاں معلوم ہے مجھے مگر وہ تو کھو گئی تھی اور تم اب اس کا ذکر لے کر کیوں بیٹھ گئے ہو۔۔۔
وہ اس لیے تایا سائیں کیونکہ وہ اب مل چکی یے۔۔
اور یہ سن کر تایا سائیں چکرا کر رہ گئے۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔وہ بےیقینی سے سکندر کو دیکھنے لگے۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا تم اس شادی سے جان چھڑوانے کے لیے ایسا کہہ رہے ہو۔۔
مجھے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جو سچ ہے وہ میں آپ کو بتا چکا ہوں۔۔۔ میں آمنہ سے شادی نہیں کروں گا یہ طے ہے۔۔۔
پر میں آپ سے معافی ضرور مانگتا ہوں کہ آپ کو میری وجہ سے بہت زیادہ تکلیف اٹھانی پڑے گی۔۔۔
پر آپ خود ہی تو کہتے ہیں کہ خا ندان کی روایات کو پورا کرو تو بس وہی کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ سکندر کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
اور تایا سائیں یوں کھڑے تھے جیسے کسی نے ان کے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔۔۔۔ وہ ایسا کبھی نا ہونے دیتے چاہے خون کی ندیاں ہی کیوں نا بہانی پڑ جاتی پر سکندر اپنی جگہ پر ٹھیک تھا اور اسی چیز نے ان کے ہاتھ باندھ دیئے تھے۔۔
سکندر کا یہ سب کہنے اور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ تو صرف اس شادی کو تھوڑا آگے بڑھانے کی بات کرنے گیا تھا مگر باتوں باتوں میں وہ اپنے دل کی بات کہہ آیا۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا ہونا ناممکن یے وہ کسی اور کی بیوی ہے اور ویسے بھی میں اس سے نفرت کرتا ہوں۔۔
ہمیشہ کی طرح اس نے پھر سے اپنے دل کو یقین دلایا ۔۔۔
پر ناکام رہا۔۔
__________
محسن بلال اور تیمور تینوں اسے ہر جگہ اسے تلاش کر رہے تھے۔۔۔ پر وہ کہیں نہیں مل رہی تھی۔۔۔
محسن گاڑی چلاتا ہوا ہر جگہ اسے تلاش کر رہا تھا نظریں راستے پر تھیں اور سوچیں ماضی میں گم ۔۔
اسے اپنی کہی ہوئی ہر بات یاد آرہی تھی جو وہ سکندر اور گل بہار سے کہہ چکا تھا۔
دکھ اور تکلیف سے اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔
اس دن جب میں پہلی بار گل بہار سے ملا تھا تو میں نے اسے کیا کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔ جب اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ
“آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا؟ آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتےتھے؟؟”
اور میں نے کہا تھا کہ
اس لیے تاکہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا سکوں کہ تم کس گندی نالی کا کیڑا ہو۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے دوست کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی۔۔
محسن کا دل پھٹنے لگا۔۔
اور ایک کے بعد ایک کہی ہوئی بات دماغ میں گھومنے لگی
_______
دیکھا ہو گا نا کہ لڑکا اکیلا ہے ۔۔۔اتنا مالدار ہے اور تھوڑا بےوقوف بھی تو کیوں نا اسکو اپنی محبت او نہیں نہیں محبت بھلا کہاں تم جیسی عورتیں کرتی ہیں۔۔تو کیوں نا اسے اپنی اس خوبصورتی کے جال میں پھانس کر سب کچھ ہتھیا لیا جائے۔۔کیوں ایسا ہی ہے نا گل بہار صاحبہ۔۔
گل بہار نے بمشکل کہا تھا کہ ۔۔۔
نہیں میں ایسی نہیں ہوں۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
اوہ واقعی تو آپ کا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے ۔ وہ وہاں نکاح کی تیاری کرکے بیٹھا ہے اور تم کہتی ہو کہ تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔گل بہار بی بی کسی اور کو بیوقوف بنانا مجھے نہیں۔۔۔سکندر تمہاری اس بھولی صورت سے دھوکا کھا سکتا ہے میں نہیں۔۔۔تم جیسی عورتوں کی اصلیت مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا۔۔
میرا دوست اپنی عزت؛ اپنا نام ؛اپنا مقام؛ اپنے رشتے سب کچھ تم دوٹکے کی لڑکی پر قربان کر نے جارہا ہے۔جان بوجھ کر خود کو آگ میں دھکیل رہا ہے۔۔۔۔۔اس نے اس ایمپائر کو کھڑا کرنے کے لیے کتنی محنت کی ہے بھلا تم جیسی جسم فروش کیا جانے کہ محنت کیا ہوتی یے۔۔۔عزت اور مقام کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔۔۔ اور وہ تمہاری وجہ سے ان سب سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے۔۔
ناجانے کو نسی منحوس گھڑی تھی جب میں نے اسے اس کوٹھے پر چھوڑا۔۔۔پر خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔اب تم بتاو کہ تم سکندر کی جان چھوڑنے کی کیا قیمت لو گی۔۔۔جتنی بولو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔
بولو کیا قیمت ہے تمہاری؟؟؟
بتاو کیا قیمت ہے تمہاری ابھی تمہار ےمنہ پر مارتا ہوں دفع ہو جاو اسکی زندگی سے۔۔۔
مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔میں چلی جاوں گی۔۔
اچھا واقعی تو تم چلی جاو گی؟؟ اور سارا الزام مجھ پہ ڈال دو گی؟؟بولو ایسا ہی کرو گی نا
نہیں میں سکندر صاحب سے کچھ بھی نہیں کہوں گی۔۔۔میں خاموشی سے یہاں سے چلی جاوں گی۔۔
خاموشی سے چلی جاو گی تو وہ پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈنا شروع کو دے گا۔۔
تو پھر میں کیا کروں؟؟
تمہیں اسطرح سے جانا ہے کہ سکندر تمہاری شکل سے بھی نفرت کرے۔۔۔۔ اور اگر تم یہاں سے نہیں گئیں اور سکندر کو کچھ بھی بتایا تو یاد رکھنا میں تمہارا قتل کر دوں گا سمجھی۔۔
اور یہ سب سوچ کر محسن نے ایک زور دار ہاتھ سٹیرنگ پر مارا اور گاڑی کو روک دیا۔۔۔
پھر اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے زور سے جکڑا اور اس سنسنان سڑک پر اندھیری رات میں زور زور سے چلانے لگا۔۔
کیوں آخر کیوں کیا میں نے ایسا کیوں۔۔۔۔آنسو پوری رفتار کے ساتھ بہہ رہے تھے۔۔
میں نےاپنی ہی بہن کے ساتھ ایسا کیسے کر دیا۔۔۔میں نے کیا کچھ نہیں کہا اسے۔۔
پھر جب سب کچھ جان بھی گیا تو پھر بھی خاموش رہا۔۔۔کیوں۔۔
میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بہن کی عزت کو اسکی خوشیوں کو آگ لگا دی۔۔
زور سے اپنا سر سٹیرنگ پر مارتا رہا۔۔۔۔ کیوں میں اتنا نیچے گر گیا۔۔۔۔میں نے ان دونوں پر بہتان لگائے سکندر کو اس سے دور کر دیا وہ روز جیتا ہے اور روز مرتا ہے میں نے کیا پایا سب کچھ اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا سب کی زندگیوں میں آگ لگا دی کسی کونہیں چھوڑا کسی کو بھی نہیں۔۔۔
پھر سر کو سیٹ کے ساتھ لگالیا آنکھیں آنسووں میں بھیگی ہوئی تھیں۔
میں اپنی ماں کو کیا جواب دوں گا جو روز اس آس پہ جیتی ہے کہ اس کی بیٹی مل جائے گی وہ ضرور آئے گی اور جب اسے یہ پتا چلے گا کہ میں نے اس کے ساتھ کیا کیا تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی کبھی بھی نہیں۔۔
میں تو انسان تک کہلانے کے لائق نہیں ہوں۔۔
________
تایا سائیں اور تائی نے سب مہمانوں کو بہت سے بہانے بنا کر وہاں سے خدا حافظ کہہ دیا اور خود بھی وہاں سے واپس گاوں چلے گئے۔۔
تایا سائیں کو اپنی عزت کے چلے جانے کا دکھ تھا جبکہ آمنہ اور تائی کو اتنی دولت ہاتھ سے نکل جانے کا۔۔۔۔
وہ غصے اور نفرت میں جل رہی تھیں۔۔۔۔دونوں نے سکندر کی منگیتر کو خوب بد دعائیں دی کہ وہ کبھی ناملے اور سکندر ناک رگڑتا ہوا واپس ان کی چوکھٹ پر آئے۔۔۔
اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا۔۔
اور ایک مہینے کے بعد تایا اور تائی پر قیامت تب ٹوٹی جب آمنہ راشد کے ساتھ بھاگ گئی۔۔۔۔ آمنہ جانتی تھی کہ اسکے والد کبھی راشدکے لیے راضی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے نزدیک راشد ایک آوارہ انسان یے اور کسی طور پر بھی آمنہ کے قابل نہیں ہے۔۔۔
پر آمنہ کو تو سکندر کے بعد راشد ہی دولت کے لحاظ سے سب سے قابل لگتا تھا تو اس نے یہی کرنا درست سمجھا۔۔۔
اس صدمے سے تایا سائیں سنبھل نا سکے اور شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا ۔۔۔
ان کا اپنے خاندان پر غرور اور دوسروں کو نیچ اور کمتر سمجھناسب کچھ خاک میں مل گیا۔۔انکی بیٹی تو اعلی خاندان سے تھی تو پھر بھلا اس نے اتنی گری ہوئی حرکت کیوں کی۔شاید یہی میری سزا ہے۔۔۔۔ انہیں اپنی کہی ہوئی باتیں یاد آنے لگی تھیں جو انہوں نے اس لڑکی کے حوالے سے کہیں تھیں۔۔۔
اور اس پچھتاوے میں تائی بھی شریک تھیں۔۔۔۔
جب کسی کی بیٹی پر یوں بہتان لگایا جائے جب آپ کو اس کے بارے میں کچھ علم ہی نا ہو تو پھر اپنا کیا تو سامنے ضرور آتا ہے۔۔۔۔
ضرور آتا ہے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: