Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 14

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 14

–**–**–

 

ایک مہینہ گزر گیا تیمور اور محسن نے اسے ہر جگہ تلاش کیا۔ہر ایک سے رابطہ قائم کیا۔پولیس کے بڑے بڑے آفیسرز نے بھی اسے ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر گل بہار کا کچھ پتہ نہیں چلا۔۔
محسن صبح سے نکلا ہوا رات گئے کو لوٹا تو اسے دیکھتے ہی فریدہ فورا اسکی طرف لپکیں۔۔
کچھ پتہ چلا محسن میری ماہم کا۔۔۔
اور محسن نے آج پھر مایوسی سے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔
وہ سن کر ایک دم صوفے پر ڈھے سی گئیں۔۔۔
ماما پلیز صبر کریں وہ ضرور مل جائے گی۔۔ہم سب اسے ڈھونڈ رہے ہیں نا۔۔۔ وہ انکے گٹھنوں کو پکڑے نیچے ہی بیٹھ گیا۔
آنسو فریدہ کی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔
کب ملے گی میری بیٹی آخر کب۔۔۔اتنے سالوں کے بعد ملی اور میں نے اسے پھر سے کھو دیا۔۔
ماما پلیز مت روئیں آپ کی طبیعت پہلے ہی بہت خراب ہے خود کو تکلیف مت دیں۔۔۔
میں جانتا ہوں آپ ماہم سے ملنے کے لیے کتنا تڑپ رہی ہیں وہ انشاءاللہ ضرور ملے گی۔۔۔ ہم اسے ڈھونڈ لیں گے۔۔
انشاءاللہ۔۔۔ فریدہ نے بھی اپنے بیٹے کی تائید کی۔۔
پھر آنسو پونچھتی ہوئی بولی۔۔۔
اچھا تم کنیز سے ملے۔۔۔کیا کہا اس نے؟؟
جی ماما گیا تھا وہاں۔۔مگر وہ وہاں بھی نہیں ہے۔۔
تم نے اسے یہاں آنے کو کہا تھا؟؟بتایا تھا کہ ماہم کی ماما اسے بلا رہی ہیں؟؟
جی ماما آپ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔۔۔وہ جلد آکر آپ سے ملیں گی۔۔
محسن نے فریدہ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا اور اب فریدہ کنیز سے ملنا چاہتی تھیں۔۔۔ اس عورت کا احسان ہی اتنا بڑا تھا جسے فراموش کرنا ناممکن تھا۔
اللہ ہر جگہ اپنے نیک بندوں کو بھیج دیتا ہے۔۔۔دیکھو نا کیسے اس نے اس غلیظ جگہ پر بھی میری بیٹی کی حفاظت کے لیے ایک فرشتے کو بھیج دیا۔۔۔میں تو اس عورت کے پاوں بھی دھو دھو کر پیوں تو کم ہے محسن۔۔۔جس نے میری بچی پر ذرا برابر بھی آنچ نہیں آنے دی۔۔
آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔واقعی اللہ نے ہم پر بڑا کرم کیا ہے ماما۔۔۔وہ عورت واقعی اس قابل ہیں کہ اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جائے۔۔امید ہے وہ کل آئیں گی۔۔۔ ماہم کی وجہ سے وہ بھی بہت پریشان ہیں بہت رو رہی تھیں۔۔۔
وہ بھی تو ماں ہے نا ماہم کی ۔۔۔صرف پیدا کرنے والی ہی تو ماں نہیں ہوتی نا محسن پالنے والی بھی ماں تو ہوتی یے۔۔۔وہ نم آنکھوں سے کہہ کر مسکرانے لگیں۔۔
بلکل۔۔۔اچھا اب چلیں اپنے کمرے میں آرام کریں کہیں پھر سے بخار نا ہو جائے۔۔
محسن انہیں اپنے ساتھ لگائے کمرے میں چھوڑ آیا اور پھر خود بھی اپنے کمرے میں آگیا۔
اس نے وضو کیا اور نماز عشاہ ادا کی اور پھر رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگا۔۔۔روز کا یہی معمول تھا نیند اس سے کوسوں دور تھی جب بھی سونے کے لیے آنکھیں بند کرتا اپنے کہے ہوئے الفاظ گونجنے لگتے اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھتا۔۔۔ساری رات یونہی گزر جاتی اور وہ پھر صبح فجر کی نماز کے بعد اسے ڈھونڈنے نکل پڑتا۔
__________
محسن نے بلال کو گل بہار کے متعلق بتا دیا تھا کہ وہ اس کی بہن ہے اور کیسے وہ کھو گئی اور اسکے آگے کی ساری بات تو گل بہار پہلے ہی بلال کو بتا چکی تھی۔۔
سکندر کے حوالے سے گل بہار اور محسن دونوں نے ہی بلال سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔
بلال نے بھی گل بہار کی اسکے گھر آمد اور اسکے بعد کے سارے حالات محسن کو بتا دیے تھے سوائے اسکے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔۔
گل بہار بلال کی بیوی نہیں ہے یہ سن کر تو جیسے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔سکندر جس بات کو لے کر اسکی بہن پر کیچڑ اچھال رہا تھا وہ بات تو سرے سے تھی ہی نہیں ۔۔۔ اسے سکندر کی بیوقوفیوں پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔۔
__________
ڈاکٹر بلال ہر روز گل بہار کے کمرے میں جاتا اور اس کی خوشبو کو اپنی سانوں میں اتارتا۔۔۔۔۔وہ بھی اسے ہر جگہ ڈھونڈ رہا تھا مگر نا جانے وہ کہاں چلی گئی۔۔۔سب کو چھوڑ کر۔
رانیہ ہر روز اس سے گل بہار کو پوچھتی اور وہ روز کوئی نا کوئی بہانا بنا دیتا۔۔۔
کوئی اچانک سے آپ کی زندگی میں آتا ہے اور اتنا اہم ہو جاتا ہے کہ اس کے بغیر ہر چیز ادھوری لگتی ہے۔۔۔۔
بلال نے خود سے یہ اعتراف کر لیا تھا کہ وہ گل بہار سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ اسے ہر حال میں ڈھونڈ نکالے گا۔۔۔۔اپنے لیے اپنی بیٹی کے لیے۔۔
اب بھی وہ یہ سب سوچتے ہوئے اس کے کمرے میں موجود تھا ہر چیز ویسے کی ویسی ہی پڑی تھی جیسے ایک مہینہ پہلے تھی۔۔
اسکی نظر الماری پر پڑی جوتھوڑی سی کھلی ہوئی تھی۔۔اس نے اسے بند کرنے کی کوشش کی تو وہ نا ہوئی شاید کوئی چیز اٹکی ہوئی ہے اس نے یہی سوچ کر الماری کھولی تو ایک ڈائری اسکے پیروں میں آگری۔۔
کسی کی ڈائری پڑھنا مینرز کے خلاف ہے یہی سوچ کر بلال نے اسے اٹھایا اور الماری میں واپس رکھنے لگا تو وہ کھل گئی اور ایک تصوریر اس میں سے نکل کر فرش پر جا گری۔۔
تصویر کا رخ دوسری طرف تھا اس لیے وہ دیکھ نہیں سکا۔۔
بلال نے جھک کر تصویر اٹھائی اور جب اسے ڈائری میں رکھنے لگا تو تصویر میں چھپا چہرہ واضح ہو گیا۔۔
اور اب کی بار دونوں چیزیں اسکے ہاتھ سے پھسل گئیں۔۔۔۔
وہ حیرت کا مجسمہ بنے کھڑا تھا۔۔
وہ شدید قسم کے شاک میں مبتلا تھا ۔۔۔۔بھلا اس کی تصویر یہاں کیسے ہوسکتی ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے بےیقینی ہی بے یقینی تھی۔۔
سکندر اور گل بہار دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں۔۔۔اور دونوں نے ہی یہ بات مجھ سے کیوں چھپائی۔۔۔۔کیا گل بہار سکندر سے محبت۔۔…
یااللہ یہ سب کیا ہے۔۔۔ بلال کا سر چکرانے لگا۔۔
جب کچھ سنبھلا تو جھک کر ڈائری اٹھائی اور اسے پڑھنے لگا۔۔
گل بہار کی پوری زندگی اور اس پر گزری قیامت کی ہر ایک گھڑی تحریر تھی ۔۔
وہ جوں جوں پڑھتا جارہا تھا دل میں گل بہار کے لیے محبت اور احترام اور بھی بڑھتا جارہا تھا۔۔
جودہ بائی کے کوٹھے سے وہ سکندر کے گھر کیسے پہنچی اور پھر سکندر کو خود سے کیسے دور کیا اور پھر سکندر کے لیے بےپناہ محبت اور اس محبت میں دی جانے والی قربانی جو آج کل کوئی دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا پر گل بہار نے یہ سب کیا اور آنسووں میں بھیگے الفاظ جو اس ڈائری کے ہر صفحے پر تحریر تھے ۔
اسے سکندر کی قسمت پر رشک آیا۔۔۔ اور اسکی بیوقوفی پر ترس بھی۔۔۔وہ خود کو اس چیز کی آگ میں جلا رہا ہے جو ہے ہی نہیں۔۔۔ کتنی سچائیاں مجھ سے چھپائیں پر بلآخر مجھے معلوم ہو ہی گیا کہ تمہارے اس درد کے پیچھے راز ہے۔۔
آخری صفحہ پڑھ کر اس نے ڈائری کو بند کردیا۔۔۔دل میں ایک درد کی ٹیس ضرور اٹھی تھی کہ گل بہار سکندر سے بے پناہ محبت کرتی ہے وہ کبھی بھی میری نہیں ہوسکتی۔
پر ایک خوشی ضرور تھی کہ سکندر مجھ سے بھی زیادہ گل بہار سے محبت کرتا ہے اور دیوانوں کی طرح چاہتا ہے اس کے لیے سب کچھ کرسکتا ہے صرف ساری سچائی معلوم ہونے کی دیر ہے بس۔۔
________
ہیلو ۔۔ کیا حال ہے تمہارا سکندر۔۔
میں ٹھیک ہوں تم سناو ملی تمہیں تمہاری بہن۔۔سکندر نے بڑی بےرخی سے پوچھا۔۔
حالانکہ وہ خود بھی شعوری اور لاشعوری طور پر اسے ڈھونڈ رہا تھا اور پولیس والوں سے بھی مسلسل رابطے میں تھا۔۔۔
پر وہ کسی پر بھی اس چیز کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے خود کو ایسے ظاہر کیا جیسے اسے کوئی پرواہ نہیں۔۔
محسن نے جواب دیا۔۔۔
نہیں ملی دعا کرو سکندر کہ وہ مل جائے۔۔۔ محسن کی آواز بھرائی تھی۔۔
اس رات کے بعد دونوں کے درمیان آج بات ہو رہ تھی۔۔نا سکندر محسن سے ملا اور نا ہی محسن سکندر سے۔۔۔
بلآخر محسن نے ہی سکندر سے رابطہ قائم کیا۔۔
پتہ نہیں کہاں چلی گئی۔۔۔ہم سب اسے ڈھونڈ رہے ہیں
۔محسن کی بات کے جواب نے سکندر نے صرف “ہمم” کہا۔۔
کچھ تو بولو سکندر۔۔
میں کیا بولوں مجھے تو بس حیرت ہے کہ تم سب اسے ڈھونڈ ہی کیوں رہے ہو اور خاص کرکے” تم “۔۔۔
اور اس کے لیے اتنے پریشان کیوں ہو۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا کہ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں بہن ہے وہ میری۔۔
ہا ہا ۔۔۔ اچھا بہن۔۔۔
تم شاید بھول رہے ہو کہ اسکے ساتھ ساتھ وہ ایک کوٹھے سے تعلق رکھنےوالی لڑکی بھی ہے۔۔۔ اور اسکی وجہ سے تمہاری عزت خراب ہو سکتی ہے۔۔۔
سکندر نے محسن کی کہی ہوئی بات یاد کروا کر طنز کیا۔
محسن فورا بولا۔۔۔
وہ ماہم کا ماضی تھا اور جو بھی ہوا اس سب میں اس کا کوئی قصور نہیں۔۔۔ محسن کو غصہ آنے لگا۔۔
اچھا واقعی تو محسن آج تم اس کے ماضی کو فراموش کرنا چاہتے ہو کیونکہ اب تمہیں معلوم ہو گیا ہے کہ وہ تمہاری بہن یے اور اب وہ پاک باز ہو گئی۔۔
تب یہ سوچ اور یہ انسان کہاں تھا جب میں نے اس سے رشتہ قائم کرنا چاہا تو تم نے اس کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا تھا یاد ہے تمہیں؟؟ سکندر کو شدید غصہ آگیا۔۔
میں مانتا ہوں کہ میں نے جو بھی کہا جو بھی کیا غلط کیا اور میں تم سے اس سب کے لیے معافی مانگتا ہوں۔۔۔
پر آج جو میں کہہ رہا ہوں وہ پوری سچائی کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔۔۔
وہ ہر لحاظ سے پاک ہے اس کا دامن داغدار نہیں یے اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ اس سب میں بےقصور ہے۔۔
محسن کو شدید پچھتاوے نے گھیرا ہوا تھا وہ جو کچھ کر چکا تھا اس کے بعد اسکے الفاظ پر یقین کرنا بہت مشکل تھا۔
بس کرو محسن اب وقت گزر چکا ہے اور اب یہ سب کہنے کا کوئی فائدہ نہیں میں اس کی اصلیت سے واقف ہوں ۔۔۔
مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ جیئے یا مرے۔۔مہرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔سکندر نے غصے سے فون بند کردیا۔۔
سکندر کے الفاظ نے محسن کے دل کو چھلنی کر دیا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے تو بس پھر اس سب کو تو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔
سکندر نے وہ سب کچھ کہہ تو دیا مگر دل ہر بار کی طرح اسے ملامت کر رہا تھا اور وہ دعا کرنے لگا کہ کاش تم میری زندگی میں کبھی نا آتی میں یوں دربدر نا بھٹکتا میں یوں نا تڑپتا تمہاری بےوفائی کے زخم بہت گہرے ہیں جن سے ہر وقت خون رستا رہتا ہے کوئی مرہم کام نہیں کرتا کیوں تم ایسی نکلی آخر کیوں ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر آگرا۔
_____________
بلال ڈائری کو پڑھنے کے بعد کافی دیر تک وہاں بیٹھا سوچتا رہا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔۔
بلآخر وہ کچھ سوچ کر اٹھا اور گاڑی نکالی۔۔۔ دل اور دماغ میں ایک عجیب سی جنگ جاری تھی سارے راستے وہ اس جنگ کو لڑ تا رہا ۔
دماغ کے ساتھ فرض بھی شامل ہوگیا تو آخر کار دل کو اپنی ہار تسلیم کرنا پڑی۔۔۔
آخر کار منزل پر پہنچ گیا اور گاڑی کو ایک طرف کھڑا کرکے باہر نکلا ۔۔
خود کو مضبوط کرتا گیٹ پر پہنچا اور دستک دی۔۔۔
باوردی گارڈ کو اپنا تعارف کروایا تو اس نے انٹرکام پراندر اطلاع دی۔۔
” ہاں ” کا جواب ملنے پرگارڈ نے اسے اندر بھیج دیا۔۔
بلال کے آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد وہ اس سے ملنے آیا۔۔
آئیے ڈاکٹر بلال کیسے آنا ہوا۔۔۔ یہ مت کہیے گا کہ یہاں سے گزر رہا تھا تو چلا آیا۔۔
جب سے سکندر کو یہ معلوم ہوا تھا کہ گل بہار بلال کی بیوی ہے تب سے اس کا رویہ بلال کے ساتھ بہت بدل گیا تھا۔۔۔۔
آخر رقیب کی رقابت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔
بلال کو بھی سکندر کا رویہ کچھ تبدیل محسوس ہوا تھا پر اسنے اسے اپنی غلط فہمی سمجھا۔۔۔۔
پر آج وہ اس کی تلخی کو اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔۔۔
تم نے ٹھیک کہا سکندر میں واقعی یہاں سے نہیں گزر رہا تھا اور خاص تم سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔۔۔۔ بلال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔
تو بتائیں کیسے آنا ہوا۔۔۔ ویسے میں پوچھنا بھول گیا تھا کہ آپ کو آپ کی کی بیوی ملی جو کھو گئ تھی۔۔۔۔ سکندر کا لہجہ تلخ تھا۔۔
نہیں محسن ابھی تک تو نہیں ملیں پر مجھے یقین ہے کہ مل جائےگیں۔۔۔
خیر چھوڑیں اس بات کو۔۔۔ میں تو یہاں آپ کے علاج کے لیے آیا ہوں۔۔آپ کا ڈاکٹر ہونے کے ناطے مجھے آپ کا علاج تو کرنا ہی ہے۔۔۔ آپ اتنے عرصے سے نہیں آئے تو آخر کار مجھے ہی آنا پڑا۔۔
اور سکندر کو اس شخص کی ذہنی حالت پر شبہہ ہوا۔۔۔
اسکی بیوی لاپتہ ہے اور یہ یہاں علاج کرنے آیا بیٹھا ہے اسے تو کوئی پرواہ ہی نہیں گل بہار کی ۔۔۔۔۔ حد ہے ۔۔
بلال آپ رہنے دیں مجھے جتنے سیشن آپ سے لینے تھے میں لے چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ میرا مرض ایسا ہے جس کا علاج کسی کے پاس بھی نہیں۔۔۔سکندر کہہ کر خاموش ہوا توبلال چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔۔۔
سکندر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہارے درد کا علاج میرے پاس ہی ہو ۔۔
سکندر کے چہرے کا زاویہ بدلا وہ یہ سوچ رہا تھا کہ علاج تو تمہارے پاس ہی ہے پر تم تو اسے لے چکے ہو۔۔۔اور ہمیشہ کے لیے اپنا بنا چکے ہو اور ظاہر ہے اسے مجھے تھوڑی دو گے۔۔۔۔پر خاموش رہا
سکندر کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ کر بلال کہنے لگا۔۔
خیر چھوڑو۔۔۔ یہ میں ایک ڈائری تمہارے لیے لایا ہوں بلال نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈائری کی طرف اشارہ کیااور مجھے لگتا ہے بلکہ یقین ہے کہ تمہارے درد کی دوا یہی ہے۔۔
” یہ “سکندر نے زور دے کر کہا اور خوب اونچا قہقہ لگایا۔۔
بھلا یہ کاغز کے بے جان ٹکڑے مجھے کیسے درد سے رہائی دلوا سکتے ہیں۔۔۔۔ آپ بھی نا ڈاکٹر بلال حد کرتے ہیں۔۔
کاغز کے بے جان ٹکڑوں پر لکھی ہوئی تحیروں کی طاقت سے تم انجان ہو تبھی ایسی بات کہہ رہے ہو۔۔۔
کاغز تو بلاشبہ بے جان ہوتے ہیں مگر ان پر لکھے ہوئے الفاظ انہیں زندہ بناتے ہیں ان کے لکھنے والوں کو زندہ رکھتے ہیں تبھی تو لوگ گزر جاتے ہیں پر انکی تحریریں امر ہوجاتی ہیں
اور کبھی کبھی ان الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ مردہ روحوں اور بےجان جسموں کو پھر سے زندہ کر دیتے ہیں۔۔۔
اس لیے دل کرے توتم بھی اسے ضرور پڑھنا مجھے پورا یقین یے کہ یہ تمہیں پھر سے زندہ کر دے گی۔۔۔
بلال نے ڈائری کو ٹیبل پر رکھا اور وہاں سے چلا آیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا دی اور آنکھیں بند کردی۔۔۔۔دماغ میں پھر سے وہی سوچ ابھرنے لگی۔۔۔۔میں نے جو کیا وہ مجھے کرنا ہی تھا۔۔۔
آخرزندگی میں سب کچھ تو نہیں ملتا بہت سی خواہشیں ادھوری رہ ہی جاتی ہیں۔۔۔کسی کی خوشی کے لیے اپنی خوشی کو قربان کرنا ہی پڑتا ہے یہی تو محبت ہے۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: