Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 15

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 15

–**–**–

 

بلال کے جانے کے بعدسکندر کافی دیر تک ڈائری کو دیکھتا ہوا بلال کی کہی ہو باتوں کو سوچتارہا۔۔
کیا واقعی الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ مردہ روحوں اور بےجان جسموں کو زندہ کر دیں۔۔
کیا واقعی اس ڈائری میں لکھے ہوئے الفاظ مجھے پھر سے زندہ کر سکتے ہیں۔۔
شاید یہ سچ ہو۔۔
مگر۔۔
ان سب سے کیا حاصل۔۔
اس نے ایک سرد آہ بھری اور سر کو صوفے کے ساتھ ٹکا دیا۔۔
ان کو وہ پڑھیں جو جینا چاہتے ہیں ۔۔۔ جن کی زندگی میں ابھی بھی کوئی امید باقی ہے۔۔۔
میں تو کب کا مر چکا ہوں۔۔۔اور مردوں کو صرف دفنایا جاتا ہے پھر سے زندہ نہیں کیا جاتا۔۔
وہ سوچ کر وہاں سے اٹھ گیا اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف
کہاں جارہے ہو محسن۔۔۔
ماما میں سکندر کی طرف جارہا ہوں۔۔
محسن ۔۔۔کاش میری ماہم جلدی سے مل جائے اور میں اسے جلد سے جلد سکندر کی دلہن بنا سکوں۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ شادی کر رہا ہے تو میرے دل پر کیا گزری یہ میں ہی جانتی ہوں۔۔۔
بس اب ماہم مل جائے اور ہم سب کی خواہش پوری ہو جائے۔۔۔
پر وہ ایسا نہیں چاہتا اور نا ہی اب میں ایسا چاہتا ہوں۔۔محسن نے دل میں سوچا۔۔
کیا ہوا کہاں کھو گئے۔۔
کہیں نہیں ماما۔۔۔مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ آپ سب لوگوں نے بچپن میں جو رشتہ طے کیا تھا وہ غلط کیا۔۔۔
اور اگر ماہم مل جاتی ہے تو میں اس پر آپ لوگوں کی مرضی مسلط نہیں ہونے دوں گا۔۔
محسن کی باتیں سن کر بولیں
کیا سکندر کسی اور کو پسند کرتا ہے؟؟کیا وہ ماہم سے شادی نہیں کرے گا۔۔آنکھوں میں اداسی تھی
ماما آپ دعا کریں کہ وہ مل جائے اس کے بعد اس موضوع پر بات کریں گے۔۔
اس نے پیار سے ماما کو گلے لگا کر ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر اسکی پشت کو دیکھتی رہیں جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا
___________
سلیمہ سکندر کہاں ہے؟؟
صاحب جی تو سو رہے ہیں۔۔۔
محسن نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو سات بج رہے تھے۔۔
سکندر اس وقت تو کبھی نہیں سویا۔۔۔اس نے سوچا۔
سکندر کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟چہرے پر فکرمندی واضح تھی۔۔
جی صاحب جی بلکل ٹھیک ہیں۔۔
ہمم۔۔۔ تو اس کا مطلب ہے وہ جان بوجھ کر مجھ سے ملنا نہیں چاہتا۔۔۔۔اور اسی لیے میری فون کالز کا بھی کوئی جواب نہیں دے رہا۔۔۔
سوچتے ہوئے سلیمہ سے کہا
خیر ٹھیک ہے میں بھی یہیں بیٹھا ہوں جب تک وہ سو کر اٹھ نہیں جاتا۔۔
اور جب وہ اٹھ جائے تو اسے میرا بتا دینا۔۔
ٹھیک صاحب جی وہ سر ہلاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔۔
پھر دروازے پر دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی۔۔
چلا گیا وہ؟؟سکندر کا پورا کمرہ سگریٹ کے دھوئیں میں ڈوبا ہوا تھا۔
سلیمہ نے کھانستے ہوئے کہا۔
نہیں صاحب جی۔۔۔وہ۔۔ نیچے ڈرائنگ روم ۔۔۔میں بیٹھے ہیں۔۔۔ کہہ رہے ہیں کہ آپ سے مل کر ہی جائیں گے۔
ہمم ٹھیک ہے تم جاو۔۔۔سلیمہ چلی گئی تو اس نے ایک اور سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبائی۔۔۔
اور ایک کش لگا کر خود کلامی کی۔۔
آخر کب تک بیٹھو گے خود ہی تھک کر چلے جاو گے۔۔۔۔
پھر آنکھیں موند لیں۔۔۔
وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سکندر کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔آج ہر حال میں وہ سکندر سے مل کر ماہم کے متعلق اسکی ساری غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا وہ اسے ساری سچائی بتانا چاہتا تھا اپنی سچائی ۔۔۔ ماہم اور بلال کے رشتے کی سچائی۔۔
اس کے بعد کیا ہو گا وہ میرے ساتھ کیا کرے گا بھلے وہ ماہم سے شادی نا کرے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں میں خود بھی نہیں چاہتا کہ میری بہن ہمیشہ شک کی سولی پر لٹکی رہے۔۔۔
پر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تمہیں میری کسی بات کی سچائی پر یقین نہیں آئے گا۔۔۔۔ اے میرے خدا میں کیا کروں۔۔
وہ کافی دیر تک وہاں بیٹھا رہا جب تھک گیا تو ادھر ادھر چلنے لگا
پھر نظر سامنے ٹیبل پر پڑی ایک ڈائری پر پڑی تو اس نے یونہی ٹائم پاس کے لیے اس اٹھا لیا۔۔۔
اسے کھولا تو اس میں سکندر کی تصویر پڑی ہوئی تھی۔۔
پھر آہستہ آہستہ اسکے صفحوں کو پڑھنا شروع کیا۔۔
پڑھتے پڑھتے اسے حیرت کاجھٹکا لگا۔۔۔کہ یہ ماہم کی ڈائری ہے۔۔۔پر یہاں کیسے۔۔
وہ اسے پڑھتا جارہا تھا اور چہرے کے رنگ بدلتے جارہے تھے۔۔
ہر ایک لفظ سکندر سے بےپناہ محبت کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے۔
ماہم(گل بہار) کی پوری زندگی کی داستان اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔۔
آخری صفحہ پڑھنے کے بعد جب سر اٹھایا تو چہرہ آنسووں میں بھیگا ہوا تھا۔۔۔آنکھوں میں خوشی اور دکھ دونوں رقم تھے۔۔۔۔ بہت سی سچائیوں سے وہ آج واقف ہوا تھا۔۔۔۔آج وہ دھڑلے سے اپنی بہن کی پاکیزگی کی گواہی دے سکتا تھا یقین تو اسے پہلے بھی تھا مگر آج اس یقین میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا۔۔۔۔
افسوس اور پشیمانی میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہو ا تھا۔۔
اس نے اپنے بہتے آنسووں کو صاف کیا۔۔۔۔۔اور پورے اعتماد کے ساتھ سکندر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
______
آپ کو میڈم صاحبہ بلا رہی ہیں۔۔۔ماسی رشیدہ نے کلاس روم کے اندر جھانکتے ہوئے کہا
اچھا میں آتی ہوں۔۔
اس نے چاک کو میز پر رکھا اور بچوں سے مخاطب ہوئی۔
بچوں جو میں نے بلیک بورڈ پر لکھا ہے اسے یاد کریں میں ابھی آتی ہوں۔
بچوں نے خوشی سے کہا۔۔۔اوکے ٹیچر
ایک مسکراہٹ کے ساتھ کلاس کی طرف دیکھا اور پھر کمرے سے باہر نکل آئی۔
اس کا رخ میڈم صاحبہ کے کمرے کی طرف تھا۔۔
اجازت طلب کر کے اندر داخل ہوئی۔۔
آو بیٹھو گل ۔۔
ایک عمر رسیدہ خاتون نے اس سے کہا۔۔۔جو کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
جی شکریہ۔۔۔کہہ کر وہ بھی کرسی پر بیٹھ گئی اور پھر گفتگو کا آغاز کیا۔۔
آپ نے مجھے بلایا تھا۔۔
جی ہاں بلایا تھا۔۔۔دراصل کچھ ضروری چیزیں ڈسکس کرنی تھیں۔۔
جی جی بولیں۔۔۔وہ پوری توجہ سے سننے لگی۔۔
گل جیسا کہ تمہیں کو معلوم ہے کہ ہمارا یہ ٹرسٹ” UMEED” جو غریب بچوں اور عورتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنایا گیا ہے۔یہ لوگوں کے ڈونیشن کے بل بوتے پر ہی قائم ہے ہمیں ہر چیز کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔۔
جی مجھے معلوم ہے۔۔۔اس نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔
اس سال بھی ہمیشہ کی طرح ہمارا یہ ٹرسٹ ایک بہت بڑا فگنشن اورگنائز کر رہا یے جس میں بڑے بڑے لوگوں کو دعوت دیں گے اور ڈونیشن سے اچھی خاصی رقم جمع ہو جائے گی۔۔۔
میں چاہتی ہوں کہ اس فگنشن کی ساری ذمہ داری تم سنبھالو کیونکہ بچے اور عورتیں تم سے اچھی طرح مانوس ہوگئے ہیں تو تم ان کو اچھے سے ہینڈل کر لو گی۔
جی وہ تو ٹھیک ہے میڈم مگر۔۔۔۔گل بہار تھوڑا جھجھکی۔۔
کیا بات ہیں گل بولو۔
میڈم یہ بہت بڑی زمہ داری ہے اور میں کیسے ۔۔۔میرا مطلب ہے۔۔۔وہ کہہ کر خاموش ہوگئی۔۔
ارے بھئی اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے تم اکیلی نہیں ہو ہم سب تمہارے کےساتھ ہیں۔۔۔اور ویسے بھی تم میں واقعی ہی اتنی قابلیت ہے کہ تم سب کچھ سنبھال سکو۔۔۔
جب سے تم یہاں آئی ہو میری پریشانی ختم ہوگئی ہے تم نے میری ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھالیا ہے۔۔۔
میں تو اب چین سے سوتی ہوں۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اسے تسلی دے رہی تھی۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اور مسکراتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر واپس کلاس روم کی طرف آگئی۔۔
____________
ایک ہفتےکے بعد پورے ٹرسٹ سینٹر کو اچھے سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
بچے ہاتھوں میں پھول تھامے لائنوں میں کھڑے مہمانوں کی آمد کے منتظر تھے۔۔
باقی بچے اور عورتیں بھی چاک و چوبند کھڑے تھے۔۔
آہستہ آہستہ مہمانوں کی آمد شروع ہوئی تو بچوں نے انکا بھر پور استقبال کیا۔۔۔ اور سب کو باری باری اندر بنے ہال کی طرف لے گئے
گل خاموش سی ایک طرف کھڑی ان معصوم بچوں کے چہروں پر چھائی خوشی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔کتنی امیدیں وابستہ ہیں ان بچوں کی لوگوں سے۔۔۔کتنا انتظار رہتا ہے ان کو کہ کوئی آئے گا اور ان کے دامن میں خیرات کے چند نوٹ ڈال جائے گا۔۔۔ان پیسوں کی اس انسان کے نزدیک تو شاید کوئی اوقات نا ہو مگر ان کے لیے ان کی زندگی ہیں۔۔۔جن سے وہ چند کھلونے لیتے ہیں چند اچھے کپڑے اور کچھ دن اچھا کھانا۔۔۔۔۔اور پھر سے کسی کے منتظر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔بس یہی انکی قسمت ہے اور یہ اسی میں خوش ہیں۔
کیا ہوا گل کہاں کھو گئ۔۔۔آواز پر وہ چونکی۔
کچھ نہیں میڈم بس ایسے ہی۔۔
سب مہمان اندر چلے گئے ہیں۔۔۔ چلو اندر اسٹیج کا سارا انتظام دیکھو۔۔۔۔بس سب کچھ اچھے سے ہو جائے۔۔۔۔دل سے دعا کی۔۔
سب اچھے سے ہوجائے گا آپ پریشان نا ہوں۔۔۔وہ تسلی دیتی ہوئی ہال کے اندر بنے اسٹیج کی طرف بڑھ گئی اور مائیک کو تھام لیا۔
وہ یوں منظر عام پر نہیں آنا چاہتی تھی مگر ان بچوں اور عورتوں کی خوشی اور ضرورتوں کے آگے اس نے سر جھکا لیا۔۔
پورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور اسٹیج پر مائیک تھامے کھڑی تھی۔۔۔سب اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
تب وہ اپنی پوری ہمت مجتمع کرتی ہوئی بولی۔۔
اسلام علیکم۔۔
جوابا سب کی طرف سےوعلیکم سلام کہا گیا۔۔
آپ سب لوگوں کی آمد کا بہت بہت شکریہ۔۔۔میں اس پورے ٹرسٹ کے تمام لوگوں کی طرف سے دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے۔۔
پھر ایک لمحے کو رکی۔۔۔۔اور دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔۔
اس ٹرسٹ کے کچھ پہلوں پر روشنی ڈالنا چاہوں گی۔۔۔کیونکہ بہت سے لوگ اس بات سے لاعلم ہیں۔۔۔
ٹرسٹ “امید” کو بیگم سعدیہ نے قائم کیا ہے جہان پر ہر عمر کی عورتیں موجود ہیں اور ان کو یہاں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ہنر بھی سکھا رہی ہیں۔۔
یہاں پر بچوں کو بھی سہارا فراہم کیا جارہا ہے جن کے ماں باپ انہیں سنبھال نہہں سکتے اور پیدا کرنے کے بعد گیٹ کے باہر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔
حلق میں آنسو آگرے۔۔۔اسے اپنے ماں باپ یاد آئے۔۔۔جو اسے کچرے کے ڈھیر پر چھوڑ کر چلے گئے۔۔
پھر کہنا شروع کیا۔۔۔۔انکی بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے حصول کو ممکن بنایا جارہا ہے۔۔۔تاکہ آگے چل کر یی اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور انہیں کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانا پڑے۔۔
ٹرسٹ کے سب لوگ اسے مسکراہٹ سجائے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ اس نے میڈم سعدیہ کی طرف دیکھا جنہوں نے اس کی آنکھوں ہی آنکھوں میں ہمت بندھائی۔۔
اس نے دوبارہ سے کہنا شروع کیا۔۔۔۔ آواز میں بلا کا سحر تھا۔۔۔ہر ایک پوری توجہ سے اسکی بات کو سن رہا تھا۔۔
بیگم سعدیہ اور ان کے ساتھ بہت سے لوگ اس ٹرسٹ کو چلانے میں انکی مدد کرہے ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں مزید ڈونیشن کی ضرورت ہے کیونکہ عورتوں اور بچوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور ہمیں ان سب کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں
یہاں موجود لوگوں سے میری گزارش ہے کہ جتنا ہوسکے وہ ہم بے سہارا لوگوں کی مدد کریں اور اس نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔۔۔
یہ آپ کے مال کا صدقہ ہے جوآپ کے مال کو پاک کرے گا اور یہ رقم آپ کے لیے تو شاید کوئی بڑی رقم نا ہو مگر ان سب کے لیے انکی زندگی کی امید ہے جس پر یہ سب زندہ ہیں انکی سانسوں کی ڈور اسی سے قائم ہے۔۔۔
مجھے امید یے کہ آپ ” UMEED ” کو نا امید نہیں کریں گے۔۔۔
شکریہ۔
اس نے بات ختم کی تو ہر طرف تالیوں کی گونج سنائی دی۔۔۔۔ اس نے دیکھا اس وقت بہت سی آنکھیں نم تھیں۔۔۔
پھر اسٹیج سے نیچے اتر آئی اور باقی بچوں نے اپنی پرفامنس شروع کر دی۔۔
جب وہ اسٹیج کی سیڑھیاں اترتی نیچے آرہی تھی تب دل زور سے دھڑکا تھا اسے یوں لگا جیسے سکندر وہاں موجود ہے اسکے آس پاس ہے۔۔۔۔
اس نے اسکی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر آنکھیں مایوس لوٹ آئیں۔۔۔۔
وہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں کا مرکز بنی ایک نشت پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔
بچوں نے اسکی تیار کردہ ٹیبلو کو خوبصورت انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔۔۔۔اور وہ ایہ بار پھر ماضی میں گم ہوگئی۔
ایک سال پہلے
جب میں سکندر کے گھر سے نکلی تھی تو بلکل ناامید ہو چکی تھی نا کوئی منزل تھی اور نا کوئی سہارا۔۔
پتا نہیں کیا سوچ کر میں ایک بس میں سوار ہوگئی۔۔۔وہ بس کہاں جا رہی ہے کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔۔ بس آنسو تھے جو زندہ ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔۔
کون میرے ساتھ بیٹھا ہے یہ بھی معلوم نہیں تھا۔۔
جب میڈم سعدیہ نے مجھے پکارا اور مجھ سے میرا حال احوال دریافت کیا تو میں کچھ بھی نہیں بتا سکی۔۔۔
لفظ ختم ہوگئے تھے پر آنسو نہیں۔۔۔
یوں مجھے مسلسل روتے دیکھ کر انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور پیار سے میرا سر سہلانے لگیں۔۔۔
اور جب بس رکی تو وہ مجھے اپنے ساتھ یہاں لے آئیں ۔۔۔
مجھے کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور نا ہی مجھ سے میرے ماضی کے بارے میں سوال کیا۔۔
آج سوچتی ہوں کہ اگر وہ مجھے ناملتیں تو میں کہاں ہوتی۔۔۔شاید خودکشی کر لیتی یا پھر سے کسی کوٹھے کی زینت بن جاتی۔
میں اس دن نا امید نکلی تھی کوئی جینے کا مقصد نہیں تھا مگر آج ایک مقصد ہے اور مجھے اسے پورا کرنا ہے مجھے یہاں کے بچوں کے لیے بہت کچھ کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا اللہ میرا ساتھ ضرور دے گا۔۔
وہ اسی سوچ میں تھی جب ماسی رشیدہ نے اسے پکارا۔۔۔
تو وہ حال میں واپس لوٹی اور اسٹیج کی طرف دیکھا تو بچے اپنی پرفارمنس ختم کر چکے تھے اور آئے ہوئے مہمان اپنی طرف سے دی جانے والی ڈونیشن کی رقم کی اناوسمنٹ کر رہے تھے۔۔۔۔ جو وہ بعدمیں چیک کی صورت میں بھجوائیں گے۔
آپ کو میڈم نے اپنے آفس میں بلایا ہے ۔۔۔ اچھا میں آتی ہوں۔
خود کو نارمل کرتی وہ آفس کی طرف آگئی۔
پھر دروازے کو ناک کیا ۔۔۔مے آئی کم ان میڈم۔
آو آو گل۔۔۔
اس نے نوٹ کیا کہ وہاں پر کوئی آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا گل کی طرف اسکی پشت تھی اور چہرہ میڈم کی طرف تھا اس لیے وہ چہرہ دیکھ نہیں سکی۔
ہمارے ٹرسٹ کو آج ایک بہت بڑی ڈونیشن ملی ہے اور یہ خوشی سب سے پہلے میں تمہیں سنانا چاہتی تھی اور ان سے ملوانا بھی چاہتی تھی۔۔
انہوں نے سامنے بیٹھے شخص کی طرف اشارہ کیا۔
میڈم یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے اللہ انہیں اسکا اجر دے۔
وہ واقعی بہت خوش ہوئی تھی اس نے دن رات دعائیں مانگی تھی کہ آج کافی سارا ڈونیشن اکٹھا ہوجائے۔۔
ادھر آو میرے پاس اور کتنی بار کہا ہے مجھے میڈم مت کہا کرو میں تمہاری نانی دادی کی عمر کی ہوں ان میں سے ہی کچھ کہہ لیا کرو ۔۔
وہ مسکراتی ہوئی ٹیبل کی دوسری طرف بیٹھی میڈم سعدیہ کی طرف بڑھی اور ان کو گلے سے لگایا اور پھر جب کرسی پر بیٹھے شخص کا چہرہ واضح ہوا تو اسے لگا کسی نے آسمان سر پر دے مارا ہو۔۔۔
میڈم سعدیہ کا خوشی کے مارے برا حال تھا دوکروڑ کی گرانٹ انکے کتنے کام آسکتی تھی اور اسکی کیا اہمیت تھی وہ اچھی واقف تھیں۔
ان سے ملو یہ ہیں مسٹر سکندر حیات خان شہر کے جانے مانے بزنس مین۔۔۔انکے قدم یہاں پڑے یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔
گل یک ٹک سکندر پر نظریں جمائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔آنکھوں کو کتنی صدیوں کے بعد دیدار یار نصیب ہوا تھا۔۔دل خوشی کے سے مارے زور زور اچھل رہا تھا۔۔۔پر یہ سب کچھ لمحوں کے لیے تھا اور ماضی کی بہت سی یادیں اسکے ذہن کے پردے پر لہرا گئیں۔
تو وہ ایک دم سے سنبھلی اور نظریں سکندر کے چہرے سے ہٹالیں۔۔
سکندر بے تاثر چہرہ لیے بیٹھا رہا جیسے وہ اسے جانتا ہی ناہو۔۔اور پوری توجہ میڈم سعدیہ کی طرف تھی ۔۔
گل کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔ کیا یہ شخص آج بھی مجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔۔اور میری طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔۔۔وہ اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھی۔۔
یہ لیجیئے میڈم سعدیہ چیک میری اور “میری بیوی “کی طرف سے۔۔۔
بیوی لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
بیوی ۔۔۔ اور اس بیوی لفظ نے اسکی دل کی دھڑکنوں کو بریک لگا دی۔۔۔۔۔۔۔وہ تو بھول گئی تھی کہ سکندر آمنہ سے شادی کر چکا ہو گا۔
سکندر نے چیک میڈم کی طرف بڑھا دیا اور پھر کھڑا ہوگیا۔۔
اب مجھے اجازت دیں۔۔۔اسکے ساتھ میڈم بھی کھڑی ہوگئیں
ارے ایسے کیسے سکندر صاحب کچھ تو ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں۔۔
ارے نہیں ایسے تکلفات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔آپ تو مجھے شرمندہ کررہی ہیں اور ویسے بھی آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہا۔
یہ تو آپ کا بڑاپن ہے۔۔۔۔وہ مشکور ہوئیں۔
چلیں ٹھیک ہے۔۔۔۔ پھر کبھی میری ضرورت ہوتو میں حاضر ہوں۔۔۔اللہ حافظ۔
جوابا میڈم سعدیہ نے بھی اللہ حافظ کہا اور سکندر کے ساتھ وہ بھی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
ایک زخمی مسکراہٹگلکے لبوں پر پھیلی ۔۔
چلو اچھا ہی ہوا سکندر تم مجھے بھول گئے اور اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہو۔۔۔ہمیشہ ایسے ہی خوش رہنا۔۔۔۔
آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر چہرے پر آگرا۔

 

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 20

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: