Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 2

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 2

–**–**–

 

سکندر یار کب سے بیٹھا تمہارا منہ دیکھ رہا ہوں۔بندہ مہمان کو چائے پانی کا ہی پوچھ لیتا ہے۔۔
سکندر جو اس وقت کافی مصروف تھا فائیل سے سر اٹھا کر محسن کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔اور پھر آنکھوں میں تھوڑی حیرت سجائے بولا۔۔۔۔اچھا جی اور ذرا یہ بتائیں کہ یہاں مہمان کون ہے؟؟
ظاہر ہے بھئ ” میں” محسن نے اپنی آنکھیں ڈبڈبائی تو سکندر کو ایک دم ہنسی آ گئی۔۔۔۔
او رئیلی مسڑ محسن آپ واقعی مہمان ہیں۔۔۔
جی بلکل اس میں شک والی کوئی بات ہے بھلا۔۔۔ظاہر ہے جب تمہارے آفس میں بیٹھا ہوں تو تمہارا ہی مہمان ہوا نا۔۔۔۔
سکندر ہونٹوں پہ مسکراہٹ دبائے گویا ہوا
غالبا آپ ایسے مہمان ہیں جو ہر وقت یہاں پائے جاتے ہیں۔۔۔اور اتنا سب کچھ ٹھونس کر جاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔۔
محسن تھوڑی خفگی سجائے بولا
ہاں تو کیوں نا آوں یہاں۔۔۔میں نا ہوتا تو تمہارا کیا ہوتا۔۔۔اب کی بار اس نے اپنی شرٹ کے کالر کو بڑے فخر سے اوپر کیا۔
جو بھی ہوتا بہت ہی اچھا ہوتا۔۔۔سکندر اسکی بات کا جواب دے کر انٹرکام پر چائے کی ہدایت دینے لگا۔۔۔
جبھی محسن نے اسے کہا
ارے صرف چائے نہیں صرف چائے میرے حلق سے بھلا کہاں اترتی ہے۔۔۔اسکے ساتھ جو کچھ بھی آفس میں موجود ہے وہ بھی ساتھ لے کر آئیں کہو انہیں۔۔۔
اور سکندر نے بادل نخواستہ انٹر کام پر ساری ہدایات دیں اور پھر اسے واپس رکھ کر محسن کی طرف متوجہ ہوا۔۔
کونسی ایسی ضروری بات تھی جو تم مجھ سے کرنے آئے تھے۔۔۔۔حالانکہ مجھے اچھی طرح سے اندازہ ہے اور تمہارے سابقہ ریکارڈ سے بھی کہ تم یہاں کوئی انتہائی فضول بات کرنے آئے ہو۔۔
یار آج ایک ہی دن میں میری اتنی عزت افزائی میں کہیں خوشی سے مر ہی نا جاوں۔۔۔۔محسن کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔
ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی کی بات تھی جب محسن نے سکندر کو فون کیا اور کہا کہ اسکا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں ہاسپٹل میں ہے۔۔۔۔
اس وقت سکندر اپنی ایک اہم میٹنگ کو چھوڑ کو پاگلوں کی طرح گاڑی دوڑاتا ہوا ہاسپٹل پہنچا تو محسن صاحب بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹے ہوئے نرس کو مسلسل گھورنے اور ساتھ ساتھ بہت کچھ ٹھونسنے میں مصرف تھے۔۔۔۔دود دور تک کسی حادثے کے اثرات موجود نا تھے۔۔۔۔ جب محسن صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا ہوا تو نواب صاحب نے بڑے آرام سے جواب دیا۔۔۔
یار میں تو یہاں ویسے ہی چیک اپ کیلئے آ گیا تھا میرے ایک دوست نے بتایا تھا کہ یہاں کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہیں تو اسی لیے تصدیق کرنے چلا آیا۔۔۔۔اور جب واقعی تصدیق ہو گئ تو میں نے سوچا کہ میرا بہترین دوست اس ثواب کو حاصل کرنے سے رہ نا جائے۔۔۔۔
اور سکندر کا دل کیا کہ ایک زور دار تپھڑ رسید کر ےاس کو۔۔۔۔لیکن دوست تھا ہی اتنا گہرا کہ اسے اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنا پڑا۔۔۔
محسن شروع سے ہی دل پھینک تھا اور جہاں کوئی حسینہ نظر آئی وہیں پہ لٹو ہو جاتا۔۔۔۔۔دونوں بچپن کے دوست تھے۔۔۔۔بلکہ دونوں کے والدین بھی آپس میں کافی گہرے دوست تھے۔۔۔۔سکندر حیات خان ایک جاگیر دار فیملی سے تعلق رکھتا تھا اور شہر کے امیر کبیر خاندانوں میں سے ایک خاندان تھا۔۔۔۔ایک کار ایکسیڈنٹ میں سکندر کے ماں باپ کا انتقال ہو گیا تو محسن کے والدین نے کبھی اسے والدین کی کمی محسوس نا ہونے دی۔۔۔۔شاید اسی وجہ سے وہ محسن کے اور بھی قریب ہوگیا۔۔۔۔۔
سکندر کے اور بھی رشتہ دار تھے لیکن وہ سب کے سب اسکے پیسے کے پیچھے تھے جس کی وجہ سکندر ان سے دور ہی رہنا پسند کرتا تھا۔۔۔
اب بول بھی چکو محسن میں بہت بزی ہوں۔۔۔۔
ہاں تو بتا رہا ہوں نا جلدی کس بات کی ہے۔۔۔۔ایک تو کسی سے میری خوشی برداشت ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔
پچھلے آدھے گھنٹے سے محسن چائے کے ساتھ باقی لوازمات ٹھونسنے میں مصروف تھا اور اب سکندر کی ہمت جواب دے رہی تھی۔۔۔
اچھا اچھا اب ایسے غصے سے تو مت دیکھو بتا رہا ہوں نا۔۔۔
وہ دراصل بات یہ ہے کہ اس نے اپنا کنکھارا اور بات جاری کی۔۔۔۔
مجھے دراصل ایک لڑکی سے محبت نہیں نہیں بلکہ عشق ہو گیا ہے۔۔۔۔محسن نے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔۔۔
او واو اور یہ شاید آپکا اس سال کا کوئی بارواں عشق ہے ہے نا ۔۔۔جسکی اطلاع تم مجھے دے رہے ہیں۔۔۔
سکندر نے جیسے اسے یاد دہانی کروانی چاہی۔۔۔۔
یار وہ پہلے کی بات چھوڑ اس بار مجھے سچ میں عشق ہو گیا ہے۔۔۔۔۔میری راتوں کی نیند سکھ چین بھوک سب اڑ گیا ہے۔۔۔
سکندر نے اسکے سامنے پڑی پلیٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی بلکل اندازہ ہے مجھے کہ آپ کو کس قدر گہرا عشق ہو چکا ہے۔۔۔
یار میرے ساتھ چل نا۔۔۔میں تجھے اس سے ملواتا ہوں۔۔۔۔محسن منت کرنے لگا۔۔۔۔
یار مجھے تو ان سب سے دور رکھ۔۔۔۔
اچھا نا یار چل نا بس آج آخری بار کہہ رہا ہوں پھر نہیں کہوں گا۔۔
یہ آخری بار ہے۔۔۔۔سکندر نے انگلی سے اسے تنبیہہ کی۔۔۔۔
اوکے تھینکیو سو مچ ۔۔۔تم بہت اچھے ہو سکندر۔۔۔۔
جی مجھے پتا ہے۔۔۔۔سکندر مسکراتا ہوا پھر سے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔
اور محسن یہ سوچ سوچ کر ہنس رہا تھا کہ آج کی رات کے اتنے بڑے جھٹکے کے بعد سکندر اسکے ساتھ کیا سلوک کرے گا ہوسکتا ہے وہ اسے شوٹ کر دے۔۔۔۔۔اچھا خیر ہے کردے دوست کے لیے تو جان بھی دی جاسکتی ہے۔۔۔۔اگر میں اسکی بورنگ لائف میں کچھ رنگ بھر دوں گا تو ثواب ہی ملے گا۔۔۔۔۔چار چار فیکٹریاں بےچارہ اکیلے سنبھالتا ہے۔۔۔۔۔گھر میں بھی کوئی نہیں جو اسکی پروا کرے اور شادی کانام لو تو جناب کہتے ہیں کہ جب کوئی ایسی لڑکی جو میری سوچ کے مطابق ہو ملے گی تب کر لوں گا ۔۔۔۔ابھی بہت وقت ہے اب ایسے میں اگر میں اسے تھوڑا انجوائے کروا دوں گا تو بھلا ہی کروں گا نا
____________
گل بہار اور رابیل ساری رات بیٹھی ایک دوسرے کا دکھ بانٹنے میں مصروف رہیں اور دوسری طرف کنیز نے وہ رات جودہ بائی کے کمرے میں گزار دی۔۔۔
جودہ بائی بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور مسلسل پان کھانے میں مصروف تھی۔۔۔
کنیز اسکے پاوں دبانے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔
وہ دل میں ایک آس اور امید کے ساتھ وہاں موجود تھی کہ شاید وہ اپنا فیصلہ بدل دیں اور اس نیلامی کو روک دیں وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب جودہ بائی نے اسے مخاطب کیا۔۔۔
اوئے کنیز خیر ہے تجھے کہاں کھوئی ہوئی ہے؟میرے پیر دبا زرا زور لگا کے۔۔
وہ خیالوں سے لوٹ کر اسکے پیر دبانے لگی۔۔۔ہنیز ہزاروں بار خود کو اس عورت سے ذلیل کروا چکی تھی تو خیر ہے ایک بار اور سہی۔۔۔آخر اپنی بچی کے لیے کیسی ذلت ۔۔۔۔
اسی سوچ کے ساتھ اس نے جودہ بائی کو مخاطب کیا۔۔۔
جودہ بائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔
ہمم بول۔۔۔ کیا کہنا ہے۔۔۔ جودہ بائی نے بڑی بے زاری سے کہا وہ تھکی ہوئی تھی اور سونا چاہتی تھی۔۔۔
وہ جودہ بائی بات دراصل یہ ہے کہ کنیز کی ہمت جواب دینے لگی تو وہ رک گئی۔۔
آگے بھی تو بول ۔۔۔جلدی جو کہنا ہے کہہ مجھے سونا ہے۔۔۔
وہ پھر سے ہمت جمع کرتی بولی جانتی تھی کہ یہ آخری موقع ہے اسکے بعد ایسا موقع کبھی نہیں ملے گا۔۔۔
جودہ بائی مجھے آپ سے گزارش کر نی ہے۔۔۔۔ آپ گل بہار۔۔۔۔۔ گل بہار کو قربان نا کریں اسکی بولی نا لگائیں۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رو پڑی آخر ماں تھی۔۔صرف جنم دینے والی ہی تو ماں نہیں ہوتی پالنے والی کا درجہ اس سے کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔ وہ ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسی ذلیل عورت کے آگے جھکنے اور اسکے پیر پکڑنے پر مجبور ہوگئ تھی۔۔
یہ سن کر جودہ بائی ایک جھٹکے سے اٹھی اور فرش پر بیٹھی کنیز کے بلکل سامنے ہو کر غررائی۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہے جانتی بھی ہے کیا کہہ رہی یے۔۔۔ اپنی اوقات بھول گئی شاید۔۔۔
میں جانتی ہوں جودہ بائ میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔میں اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوں میں نے اس معصوم سی بچی کو بیس سال پالا ہے میں اسے کیسے قربان کر دوں۔۔
او تو تو اپنے کیے کا معاوضہ مانگ رہی ہے۔۔۔چل مل جائے گا تجھے۔۔اس بولی کے بعد کیا یاد کرے گی۔۔۔۔
یہ کہتے اسکے چہرے پہ کمینہ پن اور کمینی ہنسی تھی جو ایسی عورتوں کا خاصا ہوتی ہے۔۔۔
نا جودہ بائی نا مجھے کچھ نہیں چاہیے اس نے جودہ بائی کے پاوں کچھ اور مضبوطی سے پکڑ لیے۔۔۔میں بھلا اپنی بچی کو بیچ کر اس رقم کو لینا چاہوں گی نا نا جودہ بائی۔۔۔۔ میں جسم فروش زور ہوں ممتا فروش نہیں ہوں۔۔۔آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں۔۔۔ابھی وہ کچھ کہتی جودہ بائی غصے سے بولی۔۔
تو پھر دفع ہو جا یہاں سے کیوں بیٹھی ہے یہاں پہ۔۔۔اس نے ٹانگ پورے زور سے کنیز کو ماری جو اس کے منہ پہ جالگی اور وہ کچھ قدم دور جا گری۔۔۔
یہاں سارے فیصلے میری مرضی کے ہوتے ہیں جودہ بائی کی مر ضی کے اور جو بات میں کہہ دوں وہ پتھر پہ لکیر ہوتی ہے اتنا تو تو جانتی ہی ہے کیوں۔۔
کنیز فورا سے خود کو سنبھالتی ہوئی اٹھی اور جودہ بائی کے پیروں میں گر کر گڑ گڑا نے لگی۔۔۔ وہ روتے روتے کہہ رہی تھی جودہ بائی میں جانتی ہوں آپ حاکم ہیں آپکا ہر حکم مانا جاتا ہے تبھی آپ سے گزار ش کر رہی ہوں کہ میری بچی کو بخش دیں۔۔۔وہ جیسے پہلے یہاں پر کما رہی ہے ویسے ہی کماتی رہے گی مگر اسے نا بیچیں اسے نا بیچیں جودہ بائی آپکو اللہ رسول کا واسطہ۔۔۔اسے چھوڑ دیں ۔۔۔ایسا مت کریں۔۔
اس نے چہرہ اٹھا کر جودہ بائ کو دیکھا جہاں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور لگتا تھا جیسے وہ اس بات سے بہت زیادہ لطف اندوز ہو رہی ہے۔۔
ہوگیا تیرا یہ ڈرامہ چل اب نکل یہاں سے چل دفع ہو۔۔۔۔یہ نیلامی تو ہو کر رہے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔جو خرچہ ہم تیری لاڈلی پہ کر چکے ہیں آخر اسکو دس گنا بڑھا کر وصول بھی تو کرنا ہے۔۔۔۔
چل اب نکل کھڑی کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہے جا یہاں سے ۔۔۔رو رو کر منحوسیت پھیلا دی۔۔۔ وہ کہہ کر بڑے آرام سے بیڈ پر سونے کے لیے لیٹ گی اور کنیز مردہ قدموں کے ساتھ اسکے کمرے سے باہر آگئ۔۔۔۔
اس نے صدق دل سے اپنے رب کو پکارا تھا اور اپنی بچی کے لیے دعا کی تھی۔۔۔۔
اسکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور دل کی تڑپ اور آہ اس پورے کوٹھے کو جلا کر خاکستر کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔۔
ماں کی دعا عرش کو بھی ہلا دیتی ہے اور شاید واقعی اس نے عرش کو ہلا ڈالا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئ اور ساری رات روتے بلکتے اپنے خدا کے حضور سر بسجود ہو کر گزار دی۔۔۔
اگلے دن کا سورج ان دونوں کی زندگیوں میں کونسی امید لے کر طلوع ہوا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو گل بہار جائے نماز تہہ کررہی تھی۔۔۔ نظر جب کنیز پر پڑی تو ٹھٹھک گئ۔۔۔ اور فورا سے اسکے قریب آکر گال کو چھوا۔۔۔
یہ یہ کیسے لگی چوٹ ہاں۔۔۔ گال اتنا سوج رہا ہے۔۔۔۔وہ فکر مندی سے پوچھ رہی تھی اور آنسو بس نکلنے کو تیار تھے۔۔۔۔
آرے کچھ نہیں ہوا مجھے میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ رات کو اندھیرا زیادہ تھا تو بے دھیانی میں پیر پھسل گیا اور چوٹ لگ گئ۔۔۔
گل بہار جانتی تھی کہ یہ کارنامہ کس نے سر انجام دی ہے اسی لیے خاموش ہو گئ۔۔۔۔ اور انکو اپنے بیڈ پر بٹھایا اور مرہم اٹھا کر لگانے لگی۔۔۔۔
آنسو ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے دونوں کی آنکھوں میں پوری رات جاگنے سے سرخی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھیں۔۔۔۔
کاش جتنی آسانی سے جسموں کے زخم بھرنے کی دوا مل جاتی ہے اتنی آسانی سے روح کے زخم بھرنے کی بھی دوا میسر آ سکتی۔۔۔۔ کاش
جب گل بہار مرہم لگا چکی تو کنیز فورا سے اٹھ کھڑی ہوئی اور رخ پھیر ے بولی تمہارے لیے ناشتا لاتی ہوں کہہ کر رکی نہیں کہ کہیں آنسو بہہ کر گل بہار کی بچی کچھی ہمت کو نا توڑ دیں۔۔
اس دن وہ دونوں ہزار ہا موت مری تھیں اور دونوں ایک دوسرے کو دانستہ دیکھنے سے گریز کر رہی تھیں۔۔۔۔دل تڑپ رہا تھا خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔جسم سے جان نکل رہی تھی مگر دونوں بےبسی کی تصویر بنی رہیں۔۔۔۔۔
یہ دنیا اتنی ظالم اتنی سفاک کیسے ہو جاتی ہے کیا کسی کے جذبات کسے کے احساسات کسی کی عزت کچھ بھی نہیں دو کوڑی کے برابر بھی نہیں۔۔۔۔
کیا صرف دولت مند ہی عزت دار ہوتے ہیں اور ان میں ایسے ایسے نام نہاد عزت دار بھی ہوتے ہیں جو صرف دن کے اجالے میں ہی اپنے اوپر خول چڑھائے پھرتے ہیں اور رات کو اس سے آزاد ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
کنیز نے ایک بات پھر جودہ بھائی کی منت سماجت کی تھی مگر اس بار تو انہوں نے یہ کہہ کر حد ہی کر دی
“اگر اب تم نے مجھ سے یہ بات کی تو گل بہار کے ساتھ ساتھ تمہاری بولی بھی لگوا دوں گی۔۔۔اور اگر تمہیں کسی نے نا خریدا تو میں تمہیں آگ کی بھٹی میں پھینکوا دوں گی”۔۔
اس دن صبح سے ہی ساری تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔۔۔جودہ بائی ہر چیز کی نگرانی کر رہی تھی کہیں کسی چیز کی کمی نا رہ جائے۔۔۔۔۔
آخر دن گزر ہی گیا اور شام کی ہولناکی ہر طرف پھیلنے لگی۔۔۔وہ شام پھر آہستہ آہستہ رات میں بدلنے لگی۔۔۔۔۔وہ رات اتنی تاریک تھی کہ شاید ہی کبھی ان دونوں کی زندگی نے اتنی تاریک رات دیکھی ہو۔۔۔۔۔سب کچھ جیسے اس اندھیرے کی نظر ہوجانے والا تھا۔۔۔۔جان تو ان دونوں کی نکل ہی چکی تھی صرف جسم باقی تھے خالی ڈھانچے ہر احساس ہر درد سے بیگانے۔
گل بہار خود کو تیار کر چکی تھی۔۔۔۔اس نے خود سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اب نہیں روئے گی۔۔۔رونے سے حاصل بھی کیا ہونا تھا۔۔۔۔بس اب آگے اس کے جسم کے جتنے بھی پرخچے اڑیں جتنے بھی چیتھڑے اڑیں وہ اف تک نہیں کرے گی۔۔۔۔جو بات وہ ہمیشہ سے جانتی تھی اب اسکے ہونے سے ڈر کیسا۔۔۔۔جو مقدر میں لکھا ہو اسے کون مٹا سکتا تھا۔۔
اس نے آج پھر خود کو ایک دلہن کی طرح سجایا اور جودہ بائی کے ساتھ سیڑھیاں اترتی نیچے آگئ۔۔۔۔ جہاں اسکی پھانسی کے سارے انتظامات مکمل تھے۔۔۔۔
پھانسی نہیں بلکہ اس میں تو ایک ہی بار روح جسم کے بوجھ کو اٹھا کر پھینک دیتی ہے۔۔۔اسے تو ہر روز مرنا تھا اور دن میں نا جانے کتنی موت مرنا تھا۔۔۔
سب لوگ اپنی نشت سنمبھال چکے تھے اور اب رقص کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا تھا.
وہاں بیٹھے تین خواجہ سراوں نے اپنے مخصوص انداز میں تبلہ بجانا شروع کیا اور گل بہار کے قدم اسی تھاپ کے مطابق دھرکنا شروع ہوئے۔
آج وہ جنونیت کی انتہا کو چھو رہی تھی اور پوری طاقت صرف کر رہی تھی۔۔۔
جیسے جیسے داد بڑھتی جارہی تھی اسکے قدم اور بھی تیزی سے دھرک رہے تھے۔۔۔ہاتھ اور بازوں بہت تیزی سے اپنی حرکتیں بدل رہے تھے۔۔۔ایک طوفان برپا تھا اسکے اندر ایک قیامت تھی ایک آگ تھی جو سب کو جلا کر خاک کرنا چاہتی تھی۔۔۔اگر وہاں کوئی انسان ہوتا تو اس وقت اسکی اندرونی کیفیت کو سمجھ سکتا تھا مگر وہاں بیٹھے سب کے سب جانور تھے جو پیسا پھینک کر صرف تماشا دیکھتے ہیں۔
وہ پاگلوں کی طرح ناچ رہی تھی اور اسی دیوانگی کے عالم میں اسکے گھونگھروں ٹوٹ کر فرش گرنے لگے۔۔۔وہ ان گھونگھروں پہ ناچ رہی تھی پیر زخمی ہو چکے تھے خون بہہ رہا تھامگر وہ ناچ رک رہی تھی اور رکنا نہیں چاہتی تھی اور نا ہی کوئی اسے روکنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اسکا دماغ اسکے پیر شل ہونے لگے اسکے جسم سے جان نکل رہی تھی وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ذہن کے پردے نے ہر نقش کو مٹانا شروع کردیا۔۔۔۔تبدلے کی تھاپ اب بھی اسے سنائی دے رہی تھی لوگ اسکے قدموں میں نوٹ نچھاور کر رہے تھے واہ واہ کی آواز سنائی دے رہی تھی اور گل بہار کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔صرف ایک لمحہ گزرا تھا کہ وہ چکر ا کر ہوشو ہواس کھو کر گرنے لگی تب اچانک کہیں سے دو ہاتھ نمودار ہوئے جنہوں نے اس معصوم سی لڑکی تھام لیا۔۔۔۔وہ اسکے بازوں میں جھول رہی تھی اور وہ شخص اسکے چہرے کی معصومیت میں کھو چکا تھا۔
_________
شام کے چھ بج رہے ہیں اور نواب صاحب ا بھی تک آفس میں بیٹھے ہیں۔۔۔محسن چہرے پر خفگی جمائے کہنے لگا۔۔۔
آج کون سی نئ بات ہے میں تو روز یہاں سات بجے تک بیٹھتا ہوں۔۔۔ سکندر یونہی فائل میں سر دیئے بولا۔۔
تو اسکا مطلب کہ تمہیں بلکل بھی یاد نہیں۔۔۔کہتا کرسی کو کھنچتا اسکے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹھ گیا۔۔
کیا یاد نہیں ہے مجھے۔۔۔یار اگر تمہارا کوئی پھر سے ڈرامہ کرنے کا موڈ ہے تو پلیز میں بہت بزی ہوں ۔۔۔۔ سکندر آج واقعی مصروف تھا اور اسی وجہ سے آج صبح سے اس نے کھانا تک نہیں کھایا تھا۔۔۔ وہ بہت تھکا چکا تھا اور شدید جھنجھلا ہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔۔
محسن نے اس سے فائل کھینچ لی اور اسکی پوری توجہ حاصل کرتے ہوئے کچھ یاد کروانے لگا۔۔۔
میں نے آج دن میں تمہیں کچھ کہا تھا کہ ہمیں کہیں چلنا ہے اور تم نے وعدہ کیا تھا کچھ یاد آیا۔۔
او ہاں لیکن یار آج رہنے دو کل کا کوئی ٹائم فکس کر لو۔۔۔میں بہت تھک چکا ہوں۔۔کہیں جانے کی ہمت نہیں ہے۔۔
میں اپنی ہونے والی بیوی کو ہمارے آنے کی خبر کر چکا ہوں اور وہ بے چاری صبح سے تیاریوں میں لگی ہوئی ہے اور تم اب یہ کہہ رہے ہو کہ تم نہیں جا سکتے۔۔۔محسن کہہ کر منہ پھلا کر بیٹھ گیا۔۔۔آنکھوں میں شدید ناراضگی تھی۔۔
تو تم نہیں مانو گے؟؟؟
بلکل بھی نہیں۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں ۔۔۔ سکندر نے آخر کار ہمیشہ کی طرح اسکے سامنے ہتھیار ڈال دیئے جانتا تھا کہ یہ کسی صورت جان نہیں چھوڑے گا۔۔۔
اوہ واو گریٹ۔۔۔دوست ہو تو تیرے جیسا۔۔۔۔چلو نکلتے ہیں پھر۔۔
جی نہیں پہلے ہم گھر جائیں گے وہاں میں اپنا حلیہ درست کروں گا یہ نا ہو تمہاری محبوبہ مجھے دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جائے کہ یہ کس جنگلی جانور کو اٹھا کر لے آئے ہو۔۔۔
ہا ہا ہا۔۔۔محسن نے ایک زور دار قہقہہ لگا یا ۔۔
ارے نہیں نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔تو ماشاءاللہ ویسے ہی اتنا گڈ لککن اتنا چارمنگ ہے کہ تجھ پہ تو کوئی بھی عاشق ہو جائے۔۔۔محسن نے آنکھ مرتے ہوئے کہا۔۔
تقریبا ایک گھنٹے کے بعد وہ دونوں سکندر کے عالیشان محل نما گھر سے نکلے تھے۔۔۔کار کے اندر محسن نے خوب دھماکے دار قسم کے گانے لگائے ہوئے۔۔۔سکندر کے بار بار منع کرنے کے باوجود اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
آخر کار اس نے خود ہی والیوم کو آہستہ کو دیا۔۔۔
ابے یار اتنا مزے کے سونگ سن رہا تھا کیا کرتا ہے تو بھی۔۔۔
ہاں تو سن پر میرے کانوں کے پردے کیوں پھاڑ رہا ہے۔۔۔ سکندر کی پوری توجہ ڈرائیونگ پر تھی۔۔۔
ایک تو تیری پسند وہ بابا آدم کے زمانے والی ہے۔۔نصرت فتح علی خان۔۔۔مہدی حسن۔۔اور وہ محمد رفیع۔۔۔
یار بندہ اس زمانے میں ان لوگوں کو بھی سنتا ہے۔۔۔محسن مسلسل اسکا مذاق اڑانے میں مصروف تھا۔۔۔
بس بیٹا تو خیر منا جب تیری بیوی آئے گی نا تو تیرے سارے بل نکال دے گی اور شکر ہے میری تجھ سے جان چھوٹے گی۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا تو بے فکر رہے ۔۔۔محسن نے سکندر سے بڑی بے پرواہی سے کہا۔۔۔
اچھا چلو دیکھتے ہیں۔۔۔کہہ کر جیسے سکندر کو کچھ یاد آیا تو پوچھا
او ہاں یہ تو بتا بھابھی کا نام کیا ہے تم نے تو کچھ بتایا ہی نہیں۔۔۔
سب پتا چل جائے گا فکر نا کر بس پہنچنے ہی والے ہیں اس سے مل کے خود ہی جان جاو گے۔۔
کہہ کر محسن نے دل ہی دل میں ہنسنا شروع کیا۔۔۔۔آج تو بیٹا تیرے لیے میں نے بہت بڑا سرپرائز تیار کر رکھا ہے کیا یاد کرے گا کس دوست سے پالا پڑا ہے ساری زندگی دعا دے گا مجھے۔۔۔۔ آگے کا سوچ سوچ کر اسکی ہنسی ہی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک سنسان علاقے میں موجود تھے۔۔۔
جہاں آبادی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔گاڑی انہوں نے ایک گھر کے سامنے روکی جسے جوب صورت روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔سکندر کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔۔
تجھے یقین ہے نا کہ یہی اسکا گھر ہے۔۔
ہاں ہاں بلکل چلو اندر چلتے ہیں پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں۔۔۔۔محسن کا دل اب زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ کہیں سکندر کو شک نا ہو جائے۔۔
سکندر کو اب بھی تسلی نا ہوئی تو پوچھنے لگا
اچھا تو ان کے گھر کوئی خاص فنگشن ہے کیا؟؟؟۔۔کیونکہ صرف ہماری آمد میں اتنی تیاری تو نہیں ہو سکتی نا۔۔۔
اب یار تجھے تو بندہ CID یا پھر ISI میں بھرتی کروا دے کتنے کوئی تم شکی ہو۔۔۔۔اندر چل کر خود پوچھ لینا کہ کیا ہے کیوں ہے کیسے ہیں۔۔۔۔چلو اب محسن نے تھوڑا خفگی سے کہا تو پھر دونوں نے قدم آگے بڑھا دیئے۔۔
مرکزی دروازہ کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک طویک راہداری تھی وہ دو نوں ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔۔کہ اچانک محسن نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔۔۔
او یاد سکندر میں تو اپنا موبائل اور وہ گفٹ تو وہیں گاڑی میں بھول آیا جلدی چابی دو میں لیکر آتا ہوں۔
چلو دونوں چلتے ہیں۔۔
ارے تم کیوں چلتے ہو میں جود جا کر لے آتا ہوں تم جاو۔۔سب سے ملو میں بس دو منٹ میں آیا۔۔
محسن سکندر کے ہاتھ سے چابی لکیر تیز تیز قدموں کے ساتھ واپس آیا اور گاڑی کا لاک کھول کر سٹاٹ کی اور فل اسپیڈ میں دوڑاتا ہوا وہاں سے غائب ہوگیا۔۔۔۔
اس وقت اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔اور بلند آواز میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔انجوائے مائی فرینڈ۔۔۔۔انجوائے۔۔
سکندر آگے چلتا گیا تو روشنیاں اچانک مدھم ہوگئیں وہاں بہت سے لوگوں کی آواز سنائی دے رہی تھی مگر کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔اس نے غور کیا تو ان آوازوں میں اسے گھنگھروں کی آواز اور تبدلے کی تھاپ بھی سنائی دی۔۔۔۔
اس نے سوچا شاید گھر میں بہت اونچی آواز میں ٹی وی دیکھا جا رہا ہے۔۔
وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا لیکن محسن کا کوئ اتا پتا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا اور اچانک اسکے قدم ایک منظر کو دیکھ کر تھم گئے۔۔۔۔
ایک بڑے سے ہال کمرے میں ایک لڑکی پاوں میں گھنگھروں باندھے ناچ رہی تھی۔۔۔سارے منظر میں صرف وہ لڑکی ہی نظر آرہی تھی باقی ہر چیز آنکھوں سے اوجھل تھی۔۔۔۔
کیا سحر تھا اس میں کہ وہ نظر تک نا جھپکا سکا۔۔۔یوں لگتا تھا جیسے پوری دنیا میں صرف وہ دونوں ہی رہ گئے ہوں۔۔۔۔اسکی ہر ایک ادا قاتلانہ تھی۔۔۔اس نے کسی کوبھی آج تک اسطرح خوبصورتی کے ساتھ ناچتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔کونسی ایسی کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔
اس کے آفس اور فیکٹری میں ہزاروں کی تعداد میں لڑکیاں کام کرتی تھی۔۔۔۔سینکڑوں رشتے وہ ریجیکٹ کر چکا تھا۔۔۔اسے آج تک ایک خاص لڑکی کی تلاش تھی اور یوں لگتا تھا جیسے اسکے خوابوں کی تعبیر اسکے سامنے ہو اور اگر اس نے پلک جھپکی تو وہ نظروں سے غائب ہو جائے گی۔۔۔۔۔ایک عجیب سا احساس تھا جس سے وہ اب تک انجان رہا تھا۔۔
گل بہار کے گھنگھروں ٹوٹ کر اسکے پیروں کو زخمی کرنے لگے۔۔۔سکندر سے ایک پل کے لیے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ خود اپنی کیفیت پہ حیران تھا کہ آخر ایک انجان لڑکی کے لیے اسے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔
مزید ایک پل ہی گزرا تھا کہ وہ پوری رفتار سے گل بہار کی طرف بھاگنے لگا۔۔۔۔گل بہار گرنے کو تھی وہ دیکھ چکا تھا کہ اسکے پاوں شدید زخمی ہو چکے ہیں اور بری طرح چکرا رہی ہیں وہ دیوانہ وار بھاگتا اسکے پاس پہنچا۔۔۔۔۔تبھی وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہوتی اسکے مضبوط بازووں میں جھول گئ۔۔۔سکندر نے اتنی مضبوطی سے اسے پکڑا جیسے وہ اسکی کل کائنات ہو۔۔۔۔اور اسے دیکھتا ہوااسکے حسن اور اسکی معصومیت میں کھو سا گیا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: