Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 3

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 3

–**–**–

 

کون کہتا ہے صدیاں درکار ہوتی ہیں
فقط اک نظر چاہیے راکھ ہونے کو
وہ اسکی بانہوں میں جھول رہی تھی اور نظریں اسکے چہرے پر مرکوز تھیں۔۔۔۔نا جانے کتنے پل گزرے تھے یا پھر یوں کہیں کہ نا جانے کتنی صدیاں۔۔۔جب کسی کی بھاری آواز گونجی تو ایک طلسم سا ٹوٹا ۔۔۔اور وہ خیالوں سے حقیقت میں لوٹا۔۔
ارے ارے کوئی سنتا ہے جلدی سے ساری روشنیاں جلا دو۔۔۔۔ارے کیا ہو گیا میری گل بہار کو ۔۔۔میری لاڈو کو۔۔
جب ساری روشنیاں جلائی گئیں تو سارا منظر صاف ہوگیا۔۔
آج جودہ بائی کے کوٹھے پر ساری عورتیں چھت پر کھڑی اس منظر کو دیکھ رہی تھیں۔۔انکی تعداد چالیس سے زیادہ تھی اور خواجہ سراء اس کے علاوہ تھے۔۔۔جن میں سے بیشتر کو انکے گھر والے خود چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔ بلاشبہ یہ ایک مشہور کوٹھا تھا اور ہر عمر کی عورتوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ جودہ بائی کا کوٹھا امیروں اور رئیسوں میں اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔۔۔اور ان لوگوں کی بھی اچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی۔۔۔۔۔۔جس میں ہر عمر کے لوگ اپنا اپنا حصہ ڈالنے کے لیے سر دھڑ کی باذی لگانے کو تیار تھے ۔ جو کسی بھی قیمت پر ایک جسم کو خرید کر اپنے کسی مکان یا پھر فارم ہاوس کی زینت بنانا چاہتے تھے۔۔۔ اور جب ان لوگوں کا دل بھر جاتا تو اس لڑکی کی اوقات ایک کتے سے بھی کمتر رہ جاتی اور اسے کسی فالتو کاٹھ کباڈ کی طرح سڑک پر پھینک دیا جاتا۔۔۔۔
روشنی کی بحالی سے ایک لمحے کو سکندر کی آنکھیں چندھیانے لگی اور جو منظر اس کے سامنے نمو دار ہوا وہ اسکے خاندان کی سات نسلوں نے بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
اسے ایک لمحہ لگا تھا یہ سمجھنے میں کہ وہ کہاں ہے۔۔
سکندر نےایک نظر اپنے قریب ہواس باختہ عورت کو دیکھا جو اس وقت ایک بے حد قیمتی ساڑھی میں ملبوس تھی ۔۔بالوں میں موتیے کے پھول تھے۔۔۔منہ میں پان دبائے بلند آواز میں پتا نہیں کس کس کو پکا ر رہی تھی۔۔۔ چہرے پر مکاری صاف عیاں تھی۔۔
سکندر نے دوبارہ گل بہار کی طرف دیکھا جو اب بھی اسی حالت میں تھی بلکل ایک معصوم سی پری جو زمانے کی دلدل میں پھنس چکی تھی۔۔۔اسکے چہرے پر تھکان اور زمانے کی گرد واضح تھی۔۔
چند لمحے گزرے تھے کہ کنیز دوڑتی ہوئی آئی۔۔۔وہ انتہائی گھبراہٹ اور بے چینی کا شکار تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔اس نے فورا گل بہار کو تھاما۔۔۔۔اسکے ساتھ رابیل بھی موجود تھی وہ بھی گل بہار کو اسطرح دیکھ کر بہت دکھی تھی۔۔دونوں نے اسے فورا سکندر کے ہاتھوں سے لیا اور اسے آہستہ آہستہ اندرونی کمرے کی طرف لے جانے لگیں۔
جب وہ نظروں سے دور جارہی تھی تو سکندر کو یوں لگا گویا کوئی اسکے جسم سے جان نکال کر لے گیا ہو۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہی چل پڑے۔۔۔اپنی حالت پر وہ خود حیران تھا۔۔۔۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تو پھر کیوں آج۔۔۔
وہ اپنے اندر کی جنگ لڑ رہا تھاجب جودہ بائی نے بلند آواز میں سارے مہمانوں سے کہا۔۔۔
آپ سب تشریف رکھیں کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔۔بس ہماری لاڈو کو تھوڑا سا چکر آگیا ہے ۔۔۔تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی ۔۔آپ لوگ آرام سے بیٹھیے۔۔۔۔
وہ سب جو گل بہار کی اس حالت پر پریشان ہوکر کھڑے ہو گئے تھے پھر سے اپنی نشتوں پر بیٹھ گئے۔۔۔۔
سکندر جو نا جانے کونسی کیفیت کا شکار تھا جودہ بائی نے اسے مخاطب کیا تو وہ چونکا۔۔۔۔
آپ بھی تشریف رکھیے حضور۔۔۔۔ہمارے مہمان اسطرح کھڑے رہیں یہ ہمیں گوارہ نہیں۔۔۔۔
نہیں مجھے جانا ہے دیر ہو رہی ہے۔۔۔وہ ناگواری سے کہہ کر تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
جودہ بائی نے دوبارہ اسے روکنے کی کوشش کی پر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔۔وہ اس گندگی سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا۔۔
جودہ بائی نے ناک پر سے مکھی اڑائی اور چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ملا کر تالی بجائی تو فورا ایک خواجہ سراء نمودار ہوا۔۔
جی جودہ بائ کیا حکم ہے؟؟؟
نیلامی کی تیاری مکمل ہے؟؟
جی حضور ساری تیاری مکمل ہے۔۔۔آپ حکم کریں۔۔۔۔
تو شروع کرواو ۔۔۔۔اب مزید دیر نہیں کر سکتے۔۔۔۔
جی حضور ابھی کرتے ہیں۔
ایک خواجی سراء مائیک تھامے گویا ہوا۔۔۔
دوستوں جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ آج ہم یہاں گل بہار کی بولی لگانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔۔۔تو آپ سے گزارش ہے کہ پانچ لاکھ سے بولی شروع کی جائے۔۔۔۔
سکندر ابھی کچھ ہی دوری طے کر پایا تھا کہ اسکے پاوں جیسے آگے چلنے سے انکاری ہو گئے۔۔۔۔
دل نے جیسے زور سے کہا تھا۔۔۔۔
“تم خود تو چلے جاو گے اور اسے تنہا ہی چھوڑ دو گے۔۔۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔تم کیسے اسے کسی کی ہوس کا نشانہ بننے دے سکتے ہو۔۔۔۔تم کیسے اسے اس دلدل میں تنہا چھوڑ سکتے ہو”۔۔۔۔
کیا تم اسکے بغیر رہ لو گے ؟؟؟کیا تم یہ سب سہہ سکو گے؟؟؟
سکندر نے اپنے دل کو سمجھایا ۔۔۔مجھے بھلا کیوں برا لگے گا۔۔۔اور میں کیوں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔آخر لگتی ہی کیا ہے وہ میری۔۔۔۔۔اس نے اپنے اندر اٹھنے والے سارے سوالوں کی تردید کی اور قدم آگے بڑھا دئیے۔۔۔۔۔۔اور پھر مرکزی دروازہ عبور کرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
بولی بڑھتی جارہی تھی کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔حرام کے پیسے کی بھلا کون پرواہ کرتا ہے۔۔۔۔حرام کو آخر حرام میں ہی ملنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
جودہ بائی ابھی تک اس سوٹٹڈ بوٹٹڈ بندے میں الجھی ہوئی تھی جو آج پہلی بار دکھائی دیا تھا ۔۔۔۔۔۔کیا شاندار بندہ تھا۔۔۔۔۔بہت ہی کوئی رئیس معلوم ہوتا تھا۔۔۔۔۔پر خیر چھوڑو میرے پاس کونسا ایسے لوگوں کی کمی ہے۔۔۔۔۔وہ سر جھٹکتی پھر سے بولی کی طرف متوجہ ہو گئ جو اب ستر لاکھ تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔ایک کمینہ خیز مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پہ نمودار ہوئی۔۔۔
___________
کنیز کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
سنبھالیں خود کو آپ یہ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔آپ صبر رکھیں۔۔۔
رابیل کنیز کو تسلی دینے لگی۔۔۔
کیسے صبر کر لوں کیسے۔۔۔میری پھول سی بچی کو ان بھیڑیوں کے حوالے کر رہے ہیں جو اسے نچ نوچ کر کھا جائیں گے اور میں کچھ بھی نہیں کر پا رہی ہوں۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کتنی بے بس ہوں میں کتنی لاچار کتنی مجبور۔۔۔۔کنیز کے لہجے میں شکست واضح تھی۔۔۔
آپ حوصلہ رکھیں۔۔۔پہلے ہی گل بہار کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔وہ آپ کو ایسے دیکھے گی تو اور زیادہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔دونوں نے بیک وقت گل بہار کو دیکھا جو بےسدھ سی اپنے بستر پر پڑی تھی۔۔
زخموں پر مرہم تو لگا دیا تھا مگر ابھی تو اسکی قسمت میں نا جانے کتنے زخم باقی ہیں۔۔۔
کنیز بس سوچ کر ہی ڈھے سی گئ۔۔
یہاں سے خریدی جانے والی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اس سے سب ہی واقف ہیں۔۔۔
انسانوں کی ان بولیوں کو دیکھ کر ہزاروں سال قبل کاوہ وقت جہالت یاد آتاہے جب لوگوں کو خریدا اور بیچا جاتا تھا۔۔۔اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نا کسی صورت میں جاری ہے۔۔۔ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جس میں خریدنے اور بیچنے والے دونوں اپنے ناجائز مقاصد کی تکمیل میں ہر حد پار کر جاتے ہیں۔۔۔
کتنا تکیلف دہ ہوتا ہے یہ سوچ کر بھی کہ جو سانس آپ لے رہے ہیں وہ خریدی جا چکی ہے۔۔۔آپ سر سے پیر تک بک چکے ہیں۔۔۔آپ کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔صرف ایک غلام ہیں جو ہر حکم کو بجا لانے والے ہیں۔۔۔اذیت و تکلیف کی حد ہے۔۔۔
کنیز نے اپنے بہتے ہوئے آنسووں کو صاف کرکے بستر پر پڑی گل بہار کو دیکھا جس کے سرہانے بیٹھی رابیل اسے پانی پلانے اور ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔مگر اس نے تو جیسے نا اٹھنے کی قسم کھائی تھی۔۔۔
یہ تو ہوش میں ہی نہیں آرہی کیا کریں۔۔۔رابیل فکر مند سی پوچھ رہی تھی۔۔۔
تو جا جا کر ایک گلاس گرم دودھ لے کر آ میں اس کے پاس ہوں۔۔۔ٹھیک ہو جائے گی میری بچی تو جا۔۔۔جلدی جا۔۔۔
وہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی اور کنیز اسکے سرہانے بیٹھ کر اسکے سر کو سہلانے لگی۔۔۔
آج تجھے جی بھر کے دیکھ لوں پھر شاید موقع ملے یا اور کہتے کہتے آنسووں نے پھر سے بند توڑ دیئے تھے۔۔۔
باہر بولی اب اپنے آخری مراحل میں تھی جو اب تک کی سب سے بڑی بولی بن چکی تھی۔۔۔ایک کروڑ پچاس لاکھ۔۔۔
جی آگے ہے کوئی بولی لگانے والا ایک کروڑ پچاس ۔۔ایک۔۔۔ایک کروڑ پچاس لاکھ۔۔۔۔۔
ایک کروڑ پچاس لاکھ کی بولی لگانے والے سیٹھ صاحب جن کی عمر لگ بھگ ساٹھ سال ہوگی۔۔۔بڑے خوش دکھائی دیتے تھے جیسے کہ بہت بڑا معارکہ مار لیا ہو۔۔۔اس شخص نے شاید ہی اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو دس روپے کے گجرے لے کر دیئے ہوں۔۔۔اور آج ایک طوائف کے کوٹھے پر ڈیڑھ کروڑ کی بازی لگا چکا تھا۔۔۔۔
ایک کمینہ خیز مسکراہٹ جودہ بائی کے چہرے پر موجود تھی۔۔۔اس نے اتنی بڑی رقم کی توقع نہیں کی تھی۔۔۔۔اس کو تو جیسے ہر طرف نوٹوں کی بارش ہوتی دکھائ دے رہی تھی۔۔
جی تو کوئی اور نہیں ہے بولی لگانے والا۔۔۔۔ایک کروڑ پچاس لاکھ ۔۔۔دو۔۔۔۔۔اور ایک کروڑ پچاس لاکھ۔۔۔۔
ابھی جواجہ سراء کے الفاظ منہ میں ہی تھے
تبھی اچانک آواز گونجی۔۔۔دو کروڑ۔۔۔۔
اور سب کے منہ حیرانگی سے کھل گئے۔۔۔۔۔۔ اور وہ سوچنے لگے کہ کتنا بے وقوف انسان ہے بھلا ڈائریکٹ کوئی پچاس لاکھ کا ہندسہ کراس کرتا یے۔۔۔
جودہ بائی نے بڑی گہری نظروں سے اس لڑکے کو دیکھا اور سوچا۔۔۔کیا چیز ہے یہ؟؟؟
جی تو دو کروڑ سے آگے کوئی بولی لگائے گا۔۔۔اور سب نے جیسے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔۔۔اس رقم میں تو وہ ہزار لڑکیاں خرید سکتے تھے تو پھر کیا ضرورت تھی ایک لڑکی پہ اتنی بڑی رقم لٹانے کی۔۔۔
جی تو دو کروڑ ۔۔ایک۔۔۔۔دو کروڈ۔۔۔۔دو۔۔۔۔دو کروڑ ۔۔۔تین۔۔۔
جواجہ سراء نے اعلان کیا۔۔۔
مبارک ہو جناب والا۔۔۔گل بہار آپکی ہوئی۔۔۔
جودہ بائی بڑے فخر سے اپنی کرسی سے اٹھی اور قدم اس انجان لڑکے کی طرف بڑھا دیئے۔۔۔۔
مبارک ہو حضور۔۔۔بہت بہت مبارک ہو۔۔۔آج سے گل بہار آپکی ہوئی۔۔
مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ایک لڑکی کے لیے دو کروڑ کچھ زیادہ نہیں ہیں۔۔۔۔شاید آپکو پچھتانا پڑ جائے اپنے اس سودے پر۔۔
اس نے جودہ بائی کو کوئی جواب نا دیا۔۔۔البتہ دل کہہ رہا تھا کہ تم کیا جانو جسم فروش عورت۔۔۔کہ محبت کیا ہوتی ہے؟؟
______
گل بہار بیڈ پر بےسدھ لیٹی ہوئی تھی اور اسکے اطراف میں کنیز اور رابیل بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔
رابیل میری بچی۔۔میری جان ۔۔۔ ہوش میں کیوں نہیں آرہی۔۔۔وہ رابیل سے پوچھ رہی تھی۔۔۔آنسو تھے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ وہ دونوں اپنی طرف سے پوری کوشش کر چکی تھیں اسے ہوش میں لانے کی پر ہر کوشش بے کار تھی۔۔۔
کنیز کی ہمت اب جواب دے چکی تھی اور وہ ایسے ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھی تھی جو اپنی آخری بازی میں اپنی جان ہار چکا ہو۔۔۔
آپ فکر نا کریں کنیز کچھ نہیں ہوگا گل بہار کو۔۔۔یہ بہت ہمت والی ہے۔۔۔۔ جلد ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ وہ کنیز کو ہمت دے رہی تھی جو اپنی اولاد کی ایسی حالت دیکھ کر ہمت ہار چکی تھی۔۔۔
کچھ ہی دنوں میں رابیل کے دل میں گل بہار کے لیے بے پناہ محبت پیدا ہو گئی تھی اسے وہ یہاں سب سے اچھی لگی۔ ایک وہی تھی جس نے اسکی دلجوئی کی ۔۔۔اسے سنبھالا اسکے زخموں پر مرہم رکھا۔۔۔۔ اور آج وہ اسکے زخموں پر مرہم رکھ رہی تھی۔۔۔دل رو رہا تھا کہ اتنے اچھے انسان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔۔شاید اچھے لوگوں کی قسمت اچھی نہیں ہوتی۔۔۔
کنیز نے بہتے آنسو کے ساتھ گل بہار کی پیشانی چومی اور پھر اپنے بہتے ہوئے آنسو کو روکنا چاہا پر ناکام رہی۔۔۔
اسکی نظر گل بہار کے گلے میں لٹکے اس لاکٹ پر پڑی جو آج صبح اس نے گل بہار کو دیا تھا۔۔۔
آج دوپہر میں وہ گل بہار کے کمرے میں آئی تھی اور اس سے کہا تھا۔۔۔
“گل بہار جب جودہ بائی تمہیں کہیں سے اٹھا کر لائیں تھیں تو میرے ان ہاتھوں میں تمہارے اس ننھے وجود کو دیا تھا۔۔۔اور اس دن مجھے اپنا آپ مکمل محسوس ہوا۔۔۔جیسے میری گود بھر گئ ہو۔۔۔۔۔جیسے مجھے دنیا کی ساری خوشیاں مل گئی ہوں۔۔۔۔تم واقعی میری بیٹھی ہو اور میں تمہاری ماں ۔۔۔اس بات کو کبھی مت بھولنا۔۔۔۔””
کنیز نے روتے ہوئے کہا اور گل بہار نے فورا سے کنیز کے آنسووں کو اپنی انگلیوں کے پوروں میں سمو لیا۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں اور آپ نے مجھے یہاں سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔۔۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔۔آپ خود کو الزام مت دیں۔۔۔آپ نے میرے لیے بہت کچھ کیا ہے اور میں چاہ کر بھی آپ کو نہیں بھول سکتی۔۔۔یہ ہمیشہ یاد رکھیے گا کہ میں جہاں بھی رہوں گی آپ میری ماں ہوگی اور میں آپ کی بیٹی۔۔۔۔
کہتے کہتے گل بہار کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
کنیز کو پھر جیسے کچھ یاد آیا تو بولی
گل بہار میری بچی تمہاری ایک امانت میرے پاس ہے۔۔کنیز نے اپنے دوپٹے کے نیچے چھپائی ہوئی چیز کو باہر نکالا اور گل بہار کے سامنے کیا۔۔۔
یہ کیا ہے اور کونسی امانت؟؟
وہ تھوڑی حیرانگی سے پوچھنے لگی۔۔۔
جب تم یہاں آئی تھی تو تمہارے گلے میں یہ ایک لاکٹ تھا۔۔۔ جو میں نے بڑی حفاظت سے اتارکراور سنبھال کر رکھ لیا تھا۔۔۔شکر ہے جودہ بائی کی اس پر نظر نہیں پڑی ورنہ وہ کہاں چھوڑتی اسے۔۔۔
گل بہار اس لاکٹ کو ہاتھ میں لیکر دیکھنے لگی۔۔۔۔وہ بلاشبہ خوبصورت اور قیمتی تھا۔۔۔
پھر جیسے بہت سے زخم تازہ ہوگئے کہ کس طرح اسکے ماں باپ نے اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا تھا۔۔کیا وہ اتنی غیر اہم تھی انکی زندگی میں۔۔۔آخر کس گناہ کی سزا دی انہوں نے مجھے۔۔کیا قصور تھا میرا۔۔دل خون کے آنسو رونے لگا کہ وہ آج اپنوں کے ہا تھوں کہاں سے کہاں پینچ گئ ہے اور انہیں اس بات کی خبر تک نہیں۔۔۔۔اس نے حقارت سے لاکٹ واپس جودہ بائی کی طرف بڑھا دیا
میں اس کا کیا کروں گی۔۔یہ آپ ہی رکھ لیں ۔۔۔آپ کے کام آجائے گا۔۔۔
جودہ بائی اسکے اندر کی بات سمجھ گئی تھی تبھی انہوں نے زبردستی وہ لاکٹ اسکے گلے میں پہنا دیا اور تاکید کی کہ وہ اسے ہمیشہ پہن کر رکھے اسی میں میری خوشی ہے۔۔۔۔چنانچہ اس نے چارو ناچار اسکو پہن ہی لیا۔
اور اب کنیز اس کے گلے میں لٹکتے اس لاکٹ کو دیکھ رہی تھی تبھی ایک دھماکے کے ساتھ دروازہ کھلا اور جودہ بائی اپنی پوری شان کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
اسکو ابھی تک ہوش نہیں آیا۔۔۔۔
وہ دونوں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔۔
نہیں حضور ابھی تک نہیں آیا۔۔۔۔۔پتا نہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔کنیز دکھ اور فکر مندی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ بتانے لگی۔۔
ہونہہ نہیں آتا تو نا آئے ہماری بلا سے۔۔۔۔۔ہم نے رقم وصول کر لی ہے اور اب ہمارے پاس کوئی جواز نہیں بنتا کہ ہم اب مزید دیر کریں۔۔۔۔
لیکن اسکی حالت ایسی نہیں کہ ک۔۔۔۔کنیز کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔۔۔۔
جب جودہ بائی بولی۔۔۔ہم نے کیا کہاں کنیز شاید تم نے سنا نہیں ۔۔۔۔اور تمہاری اس گستاخی کو ہم کیا سمجھیں؟؟؟
معاف کیجئے گا حضور مگر گل بہار کی طبیعت
جودہ بائی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموشی کا اشارہ کیا۔۔۔۔
ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔۔۔۔باہر گاڑی کھڑی ہے۔۔۔۔جلدی سے اسے اٹھا کر اس میں بیٹھاو۔۔۔۔ورنہ مجھے کسی اور کو بھیجنا پڑے گا۔۔۔۔جو شاید تمہیں برا لگا۔۔۔۔
جودہ بائی نے معنی خیز انداز میں کہا تو کنیز کو ساری بات سمجھ آگئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔۔یقینا کسی مرد سے اسے اٹھوا کر گاڑی میں ڈلواتی اور میری بیٹی کو نا جانے کون کون ہاتھ لگاتا۔۔۔۔
ہم بس ابھی اسے لا رہی ہیں آپ فکر نا کریں۔۔۔۔
سیدھی بات تو تمہیں سمجھ ہی نہیں اتی نا۔۔۔۔اب جلدی کرو۔۔۔۔غصے سے کہتی چلی گئ
جودہ بائی کے جانے کے بعد ان دونوں نے گل بہار کو ایک بڑی سی چادر اڑائی اور اسے اٹھا کر باہر کی طرف لے جانے لگی۔۔۔
کنیز کو اس وقت یوں محسوس ہو رہا تھا گویا ایک لاش کو قبر میں اتارنے جارہی ہو۔۔۔اور لاش بھی اسکی جس سے وہ سب سے زیادہ پیار کرتی ہے۔۔۔۔۔کتنا بھاری بوجھ تھا ۔۔۔۔کتنا تکلیف دہ۔۔۔۔۔مرے ہووں کا تو صبر آجاتا ہے ۔۔۔زندوں کا صبر کوئی کیسے کرے؟؟؟؟؟۔۔وہ اسے دفنانے کے بعد پھر کبھی اسکی صورت نہیں دیکھ پائے گی۔۔۔تکیلف ہی تکلیف تھی۔۔۔درد کی انتہا تھی۔۔۔۔سوائے صبر کے اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔دل مین صرف ایک دعا تھی ایک امید کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔۔۔کاش کوئی معجزہ ہو جائے۔۔۔
دونوں گاڑی کے پاس پینچ گئی تھیں اور اس بے سدھ وجود کو گاڑی کی پچھلی طرف لٹا دیا۔۔۔۔۔۔
کنیز کی نظر اس شخص پر پڑی جس نے اسے خریدا تھا۔۔۔۔۔
اس نے فورا اسکے پاوں پکڑ لیے۔۔۔۔۔اور فریاد کرنے لگی۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے تمہیں میری بچی پر ظلم مت کرنا ۔۔۔یہ بہت معصوم اور لاچار ہے۔۔۔۔اسکے ساتھ زیادتی مت کرنا۔۔۔۔
سکندر کو ایک دم سے جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔اس نے اس اجنبی عورت کو اپنے پیروں سے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس نے نہیں چھوڑے۔
وہ مسلسل روتے اور گڑگڑاتے ہوئے اسے کہہ رہی تھی اور سکندر کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔۔تو میرے علاوہ بھی کوئی ہے جو گل بہار کو چاہتا ہے۔۔ اس طرح زندگی میں پہلا تجربہ ہوا تھا۔۔۔۔اور اس ایک رات نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا۔۔۔
سکندر نے زبردستی اس عورت کو اپنے پیروں سے اٹھا یا اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
آپ بلکل بے فکر رہیں میں وعدہ کرتا ہوں گل بہار کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔
اسکا یہ کہنا ہی کنیز کے دل کو سکون پہنچا گیا وہ جانتی تھی وہ جو کہہ رہا ہے وہ کرے گا بھی۔۔۔۔کیونکہ آج تک اسطرح کی بات کسی نے بھی نہیں کہی۔۔۔۔۔۔
سکندر نے اپنا کارڈ کنیز کی طرف بڑھایا۔۔۔یہ میرا کارڈ رکھ لیں اور جب بھی آپکو گل بہار سے بات کرنی ہو کر لیجیئے گا۔۔
کنیز نے فورا سے اسکے ہاتھوں سے کارڈ لے لیا آنکھوں میں امید کی چمک تھی۔۔۔وہ امید جو اسکے رب نے ٹوٹنے نہیں دی تھی۔۔۔۔۔اس وقت ڈھیروں دعائیں کنیز کے دل سے اس اجنبی شخص کے لیے نکل رہی تھیں۔۔۔۔
سکندر نے کار اسٹارٹ کی پوری تیز رفتاری کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھا دی۔۔
________
سکندر پوری رفتار کے ساتھ کار چلا رہا تھا اور نظریں بار بار پیچھے لیٹے بےسدھ وجود کی طرف اٹھ رہی ت ھیں۔۔
کچھ دیر بعد وہ اپنے خوبصورت محل نما گھر کے مرکزی گیٹ کے سامنے تھا اور ہارن پر ہارن بجانے لگا تبھی ایک گارڈ نے تیزی کے ساتھ گیٹ کھولا اور سکندر نے کار اندر کی طرف لے جا کر پورچ میں روکی۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے اور زیادہ تر ملازم اپنے اپنے کواٹرز میں جا چکے تھے۔۔۔۔
سکندر تیزی کے ساتھ کار سے اترا اور گھر کے اندر چلا گیا۔۔۔
چند لمحوں کے بعد وہ ایک نوکرانی کے ہمراہ کار کے پاس موجود تھا۔۔۔
نوکرانی گہری نیند سے جاگی ہوئی لگ رہی تھی اور اسکی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ آج صاحب جی اسے آدھی رات کو کیوں اٹھا کر یہاں لائے ہیں۔۔۔
سکندر نے جلدی سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور کار کے اندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلیمہ سے کہنے لگا۔۔۔
سلیمہ جلدی سے انہیں اٹھاو اور اندر لے کر آو۔۔۔
سلیمہ سمجھی شاید کوئی سامان ہوگا وہ جب اٹھانے کے لیے کار کے اندر کی طرف جھکی تو چادر کے اندر لپٹی لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔
صاحب جی یہ ۔۔۔ یہ کون ہے؟؟
تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو اسے اٹھاو اور اندر میرے کمرے میں لے کر آو۔۔۔سکندر تھوڑا غصے سے کہنے لگا
وہ حیران پریشان سی اسے اٹھانے لگی اور بڑی مشکل سے اسے لے کر سیکنڈ فلور پر بنے سکندر کے عالیشان کمرے میں لے آئی۔۔۔
بیڈ پر لٹانے کے بعد سلیمہ سوچنے لگی کہ آج سے پہلے تو صاحب جی کبھی کسی کو ایسے لیکر نہیں آئے وہ بھی کسی لڑکی کو۔۔۔ضرور کوئی چکر ہی ہو گا۔۔۔خیر مجھے کیا امیر لوگوں کے کام بھی امیروں والے ہوتے ہیں۔۔نا جانے کیا کیا کرتے پھرتے ہیں۔۔۔
کھڑی کھڑی کیا سوچ رہی ہو دیکھو اسے ۔۔یہ ہوش میں کیوں نہیں آرہی؟؟سکندر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
سلیمہ نے اسکے ہاٹھ پاوں رگڑے۔۔پانی پلانے کی کوشش کی۔۔۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے بھی مارے مگر اسے ہوش نا آیا۔۔۔
تبھی سکندر نے ڈاکٹر کو فون کیا اور اسے جلد از جلد آنے کو کہا اور خود فکر مندی سے گل بہار کو دیکھنے لگا۔۔۔
گل بہار ابھی تک انہی بھاری بھرکم کپڑوں اور میک اپ میں تھی۔۔۔
سکندر نے سلیمہ کو کہا۔کہ۔۔تم اسکے کپڑے وغیرہ چینج کر دو اور چہرہ بھی صاف کر دینا۔۔۔تاکہ وہ تھوڑی ایزی ہو جائے۔۔۔ڈاکٹر صاحب آنے والے ہیں میں نیچے جارہا ہوں۔۔
صاحب جی کپڑے ۔۔۔۔کونسے پہناوں؟؟
سکندر نے ایک لمحے کو سوچا تو یاد آیا۔۔۔وہ ماما کے پڑے ہیں نا ان میں سے کوئی پہنا دو۔۔۔کہہ کر کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔اور سیڑھیاں اتر کر بے چینی سے ڈاکٹر صاحب کا انتظار کرنے لگا۔
_________
جی ڈاکٹر صاحب کیا ہو ا ہے انہیں؟؟
ڈاکٹر جب گل بہار کا پورا چیک اپ کرنے کے بعد کمرے سے باہر آیا تو سکندر پوچھنے لگا۔۔۔
سکندر یہ شاید کافی عرصے سے کسی گہرے صدمے کا شکار رہی ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جو یہ آج اسطرح بے ہوش ہیں ۔۔۔۔بخار بھی کافی تیز ہے۔۔اور انہوں نے شاید دو دن سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔انکی حالت کافی کریٹیکل ہے۔۔۔میں نے میڈیسن لکھ دی ہیں آپ منگوا لیں۔۔۔امید ہے صبح تک ہوش میں آ جائیں گی پر آپ احتیاط کریں کہ انہیں مزید کسی قسم کا شاک نا پہنچے۔۔۔
سکندر کے چہرے پر فکر مندی کے سائے لہرانے لگے۔۔اس نے ڈاکٹر صاحب سے پریسکریپشن لیا اور انہیں باہر تک چھوڑا اور سلیمہ کو اسے کچھ کھلانے کا کہہ کر خود میڈیسن لینے چلا گیا۔۔۔
جس کار میں وہ اور محسن گئے تھے اس کار تو محسن لے کر چلا گیا تھا ۔اس لیے اس نے ڈرائیور کو کال کر کے دوسری کار منگوا لی تھی اور پھر ڈرائیور کار کو کوٹھے تک پہنچا کر گھر چلا گیا تھا۔۔۔۔
اس لیے اب سکندر کو خود ہی میڈیسن لینے جانا پڑا۔۔۔باقی سارے نوکر بھی گھر جا چکے تھے۔۔۔
جب وہ واپس آیا تو سلیمہ اسے سوپ پلانے میں لگی ہوئی تھی اور تقریبا نیند کی وادی میں کھونے والی تھی۔۔۔
گل بہار کے حلق سے کچھ بھی نیچے نہیں اتر رہا تھا۔۔۔
سلیمہ تم جاو جا کر سو جاو میں یہاں ہوں۔۔۔میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔۔
سلیمہ پتا نہیں کیا سوچتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔
اور وہ اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔گل بہار بغیر میک اپ کے اور بھی حسین لگ رہی تھی اسکے سیاہ لمبے بالوں کی چادر تکیے پر بکھری ہوئی تھی۔۔سکندر اسکے حسن میں کھو سا گیا جیسے اسکے سارے نقوش کو حفظ کر لینا چاہتا ہو۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا دل میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔ہوش میں آ جاو نا۔۔۔دیکھو تم نے مجھے ایک ہی نظر میں گھائل کر دیا۔۔۔میں تمہارا منتظر ہوں۔۔۔ایک عجیب سا درد تھا جو دل میں ہو رہا تھا۔۔۔ایک عجیب احساس تھا جو اسے اسکی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔۔
اس نے سوپ کا پیالا اٹھایا اور ایک ایک چمچ اسے پلانے لگا۔۔۔
اسکے بعد بڑی مشکل سے اسے دوائی کھلائی اور پھر بیڈ سے اٹھ کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور اسے دیکھتے دیکھتے کب آنکھ لگ گئی پتا ہی نہیں چلا۔
_________
اگلی صبح جب سکندر کی آنکھ کھلی تو نظر سامنے لیٹی گل بہار پر پڑی جو ابھی تک اسی پوزیشن میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔سکندر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا اور پیشانی کو چھوا۔۔بخار نہیں تھا۔۔۔دل میں شکر ادا کیا اور پھر کمرے سے باہر نکل کر کچن کی طرف آ گیا۔جہاں سلیمہ کچن کے کام نپٹانے میں مصروف تھی۔۔۔
سلیمہ بات سنو۔۔۔۔
جی صاحب جی۔۔۔وہ سارے کام چھوڑ کر سکندر کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔
بی بی جی کے لیے ناشتے کا انتظام کرو۔۔۔ایسا کرو کوئی نرم غذا بنا لو وہی ٹھیک رہے گی۔۔۔
وہ ناشتے کا کہہ کر لاونج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔اس نے صوفے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی اور ذہن میں کل رات کی ساری کہانی کسی فلم کی طرح چلنے لگی۔۔۔
کل تک اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی اسطرح یوں اچانک ایک نیا موڑ لے لے گی۔۔۔صرف ایک رات ۔۔۔صرف ایک رات میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔میں کتنا مجبور اور بے بس ہوگیا ہوں۔۔۔۔کیا محبت واقعی انسان کو اتنا بے بس بنا دیتی ہے؟؟
کیا ہوا جناب کہاں کھوئے ہوئے ہیں؟؟محسن جو ابھی گھر کے لاونج میں داخل ہوا تھا اسکو یوں بیٹھا دیکھ کر سکندر کو مخاطب کیا۔۔۔وہ اسکے سامنے کھڑا دانت نکال رہا تھا۔
سکندر نے آنکھیں کھولی تو محسن نے اسے آنکھ ماری۔۔
تمہاری تو محسن ۔۔تو رک بیٹا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کہاں کھویا ہوا ہوں۔۔۔محسن آگے آگے بھاگ رہا تھا اور اسکو مارنے کے لیے سکندر اسکے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا۔۔۔
سکندر نے صوفے کا ایک کے بعد ایک کشن اٹھا کر اسے مارنا شروع کیا۔لیکن محسن ہر بار خود کو کسی نا کسی طرح بچا رہا تھا۔۔
ایک تو تمہیں میرا احسان مند ہونا چاہیے کہ میں نے تمہاری بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دیئے اور تم مجھے جان سے مارنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔۔
تو میرے ہاتھ آ سہی ۔۔۔پھر دیکھ میں تمہیں کتنے رنگوں میں رنگتا ہوں۔۔۔۔سکندر مسلسل اسکو پکڑنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا جبکہ وہ کسی صورت ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔۔
آخر کار وہ تھک کر خود ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔
کیوں کیا ہوا؟؟تھک گیا۔۔۔محسن اسکے قریب بیٹھ گیا اور خوب چڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
تجھے اللہ پوچھے گا۔۔۔سکندر تھوڑی خفگی سے کہنے لگا۔۔
اچھا چل چھوڑ اب ناراضگی۔۔۔ یہ بتا رات کیسی گزری؟؟؟محسن معنی خیز انداز میں پوچھنے لگا۔
رات اس ایک رات نے تو ساری دنیا ہی بدل دی ہے۔۔۔وہ کسی خیال کی رو میں بہہ کر کہنے لگا۔۔۔
واہ واہ کیا کہنے جناب کے ایک رات نے فلسفہ سکھا دیا۔۔ویری گڈ۔۔۔چل اب تفصیل سے بتا کیا ہوا۔
تو سکندر نے اسے اپنی آپ بیتی سنانا شروع کی۔۔۔وہ جیسے جیسے بتاتا جا رہا تھا محسن کے چہرے کا رنگ اڑتا جا رہا تھا اور جب وہ ساری بات کہہ چکا تو محسن ایک دم سے چیخا۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟؟تم اسے واقعی گھر میں لے آئے ہو؟؟سکندر تم ہوش میں تو ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟؟
میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔مجھ سے اسکی وہ حالت برداشت نہیں ہوئی۔۔تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔
سکندر میں تو تمہیں اچھا خاصا سمجھدار انسان سمجھتا تھا مگر تم اتنے بے وقوف نکلو گے مجھے اندازہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔تم ایک طوائف کو اپنے گھر اٹھا کر لے آئے ہو۔۔۔واہ کیا بات ہے تمہاری۔۔۔واہ
ارے تمہاری سات نسلوں نے بھی ایسا کام نہیں کیا جو تم نے کر ڈالا ہے۔۔۔۔محسن شدید غصے میں کھڑا لڑ رہا تھا۔
یہ مت بھولو کہ مجھے اس مقام تک لانے والے بھی تم ہی ہو۔۔۔سکندر بھی غصے سےکہتا کھڑا ہوگیا۔۔۔
ہاں بلکل میں ہی گدھا ہوں الو کا پٹھا ہوں جو تمہیں وہاں چھوڑ آیا۔۔۔۔مگر میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ وہاں کے کچرے کو اٹھا کر اس گھر میں سجا دو۔۔۔
محسن تمیز سے بات کرو۔۔وہ میری محبت ہے۔۔۔۔
واہ کمال ہے بھئی جناب کو ایک رات میں ہی اپنا دیوانہ بنا ڈالا۔۔
سکندر کا ضبط جواب دے رہا تھا وہ اس لڑکی پر مزید کوئی بات برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔محسن تمہیں جو بھی کہنا ہے مجھ سے کہو۔۔اسکا اس سب میں کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔وہ بہت پاکیزہ ہے۔۔
ہا ہا ہا۔۔۔۔پاکیزہ اور ایک کوٹھے سے آئی ہوئی لڑکی؟؟؟رات کو لگتا ہے نشہ بھی کیا تھا جو ابھی تک نہیں اترا اسی لیے اتنی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ارے پتا نہیں کتنوں کے ساتھ راتیں۔۔۔ محسن کی بات ادھوری رہ گئی۔۔جب سکندر نے اسکے چہرے پر پوری قوت کے ساتھ تپھڑ مارا۔۔
محسن اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بے یقینی کی کیفیت میں سکندر کو دیکھنے لگا۔۔۔
سکندر کو خود بھی بہت تکلیف پہنچی تھی مگر وہ بے بس تھا۔۔۔محبت نامی ڈنگ نے اسے بری طرح ڈس لیا تھا۔
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا سکندر مجھ پر۔۔آنسو اسکی گال کو بھگو رہے تھےاور حیران کھڑا اپنے سامنے کھڑےاپنے بھائی جیسے دوست کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جسے ایک رات نے کیا سے کیا بنا دیا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: