Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 4

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 4

–**–**–

 

محسن کے چلے جانے کے بعد وہ صوفے پر ڈھے سا گیا۔۔۔آنسووں نے چہرے کو بھگونا شروع کیا۔۔محبت کے بھی کتنے روپ ہوتے ہیں۔۔۔اور ہر روپ میں دوری اور ناراضگی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔۔۔
آج اس نے اس انسان پر ہاتھ اٹھایا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا ہے۔۔۔۔جس کی خوشی میں خوش ہوتا ہے۔۔۔جس کے دکھ میں دکھی ہوتا ہے۔۔۔پر آج سب بدل گیا اور دل ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔۔
پر اس سب میں میرا کیا ہے؟؟سکندر نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔تو آنسووں نے مزید رفتار پکڑ لی۔۔۔
محسن تم مجھے کیوں نہیں سمجھ رہے ہو میرے بھائی۔۔۔مجھے محبت ہو گئی ہے۔۔۔میں کیسے برداشت کرلوں کہ تم میرے سامنے اسکے بارے میں اتنا کچھ کہو اور میں خاموش ہو جاوں۔۔۔کیسے؟؟
اگر کوئی تم پر بھی انگلی اٹھاتا تو میں تمہارے لیے بھی ایسے ہی لڑتا۔۔۔تمہیں میری اتنی برسوں کی محبت نظر نہیں آئی۔۔۔اگر آج میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچھ کہہ رہاہوں تو تمہیں تو کم از کم مجھے سمجھنا چاہیے تھا۔۔
وہ اسی سوچ میں گم تھا جب سلیمہ نے اسے پکارا۔۔۔
صاحب جی۔۔۔
سکندر نے ایک دم سے آنکھیں کھول دی۔۔۔ ہاں بولو۔۔ اور بہتے آنسووں کو صاف کرنےلگا۔
صاحب جی وہ ان کو ہوش آگیا ہے۔۔۔
سکندر ایک دم سے صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اور تیز تیز قدم اپنے کمرے میں لیٹی کل تک انجان لڑکی کی طرف بڑھا دیئے۔۔
وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوا اور نظر سامنے بیڈ پر بیٹھی پریستان کی شہزادی پر پڑی جو ابھی ابھی بیدار ہوئی تھی۔
سکندر اسکے بیڈ کے قریب آیا۔
محبت ہو جانے کے بعد پہلی بار اپنی محبوبہ سے مخاطب ہوا۔۔۔دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔
آپ ٹھیک ہیں؟؟
جی۔۔جی۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔پر آپ؟؟؟آپ کون؟؟ میں یہاں کیسے؟؟
گل بہار اس اجنبی ماحول میں بہت زیادہ گھبرا رہی تھی تبھی بہت سارے سوالوں کے ساتھ وہ سوال بھی پوچھ بیٹھی جسکا جواب اسے جودہ بائی کئی سالوں سے یاد کروا رہی تھی۔۔۔
جواب دینے کی بجائے سکندر نے سلیمہ کو کمرے سے باہر جانے کو کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔۔۔پھر خود گل بہار کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور کہنا شروع کیا۔۔
میرا نام سکندر حیات خان ہے اور میں اس گھر کا مالک ہوں۔۔۔
اوہ تو شاید یہ ہے میرا خریدار۔۔۔وہ دکھی دل کے ساتھ سوچے گئی۔
میری طرف سے آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔۔اس گھر کو اپنا گھر سمجھیں۔۔۔اور بلکل بے فکر ہو کر رہیں۔۔ ۔۔۔آپ یہاں بلکل محفوظ ہیں۔۔۔آپ کو یہاں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔اس گھر میں میں اکیلا ہی رہتا ہوں۔۔۔ماں باپ کا چار سال پہلے ایک کار ایکیسڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا۔۔
سکندر ایک لمحے کو رکا۔۔جیسے کوئی زخم پھر سے تازہ ہوا تھا۔۔۔۔اور پھر بولنا شروع کیا۔۔
آپ جہاں سے آئی ہیں وہ آپ کا ماضی بن چکا ہے اور آپ جہاں ہیں وہ آپ کا حال اور مستقبل ہے” ۔
گل بہار غور سے اس اجنبی شخص کے چہرے کو دیکھنے لگی۔۔جسکی خاندانی شرافت اور حیا اسکے چہرے اور لہجے سے صاف ظاہر ہو رہی تھیں۔۔۔سکندر بات کرنے کے دوران مسلسل اپنے جوتوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی کہ کیا واقعی دنیا میں ایسے لوگ اور ایسی نظر رکھنے والے مرد موجود ہیں جو کسی عورت کو دیکھ کر نظریں جھکاجائیں۔۔۔جنکی نظروں میں عورت کے لیے اتنی عزت ہو۔۔وہ جس دنیا سے آئی تھی اس دنیا میں تو ایسی کسی چیز کا وجود ہی نہیں تھا۔۔
آپ کو اگر مجھ سے اور کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ سکتی ہیں۔۔۔سکندر نے اسی طرح بیٹھے ہوئے کہا۔۔۔وہ گل بہار کے دل سے ہر طرح کا ڈر اور خوف نکال دینا چاہتا تھا۔۔۔اور اسے ہر طرح کے تحفظ کا یقین دلانا چاہ رہا تھا۔۔
وہ جو اپنی تباہی کا سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی اور کتنے سالوں سے ایک سولی پر لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔روز جیتی تھی اور روز مرتی تھی۔۔۔اسکی تو روح تک زخمی ہو چکی تھی۔۔۔اسے اس شخص کی اسطرح کی اپنائیت سے یوں محسوس ہوا جیسے جسم اور روح کے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو۔۔
جب سکندر کہہ کر خاموش ہوا تو اس نے گل بہار کی طرف دیکھا۔۔۔آپ کو اگر کچھ کہنا ہے تو کہہ لیں اور آج کے بعد ہم آپکے ماضی کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔۔
گل بہار نے اپنے سامنے بیٹھے اس فرشتہ صفت انسان کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسکی امید نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔
اللہ نے اسے ذلیل و رسوا ہونے سے بچا لیا تھا۔۔۔زندگی اتنی مہربان بھی ہوسکتی ہے یہ سوچ کر ہی اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔
پھر سکندر کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کہنے لگی اور سکندر اسکے منہ سے ادا ہونے والے لفظوں کو سننے کے لیے بے قرار ہو رہا تھا۔۔۔۔
آپ نے مجھ پر جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ تو میں ساری زندگی نہیں چکا سکتی۔۔۔اللہ نے آپ کو میرا مسیحا بنا کر وہاں بھیج دیا۔۔۔میں ہمیشہ آپ کی احسان مند رہوں گی۔۔۔
اور ۔۔۔۔۔آپ کو میری طرف سے کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔کہتے کہتے گل بہار کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی اور لہجے کے اندر چھپے درد کو اس انسان نے بھی محسوس کیا تھا۔۔
سکندر نے گل بہار کو ہر طرح کے تحفظ کا یقین دلا دیا تھا۔۔
۔وہ ایک ایسے باعزت اور اعلی نسل کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔جہاں عورت کو صرف عزت دینا سکھایا جاتا یے۔۔اتارنا نہیں۔۔۔
وہ اپنے سامنے بیٹھی اس معصوم سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے اسے ایک پل میں اپنا دیوانہ بنا دیا تھا اور اوپر سے اسکے الفاظ جب بولتی ہے تو لگتا ہے جیسے کسی نے کوئی ساز چھیڑ دیا ہو۔۔۔اتنی میٹھی آواز جسے بار بار سننے کو دل کرے۔۔۔
پر یہ احسان کیوں کہہ رہی ہے ۔۔۔میں نے اس پر نہیں خود پر احسان کیا ہے۔۔۔بھلا اب میں اسے کیسے سمجھاوں۔۔۔۔شاید میری محبت ہی اسے سب سمجھا دے۔۔۔۔
وہ اسکو دیکھ کر سوچ رہا تھا اور وہ نظریں جھکائے ماضی کی تلخ یادوں سے نکلنے کی کوشس کر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔
سکندر خیالوں کی دنیا سے لوٹا اور دونوں نے بیک وقت چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔
تب سکندر نے پوچھا
کون؟؟
صاحب جی میں ہوں سلیمہ۔۔۔
آجاو اندر۔۔
ہاں بولو۔۔۔
وہ نظریں دونوں میں گاڑھے کہنے لگی۔۔۔وہ صاحب جی آپ کے دفتر سے فون آیا ہوا ہے۔۔۔
اچھا میں دیکھتا ہوں۔۔۔وہ اٹھ کر چلنے لگا تو پھر جیسے کچھ یاد آنے پر پلٹا۔۔۔
تم بی بی جی کو کھانا کھلا دینا۔۔۔۔۔اور دوائی بھی دے دینا ۔۔۔۔انکا مکمل خیال رکھنا ۔۔۔ میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔وہ اپنے مخصوص جاگیردارانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔سلیمہ کے آنے سے پہلے والی نرمی اور محبت یکسر غائب تھی۔۔۔
سچ ہے محبت ہمیں ہر طرح سے بدل کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔ ہماری انا ۔۔۔ہمارا رعب اور ہمارا دبدبہ اس ایک شخص کے سامنے ہوا ہوجاتا ہے۔۔
جی صاحب جی کہہ کر سلیمہ نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
اور گل بہار یہ سوچ رہی تھی کی وہ اپنے رب کے حضور کس کس بات کا شکر ادا کرے۔۔
__________
محسن کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔سلام کا جواب دئیے بغیر ہی جارہے ہو۔۔۔اسکے قدم یک دم رک گئے مگر رخ نہیں پھیرا۔۔۔
محسن سکندر کے گھر سے ابھی ابھی اپنے گھر میں داخل ہوا تھا وہ اتنے غصے اور شاک کی کیفیت میں تھا کہ اسے یہ تک معلوم نہیں ہوا کہ ماما نے اسے سلام کیا ہے۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا۔
سوری ماما میں نے سنا نہیں۔۔۔وہ اسی طرح کھڑا رہا تاکہ اسکا چہرہ دیکھ کر ماما مزید سوال نہ کریں۔۔۔
لنچ ٹائم ہے بیٹا آجاو اور ہمیں جوائن کرلو۔۔۔
نہیں ماما مجھے بھوک نہیں ہے آپ لوگ کھائیں۔۔۔وہ کہہ کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
کمرے میں آکر اس نے اپنے اندر ابلتے لاوے کو بہانا شروع کیا۔۔۔۔اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ سکندر نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے وہ بھی اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے۔
کافی دیر رونے کے بعد اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا۔۔۔تو اٹھ کر بیسن پر منہ دھونے لگا۔۔۔۔اس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا توآنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔کافی دیر تک منہ دھونے کے بعد وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔۔۔
بچپن سے لے کر اب تک کی ساری یادیں ایک کے بعد ایک ذہن کے پردے پر چلنے لگیں۔۔۔محسن اور سکندر دونوں کی جان ایک دوسرے میں تھی۔۔۔۔ہر بار محسن جان بوجھ کر روٹھ جاتا تھا اور سکندر اسے منا رہا ہوتا۔۔۔۔سکندر دنیا کے لیے چاہے جتنا مرضی اکڑو تھامگر جن سے وہ محبت کرتا ہے ان کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے ایک فیصلہ کیا کہ جس طرح تم نے مجھے ہر مصیبت سے بچایا ہے میں بھی بچاوں گا چاہے مجھے تمہارے تپھڑ ہی کیوں نا کھانے پڑیں۔۔۔۔
میں تمہارا دوست ہوں سکندر ۔۔۔تمہیں اس دوٹکے کی لڑکی کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔ محسن کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اور اب اس کا مقصد صرف اور صرف اپنے دوست کو اس بلا سے نجات دلانا تھا۔۔
اس نے کچھ سوچ کر اپنا موبائیل اٹھایا ایک نمبر ملایا۔۔۔۔
کال ریسیو ہونے کے بعد اس نے اپنا تعارف کروایا اور دوسری طرف کے شخص کو سکندر کے متعلق ساری تفصیل بتانے لگا۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد اس نے کال بند کی اور خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کیا۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں امید کی کرن واضح نظر آ رہی تھی۔
___________
سکندر اس پوری رات یہ سوچتا رہا کہ اگر میں ایک لڑکی کے ساتھ ایک کوٹھے پر وہ رات گزار دیتا ۔۔تب تو میں شریف اور پارسا رہتا اور جب میں اسے اپنے گھر میں عزت کے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں تو محسن کو کیوں اعتراض ہو رہا ہے؟؟
سچ کہتے ہیں کہ مرد ایک غسل سے پاک ہو جاتا ہے مگر عورت ہزار ہا بار کے غسل سے بھی نا پاک رہتی ہے۔۔۔۔
کیسے دوہرے معیار ہیں ہم مردوں کے۔۔۔جبکہ سزا تو اسلام دونوں کو برابر کی دیتا ہے۔۔۔ تو پھر مرد ہر بار اس سزا سے کیوں بچ جاتا ہے۔۔۔یا شاید مرد کی بد قسمتی ہی ہے کیونکہ اس جہان کی تکلیف تو پھر بھی قابل برداشت ہے اگلے جہان کی نہیں۔۔
سکندر کو کہیں نا کہیں دل میں اپنے دوست پر ہاتھ اٹھانے کا ملال تھا کہ اس سے زیادتی ہوئی ہے ۔۔۔ وہ اسے پیار سے بھی سمجھا سکتا تھا ۔۔۔ مجھے ایک کوشش اور کرنی چاہیے۔۔۔شاید وہ سمجھ جائے۔۔۔
یہی سوچ کر وہ اگلے دن ٹینس کلب پہنچا۔۔ سکندر کو معلوم تھا کہ محسن اس وقت یہی کھیل رہا ہوگا۔۔۔
ادھر ادھر نظر دوڈانے کے بعد وہ اسے ایک گراونڈ میں کھیلتا ہوا نظر آ گیا۔۔۔
محسن کو ڈسٹرب کرنے کی بجائے وہ ایک طرف رکھے بینچ پر بیٹھ گیا تا کہ جب وہ فارغ ہو تو اس سے بات کر سکے۔۔۔
جب دوستی اتنی گہری ہو اور دوست اتنا وفادار ہوتو آپ کو جھکنا ہی پڑتاہے۔۔۔یہی دوستی کے اصول ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد محسن اپنی گیم مکمل کر کے سکندر کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔۔پسینے سے شرابور ۔۔۔
ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی جسے اس نے لبوں سے لگا لیا۔۔
وہ خاموشی سے پانی پیتا رہا۔۔۔پھر بوتل رکھ دی۔۔۔۔اور سکندر سامنے بنے گراونڈ میں دیکھتا رہا۔۔۔
دونوں جیسے لفظ تلاش کر رہے تھے کہ کیا کہیں۔۔۔
تھوڑی دیر یونہی گزر گئی۔۔۔آخر کار سکندر نے ہی کہنا شروع کیا جانتا تھا کہ یہ بہت ضدی ہے اور کچھ نہیں بولے گا ہمیشہ کی طرح مجھی سی امید لگا کہ بیٹھا ہو گا کہ میں آکر اسے مناوں۔۔۔
لیکن آج معاملہ کچھ الگ تھا۔۔۔آج ایک محبت دوسری محبت کے مدمقابل کھڑی تھی۔۔۔اور دونوں میں سے کسی کو سکندر کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔وہ اپنے دو قریبی رشتے کھو چکا تھا اور اب مزید ہمت نہیں تھی۔۔۔۔اسی لیے وہ آج اپنی غلطی نا ہونے کے باوجود یہاں موجود تھا۔۔۔
وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔نظریں ابھی بھی اسی جگہ پر تھیں۔۔۔
“تم جانتے ہو محسن میرے دل کے قریب بہت کم لوگ ہیں۔۔۔۔جن میں تمہارا مقام سب سے اونچا ہے۔۔۔اور وہ جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔۔میں کبھی کسی سے گہرے تعلقات قائم نہیں رکھتا۔۔۔خاص طور پر لڑکیوں سے۔۔۔۔یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔
کہہ کر رکا اور محسن کی طرف دیکھا وہ بھی اب سامنے گراونڈ کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔لب خاموش تھے۔
سکندر نے پھر بولنا شروع کیا۔۔۔ اس ایک رات نے میری زندگی بدل دی ہے محسن۔۔۔۔۔۔جب اس رات مجھے معلوم ہوا کہ میں کہاں ہوں تو میں نے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیئے تھے مگر میں چاہ کر بھی ایسا نا کرسکا۔۔۔اسکا چہرہ بار بار میری آنکھوں سے سامنے آجاتا تھا۔۔۔اور اس وقت دل نے کہا کہ اگر اسے نہیں دیکھوں گا تو جان نکل جائے گی۔۔۔دل کی دھڑکن رک جائے گی۔۔۔سانس تھم جائے گی۔۔۔
کہہ کر ہلکا سا ہنسا۔۔۔تمہیں آج میں کوئی سر پھرا عاشق لگ رہا ہوں گا۔۔۔میں خود حیران ہوں اپنی اس حالت پہ۔۔۔پر میں مجبور ہوں محسن بے بس ہوں۔۔۔میرا خود پہ اختیار نہیں ہے۔۔۔ اور پتا نہیں کیسے تم پر ہاتھ اٹھا بیٹھا۔
محسن نے ایک نظر اپنے قریب بیٹھے اپنے سب سے بہترین دوست کو دیکھا جو اسے واقعی بہت بدلا بدلا نظر آرہا تھا۔۔۔
وہ سوچ میں پڑ گیا کہ آخر اس کو اتنا یقین اسکی پارسائی پر کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟۔۔۔۔یہ تو اسکی محبت میں گرفتار ہو کر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔۔۔لیکن اس لڑکی کا کیا بھروسہ؟؟نا جانے کس نیت کے ساتھ آئی ہے۔۔۔مجھے اپنے دوست کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے ۔۔۔ کہیں وہ اسے کوئی نقصان نا پہنچا دے۔۔۔۔یہی سوچ کر اس نےسکندر سے کہا۔۔
چھوڑ و جو ہوا سو ہوا۔۔۔۔
سکندر جو محسن کی طرف دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کو چھوا جہاں کل اس نے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔
بس بس رہنے دو۔۔۔۔۔ اب اپنا پیار اپنے پاس رکھو۔۔۔۔
چل اٹھ چلتے ہیں۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے کل سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔ مجھے کہیں سے اچھا سا لنچ کروا۔۔۔۔
محسن تھوڑا سا جزباتی ہو کر کہنے لگا اور پھر دونوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے
_______________
شام کے وقت جب وہ آفس سے گھر لوٹا تو اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔
سکندر نے اپنا کمرہ گل بہار کو دے دیا تھا اور اب خود دوسرے کمرے میں منتقل ہو گیا۔۔
کمرے کی طرف جاتے جاتے اس کے قدم بے خیالی میں گل بہار کے کمرے کی طرف بڑھ گئے اور بغیر دستک دیئے کمرے میں داخل ہو ا۔۔۔
سامنے ایک خوبصورت منظر اس کا منتظر تھا۔۔۔۔جہاں جنت سے اتری ایک حور ۔۔ایک شاعر کی خوبصورت غزل۔۔۔ایک دیوانے کا خواب۔۔۔۔
گل بہار نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔اور وہ کھڑا بے خودی کی کیفیت میں اس کی ایک ایک حرکت کو ذہن کے پردے پر محفوظ کرنے لگا۔۔۔۔اسے یہ سب دیکھنا پہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔وہ نماز پڑھتی رہی اور وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے گیا۔۔۔۔
پھر گل بہار نے دعا کے لیے ہاتھ اپنے رب کے حضور پھیلا دیئے۔
“یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے بچا لیا۔۔۔ایک فرشتے کو انسان کے روپ میں بھیج دیا۔۔۔یا اللہ تو نے میری امید ٹوٹنے نہیں دی۔۔۔میں کتنی پر سکون ہوں۔۔کتنی خوش ہوں۔۔۔یہ تو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔۔۔۔یااللہ میری کنیز کی بھی مدد فرمانا ۔۔رابیل کی بھی۔۔۔اور اس کی جس کو تیری ضرورت ہے۔۔۔
یا اللہ اب جس انسان نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا یے اس پر ہمیشہ اپنا کرم کرنا اسکے دل کی ہر مراد پوری کرنا۔۔۔۔آمین”
گل بہار نے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور جائے نماز اٹھا کر تہہ کرنے لگی۔۔۔۔پھر جب مڑ کر دیکھا تو سامنے سکندر کھڑا نظر آیا۔۔۔۔
ارے آپ؟؟آئیے نا بیٹھیں۔۔۔۔ وہ کچھ حیرانگی سے کہنے لگی۔۔۔
وہ جو پتا نہیں کس دنیا میں کھویا ہوا تھا واپس لوٹا۔۔۔۔اور بے یقینی اور تھوڑی شرمندگی میں ادھر ادھر دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔
معاف کیجیئے گا غلطی سے آپ کے کمرے میں آ گیا۔۔۔بس عادت ہے اسی کمرے میں آنے کی اس لیے۔۔۔۔۔وہ کہہ کر پلٹنے لگا تو گل بہار بولی۔
کوئی بات نہیں۔۔آپ کا اپنا گھر ہے۔۔
مجھ سے زیادہ اب آپ کا ہے۔۔۔۔ میں تو خود آپ کا ہو چکا ہوں۔۔۔۔صرف سوچا کہا نہیں۔۔۔پھر مسکرا کر اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔اور پوچھا
آپ کی طبیعت اب کیسے ہے؟؟ٹائم پہ میڈیسن اور کھانا تو کھا رہی ہیں نا؟؟
جی اللہ کا شکر ہے میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔
چلیں شکر ہے۔۔۔۔تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آکر آپکا چیک اپ کریں گے۔۔۔۔
پر میں ٹھیک ہوں اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔گل بہار اب مزید کوئی احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔
ابھی آپ مکمل ٹھیک نہیں ہوئیں۔۔۔۔اور یہ فیصلہ ڈاکٹر کرے گا کہ اسکی ضرورت ہے یا نہیں۔۔۔سکندر نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے چلا گیا ۔۔۔
ناجانے کیوں اس انسان کو دیکھ کر عجیب سے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔
کوئی اتنا مہربان بھی ہوسکتا ہے کیا؟؟آخر اس شخص کو مجھ سے اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے؟؟اس نے تو میرے سارے شقوق و شبہات کی بھی نفی کر دی تو پھر اب کیا چاہیے انہیں مجھ سے؟؟؟ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔۔۔
وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: