Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 5

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 5

–**–**–

 

اگلے دو دن سکون سے گزر گئے سکندر کو اب اپنا آپ مکمل لگتا تھا جیسے دنیا کی ہر خوشی مل گئی ہو۔۔۔کسی چیز کی کوئی کمی باقی نا رہی ہو۔۔۔اسے دنیا اپنی مٹھی میں بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔وہ بہت خوش تھا اور پوری کوشش کرتا کہ گل بہار اسکی آنکھوں کے سامنے رہے۔۔۔
وہ اسکی امیدوں سے ذیادہ معصوم اور پاکیزہ تھی۔۔۔اسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔۔۔لیکن وقت بدلتے دیر کہاں لگتی ہے۔۔۔
گل بہار لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی اور سکندر بیٹھا چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنی بٹھکتی نظروں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔
دل ہی دل میں وہ بھی بہت خوش تھی کہ کم از کم ایک جہنم سے خدا نے اسے نکال کر ایک جنت میں ڈال دیا۔۔۔جہاں سکون ہے۔۔عزت ہے۔۔۔کوئی اسکو اسکا ماضی یاد نہیں کرواتا۔۔۔۔لیکن سچ کہتے ہیں کہ خوشیوں کی عمر کم ہوتی ہیں اور دکھوں کی طویل۔۔
وہ دونوں لان میں موجود تھے دونوں ہی خوش دکھائی دیے رہے تھے۔۔۔جب سکندر نے گیٹ کھولتے اور پھر پنجارو کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔
وہ ایک دم سے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔جانتا تھا کہ آنے والے کون ہیں۔۔۔اسکے چہرے پر حیرانگی واضح تھی۔۔۔
یہ یہاں اچانک کیسے۔۔۔اسی سوچ کے ساتھ وہ آگے بڑھا تاکہ مہمانوں کا استقبال کر سکے۔۔۔
پنجارو میں سے دو گن مین اترے جنہوں نے پیچھے کے دونوں دروازوں کو فورا کھولا۔۔
اندر سے ایک مرد نکلا۔۔۔ جس کے چہرے سے ہی جاگیردارانہ کرخت لہجہ اور رعب و دبدبہ جھلک رہا تھا۔۔۔
پیشانی پر بل ڈالے لان کی طرف آرہا تھا۔۔۔اسکے ساتھ ایک عورت بھی تھی جو اپنے لباس اور انداز سے ہی ایک جاگیردارن معلوم ہوتی تھی۔۔۔دونوں کے چہروں پر بلا کی سنجیدگی تھی۔۔
سکندر نے انکے قریب جا کر انہیں سلام کیا اور پھر لان سے گزر کر اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
دونوں نے اس اجنبی لڑکی کو بڑی گہری نظروں سے ایک لمحہ دیکھا اور پھر آگے بڑھ گئے۔۔۔۔
گل بہار اپنی جگہ پر ہی بت بنی کھڑی رہی۔۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں۔۔۔
سکندر ان دونوں کے ساتھ اندر ڈرائینگ روم میں بیٹھ گیا۔۔۔اسے کچھ کچھ حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو چکا تھا۔۔
تایا سائیں آپ لوگ یوں اچانک؟؟؟کوئی اطلاع بھی نہیں کی۔۔۔میں آپ لوگوں کے لیے چائے پانی کا بندوبست کرتا ہوں۔۔
سکندر اٹھنے لگا تو تایا سائیں بولے۔۔۔آواز ایسی تھی کہ کسی کے بھی ہوش اڑا دے
بیٹھ جاو آرام سے کچھ نہیں کھانا پینا ہمیں۔۔۔
پھر تائی جی بولی۔۔۔سکندر تمہارے تایا سائیں کو کسی نے ایک خبر دی ہے ہم اسی کی تصدیق کرنے اتنی دور آئے ہیں۔۔۔
اور ظاہر ہے یہ خبر ان تک محسن نے اس دن فون کر کے پہنچائی تھی۔۔
سکندر کو اپنے سامنے زمین اور آسمان گھومتے ہوئے نظر آنے لگے اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔
یااللہ ان تک اتنی جلدی خبر کیسے پہنچ گئی۔۔
سکندر تم یہاں کسی لڑکی کو لے کر آئے ہو؟؟اور وہ بھی۔۔۔۔۔بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ ان کے خاندان میں ایسی جگہ کا نام لینا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھے ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھے۔۔۔تیوری چڑھائے پوچھ رہے تھے۔۔۔
سکندر کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔۔۔تایا سائیں نے کچھ دیر اسکے چہرے کی طرف دیکھا کوئی جواب نا ملنے پر پھر بولے۔۔۔
ہم نے تم سے کچھ پوچھا ہے سکندر۔۔ہم تمہارے جواب کے منتظر ہیں۔۔۔
تمہارے تایا سائیں جو پوچھ رہے ہیں ان کا جواب دو سکندر۔۔۔کہہ دو کہ ہمیں کسی نے جھوٹی خبر دی۔۔۔۔
وہ اپنے اندر کی کیفیت پر قابو پاتے اور تھوڑا جھجھکتے ہوئے بولا۔۔۔جانتا تھا کہ اب طوفان آ چکا ہے اور جو بھی ہو اس سے ہر حال میں گزرنا ہی ہے۔۔۔۔
“جی یہ سچ ہے”۔۔۔۔
الفاظ کا بم سکندر نے ان دونوں کے سروں پر پھوڑا تھا۔۔۔وہ ہکا بکا سے اپنے بھائی کی واحد نشانی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انکے خاندان کا اتنا ہونہار ۔۔۔اتنا فرمانبردار۔۔۔۔اتنا قابل لڑکا اس طرح کی حماقت کر سکتا ہے۔۔۔۔
تایا سائیں شدید غصے میں صوفے سےاٹھے تو سکندر اور تائی جی بھی ساتھ ہی کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔
تمہیں شر م آنی چاہیے تم نے ہماری پشتوں کی عزت خاک میں ملا دی۔۔۔اگر اتنا ہی شوق تھا اس جگہ جانے کا تو رات گزار کر آ جاتے۔۔۔وہاں کی گندگی کو یہاں لا کر میرے مرے ہوئے بھائی کی روح کو تکلیف تو نا پہنچاتے۔۔۔وہ غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آواز ہر طرف گونج رہی تھی۔۔
آپ اتنا غصہ مت کریں ۔۔بچہ ہے ۔۔ماں باپ کا سایہ سر پہ نہ ہو تو بچے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں۔۔۔۔ہم سمجھائیں گے تو سمجھ جائے گا ابھی معاملہ اپنے ہاتھ میں ہے کسی کو اس بات کی خبر نہیں ہے۔۔۔تائی معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔آخر انہوں نے بھی تو اپنی بیٹی کو سکندر کی دلہن بنانا تھا۔۔کتنے خواب دیکھ رکھے تھے انہوں نے ان دونوں کی شادی کو لے کر۔۔۔۔اور اب حالات قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر ان کی جان پہ بن گئی تھی۔۔۔
تم ابھی کے ابھی اس کچرے کو وہیں پر پھینک کر آو جہاں سے اسے اٹھا یا تھا۔۔۔۔۔تایا نے اپنا حکم صادر کر دیا۔
سکندر خاموش تماشائی بنا سب دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ ان دونوں کی بہت عزت کرتا تھا اور انکو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ پروقت نے اسے کس کس سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا۔
تم نے سنا نہیں ہم نے کیا کہا؟؟؟جاو اور اس بے غیرت نیچ کو یہاں سے لیکر ۔۔۔۔ورنہ ہم اس کو گولی مار دیں گے۔
سکندر کا ضبط اب جواب دے گیا تھا اور محبت کا جذبہ رشتوں پر غالب آگیا تھا تبھی اس نے کہا جو وہ نارمل حالات میں کبھی نہ کہتا اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں سر جھکا دیتا۔
وہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔وہ یہیں رہے گی۔۔۔
اور دونوں کی حیرانگی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔۔۔کیا یہ وہی سکندر ہے جو آنکھ اٹھا کر بات تک نہیں کرتا تھا اور وہ آج ہمارے سامنے کھڑا ہم سے بغاوت کر رہا ہے وہ بھی اس دو کوڑی کی لڑکی کے لیے۔۔۔۔۔ یہ انکی توہیں کی حد تھی۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو تم ہوش میں تو ہو؟؟۔۔۔۔آخر کیوں اپنے پشتوں کی عزت کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہو؟؟؟۔۔۔۔۔۔اپنی عزت کی پرواہ نہیں تو کم از کم ہماری عزت کی ہی پرواہ کر لو۔۔
وہ غصے میں چیخ رہے تھے اور تائی کو اپنے خواب اپنی آنکھوں کے سامنے ٹوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔۔
میں اس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہوں اور اسے کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔سکندر نے ہمت کرکے بات کہہ دی۔۔
ہا ہا ہا۔۔۔واہ تو جناب کو ایک طوائف سے محبت ہوگئی۔۔۔پوری دنیا میں تمہیں ایک وہی محبت کے قابل ملی تھی ساری دنیا کی لڑکیاں مر گئی تھیں کیا؟؟؟؟یہ کیوں نہیں کہتے کہ اسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یہاں لائے ہو۔۔۔اور نام محبت کا لے رہے ہو۔۔۔۔۔۔کیوں ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔سکندر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔اور اسکی آنکھیں غصے ۔۔دکھ اور تکلیف سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور اپنا خود پر ضبط کھوتا جا رہا تھا۔۔۔۔اس لیے پھٹ پڑا کیونکہ اب مزید چپ رہنا اسکی محبت کہ توہین تھی اور وہ اسکی خاطر ہر ایک سے لڑ سکتا تھا۔۔۔۔
بس کر دیں تایا سائیں بہت ہو چکا۔۔۔میں اپ کی بہت عزت کرتا ہوں اور اسے چھوڑنے کے علاوہ جو بھی کہیں میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔لیکن میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔
وہ کہہ رہا تھا اور تایا سائیں کو آج وہ واقعی ایک جاگیردار لگ رہا تھا جو ایک چیز کو اگر حاصل کرنے کا ارادہ کر لے تو پھر چاہے سب کچھ تباہ ہو جائے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔۔
اور میں اسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یہاں نہیں لایا۔۔۔میں اسے اپنا نام دینا چاہتاہوں ۔۔۔شادی کرنا چاہتاہوں میں اس سے۔۔۔۔کہہ کر سکندر خاموش ہو گیا۔
تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔یہ جان لینا کہ اسکے بعد ہم تمہاری شکل بھی نہیں دیکھیں گے اور ہم سے تمہارا ہر رشتہ آج سے اور ابھی سے ختم۔۔۔تایا سائیں نے آخری ہربہ اپنایا۔۔۔کہیں نہ کہیں امید تھی وہ اپنا فیصلہ بدل لے گا۔۔
سکندر اس وقت کس قدر مجبور اور بے بس تھا اس سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بہت سی محبتوں کے درمیان کھڑا تھا اور فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کہ کسے چنے۔۔۔۔بہت ہی مشکل۔۔
اس نے دل سے پوچھا کیا میں گل بہار کو چھوڑ دوں؟؟تو دل نے ہنس کر کہا جب سانس کوچھوڑ دو گے تو زندہ کیسے رہو گےاور یہ رشتے کہاں نبھا پاو گے۔۔۔۔۔ دل نے فیصلہ سنا دیا اور ایک بار پھر محبت ہر رشتے پر غالب آگئی۔
سکندر کے منہ سے بڑی مشکل سے الفاظ ادا ہونا شروع ہوئے۔۔۔۔
اگر آپ لوگوں کو میری اور میری خوشیوں کی ذرا بھی پرواہ ہے تو اپ میرے فیصلے کی عزت کریں گے۔۔۔۔۔سکندر نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی۔۔۔۔۔ دل البتہ کس کرب سے گزر رہا تھا اسکا باہر کے لوگوں کو اندازہ نہیں تھا۔۔۔
اور وہ دونوں کھڑے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھنے لگے کہ اس انسان نے اتنی آسانی سے ایک غیر کو چن کر اپنوں کو پرایا کر دیا۔
وہ کچھ دیر سکندر کو دیکھتے رہے جو اب نظریں پھیرے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر تایا سائیں نے تائی کو چلنے کا کہا اور وہ دونوں اسکی آنکھوں کے سامنے سے اسکے گھر سے نا امید لوٹ گئے۔۔۔
ان کے جانے کے بعد سکندر ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح صوفے پر ڈھے سا گیا اور رکے ہوئے آنسووں نے اس کے چہرے کو بھگونا شروع کر دیا۔۔
گل بہار خاموش تماشائی بنی اس ساری صورت حال کو دیکھ رہی تھی اور حیران تھی کہ یہ شخص مجھ سے شادی کر نا چاہتا ہے؟؟ساتھ ساتھ دکھی بھی تھی کہ میری وجہ سے یہ انسان اپنے قریبی رشتے کھو رہا یے۔۔۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔اسے سوچ سوچ کر بہت تکلیف ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے یہ انسان کیا کیا کچھ برداشت کر رہا ہے۔۔۔۔گل بہار کی آنکھ سے آنسو بہہ کر اسکے گال پر آگیا۔
وہ جو کچھ دیر پہلے دل ہی دل میں سب ٹھیک ہوجانے پر خوش تھی اور سمجھتی تھی کہ دنیا بڑی رحم دل ہے اب سمجھ آ رہا تھا کہ بھلا یہ دنیا اتنی ہمدرد کہاں ہے۔؟؟؟ایک جھٹکے میں ساری غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا تو لفظوں کے تیروں سے جسم اور روح پر ان مٹ نشانات چھوڑتی ہے۔۔۔اس دنیا کے الفاظ دل کو چھلنی کر دیتے ہیں۔۔۔یہاں آپ کا ماضی ہی آپکی پہچان ہوتا ہے۔۔۔دنیا خدا تھوڑی ہے جو ایک سجدے سے راضی ہو جائے یہاں تو ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اگر جان بھی دے دی جائے تو وہ بھی اس دنیا کے لیے معمولی بات ہے۔
_____
اے زندگی کبھی تو دوگھڑی ہنسنے کی اجازت دے دے۔
کبھی تو میرےدرد کو الوداع کہنے کی اجازت دے دے۔۔
کبھی تو مجھکو مجھ سے ملنے کی اجازت دے دے۔
اے زندگی کبھی تو مجھ کو اتنی سی اجازت دےدے۔
گل بہار اپنی زندگی کے دو پل کے سکون کے بعد واپس اسی مقام پر آگئی تھی جہاں سے چلی تھی۔۔۔وہی ذلت ،وہی رسوائی،وہی ماضی اور وہی ماضی کی تلخ یادیں۔۔جن کو وہ بھلے بھول جاتی پر دنیا کبھی نہیں بھولنے دیتی۔۔
سکندر اپنے تایا سائیں اور تائی جان کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر صوفے پر بیٹھا رہا۔۔۔دکھ اور تکلیف اسکے چہرے پر واضح تھی۔۔
گل بہار دروازے سے لگی کافی دیر اسے دیکھتی رہی۔پھر کچن سے پانی لے کر آئی اور اسکے سامنے کیا۔۔ خود کو وہ یوں ظاہر کر رہی تھی جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہیں۔۔اپنے چہرے پر بہتے آنسووں کوبھی اچھی طرح صاف کر چکی تھی۔
جب پانی سکندر کے آگے کیا تو ایک دم سے چونکا۔۔
سکندر نے ہاتھ آگے بڑھا کر گلاس تھام لیا۔ اور شکریہ کہہ کر لبوں سے لگا لیا۔۔گل بہار جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے چلی گئی۔۔۔
میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔دنیا کو جو کہنا ہے کہتے رہیں۔۔میں نے ہمیشہ اپنوں کی ہر بات کے آگے سر جھکایا ہے مگر اس بار میں ایسا نہیں کروں گا۔چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے میں گل بہار کو کبھی نہیں چھوڑو گا۔۔۔جب میرے اپنوں کو میری خوشی کی پرواہ نہیں تو مجھے بھی نہیں ہے۔۔۔وہ غصے اور دکھ کے ملے جلے جزبات کے ساتھ سوچ رہا تھا۔اسے بلاشبہ ان لوگوں کے رویے نے دکھی کیا تھا۔۔۔وہ گلاس کو یونہی تھامے بیٹھا رہا اور سوچ کی وادیوں میں غرق رہا۔۔۔اسے یہ بھی ہوش نہیں تھی کہ گلاس اسکے ہاتھ میں ٹوٹ چکا ہے اور خون بہہ کر فرش کو سرخ کر رہا ہے۔
گل بہار اپنے کمرے میں تھی۔اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اب آگے کیا کرے۔۔سکندر کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔پھر جیسے کچھ سوچ کر کمرے سے باہر نکلی۔۔اور قدم ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا دئیے۔۔
جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو نظر سکندر کے ہاتھ پر پڑی جس سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔۔
اسکی ایک دم سے چیخ نکلی تو سکندر جیسے خیالوں سے لوٹا۔۔۔اور فورا کھڑا ہو گیا۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی سکندر کے پاس آئی۔۔۔اور اسکا ہاتھ تھام لیا جس میں سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔نا جانے کیوں اسکی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی تھی۔۔۔
یہ ۔۔یہ۔۔کیسے۔۔اوہ کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔۔ وہ بہت گھبرائی آواز میں فکر مندی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
سکندر یوں گل بہار کے ہاتھ پکڑنے پر حیران ہوا اور پھر اگلے ہی پل اسکی اتنی فکرمندی دیکھ کر دل کو سکون سا محسوس ہوا۔۔۔
ارے کچھ نہیں وہ گلاس ہاتھ میں ٹوٹ گیا ۔۔معولی سی چوٹ ہے ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔
گل بہار سکندر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کہنے لگی۔۔۔آپ کو یہ معمولی سی چوٹ لگتی ہیں۔۔دیکھیں تو کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔پھر سکندر کو صوفے پر بٹھا کر خود فرسٹ ایڈ باکس لینے بھاگی۔۔۔
سکندر اسے روکتا رہ گیا لیکن اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔۔
فرسٹ ایڈ باکس سے روئی نکالی اور پھر احتیاط سے خون کو صاف کیا۔۔۔گل بہار کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے زندگی میں پہلی بار اتنا خون دیکھا تھا۔ پھر دوائی لگائی اور پٹی باندھ دی۔۔
سکندر اس سارے عمل کے دوران اسکے چہرے کے اتار چڑھاو کو دیکھتا رہا اور ایک لمحے کے لیے بھی نظر نہیں جپھکا سکا۔۔۔سکندر کو اتنا درد نہیں ہوا تھا جتنا وہ اس کے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنے خوابوں کی شہزادی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اب آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں ۔کہہ کر گل بہار فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
آپ اتنی فکر مند نہ ہوں۔اتنی معمولی سی چوٹ ہے اور ویسے بھی آپ نے پٹی باندھ دی ہے تو ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔سکندر نے محبت سے گل بہار کی بندھی ہو پٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
پلیز آپ آرام کریں۔۔کانچ کافی اندر تک چلا گیا تھا اور اسے ٹھیک ہونے میں بھی ٹائم لگے گا۔۔۔اور۔۔۔
وہ ابھی کچھ اور کہتی سکندر مسکراتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔۔۔ارے ارے۔۔بس کریں میں جارہاہوں اپنے کمرے میں۔۔ٹھیک ہے۔۔اب آپ پریشان مت ہو۔۔۔
سکندر کو کمرے میں جاتا دیکھ کر گل بہار کو تھوڑا سکون محسوس ہوا۔۔۔پھر کچن میں گئی اور ہلدی والا دودھ بنا کر سکندر کے کمرے میں دینی چلی گئی۔۔۔۔ کمرے پر ناک کر کے اندر داخل ہوئی سکندر کوئی فون کال اٹینڈ کرنے میں مصروف تھا۔۔
گل بہار نے دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور سکندر کو اسے پینے کا اشارہ کرتی باہر چلی گئی۔۔۔
اسے یوں دیکھ کر سکندر کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی ایک سکون تھا جو جسم اور روح پہ لگے زخموں پر مرہم کا کام کر رہا تھا۔۔۔
گل بہار اپنے کمرے میں آکر یہ سوچے گئی کہ ناجانے کونسی ڈور ہے جو اسے سکندر کی طرف کھینچ رہی ہے۔۔۔وہ اسکی احسان مند ہے۔۔بس۔۔۔ایک انسان کے احسان کا بدلہ جو وہ چاہ کر بھی نہیں چکا سکتی تھی۔۔۔ شاید اسی لیے مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوئی۔
___________
اگلے دن سکندر آفس میں اپنے روز کے کاموں میں مصروف تھا جب محسن کمرے کا دروازہ بجاتا اندر داخل ہوا۔۔۔
تایا سائیں سے اس نے ساری معلومات حاصل کر لی تھیں جسے سن کر وہ ششدر رہ گیا تھا۔۔۔۔اسے بلکل امید نہیں تھی کہ وہ انکا حکم ماننے سے انکار کر سکتا ہے اور آج وہ سکندر سے ملنے آفس میں موجود تھا تاکہ وہ کھل کر اس سے اس موضوع پر بات کر سکے۔۔۔اور وہ خود وہ غلطی نا دہرائے جو وہ پچھلی بار دہرا چکا تھا۔۔اسے سوچ سمجھ کر بات کرنی تھی۔۔
آو محسن بیٹھو۔۔۔۔۔سکندر نے فائل ایک طرف رکھتے ہوئے اور کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ پھر پوچھاکیا حال ہیں جناب کے۔۔۔
میں تو بلکل ٹھیک ہوں فٹ فاٹ۔۔سکندر اس کے ہاتھ پہ بندھی دیکھ چکا تھا اسی لیے فکر مندی سے پوچھنے لگا۔۔۔
یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں؟؟؟
کچھ نہیں یار بس کل گلاس ہاتھ میں ٹوٹ گیا تھا کہتے ہوئے کل کے تکلیف دہ واقعات اسکی آنکھوں کے سامنے آگئے۔۔۔جسے محسن محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔اس پل اسے گل بہار سے اور بھی نفرت محسوس ہوئی۔آخر یہ اور کتنی تکلیف دے گی اور کیا کیا سہنا پڑے گا میرے دوست کو۔۔
اور کیا لو گے چائے کافی۔۔۔اوہ تمہارے لیے تو آفس میں جو کچھ بھی ہے منگوا لوں ہے نا؟؟؟سکندر انٹر کام کو اٹھا کر پوچھنے لگا۔۔۔تو محسن اپنے خیالوں سے لوٹا
بس ایک کپ چائے۔۔۔
واقعی؟؟سکندر نے تھوڑی حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
ہمم۔۔۔جب سکندر نے انٹرکام رکھ دیا تو محسن اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔تم نے آگے کا کیا سوچا ہے؟؟
کس بارے میں؟؟سکندر نے انجان بنتے ہوئے کہا
میں تمہارے اور گل بہار کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔۔
تمہیں تایا سائیں سے اطلاع مل چکی ہوگی اور وہی میرا آخری فیصلہ ہے۔۔سکندر محسن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھااور محسن جیسے اپنی چوری پکڑے جانے پر شرمندہ ہوا۔۔
سوری یار میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔۔میں تو بس۔۔
میں جانتا ہوں اور تم نے جو بھی کیا اچھا کیا آخر ایک نا ایک دن تو ان کو اس حقیقت کا پتا چلنا ہی تھا۔۔سکندر نے جیسے اسے تسلی دی اور اسکی شرمندگی کو کم کیا۔۔۔
تو پھر تم گل بہار سے پکا نکاح کر رہے ہو اور اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹو گے؟؟
بلکل میں جو کہہ رہا ہوں وہ میں ٹھان چکا ہوں اور تم جانتے ہو کوئی بھی مجھے میرے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔۔
اور اس نکاح کے بعد جو طوفان آئے گا اسکا اندازہ تو تمہیں بخوبی ہوہی چکا ہوگا۔۔۔کل تو صرف ٹریلر تھا۔
میں جانتا ہوں محسن مجھے اپنے نام مقام عزت ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔۔اور پھر بھی یہ سودہ گھاٹے کا نہیں ہوگا۔۔۔۔یہ دل کا معاملہ ہے جہاں کوئی بھی بازی ہار جیت کے بغیر کھیلی جاتی ہے۔
چائے پیو۔۔چائے آگئی تو سکندر نے محسن کو پینے کے لیے کہا اور خود دوبارہ کسی کام میں مصروف ہوگیا۔۔
میں تمہیں یہ بے وقوفی نہیں کرنے دے سکتا۔تم ابھی محبت میں پاگل ہوئے ہوئے ہو اور میرا اس محبت نامی بلا سے برسوں کا ساتھ ہے۔آج کل کے دور میں محبتیں نہیں ہوتیں سکندر صرف ٹائم پاس ہوتا ہے جو وہ لڑکی تمہارے ساتھ کر رہی ہے اور تمہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔۔محسن سکندر کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔۔۔اور آگے کا لائحہ عمل طے کر رہا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: