Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 6

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 6

–**–**–

 

محسن نے اپنے ذہن میں اگلا لائحہ عمل طے کر لیا تھا۔اسی کو سرانجام دینے کے لیے اس نے گاڑی سکندر کے گھر کی طرف موڑ دی۔جانتا تھا کہ وہ ابھی آفس میں ہی ہے تو یہی بہترین موقع ہے۔
گھر کے اندر آکر سامنے کھڑی سلیمہ کو آواز دی۔
جی صاحب جی۔۔۔سکندر صاحب تو ابھی تک آفس سے نہیں آئے۔۔۔
مجھے سکندر سے نہیں ملنا۔تم جا کر گل بہار کو بلا کر لاو۔۔
محسن کی بات سن کر سلیمہ کے منہ سے زور سے” جی” نکلا اور پھر اگلے ہی لمحے سر کو اثبات میں ہلاتی چلی گئی۔۔۔
کمرے کے دروازے پر دستک دی اور جواب ملنے پر اندر داخل ہوگئی۔۔۔
گل بہار بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ہاتھ روک کر پوچھا۔۔۔۔ کوئی کام تھا؟؟
جی بی بی جی وہ آپ کو محسن صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔
محسن کون محسن؟؟گل بہار پہلی بار یہ نام سن رہی تھی۔
جی وہ سکندر صاحب کے بڑے گہرے دوست ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔یوں سمجھ لیں کہ بھائی ہیں دونوں۔۔سلیمہ نے ساری تفصیل بتائی تو گل بہار نے کہا “تم چلو میں آتی ہوں”
تھوڑی دیر کے بعد گل بہار محسن کے سامنے ڈرائنگ روم میں کھڑی تھی۔۔
محسن ایک پل کے لیے تو نظر جپھکنا ہی بھول گیا وہ واقعی بہت خوبصورت تھی اور کسی کے بھی ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔۔۔
اوہ تو اتنی خوبصورت بلا سے بھلا کون بچ سکتا ہے۔۔میرے دوست بچارے کا کیا قصور۔۔۔ اسے تو گھائل ہونا ہی تھا۔۔
میں محسن ہوں سکندر کا دوست۔۔۔پھر بات کو آغاز کیا
جی سلیمہ نے مجھے بتایا۔۔آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا؟
محسن طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔بھلا مجھے “تم جیسی” عورت سے کیا کام ہو سکتا ہے۔۔۔
اور سن یہ سن کر گل بہار کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔۔مطلب اسکے ماضی سے یہ شخص آگاہ ہے۔۔۔۔پھر جیسے ہمت کرکے بولی۔۔۔تو آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتےتھے؟؟
اس لیے تاکہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا سکوں کہ تم کس گندی نالی کا کیڑا ہو۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے دوست کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی۔۔۔ شدید غصے میں کہتا کھڑا ہو گیا تو اسکے ساتھ گل بہار بھی کھڑی ہوگئی۔۔۔جو بس رو دینے کو تھی۔۔۔
دیکھا ہو گا نا کہ لڑکا اکیلا ہے ۔۔۔اتنا مالدار ہے اور تھوڑا بےوقوف بھی تو کیوں نا اسکو اپنی محبت او نہیں نہیں محبت بھلا کہاں تم جیسی عورتیں کرتی ہیں۔۔تو کیوں نا اسے اپنی اس خوبصورتی کے جال میں پھانس کر سب کچھ ہتھیا لیا جائے۔۔کیوں ایسا ہی ہے نا گل بہار صاحبہ۔۔۔۔محسن غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
گل بہار نے بمشکل کہا۔۔نہیں میں ایسی نہیں ہوں۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
اوہ واقعی تو آپ کا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے ۔ وہ وہاں نکاح کی تیاری کرکے بیٹھا ہے اور تم کہتی ہو کہ تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔گل بہار بی بی کسی اور کو بیوقوف بنانا مجھے نہیں۔۔۔سکندر تمہاری اس بھولی صورت سے دھوکا کھا سکتا ہے میں نہیں۔۔۔تم جیسی عورتوں کی اصلیت مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا۔
آنسو اب گل بہار کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔ذلت و رسوائی کی انتہا تھی۔۔۔وہ بس نظریں جھکائے خاموشی سے محسن کو سنتی رہی۔۔۔کہنے کی اوقات ہی بھلا کہاں تھی۔
میرا دوست اپنی عزت؛ اپنا نام ؛اپنا مقام؛ اپنے رشتے سب کچھ تم دوٹکے کی لڑکی پر قربان کر نے جارہا ہے۔جان بوجھ کر خود کو آگ میں دھکیل رہا ہے۔۔۔۔۔اس نے اس ایمپائر کو کھڑا کرنے کے لیے کتنی محنت کی ہے بھلا تم جیسی جسم فروش کیا جانے کہ محنت کیا ہوتی یے۔۔۔عزت اور مقام کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔۔۔ اور وہ تمہاری وجہ سے ان سب سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔محسن نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
گل بہار کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔جودہ بائی کے بعد آج پہلی بار کوئی اس سے یوں بات کر رہا تھا۔
ناجانے کو نسی منحوس گھڑی تھی جب میں نے اسے اس کوٹھے پر چھوڑا۔۔۔پر خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔اب تم بتاو کہ تم سکندر کی جان چھوڑنے کی کیا قیمت لو گی۔۔۔جتنی بولو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔
بولو کیا قیمت ہے تمہاری؟؟؟
وہ اس سے پوچھ رہا تھا اور گل بہار رو رو کر بےہوش ہونے کو تھی۔۔
محسن نے اسے جھنجھوڑ کر پوچھا۔۔۔بتاو کیا قیمت ہے تمہاری ابھی تمہار ےمنہ پر مارتا ہوں دفع ہو جاو اسکی زندگی سے۔۔۔
م۔مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔میں چلی جاوں گی۔۔۔گل بہار کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔۔اس لیے بمشکل اتنا ہی کہہ پائی۔۔
اچھا واقعی تو تم چلی جاو گی؟؟ اور سارا الزام مجھ پہ ڈال دو گی؟؟بولو ایسا ہی کرو گی نا
نہیں میں سکندر صاحب سے کچھ بھی نہیں کہوں گی۔۔۔میں خاموشی سے یہاں سے چلی جاوں گی۔۔۔اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
ایک لمحے کو محسن کو اس پر ترس آیا مگر اگلے ہی لمحے پھر اپنے موڈ میں واپس لوٹ آیا۔۔۔۔خاموشی سے چلی جاو گی تو وہ پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈنا شروع کو دے گا۔
تو پھر میں کیا کروں؟؟گل بہار کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ انسان کیا چاہتا ہے۔۔
تمہیں اسطرح سے جانا ہے کہ سکندر تمہاری شکل سے بھی نفرت کرے۔۔۔۔ اور اگر تم یہاں سے نہیں گئیں اور سکندر کو کچھ بھی بتایا تو یاد رکھنا میں تمہارا قتل کر دوں گا سمجھی۔۔۔
وہ ایک بار پھر کڑی نظروں سے گھورتا اور انگلی سے تنبیہہ کرتا وہاں سے نکل گیا۔
گل بہار کا پورا وجود ایک پتے کی طرح کانپ رہا تھا وہ وہیں فرش پر بیٹھ کر پوری رفتار سے رونے لگی۔۔
کافی دیر رونے کے بعد اس نے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا دیئے جہاں اس نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی۔۔۔
نماز ادا کرنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے تو محسن کی باتیں پھر سے کسی خنجر کی طرح چھبتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔
یااللہ یہ شخص مجھے کیا سمجھ رہا ہے میں ایسی تو نہیں ہوں۔۔تو تو جانتا ہے۔۔میں پاک ہوں میری نیت پاک ہے۔میں بھلا سکندر کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہوں جس نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا مجھے اس دلدل سے نکالا۔۔پر شاید میری قسمت میں یہ ذلت اور رسوائی لکھ دی گئی ہے جسے میں چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی۔
یااللہ میں اس شخص کا نام کبھی خراب نہیں ہونے دوں گی ۔میں تو ہوں ہی بدنام ۔۔پر اسکا نام میری وجہ سے گندہ ہو یہ میں کبھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔چاہے اسکے لیے مجھے خود کو کتنا ہی ذلیل کروانا پڑے میں کروالوں گی۔۔۔۔۔ آنسووں نے نا رکنے کا ارادہ کر لیا تھا وہ بار بار ان کو پونچھتی مگر وہ پھر سے باہر آجاتے۔۔۔وقت کہاں سے کہاں لے آیا تھا پر یہ آنسو آج بھی وہیں کے وہیں تھے۔۔۔
_________
وہ بہت خوش تھا یوں جیسے ہواوں میں اڑ رہا ہو۔آج وہ گل بہار کو اپنے دل کی بات بتا دے گا اور اپنی محبت کااعتراف کر لے گا۔۔۔اور کل نکاح کے بعد وہ میری ہو جائے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔یہ احساس ہی اتنا خوبصورت تھا تو اسکی تعبیر کتنی خوبصورت ہوگی۔۔یہی سوچ کر ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گئ۔۔۔نظر گاڑی سے باہر ایک پھولوں کی دکان پر پڑی تو گاڑی روک کر اندر داخل ہوگیا۔۔۔خوبصورت سرخ گلابوں کا گلدستہ خریدا۔۔۔سکندر کو سرخ گلاب بہت پسند تھے تبھی خرید کر بڑے پیار سے انکو چھوا تو دل نے کہا واقعی کوئی بھی پھول سرخ گلاب سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس سے بڑھ کر کوئی اور تحفہ ہو سکتا ہے۔۔۔اور جب تم انہیں چھوو گی تو انکی خوشبو اور خوبصورتی دونوں میں اضافہ ہو جائے گا۔۔۔سوچ کے ساتھ ہی ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔پھر واپس گاڑی میں بیٹھ گیا اور رخ گھر کی طرف موڑ لیا۔۔۔
آج یہ راستہ اتنا لمبا کیوں ہوگیا ہے یار ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔حالانکہ روز اسی راستے سے ہی تو جاتا ہوں۔۔۔دل کی بےقراری اور خوشی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔سکندردل ہی دل میں خود سے ہی سوال کر رہا تھا ۔۔۔اور خود ہی جیسے وضاحتیں بھی دے رہا تھا۔
__________
محسن کا ٹینشن کے مارے برا حال تھا اور اسی ٹینشن میں وہ اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا۔۔غصے میں وہ سب گل بہار کو کہہ تو آیا تھا لیکن اگر اس نے اپنا منہ کھول دیا اور سب سکندر کو بتا دیا تو وہ تو میری شکل سے بھی نفرت کرے گا۔۔۔یہ میں نے کیا کیا۔۔کوئی اور طریقہ نکل ہی آتا۔
میں بھی تو ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر ہی سوار رہتا ہوں۔تھوڑا صبر کر لیتا۔۔۔اچھا خیر اب ہو بھی کیا سکتا ہے۔۔۔اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئ کھیت۔۔۔تیر تو کمان سے نکل چکا ہے اور وہ واپس نہیں آسکتا اب تو خاموشی سے انتظار کر نا ہے۔۔۔آخر کار یہ سوچ کر اس نے خود کو بیڈ پر گرا دیا۔۔۔اور آنکھیں بند کرکے دل میں دعا کرنے لگا کہ سب ٹھیک سے ہو جائے۔۔۔اور محسن کے لیےایک ایک لمحہ بھاری ہو رہا تھا۔
__________
وہ بلاشبہ ایک خوبصورت شام تھی آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے ابھی بارش شروع ہو جائے گی۔۔۔
سکندر اس شام کو اور بھی خوبصورت بنانا چاہتا تھا۔۔۔اس لیے گاڑی سے اتر کر تیز ی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا رخ گل بہار کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ گل بہار اس وقت اپنے کمرے میں ہوگی۔۔۔وہ اپنے دل کی بات بتانے میں مزید ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
گل بہار کے کمرے کے سامنے رک کر اپنی بےترتیب دھڑکنوں کو ترتیب دی۔۔ایک لمبی سانس لے کر اندر کی ٹینشن کو ریلیز کیا ۔۔چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔۔۔ایک ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھامے۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے دروازے پر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ کھلتا ہی چلا گیا۔
“میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں راجو۔۔۔اتنی کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے”۔۔
یہ سن کر سکندر کےپاوں وہیں جم گئے۔۔۔گلدستہ ہاتھ سے چھوٹ کر پیروں میں آگرا۔۔۔
راجو نے ہاتھ چھڑوانے چاہے تو اس نے ان پر اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دی۔۔۔۔
بی بی جی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔راجو گل بہار سے دور ہٹ رہا تھا۔۔۔
ایسے مت کرو راجو میں سچ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔جب سے تمہیں دیکھا ہے تم میرے دل دماغ پر ہر وقت چھائے رہتے ہوں۔۔۔میرے دل کا چین قرار سب تم نے چھین لیا یے۔
بی بی جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں مجھے جانے دیں اگر سکندر صاحب کو معلوم ہوگیا تو وہ تو میری کھال ادھیڑ دین گے۔۔۔۔میں۔۔۔وہ ابھی کچھ اور کہتا گل بہار نے اسکے ہونٹوں پرانگلی رکھ کر انہیں خاموش کروا دیا۔
سکندر کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔۔۔وہ تو میرے عشق میں پاگل ہو چکا ہے۔۔بے چارہ بےوقوف عاشق۔۔۔۔بس ایک بار مجھ سے اپنی محبت کا اعتراف کر لے پھر دیکھنا میں کیسے اسکی ساری دولت پر قبضہ کرتی ہوں۔۔۔اسکو بھکاری نا بنایا تو میرا نام بھی گل بہار نہیں۔۔۔۔پر تم۔۔۔ تم تو میری محبت پہ اعتبار کرو۔۔۔ہم دونوں بہت خوش رہیں گے۔۔
سکندر کی برداشت جواب دے گئی تھی وہ شدید غصے سے اندر کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔یہ سب سن کر اور دیکھ کراسکاخون کھول اٹھا تھا۔۔۔۔اس نے سکندر کے مقابلے میں ایک نوکر کو ترجیح دی جو اسکی جوتی برابر بھی نہیں ہے۔آنکھوں میں اپنے ہزاروں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں چبھ رہی تھیں۔۔۔دل کے ہزار ٹکڑے ہو چکے تھے۔۔۔پہلی بار کسی نے اعتبار اور یقین کے اتنے ٹکڑے کیے تھے کہ گننا بھی محال تھا۔
سکندر نے ایک جھٹکے سے گل بہار کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو اسکے ہاتھوں سے راجو کے ہاتھوں پر گرفت ڈھیلی ہوگئی ۔۔۔۔ راجو فورا سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ سکندر کو دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔۔۔۔۔سکندر کا غصے آسمان کو چھو رہا تھا۔۔۔راجو کی ٹانگیں کانپنا شروع ہوگئیں۔۔۔سکندر صاحب اسے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔اسکی کھال ادھیڑ دیں گے۔۔
سکندر نے ایک زناٹے دار تھپڑ گل بہار کے چہرے پر مارا تو وہ چکرا کے رہ گئی۔۔۔۔اسکی انگلیوں کی نشان گل بہار کے چہرے پر نقش ہوگئے۔۔
دفع ہو جاو راجو یہاں سے۔۔۔۔راجو جیسے سکتے سے باہر آیا اور فورا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔اور اپنے انجام کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
وہ شدید غصے اور دکھ سے واپس گل بہار کی طرف پلٹا جو چہرے پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔ اس لڑکی نے اس کے بھروسے کے ٹکڑے کر دیے تھی اور اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔
گل بہار کو پوری طاقت کے ساتھ بازووں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا ۔۔۔اسے یوں لگا جیسے اسکی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی مگر ضبط کرکے کھڑی رہی۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھا اور شدید غصے اور سرخ چہرے کے ساتھ سکندر کہہ رہا تھا۔۔۔تم نے صحیح کہا کہ میں ایک پاگل بے وقوف عاشق ہوں۔۔جس نے تم پر اعتبار کیا بھروسہ کیا۔۔سب سے لڑا۔۔اپنوں کو کھو دیا۔۔۔اپنے نام اپنی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی۔۔۔ سب کہتے رہے کہ تم دھوکے باز ہو۔۔غلیظ ہو۔۔۔ مگر میں نے نہیں سنا۔۔۔پر تم نے ان سب کو صحیح ثابت کرکے مجھے غلط ثابت کر دیا اسکے لیے بہت بہت شکریہ۔۔تم نے بہت ڈھونگ رچا لیا اپنی پاکیزگی اور معصومیت کا پر اب نہیں۔۔۔وہ کہے جارہا تھا اور گل بہار اسکی آنکھوں سے گرتے آنسووں میں اپنی لیے ہر جزبے کو بہتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
میرے ہر جزبے کی توہین کی۔۔۔تم نے ثابت کردیا کہ تم ایک گندی نالی کی پیداوار ہو ۔۔۔ایک کوٹھے کی طوائف ہو اور بس۔۔۔۔سکندر نے حقارت سے اسے کہہ کر دھکا دے دیا تو وہ فرش پر جا گری۔
تم ابھی کے ابھی میرے گھر سے میری زندگی سے دفع ہو جاو ورنہ میں خود تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔۔۔
سکندر کہہ کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا مزید رکتا تو دل درد سے پھٹ جاتا۔
_______
گل بہار خود کو بمشکل سنبھالے کھڑی ہوئی اور مردہ قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی سکندر کے گھر اور زندگی سے باہر نکل آئی۔۔۔
بادلوں نے برسنا شروع کردیاتھا۔۔۔اوراسکے رکے ہوئے آنسو بھی ہر بند کو توڑ کر آہستہ آہستہ چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔۔آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئی۔۔۔۔اس نے خود کو سکندر کی زندگی سے نکال لیا تھا ۔۔
آج محسن کے جانے کے بعد وہ سوچتی رہی کہ اب کیا کرے کہ سکندر کی تکلیف کم کر سکے۔۔۔۔۔وہ مزید درد سے بچ جائے۔۔۔وہ اسی سوچ میں گم تھی جب نظر کھڑکی سے باہر کام کرتے مالی راجو پر پڑی۔جو بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان تھا اور پھر اچانک اسکے دماغ میں ایک پلین بنا۔۔۔۔۔اس نے سکندر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے راجو کو اپنے کمرے میں بلایا اور جیسے ہی سکندر کمرے میں داخل ہونے لگا تو گل بہار نے اپنا ڈرامہ شروع کیا۔۔۔
سکندر راجو پر بہت اعتبار کر تا تھا اور وہ جانتی تھی کہ اس سب کے بعد بھی وہ راجو کو اسکے کام سے نہیں نکالے گا۔۔۔اسطرح اسکی نوکری بچ جائے گی۔۔
بلآخر اسکا پلین کامیاب رہا اور وہ سب کچھ ہار گئی۔۔۔۔۔۔اس نے سکندر کی دی ہوئی عزت کے احسان کا بدلہ اپنی عزت کی نیلامی کی صورت میں اتار دیا۔۔۔اسکی خوشیوں کے لیے اس نے اپنے دامن کو کانٹوں سے بھر لیا۔۔خود کو عرش سے فرش پر گرا لیا۔۔۔سکندر کی محبت کے چراغ کو اپنے ہاتھوں سے بجھا دیا۔۔۔۔اب کبھی وہ میری طرف نہیں دیکھے گا اور اپنی زندگی پہلے کی طرح جیئے گا۔۔
گل بہار ننگے پیر سڑک پل چلتی جارہی تھی۔۔۔پیروں میں چھبنے والے پتھروں اور کانٹوں کا بھی ہوش نہیں تھا جب زندگی خود درد بن جائے تو باقی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔۔۔بلآخر سب کچھ ختم ہوگیا ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔۔۔یہ سوچ کر اس نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔
ہر درد کی دوا نہیں ہوسکتی ۔۔۔
ہر درد کا مداوا نہیں ہوسکتا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: