Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 7

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 7

–**–**–

 

شام آہستہ آہستہ رات کی تاریکی میں ڈھل رہی تھی۔بارش کی بوندا باندی اب موسلا دھار بارش کی صورت اختیار کر چکی تھی۔۔۔نومبر کی ایک خوبصورت شام جو کچھ پہلے تک بے پناہ خوبصورتی سمیٹے ہوئے تھی۔ایک ہی پل میں ساری خوبصورتی کو ماند کرگئی۔۔
ان دونوں کے اندر برپا شور بارش کے شور سے کہیں زیادہ تھا۔۔وہ ایک ایسا طوفان تھا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے گیا اور دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا الگ الگ راستوں کا مسافر کر گیا۔۔
لوگ ملتے ہیں پھر بچھڑتے ییں پھر کچھ اور لوگ ملتے ہیں اور پھر ان میں سے بھی کئی لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔۔۔یہ نا ختم ہونے والا سلسلہ پیدائش سے موت تک جاری رہتا ہے۔۔صرف ان سب کی کچھ اچھی اور بری یادیں ہوتی ہیں جو ہمیشہ یاد رہتی ہیں اور کچھ لوگ آپ کی روح پر قابض ہو جاتے ہیں اور ہم چاہ کر بھی جسم کو روح سے الگ نہیں کرسکتے کسی کی یادوں کو نہیں مٹا سکتے۔۔
دونوں اپنی اپنی جگہ پر صحیح تھے۔۔۔گل بہار نے ایک انسان کی زندگی بچانے کے لیے خود کو سکندر کی نظروں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرا دیا۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کی انتہا کو دیکھ چکی تھی اور جانتی تھی کہ وہ کسی صورت مجھے نہیں چھوڑے گا اور اگر اس نے ایسا کیا تو وہ سب کچھ کھو بیٹھے گا۔۔سکندر اسکی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا تو ایک قربانی اسے بھی تو دینی تھی اور شاید اپنی زندگی کی سب سے بڑی قربانی۔۔
ایک امید جس پہ ساری عمر گزار دی آج وہ ٹوٹ گئی اور اسکے ساتھ گل بہار بھی ٹوٹ گئی۔
وہ آسمان کی طرف منہ کرکے خاموش زبان اور چیختی آنکھوں سے کہہ رہی تھی۔۔ایک امید جس پہ ساری عمر گزار دی آج وہ ٹوٹ گئی اور اسکے ساتھ گل بہار بھی ٹوٹ گئی۔۔۔۔تو یہ ہے میرا انجام ۔۔کنیز کی گل بہار کا انجام۔۔ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں کچھ اور بھی نم ہوگئیں۔۔ہر چیز کے بغیر زندگی گزاری جاسکتی ہے لیکن امید کے بغیر کیسے گزاروں۔۔۔آج اپنے ہاتھوں سے اپنی آخری امید کو ختم کر دیا۔۔کتنا مشکل تھا یہ سب کرنا لیکن کرنا پڑا۔۔۔کرنا پڑتا ہے۔۔۔کسی کو آباد کرنے کے لیے خود کو برباد کر نا ہی پڑتا ہے۔۔کسی کو زندگی دینے کے لیے خود کو مارنا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔احسان کا بدلہ کہیں نا کہیں تو چکانا ہی پڑتا ہے۔۔۔
زندگی تو میرے لیے ہمیشہ سے ہی بے رحم تھی۔۔نہ ماں باپ نے اپنایا نہ اس زمانے نے۔۔۔آخر کیا قصور تھا میرا کیا غلطی تھی میری۔۔۔۔ایک عزت کی ہی تو امید رکھی تھی کیا میں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر کچھ ما نگ لیا تھا۔۔۔شاید ایک کوٹھے والی کا عزت مانگنا ہی سب سے بڑا گناہ تھا ۔۔۔ لیکن میں اپنی مرضی سے تو وہاں نہیں تھی میری مرضی تو اس دنیا کے کسی معاملے میں شامل نہیں تھی۔۔۔
بارش اسکو بھگوئے جارہی تھی اور وہ ایک ہی جگہ پر کھڑی نظریں آسمان پر گاڑھے کھڑی تھی۔۔۔آنسو اور پانی دونوں ایک دوسرے کو اپنے اندر سما رہے تھے۔۔۔۔۔اس بے مقصد زندگی کا کیا حاصل۔۔۔کیا منزل۔۔۔۔بے بسی سے سوچ کر مردہ قدم آگے بڑھا دیے ۔۔۔۔وہ بس چلتی جارہی تھی۔۔۔۔پاوں کیچڑ سے لت پت ہوچکے تھے۔۔۔لباس مکمل بھیگ چکا تھا۔۔۔اور ہوش تو پہلے ہی کھو چکا تھا۔۔
__________
اک بے وفا کے زخموں پر مرہم لگانے ہم گئے۔۔۔
مرہم کی قسم مرہم نہ ملا، مر ہم گئے۔۔
شعر سن کر محسن شاک کی کیفیت میں بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔وہ ابھی ابھی موبائیل کی آواز پر نیند سے اٹھا تھا۔۔۔۔صبح کے دس بج رہے تھے اس نے سامنے گھڑی پر نظر
ڈالی۔۔
تو سچ کہتا تھا محسن بلکل سچ کہتا تھا۔۔
سکندر کی آواز میں اتنا درد تھا جیسے وہ رو رہا ہو۔۔۔۔پر کیوں؟؟ وہ یہ بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں سکندر جلدی بتاو مجھے؟؟
آجا محسن تیرا دوست مر رہا یے۔۔۔یہ درد برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔ میں مر رہا ہوں محسن میں مر رہا ہوں۔۔۔میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔۔ وہ اپنی ہی دھن میں موبائیل کان سے لگائے کہے جا رہا تھا۔۔
تم ہو کہاں میں ابھی آرہا ہوں۔۔۔۔محسن جلدی جلدی کار میں آکر بیٹھ گیا اور کار سٹارٹ کرکے ہوا میں اڑانے لگا۔۔۔۔سکندر نے اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔
دل میں بہت درد ہو رہا ہے محسن پہلے کبھی اتنا درد نہیں ہوا۔۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے کسی نے میرے دل کو تیز چاقو سے کاٹ دیا ہو۔۔۔ مجھے میرے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔محسن سب ختم ہو گیا اور تیرا دوست بھی اب ختم ہو جائے گا۔۔
موبائیل بند ہو گیا اور محسن کا دل بھی بند ہونا شروع ہو گیا۔۔۔کچھ بہت برا ہوا ہے بہت برا۔۔۔۔گل بہار تم دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔۔۔محسن کی اپنی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھاگتا ہوا سکندر کےکمرے تک پہنچا اور دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا تو اندر کے منظر نے اسے چکرا کر رکھ دیا تھا۔۔
اندر ہر طرف سگریٹ کا دھواں پھیلا ہوا تھا یوں جیسے ساری رات اس نے سگرٹ پینے میں گزاری ہو۔۔۔اردگرد نظر دوڑائی تو وہ اسے کرسی پر بے ہوش پڑا نظر آیا۔۔۔
وہ تیزی سے اسکے پاس پہنچا اور اسے اٹھانے لگا۔۔
سکندر اٹھو سکندر کیا ہوا ہے تمہیں ہوش میں آو۔۔۔۔۔وہ مسلسل اسکا چہرہ تپھتپھا رہا تھا۔۔۔سکندر نے ایک لمحے آنکھیں کھولیں اور ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ محسن کو دیکھا اور پھر اگلے ہی پل پھر سے ہوش کھو بیٹھا۔۔۔۔
محسن کے پاوں کے نیچے سے زمین کی سرک گئی ۔۔۔ یہ وہ سکندر تو نہیں ہے جس سے میں کل ملا تھا جس کو میں ہمیشہ سے جانتا ہوں۔۔۔کیا کر لیا ہے تم نے اپنے ساتھ میرے دوست۔کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔اس ایک رات میں کیا ہو گیا ہے تمہیں؟
وہ آئی اسطرح۔۔۔
یوں جیسے زندگی میں بہار آئی ہو۔۔۔
پھول پہلی بار کھلے ہوں۔۔۔
پہلی بار رنگوں کو دیکھا ہو۔۔۔
پہلی بار سانس لی ہو۔۔۔۔۔
دل پہلی بار دھڑکا ہو۔۔۔۔
زندگی پہلی بار زندگی جیسی لگی ہو۔۔۔۔
سب کچھ ہوا کے جھونکے کی طرح۔۔۔
میری سانسوں میں میری روح میں اتر گیا ہو۔۔۔
پر یہ لمحہ اتنا مختصر ہوگا۔۔۔۔
اور اسکا درد اتنا گہرا ہو گا۔۔۔۔
زخم اتنے گہرے ہوں گے۔۔۔۔
میں جو سانس لینا چاہوں۔۔۔
میں جو مسکرانا چاہوں۔۔۔
میں جو پھر سے بہار کو دیکھنا چاہوں۔۔۔
رنگوں کو آنکھوں میں سمانا چاہوں۔۔۔
تو سب مل کر مجھ پہ ہنستے ہیں۔۔۔
اور کہتے ہیں۔۔۔
بھلا اب یہ کیسے ہو۔۔۔
یہ اک خواب ہے فقط دیوانے کا۔۔۔
محبت نے دل جو تیرا توڑا ہے۔۔۔
تو ٹوٹا دل تیرا تجھ کو۔۔۔
فقط درد لاعلاج دیتا ہے۔۔۔
اس زخم کو سینا ہے۔۔۔
ہر روز جینا ہے تجھ کو۔۔۔
اور ہر روز ہی مرنا ہے۔۔۔
بس زندگی نہیں جینا۔۔۔
فقط گزارنا ہے اس کو۔۔۔
کہ تو محبت کا مجرم ہے ۔۔۔
تجھے رہائی نہیں مل سکتی۔۔۔
پس اب انتظار کر۔۔۔
آخری سانس تک۔
کہ جب تیری روح تجھ کو آزاد کر دے۔۔۔
تجھے بس انتظار کرنا ہے۔۔۔
ہر روز جی جی کے مرنا ہے۔۔۔
ہر روز تڑپتے ہوئے مرنا ہے۔۔
اور اور بس پھر اپنا قصہ تمام کرنا ہے۔۔۔
پھر سب ختم یہ۔
یہ درد ختم ، یہ حسرت ختم ،یہ محبت ختم،
_____
دو سال بعد۔
وائیٹ فراک پہنے ہاتھ میں جادو کی چھڑی تھامے بلکل تیار سی آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی۔۔پھر آئینے میں اپنے پیچھے کھڑی ماما کو سوالیہ نظروں سے دیکھ کر پوچھا۔۔
ماما میں کیسی لگ رہی ہوں؟؟
بلکل ایک پری کی طرح جو ابھی ابھی آسمان سے اتری ہو۔۔
رئیلی ماما میں بلکل پری کی طرح لگ ہوں؟؟
جی میری جان۔۔چلو اب جلدی چلو نہیں تو لیٹ ہو جاو گی۔۔۔
وہ اس کا نازک ہاتھ تھامے باہر پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف لے جانے لگی۔۔جہاں اسکے پاپا کھڑے اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
پاپا کی نظر جب اپنی خوبصورت پری جیسی بیٹی پر پڑی تو فورا اسکی طرف آئے اور اسے اٹھا لیا۔۔۔
آج تو ہماری بیٹی بلکل پری لگ رہی ہے۔۔
ماما نے مجھے بلکل پری کی طرح تیار کیا ہے۔۔۔آج کا کامپیٹیشن تو میں ہی جیتوں گی پاپا۔۔
ہاں میری جان آپ ہی جیتیں گی۔۔کہہ کر فرنٹ ڈور کھولا اور اسے بٹھا کر ڈور بند کر دیا۔۔۔
پھر مڑ کرایک نظر اس لڑکی کو دیکھا جو سادگی میں اپنی مثال آپ تھی۔۔۔جس کے آنے کے بعد ساری خوشیاں لوٹ آئیں تھیں۔۔۔ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔
اوکے میری جان بیسٹ آف لک۔۔۔وہ ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھی۔۔۔تو خوبصورت پری نے بھی ہاتھ ہلا کر اپنی ماما کو بائے بائے کیا۔
اپنے کمرے میں واپس آکر ساری چیزیں سمیٹنے لگی۔۔۔۔نظر ڈائری پر پڑی جو وہ رات کو لکھتے لکھتے سو گئی تھی۔۔۔۔
ڈائری اٹھا کر کسی سوچ میں گم اس پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔۔۔
پچھلے دو سالوں میں نے اپنی زندگی کا ہر گزرا لمحہ اس میں قید کر دیا ۔۔۔ہر وہ بات جو تم سے نہ کہہ سکی۔وہ اس میں لکھ دی۔۔۔۔۔ ہر رات جب تمہاری یاد ستاتی ہے تو اپنا حال دل اس پر لکھ دیتی ہوں۔۔۔۔ صرف یہی ہے جو میرے درد کو اپنے اندر سمیٹ کر مجھے ہلکا پھلکا کر دیتی ہیں۔۔۔۔جس احساس سے بےخبر تھی جسے تمہارا احسان سمجھتی رہی۔۔۔۔اور سمجھتی تھی کہ صرف اس احسان کی وجہ سے تم میرے دل کے اتنے قریب ہو تو وہ میری غلط فہمی تھی۔۔۔جب بھی آنکھیں بند کرتی ہوں تو تمہارا چہرہ مجھے اپنی اور بلاتا ہے ۔۔۔تمہاری محبت کا نشہ چھا جا تا ہے۔۔۔میں تم سے دل میں کتنی بار اعتراف محبت کر چکی ہوں۔۔۔۔تم تک آنا بھی چاہتی ہوں۔۔۔چاہتی ہوں کہ تم میرے ہر درد کو سمیٹ لو مگر۔۔۔۔۔ میں زمانے کی دیوار کو گرا کر تم تک نہیں پہنچ سکتی۔۔۔۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم مجھے اس زمانے کی گردش میں بھول گئے ہوگے۔۔۔اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے ہو گے۔۔۔چلو یہ بھی اچھا ہی ہے۔۔۔
یہی سب سوچتے ہوئےاپنی زندگی کی پوری داستان اس ڈائری کو الماری میں قید کرکے باہر چلی گئ۔
_________
یہ لیٹر ٹائیپ کیا ہے تم نے ہاں۔۔۔اس میں کتنی غلطیاں ہیں۔۔۔۔پھر لیٹ کو اسکے منہ پر مارا۔ تم سب کے سب ایک نمبر کے نکمے اور کام چور ہو۔۔۔دفع ہو جاو یہاں سے اب۔۔اور آئیندہ ایسی غلطی ہوئی تو اپنا ٹرمینیشن لیٹر لے لینا مجھ سے۔۔۔۔وہ شدید غصے سے چلا رہا تھا۔۔۔ کیبن سے باہر کام کرتے ہوئے سب لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا اور دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا۔۔۔۔اسکی تو آج خیر نہیں۔۔۔
کام وام کچھ کرتے نہیں بس مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں۔۔۔
اتنا کچھ سننے کے بعد سیکریٹری نے بس خاموشی سے لیٹر اٹھایا اور سوری سر کہتا باہر نکل گیا۔۔
باہر آکر ایک کولیگ سرمد کے آگے زور سے اس لیٹر کو پھینکا۔۔۔اور پھر رو دینے والی آواز میں بولا۔۔۔
دیکھو اسے اور بتاو کہ اس میں کیا غلطی ہے؟؟پچھلے پندرہ سالوں سے یہی کام کر رہا ہوں۔۔۔کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی۔۔۔ہر چیز کو دس بار چیک کرنے کے بعد سر کو دیکھاتا ہوں۔۔۔ تم دیکھو اور بتاو۔۔۔میری غلطی کہاں ہے؟؟
اس نے سارا لیٹر ایک بار دیکھا واقعی اس میں کوئی غلطی نہیں تھی۔۔
کوئی غلطی نہیں کی تم نے یاسر۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔یار تم آرام سے بیٹھو ادھر۔۔۔اس نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔آرام سے بیٹھو اور پانی پیو۔۔۔
یاسر بیٹھ گیا اور پھر پانی پی کر اپنے آنسووں کو بھی گلے سے نیچے اتارا۔۔۔
پچھلے دو سوالوں سے اس آفس کا ماحول ناقابل برداشت ہے۔۔۔پر ہماری مجبوری ہے۔۔۔ہمیں اپنی فیملی کے لیے یہ سب کچھ سہنا ہی پڑتا ہے اور سہنا پڑے گا بھی۔۔۔۔سکندر صاحب کو تم مجھ سے پہلے سے جانتے ہو ۔۔۔وہ ایسے بلکل نہیں تھے پتا نہیں اب ایسے کیوں ہو گئے ہیں۔۔۔۔ہر بات پہ بےعزتی کر دیتے ہیں۔۔۔کسی کا لحاظ نہیں کرتے ۔ کام صحیح بھی کرو تب بھی اور نا کرو تب بھی۔۔۔۔اب تو عادت پڑتی جارہی ہے اس سب کی۔۔۔اور جن کو نہیں پڑی وہ یہاں سے استعفی’ دے کر چلے گئے۔۔۔۔
اپنے آپ کو تھوڑا نارمل کرو اور لیٹر پھر سے ٹائپ کر کے لے جاو۔۔۔۔ اس سب کو خود پر سوار مت کرو۔۔۔
سرمد مجھے صرف اسکے باپ کا خیال ہے ان کے بہت احسان ہیں مجھ پر۔۔۔اسی وجہ سے خاموش ہوں۔۔۔ورنہ کب کا اس نوکری کو لات مار کر چلا جاتا۔۔۔
وہ دونوں اپنے اردگرد سے بے خبر باتیں کر رہے تھے اور انکے پیچھے کھڑا محسن یہ سب سن رہا تھا۔۔۔۔پھر خاموشی سے سکندر کے کیبن میں آگیا۔۔
تم کر کیا رہے ہو سکندر؟؟
کام کر رہا ہوں۔۔۔دیکھ نہیں رہے ۔۔۔
تم آخر خود سے کس بات کا بدلہ لے رہے ہو۔۔۔۔تم اپنے اردگرد کے لوگوں کو کیوں اذیت پہنچا رہے ہو۔۔۔۔کیوں کسی اور کے کیے کی سزا خود کو دے رہے ہو۔۔۔۔
محسن اس وقت یہاں سے چلے جاو مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔
کیوں بات نہیں کرنی۔۔۔پچھلے دو سالوں سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا ہوا تھا اس دن کیوں بدل گئے ہو۔۔۔۔گل بہار کہاں گئی۔۔۔پر ہر بار خود پہ خاموشی کی چادر لپیٹ کربیٹھ جاتے ہو۔۔۔۔اگر اسکے جانےا سے اتنا ہی دکھی ہو تو ڈھونڈھ کر واپس لے آو۔۔۔۔
سکندر نے خاموشی سے کار کی چابی اٹھائی ۔۔کوٹ کو بازو پر ڈالا اور کیبن سے باہرچلا گیا۔۔۔۔
محسن اسکو آوازیں دیتا رہ گیا مگر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔
___________
ڈاکٹر مجھے بتائیں میں کیا کروں؟؟میرا غصہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔۔ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو نا چاہ کر بھی تکلیف دے رہا ہوں۔۔۔میرا دل کسی پہ اعتبار نہیں کرتا۔۔۔میں خود پر اپنا اختیار کھو چکا ہوں۔۔۔
شدید اضطراب کی کیفیت میں سر کو جھکائے دونوں ہاتھوں میں تھامے کہہ رہا تھا۔۔۔اندر کی تکلیف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔۔۔وہ ہر دوسرے دن ڈاکٹر کے پاس آکر اپنا حال دل سناتا تھا اور ایسا وہ پچھلے تین ماہ سے کر رہا تھا۔۔۔
سکندر پلیز خود کو تھوڑا ریلیکس کرو ۔۔۔
سکندر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے سائیکیٹرسٹ ڈاکٹر بلال کو خالی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
سکندر تم مجھ سے بہت کچھ چھپا رہے ہو۔۔۔جب تک تم مجھے ہر چیز کھل کر نہیں بتاو گے تو میں تمہارے اندر کی کیفیت کو کیسے سمجھ پاوں گا۔۔۔۔ دیکھو سکندر ڈاکٹر اور وکیل ان دو لوگوں سے کبھی کچھ نہیں چھپاتے۔۔۔ہر راز ہر درد بیان کر دیتے ہیں۔۔
میں نہیں کہہ پا رہا ہوں ۔۔بہت کوشش کرتا ہوں پر اسکے دھوکے کو بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔۔۔ محبت میں ملا دھوکا مجھے کچھ بھی بولنے نہیں دیتا۔۔میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔کچھ نہیں بتا سکتا۔۔۔۔۔بولتے بولتے اسکی آنکھوں میں نمی اتر آئی جسے ڈاکٹر بلال نے دیکھ لیا تھا۔۔
سکندر تلخ ماضی کو اگر دفن کردو گے تو تب ہی آگے بڑھ سکو گے۔۔۔ورنہ یونہی خلاء میں بٹھکتے پھرو گے۔۔۔مجھے اندازہ ہے کہ یہ سب تمہارے لیے بہت مشکل ہے مگر تمہیں کرنا پڑے گا۔۔۔زندگی کو پھر سے گلے سے لگانا ہو گا۔۔۔چاہے خوشی سے یا چاہے مجبوری سے۔۔تمہیں کوشش کرنی لڑے گی۔۔۔۔تم اس ایک انسان کے کیے کی سزا سب کو نہیں دے سکتے۔۔۔
بہت مشکل ہے یہ میرے لیے بلکہ ناممکن ہے۔۔۔
سکندر کے اس جواب کے بعد دونوں کے درمیان کچھ دیر کی خاموشی آگئی جسے ڈاکٹر بلال کے موبائیل کی گھنٹی نے تھوڑا۔۔۔۔
ہیلو۔۔جی پاپا کی جان۔۔۔میں بس ابھی آ رہا ہوں۔۔۔
پاپا جلدی ائیں ابھی بہت سی شاپنگ کرنی ہے۔۔۔مجھے اپنی برتھ ڈے سب سے اچھی سیلیبریٹ کرنی ہے۔۔۔۔۔
اوکے میری پرنسس میں ابھی آرہا ہوں پھر چلتے ہیں تم ماما کو بولو تیار رہیں۔۔۔
اوکے پاپا بائے۔۔۔
بائے پاپا کی جان۔۔۔۔
اس ساری گفتگو کے دوران ڈاکٹر بلال سکندر کے چہرے پر چھائی خوشی کو دیکھتا رہا۔۔۔یہ کتنا خوش قسمت ہے اس کی زندگی میں کتنی خوشیاں ہیں ۔۔کتنے رنگ ہیں۔۔۔ بھلا یہ میرے درد کو کیا سمجھے گا۔۔۔
موبائیل بند کر کے وہ سکندر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
کل میری بیٹی کی برتھ ڈے ہے اسکے چند فرنڈز کو بلایا ہوا ہےبس۔۔پر میں تمہیں بھی انوائیٹ کرنا چاہتا ہوں سکندر ۔۔کل ضرور آنا۔۔۔مجھے اچھا لگے گا۔۔۔۔ایڈریس میں تمہیں سینڈ کر دوں گا۔۔۔۔پلیزضرور آنا ۔۔۔
سکندر نے بس سر ہاں میں ہلا دیا اسکا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
اچھا میں اب چلتا ہوں میری بیٹی صبح سے میرا ویٹ کر رہی ہے۔۔۔کہہ کر کمرے سے جانے لگا تو پھر جیسے کچھ سوچ کر پلٹا۔۔۔۔
جو کہا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔اور ہم اپنا اگلا سیشن یہیں سے شروع کریں گے ٹھیک ہے۔۔
وہ بس اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر خود بھی اٹھ کر کلینک سے باہر نکل آیا۔۔۔جہاں شام پھر سے اسے تلخ یادوں کی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار تھی۔
_______
اپنی خوبصورت بیٹی کو گود میں لیے پیار سے اسکے چہرے پر بوسہ لیا جو ابھی کچھ دن پہلے ہی ان کی زندگی میں شامل ہوئی تھی۔
یہ کتنی پیاری ہے نا تیمور۔۔۔فریدہ نے بیٹی کو دیکھتے ہوئے اپنے پاس بیٹھے اپنے شوہر سے پوچھا۔
واقعی ماشاءاللہ ہماری بیٹی بہت ہی پیاری ہے۔۔۔وہ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔۔
اتنے میں دروازہ دھڑام سے کھولتا ایک چار سال کا ننھا منا سا بچہ کمرے میں داخل ہوا۔
ماما پاپا میری سسٹر اٹھ گئی۔۔
ہاں اٹھ گئی اور اپنے بھیا کا انتظار کر رہی ہے۔۔۔ماما نے مسکرا کر جواب دیا
اب وہ ماما پاپا کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
رئیلی ماما۔۔۔ہمم انہوں نے سر کے اشارے سے کہا
ماما شی اذ سو بیوٹی فل۔۔اس نے پیار سے کہہ کر جھک کر اس معصوم سی پری کی پیشانی چومی۔اس نے کہا تو دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دونوں ہی مسکرانے لگے
___________
کیا ہوا بی بی جی آج کوئی خاص مہمان آرہے ہیں کیا؟؟
ہاں رضیہ بہت ہی خاص مہمان آرہے ہیں۔۔بس سارا انتظام اچھےسے دیکھ لینا کوئی کمی نا رہ جائے۔۔
جی بی بی جی کوئی کمی نہیں رہے گی۔۔
آج ہماری بیٹی ایک ماہ کی ہو گئی ہے۔۔۔ اسی خوشی میں کچھ خاص مہمانوں کو دعوت دی ہے۔۔۔ وہ خوشی سے سرشار اپنی بیٹی کو اٹھائے ساری تفصیل بتانے میں مصروف تھی۔۔
رات کوسب کچھ اچھے سے ہو گیا تھا۔۔سب نے کھانے کے ساتھ ساتھ انکی بیٹی کی بھی بہت تعریف کی تھی۔۔۔اور سب سے بڑی خوشی تو تب ہوئی جب نایاب اور عثمان نے اپنے پانچ سال کے بیٹے سکندر کے لیے ہماری بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔۔۔بھلا ان دونوں میان بیوی کو کیا اعتراض ہوتا دونوں کی دوستی بہت گہری تھی اور انہوں نے کبھی بھی سکندر کو اپنے بیٹے سے کم نہیں سمجھا تھا تو فورا سے ہاں کر دی۔۔
سارے مہمانوں کے چلے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تو نظر اپنی بیٹی کی تلاش میں گھمائی وہ سامنے کہیں نہیں تھی۔۔۔پھر جھولے کو چیک کیا وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے تو اس نے ماہم کو رضیہ کو پکڑا تھا اور کہا تھا کہ اسے کمرے میں لے جا کر لٹا دے پر وہ اسے یہاں تو نہیں لائی۔۔۔شاید نیچے کہیں لے کر بیٹھی ہوگی۔۔۔وہ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی رضیہ سامنے کہیں نظر نہیں آئی پھر آوازیں دینے لگی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔۔
کیا ہوا ہے فریدہ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟؟
تیمور رضیہ کہیں نہیں نظر آرہی۔۔۔میں نے اسے ماہم کو کمرے میں چھوڑنے کے لیے کہا تھا مگر وہ وہاں نہیں ہے۔۔۔نیچے بھی کہیں نظر نہیں آرہی۔
ارے یہیں کہیں ہوگی تم پریشان مت ہو میں جا کر دیکھتا ہوں۔
پندرہ منٹ تک دونوں پاگلوں کی طرح رضیہ کو ڈھونڈتے رہے مگر اس کا کچھ پتا نا چلا۔۔
فریدہ کا رو رو کر برا حال تھا۔۔۔۔تیمور میری بچی کہاں لے کر چلی گئی وہ۔۔۔فون کریں اسے۔۔۔وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی۔
فون بند تھا ہزار بار کال کی گئی مگر کوئی جواب نہ ملا۔۔
۔آخر کار پولیس کو انفارم کیا گیا۔۔۔ پولیس نے چھ گھنٹوں کی بھاگ دوڑ کے بعد رضیہ کو گرفتار کر لیا وہ جلد پکڑی گئی کیونکہ تیمور کا شمار اس علاقے کے کافی طاقت ور لوگوں میں ہوتا تھا۔۔۔مگر بد قسمتی سے بچی برآمد نہیں ہوسکی۔
تیمور اس سے پوچھیں میری بچی کہاں کی اس نے۔۔۔تیمور میں مر جاوں گی۔۔۔۔ اتنی بےرحم کیسے ہوسکتی ہو وہ۔۔۔۔پوچھیں اس سے۔۔۔۔جتنا پیسا چاہتی ہے ہم دیں گے مگر مجھے میری بچی ہر صورت چاہیے۔۔۔۔وہ روتی روتی بے ہوش ہوگئ۔۔
تیمور نے پولیس کو ہر ہربہ استعمال کر نے کو کہا مگر رضیہ کا کہنا تھا کہ اس نے پیسوں کی لالچ میں بچی کو اٹھایا تھا اور پھر جب اسے لگا کہ وہ پکڑی جائے گی تو اس نے بچی کو کچرے کے ڈھیر پر چھوڑ دیا اور خود وہاں سے فرار ہوگئی۔۔۔۔۔۔مگر بدقسمتی سے وہ پھر بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئی۔
پولیس نے اس پورے علاقے کی ناقہ بندی کروا دی مگر ماہم کا کچھ پتا نہیں چلا۔۔
یوں تلاش میں بیس سال گزر گئے بیتے دنوں کی تلخ اور کچھ سنہری یادیں اسکی آنکھوں میں پھیلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ فریدہ اپنی ایک ماہ کی خوبصورت بچی کی تصویر گود میں لیے دیکھ رہی تھی جسکے گلے میں ایک چھوٹا سا لاکٹ تھا وہ لاکٹ جو اسے اس دن نایاب نے پہنایا تھا اور کہا تھا کہ یہ رشتہ پکے ہونے کی نشانی ہے۔۔
فریدہ نم آنکھوں اور ہلکی سی مسکراہٹ لیے پیار سے اس پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔آنسو بہہ کر گزشتہ بیس سالوں کی داستان سنا رہے تھے۔۔۔۔ہر رات اس امید پر سوتی ہوں کہ کل صبح تم مل جاو گی سب نے امید چھوڑ دی مگر میں نہیں چھوڑ سکتی ماں جو ہوں پیدا کیا ہے تمہیں تو کیسے بھول جاوں۔۔تم ملو گی ایک نہ ایک دن تم واپس ضرور آو گی۔۔
ماما آپ رو رہی ہیں۔۔۔کتنی بار کہا ہے کہ مت رویا کریں۔۔محسن نے ماما کے پاس بیٹھتے ہوئے انکے آنسو پونچھتے ہوئےکہا
تم نہیں سمجھو گے محسن ایک ماں کے درد کو اسکی تکلیف کو۔۔۔
محسن نے ایک نظر تصویر پر ڈالی پھر ماما کے ہاتھ سے لیکر بڑے پیار سے اس پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔ماما وہ میری بھی بہن تھی۔۔مجھے بھی اس سے بہت محبت تھی اور ہمیشہ رہے گی۔۔۔۔ہم ہر اسے ڈھونڈنے کی ہر کوشش کر چکے ہیں۔۔پتا نہیں ہم سب کو چھوڑ کر کہاں چلی گئی۔۔۔۔پتا نہیں کس حال میں ہوگی۔۔
مجھے میرے اللہ پر پورا بھروسہ ہے محسن وہ ہمیشہ اسکی حفاظت کرے گا اور اسے ایک دن واپس ضرور لائے گا۔
انشاءاللہ دونوں نے کہا۔۔
پھر محسن کھڑا ہوگیا۔۔۔چلیں ماما میں آپ کو کھانے کے لیے بلانے آیا تھا وہاں پاپا بیٹھے ہم پر غصہ ہو رہے ہوں گے۔۔۔۔محسن نے ماما کا ہاتھ تھاما اور پھر دونوں اٹھ کر کھانا کھانے چلے گئے۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: