Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 8

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 8

–**–**–

 

ماما پلیز چلیں نا ۔۔۔آپ ہمیشہ کوئی نا کوئی بہانا بنا کر منع کر دیتی ہیں۔۔۔دیکھیں نانا پاپا ماما کو۔۔ان سے کہیں کہ ہمارے ساتھ شاپنگ پر چلیں۔۔۔رانیہ کب سے گل بہار کو ساتھ چلنے کے لیے کہہ رہی تھی مگر وہ مسلسل انکار کر رہی تھی۔۔۔
رانیہ بیٹا میرا دل نہیں چاہ رہا آپ پاپا کے ساتھ چلی جائیں نا۔۔۔پلیز۔۔
نو ماما آج تو آپ کو چلنا ہی پڑے گا۔۔۔میری برتھ ڈے ہے۔۔کتنی ساری شاپنگ کرنی ہے پلیز چلیں نا۔۔۔پلیز پلیز۔۔
رانیہ بیٹا آپ گاڑی میں جا کر بیٹھو میں آپکی ماما کو لے کر آتا ہوں۔۔
رئیلی پاپا۔۔۔واو کتنا مزہ آئے گا۔۔۔ٹھیک ہے میں جارہی ہوں۔۔۔ ماما آپ پاپا کے ساتھ جلدی سے آجائیں۔
لیکن۔۔
گل بہار نے کچھ کہنا چاہا مگر رانیہ پہلے ہی وہاں سے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوکر بھاگ گئی۔۔
آپ نے ہاں کیوں کہا؟؟گل بہار بلال سے پوچھ رہی تھی۔
تو آپ چلیں نا ہمارے ساتھ
آپ جانتے تو ہیں کہ میں کس لیے انکار کر رہی ہوں۔۔
مجھے آپ کے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔اور آپ بھی اس ڈر کو اپنے دل سے نکال دیں۔۔
آپ سمجھنے کی کوشش کریں اگر کسی نے مجھے پہچان لیا تو آپ کی عزت آپکا نام خراب ہوگا۔۔۔اور میں ایسا نہیں چاہتی۔۔
گل بہار آپ بہت زیادہ سوچتی ہیں۔۔۔۔ جہاں تک بات عزت کی ہے تو عزت دینے والا اور لینے والا اللہ ہے ہم اور آپ کسی کو کیا دے سکتے ہیں۔
لیکن پھر بھی آپ۔۔
گل بہار جب کسی بات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر آپ خود کو اتنا کیوں دکھی کر رہی ہیں۔۔۔۔اب جلدی جائیں اور جا کر تیار ہوں ہم گاڑی میں آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔بلال ۔کہہ کر چلا گیا۔۔
اور وہ یہ سوچنے لگی کہ اور کتنے احسان کرے گا یہ شخص مجھ پر۔۔۔۔میں اس انسان کا کون کونسا احسان اتاروں گی۔۔۔۔
یہ واقعی اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک یے۔۔۔جس کا دل اتنا بڑا ہے۔۔
دس منٹ بعد وہ تیار ہوکر انکے ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔۔۔تو رانیہ نے خوش ہوکر زور زور سے تالیاں بجائیں۔۔۔
آج تو ہم بہت انجوائے کرنے والے ہیں۔۔۔ماما جو ساتھ ہیں۔
ہیں نا پاپا ۔۔۔اس نے پاپا کی طرف دیکھ کر پوچھا تو انہوں نے بھی سر ہلا دیا۔۔
بلال کی نظر ہر بار بھٹک جاتی تھی پتا نہیں کیوں نظر اس پر پڑتے ہی آنکھیں دماغ کو الوداع کہہ دیتی ہیں۔۔۔ اب بھی وہ بیک ویو مرر سیٹ کرتے ہوئےاسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
چلیں پاپا جلدی کریں۔۔رانیہ بہت ایکسائیٹڈ ہوکر کہنے لگی۔۔۔۔
اوکے مائی پرنسس۔۔
پاپا نے کار سارٹ کی تو وہ ڈی وی ڈی پلیر آن کر کے کارٹون دیکھنے لگی۔۔
گل بہار سیٹ سے ٹیک لگائے دوسال پہلے اپنی اس نئی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔۔
اس شام دل چاہتا تھا کہ اگلی سانس بھی لینا نصیب نہ ہو ۔۔۔ جینے کی کوئی امید ہی باقی نہیں بچی تھی۔۔۔۔وہ نا جانے کہاں کس جگہ پر دیوانوں کی طرح کھڑی تھی جب ایک گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے اس سے ٹکرا گئی۔۔۔۔
ٹکر اتنی زور دار نہیں تھی مگر گل بہار کی حالت پہلے سے ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ ایک دم شاک لگنے سے بے ہوش ہوگئ۔
بلال نے اس لڑکی کو دیکھا جو بے ہوش ہوچکی تھی اور مکمل طور پر بھیگی ہوئی تھی۔۔۔۔پھر اسے پکارا۔۔
سنیں۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں؟
پر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔۔۔۔۔بارش اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کوئی مدد کے لیے موجود نہیں تھا۔۔۔۔آخر کار اس نے خود ہی اسے اٹھایا اور گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا دیا۔۔۔۔ تو بالوں سےڈ ھکا چہرہ ایک دم سے سامنے آ گیا۔۔
ایک پل کے لیے تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ واقعی وہی ہے یا کوئی اور۔۔۔۔ یہ ثمرین۔۔۔۔ پر وہ کیسے۔
پھر اپنے ہی خیال کی تردید کرتا تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور بھگاتے ہوئے گاڑی کو ہاسپٹل لے آیا۔
تقریبا دو گھنٹے کے بعد گل بہار کو ہوش آگیا۔۔۔۔اسکے پاوں میں ہلکا سا فریکچر ہوا تھا۔۔۔۔باقی سب ٹھیک تھا۔۔
گل بہار ہاسپٹل سے فورا جانا چاہتی تھی مگر بلال نے اسے روک لیا۔۔۔
دیکھیں پلیز آپ کو میری وجہ سے اتنی چوٹ لگی ہے تو میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کی دیکھ بھال کروں۔۔۔
آپ کو اگر گھر جانا ہے تو میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔
اور گھر کے نام پہ گل بہار کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔۔۔۔گھر وہ کیا ہوتا ہے؟؟ کس بازار میں بکتا ہے؟؟کاش وہ خرید سکتی۔۔۔۔پر خرید نے کی سکت ہی بھلا کہاں ہے۔
گل بہار کو اس طرح دیکھ کر بلال سمجھ گیا کہ کوئی مسئلہ ہے۔۔۔تو وہ بڑی مشکل سے گل بہار کی منت سماجت کرکے گھر لے آیا ۔۔۔وہ بھی تب تک جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی۔۔
پر یہاں بھی قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔۔بلال کی چھ سال کی بیٹھی نے جب گل بہار کو دیکھا تو وہ فورا اس سے لپٹ گئی۔۔
ماما آپ ۔۔۔آپ کہاں چلی گئیں تھیں مجھے چھوڑ کر۔۔
اور گل بہار حیران پریشان سی بلال کو دیکھنے لگی۔۔۔۔کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟
رانیہ ماما کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔انہیں آرام کرنا ہے۔۔۔پھر آپ سے ڈھیر ساری باتیں کریں گی۔۔۔
اوکے پاپا۔۔۔۔ماما آپ آرام کریں۔۔۔میں اپنا ہوم ورک کمپلیٹ کر لوں پھر آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔۔۔بہت کچھ بتانا ہے آپکو۔۔۔۔۔گل بہار نے اس ننھی سی پری کو مسکرا کر دیکھا تو رانیہ خوشی خوشی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
آپ بیٹھیں۔۔۔بلال نے کہا تو وہ بیٹھ گئی۔۔۔۔اور بلال کچھ دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا اور جب واپس آیا تو ہاتھ میں ایک تصویر تھی۔۔۔
اس نے گل بہار کی طرف بڑھائی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔۔۔۔۔تصویر میں نظر آنے والی لڑکی کا چہرہ گل بہار سے کافی حد تک مشابہت رکھتا تھا۔
یہ۔۔یہ کون ہیں؟ انکی شکل تو مجھ سے کافی ملتی ییں۔۔
یہ میری بیوی ہیں۔۔۔۔۔ایک سال پہلے ثمرین کی کینسر سے موت ہوگئی۔
اوہ بہت افسوس ہوا سن کر۔۔۔۔۔۔گل بہار کو واقعی بہت دکھ ہوا۔۔
ثمرین کو بلڈ کینسر تھا اور وہ اپنی پانچ سال کی بیٹھی کے سامنے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔۔اس لیے ہم دونوں امریکہ چلے گئے۔۔۔کینسر لاسٹ اسٹیج پر تھا۔۔۔ثمرین کسی صورت بھی پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی اور اسکی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد اسے وہیں دفن کیا جائے۔اور رانیہ کو ہمیشہ یہی کہا جائے کہ اسکی ماما بیمار ہیں پر وہ جلد واپس آ جائیں گی۔۔۔۔۔میں نے بہت سمجھایا بھی مگر وہ نہیں مانی۔۔۔آخر کار وہ ہمیں چھوڑ کور چلی گئی اور میں اب تک اس سے کیا وعدہ نبھا رہا ہوں۔۔
گل بہار نے بلال کی آنکھوں کو نم ہوتے دیکھا ۔۔
آپ کا دکھ واقعی بہت بڑا ہے۔۔۔اللہ آپ کو صبر دے۔۔
آمین۔۔ آپ جب تک یہاں ہیں رانیہ کو اسکی ماما کی طرح ہی ٹریٹ کر لیں۔۔یہ آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہو گا۔۔
اس میں احسان کی کیا بات یے۔۔۔اگر میں آپ کے کچھ کام آسکوں تو مجھے خوشی ہوگی۔۔۔
تھینکیو۔۔۔بلال کی آنکھوں سے ہلکی سے خوشی جھلکی۔۔
پھر جب ایک مہینے کے بعد جب گل بہار نے وہاں سے جانے کی بات تو بلال نے اسکی وجہ پوچھی۔۔
آپ میرے ماضی سے واقف نہیں ہیں اس لیے ایسی بات کہہ ریے ہیں ۔
اگر آپ مجھے یہ فیصلہ کرنے دیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا؟؟
تب گل بہار نے اپنی اب تک بیتی ساری روداد بلال کو سنا دی۔۔۔سوائے سکندر کے گھر جانے اور اسکے ساتھ کیے دھوکے کے۔۔۔ یہ سب سننے کے بعد گل بہار کو یہ یقین تھا کہ وہ اسے دھکے دے کر باہر نکال دے گا۔۔۔بھلا کون ایسی لڑکی کو اپنے گھر میں رکھتا ہے۔۔
پر بلال نے اسکی توقع کے بر عکس جواب دیا۔۔
آپ یہاں آرام سے رہیں میری بیٹی کی ماما بن کر آپکو یہاں کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ وہ آپ پر انگلی اٹھا سکے۔۔۔۔تو کیا اب آپ یہاں رہیں گی؟؟
گل بہار کو بھلا اور کیا چاہیے تھا اور جاتی بھی تو بھلا کہاں جاتی کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا سواس نے ہاں کر دی۔۔۔۔
اور ان دوسالوں میں اس نے خود کو بے حد محفوظ محسوس کیا۔۔۔۔ڈاکٹر بلال نے واقعی اپنا وعدہ نبھایا اور اس گھر میں اسے رانیہ کی ماما کی طرح عزت دی۔۔۔بس کمی تھی تو اس انسان کی جس سے محبت کا اعتراف دل نے اس سے بچھڑنے کے کچھ عرصے بعد ہی کر دیا تھااور اس کی جڑیں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی مضبوط ہوگئیں تھیں۔
جب گاڑی شاپنگ مال کے سامنے رکی تو وہ ماضی کے خیالوں سے واپس لوٹی۔
__________
پارٹی کی ساری تیاری مکمل ہو چکی تھی اور ڈاکٹر بلال ابھی تک اپنے کلینک سے واپس نہیں لوٹے تھے۔۔
رانیہ کب سے پاپا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ ابھی تک غائب تھے۔۔
ماما پاپا کہاں رہ گئے ۔۔میں کب سےان کا ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔
وہ ناراضگی سے کہہ رہی تھی۔
میری جان ابھی آجائیں گے اور ویسے بھی پارٹی تو آٹھ بجے شروع ہونی ہے اور ابھی تو صرف چھ بجے ہیں۔
آج انکو جا نا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔آخر میری برتھ ڈے ہے۔۔
آجائیں گے پرنسس۔۔۔۔ تم اپنی فرنڈز کا پتہ کرو کہاں رہ گئیں۔۔۔گل بہار کچن میں مصروف تھی اور اسی مصروفیت کے ساتھ اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔۔
اوکے ماما پھر پاپا کو بھی کال کر کے پوچھوں گی کہ اور کتنا ویٹ کرنا پڑے گا۔۔۔اور آج بھی اگر لیٹ ہوئے تو میں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔
وہ منہ بنا کر بول رہی تھی اور گل بہار کو اس وقت وہ اور بھی پیاری لگ رہی تھی۔۔
اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے ہم دونوں مل کر ان سے لڑائی کریں گے۔۔۔اور بلکل بات نہیں کریں گے۔۔
یہ سن کر وہ ایک دم سے خوش ہو گئی ۔۔۔لو یو ماما لو یو سو مچ۔۔۔پیار سے کہہ کر گل بہار کے گلے لگ گئی۔۔
ماما آپ جلدی سے سب کام ختم کریں پھر ہم دونوں کو ریڈی بھی ہونا ہے۔
جی میری جان بس تھوڑا سا کام باقی ہے۔۔۔تم چلو میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔
اوکے ماما۔۔۔وہ کہہ کر نکل گئی اور گل بہار ملازموں کے ساتھ سارا کام جلدی جلدی ختم کروانے میں لگ گئی۔۔
_________
ڈاکٹر بلال آج کافی مصروف تھے اور جب تھوڑا فارغ ہوئے تو نظر سامنے کھڑی وال کلاک پر ڈالی جو سات بجے کا ٹائم دکھا رہی تھی۔۔۔
او نو۔۔رانیہ کی چھ بجے کال آئی تھی اور اب سات بج رہے تھے گھر پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ لگ جائے گا۔۔۔آج تو میری خیر نہیں۔۔۔یہی سوچ کر وہ تیزی سے کلینک سے نکلا تو موسلا دھار بارش برس رہی تھی۔۔۔وہ تیزی سے کار کی طرف بڑھا اور پھر کار سٹارٹ کر کے گھر کی طرف بڑھا دی۔۔
تھوڑی دور جا کر اسے ایک آدمی اپنی بند کار کے بونٹ پر جھکا ہوا نظر آیا۔۔
اسکی گاڑی تو لگتا ہے خراب ہوگئی۔۔۔مجھے دیکھنا چاہیے۔۔۔بلال سوچ کر گاڑی سے نکلا اور اس آدمی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔بارش بہت تیز ہورہی تھی اور وہ بھیگتا جا رہا تھا۔۔
کیا ہوا؟میں کچھ مدد کر سکتا ہوں؟؟؟بلال نے آواز دی تو سکندر جو کار پر جھکا ہوا تھا مڑ کر دیکھا۔
اوہ ڈاکٹر بلال آپ ۔۔
ارے سکندر تم ۔۔۔کیا ہوا گاڑی کو؟
پتا نہیں چلتے چلتے رک گئی۔۔۔ شاید پانی اندر چلا گیا ہے۔۔
اچھا میں دیکھتا ہوں۔۔۔سکندر ٹارچ پکڑے کھڑا رہا اور بلال کچھ دیر تک گاڑی کو چیک کرتا رہا۔۔۔
یہ مکینک سے ہی ٹھیک ہو گی پرابلم تھوڑا زیادہ ہی لگ رہا ہے۔۔۔
اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔۔۔۔سکندر نے افسوس سے کہا۔
دونوں بارش میں مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔۔
چلو سکندر میرے ساتھ میری کار میں چلتے ہیں۔۔۔
نہیں آپکو تکلیف ہوگی۔۔۔۔سکندر نے مروتا کہا۔
ارے تکیلف کیسی اگر یہاں کھڑے رہے تو بیمار ہو جاو گے۔۔چلو۔۔
دونوں تیزی سے بلال کی کار میں آکر بیٹھ گئے۔۔۔ تھوڑی دور جا کر بلال نے گفتگو کا آغاز کیا۔۔
میں نے آپکو ایڈریس ٹیکسٹ کیا تھا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
سوری ڈاکٹر بلال لیکن میں اس طرح کی تقریبات کو کافی عرصہ پہلے الوداع کہہ چکا ہوں۔۔
اٹس اوکے۔۔اگر تم آتے تو مجھے اچھا لگتا۔۔ میں تمہیں فورس نہیں کروں گا۔۔۔
تبھی بلال کا موبائیل بجنے لگا تو اس نے کال ریسیو کی۔۔
پاپا آپ کہاں ہیں۔۔۔سب آ چکے ہیں اور ایک آپ ہی نہیں پہنچے۔۔۔۔میں آپ سے بہت ناراض ہوں۔۔
مائی پرنسس آپ پلیز ناراض مت ہوں۔۔۔پارٹی شروع ہونے سے پہلے میں پہنچ جاوں گا۔۔۔۔ اوکے۔
اوکے پاپا۔۔۔۔کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔۔۔
آپکی بیٹی آپکا انتظار کر رہی ہے۔۔۔۔ میں آپ کے گھر ہی چلتا ہوں کیونکہ اگر مجھے میرے گھر چھوڑنے جائیں گے تو مزید لیٹ ہوجائیں گے۔
بلال کافی ٹینشن میں تھا وہ رانیہ کو بلکل ناراض نہیں کر سکتا تھا۔۔۔سکندر اسکے چہرے پر پھیلی پریشانی کو دیکھ چکا تھا۔۔۔اسی لیے کہہ دیا۔۔۔ میرے گھر میں بھلا کون تھا جو میرا انتظار کر رہا یے۔۔۔تو کیا فرق پڑتا ہے میں گھر جلدی جاوں یا دیر سے۔۔
او تھینکیو سکندر۔۔۔بس آج سیچویشن کچھ ایسی ہے تو میں لیٹ نہیں ہو سکتا۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ دونوں بلال کے گھر پہنچ گئے۔۔۔بلال سکندر کو لیے اندر ہال کی طرف چلا آیا۔۔۔ پورا ہال بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔۔۔۔ہر طرف رنگ برنگے غبارے۔۔۔ بہت سے بچے ۔۔۔ شور شرابا۔۔۔۔
تبھی رانیہ بھاگتی ہوئی پاپا کے پاس آگئی جسے انہوں نے اپنے بازوں میں اٹھا لیا۔۔
پاپا دس اذ ناٹ فیئر۔۔۔۔ آپ پورے پندرہ منٹ لیٹ ہیں۔۔۔
بلال نے کان پکڑے اور پھر اسی طرح سوری کہا۔۔
سکندر اس باپ بیٹی کے پیار کو دیکھ رہا تھا۔۔۔رانیہ سچ مچ بہت ہی پیاری تھی اور اسکی باتیں اسے اور بھی پیارا بنا رہی تھیں۔
بلال سکندر کو لے کے اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔ایک تولیہ سکندر کی طرف بڑھایا اور دوسرے سے خود کو خشک کرنے لگا۔۔۔
پھر دونوں ہال میں واپس آگئے۔۔
چلو سکندر آگے آ جاو ۔۔۔۔کیک کاٹتے ہیں۔
بلال اسے لیکر ٹیبل کے پاس آ گیا اور ساتھ ہی سب بچوں کو اپنی طرف بلا لیا۔۔
رانیہ ماما کہاں ہیں آپ کی؟
پاپا وہ ساراوقت کام میں لگی رہی اور تیار بھی نہیں ہوئیں۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے انہیں بھیجا ہے تیار ہونے کے لیے۔
اوکے۔۔۔تو پھر ویٹ کر لیتے ہیں۔۔۔بلال ابھی کچھ اور کہتا تبھی رانیہ خوشی سے چلائی۔۔
ماما آ گئیں۔۔
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔۔نیوی بلو کلر کی لانگ فراک اور اسکے اوپر خوبصورت سفید نگوں اور موتیوں کا کام ۔۔۔ہلکا سا میک اپ اور اسکے ساتھ ہلکی سی جیولری۔۔۔ہوا سے اڑتے لمبے سیاہ گھنے بال جو بار بار اسکے چہرے پر آ رہے تھے اور وہ انکو ہٹاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
آنکھیں البتہ نیچے کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔۔۔اس لیے اس شخص کو نہ دیکھ سکی جو بلکل حیرت کا مجسمہ بنا کھڑا تھا۔۔۔
سکندر کی نظر اس پر ٹھہر سی گئی۔۔۔دل کو آج برسوں بعد قرار آ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بس اسے دیکھے گئے نا جانے کونسی پیاس تھی جو آج بجھ رہی تھی۔۔
بلال کو بھی آج گل بہار سے بہت کچھ کہنا تھا جو وہ اب تک کہنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا۔۔ اسکی نظر بھی ایک پل کیلئے نہیں ہٹی۔
گل بہار جب سیڑھیوں سے اتری تو رانیہ فورا سے اسکا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لے آئی۔
جب ٹیبل کے پاس پہنچ کر نظر بلال کے پاس کھڑے شخص پر پڑی تو قدم وہیں رک گئے۔۔۔۔سارا شور ایک دم خاموشی میں بدل گیا۔۔۔سارے منظر میں صرف وہی دونوں رہ گئے۔۔۔۔۔دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں گڑھی ہوئی تھیں۔۔۔۔وہ یونہی دل تھامے نا جانے کب تک کھڑے رہتے جب رانیہ نے گل بہار کو پکارا۔
چلیں نا ماما کیک کاٹتے ہیں۔۔
اور ماما لفظ نے سکندر کو بہت سی حقیقتوں سے آشنا کروا دیا تھا۔۔۔اور ماضی کی ایک تلخ یاد اسکے ذہن کے پردے پر لہرائی تھی تو اسے سوچ کر ہی اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا۔۔۔۔۔شدید غصے سے اس نے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ لیں۔۔چہرہ سرخ پڑ رہا تھا۔۔۔مگر وہ ضبط کیے کھڑا رہا۔۔۔
رانیہ گل بہار کا ہاتھ پکڑے اپنے پاپا کے پاس لے آئی ۔۔۔رانیہ نے پھونک سے ساری موم بتیاں بجھائیں اور پھر تینوں نے مل کر کیک کاٹا۔۔۔۔۔تینوں نے ایک دوسرے کوکیک کھلایا۔۔۔
جب بلال گل بہار کو کیک کھلا رہا تھا تب تو سکندر کا صبر جواب دے گیا۔۔
بلال سکندر کی طرف آیا اور اسے بھی کیک کھلایا۔۔۔اس نے زہر کا گھونٹ سمجھ کر کیک کو گلے سے اتارا۔۔
اب مزید سکندر وہاں نہیں ٹھہر سکتا تھا۔۔۔اس لیے بلال سے اجازت مانگی۔۔
ارے یار جلدی بھی کیا ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر تو ٹھہرو۔۔
اب سکندر بلال کو کیا بتاتا کہ اگر وہ کچھ دیر بھی اور رکے گا تو دل درد سے پھٹ جائے گا۔۔۔۔آنسو کی نمی بہہ جائے گی۔۔۔سارے راز فاش ہو جائیں گے۔۔
نہیں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی میں چلتا ہوں۔
اچھا تم دو منٹ رکو میں ڈرائیور کو کہتا ہوں وہ تمہیں چھوڑ آئے گا
بلال ہال سے باہر چلا گیا اور سکندر کی سرخ ہوتی آنکھیں گل بہار کے چہرے پر جم گئیں۔۔
گل بہار بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکے ہاتھ ٹھنڈے پیر پڑ چکے تھے اور دل گھبرا رہا تھا جیسے سکندر ابھی کوئی تماشا کرے گا اور وہ پھر سے در بدر ہو جائے گی۔۔۔۔دماغ اسکے جلد سے جلد جانے کی دعا مانگ رہا تھا جبکہ دل اسکو نظروں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔۔۔دونوں اس وقت ایک عجیب سے احساس سے دوچار تھے۔۔۔
ڈرائیور باہر کھڑا ہے وہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا۔۔۔۔بلال کی آواز پہ سکندر نے گل بہار کے چہرے پر سے نظریں ہٹا لیں۔۔۔اور اوکے تھینکس کہتا تیزی سے باہر نکل گیا۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: