Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 9

0

امید از کرن ملک – قسط نمبر 9

–**–**–

 

گھر پہنچ کر تیزی سے اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔اور پھر سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی پرفیوم کی بوتل اٹھائی اور اسے شیشے پر دے مارا۔۔۔۔ہر طرف کرچیاں بکھر گئیں۔۔۔ اسکے بعد جو ہاتھ لگا تہس نہس کرتا چلا گیا۔۔
کچھ دیر کے بعد سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور بالکونی میں آگیا۔۔
ایک کے بعد ایک سگرٹ سلگائی اور اس میں خود کو اور اسکی یادوں کو اس دھوئیں میں اڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔۔۔
بارشوں کی بوندوں کے ساتھ ساتھ اسکے چہرے پر سے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔۔ آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔۔۔
دسبر کی سخت سردی بھی اسکے اندر کی گرمی کو مٹانے میں نا کام تھی۔
پھر جیسے سگرٹ کو اپنے درد کے لیے ناکافی سمجھ کر دور پھینک دیا۔۔
ہاتھ ریلنگ پر مضبوطی سے رکھے زور زور سے چلانے لگا۔۔۔
درد سے بھری چیخیں جسے سن کر کوئی بھی پتھر موم بن جائے۔۔۔جسے سن کر عرش بھی ہل جائے۔۔۔وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔
کیوں۔۔۔کیوں کیا آخر تم نے ایسا۔۔۔۔کیوں۔۔۔
کیوں کی تم نے بےوفائی۔۔۔کیوں دیا مجھے اتنا بڑا دھوکا۔۔
اور اگر دینا ہی تھا تو پھر اسے سہنے کی طاقت بھی دے جاتی۔۔۔یا پھر میری سانسیں ہی مجھ سے چھین لیتی۔
بےوفائی کر کے مجھے تنہا چھوڑنا تھا تو جاتے جاتے مجھے مار کر جاتی۔۔۔یوں میں ہر روز نا مرتا۔۔۔پل پل نا سسکتا۔۔۔خون کے گھونٹ نا بھرتا۔۔
میں کس اذیت سے گزر رہا ہوں اس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں۔۔۔تمہیں تو کبھی میری یاد بھی نہیں آئی ہوگی۔۔۔۔ارے آئے گی بھی کیوں تمہیں تو کوئی اور بےوقوف مل گیا۔۔۔جس کے ساتھ تم نے اپنی معصومیت اور حیا کا ڈرامہ رچایا ہوگا ویسے ہی جیسے میرے ساتھ کیا تھا پر وہ بیچارہ میری طرح تمہارا اصلی چہرہ نہیں دیکھ پایا اور تمہارا شکار ہو گیا۔۔۔
سکندر مکمل طور پر بارش میں بھیگ چکا تھا۔۔۔ٹھنڈ بھی بہت زیادہ تھی مگر اسکے باوجود وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔
کافی دیر تک رونے اور چیخنے کے بعد وہ کسی خیال کے تحت اپنے کمرے میں آیا اور موبائیل فون نکال کر ایک نمبر کو تلاش کیا اور پھر کال کا بٹن دبا کر ا نتظار کرنے لگا۔۔
دو تین گھنٹیوں کے بعد کال ریسیو کر لی گئی۔۔
سکندر کیا ہوا سب خیریت ہے ۔۔۔اس وقت کال کی تم نے؟؟
تایا سائیں فکر مندی سے پوچھنے لگے۔۔
تایا سائیں سے گل بہار کے جانے کے بعد وہ صلح کر چکا تھا۔۔۔بھلا جس کے لیے سب کو ناراض کیا جب وہی نہیں تو پھر سب سے کیا ناراض رہنا اور وہ بھی ان سے جو اسکے سب سے زیادہ قریبی تھے۔
جی تایا سائیں کچھ ضروری بات کرنی یے۔۔۔ سکندر اپنے لہجے کو نارمل رکھ کر بات کر رہا تھا۔۔
ہاں بولو میں سن رہا ہوں۔۔
تایا سائیں آپ نے مجھے سے شادی کی بات کی تھی۔۔۔میں آمنہ سے شادی کرنے کیلئے تیار ہوں۔۔۔آپ جب چاہیں شادی کی تاریخ رکھ لیں۔۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔
واقعی سکندر تم سچ کہہ رہے ہو؟؟
مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔۔۔۔۔۔واہ تم نے تو آج دل خوش کر دیا۔۔۔۔میں ابھی تمہاری تائی جان اور آمنہ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں۔۔
سکندر نے صرف جی کہہ کر کال بند کر دی۔۔۔میری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ آج تم نے آسان کر دیا گل بہار۔۔۔۔جب تمہیں میری پرواہ نہیں تمہیں اپنے کیے ہوئے گناہ پر کوئی پچھتاوا نہیں اور بڑی خوش و خرم زندگی گزار سکتی ہو تو بھلا میں کیوں تمہارا جوگ لے کر بیٹھا رہوں اور خود کو برباد کروں۔۔
اب تم میری زندگی میں میرے دل و دماغ میں کہیں نہیں ہو ۔۔۔۔ سمجھی تم۔۔۔۔ اور اسکی سوچ پر دل نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔۔
سکندر تم چاہے جو مرضی کر لو اسے نہیں بھول سکتے وہ تمہاری محبت ہے۔۔۔تمہارا عشق ہے۔۔۔تمہارا جنون ہے۔۔۔تمہاری دیوانگی ہے۔۔۔۔تم کبھی اس سے نفرت نہیں کر سکے۔۔۔۔آج بھی اسے دیکھ کر تمہارا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔۔۔۔آج بھی تم اس کے لیے دیوانے ہو۔۔۔۔تم اس قید سے رہا نہیں ہو سکتے۔۔۔۔ضد چھوڑ دو اور ہار مان لو۔۔
نہیں اب سکندرحیات خان کبھی گل بہار کو یاد نہیں کرے گا۔۔۔۔وہ بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھے گا۔۔۔اپنے لیے خوشیاں اکھٹی کرے گا۔۔۔۔۔ بس بہت ہو چکا۔۔۔اب یہ قصہ ختم۔۔
دل اور دماغ کی یہ جنگ اسکے بےہو ش ہونے تک جاری رہی۔۔۔اور پھر جیسے ہر طرف خاموشی چھاگئی۔۔
________________
سکندر کے پارٹی سے چلے جانے کے بعد گل بہار کی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی اس سے پارٹی میں مزید کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا۔۔۔۔وہ جلد سے جلد وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔۔۔اپنی محبت کی قبر پر کچھ آنسو بہانا چاہتی تھی۔۔۔۔اپنے اندر امڈتے سیلاب کو باہر نکالنا چاہتی تھی۔۔۔۔اس لیے بلال سے سر درد کا بہانا بنا کر اپنے کمرے میں آگئی۔۔
کمرے کا دروازہ لاک کیا اور پھر مردہ قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی آئینے کے سامنے آ کر رک گئی۔۔۔
کچھ دیر خاموشی سے خود کو دیکھتی رہی۔۔پھر آہستہ آہستہ آنسو بہہ کر اسکی گالوں پر آگئے۔
پھر خود سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
سچ کہتے ہیں محبت بڑے بڑے امتحان لیتی ہے۔۔۔بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں مگر محبت کی اس جنگ میں مجھے تمہیں کھونا پڑا سکندر نا چاہتے ہوئے بھی وہ سب کرنا پڑا۔۔۔۔۔ تمہارے رشتوں۔۔ تمہاری عزت ۔۔۔تمہاری حقیقی خوشی سے بڑھ کر میرے لیے اور کچھ نہیں کچھ بھی نہیں سکندر۔۔۔
میں جانتی ہوں تم مجھ سے نفرت کرتے ہو۔۔
آج تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ نفرت دیکھی۔۔۔اچھا لگا جان کر۔۔۔۔ اچھا لگا جان کر کہ اب تمہیں گل بہار جیسی گری ہوئی لڑکی سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔ تمہارے لیے میرا ہونا یا نا ہونا برابر ہے۔۔۔۔اچھا ہی ہوا سب ختم ہو گیا۔
ہمیشہ خوش رہنا سکندر ۔۔۔ تمہیں دنیا کی ہر خوشی ملے۔۔۔۔کبھی کوئی کمی نا ہو تمہاری زندگی میں ۔۔۔۔میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔۔
پھر الماری کی طرف بڑھ گئی اور اپنی یادوں کو اپنے سینے میں رکھتی ڈائری کو باہر نکالا اور اسے اٹھا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
صفحہ کھول کر لکھنا چاہا تو آنسووں نے پہلے ہی سارا درد تحریر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔کاش آنسووں کے بھی رنگ ہوتے جو ہر دکھ کو تحریر کر کے اپنا درد بیان کر پاتے۔۔۔۔ کسی قلم کسی روشنائی کی ضرورت نا پڑتی۔۔
قلم ہاتھوں میں تھامے وہ لکھنے لگی۔۔۔ ایک یہی راستہ اسے اپنی یادوں سے فرار کا ہمیشہ نظر آتا تھا۔
گھر سے نکل کر اپنے تیرے آستان تک پہنچوں
گماں کے رنگوں میں حد گماں تک پہنچوں
پھر انہی موسموں کے درمیان چلتے چلتے۔
بہاروں سے نکل کر خزاں تک پہنچوں۔
رات تو باقی ہے ابھی جانے کا فیصلہ ناکرو۔۔
تیری آنکھوں سے میں عشق کی داستان تک پہنچوں
کئی صدیوں سے مسافت کو سمیٹا ہے میں نے
تو ہی بتا دے اب میں اور کہاں تک پہنچوں۔۔
تجھے آنگن میں ستاروں کی طرح سجانے کے لیے۔
زمین پر رنگ سجاوں اور آسمان تک پہنچوں۔
________
صاحب جی آپ جلدی سے آ جائیں سکندر صاحب ہسپتال میں ہیں۔۔۔سلیمہ فکر مندی سے محسن کو کال کر کے کہہ رہی تھی۔۔
کیا ہوا سکندر کو اور کس ہاسپٹل میں ہے؟؟ میں ابھی آرہا ہوں۔۔۔محسن کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔۔
سلیمہ نے ہاسپٹل کا نام بتایا اور محسن فورا ٹینس کلب سے نکلا اور فل سپیڈ میں گاڑی چلاتا ہاسپٹل پہنچا۔
ریسپشن سے پتا کیا تو انہوں نے وارڈ نمبر بتایا ۔۔وہ دیوانہ وار بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔
اندر داخل ہوا تو ڈاکٹر صاحب سکندر کا معائنہ کر رہے تھے۔۔
سکندر کا رنگ بلکل ہلدی جیسا ہوگیا تھا۔۔۔محسن کا دل رو دینے کو چاہا۔
پھر ڈاکٹر صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔ڈاکٹر صاحب میرا دوست۔۔۔آنسو بس بہہ جانے کو تیار تھے۔۔
آپ میرے ساتھ باہر آئیں۔
محسن ڈاکٹر کی تائید میں باہر آگیا۔
باہر آکر اس نے پوچھا۔۔۔جی بتائیں کیا ہوا ہے اسے؟؟
دراصل انہیں کوئی بہت گہرا زخم پہنچا ہے جو انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔۔اور پھر یہ کل کافی دیر بارش میں بھیگتے رہے وہ بھی اتنی ٹھنڈ میں تو بخار بھی بہت تیز تھا ۔۔۔
یوں لگتا ہے جیسے یہ خود کو جلا رہے ہیں۔۔خود سے کوئی بدلہ لے رہے ہیں
___________
۔اور مجھے تو یہ بھی لگتا ہے جیسے یہ جینا ہی نہیں چاہتے۔۔۔اپنے آپ سے لاتعلقی برتی ہوئی ہے۔۔۔
آپ کوشش کریں کہ انکو کسی قسم کی کوئی پریشانی نا ہو۔۔۔جتنا ہو سکے انہیں خوش رکھیں۔۔۔ورنہ حالات اس سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔۔آپ سمجھ رہے ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں؟
جی ڈاکٹر صاحب ہم پوری کوشش کریں گے کہ ایسا ہی ہو۔۔۔۔ محسن نے فورا حامی بھری۔۔۔وہ اب مزید اس سے کوئی لاتعلقی نہیں برتے گا۔۔۔ اس نے خود سے عہد لیا۔۔
گڈ۔۔۔باقی ساری میڈیسن میں نے لکھ دی ہیں آپ وہ دیتے رہیں اور ساتھ ساتھ میڈیکل چیک اپ بھی جاری رکھیں۔۔۔ابھی ہم دو دن انہیں انڈر اوبزرویشن رکھیں گے اس کے بعد آپ انہیں گھر لے جاسکتے ہیں۔۔
اوکے ڈاکٹر جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔
ٹیک کئیر۔۔۔کہہ کر ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا۔۔
اندر وارڈ میں آکر اس نے اپنے بے ہوش پڑے دوست کو دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر دل ہی دل میں کہنے لگا۔۔
سارا قصور ہی میرا یے جو میں نے تمہاری محبت کا مذاق اڑایا۔۔۔بہت برا ہوں میں بہت برا۔۔۔۔ پر میں بھی کیا کرتا یار تمہیں کسی دلدل میں دھنستا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔
اور وہ گل بہار اس کو بھی تو کتنا ڈھونڈا میں نے پر وہ نہیں ملی۔۔۔۔۔جودہ بائی کے کوٹھے پر بھی گیا تھا کہ شاید وہ وہاں پر ہو پر وہ وہاں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ بھلے وہ مجھے نہیں ملی پر اس کی پاکیزگی کی وہ تصدیق کنیز سے ضرور مل گئی جس کی تم قسمیں کھاتے تھے ۔۔۔تمہیں کس قدر یقین تھا نا اس پر۔۔۔۔۔ اور مجھے کافی عرصے سے تمہارے اس یقین پر یقین تھا پر میں نہیں کہہ سکا۔۔۔
کیا کیا تھا اس نے تمہارے ساتھ۔۔۔تم نے مجھے نہیں بتایا
۔۔۔۔ پر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس نے جو بھی کیا ہو گا وہ میری باتوں کے ردعمل کے طور پر ہی کیا ہو گا۔۔
اور یہ بات میں تمہیں نہیں بتا سکا ۔۔۔اگر بتا دیتا تو تمہیں کھودیتا ۔۔
ایک آنسو اسکی آنکھ سے گر کر سکندر کے ہاتھ پر گرا۔۔۔
مجھے تمہاری محبت کی گہرائی کا اندازہ اب ہو رہا ہے سکندر۔۔۔۔تم اس سے نفرت کی چاہے جتنی مرضی قسمیں کھا لو مگر تمہارا دل آج بھی اسی کا نام لے کر دھڑکتا ہے۔۔۔۔تمہاری ہر سانس پہ اس کا نام لکھا ہوا ہے۔۔۔۔اور تمہاری آنکھیں یہ سارا سچ بول دیتی ہیں۔۔۔۔
محسن نے اپنے بہتے آنسووں کو صاف کیا اور پھر ایک مضبوط ارادے کے ساتھ خود کو اکٹھا کیا۔
میں اسے ڈھونڈوں گا اور تمہارے پاس لے کر آوں گا۔۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔وہ تمہاری تھی اور تمہاری ہی رہے گی۔۔
____________
تایا سائیں فکر مندی سے اسے دیکھ رہے تھے اور تائی جان کا تو دل ہی بیٹھا جا رہا تھا۔
وہ دونوں شام کو وہاں پہنچے تھے اور سکندر کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔
سلیمہ نے جب محسن کو کال کی تو انکو بھی اطلاع دے دی تھی۔۔
ارے میرا بچہ کیا ہو گیا تجھے۔۔۔۔کیسا ہلدی جیسا پیلا پڑ گیا ہے۔۔۔۔ضرور کسی کی بری نظر لگی ہے میرے بچے کو۔۔۔۔تائی جان اپنا سارا پیار اس پر نچھاور کر رہی تھیں۔۔۔
اگر پتا چل گیا کہ کون اسکی حسن نظر ہے اور کس کی نظرون سے یہ گھائل ہے تو آپکو دن میں تارے نظر آجائیں گے۔۔
محسن نے کہا نہیں صرف سوچا اور ایک طرف دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا رہا۔۔
تایا سائیں نے محسن کو وارڈ سے باہر آنے کا اشارہ کیا اور پھر اس سے ساری تفصیل معمول کرنے لگے۔
کیا ہوا ہے اسے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟
محسن اب ان کو کیا بتا تا کہ یہ محبت کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے یہ لا علاج مرض ہے اور اس کا علاج ان ڈاکٹروں کے پاس نہیں ہے۔۔
اور تایا سائیں یہ بات سن کر کھینچ کر ایک تھپڑ اسے دے مارتے کہ یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔بھلا ایسا بھی ہوتا ہے۔۔
ہائے یہ دنیا والے بھلا کب سمجھے ہیں محبت کو۔۔۔۔اور بھلا میں کیوں دنیا سے شکوہ کر رہا ہوں۔۔۔۔مین خود بھی تو انہی میں شامل تھا۔۔
سو اس نے اصل وجہ بتانے کی بجائے کہا۔۔
سکندر ٹھیک ہے کچھ زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔۔۔بس رات کو زرا بارش میں بھیگ گیا تو بخار کافی تیز ہوگیا۔۔۔۔آپ کو تو پتا ہے کہ آجکل سردی کتنی بڑھ گئی ہے۔۔۔۔۔محسن اپنا سچ ملا جھوٹ بول کر چپ ہوا تو تایا سائیں بولے
اچھا ۔۔تبھی میں سوچ رہا تھا کہ رات کو تو ٹھیک تھا ٹھیک سے مجھ سے بات کی پھر اچانک کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔ نوجوان نسل کہاں احتیاط کرتی ہے۔۔۔۔ بس جہاں جب دل کیا چل پڑے ۔۔۔۔ نا وقت دیکھتے ہیں نا موسم۔۔۔
محسن کو اب اپنی فکر لگ گئی کہ کہیں انکی باتوں کا رخ اس کی طرف نا آجائے تبھی جلدی سے بولا۔۔
اچھا سکندر نے آپ کو کال کی تھی خیریت۔۔۔
ہاں وہ تجھے تو بتایا ہی ہوگا نا اسنے۔۔۔اپنی اور آمنہ کی شادی کے بارے میں۔۔۔۔۔کل خود ہی اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔۔۔۔ہم تو کب سے یہی چاہ رہے تھے پر وہ بار بارانکار کر رہا تھا۔۔۔۔پر چلو خیر دیر آئے درست آئے۔۔
اچھا میں ذرا اندر دیکھوں سکندر کو ہوش آیا یا نہیں۔۔
وہ اندر چلے گئے اور محسن صرف مٹی کی مورت بنے کھڑا رہا جسکا سارا خون اور جسم سے جان نکال کر کوئی لے گیا ہو۔۔
کافی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو بےیقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔۔۔۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو سکندر ۔۔۔۔۔تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی اتنا بڑا فیصلہ اکیلے کرنے کی۔۔
بس ایک بار تم ہوش میں آجاو پھر دیکھنا میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں۔۔۔
غصے سے کہہ کر پھر اوپر کی طرف دیکھا۔
ارے گل بہار کہاں چلی گئی ہو آ جاو نہیں تو یہ تمہارا دیوانہ پتا نہیں کیا کر بیٹھے گا۔۔۔۔۔ جلدی آجاو اس سے پہلے کہ سب ختم ہو جائے۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: