Umeed Novel by Kiran Malik – Last Episode 16

0

امید از کرن ملک – آخری قسط نمبر 16

–**–**–

 

سارا کام ختم ہوتے ہوتے رات کے دس بج گئے تھے پھر اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔جہاں ہر طرف اندھیرا تھا۔۔۔جسے وہ روشنی میں بدلنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔تو لائٹ آن نہیں کی۔۔۔
یہ ایک چھوٹا سا کمرا تھا جس میں اسکی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔
بدن تھکن سے چور تھا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔
اپنے درد کو لفظوں میں تحریر کر کے ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی تھی۔۔
تو ٹیبل لیمپ آن کیا اور کرسی کھینچ کر میز کے گرد بیٹھ گئ۔۔۔
اپنی ڈائری اٹھائی جس پر نمایاں حروف میں لکھایا ہوا تھا۔۔۔ “امید”
پیار سے اس پر ہاتھ پھیرا اور پھر جہاں پر لکھنا چھوڑا تھا وہیں سے لکھنا شروع کیا۔۔
“آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ آج ہماری بہت سی امیدیں بر آئی ہیں۔۔۔ امید کو ڈونیشن کی ایک بڑی رقم مل گئی۔۔۔اب بہت کچھ بہتر ہو جائے گا۔۔
پر اس خوشی میں ایک اور خوشی بھی شامل ہوگئی آج سکندر کو دیکھا اس نے شادی کر لی۔۔۔آمنہ سے ۔۔ایک سال پہلے ہی کر لی ہوگی۔۔پتا نہیں میں اس کو کیسے تسلیم نہیں کر سکی۔
اچھا لگا اسے خوش دیکھ کر۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔
ایک آنسو اسکی تحریر پر آگرا۔
پتا نہیں میرا دل کیوں اب بھی اس کا منتظر ہے۔۔۔جانتی ہوں وہ میرا نہیں ہے کسی اور کا ہو چکا ہے اور میں نے خود اسے مجبور کیا مگر۔۔
یہ دل اس بات کو کیوں تسلیم نہیں کرتا۔۔۔کیوں پھر سے اسکی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔۔کیوں چاہتا ہے کہ وہ وہ پھر سے میرا ہو جائے کیونکہ وہ تو صرف میرا ہے۔۔۔ کیوں
آخر کیوں اس کا نام دل و دماغ سے نہیں مٹتا آخر کیوں میں ایک پل کے لیے بھی اس کی یاد سے غافل نہیں ہو سکتی۔۔۔میرے اندر تمہاری محبت کی جڑیں اتنی مضبوط کیوں ہو گئیں ہیں سکندر آخر کیوں “۔۔
“کیونکہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور آج بھی اس آگ میں جل رہا ہوں” ۔
وہ اسکی کرسی کے دونوں بازوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے کان کے بلکل قریب ہو کر بولا۔۔
اس آواز کو بھلا وہ کیسے نہیں پہچان سکتی تھی ۔۔۔ ایک جھٹکے سے اٹھی آنکھوں میں بےیقینی ہی بےیقینی تھی۔۔
وہ حیرت کا مجسمہ بنی کھڑی تھی اور اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جو اب بڑے آرام سے دونوں بازوں کو باندھےکھڑا تھا۔
“سکندر ” تم ۔۔۔تم یہاں کیسے۔۔۔وہ بمشکل کہہ پائی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسکے قریب آنے لگا اور وہ اپنے قدموں کو پیچھے ہٹانے لگی۔
ہاں میں ” کیوں ” وہ بڑے آرام سے مزے لیتے ہوئے بولا۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔پلیز جاو یہاں سے۔۔۔ کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔۔
آنکھیں ابھی تک حیرت سے پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ یہ خواب تھا یا حقیقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔بھلا سکندر یہاں کیسے آ سکتا ہے۔۔۔
چھوٹےسے کمرے میں وہ بس دو قدم ہی پیچھے ہٹ پائی اور دیوار آگئی۔۔
گل رکی تو سکندر بھی رک گیا دونوں کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ تھا۔
تمہیں کیا لگا تھا تم مجھے میری محبت کو اس طرح چھوڑ دو گی اور میں تمہیں جانے دوں گا۔
اسکے لہجے میں ہلکا ہلکا سا غصہ تھا۔۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
تم مجھ سے دور ہو جاو یہ میں ہونے دوں گا۔۔
سکندر ۔۔۔ میں چیخ چیخ کر سب کو بلا لوں گی۔۔۔۔وہ بولی۔۔
پر سکندر بولتا جارہا تھا۔
تم خود کو اور مجھے اس آگ میں جلا کر راکھ کر دو گی اور میں ہونے دوں گا۔۔
سکندر بس اب بہت ہوگیا۔۔۔۔تم جاو یہاں سے۔۔۔۔ مجھے تمہاری داستان محبت نہیں سننی۔۔۔مجھے تم سے محبت نہیں ہے سمجھے۔۔
اچھا اور یہ ابھی جو تم اپنی ڈائری میں لکھ رہی تھی وہ کیا تھا۔
اس نے ڈائری اٹھا کر اسکے سامنے کی۔۔
یہ۔۔۔یہ۔ صرف جھوٹ ہے اور کچھ بھی۔۔۔ گل کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔۔
اچھا چلو مان لیتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔پھر اپنے کوٹ کی جیب سے ڈائری نکالی اور اسے گل کی آنکھوں کے سامنے
لہرایا۔۔۔۔جسے وہ ایک منٹ میں پہچان گئی۔۔
تو کیا یہ بھی جھوٹ یے۔۔
یہ۔۔یہ کیا ہے کس کی ہے۔۔۔۔ وہ انجان بن گئی۔
تمہیں نہیں پتا۔۔
اچھا چلو میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں شاید تمہیں یاد آجائے۔
اس نے پڑھنا شروع کیا۔
لہجے اور آنکھوں میں چھایا غصہ واضح تھا۔۔
اور گل پوری کی پوری کانپ رہی تھی۔۔۔۔جس سچ کو اس شخص سے چھپایا وہی اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔۔اسکا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔۔
“میں سکندر سے بہت محبت کرتی ہوں اور اسکی خاطر جو کیا وہی مجھے صحیح لگا۔۔۔۔وہ مجھ سے بہتر لڑکی ڈیزرو کرتا ہے اس لیے میں نے خود کو اسکی نظروں میں گرا دیا۔۔۔ تاکہ وہ کسی اور کا ہوجائے اور مجھے بھول جائے”
الفاظ اسکی سماعت سے ٹکرا رہے تھے اور وہ بت بنی کھڑی رہی۔۔
آگے پڑھوں یا اتنا ہی کافی ہے یہ جاننے کے لیے کہ یہ کس کی ہے۔۔
اس نے ڈائری کو میز پر رکھا اور اس کے بلکل قریب جا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔اسے دونوں بازووں سے مضبوطی سے تھاما اور پورے غصے سے کہنےگا۔
کیوں آخر کیوں کیا تم نے ایسا میرے ساتھ بولو جواب دو۔۔۔دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔
کس نے تمہیں یہ حق دیا تھا کہ تم میرے اور اپنے دل کے ساتھ کھیلو۔
تم نے جو سوچا وہ کر لیا۔۔۔ایک بار بھی میری محبت کو اسکی گہرائی کو نہیں جانا۔۔
ایک بار بھی نہیں جانا کہ میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔۔۔تم ہو تو میں ہوں اور اگر تم نہیں تو میں بھی نہیں۔
دونوں بہتے آنسووں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔
تم نے خود ہی سارے فیصلے کر لیے اور مجھے پھانسی کی سزا سنا دی۔۔۔ مجھے میری صفائی میں بولنے کا ایک موقع تک نہیں دیا تم نے کیوں۔اسکی آوز بھرا گئی۔۔
ساری قربانیوں کا ٹھیکہ تم نے ہی اٹھا رکھا تھا ۔۔۔۔ کہ میں سکندر کے قابل نہیں ہوں اور یہ سوچ کرتم نے خود کو میری نظروں میں اتنا گرا لیا کہ میں دوبارہ تمہاری طرف دیکھوں بھی نہیں۔۔
اور میں بیوقوف گدھا بھی اس ڈرامے کو سچ سمجھ بیٹھا اور وہی کیا جو تم نے سوچا تھا۔
پھر بلال کی بیوی ہونے کا ڈرامہ کیا اور میں اسے بھی سچ سمجھ بیٹھا۔۔۔ ایک بار پھر تمہیں غلط سمجھا۔۔۔۔۔لعنت ہے مجھ پر۔۔۔۔سکندر اب آہستہ آہستہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہا تھا۔۔
مجھے جس نے جو کہا میں نے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا۔۔۔۔اسکا اشارہ محسن کی طرف تھا۔۔۔۔ اور تم میری نظروں سے گرتی چلی گئیں۔۔
سکندر پلیز بس کر دو۔۔۔وہ التجا کر رہی تھی۔۔
تم نے جیسا سوچا تھا سب ویسا ہی ہوگیا پر یہ دل ۔۔۔ اس دل میں تمہاری محبت اس سب کے بعد بھی قائم رہی۔۔۔ یہ آج بھی تمہارا نام لے کر دھڑکتاہے آج بھی میری ہر دعا میں صرف تمہارا ہی نام ہے صرف تمہارا۔
اس نے گل کے بازووں کو چھوڑ دیا۔۔۔اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔آنکھوں میں التجا تھی۔
تم تو شاید میرے بغیر رہ لو مگر پلیز مجھ پر رحم کر دو۔۔۔میرے اندر تمہارے جتنا صبر نہیں ہے میری روح زخمی ہو چکی ہے میں بکھر چکا ہوں میرے اندر مزید اس جدائی کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔پلیز مجھے سمیٹ لو ۔۔۔۔میں مر جاوں گا۔۔
اور گل نے فورا اسکے بندھے ہوئے ہاتھوں کو تھام لیا۔۔۔اور پھر اپنے لبوں کو آزاد کیا جن کو وہ کب سے سی چکی تھی۔۔
پلیز سکندر ایسا مت کہیں پلیز۔۔۔۔۔وہ پوری شدت سے رونے لگی۔۔۔سکندر نے اسکے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔۔
میں نے جو کیا اسکے لیے مجھے معاف کردیں۔۔مجھے لگا یہی صحیح ہے پر میں غلط تھی میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اور اس آگ میں نے خود کو بھی جلایا ہے ہر پل ہر لمحہ اس درد کو سہا ہے میں خود بھی زخمی ہو چکی ہوں بہت اندر گہرائیوں تک۔
پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔
سکندر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے بہتے آنسووں کو اپنی انگلی کے پوروں سے صاف کیا اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔
بس اب اور آنسو نہیں ہم جتنا کچھ سہہ چکے ہیں وہ کافی ہے اب مزید نہیں۔۔
تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے دامن کو خوشیوں سے بھر دوں گا۔۔۔اور کبھی تمہاری آنکھوں کو نم نہیں ہونے دوں گا۔
گل کے چہرے پر بھی امید کی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں ایک دم سے اس طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔ایک طلسم ساٹوٹا تھا۔۔
_________
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں ایک دم سے اس طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔ایک طلسم ساٹوٹا تھا۔۔
دروازہ کھلا اور میڈم سعدیہ اندر داخل ہوئیں اندر کافی اندھیرا تھا تو انہوں نے لائٹ آن کر دی ۔۔
گل ایک دم سے سکندر سے کافی فاصلے پر ہوگئی اور دل گبھرانے لگا یااللہ پتا نہیں یہ کیا سوچیں گی۔۔۔ اسے پسینہ آنے لگا۔۔۔
جبکہ سکندر پرسکون انداز میں وہیں کھڑا رہا۔۔۔
سعدیہ نے گل کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اپنے پیچھے آنے والوں کو راستہ دیا۔۔
انکے پیچھے اور بھی بہت سے لوگ داخل ہوئے جن کو گل غور سے دیکھنے لگی۔۔۔
محسن کو وہ دیکھتے ہی پہچان گئ پر یہ عورت اس نے یاد کر نے کی کوشش کی ہاں یہ تو مجھ سے شادی میں ٹکرائی تھیں پر ایک تیسرا شخص کون تھا اسے وہ نہیں جانتی تھی۔
وہ سب اسے بہتی آنکھوں سے دیکھنے لگے اور گل حیرت سے کبھی انہیں اور کبھی سکندر کو دیکھے گئی۔۔۔ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
اتنے میں وہ عورت تیزی سے اس کے پاس آئی اور اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور جی بھر کر اسے دیکھنے لگیں۔۔۔ میری بچی اور پھر اسے گلے سے لگا لیا۔۔
آپ آپ یہاں آنٹی جی آپ یہاں کیسے۔۔۔ گل کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔
آنٹی نہیں ماما میں ماما ہوں تمہاری ۔۔۔۔ تمہاری ماما اپنی ماہم کی ماما۔۔۔ یااللہ تیرا شکر ہے تو مجھے میری ماہم سے ملا دیا۔۔
گل نے ایک جھٹکے سے انہیں خود سے دور کیا۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔میری کوئی ماں کوئی باپ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ مر چکے ہیں۔۔۔
ایک دم سے وہ گل کو حیرت سے دیکھنے لگے۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ماہم میں تمہاری ماماہوں یہ تمہارے بابا ہیں تیمور اور یہ محسن ہے تمہارا بھائی۔۔۔وہ سب کو طرف اشارہ کرتی اسے سب سے ملوانے لگی۔۔
محسن میرا بھائی یہ سوچ کر ہی اسکے سامنے محسن کا کیا سلوک لہراگیا۔۔۔
آپ کو کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔۔ میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔ یہ سن کر فریدہ ایک دم سے تڑپ گئی۔۔۔
تو سکندر فورا بولا۔۔۔یہی تمہارے ماں باپ ہیں ہمارے پاس سارے ثبوت ہیں۔۔۔یہ دیکھو یہ لاکٹ یہ تمہارا ہی ہے نا اور یہ تمہیں میری ماما نے پہنایا تھا۔
گل نے سکندر کے ہاتھ سے وہ لاکٹ لیا اور غور سے اسے دیکھا وہ واقعی اسی کا تھا۔۔۔ہاں یہ میرا ہے مگر۔۔
جب تمہارا ہے تو تم ہی ماہم ہو کیوں سب کو دکھی کر رہی ہو مان لو نا۔۔۔۔سکندر منت کرنے لگا۔
سب اسکی منت کرنے لگے ۔۔میں تمہاری ماما ہوں ماہم۔۔۔میں تمہارا بابا ہوں میری ماہم ۔۔۔ اور یہ تمہارا بھائی ہےمحسن۔۔
اسکے آنسووں کی رفتار میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔۔۔۔وہ کافی دیر تک خاموشی سے ان سب کو دیکھتی رہی پھر ایک دم سے بولی۔۔
نہیں لگتی میں آپ لوگوں کی کچھ ۔۔۔ آج آپ کو میری یاد آئی ہے اور یہ پیار دکھا رہے ہیں۔۔۔ اس وقت یہ پیار یہ محبت کہاں تھی جب مجھے کچرے کے ڈھیر پر چھوڑ دیا تھا ایک کوٹھے کی زینت بنانے کے لیے۔۔۔۔بغیر رکے کہہ دیا۔۔
اور پھر کرسی پربیٹھ گئی۔۔۔مزید ہمت نہیں تھی کچھ بھی سننے اور سمجھنے کی۔۔
چلے جائیں آپ لوگ یہاں سے اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔۔اس نے نفرت سے کہا اور رخ پھیر لیا۔۔
سکندر نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنے سامنے کیا یہ سب تمہارے اپنے ہیں اور تمہیں ساری حقیقت معلوم نہیں ہے کہ اس رات کیا ہوا تھا۔۔۔
سکندر نے اسے اس رات کا سارا قصہ سنایا مگر اس کے ذہن میں ابھی تک جودہ بائی کی کہی ہوئی باتیں گھوم رہی تھیں۔
سکندر مجھے جودہ بائی نے سب بتا دیا تھا کہ یہ لوگ مجھے کچرے کے ڈھیر پر چھوڑ گئے تھے۔۔۔مجھے اس سے زیادہ نہیں سننا۔
فریدہ رو رو کر بےہوش ہونے کو تھی۔۔
یہ سب جھوٹ ہے اور سچ کیا ہے اگر تمہیں ہماری بات پر یقین نہیں یے تو کنیز کی بات پر تو ہوگا نا۔۔۔سکندر نے کنیز کو وہاں بلایا اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب روئیں۔۔
کنیز کتنی ہی دیر گل کے چہرے کو اپنی آنکھوں میں سماتی رہیں۔۔۔۔اور پھر اسے ساری سچائی بتائی کہ جودہ بائی نے تم سے جھوٹ بولا تھا تاکہ تم کبھی بھی وہاں سے بھاگنے کی کوشش نا کرو۔۔۔۔
اور یہ لوگ تمہارے ماں باپ ہیں میں ان سے مل چکی ہوں اور یہ جو بھی کہ رہے ہیں وہ سب سچ ہے۔۔
اس نے بے اختیار فریدہ کو گلے سے لگا لیا پھر تیمور سے گلے لگی اور آخر میں محسن کے سامنے آکر رک گئی۔۔۔۔وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی اور ساتھ ہی قدرت کے اس کھیل پر حیران تھی ۔
کیا ہوا بھائی کے گلے نہیں لگو گی محسن نے کہا تو وہ اسکے گلے لگ گئی اور دونوں ایک دوسرے سے گلے لگے کتنی ہی دیر روتے رہے۔۔
سب کچھ اچھا ہوگیا مجھے ماہم کو آج سارے رشتے مل گئے میں کتنی خوش ہوں اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔۔۔ وہ سب کو دیکھ رہی تھی اور آنکھوں کی چمک کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔
میم سعدیہ کی آنکھیں بھی نم تھیں وہ اسکے قریب آئی اور اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔ تم بہت بہادر ہو ماہم بہت بہادر۔۔۔۔۔ تم نے بہت صبر کیا ہے اور اس صبر نے تمہیں نا امید نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔۔۔پھر پیار سے اسکی پیشانی چوم لی۔۔۔
پھر سب وہاں سے خوشی خوشی روانہ ہوگئے اپنی زندگی کو ساتھ لے کر۔۔
پورے ٹرسٹ ے بچوں اور عورتوں نے اسے خدا حافظ کہا اور ان سے ملتے ملتے وہ ایک بار پھر رو پڑی۔۔
سکندر ان سب کا ماہم کے لیے پیار دیکھ کر بہت خوش تھا یہ لڑکی دلوں پر راج کرنا جانتی ہے تبھی تو میرے دل کی ملکہ ہے۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے سوچا اور پھر سب گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے
__________
ماہم اس عالیشان محل نما گھر کو دیکھ رہی تھی جو اس کا تھا وہاں مجھ سب لوگ اسکے تھے وہ جو ایک رشتے کو ترستی تھی آج اللہ نے اسے اتنے رشتے عطا کر دیے تھے۔۔۔۔ اللہ مجھ پر کس کس طرح مہربان ہوگا یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
وہ سب ہال میں کھڑے تھے جب محسن بولا۔۔
تمہارے لیے میری چھوٹی بہن کے لیے ایک سرپرائیز ہے۔
سرپرائیز۔۔۔اس نے حیرت سے پوچھا۔۔۔آج اسے اتنے سرپرائیز مل چکے تھے کہ ابھی کچھ اور بھی باقی یے پر وہ کیا؟؟؟وہ سوچ کر رہ گئی۔
چلو اپنی آنکھیں بند کرو۔۔
محسن کیوں میری بچی کو تنگ کر رہے ہو ایسے ہی بتا دو نا۔۔۔۔فریدہ نے ماہم کو گلے سے لگا لیا۔۔
نہیں نا ماما ایسے مزا نہیں آئے گا۔
تو ماہم نے خوشی خوشی آنکھیں بند کر لی۔
اب آنکھیں کھولو۔۔۔۔ماہم نے جب آنکھیں کھولی تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔
اور بے اختیار آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔اور بھر خوشی آنکھوں میں سمیٹ بولی۔۔۔رابیل۔
اور رابیل نے بھی اسی طرح کی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ماہم۔۔۔ میری جان
تم یہاں کیسے۔۔۔۔کنیز کے ساتھ آئی ہو۔۔۔۔کافی دیر ایک دوسرے کے گلے لگنے کے بعد بولی۔۔
یہ میں بتاتا ہوں۔۔۔سکندر ایک دم سے بول پڑا۔۔۔
تو چپ کر میں بتاتا ہوں محسن نے اسے خاموش کروانا چاہا۔۔
جی نہیں میں خود بتاوں گا۔
ماہم بس ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر مسکراتی رہی۔۔۔وہاں سب ہی مسکرا رہے تھے۔
ماہم تمہارے محسن بھائی نے رابیل سے شادی کر لی ہے اور یہ اب تمہاری بھابھی ہیں۔۔۔۔
اور ماہم نے حیرت سے رابیل کو دیکھا تو اس نے شرم سے نظریں جھکا دی۔۔
تو پٹے گا میرے ہاتھ سے چپ کر جا۔۔۔محسن نے سکندر کو گھورا۔۔
جی ۔۔۔یہ آپکے بھائی صاحب جو دوسروں کو نصیحت کرتے نہیں تھکتے تھے خود پیار کر بیٹھے اور پیار میں اتنے دیوانے ہوگئے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر شادی کر کے بھابھی کو گھر لے آئے۔۔
تو رک بیٹا۔۔۔۔وہ منمنایا۔۔۔۔پھر بولا۔۔
سکندر صاحب آپ کا کام ختم ہوچکا ہے اب آپ جاسکتے ہیں۔۔۔
سکندر کے ساتھ ساتھ سب کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تمیور نے ٹوکا۔۔۔۔
جی پاپا اب باہر والوں کاہمارے گھر میں کیا کام۔۔۔۔شاباش اپنے گھر کا رستہ ناپو۔
اللہ تجھ جیسا دوست کسی کو نا دے ۔دیکھیں نا آنٹی یہ کیا کہہ رہا ہے میں نہیں جارہا کہیں بھی۔۔
فریدہ فورا اسکی حمایت میں بولی۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو شرم کرو کچھ۔۔۔۔۔۔دوست ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرے بیٹے کوکچھ بھی کہو۔
او ہو۔۔۔ارے میری ماماجان یہ یہاں سے جائے گا تو بارات لانے کی تیاری کرے گا نا۔۔۔ایسے ہی تو میں اسے اپنی بہن کے ساتھ رخصت نہیں کروں گا نا۔۔۔
محسن کی بات سن کر ماہم ایک دم سے سرخ پڑگئی اور سکندر غور سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
اور باقی سب کا قہقہہ گونجا۔۔۔۔۔
محسن نے سکندر کو دیکھا جو ماہم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اوئے بس کر میری بہن کو نظر لگانی یے کیا اور سکندر ایک دم سے سیدھا ہو گیا۔۔۔۔
تو میرے ہاتھ سے نہیں بچے گا۔۔۔۔محسن نے دوڑ لگا دی۔۔۔اب محسن آگے آگے تھا اور سکندر اسکے پیچھے پیچھے۔۔۔
اور سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔
__________
ایک ہفتے کے بعد سکندر دھوم دھام کے ساتھ اپنی ملکہ کو بہانے آیا۔۔۔اس نے اس شادی کو یاد گار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
وہاں موجود ہر شخص ان دونوں کو رشک کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔۔
فریدہ نے اپنی بیٹی کو گلے سے لگایا وہ اپنی بیٹی کو اتنی جلدی خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھیں ابھی تو آنکھوں نے جی بھر کر اپنی گڑیا کو دیکھا تک نہیں تھا مگر سکندر کی حالت بھی اب وہاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی اس لیے وہ مان گئیں۔۔
محسن نے بھی آج ہمت کر کے اپنی بہن سے معافی مانگ لی تھی جسے ماہم نے کھلے دل سے قبول کر لیا۔۔
ماہم رخصت ہو کر اپنے گھر اپنے سکندر کے گھر آگئی۔۔۔سب کچھ ایک خواب لگ رہا تھا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سب اسے اتنی عزت کے ساتھ واپس بھی مل سکتا ہے ۔۔۔آج وہ ایک عزت دار گھر کی بیٹی ہونے کی وجہ سے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے کیونکہ یہی دنیا کا معیار ہے اور اس نے وہ معیار پا لیا ہے۔۔
وہ جہازی سائز بیڈ پر اپنا لہنگا پھیلائے اب تک کی اپنی اور سکندر کی ساری یادوں کو یاد کرتی ہلکے سے مسکرا رہی تھی۔۔
جب سکندر دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔تو ماہم کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
سکندر آہستہ آہستہ چلتا ہوا ماہم کی طرف آیا اور اسکے پاس بیٹھ کر اسکے مہندی لگے ہاتھ کوہاتھ تھام لیا۔۔
ماہم نے نظر اٹھا کر سکندر کو دیکھا جہاں طویل سفر کے بعد منزل کو پانے کی خوشی تھی بے پناہ چاہت بے پناہ تڑپ تھی۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔۔کتنا روئی ہیں یہ آنکھیں کتنا انتظار کیا ہے ان آنکھوں نے۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے درد کی گہرائی کو ناپ رہے تھے۔۔
پھر سکندر نے اسکے ہاتھ پر بوسہ دیا تو وہ شرم سے سرخ ہوگئ اور نظریں جھکا گئی۔۔
سکندر نے ساری محبت لہجے میں سمیٹتے ہوئے کہا
“کوئی گلا کوئی شکوہ اب سے کچھ بھی نہیں۔۔ ماضی کو ماضی میں ہی دفن کر دیتے ہیں اور اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز کرتے ہیں”۔
سکندر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ماہم نے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔اور دونوں کے لبوں پر پیاری سی مسکراہٹ پھیل گئی
__________
اگلے دن سکندر اسکی آنکھوں پر پٹی باندھے اور اسے دونوں بازوں سے تھامے لے جارہا تھا۔۔
سکندر آپ مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں۔۔۔ارے مسز سکندر تھوڑا سا انتظار کر لیں بس۔۔
کچھ دیر کے بعد سکندر نے پٹی کھولی تو وہ ایک فیکٹری میں کھڑی تھی جہاں بہت سی عورتیں کپڑے سلائی کررہی تھیں۔
یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں وہ پوچھ ہی رہی تھی جب سب عورتیں اسکی طرف بڑھیں اور ماہم انہیں ایک منٹ میں پہچان گئی۔۔
ہماری گل بہار ۔۔۔کیسی ہو گل بہار کہاں چلی گئی تھی پتا ہے سکندر صاحب نے تمہیں کتنا ڈھونڈا وہ باری باری اس سے مل رہی تھیں اور ساتھ ساتھ پوچھ رہی تھی۔۔
آپ سب لوگ یہاں کیسے۔۔۔وہ خوشی اور حیرانگی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔
تبھی کنیز کہیں سے آئی اور بولی یہ سب سکندر کی وجہ سےیہاں ہیں۔۔سکندر کو جب میں نے اس کوٹھے کی ساری سچائی بتائی کس طرح عورتوں کو وہاں لایا جاتا یے اور کس طرح انہیں استعمال کیا جاتا ہے تو اس نے فورا وہاں پر پولیس کا چھاپہ پڑوایا اور جودہ بائی اور اسکے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔۔۔اور جودہ بائی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی
اورباقی لوگوں کے لیے عزت کی روٹی کمانے کے لیے سکندر نے یہ فیکٹری بنادی اور مجھے یہاں کا انچارج بنا دیا۔۔۔اب ہم سب عزت سے اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں۔۔
کہتے ہوئے انکی آنکھوں میں آنسو آگئے اور باقی سب کی بھی خوشی سے آنکھیں نم ہوگئیں۔۔
ماہم نے سکندر کی طرف مشکور نظروں سے دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
وہاں سے واپسی پر وہ دونوں کار میں بیٹھے ہوئے تھے جب ماہم نے سکندر سے کہا۔۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ سکندر آپ نے اتنا سب کچھ کیا۔
سکندر نے پیار سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔اور آنکھ مارتے ہوئے کہا
“یہ تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ ہے تو شکریہ نہیں بنتا”۔
اس نے شرماتے ہوئے نظریں پھیر لی۔۔۔۔۔ اور ہاتھ کو سکندر کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا۔۔۔کیونکہ یہ ہاتھ اب اسے کبھی نہیں چھڑوانا۔
اسے آج اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔۔کنیز کی امید پوری ہوئی تھی۔۔کنیز کو کتنا یقین تھا نا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور آج واقعی سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔۔اور جودہ بائی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ ہمارے اللہ نے ہم دونوں کو نا امید نہیں کیا۔۔۔اس نے مسکرا تے ہوئےسکندر کو دیکھا۔۔۔ دل اللہ کے حضور سربسجود ہو گیا۔۔

 

Read More:  Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 3

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: