Uqaab by Seema Shahid – Episode 1

0

عقاب از سیما شاہد قسط نمبر 1

“عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں “

سفید شرٹ کالا ٹراؤزر اور پیروں میں جاگرز پہنے وہ صبح سویرے نزدیکی پارک میں جاگنگ کررہا تھا اس کی رفتار بہت تیز تھی ابھی چوتھا چکر ہی مکمل ہوا تھا کہ اس کے حساس کانوں میں پلین کی آواز گونجی وہ تیزی سے سیدھا کھڑا ہو کر آسمان کی وسعتوں میں شان سے اڑتے پاک فضائیہ کے طیارے کو عقیدت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ اور جوش و جنون سے دوڑ رہا تھا ۔۔ __________________________ نوشابہ جلدی جلدی میز پر ناشتے کے برتن لگا رہی تھیں ساتھ ساتھ کچن میں ابلتی چائے پر بھی ان کی پوری نگاہ تھی ۔۔۔

” گڈ مارننگ ممی !! ” اسامہ نک سک سے تیار اندر داخل ہوا

” گڈ مارننگ بیٹا جی !! ” انہوں نے بڑے غور سے اس کی تیاری کو دیکھا

“کالج جارہے ہو ؟؟ اتنا بن ٹھن کے ۔۔۔” وہ اس کی برانڈڈ جینز کھلے گلے کی شرٹ اور ہاتھوں میں باندھے بینڈز کو دیکھ رہی تھیں

” یس ممی !! آج کلاس کے بعد سب لڑکے شاہزیب کے گھر جمع ہونگے وہاں سے سب ملکر نائٹ کنسرٹ میں جائینگے ۔۔” وہ لاپرواہی سے جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے بولا

“اسامہ اپنے ڈیڈ سے پرمیشن لی ؟؟”

“ڈیڈ کو آپ بتا دینا میں چلتا ہوں ابھی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔” وہ گلاس میز پر رکھ کر تیزی سے باہر نکلا پورچ میں اس کی اسپورٹ بائیک کھڑی تھی آنکھوں پر سن گلاسز لگا کر بیگ کمر پر کسا بائیک کو ریس دی سائلنسر وہ پہلے نکال چکا تھا گھھھم گھھھم تیز آواز گونجی اور وہ فل اسپیڈ پر بائیک دوڑاتے ہوئے وہ کالج روانہ ہو گیا

یہ بوائز کالج اس شہر کراچی کے سب سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک تھا جہاں داخلہ لینا میرٹ پر پورا اترنا بہت مشکل تھا کالج کے اندر مین آفس کے سامنے سبزہ زار پر چار لڑکے پیر پھیلائے بڑے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے تبھی ایک نے مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے اسامہ کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا وہ بڑے آرام سے اپنی اسپورٹ بائیک اسٹینڈ پر لگا کر اپنے دوستوں کی جانب بڑھا

” ہائے گائز !! “

” اسامہ یار آج بھی ہیلمٹ نہیں پہنا ؟ ” احمد نے ٹوکا ” کیوں آج ایسی کیا خاص بات ہے یار !! ” اسامہ بیگ گھاس پر ڈالتے ہوئے بولا

” یار شام میں جم خامہ فنکشن ہے اور اگر تجھے پولیس نے بنا ہیلمٹ روک لیا تو ؟؟ ” احمد نے خدشہ بیان کیا

” واٹ آ جوک !!!! کس سالے میں اتنی ہمت ہے کہ مجھے روکے وردی اتروا دونگا ایک منٹ میں ۔۔۔” وہ بڑے غرور سے بولا

” اچھا چل کر یار کول ڈاؤن !!! کلاس میں چلتے ہیں ” وہ پانچوں کا ٹولہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھا اور کلاس کی جانب روانہ ہوا

علی ، احمد ، ارحم ،خالد اور اسامہ یہ پانچوں بچپن کے دوست تھے اسکول میں بھی ساتھ تھے اور اب کالج میں بھی ایک ساتھ تھے امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود پڑھنے میں بہت تیز تھے خاص کر اسامہ کا آئی کیو لیول تو غضب کا تھا ۔۔۔ _____________________ وہ میٹرک کا امتحان دیکر فارغ تھی رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ بیٹ مین انکل سے کھانا پکانا بھی سیکھ رہی تھی ابھی وہ کچن میں براؤنیز بیک کررہی تھی جب میجر احسن اندر داخل ہوئے کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سن کر اسی سمت بڑھے سامنے ہی ان کی سولہ سالہ کی صاحبزادی فاطمہ اپنے لمبے بالوں کی پونی بنائے ایپرن پہنے کام کر رہی تھی

“آج کس ڈش کی شامت آئی ہے !! ” وہ قریب جا کر بولے

” ہائے اللہ !! بابا آپ بھی ڈرا دیا مجھے !!” وہ اچھل پڑی

” ایک میجر کی بیٹی ہو کر ڈرتی ہو !! لڑکی تمہارا کیا بنیگا ۔۔۔” انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

” اچھا میرے پیارے میجر بابا !! آپ فریش ہو جائیں میں گرم گرم چائے اور براؤنیز لیکر آتی ہوں ۔۔ “

” اجمل کدھر ہے تم اکیلی کچن میں کیسے !! ” انہوں نے بیٹ مین کے بارے میں پوچھا

” اجمل انکل کو میں نے سامنے شاپ تک بھیجا ہے بس آتے ہی ہونگے ۔۔۔” فاطمہ براؤنیز کی ٹرے باہر نکالتے ہوئے بولی

” اوکے سویٹ ہارٹ تم چائے تیار کرو میں آتا ہوں۔۔” وہ اندر فرش ہونے چلے گے

فاطمہ نے جلدی جلدی براؤنیز کو پلیٹ میں نکالا ساتھ ہی تھوڑے سے پکوڑے تلے اور چائے تیار کرلی اتنی دیر میں اجمل انکل بھی اس منگوایا ہوا سامان لیکر آگئے تھے اجمل انکل کو چائے میز پر لگانے کا کہہ کر وہ جلدی جلدی اجمل انکل کے لائے سامان میں چلی ملی کھٹی املی چھالیہ کے پیکٹ چیک کرنے لگی

Read More:  Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 1

” فاطمہ بیٹی میجر صاحب میز پر بلا رہے ہیں ۔۔”اجمل اندر آکر بولا

وہ سر ہلاتے ہوئے سارا سامان کاؤنٹر پر رکھ کر باہر آگئے جہاں میجر احسن چائے پر اس کا انتظار کر رہے تھے

“فاطمہ بیٹا ساری تیاری ہو گئی ہے نا بس ایک گھنٹے میں نکلنا ہے تاکہ شام تک کراچی پہنچ جائیں۔۔۔”

” بابا کراچی جانا ضروری ہے کیا؟؟ ” وہ چائے پیتے ہوئے ٹھنک کر بولی

“دیکھو میں تمہیں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں مجھے وزیرستان بھیجا جا رہا ہے حالات اچھے نہیں ہیں اور میں تمہیں اکیلا تو یہاں نہیں چھوڑسکتا نہ اس لئے بہتر ہے تم اپنے تایا ابو کہ گھر پر رہوں ویسے بھی دو مہینے کی تو بات ہے پھر میں واپس آ جاؤں گا اور پھر ہم دونوں باپ بیٹی دوبارہ سے ایک ساتھ مزے کریں گے۔۔۔”

“پربابا کتنے سال ہو گئے میں نے تایا ابو تائی امی کو نہیں دیکھا پتہ نہیں وہ لوگ کیسے ہونگے اور میں اپ کے بغیر کیسے رہوں گی اور پھر ابھی کالج کی ایڈمیشن بھی تو ہونے والے ہیں اس کا کیا ؟؟ “

“میرا پیارا بچہ تمہارے تایا ابو تمہیں بہت پیار کریں گے جب بھی فون کرتے ہیں تمہارا ضرور پوچھتے ہیں اور ابھی تو میٹرک کا رزلٹ آنے میں بھی دو ماہ ہیں اس لئیے فکر مت کرو ۔۔۔” وہ چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کھڑے ہو گئے

“ٹھیک دو گھنٹے میں اپنا بیگ لے کر نیچے آ جانا فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے” وہ کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے میجر احسن کا تعلق پاک فوج سے تھا ان کی شریک حیات کا انتقال دس سال پہلے جب فاطمہ چھ برس کی تھی ہوگیا تھا فاطمہ کو انہوں نے بہت پیار سے پالا تھا نماز روزے کے ساتھ دین و دنیا کی تربیت بھی خود کی تھی اور آج انہیں مظفرآباد سے وزیرستان بھیجا جا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی لاڈلی کو کراچی اپنے بڑے بھائی کمشنر پولیس محسن نقوی کے پاس چھوڑنے جا رہے تھے ۔۔۔

تھوڑی دیر میں فاطمہ اپنا سوٹ کیس لیے ان کے پاس آ گئی تھی جینز کے اوپر لمبی گھٹنوں کو چھوتی کالی ڈھیلی قمیض پہنے سر پر اسکارف لپیٹے ان کی معصوم سی فاطمہ ان کے پاس کھڑی تھی۔۔۔ ” یہ بیٹیاں بھی کتنی جلدی بڑی ہوجاتی ہیں ” وہ اس کے پھولے پھولے رخسار اور صبیح چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے

اجمل نے ان دونوں کو ائیرپورٹ پر اتارا اور اب چار گھنٹے کے بعد وہ کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے تھے

” بابا آپ نے تایا ابو کو ہمارے آنے کا بتایا تھا ؟” فاطمہ چاروں جانب دیکھتے ہوئے بولی

“بیٹا انہیں سب خبر ہے میں نے انہیں ائیر پورٹ آنے سے منع کردیا تھا سیکیورٹی ریزن کی وجہ سے ۔۔۔۔”

“سیکیورٹی ریزن سب ٹھیک تو ہے بابا ؟؟ “

” سب ٹھیک ہے بس میں نہیں چاہتا میرے یا اس کے دشمنوں کی نگاہ تم پر پڑے!! ارے وہ دیکھو گاڑی میں نے بک کروائی تھی چلو اس طرف ۔۔”

وہ اسے ساتھ لیتے ہوئے سامنے کھڑی گاڑی کی جانب بڑھے باوردی ڈرائیور سے چابی لیں اور اسے جانے کا اشارہ کر کے خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر فاطمہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ ان کا مخصوص فون بجا ۔۔۔ وہ فاطمہ کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کوڈورڈز میں بات کرنے لگے فون بند کرکے اب گاڑی تیزی سے سڑک پر بھاگ رہی تھی شام کا اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا تھا انہوں نے گاڑی ایک پوش علاقے میں ایک بڑے سے کلب کی پارکنگ میں روکی

“فاطمہ تم دروازہ بند کرکے اندر ہی بیٹھنا مجھے یہاں پر ایک آدمی سے کام ہے بس ایک گھنٹے میں واپس آوں گا خبردار باہر مت نکلنا ۔۔” ” اوکے بابا پریشان کیوں ہو رہے ہیں پہلے کبھی باہر نکلی ہو ویسے بھی آپ ایک گھنٹہ کہہ کر ہمیشہ دو گھنٹے میں واپس آتے ہیں۔۔۔”

وہ پیار سے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے گاڑی لاک کروا کر اندر کی طرف روانہ ہوگئے فاطمہ چاروں طرف دیکھ رہی تھی رنگ و بو کا سیلاب امنڈ رہا تھا چاروں طرف لڑکے لڑکیاں گاڑیاں ہی گاڑیاں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی فیشن شو منعقد ہو رہا ہو ۔۔۔وہ افسوس سے ان بے پردہ لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے آنکھیں موند کر بیٹھ گئی ابھی شاید بمشکل آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ ایک زور دار دھماکا ہوا کسی نے اس کی کھڑی گاڑی کو ٹھوک دیا تھا ________________________ کالج کے بعد وہ پانچوں علی کے گھر جمع ہوگئے تھے شور شرابا جاری تھا ساتھ ہی ساتھ پینے کا شغل بھی چل رہا تھا اسامہ بیئر کے دو کین چڑھا چکا تھا

Read More:  Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 8

” اوئے ارحم اسامہ اب بس کرو !! چلو نکلتے ہیں کنسرٹ شروع ہونے والا ہے عاطف اسلم کے ساتھ ساتھ کچھ انڈین سنگرز اور ڈانسرز بھی ہیں لیٹس گو ۔۔۔” علی نے ان دونوں کو ٹوکا وہ سارے علی کی جیپ میں بیٹھ گئے تھے ” اسامہ آجا یار دیر ہورہی ہے ۔۔” علی نے پکارا اسامہ بڑے آرام سے اپنی اسپورٹس بائیک پر بیٹھ گیا

” اسامہ کے بچے تو نے پی ہوئی ہے بائیک چھوڑ دے ” علی چلایا اسامہ نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا اور بائیک کو ریس دینے لگا

” چل یار یہ نہیں مانے گا ہم چلتے ہیں ۔۔۔” ارحم نے علی کے کندھے پر ہاتھ رکھا

علی کی جیپ باہر نکلی ہی تھی کہ زن سے اسامہ بائیک دوڑاتا اسے پیچھے چھوڑتا آگے نکل گیا

وہ تیز رفتاری کے سارے ریکارڈ توڑتا جم خانہ پہنچ چکا تھا اور بائیک کو تیزی سے پارکنگ میں گھما رہا تھا کہ ایک گاڑی سے اس کی بائیک زور سے ٹکرا گئی وہ گاڑی اس کی مخصوص پارکنگ پر کھڑی تھی

وہ بائیک کو چھوڑ کر گاڑی کی جانب بڑھا اور شیشے پر ناک کیا اور کرتا ہی چلا گیا

فاطمہ دھماکہ سے ہل سی گئی ابھی اس نے خود کو سنبھالا ہی تھا کہ کوئی گاڑی کا شیشہ بجانے لگا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شیشہ توڑ کر ہی دم لیگا تنگ آکر فاطمہ نے شیشہ نیچے کیا

” اے لڑکی !! تمہاری اتنی مجال کہ میری جگہ پر گاڑی پارک کرو ؟؟ چلو گاڑی ہٹاؤ ۔۔”

فاطمہ نے بغور سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا ہاتھوں میں بینڈز لمبے بال وہ برگر فیملی کی بگڑی ہوئی اولاد لگ رہا تھا وہ اسے اگنور کرتے ہوئے شیشہ چڑھانے لگی اسامہ نے جب دیکھا کہ گاڑی میں بیٹھی لڑکی اس کی بات نہیں سن رہی تو اس نے تیزی سے ہاتھ شیشے میں ڈال کر دروازہ کھولا اور ایک جھٹکے سے اس لڑکی کو باہر نکالا

” یہ کیا بدتمیزی ہے !! ” فاطمہ اپنا بازو چھڑواتے ہوئے بولی ” چپ !! ” اس نے فاطمہ کے لبوں پر انگلی رکھی

فاطمہ نے غصہ کی شدت سے کپکپاتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اسامہ کے منھ پر مارا

” کمینی!! تیری اتنی مجال تو نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا !! ” اسامہ نے اسے گردن سے پکڑا

” چھوڑو مجھے !! ورنہ تمہارا حشر کردونگی ۔۔۔” فاطمہ نے اسے زور سے ٹانگ مار کر پیچھے کیا

اسامہ غصہ سے کف اڑاتا اس کی جانب بڑھا ہی تھا کہ اس کے دوستوں نے آکر اسے پکڑ لیا

” چھوڑ یار لڑکی ہے !!” علی نے سمجھایا

اتنے میں فاطمہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ لاک کرکے شیشے چڑھا چکی تھی

اسامہ کسی بھی طرح قابو میں نہیں آرہا تھا وہ چاروں اسے بامشکل گھسیٹتے ہوئے ادھر سے لے گئے

کافی دیر کے انتظار کے بعد میجر احسن ہاتھ میں فائل لئیے باہر آئے

” سوری بیٹا تھوڑی دیر ہوگئی !!”

” بابا ادھر اتنا رش کیوں ہے ۔۔” فاطمہ ان کے ہاتھ سے فائل لیتے ہوئے بولی

” میوزک کنسرٹ ہو رہا ہے ۔۔۔” وہ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولے

” وہ دیکھیں بابا بورڈ پر لکھا ہے انڈین سنگرز !!!”

“کتنے افسوس کی بات ہے میرے بابا اور نا جانے کتنے لاکھوں سپاہی ہماری حفاظت کیلیئے دن رات اپنے گھر بچوں کو چھوڑ کر مصروف ہیں اور ادھر یہ لوگ ان دشمنوں کے کانسرٹ اٹینڈ کررہے ہیں ۔۔۔” فاطمہ کا لہجہ تلخ تھا

” کوئی بات نہیں بیٹا آپ اتنا غصہ مت ہوں چلو ریڈی ہوجاؤ آپ کے تایا ابو کا گھر آگیا ہے ۔۔۔” ________________ وہ جاگنگ کر کے میس میں واپس آ چکا تھا اور شاور لے کر فریش ہوا ہی تھا کہ ایمرجنسی اناؤنس ہوگی سب کیپٹن کیڈٹس ونگ کمانڈر سب کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کا آرڈر مل چکا تھا جو فوجی چھٹیوں پر تھے ان کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کردی گئی ہیں حالات کی کشیدگی کا اندازہ تو پہلے سے ہی تھا پاک فوج پاک فضائیہ پاک نے بھی اپنی تمام سرحدوں پر سخت نگاہ رکھے ہوئے تھے انہیں اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ دشمن ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرنے والوں میں سے ہے اور آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس اپنا کام بھی بخوبی نبھا رہے تھے دشمن ایک بار پھر رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح قصور کی سرحد پار کرکے گھس آیا تھا مگر افسوس اسے ناکام ہی لوٹنا پڑا چند درخت گرا کر وہ سب خود کو میڈیا کے آگے سپر پاور شو کر رہا تھا۔۔۔ وہ وردی میں ملبوس لمبے لمبے قدم اٹھانا سب کو سر کے اشارے سے جواب دیتا ہوا میٹنگ میں آ کے بیٹھ چکا تھا۔۔ “آپ سب کو فوری طور پر ریڈ ہائی الرٹ کیا جاتا ہے دشمن کی نگاہ پھر سے ہمارے وطن عزیز پر ہے” ایئرکمانڈر سلائیڈ شو کے ذریعے سارا میشن اور ساری انفارمیشن سب کو سمجھا رہے تھے

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 28

میٹنگ برخاست ہو چکی تھی سب لوگ اپنے اپنے ونگ کو رپورٹ کر رہے تھے اسامہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ رن وے پر آچکا تھا

” کیپٹن اسامہ نقوی ” ائیر کمانڈر اس کے پاس آئے ” یس سر ” وہ الرٹ ہوا

“آپ اپنے گروپ کو لے کے بھمبر جموں کشمیر پر جا رہے ہیں یاد رکھیں ڈیفنس موڈ میں رہنا ہے ” وہ اسامہ کے وجیہ سنجیدہ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولے جانتے تھے اسے اپنے دشمنوں پر عقاب بن کر ٹوٹ پڑنے کی عادت ہے _________________________ آرمی میڈیکل کالج کے فائنل ائیر کے تمام سٹوڈنٹ اس آپریشن تھیٹر میں موجود تھے سینئر سرجن انہیں کمپلیکیٹڈ ہارٹ سرجری کے بارے میں بتا رہے تھے۔۔

” ثنا یار میری تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا اتنی باریک باریک رگیں بہت کمپلیکیٹڈ ہے !! تو سمجھ رہی ہے کیا ؟؟ “ملیحہ نے سرگوشی کی

“سشش چپ کرو سر دیکھ رہے ہیں ۔۔۔” ثنا نے ٹوکا پریکٹیکل لیب کے بعد وہ دونوں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکل آئیں ۔۔۔

ہائے گرلز !! ثنا ملیحہ چلو کینٹین چلتے یار ،سارا گروپ ادھر ہے ۔۔۔” وردہ نے پاس سے گزرتے ہوئے میسج پاس کیا وہ دونوں بھی تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی کینٹین میں پہنچی جہاں فائنل ایئر کا پورا ہی گروپ 20 سٹوڈنٹ پر مشتمل موجود تھا ” فرینڈز حالات صحیح نہیں ہے میجر ڈاکٹر شبیر اور میجر ڈاکٹر احمد کی نگرانی میں ہم لوگ آزادکشمیر کے پاس میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں آپ میں سے جو جو شامل ہونا چاہے اپنے نام لکھوا دے کل صبح فجر کے بعد ٹیم روانہ ہو جائیگی ۔” ثنا اور ملیحہ دونوں اپنا اپنا نام لکھوا کر ہاسٹل آچکی تھی اور اب باتوں کے ساتھ ساتھ پیکنگ جاری تھی تبھی مغرب کی آذان کی آواز گونجی اور ثنا وضو کرنے چلی گئی ۔۔ ملیحہ آرام سے کرسی پر بیٹھی ثنا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کچھ ہی دیر میں بھیگے چہرے کے ساتھ ثنا واش روم سے برآمد ہوئی ملیحہ بڑے غور سے ثنا کی گلابی بھیگے چہرے کو دیکھ رہی تھی پرکشش خوبصورت گلابی چہرہ لیکن ماتھے کے اوپر ایک کٹ کا بڑا سا نشان جو مانگ سے نکل کر ماتھے پر آرہا تھا جسے وہ عام طور پر حجاب لپیٹے رکھتی تھی جو ماتھے کو کوور کرلیتا تھا ملیحہ کرسی سے اٹھ کر ثنا کے پاس آئی

” ثنا تمہارے اتنے پیارے چہرے پر یہ نشان عجیب سا لگتا ہے جیسے !! جیسے چاند پر داغ ہو ۔۔۔”

“ملیحہ !! تم پھر شروع ہو گئی کئی دفعہ کہہ چکی ہوں کہ میں اس چوٹ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ” وہ اپنا دوپٹے سر پر لپیٹتے ہوئے بولی ملیحہ نے ہنستے ہوئے اس کے گال پر پیار کیا اور خود بھی وضو کرنے چلی گئی صبح چار بجے کا الارم بج رہا تھا وہ دونوں تیزی سے بستر چھوڑ کر کھڑی ہو گئیں فجر کی نماز پڑھتے ہی انہیں کالج پہنچنا تھا جہاں سے ڈاکٹرز کا گروپ سرحد کے پاس کیمپ لگانے کے لئے روانہ ہو رہا تھا۔۔۔ میجر ڈاکٹر شبیر تمام اسٹوڈنٹس کی حاضری لے رہے تھے اور میرے ڈاکٹر احمد انہیں بس میں بیٹھنے کی ہدایت دیتے جا رہے تھے تھوڑی ہی دیر میں 20 افراد کا قافلہ بس میں بیٹھ چکا تھا بس اسٹارٹ ہونے ہی والی تھی جب میجر ڈاکٹر شبیر نے تمام ٹیم کو مخاطب کیا ۔۔۔ ” ڈاکٹرز !! براہ مہربانی اپنے اپنے سیل فون بند کردیں اور اپنی فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر اپنا اسٹیٹس لوکیشن یا پاک فوج کی کسی بھی کاروائی یا اپنی ویڈیو اپلوڈ مت کیجئے گا ہماری عوام بہت جذباتی ہے جو پیغامات جو ہماری نقل و عمل اور حرکت ہے وہ دشمن تک میسجز فیس بک کی پوسٹ واٹس آپ ان چیزوں کے ذریعے پہنچ سکتی ہیں بہتر ہے کہ آپ سب ان چیزوں کا بہت خیال رکھیں آپ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹس بند کردیں فون بھی بوقت ضرورت ہی استعمال کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کوئی بھی آپ لوگوں کی اور فوجیوں کی ویڈیو نہ بنا سکے آپ لوگوں کی نقل و عمل کو نوٹس نہ کر سکے یہ میڈیا کا دور ہے اور دشمن یقیناََ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔۔۔انڈر اسٹینڈ ؟؟؟ “انہوں نے سب کو غور سے دیکھا

” یس سر !!” سب اپنے اپنے سیل فون بند کرکے بیگ میں کی اندرونی جیبوں میں ڈال رہے تھے۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: