Uqaab by Seema Shahid – Episode 2

0

عقاب از سیما شاہد قسط نمبر 2

میجر احسن نے گاڑی ایک بہت ہی پوش علاقے میں بڑے سےگھر کے پاس روکی دو گارڈز اٹھ کر باہر آئے ان کو دیکھتے ہی سیلوٹ کیا اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور بڑا سا محل نما گھر تھا چاروں طرف خوبصورت بڑے بڑے گلاب کے اور رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے فاطمہ حیرت سے دیکھ رہی تھی گاڑی آگے جا کر گئی اور سامنے ہی باوقار سے اس کے بابا کے بھائی اس کے تایا کمشنر محسن نقوی اور تائی امی ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ میجر احسن اور فاطمہ گاڑی سے اترے اب بڑے پرجوش انداز میں سب سے ملے۔۔۔

” ماشااللہ فاطمہ تو بہت بڑی ہو گئی ہے کتنے عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے ۔۔”محسن صاحب نے پیار سے فاطمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا

“محسن آپ بھی !! احسن اتنے لمبے سفر سے آیا ہے بجائے اندر لیجانے کے ادھر ہی باتیں بگھار رہے ہیں ۔۔۔چلیں بھئی سب اندر چلیں ۔۔۔” مسز نقوی نے سب کو ٹوکا اور اندر داخل ہوگئی ۔۔ سب نے مل کر ایک پرتکلف ڈنر کیا پھر مسز نقوی فاطمہ کو اس کا کمرہ دکھانے لے گی تاکہ وہ آرام کر لے۔۔۔ ” تھینکس تائی امی !! ” وہ ان کے ہاتھ تھام کر بولی ” مینشن ناٹ بیٹا !! یہ تمہارا اپنا گھر ہے اب تم آرام کرو صبح ملتے ہیں ۔۔” وہ پیار سے اس کے پھولے پھولے گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی

“بھائی صاحب اور بھابھی جی !! میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں بس اللہ کے بعد آپ ہی اس کے سرپرست ہونگے ۔۔۔” میجر احسن سنجیدگی سے کافی کا مگ میز پر رکھتے ہوئے بولے ” احسن ایسا مت کہو خدا تمہیں خیر خیریت سے واپس لائے اور فاطمہ کی تم بالکل فکر مت کرو وہ ہماری بیٹی ہے اس کا پورا خیال رکھا جائے گا کیوں نوشابہ ؟؟ ” محسن نقوی نے اپنی بیگم کو دیکھا ” جی بالکل !!! احسن فاطمہ تو بالکل معصوم سی لڑکی ہے اتنے عرصے بعد ملی ہے میں تو ویسے بھی اسے کہیں نہیں جانے دونگی آپ فاطمہ کی طرف سے بیفکر ہوکر جائیں اور خیر خیریت سے واپس آئیں۔۔۔” نوشابہ نے انہیں تسلی دی ___________________________ چاروں طرف موسیقی کا شور تھا جوان جسم دھڑک رہے تھے انڈیا سے آئی ڈانسر مختصر لباس میں اسٹیج پر جلوہ دکھانے لگے بیئر کے کین کھلے عام پیئے جارہے تھے لیکن ان سب سے بے نیاز اسامہ سرخ چہرہ لیے مٹھیاں بھیچے ایک کونے پر کھڑا تھا اس کے چاروں دوست اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔ ” یار اب غصہ تھوک دے دیکھ کتنی قاتل سنگر گانا گا رہی ہے ۔۔۔” علی نے اس کا ہاتھ تھاما

” اس کتیا کی اتنی ہمت اس نے مجھ پر !!! مجھ پر ہاتھ اٹھایا ۔۔۔ ” وہ پھنکارا اور سب کو ایک طرف کرتے ہوئے باہر پارکنگ میں آکر بائیک پر بیٹھ گیا ۔۔ وہ چاروں دوڑتے ہوئے اس کے پیچھے آئے

” اسامہ !! ” احمد نے تیزی سے بائیک کی چابی اپنے قبضے میں کی ” کہاں جارہے ہو ؟؟ ” علی نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا ” جہنم میں !! میری چابی واپس دو ۔۔” وہ غرایا

” ٹھیک ہے چلو دوستوں سب جہنم میں چلتے ہیں ۔۔۔۔” احمد بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گیا اسامہ خاصی دیر تک کلفٹن کی سڑکوں پر تیزرفتاری سے بائیک دوڑاتا رہا اور اس کے دوست پیچھے گاڑی میں اس کا ساتھ دیتے رہے پھر تھک ہار کر سب کے سب علی کے گھر جمع ہوگئے علی گھر والے ڈسٹرب نہ ہو اس لئے ان سب کو لے کر نیچے جم نما کمرے میں آگیا

اسامہ سامنے لٹکے باکسنگ پنچنگ بیگ سو من کے بورے پر مکے مارنا شروع ہوگیا وہ سارے غور سے چپ چاپ اسے دیکھ رہے تھے وہ اپنا سارا غصہ ہو اس بیگ پر نکال رہا تھا اس کی مکوں کی شدت سے وہ سو من کا بیگ کسی غبارے کی طرح ہل رہا تھا اسامہ کی ہاتھوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا لیکن وہ مسلسل باکسنگ کئیے جا رہا تھا خالد اپنی جگہ سے اٹھا اور اسامہ کا ہاتھ پکڑ کھڑا ہوگیا ” یار اب بس کر !! اس لڑکی کی وجہ سے خود کو نقصان مت پہنچا بس کردے ۔۔۔۔” خالد سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا

اسامہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کونے پر پڑی میز پر اچک کر بیٹھ گیا

” مجھے ہر قیمت پر وہ لڑکی چاہئے !! اس نے اسامہ پر ہاتھ اٹھایا زبان چلائی بدتمیزی کی !! مجھے اس لڑکی کو سبق سکھانا ہے ۔۔۔۔” وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا

” پر یار اتنے بڑے شہر میں اسے کیسے ڈھونڈینگے ” احمد نے سوال کیا

” میں صبح ہوتے ہی جم خانہ پارکنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلواتا ہوں اس گاڑی کو ٹریس کرکے اس لڑکی کو ڈھونڈ لونگا ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا ____________________________ کیپٹن اسامہ ہوا کی بلندیوں پر تیزی سے فلائنگ کررہا تھا اس کے تمام ساتھی اس کی ہدایات پر مختلف سمتوں میں فلائی کررہے تھے ان کا ٹارگٹ دشمن کی کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور گراؤنڈ بیس آرمی کے جوانوں کو بیک اپ دینا تھا لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری جاری تھی ۔۔

اسامہ کے ریڈار پر تین دشمن طیاروں کی لوکیشن ٹریس ہو رہی تھی کنٹرول ٹاور کو اطلاع دے کر اس نے اپنے جنگی طیارے کو سیدھا اوپر کی سمت اٹھایا اس کی آنکھیں جگمگا رہی تھی اور پھر اس نے ائیر میزائل سے ان دشمن طیاروں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا وہ بھی جوابی کارروائی کررہے تھے اسامہ ایک طیارے کو بڑے آرام سے ٹارگٹ کرکے گرا چکا تھا باقی دو میں سے ایک کے فیول پر ہٹ ہوچکا تھا وہ بھی ہٹ ہو چکا تھا اور تیسرا دشمن طیارہ بزدلوں کی طرح مقابلہ چھوڑ کر واپس سرحد پار جا چکا تھا ۔۔ کنٹرول روم سے باقاعدہ شور کی آوازیں آرہی تھی سب خوش تھے ۔۔۔ ” کیپٹن اسامہ ۔۔۔۔رپورٹ ٹو بیس ۔۔۔۔”

” یس سر !! ” اس نے رخ موڑا اور واپس پلٹ گیا ________________________ کافی لمبے سفر کے بعد بس بھمبر شہر پہنچ چکی تھی اس شہر کی خوبصورتی الگ ہی تھی ٹریفک بے پناہ تھا ۔۔۔ ” اٹینشن ڈاکٹرز ہم اپنے کیمپ پر پہنچنے والے ہیں آپ سب ایکٹیو ہو جائیں ۔۔۔” میجر ڈاکٹر شبیر نے سب کو مخاطب کیا ” سر ! یہ بھمبر شہر ہے ؟؟ ” کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے ڈاکٹر وردہ نے اشتیاق سے سوال کیا ” جی یہ آزاد کشمیر کا ایک خوبصورت شہر ہے برنالہ یہاں کا بُہت بڑا کاروباری مرکز اور ترقی یافتہ تحصیل کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہے جہاں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈگری کالجز اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بہتر تعلیم و تربیت کے لیے ہمیشہ معاون ثابت ہوئے ہیں ۔اس شہر میں بہت ہی مشہور بزرگ باباے شادہ شہید کا مزار بھی یےجہآں پے لوگ اپنی مراد پوری ہونے پر بکرا نیاز کے طور پر ہیش کرتے یے۔” میجر ڈاکٹر شبیر نے ٹیم کی معلومات میں اضافہ کیا

ثنا ملیحہ اور باقی بھی سارے بڑے اشتیاق سے باہر جھانک رہے تھے ۔۔۔

” سر ہم تو شاید شہر سے باہر جارہے ہیں ۔۔۔۔” بس کو موڑ کاٹتا دیکھ کر نوید نے میجر ڈاکٹر شبیر کو مخاطب کیا ” جی ہم شہر کے پاس ایک ندی کے قریب کیمپ لگائیں گے عوام سے دور ۔۔۔۔بھمبر ندی کے پاس یہ ایک کشمیر کے پہاڑوں سے نکلنے والی ندی ہے جو زیادہ تر خشک رہتی ہے ۔۔۔” انہوں نے تفصیل سے بتایا بس اپنے مخصوص مقام پر پہنچ چکی تھی اب ان بیس افراد پر مشتمل سینئر ڈاکٹرز اور فائنل ائیر کے اسٹوڈنٹس کی ٹیم اپنے اپنے بیگ کندھوں پر ڈالے چہروں پر عظم لئیے نیچے اترنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔ __________________________ صبح کا سورج نکلتے ہی اسامہ بنا کچھ کہے علی کے گھر سے روانہ ہوچکا تھا اس کے چاروں دوست نیند میں ڈوبے پڑے تھے اس نے خاموشی سے اپنی بائیک نکالی اور اب اس کا رخ جمخانہ کے آفس کی طرف تھا آفس پہنچ کر اپنے تمام اختیارات کے استعمال کرنے کے بعد ٗسیکیورٹی روم میں بیٹھا کیمرے کی فوٹیج دیکھ رہا تھا۔۔ ایک گاڑی آ کر رکی اس میں سے انتہائی باوقار شخص اتر کر اندر گیا تقریبا آدھے گھنٹے بعد اسامہ کی اسپورٹ بائیک آ کر رکی !! پھر وہ لڑکی ، اس کا اترنا اور زور سے اسامہ کی منھ پر تھپڑ مارنا ، لات مارنا ، یہ وڈیو دیکھتے ہوئے اسامہ کی مٹھیاں بھینچ گئی تھی رگیں تن سی گئی تھی اس نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے اس گاڑی کا ماڈل نمبر نوٹ کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔

علی کو گاڑی کا نمبر وغیرہ ٹیکسٹ کر کے وہ گھر کی جانب روانہ ہوا۔۔۔ اسامہ بچپن سے ہی حد سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا تھا اس کی پرسنالیٹی اس کا انداز جہاں بھی جاتا مقبول ہو جاتا تھا آج تک اس کے ماں باپ نے اسے انگلی لگانا تو دور کی بات ڈانٹا تک نہیں تھا اور پارکنگ میں اتنے لوگوں کے درمیان اس کے دوستوں کے سامنے اس چھٹانک بھر کی لڑکی نے اس کے منہ پر تھپڑ مار کر اسے ذلیل کیا تھا اب وہ کالج یا کوئی بھی دوسرا کام نہیں کرسکتا تھا جب تک کہ اپنی بے عز تی کا بدلہ نہیں لے لیتا۔۔۔ وہ سلگتے ہوئے ذہن کے ساتھ گھر میں داخل ہوا ایک ٹھوکر مار کر لیونگ روم کا سلائیڈنگ دور کھولا ۔۔۔ ” اسامہ ! ” نوشابہ نے آواز دی

” پلیز ممی نو لیکچر !! ” وہ ہاتھ کھڑا کرتا بنا رکے اوپر کی سیڑھیاں چڑھ گیا _________________________ فجر کی نماز پڑھ کر اپنی عزیز بیٹی فاطمہ کو ڈھیر سارا پیار کر کے ڈھیر ساری تسلیاں دے کر میجر حسن اپنے آگے کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے ۔۔ اپنے بابا کے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک اس خوبصورت رنگ برنگے پھولوں سے سجے لان میں ٹہلتی رہی جہاں ایک کونے پر چھوٹا سا زو بنا ہوا تھا طرح طرح کے رنگ برنگے پرندے اور جانور موجود تھے وہ حیرت سے انہیں دیکھتی آگے بڑھی تو ایک بڑا سا سوئمنگ پول اور اس کے سامنے ایکسرسائز کے ڈمبل ویٹ رکھے نظر آئے کافی دیر تک وہ اس بڑے سے گھر کی خوبصورتی کو محسوس کرتی رہی پھر اندر آ گئی پورا گھر سائیں سائیں کر رہا تھا گھر کے مالکان سے لے کے ملازمین تک سو رہے تھے۔۔۔

وہ خاموشی سے لیونگ روم میں اخبار اٹھا کر ایک کونے میں بچھے صوفہ پر بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔۔ نو بجے کے قریب نک سک سے تیار نفیس سی ساڑھی باندھنے نوشابہ بیڈروم سے نیچے اتر کر آئی گھر میں ملازمین کی چہل پہل کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔ کمشنر محسن نقوی میٹنگ کیلیئے تیار ہو رہے تھے جب نوشابہ نے لیونگ روم میں فاطمہ کو دیکھا وہ سر پر نماز کے انداز میں دوپٹہ لپیٹے ہوئے تھی ایک لمحے کے لیے ان کے چہرے پر ناگواری آئی پھر وہ سر جھٹکتی ہوئی فاطمہ کی جانب بڑھی

” اسلام علیکم تائی امی !” فاطمہ نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا

” وعلیکم السلام ! بیٹا کب سے ادھر بیٹھی ہوئی ہوں ؟؟ ” “وہ تائی امی فجر پڑھ کر بابا کے جانے کے بعد نیند ہی نہیں آئی اور میں کمرہ بھی بھول گئی تھی تو بس ایسے ہی ادھر ۔۔ ” وہ شرمندگی سے بولی

” اچھا چلو کوئی بات نہیں یہ گھر تمہارا بھی ہے لیکن ایک بات کہوں فاطمہ اگر تم برا نہ مانو !! “

” تائی امی آپ ایک نہیں سو باتیں کہیں !! ” وہ پیار سے ان کے ہاتھ تھام کر بولی ” فاطمہ سب سے پہلے تم مجھے تائی امی کہنا بند کرو ، تمہاری ماں کی جگہ ہوں میں آج سے تم مجھے ممی کہو گی ۔۔۔” انہوں نے پیار سے کہا

” ٹھیک ہے ممی !! اور کوئی حکم ” وہ شرارت سے بولی ” چلو ابھی ناشتہ کرتے ہیں پھر بیٹھ کر بہت ساری باتیں کرینگے اور شام میں شاپنگ سینٹر چلیں گے ۔۔۔” وہ اسے ساتھ لیتی ہوئی ڈائننگ روم میں داخل ہوئی کچھ دیر میں ہی فل یونیفارم میں ملبوس کمشنر محسن نقوی بھی آگے فاطمہ نے اٹھ کر انہیں سلام کیا ” وعلیکم السلام بیٹی !! ” انہوں نے خوشدلی سے اسے جواب دیا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئے

” بیگم آپکا لاڈلا نظر نہیں آ رہا ؟ کوئی خیر خبر بھی صاحب زادے کی آپکو؟؟ ” وہ چائے کا سپ لیتے ہوئے بولے ” رات کانسرٹ اٹینڈ کیا ہے اور پھر علی کے گھر رکنے کا پروگرام تھا بس اب آتا ہی ہوگا ۔۔۔” نوشابہ آرام سے بولیں ناشتے سے فارغ ہو کر محسن نقوی صاحب چلے گئے اور نوشابہ فاطمہ کو لے کر لیونگ روم میں آکر بیٹھ گئی وہ دونوں بعد میں کر رہی تھی ملازمین کو کھانے پکانے کی ہدایت دے دی گئی تھی تبھی کسی نے زور دار ٹھوکر سے دروازہ کھولا فاطمہ نے چونک کر دیکھا تو وہی رات والا لڑکا تھا جو ادھر ادھر دیکھے بغیر سیدھا سیڑھیوں سے اوپر جا رہا تھا شاید اس سے بات کر رہی تھی وہ فق چہرے کے ساتھ اسے اوپر جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ “یہ یہ کون ہیں ؟؟ ” فاطمہ نے نوشابہ سے پوچھا

“ارے تم نے نہیں پہچانا ؟؟ مگر تم کیسے پہچانو گئی تم تو آج تک کبھی ملی ہی نہیں ، یہ میرا بیٹا تمہارا کزن اسامہ نقوی ہے ۔۔۔”

” اسامہ بھائی ۔۔” وہ سرسراتے ہوئے بولی

” میرا بیٹا بڑا ہی ہنس مکھ ہے ابھی تھوڑا تھک گیا ہے ورنہ تم سے ملواتی تمہیں بھی اس سے مل کے بڑا اچھا لگتا خیر کوئی بات نہیں جب سوکر اٹھے گا تب شام کی چائے یا رات کے کھانے پر تعارف کروادینگے ۔۔۔۔” وہ آرام سے کہہ رہی تھی اور فاطمہ کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ۔۔۔

” میڈم باہر ڈرائیور آپکا ویٹ کررہا ہے ۔۔۔” ایک ملازمہ نے آ کر اطلاع دی “اسے کہوں میں آرہی ہوں ” نوشابہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ “فاطمہ مجھے ایک ایگزیبیشن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے جانا ہے تین چار گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی پھر ہم مال چلیں گے تب تک تم آرام کرو اور کچھ بھی کھانے پینے کو دل کرے تو شیف کو کہہ دینا تکلف ہرگز نہیں کرنا ۔۔۔” وہ اسے پیار سے کہتی ٹک ٹک کرتی باہر چلی گئی

یہ گھر اس گھر کے مکین سب فاطمہ کیلئے نئے تھے اور اب اس پارکنگ والے بدتمیز لڑکے کو دیکھ کر تو وہ اور بھی بوکھلا گئی تھی ۔۔

” جو بھی ہے مجھے اس بدمعاش لڑکے سے بچ کر رہنا ہوگا بہتر ہے میں اس کا سامنا ہی نہیں کروں ۔۔۔۔” وہ فیصلہ کرکے اٹھی اور اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔________________________ اسامہ نے اپنے کمرے میں آکر جاگرز اتار کر پھینکے اور بستر پر گر گیا دو ہفتے بعد مڈ ٹرم ایگزام شروع ہونے والے تھے وہ اسٹڈیز پر فوکس کرنا چاہ رہا تھا کہ یہ حادثہ ہوگیا وہ سر پکڑتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔۔۔

اس بدتمیز لڑکی کی شکل بار بار اس کی آنکھوں میں لہرا رہی تھی اس نے اپنے کالج بیگ سے بئیر کا کین نکالا اور غٹاغٹ چڑھا گیا آج نشہ بھی نہیں ہو رہا تھا اسٹریس لیول بڑھتا جا رہا تھا اسے جاگتے ہوئے چوبیس گھنٹے سے اوپر ہوگئے تھے تھک ہار کر وہ اٹھ کر ممی کے کمرے کی جانب بڑھا تاکہ ان کے میڈیکل باکس سے ٹرنکولائیزر لے سکے ۔۔۔۔

ممی کی ڈریسنگ ٹیبل سے اس نے نیند کی گولیاں نکالی اور چار گولیاں بنا سوچے سمجھے حلق سے اتار کر واپس اپنے کمرے کی جانب چلا ۔۔۔

اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا قدم ڈگمگا رہے تھے وہ دروازہ کھول کر اپنے کمرے میں داخل ہوا تو چونک گیا ۔۔ فاطمہ اوپر کی منزل پر پہنچ کر کنفیوز تھی سارے کمرے ایک ہی جیسے لگ رہے تھے وہ اندازہ لگاتی ہوئی ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ابھی وہ کمرے کے وسط میں ہی پہنچی تھی کہ اس کی نظر زمین پر پڑی مردانہ شرٹ اور جاگرز پر پڑی

“او نو یہ تو غلط کمرہ ہے ۔۔۔” وہ پلٹی

دروازے میں اسامہ کھڑا اسے آنکھیں مل مل کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ اس کے دروازے سے ہٹنے کا انتظار کررہی تھی کہ وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا قدم اٹھاتا اس کے نزدیک آ رہا تھا ۔۔۔ ________________________ حالات بدترین ہوتے جا رہے تھے دشمن مسلسل گولہ باری اور شیلنگ کررہا تھا راتوں کو بلیک آؤٹ کیا جارہا تھا تاکہ اگر دشمن کے جہاز گھس آئیں تو انہیں رہائشی علاقوں کا پتہ نا چل پائے کئی مکانات تباہ ہو چکے تھے بچے زخمی ہوئے تھے پاک فوج کے جوان مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے تو پاک فضائیہ دشمن کے ہر فضائی کارروائی کو ناکام بنا رہی تھی بھمبر میں ایک ہی اسپتال تھا جو زخمی عوام کو ڈیل کررہا تھا اور ندی کنارے پہاڑی سلسلے کی آڑ میں قائم آرمی میڈیکل کالج والوں کا کیمپ اپنے فوجی جوانوں کی مرہم پٹی علاج خون کی فراہمی سارے کام خندہ پیشانی سے سر انجام دے رہا تھا ۔۔ “ثنا !!! فری ہو ۔۔ ” ملیحہ نے اندر آ کر پوچھا..

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: