Uqaab by Seema Shahid – Episode 3

0

عقاب از سیما شاہد قسط نمبر 3

بس دس منٹ میں بریک لے رہی ہوں کیوں ؟؟ کیا ہوا ..” ثنا انجکشن کی ٹرے سیٹ کرتے ہوئے بولی
” ثنا میرا دل گھبرا رہا ہے آج اتنا خون دیکھا ہے اپنے فوجی بھائیوں کا کہ بس نہیں چل رہا کوئی مجھے بھی گن دیکر بارڈر پر چھوڑ آئے ۔۔۔” ملیحہ افسردگی سے بولی

” ملیحہ گھبرانے سے کیا ہوگا ؟؟ ہم اپنا کام کررہے ہیں نا …” ثنا نے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہی
“م
“اچھا میں ندی تک جا رہی ہوں تم کام ختم کر کے ادھر ہی آجانا ۔۔۔” وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے شال کاندھوں پر لپیٹتے ہوئے باہر نکل گئی
وہ لندن سے بار ایٹ لا کی ڈگری لیکر پاکستان اپنی سرزمین پر چند روز پہلے ہی واپس آیا تھا ایک بارسوخ گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اس کے انداز میں سادگی تھی اور جب سے حالات خراب ہوئے تھے وہ بھی مسلسل کام کررہا تھا فوجی بیرکوں تک ادویات اور دیگر اشیاء پہنچا رہا تھا ابھی بھی وہ آرمی میڈیکل کیمپ انچارج سے ملکر نکلا تھا کہ اسے ایک لڑکی ندی کے کنارے پتھروں پر بیٹھی نظر آئی ۔۔۔۔
وہ گاڑی روک کر نیچے اترا ۔۔
بلیک جینز پر سفید قمیض سر پر اسکارف اور کاندھوں پر شال ڈالے وہ سرخ و سفید سی لڑکی کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔۔

” ایکسکیوزمی مس !! ”
” جی آپ کون ۔۔۔” ملیحہ اپنے سامنے کھڑے اجنبی کو دیکھ کر گھبرا گئی

” آپ اس وقت ادھر کیا کررہی ہیں ؟؟ ” اس نے سوال کیا
ملیحہ نے سامنے کھڑے آدمی کو گھورا عمر تقریباً اٹھائیس سال لمبا قد ہلکی سی داڑھی بلاشبہ وہ ایک پرکشش مرد تھا

” میں جو بھی کروں آپ کو اس سے کیا ؟ جائیے اپنا راستہ ناپئیے۔۔۔” وہ اپنے ازلی اکھڑ انداز میں بولی
” محترمہ یہ وار زون ہے آپ کے ابا کا گھر نہیں اس لئیے اگر اللہ نے عقل دی ہے تو اس کا استمعال کریں اٹھئیے یہاں سے ، میں آپ کو آپکے گھر تک چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔”وہ اس سرپھری سے بولا
” میں خود چلی جاؤ گی آپ زحمت نہ فرمائیں ۔۔۔” وہ تپ کر کھڑی ہو گئی

اس نے دلچسپی سے اسکا تپا ہوا چہرہ دیکھا

” مجھے حمزہ علی کہتے ہیں !! آپ کی تعریف ؟؟” وہ پوچھ رہا تھا
______________________
اسٹیبلشمنٹ اور ایجینسیز کا اہم اجلاس ہو چکا تھا وزیراعظم پاکستان نے صاف واضح الفاظ میں اپنا موقف بیان کردیا تھا ۔۔۔

” اب آپ سب ہر طرح کے امر کے واقع ہونے کیلیئے تیار رہیں اب ہماری باری ہے اب انڈیا کو ہمارے طرف سے جواب ملنا چاہیے پاکستان خطے میں جنگ نہیں چاہتا ہم آخری حد تک امن کی کوششیں جاری رکھینگے لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم جواب کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دینگے ۔۔۔۔”

ائیر یس پر بریفینگ جاری تھی اسامہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس میٹنگ کا حصہ تھا انہیں اسٹرائیک بیک کا آرڈر مل گیا تھا ۔۔۔

” لسن کئیر فل !!! آپ مقبوضہ کشمیر میں دشمن کے چھ ٹارگٹ انگیج کرینگے بھمبر گلی ، کے جی ٹو اور ناریان کے علاقے میں اپنے ٹارگٹ کو لاک کریں اور اس سے تھوڑے فاصلے پر اسٹرائیک کریں خیال رہے کوئی انسانی نقصان یا کولیٹڑل ڈیمج نہیں ہو ہمارا مقصد اپنی حدود میں رہتے ہوئے ان کے اہم ٹارگٹ لاک کرکے اسٹرائیک کرنا ہے انہیں یہ بتا دینا ہے کے ہم اگر چاہیں تو کیا نہیں کرسکتے ۔۔۔۔انڈراسٹینڈ ۔۔۔۔”

سب کے چہرے پرجوش تھے اسامہ اور اس کے ساتھی پائیلٹ اس اہم مشن کیلیئے تیار تھے اور ائیر بیس سے سگنل ملتے ہی مشن پر روانہ ہوگئے ۔۔۔
___________________________
فاطمہ اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر سہم گئی تھی وہ فاطمہ کے بالکل سامنے آکر رک گیا ۔۔۔۔

” تم اسقدر میرے حواسوں پر سوار ہو کے اب تخیل میں بھی نظر آرہی ہو ۔۔۔” اسامہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کی گردن کو دبوچ لیا

“کاش تم اصل میں میرے سامنے ہوتی تو تمہیں بتاتا اسامہ نقوی سے الجھنا تمہیں کتنا مہنگا پڑنے والا ہے ۔۔۔” وہ فاطمہ کی گردن پر دباؤ بڑھائے چلے جا رہا تھا

فاطمہ دم سادھے کھڑی تھی اسے اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اسامہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے لیکن اس کا دم گھٹنے لگا تھا اسامہ کی گرفت بہت مضبوط تھی تنگ آکر فاطمہ نے اسے زور سے دھکا دیا ۔۔
اسامہ نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ بھاگ جاتی اسامہ نے تیزی سے اسے قابو کیا اس کا دوپٹہ اس افراتفری میں گر گیا تھا لمبے بال بکھر گئے تھے اسامہ نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا اور زور سے زمین پر دھکا دے کر گرا دیا ۔۔۔
” تم کیا سمجھی تھی مجھے دھکا دے کر ذلیل کر کے بچ جاؤ گی ۔۔۔۔” اس نے فاطمہ کو جبڑوں سے پکڑا ہوا تھا
” میں تمہارا وہ حشر کرونگا کہ تمہیں زندگی بھر یاد رہیگا کہ اسامہ کس بلا کا نام ہے ۔۔۔”

وہ دوزانوں بیٹھ کر اس پر جھکا ۔۔۔
اس کے منھ سے اٹھتے شراب کے بھبکے فاطمہ کے چہرے سے ٹکرائے وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح اس کی گرفت میں تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی کہ اسامہ کے حواس جواب دے گئے وہ بیہوش ہو کر اس کے اوپر گر گیا
فاطمہ نے بڑی مشکل سے اسامہ کا بھاری وجود اپنے اوپر سے ہٹایا اور تیزی سے اپنا دوپٹہ اٹھاتے ہوئے کمرے سے نکل کر بھاگ گئی اب وہ جلدی جلدی اوپری منزل پر کمرے چیک کررہی تھی اپنا کمرہ ملتے ہی اس نے خود کو اندر مقفل کر لیا اور دروازے پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اس کی گردن پر سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا جلن سی ہو رہی تھی اسے اپنے وجود پر اسامہ کا لمس محسوس ہو رہا تھا خود سے کراہیت سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
کافی دیر تک شدت و گریہ کے بعد وہ ہمت مجتمع کرتے ہوئے اٹھی اور بیڈ کی طرف رکھے فون کی جانب بڑھی اراداہ اپنے بابا کے ایمرجنسی نمبر پر کال کرنے کا تھا ابھی اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ نقاہت سے بیہوش ہو کر بیڈ پر گر گئی تھی
______________________________
نوشابہ سہہ پہر کے وقت واپس آئیں تو ملازمین نے ان کے استفسار پر بتایا کہ فاطمہ بی بی تو کمرے سے نکلی ہی نہیں نا ہی کچھ کھایا پیا ہے ۔۔۔
نوشابہ سر ہلاتی ہوئی اوپر کی منزل کی طرف بڑھیں پہلے اسامہ کو چیک کیا وہ قالین پر سو رہا تھا ۔۔۔
” ایک تو یہ لڑکا بھی ۔۔۔۔” انہوں نے اسے سیدھا کیا تو اسامہ میں سے انہیں شراب کے بھبکے سے اٹھتے محسوس ہوئے

انہوں نے اس کے منھ کو سونگھا اور شاک سے پیچھے ہٹ گئی وہ آنکھوں میں نمی لئیے تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی جب ان کی نظر اسامہ کے گریبان میں الجھی باریک سونے کی چین پر پڑی ۔۔۔

” یہ یہ چین تو فاطمہ کی ہے ۔۔۔!” وہ الجھیں

تبھی ان کی نظر اسامہ کی بند مٹھی پر پڑی
اسامہ کی مٹھی میں فاطمہ کی قمیض کا ٹکڑا پھنسا ہوا تھا لرزتے ہاتھوں سے انہوں نے وہ کپڑا اپنے ہاتھ میں لیا وہ اس کپڑے کو پہچان چکی تھیں ۔۔۔

” یہ یہ تو فاطمہ ۔۔۔او میرے خدا !! اسامہ یہ کیا کردیا تم نے ۔۔۔” وہ تیزی سے اٹھ کر فاطمہ کے کمرے کی جانب بڑھیں

“فاطمہ بیٹی !! ” انہوں نے دستک دی

“فاطمہ دروازہ کھولو !!”

کوئی جواب نا پاکر وہ تیزی سے اسٹوریج روم کی جانب گئی کمرے کی چابی لیکر واپس آئی ان کا دل کسی انہونی کو سوچ کر تیز تیز دھڑک رہا تھا وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی سامنے ہی بیڈ پر فاطمہ ہوش و حواس سے بیگانہ بیہوش پڑی تھی وہ اس کے قریب آئیں ۔۔

” فاطمہ ۔۔۔” اسے ہاتھ لگایا تو وہ بخار میں پھنک رہی تھی اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشانات واضح تھے گردن سے خون رس رہا تھا قمیض کا گریبان ہلکا سا پھٹا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

” فاطمہ !! بیٹی ہمت کرو اٹھو بچے ۔۔۔” وہ اس کے ہاتھ پیر سہلا رہی تھی ۔۔۔

سامنے ہی فاطمہ کا سوٹ کیس رکھا ہوا تھا جسے شاید ابھی تک ان پیک نہیں کیا گیا تھا انہوں نے اس میں سے فاطمہ کے لئیے ایک لباس نکالا اور بڑی ہمت سے لرزتے ہاتھوں سے اسکا لباس تبدیل کروا کر سب سے پہلے ڈاکٹر کو فون کیا پھر محسن نقوی صاحب کو فون ملا کر فوری طور پر گھر آنے کی ہدایت کی ۔۔۔
____________________________
وقت کے ساتھ کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی تھی سیالکوٹ بھی سیف نہیں رہا تھا وہ سب پورا دن لوکل اسپتال اور کیمپ میں گزار رہے تھے ۔۔۔

” ثنا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گئی ؟؟ ” ملیحہ نے پیشنٹ کی بینڈج کرتے ہوئے ساتھ کھڑی ثنا کو مخاطب کیا

” ہا ملیحہ بولو کیا کام ہے ۔۔” وہ مصروف لہجے میں بولی

” تم پیدائشی اتنی سڑیل مزاج ہو یا یہ آرمی میڈیکل کالج کا قصور ہے ۔۔۔۔” ملیحہ اس کی بے توجہی پر ٹھیک ٹھاک تپی

” ملیحہ اب ہم بزی ہیں شام میں بات کرتے ہیں ۔۔۔” وہ آرام سے اپنے پیشنٹ کو اسٹیچز لگاتے ہوئے بولی
شام ہونے میں تھوڑی دیر تھی اور وہ دونوں فارغ ہو چکی تھیں ارادہ کسی نزدیکی شاپ تک جانے کا تھا سر سے اجازت لیکر وہ دونوں باہر نکل آئیں ندی کے پاس ہی تھوڑے سے فاصلے پر مجاہد فورس سینٹر تھا وہ باتیں کرتی ہوئی پاس سے گزری تو سامنے ہی ایک بڑا سا پارک تھا وہ دونوں اس پارک کو دلچسپی سے دیکھتی ہوئی اندر داخل ہوگئی یہ پارک اپنی ہی نوعیت کا تھا چاروں جانب ٹائر ہی ٹائر تھے اسے بڑی مہارت سے ٹائرز سے ڈیزائن کیا گیا تھا ۔۔۔
وہ دونوں ادھر ہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگی

” آپ اس وقت ادھر کیا کررہی ہیں ۔۔۔” ایک مردانہ آواز گونجی
دونوں نے چونک کر سر اٹھایا تو ملیحہ دیکھتے ہی پہچان گئی یہ وہی اجنبی تھا جو اس دن ندی پر ملا تھا ۔۔
” آپ سے مطلب ؟؟ ” ملیحہ نے چڑ کر کہا

” محترمہ مجھے آپ کی دماغی حالت درست نہیں لگتی حالات ٹھیک نہیں ہیں اور آج بلیک آؤٹ کا آرڈر ہے اور آپ ادھر پارک میں تفریح کررہیں ہیں ۔۔۔” حمزہ سنجیدگی سے بولا
” ملیحہ تم انہیں جانتی ہو ؟؟” ثنا اس کی بےتکلفی دیکھ کر ملیحہ کے کان میں بولی

” یہ وہی اجنبی ہے جو اس دن ندی پر مجھے بھاشن دے رہا تھا شاید خود کو خدائی فوجدار سمجھتے ہیں یہ صاحب ۔۔۔” ملیحہ نے ثنا کے ٹہوکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اونچی میں جواب دیا
” آپ شاید ڈاکٹر ہیں میں نے اپکو کیمپ میں دیکھا تھا ۔۔۔” وہ ثنا سے مخاطب ہوا

” جی ہم ادھر کیمپ سے ہی ہیں ۔۔۔” ثنا دھیرے لہجے میں بولی

” چلیں سسٹر میں آپ کو اور آپکی دوست کو کیمپ تک چھوڑ دو اندھیرا پھیل رہا ہے اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔”
ثنا سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ملیحہ بھی منھ بناتے ہوئے ساتھ چلنے لگی
” آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا ۔۔۔” اس نے پوچھا

” جی میں ڈاکٹر ثنا اور یہ ڈاکٹر ملیحہ ہیں ۔۔۔”

” بہت خوشی ہوئی آپ سے ملکر ، میرا نام حمزہ علی ہے میں بیرسٹر ہوں ۔۔۔”

” اوہ تو آپ وکیل ہیں !! اسی لئیے آپ کی زبان اتنی کتر کتر چلتی ہے ۔۔۔” اب کے ملیحہ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا

” جناب ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے بس اسی طرح ملتی رہئیے میری ساری خصوصیات آپ کو ازبر ہو جائینگی ۔۔۔” وہ پارک کے باہر کھڑی جیپ کا دروازہ ان دونوں کے لئیے کھولتا ہوا ملیحہ کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی میں بولا

وہ دونوں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی ملیحہ فون پر بزی تھی حمزہ اسے مرر سے دیکھ رہا تھا

” ملیحہ کیا کررہی ہو ؟؟ ” ثنا نے اسے کہنی ماری

” میں فیس بک چیک کررہی ہوں دیکھو کتنے لوگوں نے لکھا ہے آج کے بلیک آؤٹ کی ساری ڈیٹیل ہے اور یہ دیکھوں پکس بھی ہیں فوجیوں کی ۔۔۔” وہ پرجوش لہجے میں بولی

” دخل اندازی کی معذرت چاہتا ہوں لیکن اس طرح کی پوسٹ آپ مت کریں نا ہی پکس ڈالیں اپنی دوستوں کو بھی منع کریں اس طرح آپ انجانے میں دشمن کی مدد کررہی ہیں انہیں بتا رہی ہیں کہ بلیک آؤٹ کب اور کدھر ہے ہمارے جوان کدھر سے گزر رہے ہیں ۔۔۔” حمزہ مرر سے انہیں بغور دیکھتے ہوئے بولا
_________________
حمزہ علی کی جیپ پتھریلی سڑک سے گزر رہی تھی شام کی سیاہی اپنے پر پھیلا رہی تھی جگہ جگہ لائٹس آف ہونی شروع ہو گئی تھی سورج غروب ہو چکا تھا آجکل حالات کی وجہ سے فوج علاقے میں سر شام ہی سب بتیاں بند کرکے مکمل بلیک آؤٹ کروا رہی تھی ۔۔۔

” چلئیے خواتین آپ کا کیمپ آگیا ہے ۔۔۔” حمزہ علی ہے جیپ روکی

“آپ کا بہت شکریہ بھائی آپ نے ہمیں واقعی اندھیرے میں بھٹکنے سے بچا لیا ۔۔۔” ثنا نے اترتے ہوئے شکریہ ادا کیا

” میں یہ تو نہیں کہونگا کہ یہ تو میرا فرض تھا لیکن آپ لوگ محتاط رہیں کوشش کریں شام کو باہر نہیں نکلیں ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا

” ہمیں ٹوک رہے ہیں اور خود شام میں باہر کیوں تھے ؟؟ بڑے آئے ہمیں روکنے والے ۔۔۔” ملیحہ بڑبڑائی

” محترمہ آپ نے مجھ سے کچھ کہا ؟؟ ” حمزہ علی کی سماعت سے ملیحہ کی بڑبڑاہٹ محروم نہیں رہی تھی

” نہیں میں بھلا اجنبیوں سے کیوں کچھ کہونگی ۔۔۔” وہ صاف انکار کر گئی

” میں مجاہد سینٹر اپنے کالج کے زمانے کے دوست سے ملنے گیا تھا وہ آجکل ادھر پوسٹڈ ہے۔۔۔”وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی صفائی اس پٹاخہ حسینہ کو دینے لگا

اس سے پہلے وہ دونوں مزید الھجتے آسمان پاک فضائیہ کے طیاروں کی آواز سے گونج اٹھا
ثنا سر اونچا کئیے عقیدت سے آ سمان پر اڑتے شاہینوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اچانک سے تیز فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھی زوردار دھماکے ہونے لگے ۔۔۔

” گرلز آپ لوگ جلدی سے اندر جائیں گولہ باری شروع ہو گئی ہے کسی بھی لمحہ شیلنگ اسٹارٹ ہو جائیگی ۔۔۔” حمزہ علی نے دونوں کو جانے کا اشارہ کیا
” آپ !! آپ بھی ساتھ چلیں اس وقت آپ کا باہر رہنا بھی مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔” ملیحہ نے سنجیدگی سے کہا
حمزہ علی نے ایک نظر ملیحہ کے صبیح چہرے کو دیکھا اسی وقت بہت قریب سے دھماکے کی آواز گونجی چاروں طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا تھا حمزہ علی نے تیزی سے ملیحہ اور ثنا کا ہاتھ پکڑا اور کیمپ کی طرف بھاگنے لگا ۔۔
____________________________
ڈاکٹر اور کمشنر محسن نقوی ایک ساتھ گھر میں داخل ہوئے ۔۔۔

” ڈاکٹر صاحب آپ اندر آئیے ۔۔۔” نوشابہ ڈاکٹر صاحب اور محسن دونوں کو ساتھ لے کر اوپر فاطمہ کے کمرے کی جانب بڑھیں

” یہ فاطمہ کو کیا ہوا ۔۔؟ ” محسن صاحب بستر پر فاطمہ کو بے ہوش پڑا دیکھ کر چونک اٹھے

“ڈاکٹر صاحب آپ اسے چیک کریں یہ کافی دیر سے بیہوش ہے ۔۔۔” وہ محسن نقوی صاحب سے نظریں چراتے ہوئے بولی

“بچی کا بخار بہت تیز ہے لگ رہا ہے سر پر چڑھ گیا ہے ساتھ ہی ساتھ انہیں کوئی ذہنی دھچکا بھی پہنچا ہے نروز انٹینس ہیں ، میں نے انجکشن دے رہا ہوں اور ابھی کلینک سے نرس کو بھیجتا ہوں انہیں ڈرپ لگانے پڑے گی ، اگر یہ کل شام تک ہوش میں نہیں آئی تو پھر نروس بریک ڈاؤن کا خطرہ ہے۔۔۔۔”ڈاکٹر چیک اپ کرنے کے بعد فاطمہ کو انجکشن لگاتے ہوئے محسن صاحب کو تفصیل بتا رہا تھا
ڈاکٹر کے جانے کے بعد نوشابہ محسن صاحب کو لیکر اپنے کمرے میں آ گئیں

“نوشابہ یہ سب کیا ہے ؟؟ صبح تک تو فاطمہ بالکل ٹھیک تھی یا اچانک سے اسے کیا ہو گیا ہے “

نوشابہ ان ماؤں میں سے نہیں تھی جو اپنے بچوں کے عیب چھپاتے ہیں ان کا اپنا اس وقت غم وغصہ سے برا حال تھا انہوں نے محسن صاحب کو ساری تفصیلات بتائیں کہ کس طرح وہ گھر آئی اور کس حال میں انہوں نے اسامہ کو دیکھا اور کس طرح سے وہ دروازہ کھول کر فاطمہ کے پاس پہنچی اس کا پھٹا ہوا لباس تبدیل کروایا۔۔۔
” اسامہ نے ایسا کیا ؟؟ آپکو کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی وہ تو بہت سیدھا ہے مانا غصے کا تیز ہے لڑائی جھگڑے کا شوقین ہے لیکن اس کی کوئی گرل فرینڈ یا لڑکیوں کا چکر نہیں ہے۔۔۔” وہ چکرا گئے

” محسن صاحب میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے !! آپ کچھ کریں احسن کو پتہ چلے گا تو وہ زمین آ سمان ایک کر دے گا وہ ہمارے بھروسے پر فاطمہ کو یہاں چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔” نوشابہ بھرائی ہوئی آواز میں بولیں

“اس معاملے کا بس ایک ہی حل ہے دو ماہ کے اندر اندر احسن واپس آ جائے گا تو ان دونوں کی شادی کرا دیتے ہیں۔۔۔” وہ اپنی کنپٹی دباتے ہوئے بولے
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں فاطمہ صرف سولہ سال کی ہے اور اسامہ 18 کا ابھی تو ان دونوں نے اپنا کیریئر بنانا ہے….”

” بیگم ہزاروں لاکھوں لوگ شادی کے بعد بھی پڑھتے ہیں یہ دونوں بھی پڑھ لیں گے کیرئیر بھی بنا لیں گے لیکن یہ شادی ہونی ضروری ہے وہ بچی میرے گھر میں میری پناہ میں تھی !!! “

” آپ اسامہ کو اس کی نیند پوری کرلینے دیں اچھا ہے صاحبزادے کا نشہ بھی اتر جائے گا پھر اسے میرے پاس لے کر آئیں ۔۔۔”

اسی وقت انٹر کام بجا نرس آگئی تھی نوشابہ کمرے سے باہر نکل گئی
_________________________
لائن آف کنٹرول پر یکم اور دو مارچ کی درمیانی شب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا ،دشمن مسلسل گولہ باری کررہا تھا رات میں نیزہ پیر، جند روٹ ، اور باگسر سیکٹر پر فائرنگ کے چند واقعات ہوئے۔
جس پر پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور پاک فوج کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایاگیا تھا پاک افواج مکمل طور پر چوکنا اور ہمہ وقت ہر طرح کی صورتحال سے نبٹنے کیلۓ تیار تھی اسی وجہ سے گذشتہ چوبیس گھنٹے میں پاکستان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا الٹا دشمن کو منھ کی کھانی پڑی تھی

بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو شہری شہید ہو گئے جب کہ دو زخمی ہو ئے تھے شہید ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھی ، زخمیوں کو کوٹلی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا یہ فائرنگ تتہ پانی،جند روٹ سیکٹر پر کی گئی جس کا پاک فوج نے خوب جواب دیا۔
پاک فوج نے دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے دو اہلکار بھی شہیدہوئے ، گولہ باری سے نکیال سیکٹر میں جام شہادت نوش کرنے والوں میں حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم شامل ہیں۔

بزدل بھارتی افواج نے شہری آبادی پر فائرنگ اور گولہ باری کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اورلائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے دشمن کو پاک فوج اور پاک فضائیہ مسلسل منھ توڑ جواب دے رہی ہے بھارت کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ پاک فضائیہ کے طیاروں اور جانباز پائیلٹ کا مقابلہ کرنا اور پاک آرمی کے جیالے جانباز جوانوں سے ٹکرانا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔
لائن آف کنٹرول پر اس وقت صورتحال قدرے بہتر ہے لیکن خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ٹلا نہیں تھا..

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: