Wo Jo Qarz Rakhte thay Jaan Par Novel By Imran Liaqat – Episode 1

0
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت – قسط نمبر 1

–**–**–

پچھلے پچیس منٹ کے مختصر دورانیے میں اس نے بِلا مبالغہ چھٹی بار پاس پڑا موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تھا. اس کی بے چینی حد سے سِوا تھی اور وہ بڑی شدت سے پاکستان سے آنے والی متوقع فون کال کا منتظر تھا. آخری بار جب اس کی اپنے چھوٹے بھائی علی سے بات ہوئی تھی تو اس نے اسے ” بھائی جان آ
پ فکر نہ کریں. ہم سب ہیں نہ یہاں ” کہہ کر دلاسہ دیا تھا. صرف یہی نہیں اس کے سب گھر والے باری باری اور وقتاً فوقتاً اسے کل رات سے تسلیاں دے رہے تھے. اس کی پریشانی بھی اپنی جگہ بجا تھی . ایک تو وہ گھر سے ہزاروں میل دور دیارِغیر میں بیٹھا تھا جس کی وجہ سے ‘ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ‘ والا معاملہ بنا ہوا تھا. دوسرے اخبارات اور میڈیا میں آئے روز کتنی ہی دل دہلا دینے والی خبریں سننا معمول بن چکا تھا. مہنگے ترین نجی ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کی ”مبینہ غفلت” اور معاون عملے کی نا تجربہ کاری کے کتنے ہی قصے کوئی سنی سنائی بات نہیں تھی.
کہنے کو تو وہ دفتر میں بیٹھا تھا لیکن اس کا سارا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا. بوجھل دل کے ساتھ بمشکل اس نے ہفتہ وار رپورٹ مکمل کی جو اسے آج ہر صورت جمع کروانی تھی. رپورٹ پرنٹ کر کے باس کی میز پر رکھنے کے دوران اسے ظہر کی اذان کی آواز سنائی دی . وہ بہت با قاعدگی سے نماز پڑھنے کا عادی نہیں تھا لیکن اس وقت اذان سن کر اس کے دل کو ایک عجیب سی ڈھارس مل رہی تھی. وہ دفتر سے نکل کر قریبی مسجد کی طرف چل پڑا . نماز پڑھ کر اس نے بڑے خشوع و خضوع سے دعا مانگی . بہت سال پہلے اس نے کہیں پڑھا تھا کہ بچہ بیمار ہو تو ماں کو آدابِ دعا خود بخود آ جاتے ہیں. اس وقت وہ بھی ایسی ہی قلبی کیفیت سے دو چار تھا. اسے یاد نہیں تھا کہ کتنے عرصے بعد اس نے لگاتار تین نمازیں مسجد میں ادا کی تھیں. فجر کی نماز تو گزشتہ رمضان میں ہی پڑھی ہوگی لیکن آج صبح فجر کے لئے اٹھنے میں اسے کسی تردد کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا. اسے رات ٹھیک سے نیند ہی کہاں آئی تھی. تمام شب بے چینی سے کروٹیں بدلتے آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی. اسی لئے فجر کی اذان سے چند منٹ پہلے ہی وہ با وضو ہو کر مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا. نماز پڑھتے ہوئے وہ دل ہی دل میں نادم بھی ہو رہا تھا کہ اس کا اپنے رب سے کیسا خود غرضی کا تعلق تھا. جب پریشانی آئی تو نماز پڑھ لی اور مشکل دور ہوتے ہی پھر سے خدا کو بھلا کر پرانے معمولات پہ لوٹ گئے. اسی ندامت کے زیر اثر آ کر اس نے دل میں یہ تہیہ کیا کہ آئندہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کیا کرے گا. اس طرح کے کئی وعدے وہ پہلے بھی خود سے کر چکا تھا لیکن ان پہ پابندی سے عمل درآمد کرنے سے قاصر ہی رہا. انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے لیکن اس کا پروردگار اسے کبھی نہیں بھولتا.
مسجد سے نکل کر دفتر کی طرف واپس جاتے ہوئے اس کی پتلون کی بائیں جیب میں موجود موبائل پر تھرتھراہٹ ہوئی . اس نے نہائت سرعت سے موبائل نکال کر کال وصول کی تھی. دوسری طرف اس کے والد تھے.
” بہت بہت مبارک ہو احمد پتر! الله پاک نے بڑا کرم کیا ہے ……. بیٹا ہوا ہے.” ابا جان کی آواز سن کر اس کے تن بدن میں جیسے جان سی آ گئی تھی. بے اختیار اس کے دل اور زبان سے بیک وقت کلمۂ شکر ادا ہوا تھا.
” اور ثمرہ کیسی ہے ابو ؟ ” اس نے اپنی بیوی کی بابت دریافت کیا.
” ثمرہ اور بچہ دونوں مکمل خیریت سے ہیں. تھوڑی دیر میں بہو کو وارڈ میں شفٹ کر دیں گے جبکہ بچہ ابھی ابتدائی معائنے کے لئے نرسری میں ہے. لیڈی ڈاکٹر نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ زچہ بچہ دونوں صحت مند ہیں اور وہ نارمل ڈیلیوری کا انتظار کریں گے. بس اسی لئے تقریباً پندرہ سے سولہ گھنٹے انتظار کیا ہے انہوں نے.” ابا جان نے اسے ثمرہ کی خیریت کے بارے میں مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیلیوری میں تاخیر کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا.
” ٹھیک ہے بیٹا ! تم سے پھر بات ہو گی. میں ذرا دیکھ لوں ، اگر بچے کو دودھ پلانے کے لئے ماں کے پاس لایا گیا تو اس کے کان میں اذان بھی پڑھنی ہے.” ابّا جان نے الوداعی کلمات کہہ کر کال منقطع کی تو وہ دفتر جانے کی بجائے دوبارہ مسجد کی طرف چل دیا ……. شُکرانے کے نوافل ادا کرنے کے لئے.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
چار گھنٹے کے بعد اس کے بیٹے کی پہلی تصویر اس کے سامنے تھی جو اس کے چھوٹے بھائی نے ہسپتال سے ہی بنا کر اسے واٹس ایپ پہ بھیجی تھی. اپنے دفتر کے سب لوگوں کو اب تک یہ خوش خبری سنا کر وہ ان کا منہ بھی میٹھا کروا چکا تھا. خوشی اس کے انگ انگ سے عیاں تھی اور کیوں نہ ہوتی ، شادی کے بعد پانچ سال تک طویل انتظار جھیل کر اسے یہ نعمت ملی تھی. اس کا تایا زاد بھائی حسن ، جس کی شادی ، احمد کے ساتھ ہی اسی ہفتے میں چند دن کے فرق سے ہوئی تھی ، اب تک تین بچوں کا باپ بن چکا تھا. اولادِ نرینہ کی پیدائش نے اس کی خوشی کومزید دو چند کر دیا تھا. تصویر کو دیکھ کردل نہیں بھرا تو اس نے ویڈیو کی فرمائش کر دی. اس لمحے اس کے دل میں بس ایک ہی خواہش سر اٹھا رہی تھی کہ کاش اس وقت وہ بھی اپنے وطن میں ہوتا تو اپنے گل گوتھنے سے بیٹے کو بازوؤں میں بھر کر اس کے ماتھے پہ ایک طویل بوسہ ثبت کرتا. اس کی پِدرانہ شفقت اُمڈ رہی تھی. تھوڑی دیر کے غور و خوض کے بعد اس نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا. اس کی کم از کم بِیس دن کی چھٹی بمع تنخواہ اس کی کمپنی کی طرف سے واجب الادا تھی. پہلے اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اس سال پاکستان نہیں جائے گا جس کی وجہ سے اسے ایک اضافی تنخواہ بونس کی شکل میں وصول ہوتی اور ہوائی سفر کے خرچ کی بچت الگ …… وہ کوئی ہمیشہ کے لئے پردیس میں رہائش پذیر ہونے کا ارادہ لے کر نہیں آیا تھا . اسے تو مزید چند سال یہاں رہ کرمعقول بچت کرنی تھی اور پھر واپس پلٹ جانا تھا تا کہ اپنے ملک میں جا کر اپنے جمع شدہ سرمائے سے کوئی ذاتی کاروبار جما سکے. …… لیکن اپنے نوزائیدہ بچے کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد ہی اس نے سارے حساب کتاب اٹھا کر ایک طرف رکھ دئیے تھے. اگلے روز اس نے چھٹی کی تحریری درخواست اپنے باس کے سامنے رکھی جس کی منظوری کے ساتھ ہی اس نے پاکستان جانے والی پہلی پرواز میں اپنے لئے ٹکٹ بک کروا لی تھی. تین گھنٹے صرف کر کے اس نے وہ تمام کام ، جو اس کی زیرِ نگرانی انجام پا رہے تھے یا اس کی ذمہ داری تھے ، اپنےساتھی انجینئر کو سونپ دئیے تھے. اس انجینئر کو اگلے تین ہفتے احمد کے متبادل کے طور پہ فرائض انجام دینے تھے. دفتر کے ضروری کام نمٹا کر اور سب کو الوداع کہہ کر اس نے گھر جانے کی بجائے ایک شاپنگ مال کا رخ کیا. اس کی فلائٹ میں چھتیس گھنٹے باقی تھے اور اسے اپنے بیٹے کے لئے بہت سی خریداری کرنی تھی.
مال میں ہر عمر کے بچوں کےلئے الگ الگ حصے بنے ہوئے تھے . اس نے نو مولود بچوں کے حصے میں پہنچ کر مختلف چیزیں ٹرالی میں رکھنا شروع کیں. نیپکنز ، فیڈرز ، ڈائپرز ، ٹیئیر(Tear) فری شیمپو ، بے بی لوشن ، جرابیں ، ٹوپیاں ، خراش سے محفوظ رکھنے والی کریم ، صفائی کے لئے نمی اور خوشبو سے معطر رومال ، ایک چھوٹا سا مخملی کمبل ، سر میں لگانے والا بچوں کے لئے مخصوص تیل ، کچھ کھلونے اور بہت سے ملبوسات …… وہ پہلی بار اپنے بیٹے کے لئے کچھ خریدنے نکلا تھا ، سو ہر چیز بہترین اور معیاری ہونی چاہئے تھی. اس سے پہلے بھی پاکستان جاتے ہوئے وہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لئے تحائف خریدتا رہا تھا لیکن جو خوشی اور مسرت اس نے آج محسوس کی تھی ، اس سے پہلے کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا تھا. اس کا تو بس ہی نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کیا کچھ خرید ڈالے لیکن اس کے سفری سامان میں صرف تیس کلو گرام تک وزن لے جانے کی اجازت تھی. اس کا ارادہ کم از کم پہلے چھ مہینے کے لئے پیشگی امپورٹڈ ڈائپرز خریدنے کا تھا. اس نے سن رکھا تھا کہ وہاں دستیاب ڈائپرز کا معیار دوئم درجے کا ہے. مقررہ وزن سے زیادہ سامان لے جانے کی صورت میں اسےفی کلو کے حساب سے اضافی رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ، اس لئے اس نے گھر والوں کے لئے خریدے جانے والے سامان کی فہرست میں سے بہت سی چیزیں حذف کر دیں. ابا جان کے لئے بادام ، بہن اور بھانجی کے لئے شیمپو اور رشتہ داروں یا محلے داروں کے لئے کھجوریں خریدنے کا ارادہ اس نے ترک کر دیا تھا . یہ چیزیں تو وہاں سے بھی با آسانی مل سکتی تھیں. باپ بنتے ہی اس کی سوچ کا محور یکسر تبدیل ہو گیا تھا . اب اس کی ترجیحات کی فہرست میں اس کے بیٹے کا نام سب سے اوپر جگمگا رہا تھا.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
” باؤ جی ! مینوں نئی لگدا کہ اے حکومت چار چھ مِینے توں زیادہ چلے دی ” (بابو جی ! مجھے نہیں لگتا کہ یہ حکومت چار چھ مہینے سے زیادہ چلے گی). ڈرائیور نے جی ٹی روڈ پہ سست رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنی حتمی رائے پیش کی. حتمی اس لئے کہ ایئر پورٹ سے لے کر مندرہ تک پہنچنے کے دوران وہ موجودہ وفاقی حکومت کی ناکام معاشی حکمتِ عملی ، ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت اور گزشتہ الیکشن میں امریکہ کی مداخلت کا تفصیلی جائزہ ، پہلے ہی سامعین کے گوش گزار کر چکا تھا. احمد کا چھوٹا بھائی ، علی اسے لینے ائیرپورٹ آیا تھا اور اس مقصد کے لئے ساتھ والے قصبے سے ایک گاڑی بمع ڈرائیور کرائے پر لی گئی تھی. گاڑی کے مالک ارشد بھائی ان کے دور پار کے عزیز بھی تھے. ارشد بھائی نے بات مکمل کر کے تائیدطلب نظروں سے اگلی نشست پر بیٹھے علی کی طرف دیکھا تو اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا. اس وقت وہ بس یہی کر سکتا تھا.
” ارشد بھائی ! گاڑی تھوڑی تیز چلائیے نہ آپ . کتنی دیر ہو گئی ہمیں اسلام آباد سے نکلے ہوئے اور ابھی بھی آدھے سے زیادہ فاصلہ باقی ہے. ” ارشد بھائی ورلڈ کپ کے لئے منتخب شدہ کرکٹ ٹیم کے عدم توازن پہ روشنی ڈالنے کے موڈ میں تھے جب احمد نے انہیں ٹوک کر دہائی دی. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اڑ کر گھر پہنچ جائے اور اپنے لخت جگر کو گھنٹوں جی بھر کر دیکھتا رہے.
“باؤ جی ! میں تے اک سو سٹھ دی سپیڈ تے وی گڈی چلا سکدا واں پر سڑک دی حالت وی تے ویکھو نہ تسی ” (بابو جی ! میں تو ایک سو ساٹھ کی رفتار پہ بھی گاڑی چلا سکتا ہوں لیکن آپ سڑک کی حالت بھی تو دیکھیں نہ). ارشد بھائی کی وضاحت پر احمد نے گاڑی سے باہر دیکھا تو اسے کچھ جگہ پر گڑھے اور ان میں موجود بارش کا پانی دکھائی دیا. ارشد بھائی کی ایکس ایل آئی کا ماڈل اگرچہ چار سال پرانا تھا لیکن پھر بھی وہ انہیں بہت عزیز تھی. ان کی زبان جتنی تیز رفتاری سے چلتی تھی ، گاڑی چلاتے ہوئے وہ اسی قدر احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے.
” احمد بھائی ! آپ سعودی عرب کی سڑکوں کے عادی ہو چکے ہیں. اس لئے آپ کو رفتار کم لگ رہی ہے. اب وہاں کا موازنہ یہاں سے تو نہیں کیا جا سکتا . یہاں تو میٹریل ہی اتنا ناقص استعمال کیا جاتا ہے کہ ایک برسات بھی مشکل سے نکال پاتی ہیں ہماری سڑکیں . ” علی نے گفتگو میں حصہ لیا تو ارشد بھائی کو نیا موضوع مل گیا.
” تے ہور کی ! با لکل ٹھیک کہیا اے چھوٹے باؤ نے ” (تو اور کیا ! بالکل ٹھیک کہا ہے چھوٹے بابو نے). اس کے ساتھ ہی ارشد بھائی نے چند انتہائی نا زیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو “خرا جِ تحسین” پیش کیا تو علی ، بڑے بھائی کی موجودگی کا خیال کر کے جھینپ سا گیا. ارشد بھائی آزادیٔ اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتے تھے . مزید کسی متوقع شرمندگی سے بچنے کے لئے علی نے رخ موڑ کر شیشے سے باہر دیکھنا شروع کر دیا تو احمد نے بھی اپنے ہینڈز فری کانوں میں اُ ڑس لئے. ارشد بھائی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پہ تپے بیٹھے تھے ، اس لئے ان کی توپوں کا رخ بار بار حکومت کی ناکام حکمتِ عملی کی طرف مڑ جاتا تھا. وہی ہمارا قومی المیہ کہ ہم احتجاج بھی صرف تب کرتے ہیں جب ہمارے ذاتی مفادات پہ کوئی ضرب پڑے ، ورنہ ملک تو اتنے سالوں سے جیسے تیسے چل ہی رہا ہے ، سو چلنے دو ….
جہلم شہر سے ذرا پہلے ، گاڑی سڑک کنارے موجود ایک ڈھابہ نما ہوٹل پر روکی گئی تو احمد نے حیرانی سے استفسار کیا. ” ہم یہاں کیوں رکے ہیں ؟ “. ارشد بھائی گاڑی پارک کر کے باہر نکلے اور دو تین انگڑائیاں لے کر اپنی تھکن اتارنے کے بعد دوبارہ احمد کی طرف متوجہ ہوئے جو بدستور گاڑی میں بیٹھا ان کی طرف منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا.
” احمد باؤ ! کھانا کھان لئی رکے آں . میرے کولوں ہن ہور پکھ برداشت نئی ہوندی . سویرے تڑکے دا ناشتہ کیتا ہویا اے . ” ( احمد بابو ! کھانا کھانے کے لئے رکے ہیں. مجھ سے اب مزید بھوک برداشت نہیں ہوتی . صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے). ارشد بھائی اسے جواب دے کر بے نیازی سے ہوٹل کے سامنے موجود بڑی بڑی چارپایوں میں سے ایک پر جا بیٹھے تھے اور چند دوسرے گاہکوں کو کھانا دیتے ہوئے ایک کم سن لڑکے کو آواز دینے لگے. ” اوئے چھوٹے ! ایدھر آ ، کی پکیا اے اج ؟ ” (اوئے چھوٹے ! ادھر آؤ . کیا پکا ہے آج ؟).ان کے انداز اور بے تکلفی سے لگ رہا تھا کہ وہ پہلے بھی اس جگہ سے کھانا کھاتے رہتے ہیں.
ارشد بھائی کے اٹل ارادوں کو دیکھ کر احمد کو بھی خون کے گھونٹ بھرتے ہوئے گاڑی سے اترتے ہی بنی. اس کا کچھ بھی کھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا . اشعر سے ملنے کی خوشی نے اس کی بھوک پیاس اڑا دی تھی لیکن اگر وہ گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرتا تو ارشد بھائی ہوٹل میں بھی حالاتِ حاظرہ کا کوئی پروگرام “آن ائیر ” کر کے بیٹھ رہتے. اس لئے وہ بھی اکتاہٹ زدہ موڈ لئے ان کے پاس ہی آ گیا. ارشد بھائی چھوٹے کو مطلوبہ لوازمات آرڈر کر چکے تھے . احمد نے صرف چائے پینے پر اکتفا کیا جبکہ علی نے تھوڑا بہت کھانا کھا لیا ، ارشد بھائی کا ساتھ دینے کے لئے. احمد کی جلدی جلدی کی گردان کے باوجود پون گھنٹہ کھانے میں صرف ہو گیا . گاڑی کی طرف واپس جاتے ہوئے احمد نے سکھ کا سانس لیا اور ساتھ ہی ساتھ ارشد بھائی سے التجا بھی کر ڈالی کہ اب سیدھا گھر جایا جائے .

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: