Wo Jo Qarz Rakhte thay Jaan Par Novel By Imran Liaqat – Episode 2

0
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت – قسط نمبر 2

–**–**–

خدا خدا کر کے اس کی زندگی کا سب سے صبر آزما سفر اختتام پذیر ہوا تو گھر کے صحن میں پہنچتے ہی اس نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا. اماں جی جو گاڑی کی آواز سنتے ہی دروازے پر چلی آئی تھیں ، اس کے پیچھے کھڑی ، اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر مسکرا رہی تھیں.
“بہو اور کاکا اندر ہیں پتر” ….. اماں کی بات سن کر وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا. صحن میں موجود ابا جان اور پھپھو سے ملتے ہوئے اس کے انداز میں بے پناہ عجلت تھی لیکن کسی نے بھی برا نہیں مانا تھا.
اشعر کو گود میں لیتے ہی اسے ایسا لگا جیسے دنیا جہان کی ساری دولت و ثروت اس کی آغوش میں سما گئی ہو. اس نے کتنی ہی بار اس کے ماتھے اور گالوں کو فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر چوما. اس کی بیوی اس کی وارفتگی پہ مسکرا رہی تھی. اڑھائی تین دن کے بچے کے نین نقش میں کسی خونی رشتے کی شبیہہ تلاشنا تقریباً نا ممکن سی بات ہے لیکن اسے ابھی سے یقین ہو چلا تھا کہ اشعر کی ستواں ناک اور تھوڑی کا کٹاؤ ، با لکل اپنے باپ پر گیا ہے . یہ اس کا تخیل تھا کہ اس کے بیٹے کی شکل وصورت سب سے زیادہ اسی سے مشابہہ ہے . وہ آج پہلی بار ، بغیر کسی آئینے کے اپنے آپ کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا. کسی بھی لغت کے الفاظ ایک باپ کی اس خوشی کا احاطہ کرنے سے قاصر تھے.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
اگلے چند دن اس نے اپنا زیادہ تر وقت گھر میں ، بلکہ اپنے کمرے میں ہی گزارا. کوئی رشتہ دار یا گاؤں سے کوئی جاننے والا ملنے آ جاتا تو وہ کمرے سے نکلتا اور اس کے رخصت ہوتے ہی پھر سے اپنے کمرے کی راہ لیتا. گاؤں میں پچھلے ساڑھے آٹھ مہینے میں جو اموات ہوئی تھیں ، ان کے ورثا کے پاس افسوس کے لئے جانے کا وقت بھی وہ ابھی تک نہیں نکال پایا تھا. وہ زیادہ سے زیادہ وقت اشعر کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا تا کہ جب وہ دوبارہ صحرا ئے عرب میں واپس جائے تو اس کے پاس اپنے بیٹے کی سر سبز و شاداب یادیں ہوں. یادوں کے اسی تصوراتی نخلستان کے سہارے ، بہتر مستقبل کی امید لئے ، دیار غیر میں گھر والوں اور بیوی بچوں کی جدائی کے باوجود بھی وقت کسی قدر آسانی سے کٹ جاتا. اس نے وہاں بسنے والے بہت سے لوگوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا تھا.
” بچہ اسکول جانے لگا ہے ! “
” بیٹا کالج پہنچ گیا ہے ! “
” بیٹی کی یونیورسٹی کی فیس دینی ہے ! “
” بس اپنا ذاتی گھر بن جائے تو میں نے اپنے وطن واپس لوٹ جانا ہے ، بس پھر وہیں کوئی چھوٹا موٹا کام دھندا کر لوں گا.
گزارا تو ہو ہی جائے گا ! “
پردیس میں رہنے والوں کی ذمہ داریوں اور حسرتوں کی لمبی اور عموماً ختم نہ ہونے والی طویل فہرست …..
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
احمد کھانا کھا کر کمرے میں واپس آیا تو اشعر اپنے بستر پر موجود نہیں تھا. کمرے کے ساتھ ملحقہ غسل خانے میں کھٹ پٹ کی آواز سنائی دی تو وہ دروازے تک چلا آیا. ثمرہ ، اشعر کے کپڑے اتار کر اسے واش بیسن میں بٹھا رہی تھی.
” یہ کیا کر رہی ہو ؟ ” احمد نے حیرانی سے استفسار کیا.
” اشعر کو نہلانے لگی ہوں. ” ثمرہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر مصروف سے انداز میں جواب دیتے ہوئے نل کھول دیا اور اشعر کے ماتھے پر چِلو بھر پانی ڈال کر آہستہ آہستہ ملنے لگی.
“اس طرح کون نہلاتا ہے اتنے چھوٹے سے بچے کو ؟ ” احمد نے بمشکل خود کو چیخنے سے باز رکھا. اسے اپنی بیوی کی دماغی حالت پہ شبہ ہو رہا تھا.
” سب نہلاتے ہیں اسی طرح ، کیوں کیا ہوا ؟ ” ثمرہ نے مزید احتیاط سے دونوں ہاتھوں سے اشعر کو تھاما اور مڑ کر سوالیہ نظروں سے احمد کی طرف دیکھنے لگی . نل ابھی بھی کھلا ہوا تھا اور پانی اب ہلکی رفتار میں اشعر کے پیٹ اور ٹانگوں پہ بہہ رہا تھا. احمد نے آگے بڑھ کر نل بند کر دیا.
” یہاں نہلاتے ہوئے اگر اس کا سر ذرا سا بھی تمھاری ہتھیلی سے اِدھر اُدھر ہوا تو سیدھا واش بیسن کی سخت سطح سے جا ٹکرائے گا. دوسری بات ، غسل خانے کے گیلے اور چکنے فرش پہ اگر تمہارا اپنا پاؤں ہی پھسل گیا تو تب تم اسے کیسے سنبھالو گی؟ ” احمد کے خدشات سن کر ثمرہ کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے لیکن اس کے دونوں ہاتھ اس وقت مصروف تھے.
” احمد آپ بھی نہ ! ” وہ جواباً بس اتنا ہی کہہ سکی.
” مجھے کچھ نہیں سننا. تم اسے باہر صحن میں لے کر آؤ اور چارپائی پہ بٹھا کے نہلاؤ. ” اس نے مسئلے کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل حل بھی پیش کر دیا.
” صحن میں اور وہ بھی چارپائی پہ ؟ ان چارپایوں پہ سب نے بیٹھنا ہوتا ہے. گیلی ہو جائیں گی تو عجیب سی بساند آئے گی ان میں سے. اوپر سے چارپائی کا بان (چارپائی بُننے والا سوتر) بھی نمی سے کالا ہو جائیگا. خالہ مجھ پہ غصہ کریں گی. ” ثمرہ کی وضاحت نے احمد کو ذرا سا بھی مطمین نہیں کیا تھا.
” اماں سے میں خود بات کر لیتا ہوں اور اگر ایک چارپائی کا بان کالا یا خراب ہو بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی. وہ تندور میں جلانے کے کام آ سکتی ہے . اس کی جگہ میں نئی چارپائی بنوا دوں گا. ” اپنی بات مکمل کرتے ہوئے احمد نے خود آگے بڑھ کر احتیاط سے اشعر کو اٹھا لیا اور صحن کی طرف بڑھ گیا. صحن میں بیٹھی اماں نے بے لباس اشعر کو اٹھائے ہوئے احمد اور اس کے تعاقب میں آتی ثمرہ کو دیکھا تو سوالیہ نظروں سے بہو کی طرف دیکھا . اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں
اپنی لاچاری کی دہائی دے ڈالی جیسے کہہ رہی ہو کہ ” آپ جانتی تو ہیں اپنے بیٹے کو .”
صحن میں پہنچ کر ثمرہ نے چارپائی سیدھی کی تا کہ احمد ، اشعر کو اس پہ لٹا دے لیکن احمد کے انداز میں ہچکچاہٹ تھی. اسے خدشہ تھا کہ چارپائی کا کھردرا بان بچے کے نازک بدن پہ نشان نہ ڈال دے. مجبوراً ایک پرانا کمبل لا کر چارپائی پر بچھایا گیا ، تب جا کر احمد کی تسلی ہوئی . پھر اس نے بالٹی میں لائے گئے پانی میں اپنا ہاتھ ڈالا تا کہ اندازہ کر سکے کہ پانی کا درجہ حرارت متوازن ہے بھی یا نہیں. ہر طرح سے مکمل اطمینان کرنے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو ” گرین سگنل” دیا. بچے کو نہلانے کا پُرپیچ مرحلہ سر ہوا تو سب گھر والوں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن ان کا یہ اطمینان پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پہ قائم ہونے والے وقتی امن کی طرح عارضی ثابت ہوا. اس کے بعد احمد کی احتیاطی تدابیر کا ایک لا متناہی سلسلہ جو شروع ہوا تو اہلِ خانہ زچ ہو کر رہ گئے.
اس ” احتیاط نامے ” کی سب سےپہلی شِق یہ تھی کہ آئندہ گھر پہ ملنے کے لئے آنے والے کسی رشتہ دار کے سامنے بچے کونہیں لایا جائے گا کیونکہ ملنے ملانے والے سب لوگ اشعر کی من موہنی سی صورت دیکھ کر فوراً اسے چومنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کی نازک جلد پہ جراثیم لگنے کا خدشہ ہے اور ” سکِن انفیکشن” ہو سکتی ہے. اماں نے سنا تو انگلیاں دانتوں تلے داب لیں. ان کے زمانے میں تو بچے سارا دن صحن اور گلیوں میں ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے ، تب بھی کسی جلدی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے تھے.
اگلی شام اسے کمرے میں ایک موٹا تازہ مچھر نظر آگیا. چنانچہ اس خدشے کے پیش نظرکہ وہ یا کوئی اور مچھر اس کے لختِ جگر کو کاٹ نہ لے ، وہ اماں ابا کے منع کرنے کے باوجود ، سکوٹر لے کر شہر چلا گیا تا کہ مچھروں سے بچاؤ کے لئے بجلی سے چلنے والا مچھر مار محلول لا سکے. شام کے بعد ، بغیر کسی انتہائی نا گزیر ضرورت کے گاؤں سے باہر نکلنے یا شہر جانے کا کوئی رواج نہیں تھا. جب تک وہ واپس نہیں آگیا ، اماں کا دل ہولتا رہا لیکن اس نے پرواہ نہیں کی.
ثمرہ کے لئے شاہی حکم صادر ہوا کہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی اشعر کے پاس سے نہیں ہٹے گی کیونکہ اس کے ذرا سا بھی
آگے پیچھے ہونے سے اشعر رونے لگتا تھا. گھر کے کاموں کے لئے ایک کل وقتی ملازمہ کا بندوبست کیا گیا تا کہ اس کی بیوی اپنی مکمل توجہ صرف بچے پر مرکوز کر سکے.
اس شدید ہنگامی اور افرا تفری کی صورت حال سے گھبرا کر اماں اور ثمرہ دونوں ہی دعائیں مانگ رہی تھیں کہ کب وہ واپس جائے اور وہ لوگ ایک معتدل اور متوازن انداز سے بچے کی پرورش کر سکیں.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
” ڈاکٹر صاحب ! اگر بچے کو کوئی تکلیف نہیں ہے تو یہ پچھلی دو راتوں سے اتنا روتا کیوں ہے ؟ ” احمد نے ماہرِامرا ضُ الاطفال کے سامنے اپنا سوال پھر دوہرایا تھا. ڈاکٹر صاحب نے اشعر کا تفصیلی معائنہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ بچہ ہر لحاظ سے مکمل صحت مند ہے لیکن احمد کے چہرے پہ عدم اطمینان تھا. بچے کا وقفے وقفے سے رونا ، اس کے خیال میں اس بات کی دلیل تھی کہ اسے کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور ہے. اس نے ڈاکٹر صہیب اسد کی بہت تعریف سن رکھی تھی اور اسی لئے وہ اشعر کو ان کے پاس لے کر آیا تھا. پینتالیس سالہ ڈاکٹر صہیب کافی تجربہ کار اور علاقے کے سب سے مہنگے ماہرِامرا ضُ الاطفال تھے.
” تو کیا آپ لازماً یہی چاہتے ہیں کہ میں آپ کے بچے میں کسی نہ کسی مرض کی نشان دہی ضرور کروں جبکہ مجھے ایسا کچھ نظرنہیں آیا ؟ ” ڈاکٹر صہیب نے سر اٹھا کر ہلکے سے تبسم کے ساتھ اسے دیکھا. اس کے چہرے پہ تذبذب دیکھ کر انہوں نے نرمی سے وضاحت کی . ” دیکھیں میرے بھائی ! میں نے ہر لحاظ سے تسلی کر لی ہے. آپ کے بیٹے کا وزن بھی ما شاء الله بہترین ہے . عموماً اتنے چھوٹے بچوں کو پیٹ میں تکلیف کی شکایت ہوجاتی ہے لیکن میں نے اچھی طرح معائینہ کر لیا ہے ، پیٹ بھی نرم ہے .اس کی پشت پر چند معمولی خراشیں موجود ہیں ، جو ڈائپرز کے استعمال کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہیں . اس وجہ سے بھی بچے اکثر بے چین ہو کر رونے لگتے ہیں. آپ کی اہلیہ نے جس کریم کا ذکر کیا ہے جو وہ پہلے سے استعمال کر رہی ہیں ، وہ اچھی کریم ہے ، اس لئے میں اسے تبدیل نہیں کر رہا . آپ کوشش کریں کہ جب بھی ڈائپر تبدیل کریں تو بچے کے جسم کو اچھی طرح خشک کریں اور اگر ہو سکے تو کبھی کبھار اسے کھلے جسم کے ساتھ ہوادار جگہ پر لٹائیں ، تو یہ مسئلہ بھی نہیں رہے گا. اتنے چھوٹے بچے کو بلا ضرورت دوائیاں کھلانا ، ضرر رساں ثابت ہو سکتا ہے . پھر بھی آپ کی تسلی کے لئے میں یہ ڈراپس لکھ کر دے رہا ہوں . یہ بھی صرف اس صورت میں پلانے ہیں اگر کبھی رات میں یہ بہت زیادہ رو رہا ہو. ” ڈاکٹر صاحب کے تشفی بھرے الفاظ اور مشفقانہ رویے سے وہ بہت حد تک مطمئن نظر آنے لگا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: