Wo Jo Qarz Rakhte thay Jaan Par Novel By Imran Liaqat – Episode 3

0
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت – قسط نمبر 3

–**–**–

” شکریہ ڈاکٹر صاحب ! میں تو بہت ڈر گیا تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو. گزشتہ دو راتوں سے میں سو بھی نہیں سکا ، اسی پریشانی کی وجہ سے . میں تو کل ہی اسے لے آتا لیکن اماں نے بار بار یہی کہا کہ چھوٹے بچوں کے معمولات کی ترتیب بننے میں کچھ دن لگتے ہیں.” احمد کا لہجہ اور آنکھیں ، اس کے رتجگوں کی چغلی کھا رہی تھیں.
” آپ کی غلطی نہیں ہے احمد صاحب ! پہلے بچے کی پرورش کے دوران سب والدین کا یہی حال ہوتا ہے. ” ڈاکٹر صاحب نے اسے یاسیت سے باہر نکالنا چاہا.
” آپ کو کیسے پتہ کہ یہ ہمارا پہلا بچہ ہے ؟ ” اس کے آنکھوں میں تحیر دیکھ کر ڈاکٹر صہیب محظوظ ہوئے.
” کیونکہ میرے پاس روزانہ ایسے ” نئے نویلے ” والدین آتے ہیں جو نا تجربہ کار ہونے کی وجہ سے اپنے بچے کے ذرا سا رونے پر پریشان ہو جاتے ہیں ……. اور پھر میں خود بھی اپنی ذاتی زندگی میں اسی تجربے سے گزر چکا ہوں. ” ڈاکٹر صاحب نے اسے اپنی جانکاری کی اصل وجہ بتائی تو احمد نے مسکرا کر سر ہلایا. اس نے ثمرہ کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اپنی نشست سے اٹھ کر ڈاکٹر صہیب سے الوداعی مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا.
ڈاکٹر صاحب نے بہت گرم جوشی سے اس کے ہاتھ کو تھام کر ہلکا سا دبایا اور گویا ہوئے. “جب ہم خود ایک بچے کے والدین بنتے ہیں تب ہمیں صحیح معنوں میں ادراک ہوتا ہے کہ ہمارے والدین نے ہماری پرورش میں کس قدر دقتیں اور تکلیفیں اٹھائی ہوں گی. خود مجھے بھی اس کا اصل اندازہ باپ بننے کے بعد ہی ہوا تھا. اس مرحلے سے عملی طور پر گزرنے کے بعد ہی ہمیں اپنے والدین کی صحیح معنوں میں قدر بھی ہوتی ہے. ” ڈاکٹر صاحب کے پر اثر الفاظ اور طلسماتی انداز نے اس کے دل کے مقفل کواڑوں پہ ہلکی سی دستک ہی دی تھی لیکن اس کے اندر سوچ کے کتنے ہی دریچے کھلتے چلے گئے تھے.کبھی کبھار ہم گھنٹوں پر محیط واعظ سن لیتے ہیں لیکن محفل سے اٹھتے ہی دل ، اثر اور عمل دونوں سے بے بہرہ ہو جاتا ہے ………… اور کبھی کسی باعمل انسان کے کہے گئے چند الفاظ ، کوئی فقرہ یا ایک نصیحت ہماری کایا پلٹنے کے لئے کافی ٹھہرتی ہے .
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
ہسپتال سے واپسی پر وہ رت جگے کی تھکن اتارنے اور کمر سیدھی کرنے کی غرض سے لیٹ گیا تھا. نیند کی کمی اسے چڑچڑے پن کا شکار بنا دیتی تھی اور ثمرہ اس کے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھی . اسی لئے اس نے اشعر کا ضروری سامان کمرے سے اٹھایا اور جاتے ہوئے پردے برابر اور روشنی گُل کر گئی تھی تا کہ کمرے کے نیم تاریک اور خوابیدہ ماحول میں وہ سکون سے سو سکے ………. لیکن کافی دیر کروٹیں بدلنے کے باوجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی. پچھلی چند راتوں میں جب بھی اس کی آنکھ کھلی ، اس نے اکثر و بیشتر اپنی بیوی کو جاگتے ہوئے ہی دیکھا تھا. اشعر تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کر رونے لگتا تھا اور ثمرہ کو اسے بار بار دودھ پلانا پڑتا . نا سمجھ بچہ اپنی ماں کی بے آرامی اور تکلیف سے بے خبر تھا . اسی طرح ڈائپر گندہ ہونے پر بھی وہ جاگ جاتا اور تب تک روتا رہتا جب تک ڈائپر تبدیل نہ کر دیا جاتا. صبح فجر کے قریب جا کر اشعر تین سے چار گھنٹے کے لئے سکون سے سوتا تھا. رات میں ثمرہ کی نیند پوری نہیں ہوتی تھی اور گاؤں کے ماحول میں دن چڑھے تک سونا ممکن نہیں تھا . اسی لئے اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہی مائل حلقے سے بن گئے تھے. احمد اپنی آنکھوں سے اپنی بیوی کو دن رات جاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا. ماں بن کر بیوی والا کردار کسی حد تک پس منظر میں چلا گیا تھا.
وہ بے شمار سوچوں میں الجھا ہوا تھا ، ایسے میں نیند کہاں آتی . کچھ سوچ کر وہ کمرے اور پھر گھر سے باہر نکلا اور تین گھر چھوڑ کر ، اسی گلی میں موجود اپنی پھپھو کےہاں چلا آیا. صاعقہ ، اس کی پھپھو کم اور دوست زیادہ تھیں. وہ بہت مدبر اور سمجھ دار خاتون تھیں. پھپھو ، عزیز از جان بھتیجے کی آمد پر باغ باغ ہو گئیں جو اس بار پاکستان میں قیام کے دوران پہلی دفعہ ان کے گھر آیا تھا.
” مل گئی بیٹے سے فرصت میرے بھتیجے کو ؟ ہاں بھئی اب پھپھو کہاں یاد آئیں گی .” انہوں نے اسے چھیڑا. ان کا لہجہ ہمیشہ کی طرح لاڈ اور اپنائیت سے لبریز تھا.
” نہیں پھپھو ! آپ کے لئے تو فرصت ہی فرصت ہے. بس آپ کے پوتے کے ساتھ مصروف تھا اور کل رات تو اس نے ایسا جگایا کہ فجر کی اذان ہو گئی لیکن صاحب زادے کا موڈ ہی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا. رو رو کے خود بھی بے حال ہوا اور ہمیں بھی پریشان کیے رکھا اس نے. “
احمد نے شرمندہ سے انداز میں وضاحت کی. بات کے احتتام تک پہنچتے پہنچتے اس کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے محبت بھرا شکوہ تھا . ایسا شکوہ جو کسی بوجھ یا مصیبت کی عکاسی نہیں کر رہا تھا.
” اچھا ؟ اب کیسی طبیعت ہے اشعر کی ؟ ” پھپھو نے فکر مندی سے پوچھا.
” الحمد للہ ! ٹھیک ہے وہ. ڈاکٹر نے یہی کہا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں . ” اس نے پھپھو کی فکر مندی محسوس کر کے مسکراتے ہوئے تسلی دی. صاعقہ کی شادی کو چوبیس سال بیت جانے کے باوجود وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھیں. اس لئے شادی سے پہلے اور شادی کے بعد ان کی توجہ اور شفقت کا محور ہمیشہ احمد ہی رہا . انہوں نے اپنی ممتا ہمیشہ اسی پر نچھاور کی تھی. وہ بہت صابر خاتون تھیں. اولاد کی کمی کو انہوں نے اپنے رب کی رضا سمجھ کر ، اپنی قسمت سے سمجھوتہ کر لیا تھا. کسی نے کبھی بھی انہیں شکوہ کرتے نہیں دیکھا تھا.
” ایک بات پوچھوں پھپھو ؟ ” احمد نے اپنے سامنے پڑا لسی کا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا. وہ دونوں صحن میں پیپل کی گھنی چھاؤں تلے چارپائی پر بیٹھے تھے. کچے فرش پر پانی کے چھڑکاؤ نے مٹی کی سوندھی سی خوشبو چاروں سمت پھیلا رکھی تھی.
” ہاں پوچھو بیٹا ” پھپھو نے ہاتھ میں پکڑی روٹی کے کچلوندے صحن میں ادھر ادھر پھرتی مرغیوں کو ڈالتے ہوئے نرمی سے اجازت دی.
” پھپھو کیا سب ماں باپ اسی طرح اپنے بچوں سے شدید محبت کرتے ہیں ، جیسے میں اپنے دل میں اشعر کے لئے محسوس کرتا ہوں ؟ ” پھپھو اب مرغیوں سے دھیان ہٹا کر مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں. جب سے وہ ان کے پاس آیا تھا ، انہیں اس کے چہرے پہ کسی گہری سوچ اور الجھن کے آثار نظر آ رہے تھے . وہ اسے سننا چاہتی تھیں.
” چلیں میں اپنے سوال کی مزید وضاحت کر دیتا ہوں . جب سے میں آیا ہوں اور میں نے اشعر کو اپنی گود میں اٹھایا …… بلکہ نہیں ! ….. تب سے جب میں نے اس کی پہلی تصویر دیکھی تھی ، اس وقت سے میں اس کے لئے جو جذبات اپنے دل میں محسوس کر رہا ہوں ، پہلے کبھی کسی انسان کے لئے ویسا محسوس نہیں کیا. اگر میں سچ کہوں تو اپنے والدین کے لئے بھی نہیں . مجھے اس کے وجود سے ایک جانی پہچانی سی خوشبو آتی ہے. میرا دل چاہتا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ صَرف کروں . اس کے لئے دنیا جہاں کی نعمتیں مہیا کر دوں . اس کے رونے کی وجہ سے اگر مجھے رات بھر نیند نہ آئے تو مجھے ذرا بھی غصہ نہیں آتا . ہاں اس بات کی اذیت ہوتی ہے کہ شاید وہ کسی تکلیف میں ہے. اسی طرح میں نے ثمرہ کے رویے کا بھی بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے. وہ رات رات بھر جاگتی اور صبح اٹھ کر پھر سے اشعر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگ جاتی ہے لیکن اس کے لہجے میں کوئی چڑچڑا پن نہیں آتا. تھکن اس کے چہرے پر تو نظر آتی ہے لیکن مزاج میں اس کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا. اس کے انداز سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت بیٹے کی ہے ، یہاں تک کے مجھ سے بھی زیادہ …….. اور آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں ؟ ” اس نے تفصیلاً اپنی بات کی وضاحت کرتےہوئے گفتگو میں ذرا سا توقف کیا تو پھپھو نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا.
” مجھے ثمرہ کا مجھ سے زیادہ اشعر کو وقت اور توجہ دینا با لکل بھی برا نہیں لگتا ، نہ کوئی رقابت محسوس ہوتی ہے ….. بلکہ اب تو اگر میری بیوی میرا کوئی کام چھوڑ کر میرے بیٹے کو وقت دے تو مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے. پہلے میں اپنے معمولی معمولی کاموں کے لئے بھی ثمرہ کو آوازیں دینے لگتا تھا لیکن اب بہت سے کام میں خود کر لیتا ہوں تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اشعرکا خیال رکھ سکے. “
” یہ تو قدرت کا نظام ہے بیٹا . الله نے عورت اور مرد ، دونوں کی جبلت میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ماں باپ بنتے ہی ان کے دل میں اولاد کے لئے خصوصی شفقت امڈنے لگتی ہے اور اگر والدین کے دل میں یہ شفقت نہ ڈالی جاتی تو شاید وہ کبھی بھی اپنی اولاد کے لئے اتنی مشقتیں برداشت نہ کر پاتے. ” پھپھو نے اس کی پوری بات سن کر رسان سے اسے سمجھایا.
“ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ.” احمد نے اعتراف کیا . …… اچھا یہ بتائیں کہ جب میں پیدا ہوا تھا تب تو آپ کی شادی نہیں ہوئی تھی …… میرا مطلب ہے اس وقت تو آپ ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں نہ ؟ “اس کے استفسار پر پھپھو نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے اگلا سوال پوچھ لیا. ” مجھے تو ٹھیک سے یاد نہیں لیکن آپ بتائیں جب میں چھوٹا تھا تو اس وقت میرے ماں باپ نے کس طرح میری پرورش کی تھی ؟” اس نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دلچسپی سے پھپھو کا جواب سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو گیا.
” اس زمانے میں بچوں کی پرورش ، آج کے دور سے زیادہ مشکل تھی ، کیونکہ اس وقت اتنی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں جتنی آج موجود ہیں ……. مثلاً اب تو گاؤں میں بھی جو لوگ تمھاری طرح صاحب استطاعت ہیں ، ان کے گھروں میں یو .پی .ایس یا جنریٹر کی سہولت موجود ہے ، گرمیوں میں رات کو اگر بجلی چلی بھی جائے تو پنکھا چلتے رہنے کی وجہ سے بچہ سکون سے سو سکتا ہے. جب تم چھوٹے تھے تو رات میں اگر بجلی چلی جاتی تو بھابی کو جاگ کر تمھیں مسلسل پنکھی جھلنی پڑتی تھی ورنہ تم رونا شروع کر دیتے تھے. یہ تو ایک مثال ہے . اس کے علاوہ بچوں کے لئے گھر پہ تیار شدہ دیسی لنگوٹ اور پوتڑے استعمال ہوتے تھے جنہیں آج کل کے ڈائپرز کی طرح ایک بار استعمال کر کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنے کی عیاشی موجود نہیں تھی بلکہ انہیں ہر بار استعمال کے بعد دھونا پڑتا تھا اور سردیوں میں یہ ایک مشقت طلب کام بن جاتا تھا. ” صاعقہ کی بات سنتے ہوئے اسے ڈاکٹر صہیب کا کہا ہوا فقرہ یاد آ یا.
” میں اپنے طور پہ بھابھی کا ہاتھ بٹانے کی پوری کوشش کرتی تھی لیکن ایک تو تمہارے ابّا لاڈ میں مجھے زیادہ کام کاج کرنے نہیں دیتے تھے، کہ بہنیں تو چند دن کی مہمان ہوتی ہیں. دوسرا رات میں تو بھابھی کو ہی تمہارے ساتھ جاگنا پڑتا تھا . جب تم چار سال کے تھے تو کسی وجہ سے تمھارے کان میں اکثر درد ہو جاتا تھا اور عجیب بات یہ تھی کے اس درد کی شکایت اکثر شام کے بعد ہی ہوتی. قریب میں کوئی ڈاکٹر تو تھا نہیں. اس لئے بھابھی گھر پر ہی سرسوں یا زیتون کا تیل نیم گرم کر کے اور اس میں روئی بھگو کر تمہارے کان میں ٹپکایا کرتی تھیں. وہ رات ان کی بڑی اذیت اور تکلیف میں گزرا کرتی تھی. کیونکہ صبح کے قریب جا کر درد سے افاقہ ہونے پر تم تو چند گھنٹے سکون سے سو جاتے تھے لیکن بھابھی کو رات بھر کی تھکن کے ساتھ ہی گھر کے بہت سے کام نمٹانے پڑتے. ” پھپھو اسے دھیرے دھیرے بہت کچھ بتاتی چلی گئیں. بہت سی ایسی باتیں اور واقعات جنہیں پہلے اس نے کبھی یاد رکھنے کی زحمت نہیں کی تھی یا کبھی انہیں اتنا اہم نہیں سمجھا تھا.
” اور ابّا ؟ وہ اپنی محبت کا اظہار کیسے کرتے تھے مجھ سے ؟ ” اس نے گفتگو کا رخ اپنے والد کی طرف موڑ دیا. اسے تجسس تھا کہ کم گو سے ابّا جان نے کیسے اس کے لاڈ اٹھائے ہوں گے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: