Wo Jo Qarz Rakhte thay Jaan Par Novel By Imran Liaqat – Episode 4

0
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت – قسط نمبر 4

–**–**–

” لالہ جی (بھائی جان) کا تو اپنا ہی ایک نرالا انداز تھا محبت جتانے کا . تم ان کی پہلی نرینہ اولاد تھے . اس لئے فطری طور پر تم سے محبت بھی زیادہ تھی . اس زمانے میں گاؤں کے مرد اپنے بچوں کو اٹھانا یا ان سے بے تحاشہ لاڈ پیار کرنا ایک عار سمجھا کرتے تھے کیونکہ اس وقت یہ ایک عام معاشرتی سوچ تھی کہ بچے سنبھالنا ماؤں کی ذمہ داری ہے اور مردوں کو اس طرح کے چونچلے زیب نہیں دیتے …… لیکن لالہ جی ا کثر تمھیں کاندھوں پہ بٹھا کر گھر سے باہر لے جاتے تھے. بچوں کی طرح آوازیں نکال نکال کر تمھیں ہنسانے کی کوشش کرتے. اکثر اوقات تمھیں اٹھانے کی وجہ سے ان کے کپڑے نماز پڑھنے کے قابل نہیں رہتے تھے. گاؤں کے بہت سے مرد ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ” ذرا دیکھو تو ؛ یہ غلام رسول تو بیٹے کا باپ بن کے باؤلا ہی ہو گیا ہے جیسے اس سے پہلے کسی کے گھر بیٹا پیدا ہی نہ ہوا ہو “، لیکن ان کے دل میں اولاد کی محبت ایسی غالب تھی کہ انہوں نے کبھی ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کی.
صاعقہ کی بات سن کر احمد کو اچنبھا ہوا. کبھی اس کا اپنے ابا سے ایسا تعلق بھی ہوا کرتا تھا کہ انہوں نے اس کی خاطر دیہات کے رسم و رواج تک کو ٹھوکر مار دی تھی.وہ تین گھنٹے تک پھپھو کے پاس بیٹھ کر اپنے بچپن کے قصے سنتا رہا. اس کا دل جیسے ان باتوں کو سن سن کر بھر ہی نہیں رہا تھا.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
رات مکمل تاریکی میں ڈوب چکی تھی. گاؤں کے بیشتر گھر، جہاں آج بھی عشاء کی نماز کے بعد جلد سو جانے کی روایت موجود تھی ، وہاں گلی کے بلب کے علاوہ باقی روشنیاں گُل کی جا چکی تھیں. کہیں کہیں کتوں کے بھونکنے اور مینڈکوں کے ٹرانے کی آواز ابھرتی تو خاموشی کی دبیز چادر میں ہلکا سا شگاف پڑتا اور پھر وہی پہلے جیسا گہرا سکوت چھا جاتا . چاند کی شفاف اور دودھیا چاندنی کی ہلکی سی روشنی نے اپنے پر پھیلا رکھے تھے . گہری تاریکی اور ہلکی روشنی کے اس امتزاج نے ماحول کو ایک عجیب سی پر اسراریت بخش دی تھی.
صحن کے بیچوں بیچ ایک خالی اور بستر سے بے نیاز چارپائی پہ ایک ساکت وجود ، کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا. آج کی رات ، اس کی زندگی میں گزری ہزاروں راتوں سے قطعاً مختلف تھی. اس کے مصروف ذہن میں ایک کے بعد ایک سوچ آ رہی تھی. گردو پیش کے ماحول کی خاموشی میں اندر کی آوازوں کا شور مزید بڑھ گیا تھا. اس نے آج خود کو خود ہی عدالت میں
کھڑا کیا ہوا تھا. جہاں سوال بھی اپنے ، توجیہات بھی اپنی اور اپنے ہی بودے عذر رد کرنے والا بھی وہ خود ہی تھا.
” جی تو جناب احمد رسول صاحب ! کاروائی کہاں سے شروع کی جائے ؟ ” اس کے اندر کہیں سے آواز ابھری تو اس نے تھک کر آنکھیں بند کر لیں. زندگی میں سب سے مشکل پیشی اور حاضری اسی “اندر کی آواز” کے سامنے ہوتی ہے ، جسے کبھی دنیا کے شوروغل میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی اونچی آواز میں بے ہنگم موسیقی سن کر دھیان بٹایا جاتا ہے …… لیکن کب تک ؟
پچھلے چند دنوں میں اپنے کم سِن بیٹے کے لئے دنیا جہان کی نعمتوں کا ڈھیر لگانے کی خواہش کرتے ، اس کے لئے اپنا آرام قربان کرتے اور جاگتے ہوئے ، اس کی معمولی سی معمولی تکلیف پر بے چین ہوتے اور اسے اپنی جان سے بھی زیادہ قیمتی اور عزیز سمجھتے ہوئے ، ایک سوال نے بار بار اس کے دماغ میں سر اٹھایا تھا.
” میرے ماں باپ نے بھی مجھ سے ایسی ہی یا شاید اس سے بھی زیادہ محبت کی ہو گی ؟ ” اس سوال کا جواب اثبات میں دینا مشکل نہیں تھا .
اصل تنازعہ اس سے اگلے سوال پر کھڑا ہوتا تھا. ” اس محبت اور قربانی کے صلے میں میں نے اپنے والدین کے لئے کیا کیا ؟ ” یہاں آ کر زبان لڑکھڑا جاتی تھی. سوال و جواب کا یہ سلسلہ بہت دن سے اندر ہی اندر جاری تھا لیکن ڈاکٹر صہیب کی نصیحت اور پھپھو سے ہونے والی گفتگو نے اسے آج سنجیدگی سے تنہائی میں بیٹھ کر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا.
اگر وہ حساب کرنے بیٹھتا تو اپنے ماں باپ کی ان قربانیوں کو کبھی شمار نہ کر پاتا جو انہوں نے اس کے بہتر مستقبل کے لئے دی تھیں. الله اور الله کے رسول ( ﷺ ) کے بعد والدین ہی وہ عظیم ہستی ہیں جن کے احسانوں کا بدلہ چاہ کر بھی اتارا نہیں جا سکتا.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
ابّا سرکاری محکمے میں ملازم تھے اور رزقِ حلال کمانا ہمیشہ ان کی اولین ترجیحات میں سے پہلی ترجیح رہی تھی. ان کی قلیل آمدنی میں میاں بیوی ، تین بچوں اور ان کی تعلیم ، گھر کے دوسرے اخراجات اور غمی خوشی کے موقع پر برادری میں لین دین جیسے تیسے کھینچ کھانچ کر پورا کر ہی لیا جاتا. اماں کے سلیقے اور کفایت شعاری نے ابّا کو کبھی ، کہیں اور کسی موقع پر شرمندہ نہیں ہونے دیا تھا. آپا بڑی تھیں اور اماں کا پرتو تھیں ، مزاج میں بھی اور سلیقے میں بھی . احمد پہلی نرینہ اولاد تھا . اماں اور آپا نے ہمیشہ اس کے لاڈ اٹھائے تھے . ابّا بھی کچھ کم نہ تھے . اسے یاد نہیں تھا کہ کبھی اس نے کوئی ایسی خواہش کی ہو جو رد ہوئی ہو . نتیجتاً اگر گھر کا مقرر کردہ بجٹ متاثر ہوتا تو اس کا اثر یا تو صرف اماں اور ابّا کی ذات پر پڑتا یا پھر مہینے میں ایک بار پکنے والے گوشت کا ناغہ کرنا پڑتا. اماں ابّا کو مہینوں نیا کپڑا پہننا نصیب نہ ہوتا لیکن اپنے بچوں کو معقول اور درمیانے درجے کے نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتا دیکھ کر ان دونوں کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا.
اگر ابا سے کوئی جاننے والا ان کی جمع پونجی یا بینک اکاؤنٹ کی بابت دریافت کرتا تو ابّا مسکرا کر احمد اور علی کی طرف دیکھتے اور جواب دیتے . ” یہ ہیں نہ میرے جیتے جاگتے بینک اکاؤنٹ. میں ان میں اپنی سرمایہ کاری محفوظ کر رہا ہوں جو ان کے مستقبل اور میرے بڑھاپے کا سہارا بنے گی. “
” بینک اکاؤنٹ ؟ ” وہ چونک گیا . اسے یاد آیا کہ ابّا کا تو آج تک کوئی بینک اکاؤنٹ کبھی رہا ہی نہیں. چند سال پہلے تک ایسے حالات ہی کہاں تھے کہ کچھ پس انداز کرنے کی نوبت آتی . لیکن پھر احمد کو سعودی عرب میں ایک اچھی ملازمت بمع ویزہ مل گئی . وہ پچھلے چھ سال سے وہاں مقیم تھا. اس کے جانے کے بعد گھر کے حالات اس قدر ضرور بدلے تھے کہ اب مہینے میں ایک کی بجائے دو دن گوشت پکنے لگا تھا. وہ گھر کے اخراجات کے لئے ایک نپی تلی رقم بھیجا کرتا تھا جس میں گھر کا گزارا چلتا تھا. یہ رقم بھی ابّا یا علی کے نام پر بھیجی جاتی یا پھر کسی آنے جانے والے کے ہاتھ ، اس لئے اکاؤنٹ کا جھنجھٹ پالنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی. وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ، اپنے سعودی اکاؤنٹ میں جمع کر رہا تھا .
الله بھلا کرے اس خیر خواہ کا جو احمد کی کمپنی میں ہی ملازم تھا اور اسی نے احمد کو صلاح دی تھی کہ ” اول تو گھر والوں ، یہاں تک کے اپنے ماں باپ کو بھی کبھی یہ مت بتانا کہ تمھاری اصل تنخواہ کیا ہے. دوسرے ، گھر میں صرف ماہانہ خرچ بھیجو اور وہ بھی سختی سے حساب لیتے ہوئے ، کہ کب ، کیا اور کہاں خرچ ہوا ہے . اس کے علاوہ اپنی ساری بچت یہاں جمع کرتے جاؤ. ایک وقت آتا ہے جب سگے بہن بھائی بھی پرائے ہو جاتے ہیں. تب یہی سرمایہ کام آتا ہے. آپ کے پاس پیسہ ہے تو سب آپ کے سگے ہیں ، ورنہ کوئی مرتے ہوئے انسان کے منہ میں پانی کی ایک بوند ٹپکانے کا بھی روادار نہیں ہے. ” اس نے اس نصیحت کو صرف سنا ہی نہیں تھا بلکہ مضبوطی سے پلے باندھ لیا تھا اور پھر ایک ایک چیز کا حساب رکھنا ، اس کا معمول بنتا گیا.
” اس مہینے بجلی کا بل زیادہ کیوں آیا ہے ؟ فالتو بلب بند کیوں نہیں کرتے آپ لوگ ؟ “
” فلاں رشتہ دار کی شادی میں ہزار روپیہ سلامی دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ پانچ سو سے بھی کام چل جاتا. “
” آپا کو چھوٹی عید پہ عیدی اور دینا دلانا ہو گیا نہ ؟ بڑی عید پہ پھر سے کیا ضرورت ہے ؟ سوا دو مہینے بعد ہی تو ہوتی ہے عيد الأضحیٰ ؟ “
” علی کا جیب خرچ بڑھانے کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں. زیادہ پیسے ملیں گے تو لفنگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگے گا اور پھر کل کو آپ ہی روئیں گے سر پکڑ کر. “
یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات اور اماں ابّا کی گڑگڑاتی وضاحتیں ……
جب ابّا گھر کے واحد سربراہ تھے تو گھر میں حساب کتاب کا کوئی رواج نہیں تھا. ابّا کو اماں کی فہم و فراست اور کفائت شعاری پہ پورا بھروسہ تھا . وہ اپنی تنخواہ لا کر خاموشی سے اماں کی ہتھیلی پر رکھتے اور مہینے بھر کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتے . اماں شوہر کی با برکت کمائی کو دانتوں سے پکڑ کر خرچ کیا کرتیں …… لیکن اسی گھر میں جب بیٹا کماؤ پوت بنا تو اماں کو یوں لگنے لگاکہ جیسے انہیں کسی چیز کی سمجھ بوجھ ہی نہیں رہی. ان کی ساری خود اعتمادی ریزہ ریزہ ہو گئی تھی. یہی اماں تھیں جو یونیورسٹی میں اس کے داخلے کے وقت اپنا خاندانی زیور تک بیچ دینے پر آمادہ ہو گئی تھیں. ابّا کی لگی بندھی آمدنی میں سفید پوشی کا بھرم تو جیسے تیسے قائم تھا لیکن اضافی اخراجات کے لئے کسی بچت وغیرہ کا کوئی سلسلہ نہیں تھا. احمد کا داخلہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ہوا تو فوری طور پر فیس جمع کروانے کا مسئلہ آڑے آگیا. اماں نے بڑی خوشی سے اپنے میکے اور سسرال کی طرف سے ملنے والے زیورات بیچنے کے لئے آمادگی ظاہر کر دی تھی. بیٹے کے روشن مستقبل کے لئے تو وہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرتیں …… لیکن ابّا وضع دارانسان تھے. انہیں یہ بات گوارہ نہیں تھی کہ بزرگوں کی نشانی کو کسی بھی قیمت پر بیچا جائے. چنانچہ قرعہ فال ابّا کے سکوٹر کے نام نکلا ، جو گھر میں موجود واحد سواری تھی . اماں کو اس تجویز سے اختلاف تھا لیکن ابّا نے یہ کہہ کر انہیں بہلا لیا کہ چند سال کی ہی تو بات ہے . احمد کو بہت اچھی ملازمت ملے گی تو وہ نیا نکور سکوٹر لے لیں گے. اسے البتہ اس ساری بحث سے کوئی سروکار نہیں تھا . وہ تو بس یہ جانتا تھا کہ بچپن سے اب تک اماں اور ابّا نے اس کے لئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ نکالا تھا . والدین ہونے کے ناتے یہ ان کا فرض بھی بنتا تھا.
بلآخر سکوٹر بِک گیا. ابّا پہلے گھر سے اپنی ذاتی سواری پر سوار ہوتے تھے اور دفتر جانے تک انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا. اب انہیں گھر سے نکل کر تقریباً ایک کلو میٹرپیدل چل کر قصبے کے اڈے تک جانا پڑتا. وہاں سے ایک بس اور ایک ویگن تبدیل کر کے وہ دفتر پہنچ پاتے. اگلے چار سال گرمی سردی میں ان کا یہی معمول رہا لیکن انہوں نے اتنی مشقت اٹھا کر بھی کبھی ماتھے پہ بل نہیں ڈالے تھے نہ ہی کبھی بیٹے کو جتایا تھا کہ اس کی وجہ سے یہ بیگار ان کے حصے میں آئی. بیرون ملک جا کر احمد نے ایک مستعمل سکوٹر خرید لیا تھا جو تب سے علی کے زیر استعمال تھا کیونکہ اس وقت تک ابّا ریٹائر ہو چکے تھے. ابّا کاسالوں پرانا ایثار یاد کر کے اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے.
ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم کا بڑا حصہ آپا کی شادی اور بچا کھچا گھر کی انتہائی ناگزیر مرمت پہ صَرف ہو گیا. احمد کو سعودی عرب میں نوکری ملنے کے باوجود ابّا نے اسی سرکاری محکمے میں ملازمت میں دلچسپی ظاہر کی جہاں وہ پہلے کام کرتے تھے اور ان کی ایمان داری کے سبب ریٹائرمنٹ کے باوجود انہیں پھر سے ملازمت کی پیش کش کی گئی تھی. ان کا ذاتی خیال تھا کہ ان کی صحت ابھی اس بات کی اجازت دیتی تھی اس لئے انہیں ہاتھ پیر چھوڑ کر بیٹھ رہنا زیب نہیں دیتا. اس تجویز کی سب سے زیادہ مخالفت احمد نے کی تھی جس کی درپردہ وجہ یہ تھی کہ خود کماتے ہوئے اپنے بزرگ باپ سے ملازمت کروانا ، اس کے لئے گاؤں اور برادری میں سبکی کا باعث بن سکتا تھا اور اس کی نیک نامی پہ الگ حرف آتا. سادہ لوح اماں ابّا آج تک اصل محرک سے انجان اور بیٹے کی سعادت مندی پر نازاں تھے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Saraab Rahein Novel by Janaa Mubeen – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: