Wo Jo Qarz Rakhte thay Jaan Par Novel By Imran Liaqat – Last Episode 5

0
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت – آخری قسط نمبر 5

–**–**–

اپنی شادی سے ایک ہفتہ پہلے اس نے اپنے کمرے میں اے سی لگوا لیا. اماں ابّا کو ایسی سہولتوں کی نہ عادت تھی اور نہ ہی خواہش ……. عادت والی بات تو سو فیصد درست تھی لیکن خواہش ؟ ……. اگر ان کے پاس بیٹھ کرکوئی غمخوار ان کی خواہشات کی بابت دریافت کیا جاتا تو شاید کوئی بھولی بھٹکی حسرت سامنے آ ہی جاتی لیکن اتنے مصروف دور میں اتنا فارغ وقت تھا ہی کہاں ؟……. رہ گیا علی ، تو وہ ہمیشہ سے گرمیوں کا موسم کھلے صحن میں سو کرگزارا کرتا تھا ، سو اب بھی کوئی نئی بات نہیں تھی. ویسے بھی بچت تو جہاں اور جتنی ممکن ہو ، کر لینی چاہئے. مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کوئی چیز ہوتی ہے.
جب سے اس کی شادی ہوئی تھی ، ثمرہ نے گھر کا نظام خوش اسلوبی سے سنبھال لیا تھا. آپا کی شادی کے بعد اور اس کی شادی سے پہلے کے تین سال کے عرصے میں اماں جوڑوں کے تکلیف دہ درد کے باوجود جیسے تیسے گھر کے کام نمٹاتی رہیں. آپا جو اپنے تایا زاد سے بیاہی گئی تھیں ، اپنے سسرال والوں کی رضامندی سے اپنے گھر کا کام ختم کر کے مقدور بھر اماں کا ہاتھ بٹا جاتیں لیکن بہرحال بیاہی بیٹیوں کے اپنے گھر کے سو جھمیلے ہوا کرتے ہیں. چند دن پہلے ہی اس نے صرف اس لئے گھر میں ایک کل وقتی ملازمہ رکھ چھوڑی تھی تا کہ ثمرہ کا زیادہ تر وقت اشعر کی دیکھ بھال میں گزرے. لیکن اس بڑھاپے میں جوڑوں کے درد سے ہانپتی ماں کے لئے کل وقتی تو کیا ، جز وقتی ملازمہ رکھنے کا خیال بھی ا س کے دل میں کبھی نہیں آیا تھا. اماں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج بھی دل جمعی سے کہاں کروایا تھا . کبھی دودھ میں ہلدی ڈال کر پی لی ، کبھی پِسی ہوئی ادرک کے مرہم کا لیپ لگا لیا یا پھر تیل میں لونگ جلا کر مالش کی اور گرم پٹی باندھ لی . ….. بڑی حد ہوئی تو تین گلی چھوڑ کر رہنے والے حکیم صاحب سے جو اپنے گھر کی بیٹھک میں ہی حکمت کا کام کرتے تھے ، سستے اور مقوی سفوف کی دو تین پڑیاں یا معجون کی ڈبیہ پکڑ لی ، الله الله خیر صلاه …..
آج پھپھو سے گفتگو کے دوران اس پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ اس کی اماں کے نچلے جبڑے کے دائیں طرف سے تین اور بائیں طرف سے دو دانت جزوی طور پر خراب ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کھانا کھانے میں شدید تکلیف اور دشواری کا سامنا تھا. انہوں نے علی کے ساتھ شہر جا کر ایک اچھے دندان ساز سے علاج کروانا چاہا تو پینتالیس ہزار کی خطیر رقم کا سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے واپس آ گئیں. اس کے بعد انہوں نے ایک سستے معالج سے اٹھارہ سو روپے میں انتہائی غیر معیاری علاج کروایا جس کی وجہ سے ان کے دانتوں کی جڑ میں پیپ کی شکایت رہنے لگی تھی. اسے اس تمام صورت حال سے اس لئے بے خبر رکھا گیا تھا تا کہ پردیس میں ” مشقت کی بھٹی میں پِستا ” ماں کا لعل پریشان نہ ہو. اس کے سعودی اکاؤنٹ میں اس کی ذاتی بچت ، دو لاکھ ریال سے تجاوز کر چکی تھی لیکن اس کی ماں یہاں لگ بھگ بارہ سو ریال کی عدم دستیابی کی وجہ سے کھانا کھانے جیسی بنیادی ضرورت سے بھی لاچار تھی.
وہ جس قدر سوچتا جا رہا تھا ، اسی قدر اسے اپنی بے حسی پر کڑھن ہو رہی تھی. اس کی خود غرضی اور مستقبل کے ان دیکھے وسوسوں کی بھینٹ چڑھ کر اس کے اپنے خونی رشتے ایک اوسط درجے کے معیار زندگی سے تو محروم تھے ہی. اس پہ مستزاد ، اس کا ان سب سے رویہ بھی دل جوئی یا خیر خواہی والا نہیں رہا تھا. پچھلے سال جب ابّا نے گاؤں میں ہی معقول قیمت پر دستیاب ایک رہائشی جگہ خریدنے کے لئے اسے آمادہ کرنا چاہا تو اس نے کس قدر ترشی سے انہیں یہ کہہ کر خاموش کروا دیا تھا کہ انہیں کیا خبر انویسٹمنٹ کیا ہوتی ہے ؟ وہ ساری عمر گاؤں میں رہے ، ان کی سوچ بھی گاؤں تک محدود تھی. آج کل تو ہر بندہ بحریہ ٹاؤن ، عسکری یا ڈیفنس ہاؤسنگ میں سرمایا کاری کر رہا تھا جہاں تیزی سے زمین کی مالیت بڑھتی تھی . گاؤں میں کون پیسہ برباد کرتا ہے ؟ ابّا کو اس کے انکار سے اتنا صدمہ نہیں ہوا تھا جتنی ٹھیس اس کے تلخ اور گستاخ لہجے نے پہنچائی تھی. جس بیٹے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا ، آج اسی نے انہیں باور کروا دیا تھا کہ وہ زمانے کے ساتھ نہیں چل سکتے. اس دن بیٹے پہ انحصار کرنے والے ایک مجبور باپ کا دل خون کے آنسو رویا تھا لیکن انہوں نے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا اور خاموشی سے فون اماں کو تھما کر نماز پڑھنے چلے گئے تھے.
گھر والوں کو ماہانہ اخراجات کے لئے ایک نپی تلی رقم بھیج کر اس نے ہمیشہ یہی گمان کیا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری سے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ انصاف کر رہا ہے. اس کا حساب بالکل صاف تھا. اپنی دانست میں تو وہ اپنے والدین کے ان تمام احسانات کا قرض تقریباً چکا بیٹھا تھا جو انہوں نے اس کی اعلیٰ تعلیم یا بہتر مستقبل کی خاطر ، اس پر کیے تھے.
بھلا کوئی والدین کا قرض بھی کبھی اتار پایا ہے ……. ؟؟؟
اسے اپنی پشت پر قدموں کی دھیمی سی چاپ سنائی دی. وہ دیکھے بغیر بھی بتا سکتا تھا کہ یہ اماں ہیں. وہ جس طرح مزاج کی دھیمی تھیں ، ایسے ہی ان کا چلنے پھرنے کا انداز بھی تھا جیسے زمین پر رینگنے والی کسی معمولی سی چیونٹی تک کو تکلیف نہ پہنچانا چاہتی ہوں. پچھلے چند سالوں سے تو ان کی طبیعت اور اطوار میں مزید ٹھہراؤ اور نرمی آ گئی تھی. عورت اپنے شوہر کی سلطنت میں شان سے حکمرانی کرتی ہے. بیٹا گھر کا سربراہ بنا تو وہ خود ہی ، بنا کچھ کہے اس حکمرانی سے بھی دستبردار ہو چکی تھیں. اماں کے قریب آ جانے پر وہ اٹھ کر سیدھا ہوا تو وہ بھی اس کےپاس ہی چارپائی پر بیٹھ گئیں. انہیں آج اس کے چہرے پہ غیر معمولی سنجیدگی نظر آ رہی تھی.
” کیا بات ہے احمد پتر ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے تیری ؟ تو نے کھانا بھی سئ (صحیح) طرح سے نہیں کھایا ؟ کوئی مسئلہ ہے پتر ؟ ” اماں کی تشویش اور دلجوئی سے اس کا دل بھر آیا. پچھلے ایک گھنٹے سے خود کو کٹہرے میں کھڑا کیے رکھنے کے باوجود ، اس نے خود پر ضبط کر رکھا تھا لیکن اماں کی فکرمندی محسوس کر کے اس کے آنسو چھلک گئے. اس نے تیزی سے بایاں بازو اپنی آنکھوں پہ رکھ کر، اسی ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو رگڑ ڈالے. ” میں ٹھیک ہوں اماں. فکر کی کوئی بات نہیں.” اس کے بھیگے ہوئے لہجے اور رندھی ہوئی آواز نے اماں کو مزید بے چین کر دیا. وہ اس کے مزاج کے ہر رنگ سے واقف تھیں. اس کے انداز میں ایسی شکست خوردگی صرف تب آیا کرتی تھی جب وہ بچپن یا لڑکپن میں کسی سے ہار کر گھر آتا تھا لیکن آج کیا ہوا تھا ؟ آج وہ کس سے ہارا تھا جو اس طرح نڈھال نظر آ رہا تھا.
” کچھ بتائے گا نہیں اپنی ماں کو ؟ ” اماں نے کہتے ہوئے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا. اس نے اپنے دونوں بازو اماں کے گرد لپیٹ لئے اور اماں کے کندھے پر سر ٹکائے بے آواز آنسو بہانے لگا. اس کو اپنے پچھتاووں بھرے دل کو ہلکا کرنے کی اشد ضرورت تھی تا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ سوچ سکے.
” تم دونوں ماں بیٹا کون سے دکھ سکھ چھیڑ کے بیٹھے ہو بھئی ؟ ” ابّا جان معمول کے مطابق ، خبرنامہ سننے کے بعد خارجی دروازے کو تالا لگانے آئے تھے جب ان دونوں کو صحن میں بیٹھا دیکھ کر خوش دلی سے استفسار کیا. ابّا کی آواز سن کر احمد نے ہلکا سا سر اٹھایا اور مڑے بغیر اپنے آنسو صاف کرنے لگا. اماں کے سامنے بے اختیاری میں جس جذباتیت کا مظاہرہ وہ
کر چکا تھا ، اسے ابّا کے سامنے دوہرانا نہیں چاہتا تھا.
” کج نئیں (کچھ نہیں) احمد مجھے اپنے سنگی یاروں (ساتھیوں اور دوستوں) کی باتیں سنا رہا تھا. ” اماں نے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بیٹے کا بھرم رکھا.
“ابّا آپ بھی آئیں نہ ! ہمارے ساتھ بیٹھیں. آج آپ دونوں سے بہت سی باتیں کرنے کو جی کر رہا ہے.” اس نے کھسک کر اپنے بائیں طرف چارپائی پر ابّا کے لئے جگہ بنائی. ابّا اس کے بدلے ہوئے رویے پر خوش گوار سی حیرت لئے اس کے قریب آ بیٹھے. اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے اماں کا بایاں اور بائیں ہاتھ سے ابّا کا دایاں ہاتھ پکڑ کر باری باری چوما اور پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے سینے سے لگا لیا. اماں اور ابّا نے پہلے تو بے اختیار ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بیٹے کو.
” آپ دونوں نے آج تک جو کچھ بھی میرے لئے کیا …….. بلکہ ہم سب بہن بھائیوں کے لئے کیا ، ہم چاہیں بھی تو اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے. ” اس کے چند لفظی مختصر سے اعتراف نے اماں ابّا کا سیروں خون بڑھا دیا تھا. انہیں یوں لگ رہا تھا جیسے عمر بھر کی قربانیوں کا خراج وصول ہو گیا ہو. ماں باپ اس سے زیادہ اپنی اولاد سے چاہ بھی کیا سکتے ہیں کہ وہ ان کے ایثارکو تسلیم کریں …. اس ایثارکا احترام کریں.
” نہیں بیٹا ! میں تو تم لوگوں کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکا. مجھے ہمیشہ اس بات کا ملال رہا کہ میرے بیوی بچے ہمیشہ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے. میں اپنی اولاد کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن محدود وسائل کی وجہ سے کر نہیں سکا. رزق حلال کماتے ہوئے بس یہی کچھ دے سکتا تھا تم لوگوں کو. ” ابّا کی کم مائیگی اور حسرت پہ وہ تڑپ اٹھا.
” نہیں ابّا ! ایسا نہ کہیں آپ. مجھے فخر ہے کہ میں آپ کا بیٹا ہوں. میں ایک ایسے انسان کی اولاد ہوں جس نے کبھی ایک بھی حرام کا لقمہ اپنے بیوی بچوں کے پیٹ میں نہیں جانے دیا. جس نے اپنی خواہشات مار کر اپنی اولاد کی خواہشات کی تکمیل کی ……. کیا میں جانتا نہیں کہ مہینوں گزر جاتے تھے جب آپ دونوں نے کبھی اپنے تن پہ نیا لباس نہیں پہنا. اپنا پیٹ کاٹ کر آپ نے ہمیں اچھے اداروں میں تعلیم دلوائی. افسوس تو اس بات کا ہے کہ میں آپ کی قربانیوں کی قدر نہیں کر سکا. بلکہ الٹا آپ سے سختی سے بات کر کے آپ کا دل دکھانے کا مجرم بنا . …. مجھے معاف کر دیں . میری ہر غلطی اور گستاخی کی معافی دے دیں مجھے. اس سے پہلے کہ الله کی طرف سے میری پکڑ آ جائے. ” اس نے باری باری دونوں کی طرف دیکھ کر بات مکمل کی تو ابّا نے شفقت سے اس کا ماتھا چوم لیا.
” ایسے نہ بول پتر ! تو نے تو اپنی بساط سے بڑھ کر ہمیں سہارا دیا ہے. خود پردیس کاٹتے ہوئے ، ہمیں اس بڑھاپے میں عزت سے چار دیواری کے اندر بٹھایا ہوا ہے. ورنہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے میں بھی مزدوری کرنے اور در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں ……… اور جہاں تک بات ہے سخت لہجے کی ، تو جو بندہ پردیس میں اتنی محنت سے روزی روٹی کماتا ہے ، گھر والوں اور بیوی بچوں سے دور رہ کر ، اس کے لہجے میں اتنی کڑواہٹ تو آ ہی جاتی ہے. اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے.” ابّا جان نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے احساس ندامت سے باہر نکالنا چاہا. اولاد کا اپنا ظرف ہوتا ہے اور والدین کا اپنا ….. لیکن اب وہ صرف باتوں سے بہلنے والا نہیں تھا. اسے ادراک ہو چکا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کوسدھارنے کے لئے اسے بہت سے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.
” اماں کل ہم دوبارہ اسی ڈاکٹر کے پاس جائیں گے جس کے ہاں آپ علی کے ساتھ گئی تھیں تا کہ آپ کا با قاعدہ علاج شروع ہو سکے. کل جا کر ہم نئے بننے والے مصنوعی دانتوں کا ماپ دے آئیں گے . پھر میں واپس بھی چلا جاؤں گا تو علی آپ کو لے جایا کرے گا. پھر آپ کو کھانا کھانے میں کوئی تکلیف نہیں ہو گی ان شاء الله. ” اماں نے حیران ہو کر ابّا کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھ رہی ہوں کہ یہ بات احمد کو کیسے پتہ چلی. ابّا نے اپنے چہرے کے تاثرات سے لاعلمی کا اظہار کیا تو اماں دوبارہ احمد کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے گویا ہوئیں.
” پتر وہ ڈاکٹر تو بڑے پیسے مانگ رہا تھا. میں ایک اور ڈاکٹر سے علاج کروا رہی ہوں.” اماں کے انداز میں تشویش اور ہچکچاہٹ تھی. ان کے بیٹے کی محنت کی کمائی وہ یوں کسی ڈاکٹر کو تھما دینے پر قطعاً رضامند نہیں تھیں.
” تو کیا ہوا اماں ؟ پیسے آپ کی صحت سے زیادہ اہم تو نہیں ہیں نہ ……. اور پھر میں پیسے کما کس کے لئے رہا ہوں ؟ میری کمائی پہ سب سے زیادہ حق میرے ماں باپ کا ہے.” احمد کے لہجے میں انتہا کی سعادت مندی تھی. اماں نے بھلا اس کے یہ انداز کب دیکھے تھے. ممنونیت کے احساس سے امڈ آنے والے آنسو انہوں نے اپنی چادر کے پلو میں جذب کر لئے.
” اور ابّا کل ہی ہم بینک بھی جائیں گے. میں ارشد بھائی کو فون کر دیتا ہوں. وہ صبح آ جائیں گے تو ہم ان کے ساتھ چلیں گے. میں چاہتا ہوں یہ دونوں کام کل ہی نمٹ جائیں. اور آئندہ بھی آپ دونوں کو کہیں جانا ہو تو آپ ارشد بھائی کو بلا لیا کریں. میں ان کے ساتھ ہر مہینے کے آخر میں حساب کر لیا کروں گا. ” اب حیران ہونے کی باری ابّا جان کی تھی.
” بینک ؟ بینک کیوں جانا ہے پتر ؟ ” ڈاکٹر کے پاس جانے تک تو ٹھیک تھا لیکن انہیں اس دوسرے کام کی وجہ واقعی سمجھ نہیں آئی تھی.
” دراصل میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کا اکاؤنٹ کھلوا دوں. واپس جا کر اس میں دس لاکھ روپے ڈپازٹ کروا دوں گا. میں سوچ رہا تھا کہ آپ کو کبھی اگر فوری طور پر رقم کی ضرورت پڑے ، میرا مطلب ہے کسی غمی خوشی میں تو آپ کے پاس متبادل موجود ہو. ” احمد نے وضاحت کی.
” لیکن بیٹا ! ہمیں پیسوں کی کیا ضرورت پڑنی ہے. گھر کا خرچہ تم ہر مہینے بھیج ہی دیتے ہو. جب سال میں ایک بار گندم ، چاول وغیرہ خریدنے ہوتے ہیں ، تب اضافی پیسے بھی تو تم ہی بھیجتے ہو. اس کے علاوہ ہماری کون سی ضرویات ہیں. ” ابّا جان ابھی بھی متامل تھے.
” چلیں آپ یہ پیسے امانتاً اپنے اکاؤنٹ میں رکھ لیں. اگر استعمال نہ ہوئے تو پڑے رہیں گے. میری خواہش ہے کہ آپ کے پاس ایک ایسی معقول رقم موجود ہو ، جسے خرچ کرنے کے لئے آپ کو کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہ پڑے …………. اچھا ! چلیں میری خوشی کے لئے ہی مان جائیں نا .” ابّا جان نے مزید کچھ کہنے کے لئے لب وا کیے لیکن بیٹے کے ملتجیانہ انداز نے کچھ کہنے سننے کی گنجائش ہی ختم کر دی. انہوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا. وہ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ چلو بیٹے کی خوشی کی خاطر اس کی بات مان لیتا ہوں لیکن یہ پیسے امانتاً اسی اکاؤنٹ میں جمع رہیں گے.
★ ✩ ✩ ✩ ★ ✩ ✩ ✩ ★
اماں ابّا سے معافی تلافی کے بعد وہ بہت ہلکا پھلکا ہو کر اپنے کمرے میں واپس آیا تھا. آج اس نے حقوقُ العباد کے معاملے میں درست ترتیب کا تعین کر لیا تھا . …… پہلا حق والدین کا اور دوسرا بیوی بچوں کا.
والدین وہ ہستی ہیں جنہوں نے ہم پہ ہمیشہ احسانات کیے ہوتے ہیں ، کسی بھی قسم کے بدلے کی چاہ کے بغیر ……
اور اولاد ، وہ ہے جس پہ ہم احسان کرتے ہیں ، ان کو پال کر ، ان کی تربیت کر کے ، ان کے لئے ہر طرح کی مشقت اٹھا کر ……
تو پھر اگر انصاف کی رو سے دیکھا جائے تو پہلا حق تو اسی کا ہوا نہ جس نے ہم پہ احسان کیا ، نہ کہ اس کا جس پہ ہم احسان کر رہے ہیں.
” یہ شرارتی ابھی تک جاگ رہا ہے ؟ ” اشعر کو جاگتے اور فضا میں ہاتھ پیر چلاتے دیکھ کر اس نے ثمرہ سے پوچھا .
” جی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی جاگا ہے. ہر آدھے گھنٹے بعد تو دودھ پینا ہوتا ہے آپ کے صاحبزادے کو. ماں کے آرام کا ذرااحساس نہیں اس کو.” اس کے الفاظ میں لاڈ بھرا شکوہ اور لہجے میں ممتا کی گرمجوشی تھی.
” خبردار ! اگر میرے شیر پتر کے سونے جاگنے پہ کوئی اعتراض کیا تو …… ” احمد نے قریب آ کر اس کے ننھے ننھے ہاتھ جذب سے چوم لئے. اس کے الفاظ میں مصنوعی خفگی اور لہجے میں پِدرانہ شفقت تھی.
” اگر یہ دنیا میں نہ آتا ، تو شائد اس کا باپ بھی کبھی غفلت کی نیند سے نا جاگ پاتا. ” اس نے خود کلامی کی.
” کیا مطلب ؟ ” ثمرہ نے نہ سمجھی سے اس کی طرف دیکھا.
“مطلب پھر کبھی تفصیل سے سمجھاؤں گا. ابھی مجھے سونا ہے. صبح آٹھ بجے تک لازمی جگا دینا. کچھ ضروری کام ہیں جو کل ہی نمٹانے ہیں. ان شاء الله.” اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی اتار کر پلنگ کے ساتھ ملحقہ میز پہ رکھتے ہوئے نرمی سے تاکید کی. ثمرہ کو اس کے انداز میں کچھ غیر معمولی بدلاؤ محسوس ہوا. یہاں رہتے ہوئے وہ کبھی بھی صبح آٹھ بجے نہیں اٹھا کرتا تھا لیکن اس نے ایک مدبر شریکِ حیات کی طرح صاحب بہادر کا موڈ بھانپتے ہوئے مزید سوال و جواب سے گریز کیا.
احمد نے پر سکون اور مطمئین ہو کر آنکھیں موند لیں. وہ یہ سوچ کر ہر قسم کے ذہنی تناؤ سے آزاد ہو چکا تھا کہ کل کا سورج اس کی زندگی میں عملی تبدیلی کا محرک بن کر طلوع ہو گا. صد شکر کہ ابھی ناقابلِ تلافی تاخیر نہیں ہوئی تھی.

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: