Wo khud fana ke safar main tha by Nuzhat Jabeen – Episode 1

0

وہ خود فنا کے سفر میں تھا از نزہت جبین ضیا قسط نمبر 1

میری شادی کو بیس سال گزر جانے کے بعد… کٹھن اور خاردار طویل سفر کرنے کے بعد آج… آج میں جس مقام پر اور جس حیثیت سے کھڑی تھی… میں نے جو کچھ پایا تھا‘ جس تکلیف دہ حقیقت کا ادراک مجھ پر ہوا تھا‘ وہ سب کچھ سن کر میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر روئوں یا پاگلوں کی طرح ہنسوں؟ میں کچھ پالینے کی کھوج میں جس منزل کی چاہ کررہی تھی جس کانٹوں بھری گزر پر چلتی ہوئی یہاں تک آئی تھی اور… اور یہاں پہنچ کر میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا میں اس سوال میں الجھ کر خود سے ہی سوال کررہی تھی کہ میں نے کیا کھویا… کیا پایا؟
اپنی اوقات کا ادراک تو میری روح کو چھلنی کیے دے رہا تھا اور ساتھ پچھتاوا و دکھ بھی تھا۔ اس بھیانک حقیقت کو جان کر اپنی آنکھوں سے اس حالت میں دیکھ کر میر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ نہ جانے یہ کیسی آزمائشیں‘ کیسا امتحان تھا؟ کتنا دشوار گزار اور کٹھن سفر تھا؟ اور آج… ان آزمائشوں میں دکھ‘ پچھتاوا‘ اپنا یوں بے وقعت ہوجانا‘ کرب مسلسل کی طرح میرے دماغ پر کچوکے لگا رہا تھا۔ میرا سارا وجود ہتک کے احساس سے لرزنے لگا تھا۔ بے چینی اور اضطراب تھا کہ سیل رواں کی طرح بڑھتا چلا جارہا تھا‘ جلے پائوں کی بلی کی طرح میں لائونج میں ادھر سے اُدھر چکر لگارہی تھی۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں جیسے سلب ہوتی جارہی تھیں۔ اولڈ ہوم میں جو دیکھا وہ میرے لیے دکھ اور تکلیف کا باعث تھا تو ساتھ ہی توہین کے احساس سے میرا روم روم اذیت کا شکار تھا۔ میں گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔

’’نمرہ! کان کھول کر سن لو یہ قطعی ناممکن ہے۔‘‘ نائلہ بیگم نے سخت لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا۔
’’کیوں مما! ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟‘‘ میں نے بھی اسی انداز میں سوال کیا۔
’’اس سوال کا کیا مطب ہے تمہارا؟ تمہیں خود اندازہ نہیں ہے اس کی اور اپنی حیثیت کا؟ زمین اور آسمان کا فرق ہے اور تمہارے پاپا کسی صورت اس رشتے پر راضی نہیں انہوں نے تمہارا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے وامق سے طے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ تم اس لڑکے کو بھول جائو اور پیپرز ختم ہوتے ہی شادی کی تیاریوں میں میرا ہاتھ بٹائو۔‘‘
’’اوہ نو مما!‘‘ میں نے بے ساختہ کہا۔ ’’وامق آوارہ مزاج اور بگڑا ہوا لڑکا ہے پاپا اپنی دوستی کے لیے مجھے قربان نہیں کرسکتے۔‘‘
’’بگڑا ہوا نہیں ہے پیسے کی زیادتی سے تھوڑا سا لااُبالی ہے اور شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجاتے ہیں اور… اور تم کون سی حور پری ہو کہ تمہیں کوئی شہزادہ ملے گا؟‘‘ مما کے طنزیہ جملے پر میرے چہرے پر دکھ نمایاں ہوگیا اور میری نظر بے ساختہ ڈریسنگ ٹیبل کے بڑے سے شیشے پر ٹھہری۔ دبلی پتلی‘ سانولی رنگت اور مناسب نقوش‘ مجھ میں کچھ خاص اور متاثر کردینی والی کوئی چیز بھی نہیں تھی جب کہ میرے پاپا اور مما کافی خوب صورت تھے۔
مجھے سے بڑے میرے عاشر بھائی تھے۔ پاپا کا بزنس نہ صرف کراچی بلکہ دوسرے شہروں میں بھی خوب چمک رہا تھا‘ میں ہسٹری میں ماسٹرز کررہی تھی میرے ساتھ یونیورسٹی میں جاذب پڑھتا تھا۔ جاذب غریب فیملی سے تعلق رکھتا تھا جو بہت مشکل اور محنت کے بعد تعلیم حاصل کررہا تھا کیوں کہ اس کے والد فوت ہوچکے تھے اور وہ اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ جاذب پڑھائی میں کافی اچھا تھا‘ میں اکثر پڑھائی میں اس کی ہیلپ لے لیتی تھی۔ وہ شرمیلا سا‘ خاموش طبع اور کافی گڈ لکنگ تھا۔ میں دل ہی دل میں صبور کو پسند کرنے لگی تھی۔ شاید وہ بھی مجھے پسند کرنے لگا تھا لیکن وہ میری اور اپنی حیثیت جانتا تھا۔ میں لمبی سی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ یونیورسٹی آتی‘ میرے کپڑے‘ شوز اور میرا بیگ سب بیش قیمت ہوتے‘ وہ پوائنٹ سے آتا جاتا معمولی کپڑے اور معمولی گھڑی استعمال کرتا اور شاید اسی طبقاتی فرق کو محسوس کرتے ہوئے وہ آج تک مجھ سے اپنے دل کی بات نہ کہہ پاتا۔ میں بے شک مالی لحاظ سے مستحکم تھی لیکن صورت شکل کے لحاظ سے جاذب مجھ سے کئی گناہ بہتر تھا۔
ہم دونوں غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے کے نزدیک آگئے تھے لیکن دونوں ہی چپ تھے میں تو لڑکی تھی اس لیے فطری حجاب مانع تھا اور وہ شاید میری حیثیت سے مرعوب تھا۔ ہم دونوں شاید اسی طرح ہی اپنی پڑھائی سے فارغ ہوکر اپنی اپنی راہوں پر چل دیتے لیکن اس روز ہم لوگوں کا لاسٹ پیپر ہوچکا تھا۔ ہم سب فرینڈز بیٹھ کر باتیں کررہے تھے کہ اچانک لفظ ’’محبت‘‘ چھڑ گیا سب محبت کے بارے میں اپنی اپنی رائے دے رہے تھے جیسے محبت زندگی ہے‘ محبت جینے کے لیے ضروری ہے‘ محبت کے بنا زندگی ادھوری ہے‘ محبت دردِ دل ہے‘ محبت روگ ہوتی ہے‘ محبت سوزِ غم ہے‘ محبت المیہ ہے‘ محبت برباد کرتی ہے‘ جب جاذب کی باری آئی تو جاذب نے ایک لمحہ کے لیے آنکھیں بند کیں اس کے چہرے پر کچھ عجیب سا رنگ آیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گہری اداسی تھی۔
’’محبت ایسا جذبہ ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں یہ خودبخود پرورش پانے والا ایسا پودا ہے جو بنا دکھاد پانی کہ نہ جانے کب تناور درخت بن جاتا ہے اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ محبت اونچ نیچ اور ذات پات کی قید سے بالاتر وہ جذبہ ہے جو کہ واقعی اندھا ہوتا ہے۔‘‘ جملہ مکمل کرکے صبور نے ایک لمحے کے لیے مجھے جن نظروں سے دیکھا اور درپردہ اپنے دل کی بات بھی کہہ ڈالی اس کے لہجے میں احساسِ کمتری اور کم مائیگی کا احساس تھا۔ میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور… اور اس نے جلدی سے نگاہیں جھکالیں لیکن ایک لمحے میں… میں اس کی کیفیت سے‘ اس کے ان کہے جذبوں اور اس کی خاموش آنکھوں میں چھپے پیغام سے واقف ہوچکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد تمام فرینڈز اٹھ کر چلے گئے تھے میں اور جاذب وہیں بیٹھے رہے۔
’’جاذب تمہارے ان کمنٹس کا مطلب؟‘‘ میں نے ایک لمحے کے توقف کے بعد اس سے سوال کیا۔
’’آں… کچھ… کچھ نہیں۔‘‘ اس نے چونک کر مجھے دیکھا پھر گھبرا کر جلدی سے بولا۔
’’جاذب ادھر میری طرف دیکھ کر بات کرو۔‘‘ جاذب کو نیچے گھاس کی طرف دیکھتے پاکر میں نے اس کو دوبارہ مخاطب کیا اس نے نگاہ اٹھائی۔
’’نمرہ! سچ تو یہ ہے کہ میں… تم سے محبت کرنے لگا ہوں پلیز میری بات کا برا مت ماننا۔ محبت غیر اختیاری اور منہ زور جذبہ ہے جسے روکنا یا اس کو قابو کرنا ہم انسانوں کے بس کی بات نہیں بلکہ ہم خود اس کے آگے اتنے بے بس ہوجاتے ہیں کہ وہ ہم پر حاوی ہوجاتی ہے میں بھی تمہاری اور اپنی حیثیت بھول کر محبت کی گرفت میں آچکا ہوں۔ میں جانتا ہوں تم امیر باپ کی بیٹی ہو‘ تمہارے پرس میں روز اتنے پیسے آتے ہیں کہ جتنا میرا مہینہ کا خرچہ ہے مگر… دل کم بخت ایسی تاویلوں کو کہاں مانتا ہے اس نے تو جرم کر ڈالا۔‘‘ جاذب کے لہجے میں احساس کمتری اور بے چارگی نمایاں تھی اور میرے دل میں جلنے والی وہ دبی دبی سی چنگاری جس کی ہلکی ہلکی تپش محسوس کررہی تھی اچانک سے وہ چنگاری بھڑک اٹھی تھی۔
’’جاذب! محبت کا گناہ جو تم نے کیا ہے اس کے تم اکیلے قصور وار نہیں ہو‘ میں بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہوں۔‘‘ میرے اعتراف پر اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا اس کی آنکھوں میں اچانک ہی خوشی نمایاں ہوئی تھی دفعتاً اس کی خوشی یک دم غائب ہوگئی تھی اس نے مایوس نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’نمرہ تمہیں معلوم ہے ناں کہ میرے ابو نہیں ہیں‘ بس میری ماں ہیں۔ میرے ابا کی مختصر سی پنشن آتی ہے ایک دکان کا مختصر سا کرایہ جس سے ہمیں بمشکل اپنے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرتا ہوں‘ ہمارے مہینے کے اخراجات تمہارا ایک دن کا خرچہ ہوگا اور…‘‘
’’جاذب…!‘‘ میں نے اس کی بات کاٹی۔ ’’میری نظر میں یہ باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ محبت ان سب چیزوں سے بالاتر ہوتی ہے مجھے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور میں… میں ہر قسم کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتی ہوں۔‘‘ میرے پرعزم اقرار پر اس کی بجھتی آنکھوں میں ایک بار پھر روشنی کی چمک دکھائی دینے لگی۔
’’اور تمہارے والدین…؟‘‘ سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ ’’وہ مجھے لالچی نہ سمجھیں‘ خدا گواہ ہے نمرہ! مجھے صرف اور صرف تمہاری چاہت ہے تمہارے اسٹیٹس سے نہیں۔‘‘
’’مما اور پاپا کو ماننا پڑے گا۔‘‘ میں نے فیصلہ کن انداز میں کہا‘ وہ سر ہلاکر رہ گیا۔
میں خود بھی تھوڑی حسن پرست تھی‘ مجھے جاذب سے واقعی محبت ہوچکی تھی۔ حسین ہم سفر کے ساتھ کی تمنا ہر کسی کو ہوتی ہے‘ میں نے دو دن بعد ہی جاذب کو گھر بلوایا تاکہ وہ مما سے مل لے۔ مما نے دل بھر کے اس کی ہتک کی‘ فیملی‘ آمدنی‘ خاندان اور گھر کے رقبے کے بارے میں سوالات کرکے اس کو شرمندہ کرتی رہیں۔ وہ بے چارہ گلٹی ہوتا رہا اور میں بھی شرمندگی محسوس کررہی تھی مما سے مل کر جاذب کوئی خاص اچھا تاثر لے کر نہیں لوٹا تھا۔
’’مما! جب میں نے آپ کو جاذب کے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتادیا تھا تو پھر کُریدنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ مجھے مما پر بہت غصہ آرہا تھا تب ہی جاذب کے گھر سے نکلتے ہی میں نے مما سے پوچھا۔
’’وہ سوال کرنا ضروری تھے۔‘‘ مما نے ناگواری سے کہا۔
’’کسی انسان کو شرمندہ کرنا اچھی بات ہے کیا؟‘‘ میں نے بھی اسی لہجے میں سوال کیا۔
’’نمرہ چپ کرو تم… ابھی تم بچی ہو‘ تمہیں زمانے کا اندازہ نہیں ہے۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے کہ وہ خود تم سے کنارہ کرے‘ وہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ اس لیے آئندہ تم بھی اس کا نام مت لینا۔‘‘ مما کی بات پر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
’’مما! یہ قطعی ناممکن ہے کیوں کہ ایسا کسی صورت نہیں ہوسکتا نہ وہ پیچھے ہٹے گا اور نہ میں‘ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ اور پاپا اپنے رویے میں لچک پیدا کریں۔‘‘ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’نمرہ! تمہارا فیصلہ جذباتی ہے‘ تم کو اندازہ نہیں ہے کہ آگے چل کر کن کن کٹھنائیوں سے گزرنا پڑے گا۔ تمہاری ایک سینڈل کی قیمت میں وہ ماں بیٹا دو ماہ اپنے کھانے کے اخراجات پورے کرتے ہوں گے۔‘‘
’’مما پلیز!‘‘ میں مما کی اس مثال پر تڑپ کر بولی۔ ’’آپ زیادتی کررہی ہیں‘ اگر ہم امیر ہیں یا وہ غریب ہے تو اس میں اللہ کی رضا اور فیصلہ شامل ہے اور پھر پاپا نے کون سا یہ سب کچھ محنت اور جانفشانی سے کمایا ہے۔ کیا مجھے اندازہ نہیں ہے کہ پاپا نے یہ پیسہ کس طرح کمایا ہے۔ آج ہم کروڑ پتی ضرور ہیں مما لیکن ان لوگوں سے بدتر ہیں‘ جو اپنا پسینہ بہاکر چند سو روپے کماتے ہیں۔ حلال اور محنت کی کمائی سے روکھی سوکھی کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں‘ مما آپ رشتوں کو پیسے کے ترازوں میں تول رہی ہیں اور میں… میں محبت کی نظر سے۔‘‘
’’بکواس بند کرو نمرہ! تم پاگل ہوگئی ہو‘ تم نے دیکھا ہی کیا ہے ابھی تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کہاں ہے؟ تم بظاہری خوب صورتی کے پیچھے غلط فیصلہ کررہی ہو‘ یہ سب افسانوی باتیں ہیں جب حقیقت میں زندگی کی تلخیوں کا عمل زندگی میں آکر تمہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ناں تو ساری محبت رشتوں کا تقدس‘ احترام اور یہ لفاظی سب ہوا ہوجائیں گے تب تم بہت پچھتائو گی اس وقت تم اپنے غلط فیصلے پر خود ہی نادم ہوجائو گی لیکن اس وقت تم کچھ کرنے کے قابل نہیں رہو گی تمہیں اس وقت احساس ہوگا جب تمہیں رکشہ اور ٹیکسی کے پیچھے بھاگنا پڑے گا‘ بسوں میں دھکے کھانے پڑیں گے۔ گرمیوں میں لائٹ جانے پر اندھیرے اور مچھروں بھرے صحن میں راتیں گزارنی پڑیں گی جب گرمیوں کی شدتیں ہوں گی اور ٹین کی تپتی چھتیں ہوں گی جب تمہیں عام سے سودے سلف کے لیے شاپرز لیے مارکیٹوں میں گھومنا پڑے گا تب احساس ہوگا کہ دو اور دو چار کیسے ہوتے ہیں۔‘‘ مما نے حقارت سے مجھے لمبا چوڑا لیکچر دے ڈالا۔
’’مما! وہ لوگ بھی ہماری طرح انسان ہیں جو یہ ساری باتیں برداشت کرتے ہیں وہ بھی تو جیتے ہیں ناں؟ ان کی بھی تو فیملیاں ہیں ناں… کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ ہم میں کون سی الگ بات ہے کہ ہمیں یہ آسائشیں اور ان لوگوں کو زندگی کی تلخیاں ملی ہیں۔ مما اگر خدانخواستہ آپ کو کل یہ سب کچھ سہنا پڑے تو کیا آپ خودکشی کرلیں گی؟ بس میں اب ایسا کچھ نہیں کروں گی نہ آپ سے مدد مانگوں گی جو میرے نصیب میں ہوگا اس پر شکر ادا کروں گی۔‘‘ میں نے اپنے لہجے میں قطعیت شامل کرلی تھی۔
’’نمرہ تم… تصویر کا ایک رخ دیکھ رہی ہو‘ وہ لڑکا یقینا ہمارا اسٹیٹس دیکھ کر تم کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ محبت وحبت محض ڈرامہ ہے۔‘‘
’’پلیز مما! ایسی بات مت کریں اگر ایسا ہے تو آپ اور پاپا بھی تو خاندانی روایات توڑ کر یوں شادی نہ کرتے۔ وہ بھی آپ دونوں کی محبت ہی تھی ناں۔‘‘ میری بات پر مما لاجواب ہوکر کھڑی رہ گئیں‘ میں نے عین وقت پر بڑی پتے کی بات کی تھی۔ ’’اس لیے آپ پاپا سے کہہ دیں کہ میں آپ دونوں کی ہی بیٹی ہوں اور میں بھی اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹوں گی‘ مجھ میں تو ڈبل ضد ہے۔‘‘ میں نے اپنی بات مکمل کی اور بنا کچھ سنے تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ نتیجہ عین میرے توقع کے مطابق ہوا تھا رات کو ہی پاپا کے سامنے میری پیشی تھی‘ اس وقت وہاں عاشر بھائی بھی موجود تھے۔
’’نمرہ! تم نے ایک کم حیثیت اور ادنیٰ لڑکے کے لیے اپنی مما سے بدتمیزی کی ہے؟‘‘ پاپا نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈال کر تفاخر سے کہا۔
’’سوری پاپا! وہ کم حیثیت ضرور ہے لیکن ادنیٰ نہیں ہے‘ کیوں کہ وہ حلال اور محنت کی روزی کماتا ہے۔‘‘ میرے لہجے میں چھپا طنز کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔
’’نمرہ! تم حد سے زیادہ بدتمیز‘ گستاخ اور منہ پھٹ ہوگئی ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی کہ میرے ساتھ ساتھ تم کو اپنے پاپا کا خیال ہے نہ بڑے بھائی کا۔‘‘ میری بات مما کے دل پر جالگی تھی تب مما نے نہایت غصیلے لہجے میں کہا۔
’’سوری مما! مگر یہی سچ ہے۔‘‘ میں نے نگاہیں جھکا کر دھیمے لہجے میں کہا۔
’’سچ تو یہ ہے کہ تم ہمارے گھر کی بیٹی ہو‘ ہمارا نام ہے عزت ہے۔ ایک مقام ہے اور ہم تمہیں اپنے جیسے لوگوں میں ہی بیاہیں گے۔‘‘ اس بار عاشر بھیا نے کہا تھا۔
’’جی بھیا مگر یہ روپیہ پیسہ‘ عزت گاڑی‘ بنگلہ یہ سب کہاں سے آیا اور کب تک رہے گا۔ کیا اس بات کی گارنٹی آپ دے سکتے ہیں؟‘‘ میرے سوال پر بھیا تڑپ کر رہ گئے۔
’’پاپا یہ لڑکی حد سے زیادہ بدتمیر اور خودمختار ہوگئی ہے یہ اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اس کو رشتوں کی اہمیت کا بھی اندازہ نہیں ہے اس سے کوئی بعید نہیں ہے کہ کل کو یہ خود اس دو ٹکے کے انسان کے ساتھ رشتہ جوڑ کر ہمارے منہ پر کالک مل دے۔اس سے بہتر یہی ہے کہ ہم خود اس کا نکاح کرکے اسے خاموشی سے رخصت کردیں۔‘‘ عاشر بھائی آپے سے باہر ہورہے تھے۔
’’بھائی! انسان دو ٹکے کا اپنے اعمال اور بی ہیور سے ہوتا ہے اس لیے یہ لفظ صبور کے لیے قطعی نامناسب ہے۔‘‘ میرے اندر نہ جانے اتنی کڑواہٹ‘ اتنی ہمت اور طاقت کہاں سے آگئی تھی۔ اتنا غبار جو گزشتہ کئی سالوں سے بھائی اور پاپا کی بے اعتنائی اور سرد مہری کی صورت میں میرے روم روم میں بھرچکا تھا۔ وہ آج قطرہ قطرہ کرکے نکلتا چلا جارہا تھا‘ مما نے مجھ سے لاڈ کیا تھا‘ محبت کی تھی۔ میرا خیال کیا تھا لیکن پاپا نے کبھی بھی مجھے اہمیت نہ دی تھی بس ان کا نام میرے نام کے ساتھ تھا ان کے لیے تو سب کچھ عاشر بھائی تھے‘ وہ بیٹے جو تھے۔ بیٹیوں کی ان کی نظر میں اہمیت نہ تھی۔
’’ٹھیک ہے تم کل ہی اس لڑکے کو بلوالو میں نے جو کچھ تمہیں دینا ہے دے دلا کر تمہیں رخصت کرکے اس کے ساتھ بھیج دوں گا اور یہ بات کان کھول کر سن لو کہ پھر اس کے بعد ہمارا تم سے کوئی رابطہ نہ ہوگا۔ ہمارے گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے کیوں کہ میں ہرگز یہ برداشت نہیں کرپائوں گا کہ ایک عام سا لڑکا میرے داماد کی حیثیت سے میرے گھر آئے‘ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے تمہیں عیش و عشرت کی آرام دہ زندگی چاہیے یا پھر سسکتی ترستی اور محروم زندگی؟ اب تم جاسکتی ہو۔‘‘
’’ارے ارے آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں‘ میں نے سوچا تھا کہ آپ اسے سمجھائیں گے مگر اتنا بڑا فیصلہ…؟‘‘ میں نے نم آنکھوں سے مما کو دیکھا جو پاپا کی اس بات پر حیران اور پریشان تھیں اور پاپا کے سامنے سراپا سوال تھیں۔
’’سعدیہ! میں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے آگے کوئی بات نہیں ہوگی اب فیصلہ تمہاری بیٹی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ پاپا نے ہاتھ اٹھا کر گمبھیر اور فیصلہ کن لہجے میں مجھے اپنی بیٹی بھی نہ کہا۔ میں نے ایک نظر چٹان جیسی سختی والے پاپا کے چہرے پر ڈالی‘ سفاک اور پھر عاشر بھائی کے چہرے پر اور مما کے بے بس اور افسردہ چہرے کو دیکھا‘ مجھے نہ جانے کیوں رونا آگیا میں تیزی سے پلٹی اور تیز تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی اور اس رات میں نے فیصلہ کرلیا اور جاذب کو بھی بتایا۔ جاذب یہ سن کر پریشان ہوگیا اس کی اماں بھی گھبرا گئی تھیں لیکن مجھے ہر حال میں یہ سب کرنا تھا۔ مجھے اپنا کمرہ دیکھ کر بہت رونا آرہا تھا شادی کے بعد لڑکیوں کا میکے سے ناطہ ختم تو نہیں ہوجاتا لیکن میرا ختم ہوجانے والا تھا۔ اس گھر سے‘ اپنے کمرے سے اپنے رشتوں سے‘ ماں باپ اور بھائی سے وہ لوگ میرے معاملے میں کتنے کٹھور اور سنگ دل بن گئے تھے۔ مجھے بھی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق تھا سو فیصلہ میں نے اپنے حق میں ہی کیا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور مما اندر آگئیں‘ میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’اب جن حالات میں تمہاری شادی ہورہی ہے اس میں تو تیاری کی ضرورت ہے نا ہی وقت تو یہ کچھ پیسے ہیں یہ تم رکھ لو۔ اپنی مرضی سے ضرورت کی چیزیں خرید لینا۔‘‘ مما نے نوٹوں کی بھاری گڈی میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔ میں نے زخمی نظروں سے مما کو دیکھا دل چاہا کہ کہہ دوں کہ اس عنایت کی ضرورت نہیں لیکن مجھے اندازہ تھا کہ صبور بھی ابھی کسی اچھی پوزیشن میں نہیں تھا ہمیں پیسوں کی ضرورت بھی تھی‘ میں نے خاموشی سے پیسے تھام لیے۔
’’ہاں کل عصر کے بعد تمہارا نکاح گھر میں ہوگا اس لیے تم اس لڑکے کو کہہ دو ٹائم پر عصر کی نماز کے بعد آجائے۔‘‘ مما نے کہا اور اٹھنے لگیں۔ ’’اور ہاں…‘‘ جاتے جاتے وہ پلٹیں۔ ’’اپنے روم سے جو لے کر جانا چاہو لے کر جاسکتی ہو۔‘‘
’’نہیں مما! میں جو کچھ اس گھر سے لے کر جائوں گی وہ ہی بہت ہوگا۔ میری ساری زندگی کے لیے اور ہاں مما! آپ دیکھ لینا آپ لوگ جس کو حقیر سمجھ رہے ہیں ایک نہ ایک دن وہ آپ لوگوں کے برابر ہوگا‘ اپنی محنت اور حلال کی کمائی سے ان شاء اللہ۔‘‘ میرا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی پہلے تلخ اور پھر پُراعتماد ہوگیا تھا۔ مما نے ایک نظر مجھے دیکھا نہ جانے ان کی نظروں میں کیا تھا کہ میں ایک لمحے کے لیے ڈول گئی مگر دوسرے لمحے ہی مما منہ بناکر پلٹ کر دروازے کی جانب بڑھ گئیں اور میں سوچتی رہ گئی۔
مما کیسی ماں ہیں‘ ماں کا دل تو بہت نرم ہوتا تھا اور مما اپنی بیٹی کے لیے کوئی قدم اٹھاسکتی تھیں۔ میرے حق میں کچھ تو بول سکتی تھیں مائیں تو بیٹیوںکے دکھ پر دکھی ہوجاتی ہیں۔ میں نیچی نگاہ کیے سوچتی رہی‘ مما نے ایک نیا جوڑا لاکر میرے کمرے میں رکھ دیا تھا کہ کل پہن لینا۔ کچھ دیر بعد میں اٹھی ضرورت کی کچھ چیزیں ایک بیگ میں رکھیں‘ مما کے دیئے ہوئے پیسے اور وہ اچھا خاصا زیور جو کہ میرا اپنا تھا وہ سب کچھ رکھ لیا۔
دوسرے دن جاذب اپنے چند دوستوں کے ہمراہ آیا وقت مقررہ پر پاپا قاضی صاحب کو لے آئے اور چند لوگوں کی موجودگی میں میرے جملہ حقوق جاذب کے نام کردیئے گئے۔ میں لکھ پتی باپ کی بیٹی جس کے نکاح پر کھجور کے ساتھ بس سوفٹ ڈرنک سرو کی گئی‘ عاشر بھائی اور پاپا نے تو سر پر ہاتھ رکھنے کی زحمت تک نہ کی۔ ہاں مما کی آنکھوں میں‘ میں نے نمی دیکھی تھی‘ میرا دل بھی ایک لمحے کے لیے ان کے لیے تڑپا تھا میں اور جاذب پاپا کی جانب بڑھے تھے کہ شاید پاپا کے دل میں ہمارے لیے کوئی محبت‘ کوئی جذبہ جاگ جائے مگر پاپا نے نہایت حقارت سے ہمیں دیکھا اور کہا۔
’’نمرہ آج تمہارے لیے یہ آخری موقع ہے تم یہاں سے جو چیز چاہے لے سکتی ہو‘ کیوں کہ آج کے بعد میرے گھر کے اور میرے دل کے دروازے تم پر بند ہوچکے ہیں۔‘‘
’’نہیں پاپا! میں جو کچھ لے کر جارہی ہوں وہ میرا حق ہے اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہیے اور ہاں۔‘‘ میں ایک لمحے کو رکی اور پلٹ کر کہا۔ ’’پاپا ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن میں بھی جاذب کو اس مقام پر لے آئوں گی کہ آپ فخر سے اسے داماد کہہ سکیں گے‘ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔‘‘ جملہ مکمل کرکے میں نے جاذب کا ہاتھ تھاما پاس رکھا بیگ اٹھایا اور تیز تیز قدموںسے باہر کی طرف نکلتی چلی گئی اور میکے کی دہلیز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی۔ گھر کے باہر ٹیکسی کھڑی تھی میں نے ٹیکسی میں بیٹھ کر آخری بار اپنے عالی شان محل نما گھر کو دیکھا اور جاذب کے کاندھے پر سر رکھ دیا دو آنسو میری آنکھوں سے پھسل کر میرے گالوں تک آگئے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: