Wo khud fana ke safar main tha by Nuzhat Jabeen – Last Episode 2

0

وہ خود فنا کے سفر میں تھا از نزہت جبین ضیا آخری قسط نمبر 2

 

جاذب کی والدہ نے بہت والہانہ انداز میں ہمارا استقبال کیا‘ چھوٹا سا صاف ستھرہ دو کمروں اور چھوٹے سے صحن پر مشتمل یہ گھر مجھے پرسکون لگا جہاں جاذب کی بے پناہ محبتوں اور اماں کی محبت بھری دعائوں کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ میں نے بڑے عزم اور سوچ بچار کے بعد خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا تھا اور ساتھ ساتھ میں نے کچھ کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا تھا میں جلد از جلد اس گھر کو جاذب کو اور خود کو اعلیٰ مقام پر لے جانا چاہتی تھی۔ اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا سوچ رکھا تھا کیوں کہ اب یہ میرا گھر تھا۔ جہاں مجھے زندگی بھر ماں کی محبت بھری چھائوں اور جاذب کے سچے پیار کے ساتھ رہنا تھا‘ جاذب کو ایک فرم میں جاب بھی مل گئی تھی۔ تین چار دن تو یونہی مجھے گھر کو سمجھنے میں گزر گئے‘ چوتھے دن میں نے جاذب سے کہہ دیا۔
’’بس بہت چھٹی کرلی‘ کل سے آپ دوبارہ سے جاب پر جانا اسٹارٹ کردیں۔‘‘
’’ارے ابھی تو دن ہی کتنے ہوئے ہیں ابھی تو میں نے ڈھنگ سے تمہارے لاڈ بھی نہیں اٹھائے ہیں۔‘‘ جاذب نے میرے ہاتھ تھام کر محبت پاش لہجے میں مجھ سے کہا۔
’’جی جناب یہ لاڈ اور نخروں کے لیے ساری زندگی پڑی ہے لیکن آپ کی نئی نئی جاب ہے اس لیے اس کے بارے میں پہلے سوچنا ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پہلے کرنا ہوگا۔‘‘ میری بات پر جاذب نے تشکر بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’یار نمرہ! لڑکیاں تو شادی کے بعد یہ چاہتی ہیں کہ ان کا شوہر ہر وقت یہاں ان کے پاس ہی رہے لیکن تم… تمہاری سوچ اور خیالات کتنے بلند اور پوزیٹو ہیں‘ سچ میں‘ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے تم جیسی عقل مند بیوی ملی ہے۔‘‘ میرے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے جاذب نے فخریہ لہجے میں کہا تو میں مسکرادی۔
اماں بے چاری انتہائی سیدھی سادی اور معصوم سی تھیں‘ اب مجھے بڑی پلاننگ اور سمجھ داری کے ساتھ گھر کے معاملات سنبھالنا تھے کہ کیسے اور کس طرح سے حالات بہتر اور بہتری کی جانب جائیں۔ میرے پاس اچھی خاصی رقم تھی‘ میں نے سب سے پہلے اس رقم سے کچھ پیسے نکال کر ضرورت کی کچھ چیزیں منگوائیں اور باقی رقم بینک میں جمع کروادی۔ مجھے کوئی کام کرنے کی عادت تو تھی نہیں صبح اٹھ کر ناشتا کرتی‘ یونیورسٹی چلی جاتی‘ آتی تو کھانا تیار ہوتا‘ ٹیبل سجا ہوا ملتا‘ میں فریش ہوکر کھانا کھاتی اور سوجاتی۔ گھر کے مسائل اور الجھنوں سے دور دور کا واسطہ نہ تھا۔ مجھے اس طرح سے شادی کی امید کب تھی‘ یہاں ہر چیز نئی نئی اور ہر کام دقت طلب لگتا۔ یہاں آکر مجھے احساس ہوا تھا کہ زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔ صبح صبح اٹھ کر جب میں چھوٹے سے کچن میں جاتی تو میرا دم گھٹنے لگتا۔ میری طبیعت عجیب سی ہونے لگتی۔
’’کیا ہوا؟ تم باہر آجائو۔ میں ناشتا باہر سے لے آتا ہوں۔‘‘ میری حالت دیکھ کر جاذب پریشان ہوجاتے۔
’’ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں گرمی ہے تو گرمی تو لگے گی ناں۔‘‘ میں شرمندہ ہوجاتی۔ مجھے اندازہ تھا کہ باہر سے ناشتا منگوانے کا مطلب ہے کم از کم 3 سے 4 سو روپے تک کا خرچہ ہوگا اور ہمیں ایسے اخراجات سے گریز کرنا تھا۔ اماں گھبرا جاتیں آکر میرے ساتھ میرا ہاتھ تو بٹانے لگتیں‘ میرے منع کرنے کے باوجود وہ میرے ساتھ ساتھ مصروف رہتیں۔ اماں کو احساس تھا کہ میں کیسے گھر سے آئی تھی؟ میرا لائف اسٹائل کیا تھا اور مجھے یہاں کیا کرنا پڑرہا ہے وہ مجھے ہر وقت دعائیں دیتی رہتیں۔ اماں کی نظر میں بھی میری عزت بڑھتی جارہی تھی جب کہ جاذب تو باقاعدہ میرے قصیدے پڑھتے تھے۔
میں ذہنی طور پر تیار تھی اور مجھے اندازہ تھا کہ خود کو کسی مقام تک لانے میں‘ گھر کے حالات بدلنے میں مجھے کتنی دشوار ہوگی؟ کیسی کیسی کٹھنائیوں سے گزرنا ہوگا؟ کس کس طرح سے ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگا۔ ایک ایک پیسے کو بچانا ہوگا اور اسی تک و دو میں یونہی کرتے کرتے میری گود میں سہام اور اجیہ بھی آگئے اس وقت بھی میں نے گھر میں کسی کام والی کو رکھنے کی بات مسترد کردی۔ اماں اچھا خاصا ہاتھ بٹا رہی تھیں پھر کیا ضرورت تھی کہ اچھے خاصے پیسے کام والیوں کو دوں‘ وہی پیسے بچا کر کسی اور کام میں لاسکتے تھے۔ ان سالوں میں میں نے بچت کرکے کمیٹیاں ڈال کر گھر کو خاصا بہتر بنالیا‘ اوپر کا پورشن بھی کرائے پر دے دیا تھا اور کرائے کی جو رقم آتی اس سے ایک اور بڑی کمیٹی میں حصہ دار بن گئی‘ گھر کی حالت بھی بہتر ہوگئی کچن بھی بڑا اور کھلا بنالیا اور ساتھ ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بن گیا۔
جاذب ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اوور ٹائم بھی کرنے لگے اس لیے راتوں کو دیر سے آتے۔ مجھے گھر کا سودا سلف بھی لانا پڑتا‘ بجلی گیس کے بل بھی میں ہی جمع کرواتی۔ ساتھ ساتھ بچوں کو سنبھالتی لیکن سہام اور اجیہ کی زیادہ تر ذمہ داری اماں پر تھی۔ میں بچوں کو اماں کے پاس چھوڑ کر بازار چلی جاتی‘ پیچھے مجھے بچوں کی فکر نہ ہوتی۔ کبھی کبھی بستر پر لیٹتی تو اچانک سے مجھے مما کی یاد آجاتی مما کی آنکھیں یاد آجاتیں مجھے لگتا تھا کہ مما کی آنکھوں میں کچھ تو تھا۔

/…ء…/

اچانک سے شہر کے حالات خراب ہوگئے‘ جاذب کا آفس گھر سے اچھا خاصا دور تھا‘ وہ بس سے جاتے تو تقریباً دو گھنٹے آنے اور جانے میں لگ جاتے تھے۔ حالات خراب ہوئے تو سارا شہر ہی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ دکانوں‘ بازاروں کے ساتھ ٹریفک بھی بند ہوگیا‘ سڑکیں ویران ہوگئیں۔ جاذب آفس سے نکلے تو گھر آنے کے لیے کوئی سواری کوئی رکشہ‘ ٹیکسی کچھ بھی میسر نہ تھا ان کے ساتھ اور بھی دوست تھے آخر کار مجبوراً ان لوگوں کو آفس میں رات گزارنی پڑی کیوں کہ قریب میں کوئی بھی نہیں رہتا تھا۔ ادھر جاذب سخت ٹینشن اور پریشانی کا شکار تھے‘ ہم لوگوں کو لے کر بہت فکر مند تھے۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر گزارنی پڑی تھی اور ادھر میں نے اور اماں نے ساری رات جاگ کر گزاری تھی۔ ایک طرف جاذب کی فکر تھی گو کہ ان سے فون پر رابطہ تھا مگر پھر بھی وہ گھر سے کوسوں دور تھے اور ہم لوگ پہلی بار جاذب کے بنا رات گزار رہے تھے۔ بہت الجھن اور پریشانی کا سامنا تھا‘ دوسرے دن جب حالات معمول پر آئے تو رات بھر کے جاگے ہوئے تھکے ہارے جاذب گھر پہنچے۔ وہ فریش ہوکر آئے تو میں نے جلدی سے کھانا لگایا‘ کھانا کھا کر گرم گرم چائے پی کر جاذب کی تھکن کچھ کم ہوئی۔ اس روز مجھے جاذب کو دیکھ کر رونا آگیا کتنی محنت کررہے تھے وہ صرف ہم لوگوں کو اچھی زندگی دینے کے لیے سارا سارا دن آفس میں مغز ماری کرتے اور پھر بسوں میں دھکے کھاتے ہوئے لمبا سفر طے کرکے گھر واپس آتے۔ کام سے فارغ ہوکر کمرے میں آئی تو جاذب جاگ رہے تھے۔
’’ارے آپ سوئے نہیں؟‘‘ میں نے ان کو جاگتا دیکھ کر پوچھا۔
’’نہیں آج تم سے بہت ساری باتیں کرنے کا موڈ ہے۔‘‘ ان کا لہجہ خاصا فریش اور خوش گوار تھا۔
’’اچھا جی کریں بات۔‘‘ میں ان کے پاس بیڈ پر ٹکتے ہوئے شوخ لہجے میں بولی۔
’’نمرہ! خدا کی قسم تم… تم میرے لیے‘ میرے گھر اماں اور بچوں کے لیے عطیہ خداوندی ہو۔ تم جس گھر سے آئی ہو اور آکر تم جن حالات سے گزر رہی ہو اتنی جانفشانی سے تم سب کچھ کرتی ہو کہ دل کرتا ہے تمہارے قدموں میں سارے جہانوں کی خوشیاں لاکر رکھ دوں۔ جب تم کو اس طرح سے عام سے کپڑوں میں گھر کے دھندوں میں الجھا دیکھتا ہوں تو بہت گلٹی ہوتا ہوں کہ میں نے تم کو کیا سے کیا بنادیا۔‘‘ جاذب کے لہجے میں اداسی تھی میرے دونوں ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا کر بولے۔
’’جاذب آپ کا یوں مجھے مان دینا‘ بے انتہا پیار کرنا‘ اماں کی لاکھوں کروڑوں کی دعائیں‘ میرے معصوم بچوں کی ہنسی‘ ہمارے گھر کا پرسکون ماحول‘ ہمارے آپس کے تعلقات یہ سب مجھے چاند تاروں اور ہیرے جواہرات سے بڑھ کر ہیں۔ مجھے نہ کبھی تھکن ہوتی ہے نہ کبھی اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا مجھے کچھ نہیں چاہیے اور میں جو یہ سب کچھ کررہی ہوں ناں تو صرف اس لیے کہ اگر کبھی مما‘ پاپا کا سامنا ہو تو میں فخر سے کہہ سکوں کہ دیکھیں میرا انتخاب غلط نہ تھا۔ اس لیے آپ کو گلٹی ہونے کی ضرورت نہیں بس دعا کریں کہ میں وہ مقام پالوں جس کی مجھے خواہش ہے۔‘‘ میں نے جواباً ان کے ہاتھ تھام کر جذب اور پُراعتماد لہجے میں کہا تو انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر میرا ماتھا چوم لیا۔
’’ہاں ایک بات کرنی تھی آپ سے۔‘‘ میں نے ان کے موڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’جی ضرور‘‘ انہوں نے شریر لہجے میں کہا۔
’’سہام اور اجیہ کے اسکول میں ایڈمنسٹریشن کے لیے ٹیچر کی ضرورت ہے اگر آپ کہیں تو میں اپلائی کروں۔‘‘
’’نہیں نمرہ! تم پہلے کم مصروف ہو کیا‘ خود کو دیکھو ذرا اتنی مصروف اور الجھی ہوئی رہتی ہو اب یہ جھنجھٹ پالنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ میری توقع کے عین مطابق جواب تھا۔
’’ارے یار کیسی جھنجھٹ چند گھنٹوں کی تو بات ہے‘ بچے بھی ساتھ ہوں گے‘ ساے کام نپٹا کر جائوں گی۔ شہلا آنٹی سے کہہ دوں گی کہ اماں کا خیال رکھیں‘ اچھی خاصی سیلری دے رہے ہیں وہ‘ ٹھیک ہے اگر ایڈجسٹ نہ کرپائی تو چھوڑ دوں گی۔‘‘ میں نے مصالحت والے انداز میں کہا۔
’’ٹھیک ہے اگر تم کرنا چاہتی ہو تو کرلو‘ مجھے تمہاری ہی فکر ہے۔‘‘ جاذب نے پیار سے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’او تھینکس جانو!‘‘ میں بچوں کی طرح خوش ہوگئی۔ دراصل مجھے اپنے اس پلاٹ پر گھر بنانا تھا جو کچھ عرصے پہلے لیا تھا اور اس کے لیے کافی بڑی کمیٹی کا بندوبست کرنا تھا اور مجھے یہ سیلری سے وہ کمیٹی ارینج کرنی تھی۔
ظاہر ہے اب میرے لیے مزید محنت اور وقت کی ضرورت تھی سو میں نے سلیقے سے اپنا روٹین ٹائم ٹیبل بنالیا۔ فجر کے وقت اٹھتی‘ سب ہی جاگ جاتے۔ اماں اتنی صبح ناشتا نہیں کرتی تھیں‘ نماز پڑھ کر وہ ایک گلاس دودھ پی کر کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت کرتیں اور پھر سوجاتیں نو دس بجے کے بعد اٹھ کر ناشتا کرتی تھیں۔ میں نماز سے فارغ ہوکر پہلے اماں کو دودھ دے دیتی پھر سب کے لیے ناشتا بناتی‘ بچوں کے لیے ٹفن تیار کرتی۔ ناشتا کرکے بچے تیار ہوجاتے میں اور جاذب بھی تیار ہوجاتے۔ جاذب آفس کے لیے نکل جاتے‘ میں نکلتے نکلتے اماں کا ناشتا بناکر رکھ دیتی پھر ہم تینوں بھی اسکول کے لیے نکل جاتے۔ اماں کا ناشتا ہاٹ پاٹ میں چائے مائیکروویو میں ہوتی۔
ہم اسکول سے واپس آتے تب تک اماں سبزی وغیرہ لے کر اسے کاٹ کر رکھ دیتیں۔ رات کا سالن ہوتا میں جلدی سے چاول پکالیتی‘ ہم سب ظہر کی نماز پڑھ کر لنچ کرتے پھر بچے اماں کے ساتھ جاکر لیٹ جاتے اور میں بھی کچھ دیر آرام کرلیتی۔ شام کو اٹھ کر میں چائے بناتی‘ بچے اور اماں بھی جاگ جاتے۔ میں شام کو سالن پکالیتی مغرب کی نماز کے ساتھ روٹیاں پکاتی جب تک جاذب بھی آجاتے۔ ہم سب مل کر کچھ دیر باتیں کرتے‘ کھانا کھاکر بچے ہوم ورک کرتے‘ جاذب ٹی وی دیکھتے اور میں صبح کی تیاریاں کرتی۔ رات کو جلدی سوجاتے اس طرح سے زندگی میں ٹھہرائو سا آگیا تھا‘ چھٹی والے دن میں ہی بچوں کو لے کر کہیں چلی جاتی‘ جاذب کو فرصت کم ملتی تھی۔ اس رات میں کاموں سے فارغ ہوکر روم میں آئی تو جاذب جاگ رہے تھے اور کچھ پریشان سے لگ رہے تھے۔
’’کیا ہوا جاذب! طبیعت تو ٹھیک ہے ناں آپ کی؟‘‘ میں نے ان کو بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’آں… ہاں…؟‘‘ وہ میری آواز پر چونکے۔ ’’ہاں ہاں ٹھیک ہوں۔‘‘ جلدی سے بولے۔
’’کوئی مسئلہ ہے‘ آفس کی کوئی پرابلم…؟‘‘ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر غور سے ان کو دیکھتے ہوئے کریدا۔
’’نہیں یار! آفس کی پرابلم نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’پھر…؟‘‘ میں نے کریدا۔
’’یار ایک بہت اچھی آفر ہے میرا دوست شاہ زیب ہے ناں اس کا گارمنٹس کا کافی اچھا بزنس ہے اب وہ چاہتا ہے کہ کراچی سے باہر بھی بزنس کرسکے اس کے لیے اسے چھوٹے سے امائونٹ کی ضرورت ہے وہ میرے بارے میں اچھی طرح سے جانتا ہے‘ اس نے کہا ہے کہ تم تھوڑا سا امائونٹ دے کر میرے پارٹنر بن سکتے ہو۔ میں اگر قرضہ بھی لے لوں تو اتنا نہیں لے سکتا اور پھر وہ قرضہ سود سمیت واپس کرنا مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا حالانکہ آفر بہت اچھی ہے۔‘‘ جاذب نے آہستگی سے کہا۔
’’کتنا امائونٹ درکار ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’فی الحال صرف پانچ لاکھ کیوں کہ وہ میرے حالات سے واقف ہے‘ بہت اچھا دوست ہے میرا۔‘‘ جاذب نے کہا۔
’’ہنہہ… اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آفر اچھی ہے تو قبول کرلینی چاہیے لیکن پانچ لاکھ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’جاذب بیٹا! میری دوا لے کر آئے تھے؟‘‘ اماں کی آواز پر جاذب جلدی سے اٹھ گیا۔
’’افوہ‘ دیکھو یاد ہی نہیں رہا مجھے اماں کو نیند سے اٹھ کر آنا پڑا۔‘‘ وہ شرمندہ سا ہوکر جلدی سے دوا لے کر باہر کی طرف چلے گئے اور اچانک ہی میرا ذہن دور تک چلا گیا اگر آفر اچھی ہے تو ہمیں ضرور کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا اور میں کسی حد تک مطمئن ہوگئی۔
دوسرے دن حسب معمول لنچ کے بعد اماں بچوں کو لے کر لیٹ گئیں تو میں نے اماں سے کہا کہ میری ایک ساتھی ٹیچر کی مما ہسپتال میں ہیں انہیں دیکھ کر آتی ہوں اور اپنا بھاری پرس سنبھال کر چادر اوڑھی اور اللہ کا نام لے کر گھر سے نکل گئی تقریباً گھنٹے بعد واپس آئی تو بچے اور اماں ابھی تک سو رہے تھے‘ میں بھی لیٹ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو اماں کچن میں تھیں‘ میں ہڑبڑا کر کچن کی جانب گئی۔
’’ارے اماں! آپ کیا کررہی ہیں؟‘‘
’’سر میں درد ہورہا تھا تو چائے بنانے آگئی۔ تم جائو آرام کرو تمہیں بھی آرام کی ضرورت ہے۔‘‘ اماں نے مجھے دیکھ کر محبت سے کہا۔
’’آرام کرلیا میں نے‘ چلیں آپ جاکر لیٹیں میں ابھی چائے بناکر لاتی ہوں‘ آپ کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی۔‘‘ میں نے اماں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو کمرے میں پہنچایا اور دوبارہ کچن میں آگئی‘ چائے بناکر دو سلائس بھی سینک دیئے کیونکہ لنچ کو کافی ٹائم گزر چکا تھا اور اماں کو دوائی بھی کھانی تھی۔
رات کو حسب معمول میں کاموں سے فارغ ہوکر روم میں آئی تو جاذب جاگ رہے تھے۔ میں نے الماری کھولی اور ایک شاپر لاکر جاذب کے سامنے رکھ دیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ جاذب نے پہلے شاپر کو اور پھر مجھے حیرانی سے دیکھا۔
’’کھولیں تو…‘‘ انہوں نے شاپر کھولا تو اندر پانچ پانچ ہزار کے ڈھیر سارے نوٹ دیکھ کر یوں اچھلے جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔
’’یہ… یہ سب کیا ہے… کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پریشان بھی تھے۔
’’جاذب یہ آپ کے لیے ہیں میرے اپنے پیسے ہیں‘ ہمارے کاروبار میں لگانے کے لیے۔ میں نے اپنا زیور فروخت کردیا ہے‘ ہمارے فیملی جیولرز کے ہاں۔‘‘
’’کیا… کیا… تم پاگل ہوگئی ہو کیا؟ وہ زیور جو تمہاری مما کی نشانی تھا‘ وہ… وہ کیوں بیچا تم نے؟‘‘ جاذب مجھ پر چلائے۔
’’جاذب پلیز… میری اور آپ کی چیز الگ الگ نہیں ہے‘ پھر وہ زیور جب میری ضرورت میں نہیں تھا تو میرے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر تھا اور ایک بار ان شاء اللہ تعالیٰ کاروبار سیٹ ہوجائے گا تو پھر ہم اور بنالیں گے اور اس وقت ہمارے لیے اس زیور سے اہم یہ بات ہے کہ ہمیں ایسے اپنے آپ کو اونچے مقام تک لانا ہے اور جب آپ کو ایک اچھی آفر ہمارے نصیب سے مل رہی ہے تو ہمیں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ تھوڑے امائونٹ میں بڑا حصہ ملنے والا ہے۔ بس آپ اللہ کا نام لے کر یہ پیسے شاہ زیب بھائی کو دے دیں اور اللہ پر بھروسہ اور یقین کے ساتھ کاروبار میں حصہ لے لیں۔‘‘
’’وہ سب ٹھیک ہے نمرہ! مگر تم نے پہلے ہی کیا کچھ نہیں کیا اس گھر کے لیے‘ ہمارے لیے…؟‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئے ان کی آواز بھرا گئی۔
’’پلیز جاذب! یہ گھر میرا یا آپ کا نہیں بلکہ ہم دونوں کا ہے اور ہم دونوں کو مل کر ہی اسے بہتری کی جانب لانا ہے اور ابھی تو ہمیں پلاٹ پر تعمیر بھی شروع کروانی ہے۔‘‘ میری بات پر جاذب نے بغور مجھے دیکھا۔
’’نمرہ میرے پاس وہ لفظ نہیں جس سے کہ میں تمہارے بارے میں کچھ کہہ سکوں‘ نہ جانے تم میری کون سی نیکی کا صلہ ہو۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا بولوں؟‘‘
’’بس بس اب کچھ مت بولیں‘ رات کافی ہوگئی ہے چپ چاپ سوجائیں اور کل ہی جاکر شاہ زیب بھائی سے بات کرلیں۔‘‘ میں نے لائٹ آف کرکے شرارت سے کہا اور ان کو بیڈ پر لٹاکر خود بھی ان کے برابر میں لیٹ گئی انہوں نے مجھے سینے سے لگا لیا اور میں نے آنکھیں موندلیں۔
اماں کو جب اس بات کا پتا چلا تو وہ مجھ سے باقاعدہ ناراض ہوگئیں اور میری ٹھیک ٹھاک کلاس بھی لی اور بات نہیں کرنے کی دھمکی دی تو میں نے ہاتھ جوڑ کر اور کان پکڑ کر اماں کو منالیا اور اماں مجھے سینے سے لگا کر رو پڑیں میری آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔
ادھر جاذب نے کاروبار اسٹارٹ کیا‘ ادھر میں نے بھی ٹیوشنز بھی دینی شروع کردی۔ ٹیوشنز اور سیلری سے میں نے بڑی بڑی کمیٹیاں ڈال لیں۔ جاذب اپنے کاروبار میں بے حد مصروف ہوگئے۔ یہ وقت زیادہ ٹائم اور محنت کا تھا تو جاذب گھر پر بالکل بھی ٹائم نہ دے پاتے۔ تھکے ہارے رات گئے لوٹتے اور صبح پھر نکل جاتے۔ میں بچوں کے ساتھ ان کی ضروریات بھی پوری کرتی اور میری کوششوں سے میری آنکھیں چھلک پڑیں‘ ہماری کامیابی کی طرف پہلا قدم تھا ادھر میں نے پلاٹ پر بھی کام شروع کروادیا تھا اور ایسے موقعوں پر میں شکرانے کے نوافل ضرور ادا کرتی۔
جاذب کی مصروفیات حد سے زیادہ بڑھیں تو میری ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی گئیں۔ اماں کی طبیعت خراب ہوتی مجھے ہی ہسپتال لے کر بھاگنا ہوتا۔ بچوں کے اسکول کے مسائل میں نپٹائی‘ گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ مجھے پلاٹ پر بھی مسلسل ٹائم دینا پڑتا۔ ساتھ ساتھ ہمیشہ مجھے جاذب کے معاملے میں الرٹ رہنا پڑتا کہ انہیں کبھی کبھی شہر سے باہر جانا پڑجاتا تو اس کی تیاری مکمل رکھنی ہوتی۔ شاہ زیب بھائی بہت ہمدرد اور اچھے انسان تھے وہ جاذب کو اتنی ہی اہمیت دیتے جیسے کہ وہ برابر کے پارٹنر ہوں۔ تب ہی جاذب بھی نہایت محنت اور جانفشانی سے کاروباری امور نپٹاتے۔ ماشاء اللہ کچھ سال گزرنے تک ہماری آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا تھا۔ بچے بھی بڑے ہورہے تھے‘ ان کی ضروریات اور مصروفیات بھی بڑھ گئی تھیں۔ میری انتھک محنت سے گھر کے حالات میں سدھار پر سدھار آتا چلا جارہا تھا۔ گھر اور گھر ہستی کے چکر میں‘ کچھ کر دکھانے کے چکر میں میں خود کو فراموش کرچکی تھی۔ اپنے آپ کو بھول کر اپنے سکھ‘ چین اور آرام کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف گھر کو گھر بنانے کے لیے چکر میں لگی رہتی۔
ادھر جاذب کی اپنی مصروفیات تھیں وہ گھر پر ہوتے تو بھی راتوں کو دیر تلک مسیجز پر باتیں کرتے رہتے‘ کبھی کبھی آدھی آدھی رات کو کال آجاتی تو وہ اٹھ کر باہر چلے جاتے کہ مبادا میری نیند خراب ہوجائے۔ اسی طرح آخر کچھ ماہ کی مسلسل تعمیر کے بعد ہمارا 600 گز کا بنگلہ مکمل ہوگیا اور ہم لوگ اس میں شفٹ ہوگئے‘ شفٹ ہونے سے پہلے اماں نے گھر میں قرآن خوانی کروائی‘ ساتھ ہی ہمارے گھر میں دو دو گاڑیاں آگئیں۔ اتنا لمبا عرصہ‘ اتنا طویل عرصہ گزارتے گزارتے احساس تک نہ ہواکہ وقت کتنا آگے نکل چکا ہے۔ جاذب کا بزنس بھی خوب چمک اٹھا تھا‘ ہماری طرز زندگی الحمدللہ میری سوچ کے مطابق گزر رہی تھی۔ گھر میں دو دو گاڑیاں تھیں‘ میں نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں اپنی شادی شدہ زندگی کے بیس سال گزار چکی تھی۔ جاذب کی بیش قیمت الماری میں ان گنت قیمتی سوٹس ہر وقت ریڈی رہتے‘ آج بھی جاذب ویسے ہی ینگ‘ فریش اور جاذب نظر لگتے۔
میرے بچے شہر کے بہترین کالجز میں زیر تعلیم تھے‘ ضرورت کے علاوہ آسائشوں سے بھرپور زندگی تھی۔ میرے پاس بے شمار قیمتی کپڑے‘ جیولری اور ضرورت سے زیادہ چیزیں تھیں‘ اتنی کہ مجھے ان چیزوں کو استعمال کرنے کا وقت بھی نہ ملتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میری محنت کا ثمر مجھے مل گیا ہے۔ کچھ روز سے جاذب مجھے چپ چپ اور کھچے کھچے سے نظر آرہے تھے میں نے استفسار کیا تو ٹال گئے میں سمجھی کاروباری مصروفیت اور محنت کی وجہ سے شاید تھکن ہوجاتی ہوگی۔ میں ان کا اور زیادہ خیال رکھنے لگی دل جوئی کرتی مگر ان کے رویے میں کوئی بدلائو نہیں آرہا تھا۔
اس روز رات کو میری آنکھ کھلی رات کے تین بج رہے تھے‘ جاذب ابھی ابھی اٹھ کر واش روم گئے تھے تب ہی مجھے ان کے سیل کی وائبریشن محسوس ہوئی۔
’’ہائیں…‘‘ مجھے حیرت ہوئی کہ ان کو وائبریشن پر رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہوسکتا ہے کہ میری نیند خراب ہوجانے کے خیال سے رکھا ہو‘ خود ہی سوچ کر کروٹ بدل کر لیٹ گئی مگر مسلسل میسجز آتے رہے جاذب بھی باہر نہیں آئے تھے تب نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے ان کا سیل دیکھا۔
’’ہائے جانو… کیا ہورہا ہے؟ کیا تمہاری مدر انڈیا جاگ گئی ہیں…؟‘‘ میں ابھی میسجز کے الفاظ میں الجھی تھی کہ بیل بجنے لگی‘ میں نے کال ریسیو کرلی۔
’’جانو! کب سے میسجز کررہی ہوں‘ کہاں ہو یار! حد ہوتی ہے کیا اپنی اولڈ از گولڈ کے ساتھ بزی ہو؟‘‘ اُف توہین کے احساس سے میری کنپٹیاں سلگنے لگیں‘ نسوانی آواز تھی ساتھ ہی اتنی بے تکلفی اور اولڈ از گولڈ مدر انڈیا یقینا مجھے مخاطب کیا گیا تھا۔
’’یہ… یہ کون تھی؟‘‘ نیند میری آنکھوں سے اڑ چکی تھی میں نے کال کاٹ دی‘ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس گھٹیا عورت کو کیا جواب دوں جو آدھی رات کو اس طرح فون کررہی ہے اور میسجز کررہی ہے۔
’’یہ کیا حرکت ہے…؟ اس طرح کسی کا سیل چیک کرتے ہیں کیا؟‘‘ اس سے پہلے کے میں سنبھلتی پیچھے سے جاذب نے میرے ہاتھ سے سیل چھین کر قدرے برہمی سے کہا۔
’’کسی کے… کسی کے نہیں جاذب… آپ میرے شوہر ہیں اور میرا پور اپورا حق ہے آپ پر اور میں کوئی چیکنگ نہیں کررہی تھی مسلسل کالز آرہی تھیں تو میں نے ریسیو کی تھی کال اور… یہ… تھی کون جو آپ کو اس بے تکلفی سے رات کے تین بجے جانو کہہ کر مخاطب کررہی تھی؟‘‘ میں نے خاصی زور سے چیختے ہوئے کہا۔ میری بات پر جاذب نے نگاہیں جھکالیں۔
’’بتائیں جاذب…! کون تھی یہ اور اس نے آدھی رات کو آپ کو کال کس حیثیت سے کی اور… اور اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ میری توہین کرے۔‘‘ غصے سے میں کانپنے لگی تھی۔ جاذب بدستور خاموش تھے۔
’’جاذب! آپ کی خاموشی بڑے طوفان کے آنے کی گواہی دے رہی ہے‘ مجھے بتاتے کیوں نہیں کہ اس کا آپ سے کیا رشتہ ہے؟‘‘ اس بار میں پوری قوت سے چیختی تھی۔
’’وہ آپ… کی…‘‘
’’ہاں ہاں… وہ میری بیوی ہے…‘‘ جاذب نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسی رفتار سے کہا جس سے میں نے پوچھا تھا۔ مجھے لگا جیسے صبور نے لفظوں کا نشتر سیدھا میرے دل میں اتار دیا ہو‘ میری سماعتوں میں الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی مانند اترے تھے۔ میں خود پر قابو نہ رکھ پائی۔
یہ … یہ جاذب نے کیا کہا تھا مجھے لگا جیسے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں‘ بھیانک اور ڈرائونا خواب… جاذب کے الفاظ نے میرے اندر دہکتے ہوئے انگارے بھردیئے تھے۔ میری ہمتیں جواب دینے لگی تھیں‘ میں اٹھی اور جاذب کو پکڑ کر بُری طرح جھنجھوڑ ڈالا۔
’’جاذب… جاذب آپ نے ایسا کیوں کیا… کیا کمی تھی مجھ میں… کیوں ضرورت پیش آئی آپ کو… ایسی کیا مجبوری تھی کہ میرے ہوتے ہوئے آپ نے دوسری شادی کرلی؟‘‘ میں ہذیانی انداز میں اسے جھنجھوڑتے ہوئے مسلسل سوال کررہی تھی۔
’’ہاں ہاں… مجبوری ہی تھی میری… ضرورت تھی میری‘ مجھے ایسا کرنا پڑا۔‘‘ جاذب کے اطمینان نے مجھ میں مزید جلن بھردی تھی۔ ’’میں آج جس مقام پر کھڑا ہوں‘ جس پوزیشن کا حامل ہوں اس کے لیے مجھے میرے شانہ بشانہ چلنے والی‘ جاذب نظر اور میرے ساتھ میچ کرنے والی شریک حیات کی ضرورت تھی جو میرے ساتھ میٹنگ اور پارٹیز اٹینڈ کرسکے۔‘‘ اُف جاذب کی بات پر میں نے سر تھام لیا۔
’’کیا میں پڑھی لکھی نہیں ہوں؟ کیا میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتی۔ گزشتہ بیس سال سے میں نے ہی آپ کا ساتھ دیا ہے اس وقت جب آپ کو مورل سپورٹ اور فنانشنلی سپورٹ کی ضرورت تھی گزشتہ بیس سال میں میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ اپنی خواہشات کو‘ اپنی نیند چین کو حرام کرکے پائی پائی جوڑ کے آپ کو آج اس مقام پر پہنچایا‘ کتنی بار آپ تھک ہار کر بیٹھ گئے تو میں نے آپ کو ہمت اور حوصلہ دیا آپ کو سہارا دیا۔ اپنی نیندیں حرام کرکے آپ کو ساری رات سکون کی نیند دی‘ اس گھر کے لیے آپ کے لیے‘ بچوں کے اچھے مستقبل کے حصول کے لیے آئینہ دیکھنے کی فرصت نہیں ملی اور اس مقام تک پہنچتے پہنچتے محنت کرتے کرتے آج ہم کس مقام پر آگئے ہیں تو آپ نے… آپ نے دوسری شادی کرلی جاذب! کیوں کیا ایسا؟‘‘ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ جاذب کو جھنجھوڑ کر رکھ دوں اس سے اپنے بیس سال کا حساب کس طرح مانگوں۔
’’تم نے کیا یہ سب کچھ…؟‘‘ جاذب نے کہا۔ ’’اور یہ سب کچھ کرتے کرتے تم اپنا آپ بھول گئیں۔ تم نے صرف ایک جانب ہی دیکھا دوسری جانب دیکھنے کا سوچا بھی نہیں‘ تم نے دوسرا رخ تو دیکھا نہیں ایک تو تم میری ہم عمر ہو اوپر سے سانولی اور معمولی سی صورت تھی۔ تم کو چاہیے تھا کہ کبھی خود کو بھی آئینے میں دیکھنے کی زحمت کرلیتیں‘ گھر کو بہتر بناتے بناتے خود بد سے بدتر ہوتی چلی گئیں۔ ذرا خود کو میرے برابر لاکر آئینہ دیکھو کیسی لگنے لگی ہو تم‘ عجیب سی مجھ سے بڑی۔ میرے دوست تمہیں دیکھ کر میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ تم مجھ سے دس سال بڑی لگنے لگی ہو اور میں آج بھی ویسا ہی اسمارٹ نظر آتا ہوں۔ اب میں پارٹیز اور فنگشنز میں تمہارے ساتھ جاکر خود اپنا مذاق نہیں بنوانا چاہتا اس لیے مجھے اپنی کولیگ ناعمہ سے شادی کرنی پڑی اور ہاں… یہ احسان جتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ تم نے گھر کے لیے یہ کیا‘ تم نے گھر کے لیے وہ کیا‘ کیوں کہ تم نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف اپنے بھرم اور سواد کے لیے کیا ہے۔ تمہیں معاشرے میں اپنا نام اور عزت بنانی تھی کہ کل کو اگر تمہیں اپنے والدین کا سامنا کرنا پڑے تو تم ان کو فخر سے بتاسکو ہو کہ تم نے کیا کچھ پایا‘ تم فطرتاً ضدی عورت ہو تم نے پہلے ضد میں آکر مجھ سے شادی کی اور اس ضد کا بھرم رکھنے کے لیے اتنا سب کچھ کیا ورنہ کوئی بھی خود کو فراموش نہیں کرتا۔ یہ تمہاری ضد اور انا ہی تھی کہ جس نے تمہیں اپنے آپ کو دیکھنے کا موقع نہ دیا اور آج ہم جس مقام پر ہیں اس میں صرف تمہارا ہی نہیں میرا بھی برابر کا حصہ ہے۔ اس لیے بجائے یہ کہ واویلا کرو اور کوئی احتجاج کرو خاموشی سے یہ حقیقت تسلیم کرلو اور جیسا چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دو۔ مجھے سونے دو‘ صبح بہت کام کرنے ہیں مجھے۔‘‘ نہایت سفاکی اور بے رحمی سے وہ مجھ پر لفظوں کے پہاڑ گراتا ہوا اطمینان سے بیڈ پر جالیٹا۔
’’اُف خدایا! آج صبور نے کیسے کیسے القابات سے نواز دیا تھا‘ اتنا سب کہتے ہوئے‘ کرتے ہوئے اسے ذرا بھی میری فیلنگ کا کوئی احساس نہ ہوا۔ ایک لمحے کو بھی انہوں نے میرے بارے میں نہیں سوچا‘ میں نے اپنی زندگی کے عین جوانی کے بیس سال جس شخص کے لیے قربان کر ڈالے تھے۔ اپنی شاہانہ زندگی چھوڑ کر مفلسی اور تنگ دستی کے دن دیکھے۔ مسلسل محنت اور لگن سے اپنے دن رات‘ اپنی نیندیں‘ چین سکون سب کچھ اس گھر کے لیے قربان کیا تھا۔ جاذب تو میری ریاضت کا ایک لمحے کا حق بھی ادا نہ کر پائے تھے اور اوپر سے یہ کہ میں ’’ضدی ہوں میں نے سب کچھ ضد میں آکر کیا۔ میں ان سے شادی بھی ضد کے لیے کی‘‘ اُف کتنی توہین کی تھی میرے جذبات کی‘ میری محبت کی‘ ریاضت کی‘ میری قربانیوں کی کتنی بے دردی سے روند ڈالا تھا میرے خوابوں کا یہ صلہ تھا۔ میرے بیس سالہ ریاضت کا‘ میرے لبوں پر خاموش سسکیاں دم توڑنے لگی تھیں مجھے صبور کا چہرہ کتنا مکروہ اور خود غرض لگ رہا تھا۔ مجھے ان کے وجود سے گھن آنے لگی تھی‘ میں اپنا تکیہ اٹھا کر لائونج میں آگئی تھی‘ ایک لمحہ بھی اس شخص کے ساتھ گزرانا محال تھا۔
آج ہی مجھ پر ایک اور بھیانک حقیقت کا ادراک ہوا تھا میں اپنی دوست کے ساتھ اولڈ ہوم گئی تھی‘ اسے وہاں کچھ کام تھا وہ اپنے کام میں بزی ہوگئی تو میں یونہی چلتی ہوئی تھوڑا سا آگے بڑھی تب میں نے جو دیکھا میری برداشت سے باہر تھا وہ… میری مما ہی تھیں جو سامنے بنچ پر بیٹھی تھیں‘ ان کے خوب صورت چہرے پر گزرے وقت کے دکھ تھے۔ جھریوں بھرے چہرے پر وہ بے بس اور سوگوار آنکھیں جن میں کبھی تمکنت ہوتی تھی آج وہ کتنی بے بس اور مجبور نظر آرہی تھیں۔ میرا دل چاہا دوڑ کر ان سے لپٹ جائوں مگر میں نے خود پر کنٹرول کیا اور ان کی ہسٹری معلوم کی تب پتا چلا کہ پاپا کی بھی ڈیتھ ہوگئی ہے‘ عاشر بھیا اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں سیٹل ہیں اور جانے سے پہلے آج سے دس سال پہلے وہ مما کو یہاں چھوڑ گئے ہیں اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور یہ کہ عاشر بھیا نے ساری جائیداد بھی سیل کردی ہے۔ اتنا بڑا بھیانک سچ جان کر میں رو دی تھی تب میں نے سوچا تھا کہ میں جاذب سے بات کرکے مما کو اپنے گھر لے آئوں گی لیکن آج ہی دوسری تکلیف دہ اور دل چیر دینے و الے انکشاف نے مجھے ریزہ ریزہ کردیا تھا۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں‘ میں نے ان بیس سال میں کیا پایا تھا؟ یہی سوچتے سوچتے رات ختم ہوگئی۔ احساس تب ہوا جب اماں اور بچے نماز کے لیے اٹھے‘ اماں نے مجھے اس حالت میں لائونج میں دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ اماں کو دیکھ کر میری ساری ہمتیں جواب دے گئیں‘ میں ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میری بات سن کر اماں بھی شاکڈ ہوگئیں‘ بچے بھی آنکھیں پھاڑے حیرت زدہ تھے‘ جاذب بھی اٹھ کر آچکے تھے۔
’’جاذب یہ تم نے کیا کیا… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟ کیا سوچ کر تم نے یہ گھٹیا حرکت کی؟ تمہیں شرم نہیں آئی کہ ایسی بیوی کے ہوتے ہوئے تم نے دوسری شادی کرلی ہے۔‘‘ شدت جذبات سے اماں کانپنے لگی تھیں‘ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے انہوں نے آگے بڑھ کر جاذب کے منہ پر طمانچہ بھی مارا تھا۔
’’اماں… اماں پلیز آپ حوصلہ رکھیں آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘ میں نے دوڑ کر اماں کے کانپتے وجود کو سنبھالا‘ جاذب بھی آگے بڑھے مگر اماں نے جاذب کا ہاتھ بُری طرح جھٹک دیا۔ میں نے اماں کو صوفے پر بٹھادیا‘ اجیہ دوڑ کر پانی لے آئی۔ اماں پانی پی کر کچھ بہتر ہوئیں میں نے اماں کا ہاتھ تھاما اور دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا۔
’’اماں پلیز آپ اتنا غصہ مت کریں‘ آپ کا بی پی شوٹ کر جائے گا جو ہوگیا سو ہوگیا۔ اس لیے ہمیں اس بات پر شور کرنے کی بجائے اس حقیقت کو مان لینا چاہیے۔‘‘
’’مگر میرا کوئی تعلق جاذب سے نہ ہوگا۔‘‘ یہ بات میں نے دل میں سوچ لی تھی میری اس بات پر اماں کے ساتھ سہام اور اجیہ بھی مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
’’ہنہہ گڈ…!‘‘ میری بات پر جاذب نے اطمینان سے کہا۔ اسے لگا جیسے معاملہ سیٹ ہوجائے گا کیوں کہ میں نے یہ بات کہی تھی‘ وہ مطمئن ہوکر واش روم جانے کے لیے واپس پلٹے تب ہی اماں نے انہیں آواز دی۔ وہ جاتے جاتے رک گئے اور پلٹ کر دیکھا۔
’’جاذب مجھے اس بات کا شدید دکھ ہے کہ تم میرے بیٹے ہو جب کہ اس بات پر فخر ہے کہ نمرہ میری بہو ہے۔ تم نے اپنی بیوی کی تمام تر قربانیوں کو پس پشت ڈال کر چوری چھپے جو حرکت کی ہے وہ میری نظر میں انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ تم آج جس مقام پر ہو یہ مقام تمہیں اسی سانولی اور تمہاری عمر کی عورت نے دیا ہے اگر یہ تمہیں اپنا پیسہ‘ اپنا زیور اور اپنی زندگی کے قیمتی بیس سال نہ دیتی تو تم آج بھی لکیر کے فقیر ہی بنے رہتے۔ تم نے اس کی زندگی بھر کی ریاضتوں کے صلے میں اسے غلیظ القابات سے نوازا‘ سوتن جیسا تحفہ دیا ہے تو تم کان کھول کر سن لو کہ تم نے جہاں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا ہے اب وہیں جاکر اپنی بقیہ زندگی بھی گزارنا۔ آج کے بعد تمہارے لیے ہمارے اس گھر میں جگہ ہے نہ ہمارے دلوں میں‘ لوٹ کر دوبارہ اس گھر میں قدم مت رکھنا‘ ہمیں اب تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ تم کو تمہارا اعلیٰ مقام اور نئے رشتے مبارک ہوں‘ یہ گھر بہت محنت سے‘ محبتوں کی چاشنی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے اور اس گھر میں تم جیسے مطلب پرست اور احسان فراموش انسان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’اماں… اماں آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ پلیز اماں ایسا فیصلہ تو نہ دیں۔ میں ناعمہ کو کبھی بھی یہاں نہیں لائوں گا مگر… میں آپ لوگوں سے کیسے الگ ہوسکتا ہوں؟ میں آپ لوگوں کے بنا اپنے بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اماں…!‘‘ جاذب بدحواس ہوکر تڑپ کر آگے بڑھا اور اماں کے سامنے گڑگڑانے لگا۔
’’پلیز پاپا…!‘‘ اس دفعہ پہلی بار سہام کی آواز نکلی تھی جو اَب تک صرف خاموشی سے سن رہا تھا۔ ’’ہم آپ کے نہیں صرف اور صرف مما کے بچے ہیں۔ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟ جب سے ہوش سنبھالا صرف مما کو ہی ہمیں‘ گھر اور دادی کو سنبھالتے دیکھا ہے۔ ہم جب بیمار ہوئے مما ڈاکٹر کے پاس لے گئیں‘ اسکول میں جب کبھی والدین کو بلایا صرف مما ہی گئیں۔ ہماری پسند‘ ناپسند‘ ہماری ضرورتوں کا خیال مما نے رکھا‘ ہماری پڑھائی‘ شاپنگ اور آئوٹنگ صرف اور صرف مما کی ذمہ داری رہی۔ مما نے جس طرح اس گھر کو بنانے میں‘ آپ کو اس مقام تک لانے میں دن رات محنت کی اپنا آپ بھلا کر صرف ہم سب کی بھلائی چاہی‘ دادو کی ضرورتوں کا خیال رکھا وہ سب ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے پاپا! آپ تو بزنس کے چکر میں سب کچھ بھول گئے مگر… مما نے گھر کی‘ باہر کی اور ہم سب کی ذمہ داری برابر سے اٹھائی کہیں کوئی کمی‘ کوئی کوتاہی نہ کی اور جب آپ نے ان کی بیس سالہ ریاضت کا خیال نہ کیا تو ہم کیا امید رکھیں کہ ہمارے لیے کچھ کریں گے۔‘‘
’’بیٹا… سہام یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ جاذب کو سہام سے شاید یہ امید بالکل نہیں تھی تب ہی وہ بے تابی سے آگے بڑھے پہلے سہام اور پھر اجیہ کی جانب دیکھا‘ اجیہ نے ایک نظر جاذب پر ڈالی پھر سہام کا ہاتھ تھام کر بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ جاذب نے زخمی نگاہوں سے پہلے مجھے اور پھر اماں کو دیکھا‘ ہم دونوں کے چہروں پر چٹانوں کی سختی تھی۔ وہ جان چکے تھے کہ اب انہیں ہر صورت یہاں سے جانا ہوگا۔ اس لیے ضروری سامان لینے وہ کمرے کی جانب بڑھ گئے‘ میں بیٹھ کر سوچنے لگی آج ہی جاکر مما کو بھی لے آئوں گی۔ میں نے گزشتہ بیس سال میں کیا کھویا تھا کیا پایا تھا؟ شاید اس سوال کا جواب میرے پاس نہ تھا۔
تب مجھے احساس ہوا کہ شاید میں نے تھوڑا کھوکر بہت کچھ پالیا ہے۔ میرے دائیں بائیں میرے دونوں جوان بچے تھے اور ساتھ ہی سر پر دست شفقت رکھنے والی دو دو مائوں کا ہاتھ بھی… نہ جانے کیوں دو آنسو میری آنکھوں سے نکل کر میرے گالوں پر بہنے لگے۔

Read More:  Churian Drama by Saadat Hasan Manto Read Online – Last Episode 4

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: