Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Last Episode 10

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

میں تمہارے سوال و جواب کی پابند نہیں ہوں۔‘‘ زہر خند لہجے میں کہتے اس نے اِدھر اُدھر ’’
دیکھا رات کو ہی امی کے ہاں سے ساتھ لائے بیگ سے سامان نکال کر باہر رکھا تھا نجانے بیگ
کہاں رکھ دیا تھا۔ یہ بیگ وہ ہسپتال لے کر جاتی تھی۔
بحیثیت شوہر میں ضرور پوچھنے کا حق رکھتا ہوں تم حویلی میں میری بیوی کی حیثیت سے ہی ’’
رہ رہی ہو۔ یہ تمہارا شہر نہیں ہر معاملے میں پوچھا جاتا ہے۔‘‘ پچھلے تین دنوں کی برداشت ایک
دم کم پڑ گئی تھی۔ بے پناہ کڑواہٹ سے ہاتھ اُٹھا کر باور کروا دیا تھا۔
میں تمہاری اس حویلی کے کسی بھی قانون کی پابند نہیں ہوں۔‘‘ وہ تلخی سے کہہ کر ’’
ڈریسنگ کی درازیں کھنگالنے لگی تھی۔ ایک دراز سے اسے اپنا بیگ مل گیا تھا بیگ نکال کر کھول
کر دیکھنے لگی۔ یہ اس کا مخصوص بیگ تھا جو وہ ہسپتال لے کر جاتی تھی۔ اس میں اس کی
مطلوبہ تمام اشیاء موجود تھیں۔ زپ بند کر کے سر اُٹھایا۔
ہسپتال جا رہی ہو؟‘‘ اسے کسی بھی طرح بتانے پر آمادہ نہ دیکھ کر بازل خان نے خود ہی پوچھا ’’
تھا۔
…‘‘مسٹر بازل خان یو ڈونٹ انٹر فیر ان مائی پرسنلز… آئی ڈونٹ ایکسپٹ آف یور اینی رائٹ’’ربدا… دس از ٹو مچ…‘‘ وہ ایک دم پھٹ پڑا درمیانی فاصلہ عبور کرتے اس کا بازو تھام کر غصے ’’
سے کہا۔ وہ اس اقدام کے لیے تیار نہ تھی ایک دم لڑکھڑا کر بے توازن ہوئی تھی۔ خود کو گرنے سے
بچانے کے لیے اسے بازل خان کے ہی وجود کا سہارا لینا پڑا تھا۔
کیا بدتمیزی ہے۔‘‘ وہ غصے سے بولی تھی مگر دوسری طرف تو پروا ہی نہ تھی۔’’
تمہاری یہ طنزیہ باتیں اور جملے… میری برداشت سے باہر ہے یہ سب… اگر تمہیں یہ سب قبول ’’
نہیں تو چھوڑ کیوں نہیں جاتیں۔ جب تک تم میرے خاندان میں میری بیوی کی حیثیت سے
موجود ہو میں تمہارے ہر معاملے میں بولنے اور انٹر فیئر کرنے کا حق رکھتا ہوں۔‘‘ وہ سختی سے
کہہ رہا تھا تبھی دروازہ پر دستک ہوئی تھی اور ساتھ ہی دروازہ کھلا تھا۔ کھلے دروازے سے بی بی
جان اندر داخل ہوئی تھیں۔
بازل خان نے سرعت سے اس کا بازو چھوڑا تو وہ خطرناک تیور لیے ایک طرف ہو گئی۔
تم کہیں جا رہی ہو بچے؟‘‘ ان دونوں کے تیوروں سے انجان بی بی جان نے اسے یوں تیار شیار ’’
کھڑے دیکھ کر پوچھا تھا۔ ربدا پوری جان سے سلگ اُٹھی۔
میں نے رات ہی آپ کو بتایا تھا کہ میں صبح سے ہاسپٹل جوائن کر رہی ہوں۔‘‘ بات کرتے ہوئے وہ ’’
لہجے کی تلخی پر قابو نہ پا سکی تھی بازل خان نے اسے گھورا۔
ہاں مجھے یاد آ گیا۔ تم نے بتایا تھا رات میں۔‘‘ پھر انہوں نے بازل خان کو دیکھا۔’’
بازل تمہارے بابا صاحب شہر جا رہے ہیں رات انہوں نے تمہیں جو فائلیں دی ہیں وہ کہاں رکھی ’’
‘‘ہیں۔ وہ اب مانگ رہے ہیں۔
وہ تو میں نے آپ کی سائیڈ دراز میں رکھ دی تھیں۔‘‘ ربدا ان دونوں سے انجان کھڑی رہی تھی۔ ’’
بازل کے جواب پر اُکتا کر اسے دیکھتے بی بی کو دیکھا۔
میں جائوں بی بی جان! مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ یہاں حویلی میں ہر کام کے لیے بی بی جان یا بابا ’’
صاحب کی اجازت درکار تھی اگر وہ مطمئن ہوتیں تو اس کے لیے یہ اچھی بات تھی چونکہ وہ
سرے سے ہی سب کے خلاف تھی تو اس کو محض ڈھکوسکے قرار دیتی تھی۔
ہاں کیوں نہیں… آج شادی کے بعد پہلا دن ہے بازل پتر تم خود بچی کو چھوڑ کر آئو۔ ہماری ’’
حویلی کی عزت ہے یہ اب… تنہا کیوں جائے؟‘‘ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے اجازت دے کر
ساتھ ہی بازل کو تاکید بھی کر دی اور ربدا کے اندر تک کڑواہٹ کھلتی چلی گئی۔
حویلی میں قیام کو اسے ہفتہ ہونے کو تھا۔ اس ساری حویلی میں اس کی دلچسپی کی ذات
صرف انیق تھا وہ باقی سارا وقت ہسپتال میں گزار کر گھر آتی تو صرف انیق کی وجہ سے ابھی
تک بہلی ہوئی تھی۔ بازل خان اس کا انیق سے لگائو دیکھ کر نا صرف چونکا تھا بلکہ کچھ مطمئنبھی ہوا تھا۔

ربدا کی فیملی سے بازل کا مسلسل فون پر رابطہ تھا ورنہ جس طرح ربدا کے تاثرات
تھے ایک دن بھی وہ یہاں نہ ٹکتی۔ خصوصاً بی بی جان اسے سنبھلنے کو ٹائم دے رہی تھیں جبکہ
باقی حویلی والے ربدا کے رویے سے اُلجھے ضرور تھے مگر پریشان نہ تھے۔
وہ آج بھی ہسپتال سے لوٹی تو انیق کو لے کر پہلی بار اپنے کمرے سے نکل کر ہال میں آ کر بیٹھ
گئی تھی۔ انیق کے گرد مختلف کھلونے بکھرے پڑے تھے وہ ان سے کھیل رہا تھا بازل خان چند پل
کھڑا دونوں کو دیکھے گیا۔ وہ ابھی باہر سے لوٹا تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر چونکا تو ُرک گیا۔
انیق…‘‘ اس نے پکارا تو ربدا نے فوراً گردن گھما کر اسے کھڑے دیکھا۔ انیق بھی اب باپ کی آواز ’’
پہچاننے لگا تھا فوراً باپ کو دیکھ کر ہاتھ پائوں مارنے لگا تھا۔ ربدا نے اسے گود سے نکال کر کشنوں
کے سہارے قالین پر بٹھا دیا۔
با… بابا… بابا…‘‘ بازل خان قریب آیا تو وہ ہاتھ اُٹھا کر آوازیں نکالنے لگا۔ وہ دونوں پر ایک تیکھی ’’
نگاہ ڈال کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ انیق کے پاس قالین پر بیٹھا تو اس نے وہاں سے ہٹ جانے کو قدم
اُٹھایا۔
ربدا… وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ چکا تھا مگر آج اسے انیق کے ساتھ دیکھ کر پکار بیٹھا۔’’
بات سنو میری…‘‘ وہ اُٹھ کر اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔’’
ایسا کب تک چلے گا… تم کچھ سننے پر آمادہ نہیں ہو میں کچھ کہنے بھی لگوں تو بھی انکار کر ’’
دیتی ہو… آخر تم سن کیوں نہیں لیتیں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں… ہو سکتا ہے تمہیں فیصلہ
‘‘کرنے میں آسانی ہو جائے۔
فیصلہ تو میں اسی رات کر چکی تھی واپس جانے کا… اگر مجھے ماما کے وعدے کا احساس نہ ’’
ہوتا تو میں ایک لمحہ بھی مزید یہاں نہ ُرکتی۔ باقی رہی بات کہنے سننے کی تو تب بھی میرا
‘‘یہی فیصلہ ہو گا۔
میں اپنی سب غلطیاں تسلیم کرتا ہوں۔ کیا تم ایک دفعہ آرام و سکون سے مجھے نہیں سن ’’
‘‘سکتیں۔ ایک بار کسی بھی مجرم کو صفائی کا موقع تو قانون بھی دیتا ہے نا۔
ٹھیک ہے میں تیار ہوں سننے کو بس شرط یہ ہے کہ تم سب کو بلا کر لائو جو میرے اور تمہارے ’’
نکاح کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ وہ آرام سے کرسی پر بیٹھ گئی تھی بازل خان نے لب بھینچ لیے۔
ربدا! پلیز جب معاملہ ہم دونوں میں کلیئر ہو سکتا ہے تو پھر تم اس کو اتنا کیوں پھیلانے کی ضد ’’
‘‘میں ہو۔ بابا صاحب کو میں نہیں بتا سکتا۔
اوکے ایز یو وش… جو جیسا ہے چلنے دو۔ میری ماما کو بھی احساس ہو کہ کسی کی زندگی کس ’’
طرح تباہ ہوتی ہے اور شاید وہ ہی کوئی بہتر فیصلہ کر لیں۔ میرا تو یہی فیصلہ ہے اور رہے گا۔ میں
واپس جائوں گی اور بس۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی بازل خان نے مٹھیاں بھینچ لیں۔رات کے دو بجے کا
عمل تھا وہ مہمان خانے میں صوفے پر دراز کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جب سجاول
بھیا چلے آئے تھے وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا تھا وہ بھی اسے رات کے اس پہر یہاں دیکھ کر ٹھٹک گئے
تھے۔
تم یہاں…‘‘ مہمان خانے کا یہ راستہ حویلی سے ہٹ کر تھا اس رات کے بعد وہ روز یہیں ہوتا تھا ’’
آج شاید اس کا پول کھل گیا تھا۔ اس نے فوراً بہانہ بنایا۔
ہاں بس کچھ دوست آ گئے تو ان کے جانے کے بعد کتاب لے کر لیٹا تو وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں ’’
‘‘چلا۔
شہر سے میرے ایک دو مہمان آئے ہیں۔ میں یہاں کمرے دیکھنے آیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا تو وہ ’’
گہری سانس لے کر رہ گیا۔ یعنی اب اس کمرے سے بھی نکلنا تھا۔ اس کے کمرے پر تو اس رات
سے ربدا قبضہ کیے ہوئے تھی اور اس وقت حویلی کے اندر کسی اور کمرے میں جانے کا مطلب
حویلی والوں کو تجسس میں مبتلا کرنا تھا۔
کافی رات ہو گئی ہے جائو اندر تمہاری بیوی پریشان ہو رہی ہو گی۔‘‘ وہ مرتا کیا نہ کرتا کے ’’
مصداق وہاں سے نکل آیا تھا۔
اپنے ہی کمرے کے دروازے پر دستک دیتے اس کی غیرت و انا کئی بار جاگی۔ دو تین بار کی
دستک کے بعد دروازہ کھل گیا تھا۔
ربدا اسے ادھر اس وقت دیکھ کر حیران ہوئی۔ نیند سے بوجھل خمار آلود آنکھیں پوری کی پوری
کھل گئی تھیں۔ بازل خان نے فوراً اندر داخل ہو کر دروازہ لاک کر لیا۔ سجاول بھیا اس کے ساتھ ہی
اندر آئے تھے ساتھ والا کمرہ انہی کا تھا۔
تم… کیوں آئے ہو تم یہاں… نکلو ادھر سے۔‘‘ خواب کی کیفیت سے نکلی تو اس پر چڑھ دوڑی۔’’
ربدا… آہستہ… بھیا باہر ہیں۔‘‘ منہ پر اُنگلی رکھ کر اسے فوراً ٹوکا۔’’
تو میں کیا کروں… تم فوراً یہاں سے نکلو۔‘‘ وہ اسے بستر کی طرف بڑھتے دیکھ کر ایک دم ہتھے ’’
سے ہی اُکھڑ گئی۔ بازل خان نے اسے گھور کر دیکھا مگر نگاہیں گویا اس کے وجود سے چپک گئی
تھیں۔ جدید تراش خراش کے گرم سوٹ میں وہ اپنے وجود کی تمام تر خوبصورتی لیے اس کی
نگاہوں کو خیرہ کر گئی تھی۔ دوپٹہ سے بے نیاز وجود۔ وہ اسے پہلی بار بغور دیکھ رہا تھا۔ حت ٰی کہ
وہ اس کے پاس اغوا کے بعد کتنے دن رہی تھی تب بھی اس نے اس کی ذات پر توجہ نہ دی تھی
اور اب… اس نے ایک بھرپور نگاہ ڈالی تھی۔
ربدا اس کی نگاہ سے اپنی جگہ سن کھڑی رہ گئی مگر اگلے ہی پل غصے سے بل کھا کر رہ گئی
تھی۔
بازل خان! میں کہہ رہی ہوں تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جائو۔‘‘ وہ اس کو مکمل طور ’’پر
نظر انداز کرتا بستر پر دراز ہو گیا بالکل اسی جگہ جہاں وہ اس کی آمد سے پہلے سوئی ہوئی
تھی۔ اس نے وہی کمبل اوڑھ لیا۔
بازل خان…‘‘ انتہائی بے بسی سے دیکھا مگر ادھر پروا کب تھی۔’’
یہ میرا بھی کمرہ ہے۔ آرام سے لیٹ کر سو جائو۔ بڑے بھیا باہر ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ حویلی ’’
والے متجسس ہوں میں بس یہاں رات گزارنے آیا ہوں۔ زیادہ چلاّنے یا شور کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
بیڈ کے دوسری طرف اسے بھی لیٹ جانے کا اشارہ کرتے اس نے کمبل سر تک تان لیا تھا۔
اگر تم نہیں گئے تو میں شور مچا دوں گی۔‘‘ اس نے دھمکی دی۔’’
ضرور… اس کے بعد میں جو سلوک تمہارے ساتھ کروں گا وہ بھی ذہن میں رکھنا… تم میری ’’
بیوی ہو۔ بہت سے لوگوں کی موجودگی میں تم سے نکاح کر کے لایا ہوں۔ یہ مت بھولنا۔‘‘ ربدا گنگ
سی رہ گئی۔ بازل خان کی بات کا مفہوم سمجھنا قطعی مشکل نہ تھا۔ وہ دوبارہ کمبل سر تک
تان چکا تھا۔
اس نے بیچارگی سے اس جگہ دیکھا جہاں وہ کچھ پل قبل گہری نیند میں تھی۔ عجلت میں اُٹھ
کر دروازہ کھولتے دوپٹہ وہیں رہ گیا تھا جو اب بازل خان کے وجود تلے دب گیا تھا۔ ایک بے بس نگاہ
اس پر ڈالتے الماری سے چادر نکال کر صوفے پر جا بیٹھی۔ اب نیند خاک آنی تھی اور بستر پر وہ
بھلا کیسے جا لیٹتی۔
اس کو مارے بے بسی کے رونا آنے لگا تو گھٹنوں میں منہ دے کر سسکیاں روکیں۔
ماما ابھی تک اپنی ضد پر قائم تھیں۔ ان سب کے ویزے تیار ہو کر آ گئے تھے صرف سیٹیں کنفرم
ہونا باقی تھیں ماما نے اس سے ذکر نہیں کیا تھا مگر اس کی وہی ضد تھی۔ وہ اس معاملے کو
کسی طور پر سلجھانے پر آمادہ نہ تھی کئی بار بی بی جان نے بھی بات کرنا چاہی تو اس نے ان کی
بات ہی سننے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف ماما کے رویے سے ناراض ہو کر اس نے ادھر بھی کال
کرنا بند کر دی تھی اگر وہ لوگ کال کر بھی لیتے تو وہ ایک دو منٹ سے زیادہ بات نہ کرتی تھی۔
اس رات کے بعد بازل خان اب اسی کمرے میں رہ رہا تھا اور بازل کی یہ حرکت اسے مزید طیش
میں مبتلا کر رہی تھی۔
اس کے ذہن و دل میں ایک ہی بات طے تھی کہ یہ شخص اس کے اغوا اور باپ کی موت کا ذمہ دار
ہے وہ اس سے زیادہ سمجھنا چاہتی تھی اور نہ ہی کچھ سننا چاہتی تھی۔ پھر حالات سدھرتے تو
کیسے؟
انہی دنوں بی بی جان اور بابا صاحب کا عمرے کے لیے جانے کا ارادہ بنا تو سجاول بھیا اور
شائستہ کا بھی پروگرام بن گیا۔ کاغذات تو ان کے تیار تھے بس ٹکٹس کروانی تھیں۔ ان کے جانےکے بعد
گھر میں وہ فزا اور بازل کے علاوہ بڑے بھیا کے بچے اور سعد بھائی رہ گئے تھے۔
وہ ہسپتال جاتے انیق کو ساتھ ہی لے جاتی تھی اس تھوڑے سے دنوں میں ہی وہ اس سے بہت
اچھی طرح مانوس ہو گیا تھا۔ بابا صاحب کے جانے کے بعد زمینوں کا سارا کام بازل اور سعد کے
کندھوں پر آ پڑا تھا۔ وہ سارا دن وہیں گزار کر رات گئے گھر لوٹتا تھا اور پھر صبح سویرے نکل جاتا
تھا۔
آج بھی وہ دو تین دن بعد لوٹا تھا۔ باہر فصل کے دن تھے اور بارشیں بھی ہو رہی تھیں سردی میں
بھی ایک دم کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا اسے اتنے دن مسلسل باہر گزارتے زمینوں کا حساب کتاب
دیکھتے شاید ٹھنڈ سی لگ گئی تھی۔ کل ساری رات بارش ہوئی تھی اور اب بھی گھر آتے آتے وہ
بھیگ گیا۔ وہ گھر آیا تو شکر کا سانس لیا ربدا ہسپتال گئی ہوئی تھی ورنہ اس کی موجودگی بھی
ایک ٹینشن کا سبب بنی ہوتی تھی آج کل تھکاوٹ کی وجہ سے ویسے بھی جسم ُدکھ رہا تھا۔ وہ
کپڑے بدل کر لیٹ گیا تھا۔
نجانے رات کو کون سا پہر تھا اس کی آنکھ کھلی تو جسم ُدکھ رہا تھا بخار زور پکڑ چکا تھا۔
سارہ…‘‘ نجانے کس احساس میں تھا۔ کچھ دیر پہلے وہ خوابوں میں اس کے ساتھ تھا اور آنکھ ’’
کھلنے پر بھی اس کا نام لبوں پر تھا۔
سارہ…‘‘ کمرہ روشن تھا۔ کہنیوں کے بل اُٹھتے اس نے دیکھا تو ربدا کا چہرہ دکھائی دیا۔ وہ ’’
صوفے پر بیٹھی سارہ کے نام پر چونک کر اسے دیکھ رہی تھی۔
بازل خان کا ذہن حال میں لوٹا تو ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔
سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ ایسی حالت میں سارہ اس کا بہت خیال رکھتی تھی بالکل چھوٹے بچوں
کی طرح ٹریٹ کرتی تھی اور اب سارہ نہیں تھی۔ آج وہ اسے رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ اس کے
ہاتھوں کا لمس پیشانی پر محسوس کرتے ہی وہ ساری تکلیف بھول جاتا تھا۔ ربدا سے تو عام
حالت میں کسی نیکی کی اُمید نہ تھی آج تو وہ بیمار تھا۔
ربدا… کسی کو باہر سے بلوا دو۔ کسی ملازم وغیرہ کو۔‘‘ سر دباتے اس نے اسے کہا۔’’
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس وقت رات کے دو بج رہے ہیں اور آپ کی خدمت کے لیے اس ’’
‘‘وقت کوئی بھی نہیں جاگ رہا۔
پتا نہیں کیسی ڈاکٹر تھی وہ تکلیف سے بے حال تھا اور اس کو قطعی پروا نہ تھی شوہر نہ سہی
انسانیت کے ناطے ہی دیکھ سکتی تھی۔ اس حالت میں سارہ اس کے کیسے ناز اُٹھاتی تھی۔ وہ
سوچ کر رہ گیا تھا ایک دم سارہ شدت سے یاد آئی۔ ربدا نے نگاہ پھیر کر دیکھا۔
وہ تکیے پر سر رکھے آنکھیں بند کیے ہلکی ہلکی ضربیں پیشانی پر مار رہا تھا۔ نیند میں بھی وہ
کراہ رہا تھا۔ کئی بار جی چاہا کہ ہاتھ لگا کر دیکھ لے۔ چہرہ تو تپ رہا تھا بخار کی حدت سے مگرپھر انا آڑے آ گئی تھی۔
کچھ دیر گزری تو وہ بے چین سی ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ لب بھینچے شاید درد کو ضبط کر رہا
تھا۔ اس کے اندر پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ وہ اس سے بے شک نفرت کرتی تھی مگر اس سے پہلے
ایک ڈاکٹر بھی تھی اس کا دل نرم پڑنے لگا۔ نجانے وہ کتنی تکلیف میں تھا۔ اس نے سوچا۔
سارہ…‘‘ وہ کروٹ بدل گیا۔ اس کراہ نے اسے اندر سے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ وہ ایک دم صوفے سے ’’
اُتری تھی۔ جب سے بازل نے کمرے میں ڈیرہ جمایا تھا وہ صوفے پر سوتی تھی۔
کیا ہوا ہے۔‘‘ بستر کے قریب آ کر جھک کر اس کی کلائی پر ہاتھ رکھا تو بازل خان نے حیران ہو کر ’’
اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
کچھ نہیں… تم جائو… جا کر سو جائو۔‘‘ اپنی دہکتی کلائی کھینچ کر وہ اگلے ہی پل کھٹور بن گیا ’’
تھا۔ ربدا کو بہت سبکی کا احساس ہوا دل چاہا کہ اپنے ہمدردانہ جذبات اور اس شخص دونوں پر
ہزار بار لعنت بھیجے اور جا کر واقعی سو جائے۔
کیا مجھے ایک شخص کو اس حالت میں چھوڑ کر نیند آ جائے گی۔‘‘ ہمدردی ایک بار پھر عود آئی۔ ’’
وہ خاموشی سے میڈیکل باکس لے آئی۔
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے۔‘‘ اس کی پیشانی کو چھوتے ہوئے کہا اور اب کی بار بازل خان چاہنے ’’
کے باوجود اس کا ہاتھ نہ جھٹک سکا۔ ربدا کے سرد ہاتھ کے لمس نے اس کے اندر سکون کی ا ک
لہر سی اُتار دی تھی۔
کیا تم بارش میں بھیگتے رہے ہو۔‘‘ اسٹیتھسکوپ سے سانس کی آمدورفت چیک کرتے چونک کر ’’
اسے دیکھا۔ وہ بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اس وقت اس کے چہرے پر نفرت کا شائبہ تک نہ
تھا بلکہ فکر مندی تھی۔ وہ تلخی سے مسکرا دیا۔
کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ ربدا نے حیرت سے اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا نجانے اس کی آنکھوں ’’
میں ایسا کیا تاثر تھا کہ وہ فوراً پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی۔
تمہاری سانس بہت اُکھڑی ہوئی ہے۔ شاید ٹھنڈ لگ گئی ہے۔‘‘ کانوں سے اسٹیتھسکوپ ہٹا کر ’’
بکس کھول کر مطلوبہ دوائی نکالنے لگی تھی۔
تم نے تو رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ تم پہلے کچھ کھا لو۔ میں کھانا لاتی ہوں۔ پھر میڈیسن لے ’’
لینا۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی تھی۔
واپس آئی تو ٹرے میں کچھ سلائس بوائل انڈے کے ساتھ دودھ کا جگ تھا۔
میں صرف یہی لے کر آئی ہوں۔ بخار میں شاید کچھ اور کھانے کو دل بھی نہ مانے۔ دودھ لائی ’’
ہوں۔ اگر چائے کی طلب ہو رہی ہے تو بنا لاتی ہوں۔‘‘ ٹرے بستر پر رکھ دی تھی۔
نہیں ٹھیک ہے یہی… چائے رہنے دو۔‘‘ بازل اس کے رویے پر خاصا حیران تھا۔ کہاں نفرت سے زہر
’’خند پھنکارتا لہجہ ہوتا تھا اور اب کہاں اتنی ہمدردی و فکر مندی تھی کھانا کھا کر میڈیسن لے کر
وہ لیٹ گیا تھا۔ ربدا نے ضمیر کے سامنے اس سرخروئی پر سکون کا سانس لیا۔
ربدا! اگر تمہیں بُرا نہ لگے تو دو منٹ سر دبا دو… درد سے پھٹ رہا ہے۔‘‘ وہ ٹرے رکھ کر کمرے ’’
میں لوٹی تو ایک فرمائش حاضر تھی۔ ربدا کو بڑا ناگوار گزرا۔
دو ٹوک انکار کرنے کو منہ کھولا مگر پھر کچھ خیال آنے پر چپ رہ گئی۔
اگر تمہیں بُرا لگا ہے تو اٹس اوکے… سارہ دبا دیا کرتی تھی تو میں نے یونہی کہہ دیا۔‘‘ وہ چند ’’
منٹ کھڑی دیکھتی رہی وہ آنکھیں بند کر گیا تو وہ خودبخود ہی بستر پر بیٹھ گئی۔ ہولے ہولے اس
کی پیشانی دباتے اپنے مومی ہاتھ کی لرزش ربدا پر خود بھی آشکار ہو رہی تھی۔
اگلے دن وہ اپنی رات والی ہمدردی و فکر مندی پر خود ہی جھنجھلا رہی تھی۔ نجانے دل میں اتنی
گنجائش کہاں سے نکل آئی تھی کہ نفرت کے بجائے ہمدردی نے جگہ لے لی تھی۔ ہسپتال آنے کے
بعد بھی دھیان اسی میں لگا رہا جو بخار کی حالت میں لیٹا ہوا تھا۔ وہ بمشکل وہاں گیارہ بجے تک
ٹھہر سکی تھی اپنے ہی احساسات سے گھبرا کر وہ سسٹر رضیہ کو ہدایات دیتے واپس حویلی آ
گئی تھی۔
اپنے کمرے میں آئی تو بازل خان باتھ روم سے نکل رہا تھا۔ صبح جب وہ کمرے سے نکلی تھی تو
وہ لیٹا ہوا تھا بخار سے تب بھی جل رہا تھا اور اب… اس نے شاید باتھ لیا تھا۔ وہ بھی اسے کمرے
میں دیکھ کر چونکا۔
تمہیں باتھ نہیں لینا چاہیے تھا۔ پہلے ہی ٹھنڈ کی وجہ سے بخار ہوا ہے۔‘‘ وہ خود کو کہنے سے ’’
باز نہ رکھ سکی تھی۔ بازل خان نے حیرانی سے اس کے چہرے پر چھائی فکرمندی پڑھی اور پھر
ہنس دیا۔
میں سخت جان ہوں… یہ چھوٹے موٹے بخار کچھ نہیں بگاڑتے میرا…‘‘ تولیہ صوفے پر ڈال کر وہ ’’
بستر پر جا بیٹھا تو ربدا کو سبکی سی محسوس ہوئی۔
شاید رات والی حالت آپ اپنی بھول گئے ہیں۔ مرحومہ بیگم صاحبہ کو یاد فرمایا جا رہا تھا عالم ’’
مدہوشی میں؟‘‘ ایک دم وہ پوری جون میں لوٹی تھی۔ بازل ہنس دیا۔
رات واقعی تم نے بہت خیال رکھا۔ تھینکس تم بیوی جیسی بھی ہو مگر ڈاکٹر زیادہ ہو۔‘‘ وہ بظاہر ’’
سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ربدا نے اسے گھورا۔
اب کیسی طبیعت ہے تمہاری… بخار اُترا؟‘‘ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی۔’’
ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ بستر پر لیٹ گیا۔’’
ربدا نے جھک کر اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو ابھی بھی حرارت لیے ہوئے تھی۔تمہیں باتھ نہیں لینا چاہیے تھا۔‘‘
کچھ فکر مندی سے کہتے وہ قدرے فاصلے پر بستر پر بیٹھ ’’
گئی۔ بازل خان نے حیران ہو کر غور سے اسے دیکھا۔ وہ اضطراری انداز میں ہاتھ کو مسلتے ہونٹوں
کو کچلتے اسے پوری جان سے متوجہ کر گئی۔
تم نے ناشتہ کر لیا…‘‘ پلکیں اُٹھا کر پوچھا۔’’
‘‘نہیں… ابھی اُٹھا ہوں۔ تم آج ہاسپٹل نہیں گئی تھیں کیا اور انیق کہاں ہے؟’’
میں گئی تھی ابھی آئی ہوں۔ انیق فزا بھابی کے پاس ہے۔ تم بیٹھو میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ ’’
وہ اُٹھ کر باہر آ گئی تھی۔
وہ اپنے جذبات و احساسات کو سمجھنے سے خود بھی قاصر تھی۔ کہاں وہ نفرت، نفرت کا راگ
الاپتے اس کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہ تھی اور اب کیسے رات سے اس کی تیمار داری میں
جتی ہوئی تھی۔
شام کے قریب وہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ خود سے اُلجھنے لگی۔ بے چینی حد سے بڑھی تو کمرے
کی بے ترتیبی سمیٹنے لگی۔ اس کا مقصد خود کو بہلانا تھا ورنہ ان چھوٹے موٹے کاموں کے لیے
نوکروں کی فوج تھی۔ کمرے کی ہر چیز ترتیب میں آتی چلی گئی مگر اسے اپنی لایعنی سوچوں
سے چھٹکارہ نہ مل سکا۔ کمرے کے بعد اس نے الماری کی طرف توجہ دی۔ وارڈ روب کے علاوہ یہ
الماری تھی جو بازل کے استعمال میں تھی۔ وہ ا کثر لاک رہتی تھی آج کھلی ہوئی تھی۔ اس نے
یونہی وقت گزارنے کو کھول کر ادھر سے اُدھر ہاتھ مارنا شروع کر دئیے تھے یہاں بازل کی پرسنلز
چیزوں کے علاوہ کچھ کاغذات فائلیں اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء تھیں۔ کئی خانے لاک تھے
کاغذات والا کھلا ہوا تھا اس میں تصویروں کے بڑے بڑے البمز تھے۔
ارے یہ لوگ تصویریں بنواتے ہیں مگر میری باری میں تو کچھ بھی نہ تھا۔‘‘ متجسس ہو کر اس ’’
نے البم نکال لی تھی یہ سارہ اور بازل کی شادی کی تصاویر تھیں۔
یونہی کھڑے کھڑے تصویریں دیکھتے البم کے اندر رکھا خاکی لفافہ نکل کر قالین پر گرا تو اس میں
سے کئی چیزیں باہر پھسل آئی تھیں۔
اُف…‘‘ نیچے جھک کر وہ لفافہ اُٹھانے کو جھکی تھی جبھی باہر نکلی ہوئی تصویر پر اس کی ’’
نظریں جم سی گئی تھیں۔ اس نے جلدی سے وہ لفافہ تھام لیا تھا۔ البم واپس الماری میں رکھتے
وہ لفافہ لیے بستر پر آ بیٹھی تھی۔ یہ پانچ چھ تصویریں تھیں ہر تصویر میں وہ اور بازل ساتھ
ساتھ تھے اس کی تو شادی پر بھی کوئی تصویر نہ کھینچی گئی تھی کہ وہ سمجھتی کہ اس
موقع کی ہو گی ہر تصویر اسے پہلے سے زیادہ شاک پہنچا رہی تھی۔ ہر تصویر اس کے اور بازل کے
درمیان ایک گہرے تعلق کو ظاہر کر رہی تھی۔مائی گاڈ یہ کیا ہے بھلا؟‘‘ تبھی اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔’’
اس کے اغوا کے بعد بازل نے تصاویر اور خطوط کا ذکر کیا تھا اور اس نے بہت کچھ کہا تھا سارہ کی
ناراضی اس کی وفات اور پھر اس کا اغوا وہ ہر بات میں تصویروں اور خطوط کا ذکر کر رہا تھا اور
بینش کے ہاں بھی اس نے اس سے تصاویر اور خطوط کی بات کی تھی جو وہ ٹال گئی تھی تو کیا
اس کے اغوا کے پیچھے ان تصاویر کا کوئی ہاتھ تھا۔
بہت اُلجھ کر اس نے سارا لفافہ ہی بستر پر اُلٹ دیا تھا۔ وہاں نیگیٹوز کے علاوہ چند رسیدیں کچھ
اور اس جیسی تصاویر کے علاوہ کچھ کاغذات بھی تھے۔ اس نے تہ شدہ کاغذ تھام لیا تھا۔
یہ دو کاغذ اوپر تلے رکھ کر تہ کیے ہوئے تھے یہ کسی ڈائری کے صفحات تھے۔ اس نے پہلا کاغذ
اُٹھایا وہاں ایک تحریر رقم تھی۔
…بازل خان’’
تم نے بہت تاکید کی تھی کہ میں کوئی رابطہ نہ کروں تمہیں میرا شاید یہ خط لکھنا بھی اچھا نہ
لگے مگر کیا کروں میں بہت مجبور ہو کر یہ خط لکھ رہی ہوں۔ تم نے تو پلٹ کر خبر تک نہیں لی نہ
کوئی فون؟ نہ کوئی اطلاع۔
سجھا
آج کل میرا پریشانی سے بُرا حال ہے اور کوئی راہ ئی نہیں دے رہی تم تو شاید میرے اور
اپنے تعلق کو فراموش کر بیٹھے ہو۔ مگر میں اب کیا کروں؟ میں جو تمہاری خاطر اتنا آگے بڑھ آئی
ہوں کہ اب واپس پلٹوں تو بھی رسوائی ہی رسوائی مقدر ہے۔ تم ایسے حالات میں مجھے بیچ
منجدھار میں تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہو؟ یہ خط اسی تعلق کی یاد دہانی کے لیے ہے میں اب اپنے
اور تمہارے تعلق کو کوئی ٹھوس اور قانونی نام دینا چاہتی ہوں۔ پلیز خط ملتے ہی ملو مجھ سے۔
ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے سراسر ذمہ دار تم خود ہو۔ اگر تم نے مجھ سے رابطہ نہ
کیا تو تم جانتے ہو تمہاری حویلی تک آنا میرے لیے ناممکن نہ ہو گا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ میں
خاموش رہوں۔ تمہاری بیوی اور خاندان کو کچھ پتا نہ چلے تو فوراً ملنے آئو۔
تمہاری منتظر
فقط
‘‘تمہاری ڈاکٹر ربدا فائق
کیا…؟‘‘ اختتام تک آتے آتے اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ کاغذ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔’’
خط کا متن سمجھنے کے باوجود وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ یہ تحریر اس کی تھی نہ
ہی رائٹنگ بس اس کا نام تحریر تھا۔ وہ کچھ بھی نہیں سمجھ پائی تھی اس نے خط اُٹھا کر کئی
بار پڑھا مگر آخر میں نام اسی کا تھا۔ اس نے دوسرا کاغذ کا ٹکڑا تھام لیا۔
!ڈیئر بازل خان’’میرے پہلے خط کے جواب میں تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے یہ اس کا ری ایکشن ہے۔ میں
تمہاری بیوی کو بتائوں گی اور تمہارے نام نہاد خاندان کو بھی… اب میری نفرت و انتقام سے
تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا یہ تصویریں بھیج رہی ہوں ایسی ہی تصاویر تمہاری بیوی کو بھی
مل جائیں گی۔ مجھے استعمال کر کے بہت بڑے نقصان کا سودا کیا ہے تم نے۔ اب اس کا انجام
بھی دیکھو۔
‘‘فقط تمہاری ڈاکٹر ربدا فائق
مائی گاڈ…‘‘ پتا نہیں یہ کیا قصہ تھا… اور اس ساری سچویشن کا جو موضوع تھا وہ تصور کرتے ’’
ہی اس کا ڈوب مرنے کو جی چاہ رہا تھا۔ وہ بھلا ایسی گندی گھٹیا حرکت کر سکتی تھی۔ وہ ایسی
گندی گفتگو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ کجا کہ خط میں لکھنا۔
وہ سارا کچھ دوبارہ لفافے میں ڈال کر اسے سرہانے تلے رکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئی اب اسے اصل
صورتحال صرف بازل خان ہی بتا سکتا تھا اور وہ شدت سے بازل خان کے آنے کی منتظر تھی۔
بازل خان کمرے میں لوٹا تو وہ اسی طرح بستر پر بیٹھی ہوئی تھی وہ انیق کو ساتھ لے کر آیا تھا
دوسری طرف آ کر انیق کو لٹا کر خود بھی ساتھ ٹک گیا تھا۔ اس نے کمرے پر ایک ستائشی نگاہ
ڈالی۔ ہر چیز نکھری نکھری صاف ستھری واپس اپنی جگہ پر تھی۔ ربدا سرہانے سے لفافہ نکال کر
اس کی طرف چلی آئی تھی۔
بازل خان… یہ سب کیا ہے؟‘‘ اس کے دامن میں خط اور تصویریں پھینک کر وہ سوالیہ نشان بن ’’
گئی تھی۔ بازل خان نے چونک کر اس کے چہرے اور پھر لفافے کو دیکھا۔
‘‘یہ تمہیں کہاں سے ملا؟’’
یہ تمہاری الماری سے صفائی کرتے ہوئے ہاتھ لگا ہے۔ پلیز ٹیل می… یہ سب کیا ہے؟‘‘ وہ ایک دم ’’
پھٹ پڑی تھی۔ اس کے قریب ہی گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی۔
یہ سب وہ سچ ہے جو میں بہت دیر سے بتانا چاہ رہا تھا مگر تم اپنی نفرت کی وجہ سے سننا اور ’’
جاننا نہیں چاہتی تھیں۔‘‘ وہ بہت تحمل سے کہہ رہا تھا۔
پلیز بازل! مجھے ساری حقیقت بتائو؟ میں ایسی بالکل نہیں ہوں نہ ہی یہ خط میرا ہے اور نہ ہی ’’
یہ تصویریں میں نے بھیجی ہیں۔ مجھے نہیں پتا یہ کس کا کام ہے۔ یقین کرو میرا… آئی سویئر میں
بھلا اتنا گھٹیا کام کر سکتی ہوں… اتنی گندی گفتگو… قسم لے لو یہ میری رائٹنگ نہیں ہے۔‘‘ وہ
شدت سے رو پڑی بازل خان نے ایک گہری سانس لی اور پھر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
میں جانتا ہوں یہ تم نے نہیں لکھا اور نہ ہی تم نے کچھ بھیجا… یہ کس کا کام ہے میں یہ بھی ’’
جانتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھ گیا تھا ربدا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
‘‘کون ہے وہ…؟’’بینش… تمہاری دوست اور میری چچا زاد بینش۔‘‘ حیرت کا یہ شدید جھٹکا تھا۔’’
بینش…‘‘ وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتی بے یقین تھی۔’’
مگر کیوں؟ اس نے یہ سب کیوں کیا؟ میری بھلا اس سے کیا دشمنی تھی میں نے اسے ہمیشہ ’’
دوست سمجھا مگر اس نے ہی دوستی ختم کر لی۔‘‘ وہ اب کھل کر رو رہی تھی۔
ہوس، نفرت اور رقابت کی آگ انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ شیطانی درجے پر پہنچا دیتی ہے۔ ’’
میری بھی یہی کیفیت ہوئی تھی۔ یہ تصویریں دیکھ کر اور خط پڑھ کر سارہ، بابا اور سب مجھے
بے اعتبار کر گئے تھے اور سارہ جس سے میرا محبت کا تعلق تھا وہ تمہاری طرح کوئی بھی
صفائی کا موقع دئیے بغیر چپ چاپ پھوپھو کے ہاں چلی گئی اور چند دن بعد اس کی ڈیتھ ہو
گئی۔‘‘ وہ چپ ہو گیا تھا۔ ربدا اس وقت جس اذیت سے دو چار تھی اسے پہلی بار بازل کی اذیت کا
اندازہ ہوا۔
وہ اسے پچھلی تمام کہانی سناتا چلا گیا۔ سبھی کچھ جو بینش نے کہا تھا اور وہ سبھی کچھ جو
وہ غلط فہمی میں ربدا کے ساتھ کر چکا تھا۔
یہی وہ سچ تھا جسے سن کر تمہاری امی نے معاف کر دیا تھا یہی وہ سچ تھا ربدا، جو میں ’’
تمہیں بتانا چاہتا تھا مگر تم کچھ بھی سننے کو تیار کہاں تھیں؟ ربدا تم میری اس وقت کی
کیفیت کا اندازہ لگا سکتی ہو میری محبت، میری عزت رشتے، اعتبار اعتماد سب دائو پر لگ گیا تھا
ایسے میں میں وحشی نہ بنتا تو کیا کرتا… تم اندازہ نہیں لگا سکتیں اس وقت میری کیا کیفیت
تھی میں تمہیں بد سے بدترین سزا دینا چاہتا تھا۔ تمہیں میں نے اغوا کروا لیا تھا تم میری تحویل
میں تھیں میں وحشی تو بن گیا مگر خود کو شیطان نہ بنا سکا تم باعزت سرخرو میری قید سے
نکل گئیں اور میری تلاش شروع ہو گئی اور جب اصل مجرم سامنے آیا تو میرا ضمیر ہی مجھے
مجرم بنا گیا۔ بی بی جان کے سامنے تمام گناہوں کا اعتراف کیا تو پھر وہ مجھے تمہاری والدہ کے
پاس لے گئیں۔ وہ واقعی بہت عظیم خاتون ہیں سب کچھ جان کر نفرت سے دھتکارا نہیں بلکہ
معاف کرتے ہوئے انہوں نے جس طرح تمہارے لیے میرا پروپوزل قبول کیا ان کے اس عمل نے
مجھے خرید لیا۔ میں ساری عمر بھی ان کے سامنے سر نہیں اُٹھا سکتا اس سارے عرصے میں
انہوں نے مجھ سے ایک ایک پل رابطہ کیے رکھا ہے تمہاری نفرت مجھے ہرا دیتی اگر ان کی تسلی
اور اعتماد میرے شامل حال نہ ہوتا۔ میں تمہارا مجرم ہوں، تمہارے والد کی موت کا ذمہ دار اور
تمہاری رسوائیوں کا سبب… مگر تمہارے کردار، تمہارے بے لوث جذبات نے مجھے تمہارا گرویدہ
بنا ڈالا اور مجھے لگا میں سر سے پائوں تک تمہاری محبت میں مبتلا ہوں۔ اسی محبت نے مجھے
مجبور کر دیا کہ میں بی بی جان کے سامنے اپنا دل کھول دوں اور انہوں نے تمہارے حصول کے
لیے میرا بہت ساتھ دیا۔ بے شک میں تمہیں کسی بھی قیمت پر نہیں کھونا چاہتا مگر پھر بھی
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ساری حقیقت تمہارے سامنے ہے۔ جو فیصلہ کرو گی مجھے منظور
ہے۔‘‘ وہ خاموش ہو گیا تھا۔
بازل خان…‘‘ یہ سب ربدا کے لیے برداشت کر لینا بہت مشکل تھا ایک دم نڈھال سے انداز میں ’’
بازل کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنا تر چہرہ اس پر رکھتے وہ پھر شدت سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی
تھی۔
اس دعوت میں ماما، شارقہ اس کا شوہر اور نومان، ثوبان کے علاوہ شمسہ اور فائزہ آنٹی بھی آئی
تھیں۔
شادی کے بعد پہلی بار وہ سب لوگ اس کے پاس آئے تھے وہ بے پناہ خوش تھی۔ اس کے ارد گرد
بے پناہ محبتیں تھیں اپنی خود ساختہ نفرت کے خول سے نکل کر دیکھا تو یہاں سبھی اپنے تھے
تو پھر وہ دل میں کدورت کیوں رکھتی۔ وہ ماما کے فیصلے پر دل و جان سے راضی تھی۔ ماضی
میں بازل خان نے جو بھی کیا مگر وہ اس وقت اس کا حال اور مستقبل تھا۔ وہ اپنے تمام گناہ قبول
کرتے سزا کا منتظر تھا اور اس نے ماما کی طرح اسے معاف کر دیا تھا۔ وہ اسی کے ساتھ ہمیشہ
ہمیشہ کے لیے رہنے کو تیار تھی۔
اس وقت وہ فزا اور شائستہ بھابی کے ساتھ بیٹھی دعوت انجوائے کر رہی تھی۔ جبکہ باقی سبھی
حویلی کے ہال میں کھانا کھا رہے تھے۔
جانتی ہو بی بی جان نے اپنے عمرے کے بہانے تمہاری دعوت ولیمہ نبٹائی ہے۔‘‘ کھانا کھاتے ’’
بھابی نے اسے چھیڑا تو وہ مسکرا دی۔ تبھی انیق رونے لگا تو وہ اسے اُٹھائے باہر آ گئی ماما اور
باقی سب بی بی جان کے ساتھ ہی تھے۔
کدھر ہو… کب سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا نظر ہی نہیں آ رہی محترمہ۔‘‘ وہ کچن کی طرف آئی ’’
تھی کہ کسی ملازمہ کو بلا کر انیق کو اسے تھماتی کہ اسے بہلائے جبھی بازل سامنے چلا آیا تھا۔
تو ضرورت ہی کیا تھی۔ شریف بیوی کے ہوتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے کی۔‘‘ اس نے لتاڑا۔’’
ہاں یہ بیوی کتنی شریف ہے خوب جانتا ہوں میں بھی۔‘‘ اس نے خوبصورت سرخ لباس میں ’’
زیورات میں سجی سجائی اپنی زوجہ محترمہ کو گھورا، وہ کھل کر ہنس دی۔
یہ انیق کیوں رو رہا ہے؟‘‘ انیق کے چہرے پر آنسو دیکھ کر ٹھٹکا۔’’
یونہی موڈی سا ہو رہا ہے۔ کوئی کام تھا کیوں ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘ انیق کا چہرہ صاف کرتے کندھے ’’
سے لگا کر تھپتھپاتے پوچھا۔
بی بی جان کے پاس اندر ہی تھی۔ آنٹی (ربدا کی ماما) کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہیں کل صبح ’’
واپسی پر اپنے ساتھ لے کر جا رہی ہیں؟‘‘ وہ سمجھ گئی کہ جناب تک خبر پہنچ چکی ہے۔
ہاں تو دو دن بعد تو ماما لوگوں نے شارقہ کے ساتھ چلے جانا ہے۔ پھر پتا نہیں کب ملاقات ہو۔
’’میں جب سے ادھر آئی ہوں ایک بار بھی تو گھر نہیں گئی۔ اب ماما کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ کچھ
وقت گزارنا چاہتی ہوں۔‘‘ چلتے چلتے دونوں اپنے بیڈ روم میں آ گئے تھے۔ انیق کو بستر پر لٹا کر
سنجیدگی سے بازل خان کو جواب دیا۔
اور تمہارے بغیر میں ادھر کیسے رہوں گا؟ کچھ خدا کا خوف کرو… کوئی نہیں جانا۔ جس دن ان ’’
لوگوں نے جانا ہو گا لے جائوں گا۔‘‘ اس نے صاف انکار کیا۔
ہر گز نہیں… میں صبح ہی جائوں گی… ذرا بھی خدا کا خوف نہیں… اتنے دنوں سے ادھر ہوں۔ ’’
کسی نے جھوٹے منہ بھی نہ کہا کہ جا کر مل بھی آئو یا کوئی لے ہی جائے۔‘‘ پچھلے چند دن میں
دونوں کے درمیان تعلقات اس قدر خوشگوار پیمانوں پر استوار ہو چکے تھے کہ ڈھونڈنے سے بھی
کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا تھا کہ کبھی دونوں کے درمیان شدید قسم کی نفرت پائی جاتی
تھی۔
اس نے غصے سے کہا تو وہ مسکرا دیا اور اسے کندھوں سے تھام کر خود سے قریب کرتے اس کا
چہرہ اوپر اُٹھایا۔
پتا ہے ربدا مجھے لگتا ہے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ابھی آنکھ کھولوں گا تو خواب ٹوٹ جائے ’’
گا۔‘‘ وہ جذباتی انداز میں کہہ رہا تھا ربدا نے جواباً اس کے بازو پر زور سے چٹکی کاٹی تو وہ بلبلا
اُٹھا۔
اُف… کیا ہے۔‘‘ اسے گھورا تو وہ اطمینان سے کہنے لگی۔’’
‘‘ہوش میں لا رہی ہوں… محترم! خواب اتنے دنوں پر محیط نہیں ہوتا۔’’
خدا سمجھے تمہیں… سارے رومانٹک موڈ کا ستیاناس کر دیا ہے تم نے۔‘‘ وہ ہنس دی۔’’
آپ کا یہ رومانٹک موڈ تو چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے جناب! یہ دیکھیں اپنے اس لخت جگر نور ’’
چشم کو کیسے آنکھیں کھول کر دیکھ رہا ہے۔ کچھ تو شرم کر لیں۔ ابھی باہر سے آواز پڑ گئی تو
‘‘سارا موڈ ختم ہو جائے گا اتنا رومینس صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ کنٹرول یور سیلف۔
خدا ایسی ظالم جلاد ڈا کٹر قسم کی بیوی کسی دشمن کو بھی نہ دے۔‘‘ اس نے ہاتھ اُٹھا کر ’’
دہائی دی۔
‘‘اچھا کل صبح پھر تم نہیں جا رہیں نا۔ پرسوں خود ہی لے چلوں گا پرامس۔’’
بالکل بھی نہیں… آپ نے جانا ہے تو صبح ساتھ ہی چلیے گا ورنہ میں نہیں ُرکوں گی۔‘‘ اس نے ’’
صاف انکار کر دیا۔
میری پیاری بیوی نہیں ہو… کل بالکل فری نہیں ہوں۔ کل بابا صاحب کے ساتھ کہیں جانا ہے چلو ’’
پرامس شام واپسی ہو گئی تو کل شام ہی چلیں گے۔‘‘ وہ اسے پھر کندھوں سے تھام کر کہہ رہا
تھا۔ ربدا بازل خان کو دیکھتے ہنس دی۔مائی گاڈ… یقین نہیں آتا کہ آپ وہی بازل خان ہیں جن سے میری ملاقات انتہائی خراب ’’
سچویشن میں ہوئی تھی اور جس کے غصے کو دیکھ کر میں ڈر گئی تھی۔‘‘ وہ برملا حیرت کا
اظہار کر رہی تھی بازل خان نے اسے مسکراتے ہوئے خود سے اور قریب کر لیا۔
تم نے مجھے معاف کر دیا ہے نا؟ دل سے…‘‘ ربدا نے سر اُٹھا کر دیکھا۔’’
اگر معاف نہ کیا ہوتا تو اس وقت آپ کے اتنے قریب کھڑی نہ ہوتی اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں ’’
‘‘میں صرف زبان کی ہی صاف گو نہیں ہوں بلکہ دل کی بھی صاف ہوں۔
تھینکس ربدا… جانتی ہو تمہاری اس معافی نے مجھے تمہارا کس قدر گرویدہ بنا ڈالا ہے۔ رئیلی ’’
آئی لو یو… آئی سویئر لو یو۔‘‘ بازل کے اس قدر والہانہ انداز پر وہ محجوب سی ہو کر رہ گئی۔
تم واقعی بہت اچھی لڑکی ہو۔‘‘ ربدا کے ذہن میں چھن سے ہسپتال کے روم میں اسٹریچر پر ’’
زخمی لیٹے وجود کے منہ سے ادا کیا گیا فقرہ یاد آیا۔
تو پھر کل تم آنٹی لوگوں کے ساتھ نہیں جا رہیں نا؟‘‘ اس نے غصے سے اسے گھورا۔’’
اب اگر آپ نے نا جانے والی بات کی تو سچی میری اور آپ کی بڑی زبردست قسم کی لڑائی ہو ’’
جائے گی اور اب کی بار میں نے ماننا بھی نہیں۔‘‘ اُنگلی اُٹھا کر اسے وارن کیا۔
میں پہلی بار اپنے میکے جانا چاہ رہی ہوں آپ کو کیا پتا ماما کے یوں دور جانے پر میں کتنی ’’
تکلیف محسوس کر رہی ہوں۔ پھر نجانے کب ملاقات ہو۔ شارقہ کا جانا تو طے ہے نا۔ نومی اور ثومی
دونوں کے مستقبل کے لیے کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہوں۔ پھر جانے کب ملاقات ہو۔ میں ان کے
پاس کچھ دیر ٹھہرنا چاہتی ہوں۔ آپ کو لے کر میں ان سے ناراض رہی ہوں اب ان سے معافی
مانگنا چاہتی ہوں اور آپ ہیں کہ انکار کر رہے ہیں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی تو بازل خان نے
فوراً اس کا چہرہ تھاما۔
ایم سوری… تم ضرور جائو میں منع نہیں کر رہا… مگر…‘‘ اس کی پلکوں سے نمی چن لی تھی۔’’
تو پھر؟‘‘ اس نے نروٹھے پن سے پوچھا۔’’
کیا خیال ہے ہم بھی یورپ ٹرپ پر نہ نکلیں۔ ایک دو ماہ میں چلیں گے۔‘‘ اس نے اس کا دھیان بٹانا ’’
چاہا۔
آئیڈیا تو بُرا نہیں مگر ماما کے پاس چلیں گے سب سے پہلے پھر کہیں اور…‘‘ وہ ایک دم بہل ’’
گئی تھی اور بازل خان مسکرا دیا۔
‘‘محترمہ میں اپنے ہنی مون ٹرپ کی بات کر رہا ہوں۔’’
ایک بیٹے کے باپ ہو کر ہنی مون پر جاتے ہوئے شرم تو نہیں آئے گی۔ مگر میں ماما کے پاس جانا ’’
‘‘چاہتی ہوں صرف۔
‘‘اور تمہیں منع کرتے تو جیسے بڑی شرم آ رہی ہے۔’’‘‘دیکھیں آپ لڑائی میں پہل کر رہے ہیں۔’’
‘‘تو تم جواب نہ دو۔’’
‘‘…بازل خان’’
ربدا…‘‘ پھر دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دئیے تھے۔’’
آپ بہت بُرے ہیں۔‘‘ وہ گویا ہار گئی۔’’
اور تم واقعی بہت اچھی ہو۔‘‘ محبت کا اظہار اس سے خوبصورت بھلا اور کیا ہو سکتا تھا اور پھر ’’
وہ اس کی محبت کی پھوار تلے بھیگتی چلی گئی تھی۔
ان کے پاس کسی کام کے لیے آتی بی بی جان دروازے پر ہی دونوں کی آوازیں سن کر ُرک گئی
تھیں اور پھر ان کو ہنستے دیکھ کر خود بھی مسکرا دیں۔
یا اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ آباد رکھنا۔ کسی بینش جیسی حاسد نظر سے بچانا۔ دونوں کو ’’
صحت اور تندرستی کے ساتھ حقیقی خوشیاں عطا کرنا۔‘‘ ان کا دل شدت جذبات سے مغلوب ُدعا
مانگ رہا تھا اور آنکھوں میں گزرے حالات کی نمی تھی۔
دونوں کو حالات نے جس طرح بھی ملایا تھا مگر ربدا کی بے پناہ نفرت کو دیکھتے انہوں نے عمرے
کا ارادہ کیا تھا اللہ کے گھر میں رو رو کر مانگی گئی ان کی ہر ُدعا قبول ہوئی تھی۔ واپس آ کر
دونوں کو مطمئن دیکھ کر وہ جیسے ایک دم جی اُٹھی تھیں اور آج کی تقریب اسی اعزاز میں تھی
دونوں کو ُدعائیں دیتے وہ بنا دونوں کو ڈسٹرب کیے واپس پلٹ گئی تھیں۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: