Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 5

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 5

–**–**–

بازل خان حال میں لوٹ آیا۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ان تصویروں کو کوئی ایسے بھی
استعمال کر سکتا ہے۔ ایک تصویر اسے سہارا دے کر اُٹھاتے اور دوسری اسے سہارا دے کر گاڑیکی طرف لاتے ہوئے تھی۔
اس کے علاوہ ایک دو اور تصاویر بھی تھیں اس نے تمام تصویریں ٹیبل پر پھینک دی تھیں۔ بازل
خان کو اپنی کنپٹیاں سلگتی محسوس ہو رہی تھیں۔
وہ لڑکی شکل سے جتنی معصوم لگتی تھی مگر حقیقت میں کتنی بڑی ایکٹرس تھی۔ اگر وہ ان
تصویروں کے پیچھے تھی تو پھر اس کے پاس اتنے دن قید رہنے کے باوجود لاعلم رہی تھی کچھ بھی
نہ بتا سکی تھی بلکہ وہ تو سرے سے اس کو پہچاننے سے ہی انکاری تھی اور اس کی یہی
لاعلمیت اسے اب اُلجھا رہی تھی۔
اگر وہ لڑکی واقعی بے قصور ہے تو دوسرا وہ کون فرد ہے جس کو میری بربادی سے کوئی فائدہ
حاصل ہو سکتا تھا۔ اس نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
تبھی کچھ سوچتے اسے ایک دم خیال آیا تو فوراً سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ جلدی سے تمام تصاویر تھام
کر اس نے ان کی پچھلی سائیڈ دیکھنا شروع کر دی تھیں۔
فلم کا مونو گرام تمام تصاویر کی پشت پر درج تھا۔
اب جو بھی ہو گا سامنے ضرور آئے گا۔‘‘ تمام تصاویر دوبارہ لفافے میں ڈالتے اس نے موبائل تھام ’’
لیا تھا۔
اب اسے کیا کرنا چاہیے تھا اس کے دماغ میں تمام لائحہ عمل ایک دم ترتیب پاتا چلا گیا تھا۔
یہ سب ایک ہی رول کی تصاویر ہیں۔ بیک گرائونڈ کے علاوہ ان تصاویر میں تبدیلیاں کی گئی ’’
ہیں۔ یہ کام جس نے کیا ہے اس کا نام عادل ہے۔ اس کے علاوہ مزید کوئی معلومات حاصل نہیں
ہوئیں۔‘‘ وہ اس وقت آفیسر جمشید کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور وہ معلومات فراہم کر رہا تھا۔
یہ عادل کون ہے کچھ پتا چلا؟‘‘ اس نے چونک کر پوچھا تو جمشید نے کندھے اچکا دئیے۔’’
ہو سکتا ہے یہ اس لڑکی کے ساتھ ہو۔‘‘ آفیسر جمشید نے تصویر کے اوپر اُنگلی رکھتے ربدا کی ’’
طرف اشارہ کیا تھا۔
اس لڑکی نے خود پیچھے رہتے ہوئے اس سے کام کروایا ہو۔‘‘ وہ خیال آرائی کر رہا تھا۔’’
‘‘جو بھی ہے وہ اسٹوڈیو والے کیا کہتے ہیں؟’’
‘‘میں نے بلوایا ہے تھوڑی دیر میں آ جاتا ہے وہ شخص۔’’
ویسے اس سارے معاملے میں اس لڑکی کا کیا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس کی تم سے کیا دشمنی ہو ’’
سکتی ہے؟‘‘ جمشید پوچھ رہا تھا۔
اگر یہ علم ہوتا تو تمہیں کیوں انوالو کرتا۔ ایک دو بار کی ملاقات کے علاوہ میں تو اس لڑکی کو ’’
‘‘سرے سے جانتا تک نہیں ہوں۔تم نے بھی اس لڑکی کے ساتھ جو کیا ہے وہ بھی بہت غلط ہے۔ مجھے اندازہ ہی نہیں کہ تم ’’
ایسی کوئی حرکت بھی کر سکتے ہو۔ جس طرح تم بتا چکے ہو مجھے تو صاف لگ رہا ہے کہ یہ
‘‘لڑکی بے قصور ہے۔ یقینا اسے استعمال کیا گیا ہے۔
اور جو میرے ساتھ ہوا ہے کیا وہ غلط نہیں تھا۔ میری عزیز از جان بیوی مر گئی میں بے اعتباری ’’
کی سزا جھیل رہا ہوں۔ تم… میری اذیت کا اندازہ کر سکتے ہو۔ شکر کرو کہ وہ لڑکی میرے پاس
سے زندہ سلامت واپس گئی تھی ورنہ جب اسے اُٹھوایا تھا تو میرے ارادے بہت خطرناک تھے۔
میں اب اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھ سکتا جب تک اپنی بے گناہی ثابت نہیں کروا لیتا۔‘‘ وہ
ایک دم جذباتی ہوا۔ تبھی جمشید کے آفس میں ایک آدمی داخل ہوا تھا۔ جمشید سے ہاتھ ملانے
کے بعد وہ کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو بار بار زحمت دینا پڑ رہی ہے مگر جب تک ہمارا کیس حل نہیں ہو جاتا ’’
آپ کو کبھی بھی بلوایا جا سکتا ہے۔ ان سے ملیں یہ بازل خان ہیں یہ انہی کی تصاویر ہیں اور بازل
یہ اس سٹوڈیو کے مالک ہیں۔‘‘ جمشید کے تعارف پر دونوں نے محض ہاتھ ملائے تھے۔
دیکھیں میں آپ کو پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ ہمارا روزگار ہی یہی ہے۔ ہمارے پاس دن میں ’’
کئی کسٹمرز آتے ہیں۔ پھر یہ تو کئی ماہ پہلے کی بات ہے۔ اتنا ُپرانا ریکارڈ میرے پاس موجود نہیں
‘‘ہے۔ ہاں اندراج رجسٹر میں صرف ایک نام ملتا ہے عادل۔ اس سے ہٹ کر اور کچھ خبر نہیں ملتی۔
ان تصاویر کو بغور دیکھیں اور اندازہ لگائیں ہو سکتا ہے کچھ یاد آ جائے کہ یہ تصاویر کس نے ’’
بنوائی تھیں۔‘‘ اپنے آگے پڑی ہوئی تمام تصاویر اُٹھا کر جمشید نے اس آدمی کو تھما دی تھیں۔
سوری سر! ہمیں ایسے کام کے لیے اچھی پیمنٹ مل جاتی ہے۔ پھر جس طرح یہ تصاویر ہیں اس ’’
میں صرف ایک گرائونڈ کی تھوڑی بہت تبدیلیاں ہیں۔ جس سے لگتا ہے کہ یہ ال لیگل کام نہیں۔
ہمارے پاس گھریلو فنکشن کی کئی تصاویر آتی ہیں جس کا پس منظر ہم تبدیل کر دیتے ہیں۔ اب
ہمیں اندازہ تو نہیں کہ لوگ ان تصاویر کو کس طرح استعمال کرتے ہیں ہم تو کسٹمرز کی ڈیمانڈز
‘‘کے مطابق کام کر دیتے ہیں۔
وہ آدمی جس نے یہ کام کروایا تھا وہ کس قسم کا تھا؟ تھوڑا بہت حلیہ وغیرہ تو یاد ہو گا؟‘‘ ’’
جمشید پوچھ رہا تھا جبکہ بازل بالکل خاموش تھا۔ اس شخص نے پھر تصاویر تھام لی تھیں اور
بغور کئی پل دیکھتا رہا تھا۔
یہ کافی ُپرانی بات ہے ہمارے پاس کئی کسٹمرز آتے ہیں آپ کی سہولت کے لیے میں اپنے ساتھ ’’
یہ رجسٹر لے آیا تھا باقی معلومات تو کمپیوٹر میں ہی فیڈ ہیں۔ اس میں پیمنٹ کرنے والے کا نام
کنٹیکٹ نمبر ایڈریس اور دستخط موجود ہیں آپ خود دیکھ لیں اس رول کی تصاویر کا سیریل
نمبر یہ ہے اور یہ وہ آدمی ہے۔‘‘ اس نے ساتھ لائے شاپنگ بیگ میں سے ایک رجسٹر نکال کرجمشید کے سامنے رکھ کر کھول کر سیریل نمبر نکالا تھا۔
نام عادل تھا دستخط بھی اس شخص تھے۔ کنٹیکٹ نمبر ندارد تھا جبکہ ایڈریس دیکھ کر وہ چونکا
تھا۔
یہ تو ڈاکٹر ربدا کے گھر کا ایڈریس ہے۔ وہ لوگ اب یہ گھر چھوڑ چکے ہیں۔ رفیق نے اطلاع دی تھی ’’
‘‘کہ یہ لوگ کہیں اور شفٹ ہو چکے ہیں۔
اگر ڈاکٹر ربدا ہی اس سارے معاملے کی ذمہ دار ہیں تو وہ آدمی کون ہے پھر؟‘‘ جمشید بھی ’’
اُلجھ گیا۔
رفیق ابھی بھی ان کے اوپر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر کہتے ہو تو ڈاکٹر ربدا کو بلوا لیتے ہیں۔‘‘ بازل ’’
خان نے رائے دی۔
نہیں ابھی نہیں۔ پہلے میں اپنے طور پر معلوم کر لوں۔ ان کے پاس سے صرف رول خریدا گیا تھا ’’
اور اس کے بعد تصاویر ڈویلپ کروائی گئی تھیں۔ اب یہ اس کے متعلق معلومات فراہم نہیں کر
سکتا۔ ایک دو دن میں میں اپنے طور پر معاملے کو ہینڈل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تم اپنے ملازم
کو کہو کہ اس لڑکی کے اوپر نظر رکھے۔ وہ گھر شفٹ کر چکی ہیں۔ اب کدھر ہیں یہ کنفرم رکھنا ہے
‘‘ہو سکتا ہے اس لڑکی کو ہی بلوانا پڑے پھر۔
کچھ بھی کرو بس پتا کرو کہ اگر وہ لڑکی ہی اس سارے معاملے کی ذمہ دار ہے تو پھر اس نے یہ ’’
‘‘سب کیوں کیا؟ پلیز۔
اوکے ڈونٹ وری… میں دیکھ لوں گا… بی ریلیکس…‘‘ جمشید کی تسلی پر اس نے محض سر ہلا ’’
دیا تھا۔
نئے گھر میں شفٹ ہوئے اسے ابھی دوسرا ہفتہ ہی تھا کہ ایک دن کلینک سے گھر واپسی پر وہ
اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک آدمی کو کھڑے دیکھ کر چونکی تھی۔
بھاری بھر کم گاڑی میں موجود شخص کو دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گئی تھی اسے یاد آیا کہ یہ
شخص ان کے ُپرانے سرکاری گھر کے گرد منڈلاتا رہتا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ زرد ہو گئی تھی نجانے
اسے کیوں لگ رہا تھا کہ اس کی بدقسمتی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
یہ شخص یقینا اس کو اغوا کروانے والے کا آدمی تھا۔ وہ گھر میں آ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی
تھی چند منٹ بعد اپنے آپ کو سنبھالتے وہ باہر نکلی تو لائونج سے آتی آوازیں سن کر وہ چونکی
پھر اندر جانے کے بجائے شارقہ اس کے پاس کچن میں آ گئی۔
شارقہ کوئی آیا ہے کیا؟‘‘ ان سے بھلا کون ملنے آ سکتا تھا۔ اسی بات پر وہ حیران تھی۔’’
ہاں پاپا کے جاننے والے ایک دوست ہیں۔ پاپا کے اٹیک کے دوران ہسپتال میں مسلسل ان کے ’’ساتھ رہے تھے پھر پاپا کی ڈیتھ کے بعد سارے انتظامات انہوں نے ہی دیکھے تھے، ُپرانے گھر اور
یہاں بھی تمہاری غیر موجودگی میں اکثر آتے رہتے ہیں۔ تم نے منع کر رکھا تھا کہ کسی بھی
اجنبی کو قطعی گھر میں گھسنے نہ دیا جائے تو اسی لیے ماما نے تم سے ذکر نہیں کیا۔ بہت
‘‘اچھے انسان ہیں رفیق انکل۔
میں دیکھتی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر ڈرائنگ روم میں آ گئی مگر وہاں کچھ دیر پہلے دیکھے جانے والے ’’
شخص کو بیٹھا دیکھ کر حیرت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ ہو گئی تھی۔
بیٹا یہ رفیق صاحب ہیں۔ تمہاری غیر موجودگی اور تمہارے پاپا کی اچانک ڈیتھ ہو جانے پر ’’
انہوں نے بہت سہارا دیا تھا۔ یہ بہت اچھے انسان ہیں۔‘‘ اس کی سدا کی سادہ مزاج اور معصوم
ماما اس شخص کی اصلیت کو جانے بغیر کیسے ایمان لے آئی تھیں۔ جبکہ اس شخص کی شکل
دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گئی تھی۔
مگر آج سے پہلے تک تو میں نے ان کو کبھی ادھر نہیں دیکھا اور پاپا نے بھی اپنے کسی رفیق نام ’’
کے دوست کا ذکر نہیں کیا۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے ماما کو دیکھا۔ وہ اُلجھ گئی۔
آپ کون ہیں؟ اور ہمارے گھر کیوں آئے ہیں۔‘‘ اس نے دونوں کے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا وہ ’’
مسکرا دیا۔
‘‘آپ کے بابا کے دوست ہیں ہم۔’’
مگر میں ایسے کسی بھی دوست کو نہیں جانتی جن کو پاپا جانتے ہوں اور میں لا علم رہوں۔ برا ِہ ’’
‘‘مہربانی آپ یہاں سے چلے جائیں اور آئندہ مت یہاں آئیے گا۔
ربدا بیٹا! یہ ہمارے محسن ہیں۔ تمہارے پاپا کے اچانک ہو جانے والے اٹیک پر انہوں نے بہت ’’
ساتھ دیا تھا اور پھر ان کی وفات کے بعد آفس میں کاغذات تیار کروانا واجبات کلیئر کروانا یہ ان کا
ہی احسان ہے بیٹا۔‘‘ ماما نے اسے سمجھانا چاہا تو وہ ایک دم ٹوک گئی۔
ماما جی پلیز! آپ پلیز جائیں اور مجھے ان سے بات کرنے دیں۔ یہ اچانک کہاں سے پاپا کے دوست ’’
‘‘بن کر آ گئے ہیں۔ پاپا کی ڈیتھ سے پہلے تک تو یہ کہیں بھی نہ تھے۔
مگر بیٹا!‘‘ انہوں نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے پھر ٹوک دیا۔’’
ماما پلیز آپ جائیں۔‘‘ ماما اس کے لہجے سے خائف ہوتی باہر نکل گئیں۔’’
‘‘آپ کون ہیں؟’’
‘‘آپ کے والد صاحب کا دوست ہوں۔’’
جھوٹ مت بولیں۔ میں آپ کو پہلے بھی کئی بار اپنے ُپرانے گھر کے ارد گرد منڈلاتے دیکھ چکی ’’
‘‘ہوں مجھے سچ سچ بتائیں آپ کون ہیں؟
میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہیے۔‘‘ وہ مسکرا کر کہتا آگے بڑھا پھر چند قدم اُٹھانے کے بعد اس کے ’’قریب آ کے آہستہ آواز میں بولا۔
اگر میرے بارے میں اپنی ماں یا کسی اور کو کچھ کہا تو صاحب جی کے آپ اور آپ کے خاندان ’’
‘‘کے متعلق احکامات بڑے سخت ہیں۔
تم…‘‘ وہ ششدر سی کھڑی رہ گئی۔’’
صاحب جی کا کہنا ہے کہ ابھی آپ ان کی نگاہ میں بے قصور ثابت نہیں ہوئیں۔ انہوں نے آپ کو ’’
چھوڑ دیا مگر آپ خود کو ان کی پہنچ سے بہت دور مت سمجھیں۔ وہ جب چاہیں آپ کو دوبارہ
اُٹھوا سکتے ہیں اور ہاں ایک اور بات یہ عادل کون ہے؟‘‘ دھیمے لب و لہجے میں ہونے والی گفتگو
کتنی دھمکی آمیز تھی وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں
سکتی تھی یہ شخص اس آدمی کا کارندہ ہو سکتا ہے۔
‘‘تم… تم اس شخص کے آدمی ہو؟’’
آدمی تو میں اللہ کا ہوں۔ ہاں کام صاحب کے لیے کرتا ہوں۔ صاحب نے یہی پوچھنے کے لیے بھیجا ’’
تھا کہ پتا کروں کہ یہ عادل کون ہے ورنہ آپ کے علم میں لائے بغیر اتنے دنوں سے آپ لوگوں میں رہ
رہا ہوں اگر صاحب کا حکم نہ ہوتا تو کبھی آپ کو شک تک نہ ہوتا اور اب دیکھا آپ کی والدہ مجھ
‘‘پر کتنا اعتماد کرتی ہیں۔
کون عادل؟‘‘ وہ گم سی اسے دیکھے گئی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی یہ نام نہ تھا۔’’
یہ تو آپ اور صاحب جی کو پتا ہو گا کہ معاملہ کیا ہے ہمیں تو صرف عادل کے بارے میں پوچھنے ’’
کا حکم ملا ہے۔ اگر سچ بتا دیں گی تو ٹھیک ورنہ آپ کو دوبارہ لے جانے کی زحمت کرنا پڑے گی۔ یہ
‘‘بھی صاحب جی کا کہنا ہے۔
مجھے نہیں پتا… یقین کرو میرا میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘ وہ بے انتہا خوفزدہ ہو گئی۔’’
صاحب جی نے سوچنے کا وقت دیا ہے اور صاحب جی نے یہ بھی پیغام بھیجا ہے کہ اگر سچ نہیں ’’
بولیں گی تو آپ کے دونوں بھائی بیکن سکول میں پڑھتے اور بہن گھر میں رہتی ہیں۔ آپ کی والدہ
ہر وقت بیمار رہتی ہیں۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں۔ ربدا بے حس و حرکت اسے دیکھ رہی تھی۔
یعنی ایک اور دھمکی۔
صاحب جی کا کہنا ہے کہ اگر آپ بے قصور ہیں تو ان کے ساتھ تعاون کریں ورنہ پھر آپ حالات کی ’’
ذمہ دار خود ہوں گی۔
چلتا ہوں… اللہ حافظ۔‘‘ وہ شخص ماتھے تک ہاتھ لے جا کر سلام کرتا باہر نکل گیا تھا۔
ربدا ٹوٹے ہوئے شہتیر کی مانند زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
ایک فیصلہ اس نے آناً فاناً کیا تھا۔ اسی شام اس نے شمسہ سے بات کر کے رات کو ان کیانیکسی میں شفٹ ہو جانے کو ترجیح دی۔ اسے اپنے آپ سے زیادہ اپنی ماں بہن اور بھائی عزیز
تھے ماما اور شارقہ اس کے یوں آناً فاناً کیے جانے والے فیصلے پر بولی بھی تھیں مگر اس نے ان
کی کسی بات پر دھیان نہ دیا تھا۔
شمسہ کی ماما بہت اچھی اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ ان کے شفٹ ہو جانے سے بہت خوش
ہوئی تھیں۔ اگلے دن وہ نومان اور ثوبان کے سکول جا کر سکول وین کا بندوبست کر آئی تھی۔ اس
نے ادارے کو سختی سے کہہ رکھا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی بھی آئے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں
بھیجنا ہے۔ اگر کوئی پوچھے تو کہہ دیجیے گا کہ بچے سکول چھوڑ چکے ہیں۔ اگلے دو دن تک وہ یہ
سارے انتظامات کر کے کچھ ریلیکس ہوئی تھی۔ شمسہ کے گھر میں شارقہ اور ماما کو کوئی
نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ نومی اور ثوبان کی وین کی سیکیورٹی سے وہ مطمئن تھی۔
اس نے شمسہ کے کہنے پر گورنمنٹ پوسٹ پر اپلائی کر دیا تھا۔ شمسہ کے ہاں شفٹ ہو جانے کے
ٹیسٹ کی کال مل گئی۔ وہ اب سنجیدگی سے اس گورنمنٹ Writtenبعد تیسرے دن ہی اسے
جان حصول کے لیے کوشاں تھی۔ اس نے تیاری اچھی طرح کی تھی ٹیسٹ دے کر وہ مطمئن تھی
ًرا
ٹیسٹ کی کال آ گئی تھی۔ Writtenاس کا خیال تھا کہ یہ لمبا پراسس ہو گا مگر جس طرح فو
اسی طرح فوراً انٹرویو کی بھی کال آ گئی تھی۔ اسے اُمید تھی کہ وہ کلیئر کر لے گی۔
شمسہ کے ہاں شفٹ ہو جانے کے بعد ماما آنٹی سے گھل مل گئی تھیں۔ شارقہ بھی ایک اچھے اور
ُپرسکون ماحول میں آ کر مطمئن ہو گئی۔ اس نے نومان اور ثوبان پر سکول کے بعد گھر سے باہر
نکلنے پر سخت پابندی لگا رکھی تھی۔ ُپرانے گھر میں بھی اور اب بھی وہ ان کو باہر نکلنے نہ دیتی
تھی۔
کلینک کی جاب اس کے لیے نعمت تھی مگر وہ کلینک آتے جاتے بہت احتیاط سے کام لیتی تھی
لوکل ٹرانسپورٹ سے جانے کے بجائے اس نے اپنے لیے رکشہ لگوا لیا تھا۔ ان سب حفاظتی اقدامات
کے باوجود اس کے اندر ایک خوف کنڈلی مارے بیٹھا ہوا تھا۔
رفیق! مجھے وہ لڑکی چاہیے ہر حال میں چاہیے۔ تم نے غفلت کیوں برتی؟ اتنے دن گزر چکے ہیں ’’
اور اس کا کوئی اتا پتا نہیں مل رہا۔ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ہے۔‘‘ وہ اپنے سامنے
کھڑے رفیق پر بُری طرح گرج برس رہا تھا۔ جبکہ ایک طرف صوفے پر جمشید ُپرسوچ انداز میں
بیٹھا ہوا تھا۔
صاحب جی اس دن واپس آنے کے بعد اگلے دن جا کر دیکھا تو وہ لوگ جا چکے تھے۔ محلے والے ’’
بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نے رات میں ہی گھر خالی کر دیا تھا۔ میں اس کے کلینک میں بھی کئی بار
چکا ہوں وہاں پر ہر بار چوکیدار ایک ہی جواب دیتا ہے کہ ڈاکٹر ربدا کلینک چھوڑ چکی ہیں۔‘‘ وہشرمندہ سا بتا رہا تھا۔ ان لوگوں کو غائب ہوئے دو ہفتے ہونے کو آ رہے تھے اور ان کا کوئی نام و
نشان نہیں مل رہا تھا۔ اس نے بے بسی سے جمشید کو دیکھا۔
اور اس کے بھائی! ان کے سکول میں گئے تم؟‘‘ جمشید نے ہی رفیق سے پوچھا۔’’
جی صاحب وہ لوکل ٹرانسپورٹ سے آتے جاتے تھے اس دن کے بعد سے وہ نہیں آ جا رہے میں نے ’’
سکول انتظامیہ سے پتہ کروایا ہے ان کا یہی کہنا ہے کہ دو ہفتے پہلے دونوں لڑکے سکول چھوڑ
‘‘چکے ہیں۔
دیکھا تم نے میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ اس لڑکی سے پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں میں نے کہا ’’
‘‘بھی تھا کہ اسے پھر اُٹھوا لیتے ہیں مگر تم مانے ہی نہیں۔ اب وہ بھی ہاتھ سے نکل گئی ہے۔
اُٹھوانے کا نتیجہ تم پہلے ہی بھگت رہے ہو۔ اس کے والد کی ڈیتھ کی صورت میں بقول رفیق کے ’’
اس کی ماں بیمار رہتی ہے۔ اب اگر پھر وہ غائب ہوتی ہے تو یقینا اس کی ماں بھی متاثر ہو سکتی
تھی اور تمہارا ضمیر اتنا بوجھ سہہ لے گا کیا؟‘‘ بات اتنی تلخ اور سچی تھی کہ وہ چپ ہو گیا۔ وہ
پہلے ہی کئی بوجھ اُٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے لب بھینچ لیے۔
میں مسلسل ایک بات سوچ رہا ہوں وہ لڑکی تمہاری چچا زاد کی دوست تھی تو کیوں نہ تم ’’
اپنی چچا زاد کے ذریعے اسے تلاش کرنے کی کوشش کرو۔ مجھے نجانے کیوں لگتا ہے اس سارے
سیٹ اپ کی جڑیں تمہاری چچا زاد سے بھی ملتی ہیں۔ جس طرح تمہاری ہر ملاقات تمہاری چچا
زاد کے توسط سے ہوئی۔ وہ تمام تصاویر بھی جن ایونٹس کو شو کرتے ہیں وہ بھی تمہاری چچا زاد
کو ہی پرومینینٹ کرتے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کڑی دونوں لڑکیوں میں ملتی
ہے۔ اگر وہ لڑکی واقعی اس سارے سیٹ اپ کی ذمہ دار ہے تو تمہاری کزن بھی کچھ نہ کچھ
انوالو ضرور ہوئی ہو گی ڈائریکٹ نہیں تو ان ڈائریکٹ سہی۔‘‘ جمشید کہہ رہا تھا اور وہ حیرت
سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اپنی جذباتیت میں وہ اس اہم نکتے پر کبھی دھیان دے ہی نہیں پایا تھا۔
مائی گاڈ… بینش کے متعلق تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ رئیلی یو آر رائٹ وہ اس سلسلے ’’
میں ہماری ہیلپ کر سکتی ہے۔‘‘ وہ فوراً ُپرجوش ہوا۔
اب ہمیں کام جوش سے نہیں ہوش سے کرنا ہو گا۔ تمہیں میری ہدایات کے مطابق کام کرنا ہو گا۔ ’’
‘‘تم آرام اور دھیان سے سنو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
اس نے کہا تو وہ رفیق کو جانے کا اشارہ کرتے جمشید کے ساتھ ہی صوفے پر ٹک گیا تھا۔
اس نے کلینک کی جاب شروع کرتے ہوئے چند اور جگہوں پر بھی اپلائی کر رکھا تھا۔ جن میں ایک
اکیڈمی بھی تھی جو میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو تیاری کرواتی تھی یہ اکیڈمی شمسہ کے گھر کےقریب ہی تھی اور شمسہ کے ہاں شفٹ ہونے کے چند دن بعد ہی اسے کال لیٹر مل گیا تو اس نے
کلینک سے ریزائن کرتے ہی اکیڈمی جوائن کر لی تھی۔ پیکیج یہاں بھی اتنا اچھا نہ تھا مگر یہ ہوا
تھا کہ وہ ڈھونڈ لیے جانے کے ایک مسلسل خوف سے آزاد ہو گئی تھی۔
شارقہ اور ماما گھر میں ہی ہوتی تھیں اور وہ بہت جلد اس گھر میں گھل مل گئی تھیں۔ شمسہ
کی والدہ بہت اچھی تھیں اس کی غیر موجودگی میں ماما اور باقی لوگوں کا بہت خیال رکھتی
تھیں۔ اس گھر میں آ کر ربدا کو لگا کہ جیسے اس کے کندھوں سے بہت بڑا بوجھ اُتر چکا ہے۔ ورنہ
وہ ایک عذاب میں مسلسل زندگی گزار رہی تھی۔
انہی دنوں جانب کے لیے دئیے گئے ٹیسٹ کا رزلٹ آ گیا تھا۔ اس کا ٹیسٹ کلیئر ہو گیا تھا۔ اب اس
کو انٹرویو کال آئی تو وہ بہت مطمئن ہو گئی تھی اسے بہت اُمید تھی کہ اس کی سلیکشن ہو
جائے گی۔
ایک دن وہ اکیڈمی سے نکلی تو اس کا رکشہ والا لیٹ تھا یونہی اس نے سڑک سے گزرتی گاڑی پر
نگاہ ڈالی تو چونک گئی۔ وہاں بینش کے ساتھ گاڑی میں ایک اور وجود تھا۔ اس نے غور کیا تو فوراً
یاد آیا کہ یہ بینش کی بھابی کا بھائی تھا۔
بینش لوگوں کی گاڑی گزر چکی تھی اور پھر اس کا رکشہ والا آ گیا تو وہ بھی بیٹھ گئی تھی۔ وہ
کئی بار سوچ چکی تھی کہ وہ بینش کے ہاں ضرور چکر لگائے گی مگر اپنی زندگی کی اُلجھی ڈور
نے اسے گھریلو حالات سے نکل کر کہیں اور جانے کا موقع نہ دیا تھا اور اب اس کا دل چاہ رہا تھا کہ
وہ اس کے ہاں چکر لگائے۔
اس دن کلینک میں بینش کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات، بینش کا ری ایکشن اپنے ادا کیے ہوئے
جملے اس نے یونہی ہوا میں تیر چلایا تھا، جس طرح وہ تعلق توڑ بیٹھی تھی ایسے میں بینش کا
رویہ بڑا عجیب سا تھا اور اس کے الفاظ پر بینش کا ری ایکشن حیران کن تھا۔ ربدا نے سوچا کیوں
نہ آج بینش کے ہاں چکر لگا لے۔ وہ ایک بار بینش سے ضرور ملنا چاہتی تھی وہ جاننا چاہتی تھی
کہ اس کے کزن نے اسے کیوں اغوا کیا تھا اور اگر چھوڑ دیا تھا تو اب کیوں پیچھا نہیں چھوڑتا اور وہ
عادل کون تھا؟
ڈرائیور… سیٹلائٹ ٹائون چلو…‘‘ مین روڈ پر آتے ہی اس نے ایک دم فیصلہ کیا تھا کہ وہ آج اور ’’
ابھی بینش کے ہاں جائے گی۔ کچھ دیر بعد وہ بینش کے گھر کے سامنے تھی۔
بینش کے چوکیدار نے اسے پہچان لیا تھا وہ کئی بار بینش کے ساتھ اس گھر میں آ چکی تھی۔ اس
کے تعارف پر اس نے اسے اندر جانے دیا تھا وہ رکشہ ڈرائیور کو وہیں ُرکنے کا کہتے اندر چلی آئی
تھی۔
شام کا وقت تھا اندر روشنیاں جلا دی گئی تھیں وہ کون سا پہلی بار اس گھر میں آئی تھی وہبڑے اعتماد سے چلتی ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولتے اندر آ گئی تھی۔
اُف… عادی تم بھی بہت عجیب ہو حد کرتے ہو۔‘‘ بینش اور اس کی بھابی کا بھائی دونوں صوفوں ’’
پر براجمان تھے دروازے کی طرف دونوں کی پشت تھی، نجانے اس شخص کا کیا نام تھا مگر بینش
اسے عادی ہی کہتی تھی۔
تمہارے لیے میں نے اتنا کچھ کیا ہے اب کیوں اس معاملے کو لٹکا رہی ہو اور وہ تمہارا کزن اب ’’
اس گھر میں کیا کرنے آیا ہے۔ جو تم نے چاہا وہ ہو گیا۔ وہ کیوں ادھر ہے اب؟‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔
ہو کیئر… تم کیوں پروا کر رہے ہو۔‘‘ جواباً بینش نے لاپروائی سے کہا تھا۔ ربدا نے خاموشی سے ’’
دونوں کو دیکھا۔
بینش ایک روشن خیال اور ماڈرن ٹائپ لڑکی تھی۔ ان دونوں کی دوستی میں بھی زیادہ ہاتھ
بینش کا ہی رہا تھا اور باب ختم کرنے میں بھی۔
بینش کے ہاں وہ جب بھی آئی تھی اس کی بھابی کا یہ بھائی اس کا ُدم چھلا بنا رہتا تھا ہر وقت
عجیب متضاد طبیعت کا مالک تھا یہ شخص اور ربدا اسے سخت نا پسند کرتی تھی۔ اور اب بھی
وہ دونوں جس طرح بے تکلفی سے صوفے پر براجمان تھے ربدا پر بینش کے کردار کا ایک اور پہلو
واضح ہوا تھا۔
بینش…‘‘ اس کی پکار پر وہ دونوں فوراً حرکت میں آئے تھے۔ بینش اسے اپنے سامنے دیکھ کر ’’
ایک پل کو ٹھٹک گئی تھی۔
تم…؟‘‘ وہ حیرت زدہ تھی۔’’
ہاں میں… تمہیں شاید توقع نہ تھی کہ میں کبھی تمہارے گھر آئوں گی۔ خیر کیسی ہو تم؟‘‘ وہ ’’
آگے بڑھ آئی تھی۔
کیوں آئی ہو تم یہاں؟‘‘ بینش نے اگلے ہی پل اجنبی انداز میں نہایت رکھائی سے پوچھا تھا۔’’
تمہیں یہ یاد کروانے کے لیے کہ کبھی کسی زمانے میں تم خود مجھ سے دوستی جتانے کو پیش ’’
پیش رہتی تھیں۔ کلینک میں ایک بات کہی تھی تم سے بس اس کی تفصیل جاننے کے لیے حاضر
ہوئی ہوں۔‘‘ وہ ڈرے سہمے بغیر ایک صوفے پر جا بیٹھی تھی۔
کیسی بات کیسی تفصیل؟‘‘ وہ خوفزدہ ہو چکی تھی۔ ربدا نے بغور اسے دیکھا۔’’
مجھے تم نے کیوں اغوا کروایا؟ کیوں؟‘‘ وہ فوراً اصل بات پر آ گئی۔ دروازہ کھول کر اندر آتا وجود ’’
وہیں دروازے پر ہی ساکت ہو گیا تھا۔
میں نے تمہیں اغوا نہیں کروایا۔ نجانے تم خود کس کے ساتھ بھاگی تھیں۔ میں نے صرف تم سے ’’
تمام تعلقات ختم کیے تھے۔ مگر تم تو مجھے ہی انوالو کر رہی ہو۔‘‘ وہ بے پناہ غصیلے لہجے میں
گویا ہوئی تھی ربدا نے بینش کو بس سنجیدگی سے دیکھا تھا۔تمہاری کزن سارہ تھی۔ اس کا ہزبینڈ شاید تمہارا کزن تھا۔‘‘ باہر کھڑا وجود ربدا کے ان الفاظ سے ’’
ساکت ہو گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: