Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 6

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 6

–**–**–
مجھے کوئی تفصیل نہیں جاننی۔ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں… گیٹ آئوٹ۔‘‘ وہ غصے سے ’’
پھنکاری تھی۔ ربدا نے بینش کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا اور پھر صوفے سے کھڑی ہو گئی۔
آپ کا نام جان سکتی ہوں کیا میں؟ اتنا تو مجھے علم ہے کہ آپ کو عادی کہتے ہیں۔ جب بھی ’’
میرا اس گھر میں آنا ہوا تو آپ یہیں پائے گئے ہیں اور ہر ملاقات میں سارہ کے ہزبینڈ بھی موجود
ہوتے تھے کاش مجھے ان کا نام یاد آ جائے۔ یہ شاید میری کمزوری تھی میں آپ لوگوں کے جھوٹے
خلوص کا شکار ہو گئی اور کبھی آپ لوگوں کی اصلیت جاننے کی کوشش نہ کی۔ میں نے کبھی
جاننے کی کوشش نہ کی کہ اتفاقاً ملنے والے یہ لوگ آئندہ میری زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
‘‘پلیز عادی صاحب آپ بتائیں کہ آپ کا مکمل نام کیا ہے؟
عادی تم کچھ نہیں بتائو گے اسے۔ یہ بلیک میلر ہے۔‘‘ بینش نے فوراً روک دیا تھا۔’’
تو ٹھیک ہے۔ میں نے بہت عرصہ تم لوگوں کی دھمکیوں پر خاموش رہ لیا ہے اب ایک پل بھی ’’
خاموش نہ رہوں گی میں پولیس کو سب سچ سچ بتا دوں گی کہ تم لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر
کروں گی۔ مجھے اغوا کروانے اور اپنے پاپا کی ڈیتھ کا مقدمہ تم دونوں اور تمہارے اس کزن کے
خلاف کروں گی۔ بہت دھمکیاں دے لیں تم تینوں نے مل کر مجھے میری بیمار ماں بہن اور
معصوم بھائیوں کو اب میں کسی کی باتوں سے نہیں ڈروں گی۔ اب عدالت میں گھسیٹوں گی تم
سب کو تم اور تمہارا یہ ُدم چھلا بے شک پس منظر میں تھے مگر میں جانتی ہوں تم نے اپنے کزن
کو ملا کر مجھے اغوا کروایا ہے۔ تم لوگ نہ بتائو اب ہر بات ہر راز عدالت میں ہی سامنے آئے گا۔‘‘ اس
نے دھمکی دی تھی بینش کا جو رنگ اُڑا تھا اس کے ساتھ کھڑے عادی کا بھی چہرہ پیلا ہوا تھا۔
انہیں شاید اس سے اس قدر ہمت کی توقع نہ تھی۔
ہم نے تمہیں کڈنیپ نہیں کروایا فارگاڈ سیک… مجھے نہیں پتا بازل خان نے ایسا کیوں کیا مگر ’’
‘‘بلیو می ہم اس معاملے میں قطعی بے قصور ہیں۔
اوہ… بازل خان نام ہے تمہارے اس کزن کا…‘‘ بینش نے لب بھینچ لیے تھے۔ اور ربدا ہنس دی۔’’
چلو ایک نام تو ہاتھ لگا۔ اب ان کا نام بھی بتا دو؟‘‘ اس نے بینش کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا ’’
وہ فوراً گھبرا کر بولا تھا۔
عادل… عادل مراد۔‘‘ اس کی دھمکی ان دونوں پر خاطر خواہ اثر کر چکی تھی شاید۔ اس کے نام ’’
پر جہاں ربدا چونکی تھی وہیں باہر کھڑا وجود بھی حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
اور تصاویر و خطوط کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ کچھ پل سنبھلتے اس نے اب کے بینش کے چہرے پر اپنی ’’
نظریں گاڑ دی تھیں۔ک… کیسی تصویریں… کیسے خطوط؟‘‘ وہ ہکلا گئی تھی ربدا کو اس کا زرد چہرہ عجیب سا لگا۔ ’’
اگر وہ چہرہ شناس ہوتی تو دھوکہ ہی کیوں کھاتی اس نے سر جھٹکا۔
اگر مجھے کچھ پتا ہوتا تو میں تم لوگوں کے سامنے کھڑی نہ ہوتی۔ سیدھا کورٹ میں جاتی۔ میں ’’
ایک عام گھرانے کی لڑکی ضرور ہوں میری کمزوری یہ تھی کہ میں تم لوگوں کے نقابوں میں چھپے
غلط چہروں کو پہچان نہ پائی اور جواباً تم لوگوں نے مجھے ہی استعمال کر لیا۔ مجھے ہر معاملے
کی تہ تک پہنچنا ہے۔ تم لوگوں نے مجھے کڈنیپ کروایا۔ میری فیملی کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا
کیا۔ مجھے اس شخص نے تصاویر اور خطوط کے الزام میں کڈنیپ کروایا تھا۔ تم تینوں ملے ہوئے ہو۔
اس شخص کی بیوی مر گئی مجھے نہیں پتا کیوں مری؟ مگر تم تینوں اس معاملے میں شریک ہو
اب میں ضرور کورٹ میں جائوں گی۔ مجھے عام لڑکی نہ سمجھو۔ تم لوگوں کی دھمکیاں بھی اب
‘‘مجھے نہ روک سکیں گی۔
دیکھو تم کچھ نہیں کرو گی مجھے نہیں پتا بازل خان نے تمہیں کیوں اُٹھوایا ہے میں پتا کر کے ’’
تمہیں بتا دوں گی پلیز تم ہم پر اعتبار کرو ہم بتا دیں گے۔‘‘ اس کے الفاظ پر بینش کی ساری ہوا
نکل گئی تھی یا یہ بھی اس کی کوئی ایکٹنگ تھی وہ فوراً اس کا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی۔ ربدا
چند پل اسے دیکھے گئی تھی۔
اس نے… کسی کورٹ میں جانا تھا نہ ہی کسی کچہری میں۔ اس کا مقصد اس دھمکی آمیز
…گفتگو کے ذریعے ان لوگوں سے سچ اُگلوانا تھا اور بس
پتا نہیں سچ کیا تھا جھوٹ کیا تھا اتنا ضرور وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ تینوں افراد ملے ہوئے ہیں۔
ان کا کیا مقصد تھا یہ ابھی بھی واضح نہ ہوا تھا۔
دیکھو بینش سچ کہہ رہی ہے ہمیں کچھ نہیں پتا کہ اس شخص نے تمہیں کیوں کڈنیپ کروایا ’’
‘‘بٹ بلیو اس حقیقت کا پتا کر کے تمہیں ضرور بتائیں گے۔
عادل مراد بھی گھبرا کر کہہ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے پلٹ آئی اور پھر دروازے کے پاس ُرک کر
دونوں کو دیکھا۔ باہر کھڑا وجود فوراً پیچھے ہٹا تھا۔
تم لوگوں کا جو بھی مقصد تھا مگر بینش ایک بات یاد رکھنا جو انسان بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ ’’
پیچھا
میری آہیں اور بددعائیں ہمیشہ تم لوگوں کا کریں گی اور میرے باپ کا قتل تم لوگوں کی
گردنوں پر ہو گا۔ اللہ تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ میں نے بھلا کس کورٹ کس کچہری
میں جانا ہے مگر میرا یقین ہے اللہ ہر انسان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا میرا
مقدمہ اللہ کی عدالت میں درج ہو گیا ہے۔ وہ دنیا کے انصاف کرنے والوں سے بڑھ کر انصاف کرنے
والا ہے اگر تم لوگ قصور وار ہو تو وہ ضرور انصاف کرے گا۔ ڈرو اس دن سے جب وہ تمہارے
بداعمال کو تمہارے چہروں پر دے مارے گا۔ سمجھا دینا اپنے اس کزن کو بھی۔‘‘ وہ کہتے ہوئےدروازہ دھکیل کر باہر نکل آئی تھی راہداری کراس کرتے لان سے ہوتے وہ گیٹ کھول کر باہر نکلی تو
اس کا رکشہ والا منتظر تھا رکشہ کے پیچھے ایک سیاہ گاڑی کھڑی تھی۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو رہا
تھا وہ بغیر اردگرد دھیان دئیے رکشہ میں سوار ہو گئی تھی۔
او مائی گاڈ…‘‘ ساری بات سننے کے بعد جمشید نے سر تھام لیا تھا۔ یہی کیفیت بازل خان کی ’’
بھی تھی۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لڑکی قطعی بے قصور ہے۔ تو کیا قصور وار اور اصل مجرم ’’
‘‘تمہاری کزن اور اس کی بھابی کا بھائی ہے۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ تم نے کہا تھا کہ میں اکثر بن بتائے اُدھر چکر لگاتا رہوں اسی مشورے ’’
پر عمل کرتے وہاں گیا تھا پہلے بھی کئی بار جا چکا ہوں مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا اب جب
‘‘گیا تو وہ لڑکی وہاں تھی اور یہ سب کہہ رہی تھی۔
یہ تو کنفرم ہو گیا ہے کہ وہ لڑکی قطعی بے قصور ہے۔ اسے محض استعمال کیا گیا ہے۔ اب یہ پتا ’’
‘‘لگانا ہے کہ ان دونوں نے اس لڑکی اور تمہارے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیلا؟
مجھے خود نہیں اندازہ ہو رہا کہ بینش اگر اس سارے معاملہ میں انوالو ہے تو کیوں اور اس ’’
عادل مراد کا مجھ سے کیا لینا دینا میں تو یہاں آیا گیا ہی بہت کم ہوں۔ یہ بھی اب آ کر مجھے اس
شخص کا نام پتا چل رہا ہے۔ اگر میرے کچھ اچھے تعلقات ہوتے تو میں کب کا جان چکا ہوتا کہ
تصویروں کے پیچھے اسی عادل مراد کا ہاتھ ہے۔ اگر یہی عادل مراد ہے تو وہ ایڈریس ربدا کے گھر
‘‘کا کیوں تھا؟
ہو سکتا ہے انہوں نے محض خود کو چھپانے کے لیے ایڈریس دے دیا ہو۔ یہ لوگ عادی مجرم تو ’’
ہیں نہیں۔ غلطی تو کر ہی گئے ہیں اگر حقیقت میں ربدا تصویروں کے پیچھے ہوتی تو دستخط بھی
اس کے نام کے ہوتے۔ انہوں نے دستخط اپنے نام کے دئیے اور پتا ربدا کا دیا تاکہ سارا شک اسی پر
‘‘جائے۔ تو یہ تھا سارا پلان۔
‘‘اب کیا کریں؟’’
دو آپشن ہیں اس عادل مراد کو ایک رات کا مہمان بنا کے اپنے اسپیشل روم کی سیر کروا لیتا ’’
‘‘ہوں دوسرا تم اپنی کزن کو ٹریٹ کرو۔ کیسے یہ تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔
اور وہ خط ان پر درج تحریر؟‘‘ بازل نے دوسرا نکتہ اُٹھایا۔’’
تمہارے پاس اس وقت خط ہیں؟‘‘ جمشید نے پوچھا تو بازل خان نے سر ہلاتے اُٹھ کر اپنے روم ’’
میں رکھی الماری سے ایک لفافہ نکال کر اسے تھما دیا تھا۔ جمشید نے دونوں خطوط کو بغور
دیکھا۔تم کسی نہ کسی طرح اپنی کزن کی ہینڈ رائٹنگ لے لو اس طرح میں عادل مراد کی ہینڈ رائٹنگ ’’
لے کر میچ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر ان دونوں میں سے کسی کی میچ ہو گئی تو ٹھیک ورنہ
پھر ڈاکٹر ربدا کی کسی طریقے سے ہینڈ رائٹنگ حاصل کر کے پتا لگوانا پڑے گا اور ان سارے
‘‘مسائل میں پڑے بغیر آسان طریقہ یہ ہے کہ عادل مراد کو ایک رات تھانے کی سیر کروالوں۔
نہیں یار! یہ رسکی کام ہے۔ یہ تصاویر اور خطوط والا معاملہ میری فیملی کے علاوہ سارہ جانتی ’’
ہے صرف۔ اس کے بعد سارہ ناراض ہو کر گئی تو بھی اس نے کسی سے ذکر نہ کیا تھا اس کے بعد
اس کا اور باقی لوگوں کا میرے ساتھ سلوک خصوصاً بابا صاحب کا رویہ باہر کے لوگ قطعی بے
خبر ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ اس معاملے کی بھنک بھی کسی کو ہو۔ میں اپنے تئیں مسئلے کو
حل کرنا چاہوں گا۔ تم جو ہیلپ کر رہے ہو وہ کافی ہے۔ اگر اس طرح مسئلہ نہ سلجھا تو پھر تمہارے
مشورے پر عمل کروں گا اب دوبارہ میں جذباتیت میں ربدا کے ساتھ کیا گیا عمل نہیں دہرانا
چاہتا۔‘‘ وہ اس وقت ڈاکٹر ربدا کا نام قدرے سکون سے لے رہا تھا۔ ڈاکٹر ربدا کے ساتھ کی گئی
زیادتی پر خود بھی پشیمان تھا۔
ادھر بی بی جان کی طبیعت آج کل خراب رہ رہی ہے۔ انہیں اکثر استھما کا اٹیک ہو جاتا ہے۔ وہ ’’
کئی دنوں سے بلوا رہی ہیں۔ مجھے کل چند دن کے لیے جانا پڑے گا میری غیر موجودگی میں تم
‘‘کچھ نہیں کرو گے ہاں واپسی پر مل کر کچھ کریں گے۔
اوکے ایز یو وش…‘‘ جمشید اس وقت اس کی کال پر اس کے گھر آیا ہوا تھا۔’’
ڈاکٹر ربدا کی رہائش کا علم ہو گیا ہے اب۔ میرا خیال ہے اب رفیق کو پھر سے ان کی نگرانی پر ’’
معمور کر دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسے منع کر دو وہاں ربدا کے بجائے اگر تم عادل مراد اور
‘‘بینش کی نگرانی کروائو تو زیادہ بہتر ہو گا۔
ہوں… چلو میں ربدا کی طرف سے ویسے بھی رفیق کو منع کرنے والا تھا۔ ہاں میری غیر موجودگی ’’
میں رفیق کو کہہ دوں گا کہ وہ ان دونوں کا پیچھا کرتا رہے اور جو بھی رپورٹ ہو تمہیں کرتا رہے۔
تم لائحہ عمل ترتیب دے لینا واپسی پر دیکھ لیں گے کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ اس نے فوراً جمشید کی بات
مان لی۔
اس کے بعد بھی جمشید بینش اور عادل مراد کے اس سارے کھیل کے پیچھے موجود وجہ کو ہی
ڈسکس کرتا رہا تھا۔
ڈاکٹر کی جانب کے لیے اس کی سلیکشن ہو گئی تھی۔ یہ کوئی دور دراز کا علاقہ تھا۔ شمسہ نے
اس کی بہت ہمت بڑھائی تھی ورنہ اتنی دور اپارٹمنٹ ہونے پر وہ کافی نااُمید ہو گئی تھی اس کا
سارا جوش ختم ہو گیا تھا۔ وہ ایسے حالات میں ماما، شارقہ اور دونوں بھائیوں کو چھوڑ کر اتنیدور کیسے جا سکتی تھی مگر شمسہ کے کہنے پر اس نے جوائن کر لینے کی ہامی بھر لی تھی۔
شمسہ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں ماما، شارقہ اور بھائیوں کو کوئی پریشانی
نہیں ہو گی اور چند ماہ بعد وہ پاپا کے تعلقات استعمال ہوئے اس کا ٹرانسفر اپنے ہی علاقے میں
کروانے کی کوشش کرے گی۔
اور اس کی تسلی دلاسوں پر آج کل وہ اس علاقے میں آئی ہوئی تھی۔ پہلے دو تین دنوں میں ہی
وہ خاصی اُداس ہو گئی تھی وہ کبھی فیملی سے جدا نہ ہوئی تھی اب ہوئی بھی تو یہ دوری
سہی نہ جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ دو میل ڈاکٹرز اور تھے جو نرس رضیہ کے بقول کبھی کبھار ہی
آنے کی زحمت کرتے تھے۔ چند بستروں کچھ اسٹیشنری اور ادویات کے علاوہ ہسپتال کے ساتھ ہی
ہاسٹل بھی تھا، جہاں ہسپتال کی دونوں شادی شدہ نرسز اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہی تھیں
سسٹر رضیہ نے اسے بھی اپنے ساتھ والا کمرہ سیٹ کر دیا تھا۔
ایک چارپائی بستر اور محدود زندگی وہ جتنے بھی عام سے گھرانے سے تھی مگر ماما، پاپا نے
انہیں ایک خوشحال زندگی فراہم کی تھی۔ وہ یہاں قیام کے تیسرے دن ہی عاجز آ چکی تھی۔ اگر
روزگار کا مسئلہ نہ ہوتا تو وہ دوسرے دن ہی واپس چلی جاتی۔ یہ ہسپتال ارد گرد واقع دو تین
گائوں کے لیے واحد سرکاری ہسپتال تھا۔ یہاں علاقے کے لوگوں کے مسائل اور انداز زندگی بھی
مختلف تھے سو اسے پرابلم ہو رہی تھی، اسے یہاں آئے آج چوتھا دن تھا مگر ابھی تک سینئرز
ڈاکٹرز کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ اس ہسپتال کا سارا انتظام سسر رضیہ، سسٹر ماریہ کے علاوہ دو
وارڈ بوائے لڑکوں کے ذمے تھا جو شاید اسی طرح یہاں نوکری کرنے پر مجبور تھے۔
یہاں کے لوگ ہسپتال تب آتے تھے جب تکلیف شدت اختیار کر جائے ورنہ وہ چھوٹے موٹے ٹوٹکوں
سے ہی علاج کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی مریضوں کو دیکھ رہی تھی۔
ایک بچے کو بیڈ پر لٹا کر چیک کر رہی تھی جب حواس باختہ سی سسٹر رضیہ اندر داخل ہوئی
تھی۔
ڈاکٹرنی صاحبہ… ڈاکٹر صاحبہ!‘‘ عام لوگوں میں رہنے کی وجہ سے سسٹر رضیہ کا لہجہ بھی ان ’’
لوگوں کے رنگ میں رنگ گیا تھا۔
‘‘کیا بات ہے؟’’
وہ بڑی حویلی سے بلاوہ آیا ہے آپ کا…‘‘ ربدا کو حیرت سی ہوئی۔’’
کیوں؟‘‘ بچے کو واپس اس کی ماں کے حوالے کرتے پیڈ پر اس کا نسخہ تیار کرتے ہوئے سسٹر ’’
رضیہ کو دیکھا۔
حویلی والے سبھی کو دعوت دیتے ہیں۔ اس علاقے میں کوئی بھی نیا آدمی یا عورت آئے حویلی ’’‘‘والے ضرور بلاتے ہیں۔
اور یہ حویلی والے کون ہیں؟‘‘ سنجیدگی سے رضیہ کو دیکھا تو اس کا بھی سارا جوش و خروش ’’
ماند پڑ گیا۔
‘‘اس علاقے کے مالک ہیں۔’’
اگر مالک ہیں تو میں کیا کروں۔ یہاں بہت سے مریض ہیں ڈاکٹر سرور اور یوسف تو جب سے ’’
میں آئی ہوں آئے نہیں میں بھی چھوڑ کر چل دوں۔ تم لوگ بھی دھیان سے اپنی ڈیوٹی کیا کرو۔ وہ
‘‘مالک ہیں تو ہمیں کیا۔ ہم سرکاری ملازم ہیں۔ اس علاقے کے مالکان کے نہیں۔
ارے…‘‘ وہ اس قدر صفا چٹ انکار پر حیران رہ گئی۔’’
جائو اگلے مریض کو بھیجو۔‘‘ سسٹر رضیہ منہ بنا کر چل دی تھی۔’’
وہ مریضوں سے فارغ ہو کر ہاسٹل سائیڈ میں اپنے کمرے میں لیٹ کر گھر والوں کو یاد کرنے لگی
تھی دوپہر کے قریب وہ ایک گھنٹہ ریسٹ کرتی تھی اور پھر ایک بجے سے لے کر تین بجے تک پھر
مریضوں کو دیکھتی تھی۔
دو بجے کے قریب مریض نہ ہونے پر وہ وہیں ہسپتال کے اپنے کمرے کے بستر پر لیٹ گئی۔ اس کا
ارادہ شارقہ سے بات کرنے کا تھا وہ اپنے سیل پر نمبر ملا رہی تھی جب دھڑام سے دروازہ کھول کر
کوئی اندر داخل ہوا۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی مگر اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر ساکت
ہو گئی تھی۔
بازل خان…‘‘ بینش کے منہ سے یہ سنا یہ نام اس کی یادداشت میں بہت اچھی طرح تازہ تھا۔ ’’
یہی حالت کم و بیش بازل خان کی بھی تھی۔
ربدا کے وجود کو ایک سنسنی خیز کربناک لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی
کہ دنیا اتنی چھوٹی ہے یا پھر اس کی قسمت میں ہی اس شخص سے ٹکرانا لکھا تھا۔ وہ اس
شخص کے خوف سے چھپتی پھر رہی تھی اور یہ یہاں بھی آ پہنچا تھا۔ اس انسان کے تصور سے
ہی اسے گھن آتی تھی اور وہ پورے ُرعب و دبدبے اور طمطمراق سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔
آپ…‘‘ وہ اس کی یوں آمد پر خون کے گھونٹ پیتی اپنی کرسی کے پاس جا ُرکی تھی۔ بازل خان ’’
بھی اسے اپنے اس علاقے میں دیکھ کر حیران تھا۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے
سامنے وہی وجود کھڑا ہو گا جسے وہ پچھلے دنوں دیوانہ وار تلاش کر رہا تھا۔
مجھے ڈاکٹر صاحبہ سے ملنا ہے۔ جو یہاں نئی اپائنٹ ہو کر آئی ہیں۔‘‘ ربدا نے خاصا چونک کر ’’
اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے وہ بغیر ڈرے سہمے سیدھی کھڑی ہو گئی تھی۔
جی کہیے کیا خدمات کر سکتی ہوں آپ کی… میں ہی نئی اپائنٹمنٹ ہوں یہاں کی۔‘‘ اس کے ’’
لہجے میں خاصی کاٹ تھی۔ اور بازل خان چونک کر حیران ہو کر اسے دیکھے گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ نئی ڈاکٹرنی یہی لڑکی ہے۔ اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔
تو پھر آپ کو میرے ساتھ ہماری حویلی چلنا ہو گا۔ کچھ دیر پہلے ہماری ملازمہ آپ کو بلوانے آئی ’’
‘‘تھیں مگر آپ نے انکار کر دیا۔ ہماری والدہ کافی بیمار ہیں انہیں دکھانا ہے۔
تو یہ اس علاقے کے مالکان میں سے ہے۔‘‘ ربدا حیرت زدہ تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ’’
کہ جاب کے لیے وہ جہاں آئی ہے وہ اسی شخص کا علاقہ ہے۔
ایم سوری میں کہیں نہیں جا رہی۔ آپ ان کو یہاں لے آئیں میں دیکھ لوں گی۔‘‘ وہ انکار کرتے ’’
کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ کیوں ڈرے اگر یہ اس شخص کا علاقہ ہے تو وہ بھی اتنی طاقت رکھتی ہے
کہ اس علاقے کے لوگوں کو اس شخص کے کرتوت بتا سکتی ہے۔ اس کے صفا چٹ انکار پر بازل
خان نے بے پناہ طیش سے اسے دیکھا۔ وہ ابھی تک مکمل طور پر اس کے الزام سے بری الذمہ نہیں
ہوئی تھی۔ اگرچہ بینش اور عادل مراد کی حقیقت سامنے نہیں آئی تھی مگر اس پر جو بہتان اس
لڑکی کے ذریعے لگا تھا وہ اسی طرح برقرار تھا۔
وہ یہاں نہیں آ سکتیں۔ آپ کو میرے ساتھ حویلی چلنا ہو گا۔‘‘ کس قدر رعونت بھرا حاکمانہ انداز ’’
تھا۔ ربدا کا تن بدن سلگنے لگا۔
میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جائوں گی مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ آپ جیسے ظالم سفاک لوگوں ’’
کا علاقہ ہے۔ آپ اپنی والدہ کو کہیں لے جائیں میں قطعی نہیں جا رہی آپ کے ساتھ۔‘‘ وہ بے
قصور تھی، اس کا ضمیر مطمئن تھا وہ ان تین دنوں میں حویلی والوں کے بہت سے قصیدے سن
چکی تھی۔ اس نے فوراً سوچ لیا کہ اگر اس شخص نے اسے تنگ کیا کوئی دھمکی دی تو وہ اس
کی اصلیت یہاں کے لوگوں کے سامنے لائے گی۔ وہ کیوں ڈر ڈر کر جیئے۔ کیوں ظالمانہ جبر سہے۔
اسے صاف انکار کر کے وہ اب یہاں ایک پل بھی اس کے سامنے ٹھہرنا نہیں چاہتی تھی مریض
کوئی تھا نہیں اُٹھ کر اس نے ٹیبل پر پڑا اپنا اوور آل اسٹیتھ سکوپ اور بیگ تھام لیا تھا۔
پلیز… آپ یہاں سے جا سکتے ہیں مجھے کمرہ لاک کرنا ہے۔‘‘ بازل خان کو اسی طرح کھڑے دیکھ ’’
کر اس نے کہا۔
آپ جیسے جاگیر داروں کے پاس ڈاکٹرز کی کمی نہیں ہوتی۔ کسی اسپیشلسٹ کو دکھائیے جا ’’
‘‘کر میں تو ایک عام سی ڈاکٹر ہوں۔
غم و غصے سے کہتے وہ وہاں سے نکل آئی تھی وارڈ بوائے کو کمرہ لاک کرنے کی ہدایت دیتے وہ
اپنے ہاسٹل والے کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی۔ وہ کیا کرے وہ یہاں سے چلی جائے یا ڈٹ کر
حالات کا مقابلہ کرے۔
یا اللہ… میری ایسی کون سی غلطی ہے جس کی سزا اس شخص کی صورت مجھے مل رہی ’’
ہے۔ میں بے قصور ہوں تو اچھی طرح جانتا ہے۔ میں کہاں تک بھاگوں اس شخص سے میں نے اپنامقدمہ تجھ پر چھوڑا ہے یا اللہ میرا فیصلہ کر دے۔ مجھے اس اذیت سے نجات دے دے۔‘‘ وہ پھوٹ
پھوٹ کر رو رہی تھی۔
بی بی جان کو اکثر استھما کی شکایت رہتی تھی اور کبھی کبھار شدت اختیار کر جاتی تھی۔
ڈاکٹر ربدا کے انکار کے بعد وہ انہیں شہر لے آیا تھا۔ چند دن ایڈمٹ رہنے کے بعد وہ بہتر ہوئیں تو
واپس چلی گئی تھیں۔ جبکہ وہ ادھر ہی رہا تھا۔ اس کا بہت سا کام ابھی باقی تھا۔ ربدا سے ہونے
والی اپنی غیر متوقع ملاقات بھی اسے اذیت سے دو چار کر رہی تھی۔ وہ اب جلد از جلد حقیقت
تلاش کر لینا چاہتا تھا۔
بینش اگر واقعی تاور وہ شخص ملوث ہوئے تو تم دونوں کو میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکے ’’
گا۔‘‘ وہ بی بی جان کے جانے کے اگلے دن ہی چچا کے گھر چلا آیا۔ دوپہر کا وقت تھا ملازم نے بتایا کہ
گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اسے اپنا سارا پلان چوپٹ ہوتا محسوس ہوا۔
اس نے سوچا تھا کہ وہ بینش کو لے جا کہیں ایسی جگہ رکھے گا جب تک وہ حقیقت نہ بتا دے
گی وہ اسے چھوڑے گا نہیں مگر وہ گھر پر ہی نہ تھی۔
وہ بینش کے کمرے میں چلا گیا تھا اس کی ٹیبل پر نوٹ بکس، بکس پیپرز پڑے ہوئے تھے اس نے
بینش کی ڈائری اُٹھا لی۔ یہ اس کے نوٹس اور مختلف روز مرہ کے شیڈول پر مشتمل ڈائری تھی۔
دیکھنا بینش اگر ڈاکٹر ربدا بے قصور نکلیں تو میں تمہیں اتنی زندگیوں سے کھیلنے کی ایسی ’’
عبرتناک سزا دوں گا کہ تم ساری عمر یاد رکھو گی۔‘‘ ڈائری لے کر وہ وہاں سے نکل آیا تھا۔ اس نے
یہ قدم جمشید کو بتائے بغیر اُٹھایا تھا۔ وہ ڈائری لے کر سیدھا اسی کے پاس آیا تھا۔
یہ بینش کی ڈائری ہے۔ مجھے کنفرم کروا کر بتائو کہ لیٹرز میں لکھی گئی رائٹنگ اور یہ رائٹنگ ’’
‘‘کتنی ملتی ہیں۔
بازل خان نے اس کے سامنے دونوں خط اور ڈائری رکھ دی تھی۔
جمشید کافی دیر تک دونوں کو دیکھتا رہا تھا۔
یہ بینش کی ہی رائٹنگ ہے یار!‘‘ جمشید نے اسے دیکھا تو وہ سختی سے لب بھینچ گیا۔’’
‘‘مگر سوچنے کی بات ہے اس نے یہ سارا کھیل کیوں کھیلا؟’’
کچھ کچھ اندازہ مجھے ہو رہا ہے۔ کل ملوں گا تم سے پھر تفصیلاً ذکر کروں گا۔‘‘ بمشکل خود کو ’’
سنبھالتے اس نے خطوط والا لفافہ دوبارہ جیپ میں ڈال لیا تھا۔
اور عادل مراد کے لیے کیا پلاننگ ہے؟ اور یہ تو کنفرم ہو گیا ہے کہ ربدا اس قصے میں بے قصور ’’
‘‘ہے۔
‘‘ربدا ہمارے علاقے میں ڈاکٹر کے طور پر اپائنٹ ہو کر گئی ہیں۔’’اوہ…؟‘‘ جمشید حیران ہوا تھا۔’’
عادل مراد کو بھی دیکھ لوں گا۔ اب اس کو میں اپنے طور پر ہینڈل کروں گا۔ شکریہ یار تم نے اس ’’
سارے معاملے میں اتنی مدد کی ورنہ ربدا کو مورد الزام ٹھہراتے اس کے سارے خاندان کو تباہ
کرنے کے چکر میں نجانے اپنے ضمیر پر کتنا بوجھ لاد چکا ہوتا۔ چلتا ہوں اب بینش سے خود ہی
نبٹوں گا۔ کل ملوں گا ساری تفصیل بتائوں گا۔‘‘ وہ جمشید سے ہاتھ ملا کر ڈائری لے کر واپس آ گیا
تھا۔
وہ بینش کو شام کے وقت اپنے گھر لے کر آیا تھا۔
بینش حیران تھی کہ اتنا سڑیل مزاج اس سے کئی گز فاصلہ رکھ کر ملنے والا انسان اب کیونکر
بدل گیا ہے۔ وہ اسے چند پرسنلز باتیں ڈسکس کرنے کا کہہ کر لایا تھا۔
اور ان لمحات کا بینش کو کب سے انتظار تھا۔ اس سب کے لیے نجانے اسے کیا کیا کرنا پڑا تھا اور
آج یہ شخص اس کے قریب تھا۔
تمہارا پروپوزل چچا جان نے میرے لیے دیا ہے مجھے تم سے اس کے متعلق ڈسکس کرنا ہے۔‘‘ ’’
یہاں لاتے ہوئے اس نے کہا تھا اور بینش کو لگا تھا کہ جیسے اس نے ساری دنیا فتح کر لی ہے۔
اسی دن اور انہی لمحات کا تو اسے انتظار تھا۔
آپ ادھر کیوں لائے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ میں چلتے نا۔‘‘ گاڑی سے اُترتے ہوئے بمشکل اس نے کہا ’’
تو بازل خان نے اپنے جذبات پر بمشکل قابو پایا۔
کیوں تمہیں میرے ساتھ یہاں آنا اچھا نہیں لگا کیا؟‘‘ اس کے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ اک ’’
ادا سے مسکرائی۔ اپنے شولڈر کٹ بالوں کو ہاتھ سے سنوارا۔
نہیں… بہت اچھا لگا ہے۔‘‘ عجب بے خود سا لہجہ تھا۔ وہ اسے لیے راہداری سے ہوتا ہوا سٹور نما ’’
کمرے میں داخل ہوا تو وہ چونکی۔
ہم کدھر جا رہے ہیں؟‘‘ اندھیرے اسٹور میں کھڑی وہ پوچھ رہی تھی۔’’
تم چلو تو سہی… ایک سرپرائز تمہارا منتظر ہے ابھی پتا چل جاتا ہے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑے آگے ’’
آگے بڑھنے لگا تھا وہ اندھیرے میں اس کے ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی۔ سٹور نما کمرے سے
نیچے زینہ طے کر کے وہ اسے ایک ایسے کمرے میں لایا تھا جو بالکل خالی تھا۔ بس فرش پر ایک
میٹرس بچھا ہوا تھا۔
یہ کون سی جگہ ہے۔ ادھر ہم کیوں آئے ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی بازل خان نے آگے بڑھ کر لائٹ آن ’’
کر دی تھی۔ وہ بازل خان کے تیوروں سے کچھ خائف ہو گئی تھی۔
تم سے بہت سے سوال پوچھنے ہیں۔ ایک بات بتائو سچ سچ… جھوٹ کی قطعی گنجائش نہیں۔ ’’تم جانتی تھیں کہ میں سارہ سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اس کے بعد کبھی دوسری شادی نہیں
‘‘کروں گا پھر بھی تم نے مجھ سے شادی سے انکار نہ کیا… کیوں؟
تم سچ جاننا چاہتے ہو تو یہی کہوں گی کہ میں تم سے تب سے محبت کرتی ہوں جب ہمارے ’’
بڑوں میں محض ہماری بات ہی طے ہوئی تھی۔ مگر تم نے انکار کر دیا اور سارہ سے شادی کر لی۔
اب سارہ نہیں رہی کیا اب بھی تمہارے دل میں میرے لیے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہو سکتی۔‘‘
بازل خان نے بے پناہ نفرت سے اسے دیکھا۔
اور ربدا! اس کی حقیقت تم واضح کرو گی یا میں بتائوں تمہیں؟‘‘ اس کے سخت پتھریلے لب و ’’
لہجے پر وہ چونک کر خوفزدہ ہو گئی تھی۔
کون ربدا… کیسی حقیقت…؟‘‘ وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ بازل خان اسے یہاں کیوں ’’
‘‘لایا ہو گا۔

Read More:  Kehkashan Si Rehguzar Novel By Rubab Naqvi – Episode 2

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: