Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 7

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 7

–**–**–

شٹ اپ… میرے ساتھ اب کوئی ڈرامے بازی مت کرنا۔ سارہ مر گئی تمہاری گھٹیا چالوں کی ’’
وجہ سے… میرا بچہ ماں سے محروم ہو گیا تمہاری نفرت اسے کھا گئی اور ربدا تم نے اسے بھی نہ
بخشا۔ اب تمہارا کھیل ختم سب کچھ واضح اور روشن ہو چکا ہے۔‘‘ وہ دروازہ لاک کرتے بپھرے
ہوئے تند و تیز طوفان کی مانند اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور بینش اس کی آنکھیں پھٹ جانے کی
حد تک کھل گئی تھیں۔
کتنی مکار اور گھٹیا فطرت کی لڑکی ہو تم… تم اس قدر چالباز اور کینہ پرور ثابت ہو گی مجھے ’’
اندازہ ہی نہ تھا… تم نے اپنے ٹھکرائے جانے کا بدلہ لیا۔ میری اور سارہ کی محبت بھری زندگی
تمہیں چین سے جینے نہیں دے رہی تھی اور تم نے ڈاکٹر ربدا کو استعمال کر کے میری غیرت،
میری مردانگی و عزت کو کھیل بنا ڈالا۔ میرے باپ بھائیوں بھابیوں کے دل مجھ سے بدظن کر ڈالے۔
‘‘تم نے میری ساری خوشیاں چھین لیں مکار عورت۔
‘‘کیا… کہہ رہے ہو تم؟ جھوٹ ہے یہ سب؟’’
شٹ اپ…‘‘ بازل خان کے ایک بھرپور تھپڑ نے اسے میٹرس پر گرا دیا تھا۔’’
یہ دیکھو… یہ ہے تمہارے کرتوتوں کا ثبوت۔‘‘ اس نے اپنی جیب سے لفافہ نکال کر اس کے منہ پر ’’
دے مارا تھا۔
یہ دیکھو مکار، چالباز لڑکی دیکھو یہ ہیں تمہارے کارنامے۔‘‘ اس کا بازو پکڑا انتہائی جنونی پن ’’
میں اس نے اسے سیدھا کیا تو وہ ڈر کر فوراً لفافہ تھام گئی۔ جوں جوں وہ تصاویر دیکھ رہی تھی
اس کا رنگ لٹھے کی مانند زرد ہو رہا تھا۔
کیوں کیا تم نے یہ سب… بولو… تمہیں ذرا بھی خدا کا خوف نہ آیا۔ ایک نہیں کئی زندگیوں سے ’’
تم کس درجہ سفاکی سے کھیل گئیں۔‘‘ وہ سخت غم و غصے اور انتہائی اشتعال سے گویا تھا۔بینش کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔ وہ واقعی نفرت و انتقام میں اندھی ہو چکی تھی۔ وہ
بازل خان کو ہمیشہ سے چاہتی آ رہی تھی مگر بازل کے انکار نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا۔ اس
کے دل میں سارہ کے لیے بے پناہ نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ ہر وقت دل ہی دل میں اس کے خلاف
منصوبے بنا رہی تھی۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی جو اسے سارہ کے ساتھ ایک
مسکراتی خوشحال زندگی گزارتے دیکھ کر دن بدن دو آتشہ ہوتی جا رہی تھی پھر اس کے سامنے
عادل مراد آ گیا وہ اس کی محبت کا دم بھرتا تھا اور وہ خود بازل خان کی۔
اس نے اپنی نفرت میں عادل مراد اور ربدا دونوں کو استعمال کیا تھا۔ ربدا اس کی ایک اچھی
سکول لیول کی دوست تھی مگر محبت میں انتقام لیتے لیتے وہ دوستی کو بھی بھینٹ چڑھا گئی
تھی۔ اس کے لیے عادل نے سب تصاویر بنوائی تھیں اور ہر بار سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق
وہ ربدا اور بازل خال کو سامنے لائی تھی ان کی ملاقاتیں کروائی تھیں۔ ربدا جان پائی تھی کہ وہ
کیا کھیل کھیل رہی ہے نہ ہی بازل خان ہاں عادل مراد اس کو پانے کے لیے اس کا ساتھ دے رہا تھا۔
تصاویر عادل نے تیار کروائی تھیں اور خط بینش نے خود لکھے تھے اور پھر ان کو پوسٹ کر دیا تھا۔
نتیجہ اس کی توقع کے مطابق تھا سارہ میکے چلی گئی تھی اور پھر چند دن بعد ہی بیٹے کی
پیدائش پر اس کی ڈیتھ کی خبر ملی تھی، ربدا اغوا ہو گئی تو وہ خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس کا
مقصد سارہ کو بازل خان سے بدظن کروانا چاہا تھا اسے قطعی اُمید نہ تھی کہ بازل خان ربدا کو
اغوا کروائے گا۔ وہ اپنے خوف میں مبتلا ربدا سے تمام تعلقات ختم کر بیٹھی تھی مگر کلینک میں
ہونے والی ربدا سے گفتگو نے اسے صحیح معنوں میں ہراساں کر ڈالا تھا۔
تب اسے پتا چلا کہ اسے بازل نے اغوا کروایا ہے اور ربدا سمجھ رہی تھی کہ اسے بینش نے اغوا
کروایا ہے۔ بعد میں جو بھی صورتحال ہوئی مگر اس کے ذہن کے کسی بھی گوشے میں یہ بات نہ
تھی کہ بازل حقیقت بھی جان سکتا ہے وہ یہ سارا کھیل کھیلتے ہوئے نہیں جانتی تھی کہ جو
کنواں وہ دوسروں کے لیے کھود رہی ہے وہ خود بھی اس میں گر سکتی ہے۔ ربدا کے بقول اللہ بڑا
انصاف کرنے والا ہے۔ آج شاید یوم حساب تھا۔
وہ کوئی بھی رعایت دئیے بغیر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ صورتحال سنگین تر تھی۔ سد باب کی
کوئی راہ نہ بچی تھی۔
میں نے کچھ نہیں کیا؟‘‘ گھٹی گھٹی آواز تھی بس۔’’
میں تمہیں بتاتا ہوں تم نے یہ کیوں کیا… سنو اپنی مکاریاں اور چالبازیاں۔‘‘ وہ تنفر سے گویا تھا۔’’
میرا اور تمہارا رشتہ ہمارے بڑوں میں طے تھا مگر میں نے تمہارے بجائے سارہ کو فوقیت دی۔ وہ ’’
تھی ہی اس قابل کہ اسے چاہا جاتا اور پانے کی آرزو کی جاتی اور تم کیا تھیں؟ دولت و امارت کے
نشے میں چور ماڈرن ازم کا پرچار کرتی ایک بے ضمیر شکست خوردہ سی لڑکی۔ تمہیں اپنی وہشکست بھول نہیں پا رہی تھی۔ ہماری خوش باش زندگی تم سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ تم
اتنی پستی میں بھی گر سکتی ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ تم ایک بیمار ذہنیت اور کردار
کی مالک لڑکی کیا خیال تھا تم سارہ اور مجھ کو جدا کر کے مجھے حاصل کر لو گی اور تمہارا یہ
بھیانک روپ کبھی میرے سامنے نہیں آئے گا۔ اور یہ لڑکی…‘‘ اس نے جھٹکے سے ایک تصویر اس
کے سامنے کی تھی بینش نے خوف بھری نظروں سے تصویر کو دیکھا تصویر میں بازل خان نے ربدا
کو کندھوں سے تھام رکھا تھا۔
اس لڑکی کی زندگی برباد کر دی تم نے… اس کے ساتھ تو کم از کم ایسا گھٹیا کھیل نہ کھیلتیں۔ ’’
اس کے اوپر اتنے گھٹیا الزام لگانے پر تمہیں ذرا شرم نہ آئی۔ ذرا حیا کا دامن نہ تھاما یہی سوچ
لیتیں کہ تم کس خاندان کی لڑکی ہو۔‘‘ اس کے انداز و لہجے پر بینش لرز کر رہ گئی۔
میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ تم نے میری غیرت کو للکارا ہے۔ پڑھو اپنے لکھے یہ خط… کیا ’’
کیا بکواس تم نے مجھ سے اور اس معصوم پاکباز لڑکی کے ساتھ منسوب کی ہے پڑھو ان کو۔‘‘ اس
نے اپنی جیب سے خط نکال کر اس کی طرف اُچھال دئیے تھے۔
میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ کسی بھی احساس و رحم سے عاری کرخت و جامد تیور ’’
لیے اس کی طرف بڑھا تو وہ کئی قدم پیچھے ہٹ گئی۔
مجھے معاف کر دو بازل… پلیز مجھے معاف کر دو… میں انتقام میں اندھی ہو گئی تھی… میں نے ’’
بہت غلط کیا۔ تمہارے ساتھ ربدا کے ساتھ… سارہ کے ساتھ۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑے رو رہی تھی۔ بازل کو
اس کے آنسو مکار لومڑی کی مانند لگ رہے تھے۔
اتنے دن وہ اس کمرے میں بند روتے سسکتے بلکتی رہی تھی مگر مجھے اس پر رحم نہ آیا۔ میں نے
کئی بار اسے کچل ڈالنے کا ارادہ کیا مگر میرے اللہ نے مجھے اپنے ضمیر کے سامنے مزید گرنے سے
بچا لیا۔ میں سمجھا وہ لڑکی غلط ہے اور میں نے اپنا بدلہ لینے کے چکر میں اسے برباد کر ڈالا۔ اس
کا باپ مر گیا۔ وہ گھر سے بے گھر ہو گئی اور میں اپنے زعم میں خود کو حق بجانب سمجھتا رہا۔
اتنا بڑا گناہ کر ڈالا۔ مجھے پھر بھی اس پر ترس نہ آیا اور اب مجھے تم پر بھی ترس نہیں آئے گا۔
چلاّئو جتنا جی چاہے چلاّئو۔ یہاں کوئی بھی تمہاری آواز سننے نہیں آئے گا۔ جیسے وہ چلائی تھی
اور کوئی اس کی آواز نہیں سنتا تھا۔ چلاّئو اب… مکار، ظالم لڑکی چلاّئو۔‘‘ وہ اس پر ریوالور تانے
حلق کے بل چیخا تھا اور خوف سے لرزتی بینش اپنی جان بچانے کی کوشش میں اندھا دھند
بھاگی تھی۔
نہیں مجھے نہیں مارو۔‘‘ وہ دیوار سے ٹکرا کر گری۔’’
مجھے چھوڑ دو۔ معاف کر دو… پلیز جانے دو۔‘‘ بے اختیار روتے سسکتے وہ اس کے پائوں میں گری ’’
تھی۔ بازل خان نے نفرت سے اسے ٹھوکر مار دی وہ دوبارہ دیوار کے ساتھ ٹکرائی تھی۔ اس کے سرسے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا تھا۔
بازل… مجھے چھوڑ دو پلیز…‘‘ وہ اس کے مقابل ٹک گیا تھا۔ وہ اس کی سگی چچا زاد تھی اس ’’
کے خاندان کی عزت مگر اس پر قطعی رحم نہیں آ رہا تھا۔
مجھے معاف کر دو…‘‘ ہاتھ جوڑے وہ کہہ رہی تھی مگر بازل خان نے اس کی کنپٹی پر ریوالور ’’
رکھے ٹریگر پر اُنگلی کا دبائو بڑھا دیا تھا۔
با… ز… ل…‘‘ بینش کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی۔’’
شمسہ کی خالہ بیرون ملک رہتی تھیں۔ وہ پاکستان آئی ہوئی تھیں وہ ان سے اور ان کے بیٹوں
سے مل چکی تھی اچھی فیملی تھی باہر سیٹل تھی وہ لوگ اپنے بیٹے کی شادی کرنے پاکستان
آئے ہوئے تھے شمسہ کی اپنے ماموں کے ہاں بات طے تھی آج کل اس کی خالہ لڑکیاں دیکھ رہی
تھیں۔ آج جب اس نے گھر فون کیا تو ماما بتا رہی تھیں۔
شمسہ کی خالہ نے اپنے بیٹے کا پروپوزل شارقہ کے لیے دیا ہے۔‘‘ ربدا حیرت زدہ تھی۔’’
وہ ایک ماہ کے اندر اندر شادی کرنا چاہ رہی ہیں۔ لڑکا اچھا ہے اچھی فیملی ہے۔ مجھے تو کچھ ’’
سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا جواب دوں۔ شمسہ کے والدین بہت اطمینان دلا رہے ہیں مگر اتنی دور
بیٹی کو بھیج دینے پر دل خوفزدہ ہو رہا ہے۔‘‘ ماما مزید بتا رہی تھیں۔
ماما واقعی اچھی فیملی ہے۔ آپ اپنا اطمینان کر لیں اور ہاں کہہ دیں۔ شارقہ کی ایج ہے کوئی ’’
مضائقہ نہیں۔ لڑکے سے میں مل چکی ہوں اچھا خاصا ہے۔ یہ تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ
وہ اپنی شارقہ کے لیے کہہ رہی ہیں ورنہ ان لوگوں کو رشتوں کی کیا کمی ہے۔‘‘ وہ فوراً ُپرجوش ہو
گئی۔
…‘‘مگر ایک ماہ کے اندر اتنی جلدی شادی’’
ہے ہم ارینج کر لیں گے۔‘‘ اس نے فوراً Saveسب ہو جائے گا ماما! پاپا کو ملنے والی رقم ساری’’
کہہ دیا۔
شمسہ کی خالہ نے کچھ بھی لینے دینے سے صاف انکار کر دیا ہے بلکہ وہ تو کہہ رہی تھیں کہ ’’
با
شادی کی ساری ذمہ داری بھی وہ لوگ خود ہی اُٹھائیں گے ایک اور ت کہہ رہی تھی وہ؟‘‘ ماما
کچھ کہتے کہتے ُرک گئی تھیں وہ چونکی۔
‘‘کیا بات…؟’’
شارقہ اتنی دور جانے پر راضی نہیں تو شمسہ کی خالہ کہہ رہی تھیں کہ وہ نومان اور ثوبان کے ’’
ویزے بھی تیار کروا لیتے ہیں شارقہ کے ساتھ یہ دونوں بھی وہاں سیٹل ہو جائیں گے رہ گئی میں
‘‘تو اگر تم چاہو تو وہ ہم دونوں کو بھی لے جائیں گے۔اچھا…‘‘ وہ خاصی حیران ہوئی۔’’
‘‘مگر میں چاہتی ہوں کہ تمہاری بھی کہیں شادی کر دوں۔’’
ماما پلیز…‘‘ اس نے فوراً ٹوک دیا۔’’
میرے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہو چکا ہے میری بات مت کریں۔ وہ لوگ اتنا کچھ چاہ رہے ہیں تو انکار ’’
ہے۔ نکلوا کر استعمال کر لیجیے گا۔ میں بھی کسی Saveمت کریں۔ رقم وغیرہ سب بینک میں
‘‘دن چکر لگانے کی کوشش کروں گی۔
تم وہاں سیٹ تو ہو نا۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔’’
جی…‘‘ شارقہ اور دونوں بھائیوں کے مستقبل محفوظ ہو جانے کی خوشخبری نے اسے بہت ہلکا ’’
پھلکا کر ڈالا تھا، یہاں آئے ہوئے اس کو دوسرا ہفتہ ہو رہا تھا۔ بازل خان کے وجود سے ہٹ کر اسے
یہاں بظاہر کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر یوسف نے ٹرانسفر کروا لیا تھا اور دوسرے ڈاکٹرز بھی
ایک دو بار چکر لگا چکے تھے۔
وہ سسٹر رضیہ سے اس علاقے کی خوبصورتی کی بڑی تعریفیں سن چکی تھی۔ ذہن سے ایک
بہت بڑا بوجھ ہٹا تو وہ چہل قدمی کی نیت سے باہر نکل آئی۔
وہ کمرے میں آیا تو دل بہت پریشان تھا۔ کسی پل قرار نہ تھا۔
وہ تو اپنی ہی نظروں سے گر چکا تھا۔ اب کسی اور کے سامنے سر اُٹھا کر کرتا بھی تو کیا۔ بستر پر
لیٹا تو بی بی جان انیق کو اُٹھائے اندر آ گئیں۔ وہ انہیں دیکھ کر اُٹھ بیٹھا۔
خیر ہے پتر… طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘ بازل خان کے بجھے بجھے چہرے پر اک گہری نگاہ ’’
ڈالی تو وہ ندامت سے چور سر جھکا گیا۔
آج اپنے فعل پر انتہائی پشیمان تھا۔ کسی بے گناہ کے ساتھ کی گئی زیادتی پر انتہائی ندامت ہو
رہی تھی۔ غصے کا تو وہ شروع سے ہی تیز تھا مگر خود پر لگائے جانے والے بہتان کا صدمہ اس قدر
جان لیوا تھا کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھو بیٹھا تھا۔ تمام حواس مختل ہو چکے تھے
گویا اور اب جبکہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ آج آنکھیں کھلیں تو ہر طرف پچھتاوا ہی
پچھتاوا تھا۔ ضیاع ہی ضیاع تھا۔
ربدا کی ذات کو پہنچنے والا نقصان اس قدر شدید تھا کہ وہ خود کو بری الذمہ قرار بھی نہیں دے
سکتا تھا۔ ضمیر ہر وقت کچوکے لگا رہا تھا اور ضمیر سے بڑی عدالت بھلا اور کیا ہوتی ہے۔
‘‘کیا بات ہے پتر… بتاتا نہیں خیر ہے نا؟’’
میری طبیعت کو کیا ہونا ہے بی بی جان! اپنی ہی لگائی آگ میں جھلس رہا ہوں۔‘‘ اس جیسا ’’
صاف ستھری دیانتدارانہ زندگی گزارنے والا بازل خان اپنی ہی شخصیت کا یہ دوہرا پن برداشتنہیں کر پا رہا تھا۔
اللہ نہ کرے… تم کیوں جھلسو، ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو پتر؟‘‘ انہوں نے شاید اس کی بات کی ’’
گہرائی کو نہیں جانچا تھا مگر دل دہل گیا تھا۔ بازل خان مسکرا دیا۔ انیق کو بازوئوں میں لے کر
اپنی گود میں بٹھا کر اس کے ننھے منے ہاتھوں کو چومنے لگا۔
بی بی! آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے اس نے لب کشائی کی۔’’
کیا بات ہے پتر…؟‘‘ بی بی اس کے انداز پر متوحش ہوئی تھیں۔’’
بات دراصل یہ ہے بی بی جان کہ…‘‘ وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ وہ کل لوٹا تھا اور آج وہ بی بی ’’
جان کے سامنے حقیقت بیان کر دینا چاہتا تھا۔
اور پھر وہ انہیں سب بتاتا گیا۔ ہر بات، بینش کی نفرت اس کے انتقام کی کہانی ربدا اور اس کی
لی گئی تصویروں کی حقیقت سب کچھ اور بی بی جان حیران و ششدر متاسف سب سنتی
گئیں۔
بینش نے یہ سب کیا… یا اللہ۔‘‘ وہ بے یقین تھیں۔’’
اس نے بینش کی کہانی سنا کر لب بھینچ لیے تھے حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا کہ ربدا کے ساتھ کیا
جانے والا اپنا سلوک بیان کرے۔ بتائے کہ وہ بھی بینش کی طرح کس قدر سفاکیت کا مظاہرہ کرتے
کسی معصوم کی زندگی سے کھیل گیا تھا اس کے سر سے چھت چھین لی تھی اس کا باپ بیٹی
کا غم دل پر لیے قبر میں جا اُترا تھا۔ وہ کچھ بھی نہ بتا سکا تھا۔
بہت بُرا کیا اس نے… اس نفرت و انتقام میں وہ کئی زندگیوں سے کھیل گئی۔‘‘ ان کی آنکھوں ’’
گیا
سے آنسو بہہ نکلے۔ جہاں بیٹے پر لگا بہتان ختم ہوا تھا وہیں رشتوں پر سے اعتماد بھی اُٹھ
تھا۔
بی بی جان! بابا جان کی نظریں میرے اندر شگاف ڈال دیتی ہیں۔ میں ایک الزام کی زندگی لے کر ’’
‘‘کیسے جیتا۔
وہ افسردہ تھا اور بی بی جان کا دل بھر آیا۔
‘‘اور بینش کا کیا کیا اب ُتو نے؟’’
بی بی جان انتقام نے مجھے اندھا کر ڈالا تھا۔ جی تو چاہ رہا تھا کہ اسے قتل کر ڈالوں اور شاید ’’
میں کر بھی چکا ہوتا اگر وہ اس وقت بیہوش نہ ہو چکی ہوتی۔ بی بی جان آپ کی دعائوں نے
نجانے مجھے کن کن گناہوں سے بچا لیا ہے۔ ورنہ وہ بینش بچ نکلتی، ناممکن تھا۔ میں اسے اسی
دن واپس چھوڑ آیا تھا۔ آپ کی تربیت نے مجھے بچا لیا ورنہ جہاں اتنے گناہ کیے ہیں وہاں ایک اور
قتل بھی کر ڈالتا۔‘‘ وہ ضبط کی انتہا پر تھا چاہ کر بھی بی بی جان کو اپنے گناہ کے بارے میں
نہیں بتا پایا تھا۔اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ُتو صبر کر۔ دیکھا کیسے سارا کھیل کھیل گیا ’’
ہے۔ میں تیرے بابا صاحب کو بھی بتائوں گی۔ بس ُتو بھی اپنے دل سے ان کے خلاف موجود کدورت
نکال دے۔ ان کا بھی بھلا کیا قصور جس طرح بینش نے وہ خط اور تصویریں بھیجی تھیں کوئی
‘‘بھی ہوتا تو یہی سمجھتا۔
مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں رہا اب بی بی جان! بس دل میں ایک خلش ہے کاش سارہ مجھ ’’
سے کچھ کہنے سننے کا موقع دیتی۔ مجھے اس کی وہ بے اعتبار نگاہیں جینے نہیں دیتیں۔ آپ کے
سامنے کی ہی بات تھی کیسے وہ بغیر کچھ کہے سنے ہونٹوں پر قفل ڈالے۔
پھوپھی جان کے ساتھ چلی گئی تھی اور پھر چند دن بعد ہی دنیا سے منہ موڑ لیا۔ بی بی جان
مجھے وہ لمحے نہیں بھولتے۔‘‘ وہ پھر گزرے وقت کو یاد کرتے ماضی کی را کھ کریدتے اپنے ساتھ
ساتھ بی بی جان کے دل سے بھی کھیل رہا تھا۔
بڑی نیک فطرت اور پاکباز روح تھی۔ اللہ اسے جنت میں جگہ دے۔‘‘ بی بی جان اپنی آنکھیں ’’
صاف کرنے لگیں۔
اور وہ لڑکی… کیا بھلی صورت تھی اس کی۔ میرا تو دل پہلے ہی کہتا تھا کہ وہ ایسی لڑکی ’’
‘‘نہیں۔ کیا نام اس کا خط میں لکھا تھا بھلا؟
ربدا… ڈاکٹر ربدا ہے نام اس کا۔‘‘ اس نے آہستگی سے دہرایا۔’’
تیرے بابا نے سختی سے تیری بھابیوں اور بھائیوں کو کہہ دیا تھا کہ بات حویلی سے باہر نہ نکلے ’’
اور سارہ نے بھی جیتے جی کچھ نہ کہا ورنہ وہ لڑکی تو برباد ہو جاتی۔ بینش نے دوستی کا بھی
پاس نہ رکھا۔ خدا سمجھے اسے۔ کیا اس لڑکی کو پتا ہے کہ اس کی دوست اسے استعمال کر
‘‘چکی ہے۔
بی بی کہہ رہی تھیں اور وہ شرمندگی کے مارے سر جھکائے ہوئے تھا۔
…‘‘پتا نہیں بی بی’’
‘‘ ُتو آرام کر پتر… میں جا کر تیرے بابا اور بھائیوں کو بتاتی ہوں۔’’
ایک منٹ بی بی جان!‘‘ وہ ُرک گئی تھیں۔ وہ بستر سے اُتر کر الماری کی طرف بڑھ گیا تھا اور ’’
اس میں سے ایک بڑے سائز کا خاکی لفافہ نکال کر پلٹا۔
بی بی جان! اس میں سارے ثبوت ہیں جو سب کی نگاہوں میں میری بے گناہی ثابت کرنے کو ’’
کافی ہیں۔ اس میں بینش کی ڈائری ہے وہ تمام خطوط، اسٹوڈیو کے مالک کے بیانات آفیسر
جمشید کی رپورٹ کے علاوہ ان تصاویر کے اصل نیگیٹو کے ساتھ اصل تصاویر بھی ہیں۔ اگر تب
بھی کسی کو یقین نہ آئے تو بینش کے پاس جا کر تصدیق کی جا سکتی ہے۔‘‘ ٹھوس و جامد تاثرات
لیے وہ کہہ رہا تھا بابا صاحب کی بے اعتنائی نے اسے بہت بدگمان کر ڈالا تھا بی بی جان نےخاموشی سے لفافہ تھام لیا تھا۔
دن اپنی مخصوص رفتار میں گزر رہے تھے۔ ایسے میں شارقہ کی شادی شمسہ کے کزن سے طے
ہو گئی تھی۔ وہ شادی سے ہفتہ پہلے ہی آ گئی تھی۔ اس کی اکلوتی بہن کی شادی تھی سو
بکھیڑے تھے شادی کے بعد شارقہ نے فوراً امریکہ نہیں جانا تھا ہاں اس کی ساس اور باقی فیملی
کو واپس چلے جانا تھا اور جب تک شارقہ کے ساتھ نومان ثوبان وغیرہ کے کاغذات نہ بن جاتے وہ
اور اس کے ہزبینڈ نے ادھر اپنی خالہ کے ہاں ہی رہنا تھا۔
ماما بچت سے ان دونوں بہنوں کے لیے زیورات وغیرہ پہلے سے ہی بنوا چکی تھیں۔ دولہا والوں نے
شادی کے سارے انتظامات خود کرنے تھے ہاں ماما نے شارقہ کو اس کی پسند کی شاپنگ ضرور
کروا دی تھی۔ ان لوگوں نے کچھ بھی کرنے نہ دیا تھا۔
شادی کے بعد وہ اک ہفتہ مزید ُرکی تھی۔ اگر سرکاری نوکری کا مسئلہ نہ ہوتا تو وہ سب کچھ
چھوڑ چھاڑ کر ماما کے پاس واپس آ جاتی۔ فی الحال جب تک شارقہ نومان اور ثوبان کے ویزوں کا
بندوبست نہیں ہو جاتا شارقہ ماما کے پاس ہی تھی اور ماما کی طرف سے اسے فی الحال
اطمینان تھا۔
وہ واپس آئی تو کئی دن تک اس کو دوبارہ اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں لگ گئے۔ بازل خان
کی طرف سے خاموشی تھی وہ سمجھی کہ شاید وہ شخص اس کو بھول گیا ہے ورنہ اس کا
خوف ہر وقت اعصاب پر چھایا رہتا تھا۔
اس نے سوچا شاید اب زندگی سہل ہوتی جا رہی ہے یا پھر اس کی آزمائش ختم ہو چکی ہے۔
شارقہ سے روزانہ بات ہو جاتی تھی اور آہستہ آہستہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن سی ہونے لگی
تھی۔
انیق کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی۔ شاید موسم بدلنے کے اثرات تھے سردی بڑھ رہی تھی
اسے بخار اور فلو ہو گیا تھا اور اس کی خراب طبیعت کا سن کر سب حویلی والے فکرمند ہو گئے
تھے اور جب رات گئے اس کی طبیعت زیادہ بگڑی تو بھابی بیگم نے سب حویلی والوں کو اکٹھا کر
لیا۔ بازل کی موجودگی میں وہ پہلی بار بیمار ہوا تھا اور وہ سب سے زیادہ بے چین تھا۔
آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھا اب رات گئے اس کو کہاں لے کر جائوں شہر بھی نہیں لے جا سکتا۔‘‘ ’’
وہ کچھ دیر قبل ہی ریسٹ ہائوس سے گائوں پہنچا تھا کھانا کھا کر فارغ ہوا تھا جب شائستہ
بھابی نے آ کر بتایا تھا۔ وہ سارا دن انہی کے پاس ہی ہوتا تھا ان ہی کے پاس ہوتا تھا وہ بخار سے
مدہوش بلکہ نیم بیہوش وجود کو اُٹھا کر بی بی کے روم میں آ گیا تھا۔میں نے ملازمہ کو بھیج کر ہسپتال سے دوائی منگوائی تو تھی مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا بلکہ شام ’’
کے بعد تو طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔‘‘ بھابی خود متفکر تھیں۔
میں کچھ کرتا ہوں جب تک میں آتا ہوں آپ اس کو لپیٹ کر رکھیں۔‘‘ گاڑی کی چابی اُٹھا کر وہ ’’
فوراً باہر نکل آیا تھا رش ڈرائیونگ کرتے وہ کچھ پل میں ہسپتال پہنچا تھا۔ چوکیدار سے پتا چلا کہ
ڈاکٹرنی صاحبہ تو ہاسٹل والے کمرے میں چلی گئی ہیں۔ اور باقی ڈاکٹرز تو آ ہی نہیں رہے۔ وہ
تذبذب کا شکار کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر وہ ہاسٹل کی طرف آ گیا۔ رضیہ سسٹر کا شوہر اس وقت
گیٹ پر بازل خان کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
السلام علیکم خان جی! آپ ادھر… خیریت…؟‘‘ وہ کئی سالوں سے یہاں مقیم تھے وہ فوراً سلام ’’
کرنے پر پوچھ رہا تھا۔
ہاں خیریت ہی ہے… ڈاکٹر صاحبہ کو بلانے آیا ہوں۔ میرے بیٹے کی طبیعت سخت خراب ہے۔‘‘ اس ’’
نے کہا تو وہ سر ہلاتا اندر چلا گیا تھا اپنی بیوی کو اُٹھا کر اس نے ربدا کو جگانے بھیجا تھا۔
وہ کشمکش کا شکار ادھر سے اُدھر چکر لگاتا محو انتظار تھا۔ بازل خان کو زیادہ انتظار نہیں کرنا
پڑا تھا رضیہ لوٹ آئی تھی۔
ڈاکٹر صاحبہ نے آنے سے انکار کر دیا ہے وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ رات کے اس وقت کہیں بھی نہیں ’’
‘‘جائیں گی اگر آپ کے بیٹے کی زیادہ طبیعت خراب ہے تو آپ ادھر لے آئیں۔
بازل خان کے اندر اک بھانبھڑ سا جل اُٹھا تھا۔ مانا کہ وہ غلط تھا اور اس کے ساتھ بہت کچھ غلط
کر چکا تھا مگر بحیثیت ڈاکٹر ربدا کا فرض تھا کہ وہ دوست دشمن کی پرواہ کیے بغیر سب
مریضوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ پہلے بھی اس نے بی بی جان کی دفعہ انکار کر دیا تھا اور
اب پھر جبکہ اس بار اس کے پاس اس قدر رات گئے کوئی اور راہ بھی نہ تھی۔
چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ میں خود ان سے بات کرتا ہوں۔‘‘ وہ سسٹر رضیہ کے ساتھ آ گیا ’’
تھا رضیہ نے دروازہ بجایا تو اس نے کھول دیا تھا مگر اسے دیکھ کر وہ پہلے چونکی تھی پھر نفرت
سے اس کے زاویے بگڑے تھے۔
سسٹر رضیہ میں آپ کو کہہ چکی ہوں کہ اس وقت میں کسی مریض کو بھی نہیں دیکھوں ’’
گی۔ آپ کے ساتھ ہی کچھ دیر پہلے میں کسی کے گھر سے ہو کر آئی ہوں۔ اب میں کہیں نہیں
جائوں گی۔ ان کو کہو یہ اپنے مریض کو کہیں بھی لے جائیں مگر ادھر بار بار مت آئیں۔‘‘ خاصے
مشتعل لہجے میں وہ کہہ رہی تھی، بازل خان کو اس کے سخت لہجے پر ایک دم غصہ آ گیا۔
میرا بیٹا بخار کی وجہ سے بیہوش پڑا ہوا ہے۔ اتنی جلدی میں اسے کہیں بھی نہیں لے جا سکتا ’’
آپ کو میرے ساتھ چلنا ہو گا۔‘‘ اس طرح کے لہجے برداشت کرنا اس کی فطرت کب تھی بھلا مگر
وہ اس لڑکی کو برداشت کرنے پر مجبور تھا۔ایم سوری…‘‘ بازل خان کو دیکھ کر تو وہ بالکل ہی آئوٹ ہو جاتی تھی تمام مظالم یاد آئے تھے۔ بے ’’
پناہ سختی سے کہتے اس نے دروازہ بند کرنا چاہا تو بازل خان نے ایک دم دروازے پر ہاتھ رکھ کر
اس کی پیش قدمی روکی تھی۔ اس کے اندر غیض و غضب نے ایک دم کروٹ بدلی تھی۔
ڈاکٹر ربدا پلیز… اگر میرے بیٹے کو کچھ ہو گیا تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا کسی کو بھی… آپ ’’
کو میرے ساتھ چلنا ہے ابھی اور اسی وقت۔ ورنہ آپ جانتی ہیں میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘ بے پناہ
غصیلے لہجے میں وہ دھمکی پر اُتر آیا تھا۔

Read More:  Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 9

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: