Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 8

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 8

–**–**–

میں سمجھتا تھا کہ ڈا کٹر بس ڈاکٹر ہوتا ہے۔ ذاتی غرض اور ہر احساس سے بالاتر… مگر آپ… ’’
میرے بیٹے کو اگر کچھ ہوا تو آپ بھی سمجھ لیں میں کیا کچھ کر سکتا ہوں۔ میرا بیٹا بیہوش بخار
کی حالت میں نڈھال پڑا ہوا ہے اور…‘‘ وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر تیز تیز قدم اُٹھاتے چل دیا تھا۔
ربد اس کے الفاظ پر دہل سی گئی تھی۔ اس بے ضمیر درندے انسان نے اس کے ساتھ جو بھی کیا
تھا وہ کبھی فراموش کرنے والا نہ تھا مگر انسانیت کے ناتے سوچتی تو ڈاکٹر کا کسی مریض کی
جان سے کھیلنا اسے قطعی زیب نہ دیتا تھا اس کے ضمیر پر ایک دم بوجھ بڑھا۔ وہ چند قدم کے
فاصلے پر تھا اس سے پہلے کہ وہ باہر نکل جاتا وہ فوراً بولی تھی۔
سنو… ٹھہرو میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔‘‘ بازل خان حیرت سے پلٹا تھا دو منٹ بعد وہ چادر ’’
لیے ہاتھ میں اسٹیتھسکوپ لیے اس کے پیچھے چل دی تھی۔
سسٹر رضیہ آپ فرسٹ ایڈ باکس اور چند ضروری اشیاء لے کر میرے ساتھ ہی آئیں۔‘‘ جاتے جاتے ’’
سسٹر رضیہ کو بھی ہدایت دی تھی۔
وہ دونوں اس کے ساتھ اس کی حویلی میں آ گئی تھیں۔
آئیں پلیز…‘‘ اس کی طرف کا دروازہ کھولے وہ بے پناہ عزت سے مخاطب تھا۔ نجانے یہ اس شخص ’’
کا کون سا روپ تھا وہ سسٹر رضیہ کو ہمراہ لیے نکل آئی تھی۔ وہ راہداری سے گزر رہی تھیں کہ
ایک گھبرائی ہوئی عورت فوراً قریب آئی تھی۔
بہت دیر کر دی تم نے… کہاں چلے گئے تھے تم۔‘‘ وہ بازل خان سے حواس باختہ پوچھ رہی تھیں ’’
بازل اس کے انداز پر ایک دم پریشان ہوا تھا۔
خیریت چھوٹی بھابی… انیق تو ٹھیک ہے نا…‘‘ انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔’’
بہت خراب طبیعت ہوتی جا رہی ہے اس کی… بالکل ہی ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ جلدی چلو…‘‘ ’’
وہ اندر بھاگیں تو بازل خان بھی پیچھے لپکا تھا سسٹر رضیہ ادھر کئی بار آ چکی تھی وہ اسے لیے
بی بی جان کے کمرے میں بازل کے پیچھے داخل ہو گئی تھی۔ انیق بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ بی بی جان
اس کے پائوں مل رہی تھیں۔ بھابی ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھیں وہ بالکل زرد کملا کر رہ گیا
تھا۔میں ڈاکٹر صاحبہ کو لے آیا ہوں۔‘‘ سب نے حیرت سے ڈاکٹر ربدا اور اس کے ساتھ آتی سسٹر کو ’’
دیکھا تھا اور پھر سب کی نگاہیں ربدا پر جم گئی تھیں۔
یہ تو وہی تصویر والی لڑکی ہے۔‘‘ سب کے ذہن میں صرف ایک یہی خیال آیا تھا۔ ربدا خاموشی ’’
سے بستر پر بیٹھ گئی تھی۔
بچے کی کنڈیشن حقیقت میں انتہائی خراب تھی وہ جلدی جلدی اسے ٹریٹمنٹ دینے لگی۔ اس
نے فوری دو انجیکشنز لگائے تھے وہ چند اور احتیاطی تدابیر کرتی رہی تھی۔ سبھی خاموشی سے
دیکھ رہے تھے سسٹر رضیہ اس کی ہیلپ کر رہی تھی۔
آپ پلیز ہسپتال سے یہ کچھ سامان منگوا دیں… بچے کو ڈرپ لگانی ہے۔ وہاں چوکیدار ہو گا اسے ’’
کہیے گا کہ وارڈ بوائے سے سامان لا دے۔ وہاں ڈسپنسری میں ہو گا۔‘‘ اس نے باکس سے کاغذ قلم
نکال کر سامان لکھ کر بی بی جان کو دیکھا۔
کوئی خطرے والی بات تو نہیں۔ یہ ٹھیک تو ہو جائے گا۔‘‘ بازل خان بھی بولا تھا۔’’
فی الحال تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ سسٹر رضیہ آپ ایسا کریں خود جا کر یہ چیزیں لے ’’
آئیں۔ فوری ضرورت ہے ان کی۔‘‘ اس نے اسے جواب دے کر کاغذ سسٹر رضیہ کو تھما دیا تھا۔
بازل کے بجائے سجاول بھیا سسٹر رضیہ کو ہمراہ لیے چلے گئے تھے۔ وہ اس دوران کچھ نہ کرتی
رہی تھی۔ بی بی جان اسے بغور دیکھ رہی تھیں۔
تمہارا نام ربدا ہے نا؟‘‘ اسے مسلسل بچے کے ساتھ مصروف دیکھ کر انہوں نے پوچھا اس نے سر ’’
ہلایا۔ اس نے قطعی دھیان نہ دیا کہ وہ اس کا نام بھلا کیسے جانتی ہیں۔ اس نے گرم چادر اچھی
طرح اپنے گرد لپیٹی ہوئی تھی۔ بابا صاحب بھی اسے بغور دیکھ رہے تھے۔ جبکہ بازل خان اپنے بیٹے
کی طرف متوجہ تھا۔
بچے کی یہ کنڈیشن کب سے تھی؟‘‘ ان لوگوں کی مسلسل خاموشی سے گھبرا کر اس نے پوچھا۔’’
کل سے خراب تھی۔ صبح بخار ہلکا ہو گیا تھا۔ میں نے ملازمہ کو بھیج کر دوائی منگوائی تھی مگر ’’
شام کے بعد طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی۔‘‘ شائستہ بھابی نے بتایا تو وہ سر ہلا کر گھڑی دیکھنے
لگی دو بج رہے تھے وہ کب سے یہاں تھی نجانے ابھی اسے مزید کتنی دیر یہاں ُرکنا تھا۔
تم کہاں سے آئی ہو؟ ادھر کی نہیں لگتی ہو؟‘‘ بازل خان نے بی بی جان کو دیکھا۔ یعنی وہ لوگ ’’
اسے پہچان گئے تھے۔ اس نے کسی سے بھی ذکر نہیں کیا تھا یہ ڈاکٹر ربدا ہی اصل ربدا ہے۔
جی میں شہر سے آئی ہوں لیڈی ڈاکٹر کے طور پر میری یہاں سلیکشن ہوئی تھی میں پچھلے ’’
دو ماہ سے ادھر ہوں۔‘‘ کافی روکھے لہجے میں کہا تو بازل نے لب بھینچ لیے۔
اچھا…‘‘ ان سب کو خاصی حیرت ہوئی وہ دو ماہ سے ان کے علاقے میں تھی اور ان کو خبر تک نہ ’’
تھی۔ نئی ڈاکٹر آئی ہے یہ تو پتا تھا یہ ہی لڑکی ہو گی اندازہ نہ تھا تبھی سسٹر رضیہ سامان لےکر آ گئی۔
انجکشن اور ڈرپ کا اثر تھا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد بچے کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی۔ بخار کا
زور کم ہو رہا تھا۔ اس نے بچے کے گرد کمبل اچھی طرح لپیٹ دیا تھا۔
بچے کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں یہ ڈرپ ختم ہو جائے گی تو آپ لوگ اُتار ’’
دیجیے گا۔ یہ کچھ میڈیسن ہیں بچے کو ہوش میں آنے کے بعد ہلکی پھلکی خوراک جیسے
ساگودانہ کی کھیر یا دلیہ وغیرہ کے بعد کھلا دیجیے گا۔ میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیے۔‘‘ چادر
اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ کر وہ سسٹر رضیہ کو دیکھتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اطراف میں موجود
سب لوگوں نے اسے دیکھا۔
ابھی رات باقی ہے بیٹا… صبح چلی جانا۔‘‘ بی بی جان کو تو وہ پہلی نظر میں دل و جان کے بے ’’
حد قریب لگی بے پناہ خلوص و انسیت کا اظہار کرتے کہا تو وہ بدک گئی۔
جی نہیں… شکریہ میں بس بچے کی وجہ سے آ گئی تھی۔ اب میرا کام ختم ہو گیا ہے۔ بچے کی ’’
حالت صبح تک بہتر ہو جائے گی۔ برا ِہ مہربانی آپ ہمیں واپس چھوڑ آئیں۔‘‘ اس نے سب کو جواب
دے کر بازل خان کو دیکھا وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔
صبح ہونے میں چند گھنٹے ہیں آپ ُرک جائو بچے… صبح ہم چھوڑ آئیں گے۔‘‘ بابا صاحب نے بھی ’’
کہا تو وہ لب بھینچ گئی اور بڑی تلخ نگاہ بازل خان پر ڈالی۔
میرا خیال ہے میں انہیں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ نفرت کا اظہار برملا کرتی اور بازل ’’
خان کا رہا سہا بھرم بھی تباہ ہوتا اس نے فوراً منظر سے غائب ہو جانے میں ہی عافیت سمجھی
تھی۔
آئیں پلیز…‘‘ وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔ وہ بھی سب کو اللہ حافظ کہتے سسٹر رضیہ کے ’’
ہمراہ وہاں سے نکل آئی تھی۔
تھکن ہو رہی تھی۔ وہ تھکے تھکے قدم اُٹھاتی اپنے کمرے میں لوٹی تو سامنے ہی بازل خان کی
حویلی کی خواتین کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ بچہ بھی تھا یہ لوگ شاید بچے کو
دکھانے لائی تھیں۔
آپ…؟‘‘ وہ ُرک گئی تھی۔’’
السلام علیکم…‘‘ دونوں نے کھڑے ہو کر کہا تو وہ سر کے اشارے سے جواب دیتی اپنی کرسی پر آ ’’
بیٹھی تھی۔
پلیز بیٹھیے…‘‘ وہ دونوں بیٹھ گئی تھیں۔’’
جی فرمائیے۔‘‘ رات کے برعکس اس وقت اس کا لہجہ قطعی مختلف اور پروفیشنل تھا بچہ ’’شائستہ بھابی کے بازوئوں میں تھا۔
ہم انیق کو دکھانے لائے ہیں۔ یہ اب بہت بہتر ہے۔ ہم کبھی خود ہاسپٹل نہیں آئیں مگر تم نے ’’
جس طرح رات گئے حویلی آ کر ہم پر احسان کیا تھا تو ہمیں خود ہی آنا پڑا۔‘‘ بی بی جان نے کہا تو
وہ شرمندہ سی ہو گئی۔ خود ہی اُٹھ کر بچے کو بازوئوں میں لے لیا۔
میرے آنے کے بعد زیادہ مسئلہ تو نہیں ہوا تھا۔ طبیعت ٹھیک رہی تھی نا۔‘‘ بچے کے مرجھائے ’’
ہوئے وجود کو بازوئوں میں لیے قدرے لگائو سے پوچھا۔
نہیں… تمہاری دوائی نے بڑا اثر دکھایا ہے۔ اس کا باپ بڑا پریشان ہے رات بھر… اب بھی وہی ہمیں ’’
‘‘چھوڑ کر گیا ہے۔
بچے کو ابھی بھی بخار تھا مگر رات والی کیفیت نہ تھی۔ ہاں بچے پر بخار کے بعد والی کمزوری
غالب تھی جو بچے کو ابھی بھی نڈھال کیے ہوئے تھی۔ بچہ بہت پیارا اور معصوم تھا۔ اس کا دل
خودبخود ہی اس کی طرف مائل ہو گیا۔
یہ اب ٹھیک ہے۔ ویک نیس بہت ہو گئی ہے۔ یہ میڈیسن منگوا لیں یہاں سے دستیاب نہیں ہے ’’
شہر سے مل جائیں گی، کمزوری ختم ہو جائے گی۔ ساتھ ساتھ بچے کی ڈائٹ کا خیال رکھیں۔ چند
‘‘دن تو پرہیزی کھانا کھلائیں۔ اس کے بعد بچے کی عمر کے مطابق کچھ بھی کھلا سکتی ہیں۔
ایک بازو میں بچے کو اُٹھائے دوسرے ہاتھ سے ٹیبل کے پاس آ کر وہ قلم سے پیڈ پر لکھتے شائستہ
کو ہدایات بھی دے رہی تھی۔ تبھی بازل خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔ وہ فوراً متوجہ
ہوئی اس کے چہرے کے زاوئیے بگڑے تھے جبکہ دونوں خواتین مسکرائی تھیں۔
اچھا ہوا تم آ گئے ہم فارغ ہی ہیں۔‘‘ ربدا کے چہرے پر وہی کرختگی چھا گئی۔’’
ڈاکٹر! پریشانی والی اب کوئی بات تو نہیں… یہ اب ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس کے چہرے کے تاثرات کو ’’
یکسر نظر انداز کیے وہ پوچھ رہا تھا۔ ربدا نے اس پر ایک کٹیلی نگاہ ڈال کر بچے کو شائستہ کی
طرف بڑھا دیا تھا۔
‘‘نہیں۔’’
چلیں۔‘‘ اس کے تاثرات سے گھبرا کر بازل خان نے دونوں خواتین کو دیکھا۔ تبھی ربدا نے دیکھا بی ’’
بی جان اور شائستہ دونوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ تبھی شائستہ نے زمین پر پڑا شاپنگ
بیگ اُٹھا کر بی بی جان کو تھما دیا۔
ہم یہ تمہارے لیے لائے ہیں۔ اصولی طور پر تو ہمیں چاہیے تھا کہ تم کو باقاعدہ حویلی میں دعوت ’’
پر بلاتے۔ تم ہمارے علاقے کی لیڈی ڈاکٹر ہو۔ ہماری مہمان ہو۔ ہم نے ایک دفعہ پیغام بھی بھیجا
تھا مگر تم نے انکار کر دیا۔ کل رات جس طرح تم نے ہمارے بیٹے کا خیال رکھیں گویا ہمیں خرید بھی
لیا ہے۔ سرکاری ڈاکٹرز تو آتے رہتے ہیں مگر کبھی کسی نے تمہاری طرح مریضوں کا خیال نہیںرکھا۔ یہ ہماری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ ہے۔ بازل پتر کہہ رہا تھا کہ تمہیں حویلی آنا پسند
نہیں تو ہم خود ہی آ گئے۔‘‘ بی بی جان نے وہ شاپر ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔
ایم سوری میں یہ تحفہ نہیں لے سکتی۔ اور جان بچانے والی اللہ تعال ٰی کی ذات ہے۔ میں کون ’’
اور میری اوقات کیا ہے۔ اور نہ ہی میں نے کسی تحفے کے لالچ میں آدھی رات کو آپ کی حویلی کا
چکر لگایا تھا۔‘‘ تلخ لہجے میں کہتے اس نے بازل خان کو دیکھا وہ بالکل خاموش تھا۔
ہم نے ایسا کب کہا بیٹا! یہ تحفہ ہے۔ ہم اپنی خوشی اور محبت سے تحفہ دے رہے ہیں۔ یہ ہمارے ’’
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ تحفے سے منہ نہیں موڑتے بیٹا۔‘‘ بی بی جان نے اس کی
تلخی کے جواب میں بہت محبت سے کہا تو وہ اُلجھ گئی۔
مگر آنٹی…‘‘ بی بی جان نے ہاتھ اُٹھا کر ٹوک دیا۔’’
بی بی جان! میرے بچے اور سب گائوں والے مجھے بی بی جان کہتے ہیں۔ تم بھی کہو گی تو ’’
ہمیں خوشی ہو گی۔ ہم تمہیں دعوت پر بلائیں کہ خود لینے آئوں گی ضرور آنا بیٹا۔‘‘ وہ اسے کچھ
بھی کہنے سننے کا موقع دئیے بغیر اپنی ہی کہہ کر اُٹھ کھڑی ہو گئی تھیں۔
چلتے ہیں ہم اللہ تمہیں اس نیکی کا اجر دے گا۔‘‘ وہ ُدعا دے کر چل دی تھیں اور وہ جہاں کھڑی ’’
تھی وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
‘‘عجیب لوگ ہیں۔ اپنے علاوہ کسی کی پروا ہی نہیں گویا۔’’
قلم زور سے ٹیبل پر پھینک کر خود کرسی پر گر گئی تو نظریں خودبخود سفید شاپر پر جا ٹھہریں۔
کچھ دیر ناگواری سے دیکھتی رہی پھر شاپر اُٹھا کر دیکھنے لگی۔ کوئی گفٹ پیک تھا۔ اس نے ریپر
پھاڑا تو اندر سے خاصی قیمتی سرمئی چادر کے علاوہ ایک گرم سوٹ نکلا تھا۔ ساتھ میں ایک
چھوٹی سی مخملیں ڈبیہ تھی۔ اس نے ڈبیہ کا ڈھکن کھولا تو اس کے اندر گولڈ کے ٹاپس جھلملا
رہے تھے۔
وہ ساکت و صامت بیٹھی رہ گئی تھی۔ نجانے ان لوگوں نے اپنے خلوص و محبت کا مظاہرہ کیا تھا
یا اپنی امارت و امیری کا آئینہ دکھایا تھا۔
وہ لب بھینچے بیٹھی رہ گئی تھی۔
شارقہ کی شادی کر دینے کے بعد ماما کو اب ہر وقت ربدا کی فکر ستاتی رہتی تھی انہوں نے کئی
لوگوں سے ربدا کے رشتے کی بات کی تھی وہ چاہتی تھیں کہ شارقہ وغیرہ کے باہر جانے سے پہلے
وہ ربدا کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔ ایک رشتہ کروانے والی رشتہ بتا رہی تھی انہوں نے
ربدا سے ذکر کیے بغیر ان کو گھر آنے کا کہہ دیا تھا ساتھ ربدا کو بھی چھٹی لے کر آنے کا کہا۔ اتوار
والے دن وہ لوگ آئے تو ربدا بھی آ گئی تھی وہ ہفتہ کو آئی تھی دو دن مزید ُرکنا تھا۔ یہاں آ کررشتے کے متعلق سن کر چونکی تھی مگر ماما کی بیماری کی وجہ سے چپ رہی۔ وہ لوگ آئے اور
ربدا کو دیکھ کر چلے گئے رات کو انہوں نے فون کر کے کہا تھا اور پھر اسی رات کو ان کا فون آ گیا۔
ماما نے ہی اٹینڈ کیا تھا۔
انہیں لڑکی پسند آ گئی تھی مگر اس کے بعد انہوں نے مزید بھی کچھ کہا تھا۔ ماما کے چہرے کا
رنگ بدلا تو وہ چونکی تھی۔ وہ پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے فوراً اسپیکر آن کیا۔
یہ تو دھوکا ہوا نا…‘‘ ماما کہہ رہی تھیں۔’’
دیکھیں اس میں دھوکہ دہی والی کیا بات ہے۔ ہم نے رشتے والی کو نہیں بتایا مگر آپ کو بتا رہے ’’
ہیں۔ ہمارے لڑکے نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی اس کے دو بچے ہیں۔ ہمیں پڑھی لکھی
‘‘سلجھی لڑکی چاہیے تھی سو پسند آ گئی۔
معافی چاہتی ہوں بہن مگر میں دو بچوں کے باپ سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتی آپ ’’
کہیں اور دیکھ لیں۔‘‘ ماما نے صاف انکار کر دیا تھا۔
ہم بھی تو آنکھوں دیکھی مکھی نگل رہے تھے بی بی۔ شکر کرو ایک اغوا شدہ میں کیڑے نکالنے ’’
کی بجائے پسند کر گئے۔ اب ایسی لڑکیوں کو کوئی کنوارہ بیاہنے آنے سے رہا۔ ہمیں بھی لڑکیوں کی
کمی نہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ ڈاکٹر ہے۔ پڑھی لکھی ہے۔ بچوں کو سنبھال سکتی ہے۔‘‘ اس
عورت کی زبان چل رہی تھی اور ماما ساکت تھیں۔ ربدا نے بہت غصے سے ان کے ہاتھ سے موبائل
لے کر آف کر دیا۔
خبردار آپ نے آئندہ ایسے کسی سلسلے میں کسی کو گھر بلوایا۔ ماما میں شادی نہیں کروں ’’
گی۔ یہاں بھی میں آپ کی وجہ سے خاموش رہی۔ دیکھ لیا لوگوں کا ری ایکشن۔ میری جیسی
‘‘لڑکیوں کو لوگ ایسے ہی ٹریٹ کرتے ہیں۔
تمہارا اس میں کیا قصور… شارقہ کی شادی کے بعد کتنا ارمان ہے کہ تمہیں بھی ُرخصت کر ’’
‘‘دوں گی مگر۔
وہ چپ رہی ماما کو ساتھ لگا کر چپ کرواتی رہی۔
وہ جو سارہ کے علاوہ کسی بھی دوسری عورت کو سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اب جب
بھی آنکھیں بند کرتا تھا چھن سے ڈاکٹر ربدا کا غصے سے بھرا چہرہ دل و دماغ میں روشن ہو جاتا
تھا۔ اسے اس لڑکی کو یاد کرتے عجیب سا لطف اور سرور حاصل ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں کے
لمس کی سچائی وہ آج بھی اپنے وجود پر محسوس کر رہا تھا۔
انیق اس کے پاس ہی تھا وہ سویا تو وہ کمرے سے نکل آیا تھا۔ بی بی جان کے کمرے میں آیا تو وہ
شائستہ بھابی سے باتوں میں مصروف تھیں وہ خاموشی سے ان کے بستر پر ایک طرف بیٹھ گیا۔بی بی جان ربدا کے متعلق ہی باتیں کر رہی تھیں۔ اس کے ضمیر کا بوجھ ایک دم بڑھا تو جیسے
سانس لینا بھول گیا۔ وہ ایک دم سیدھا ہوتے بُری طرح اپنا سینہ مسلنے لگا۔
کیا بات ہے پتر؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ بی بی ایک دم پریشان ہو گئیں۔’’
بی بی جان…‘‘ اس نے اپنی کیفیت سے پریشان ہو کر ان کی گود میں منہ چھپا لیا۔’’
وہ اتنے عرصے سے ضمیر کی بازگشت تو جھیل ہی رہا تھا مگر اس کا دل اب کیوں نئے راگ الاپنے
لگا تھا۔ اس کے اندر باہر ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ کسی پل سکون نہ تھا۔ دن رات اس کے لیے
تھا
عذاب بن گئے تھے۔ وہ آنکھیں بند کرتا تھا تو ربدا کا تصور اسے جینے نہیں دیتا اور آنکھیں
کھولتا تھا تو وہ حقیقت بنی اس کے ساتھ تھی اور ہر بار قدم اس کے ہسپتال کے سامنے جا کر
ُرکتے تھے اور وہ بڑی مجروح کیفیت لیے واپس لوٹتا تھا۔ اتنی ہمت نہ تھی کہ اس کے پاس جا کر
ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتا۔
کیا بات ہے پتر! ُتو پریشان ہے پر کیوں؟‘‘ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہوں نے پوچھا تو اس نے ’’
اپنی لہو رنگ آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔
بی بی جان بہت بوجھ ہے مجھ پر… اپنے ضمیر کا کسی کی بددعائوں کا… کسی کے ساتھ کیے ’’
گئے اپنے وحشی پن کا… بی بی جان کیا کیا بتائوں؟ میں سخت عذاب میں ہوں… نہ مرنے کا عندیہ
مل رہا ہے اور نہ جینے کا بہانہ۔‘‘ بی بی جان حیرت زدہ رہ گئی تھیں وہ خود ہی سے ہار گیا تھا۔ وہ
بی بی جان کے سامنے ہر بات کہہ کر ہمیشہ ہی شانت ہو جاتا تھا مگر اب سمجھ نہیں آ رہی تھی
کہ اپنے گناہوں کا کیسے اعتراف کرے۔ کس طرح اظہار کرے۔
‘‘ماں صدقے… ایسے کیوں کہہ رہا ہے تو؟’’
بی بی جان اگر آپ کو اپنے گناہوں کی تفصیل بتا دوں تو شاید آپ مجھ سے عمر بھر پھر کلام نہ ’’
کریں۔‘‘ بی بی جان اب حقیقتاً خاصی اُلجھ گئی تھیں۔
بی بی جان میں ڈاکٹر ربدا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ بہت ہمت کرتے اس نے دل پر پڑا ایک ’’
بوجھ گرا دیا تھا۔ اور بی بی جان حیرت زدہ رہ گئی تھیں۔
وہ جو سارہ کو بے انتہا چاہتا تھا۔ سارہ کی وفات نے اسے جنونی وحشی بنا دیا تھا۔ وہ جو سارہ
کی وفات کے بعد انتقام میں اپنی اولاد تک کو بھول چکا تھا۔ اب شادی کرنے کا کہہ رہا تھا اور کس
سے؟ ڈاکٹر ربدا سے وہ حیرت زدہ تھی۔
بازل…‘‘ انہوں نے کسی انہونی کے خوف سے دہل کر پکارا۔’’
کچھ نہ پوچھیں بی بی! کچھ بھی نہیں… میرے دل پر بہت بوجھ ہیں۔ بہت زیادہ گناہ گار ہوں ’’
میں اس لڑکی کا… بہت ظلم کیے ہیں میں نے اس پر… اور بہت کچھ چھپایا ہے میں نے آپ سے…‘‘
بی بی جان خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔میرے ضمیر پر اتنا بوجھ ہے کہ اب سانس لینا بھی دشوار لگتا ہے۔ مجھے ربدا چاہیے بی بی جان ’’
ورنہ نجانے میں کیا کر بیٹھوں…‘‘ وہ اپنی لگائی آگ میں جل رہا تھا۔
ُتو نے کیا کیا ہے بازل؟ مجھے بتا کیا کیا ہے ُتو نے اس کے ساتھ…‘‘ بی بی جان سخت ہراساں ہو ’’
گئی تھیں۔
یوں سمجھیں آپ کا بیٹا بہت بڑا گناہگار ہے۔ اپنے اوپر لگے بہتان نے مجھے پاگل جنونی بنا ڈالا ’’
تھا اور تب میں نے اس لڑکی کو سزا دینا چاہی تھی بی بی جان میں نے اسے اغوا کروا لیا تھا…‘‘ وہ
ہار گیا تھا اپنے ضمیر کی عدالت کے سامنے۔
بازل…‘‘ اور بی بی جان منہ پر ہاتھ رکھے مسلسل آنسو بہا رہی تھیں۔’’
وہ بول رہا تھا تمام کہانی سنا رہا تھا۔
انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ بازل یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنا ایک ظلم گنوا
رہا تھا اپنے تمام گناہ بیان کر رہا تھا اور بی بی جان ان کے وجود سے جیسے جان نکلتی جا رہی
تھی۔ بازل خاموش ہوا تو ان کا ناتواں ہاتھ بڑے بھرپور انداز میں اس کے ُرخسار پر لگا تھا۔
بازل تم نے اتنا بڑا ظلم کمایا… مجھے شرم آ رہی ہے اپنی ذات سے ہی کہ میری تربیت ایسی نہ ’’
تھی۔ وہ اسے تھپڑ مارنے کے بعد شدت سے رو رہی تھیں۔ اس نے ان کے ہاتھ تھام لیے تھے۔
وہ اس وقت گھر میں تنہا تھا۔ شارقہ اور سرفراز آج کل سیر کے لیے اسلام آباد کی طرف نکلے ہوئے
تھے، لڑکے دونوں سکول گئے ہوئے تھے۔ وہ چاہتی تھیں کہ جلد از جلد یہ سارا سلسلہ نبٹ جائے تو
وہ اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے چلی جائیں۔
انہیں سب سے زیادہ ربدا کے مستقبل کی فکر تھیں یہاں جہاں بھی رشتہ کی بات چلاتی تھیں
لوگ اس کے اغوا کا سن کر دوبارہ بات نہیں کرتے تھے دوسرے ملک جا کر اجنبی لوگوں میں بھلا
کس کو ربدا کے ماضی سے سروکار ہو گا۔ وہ اپنی بیٹی کو اس کے گھر میں آباد دیکھنا چاہتی تھیں
سو وہ باہر جانے کا فیصلہ کر کے مطمئن تھیں۔
وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر بیٹھی تو کال بیل ہوئی۔
انہوں نے دروازہ کھولا تو شمسہ کا چوکیدار کھڑا تھا اس کے ساتھ دو نوجوان اور ایک خاصی ادھیڑ
عمر خاتون تھیں۔
یہ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ یہ لوگ ان کے لیے اجنبی تھے۔ چوکیدار کے کہنے پر وہ اسے جانے ’’
کا کہہ کر انہیں لے کر اندر آ گئی تھی۔
معذرت چاہتی ہوں میں نے آپ لوگوں کو پہچانا نہیں…‘‘ ان کو صوفوں پر بٹھا کر خود بھی ’’
سامنے ٹک گئی تھی۔سامنے بیٹھی خاتون اُٹھ کر ان کے پاس آ بیٹھی تھیں اور پھر ان کے ہاتھ تھام کر کہنے لگیں۔
آپ ہمیں نہیں جانتیں مگر ہم آپ کو جانتے ہیں۔ میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔‘‘ وہ اُلجھ کر کبھی ’’
ان خاتون کو اور کبھی اپنے سامنے بیٹھے دونوں نوجوانوں کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ قطعی سمجھ نہ
رہی تھیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان سے ملنے کیوں آئے ہیں؟
یہ آفیسر جمشید ہیں۔ پولیس آفیسر ہیں۔ یہ میرا بیٹا بازل خان ہے اور میں اس کی والدہ…‘‘ ’’
انہوں نے تعارف کروایا تھا۔
ہم آپ کی بیٹی ڈاکٹر ربدا کے سلسلے میں آئے ہیں۔ اس کے اغوا کے متعلق کچھ بتانا چاہتے ’’
ہیں۔‘‘ وہ کہہ رہی تھیں اور انہوں نے ایک دم خوفزدہ ہو کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
ایک دفعہ پھر ربدا کے اغوا کی کہانی دہرائی جا رہی تھی وہ بے یقینی سے ان خاتون کو دیکھ رہی
تھیں۔
یہ بازل خان ہے میرا بیٹا آپ کا حقیقی اور اصل مجرم۔‘‘ انہوں نے چونک کر سامنے بیٹھے سر ’’
جھکائے خوش شکل اور خوش لباس نوجوان کو دیکھا۔ وہ کہیں سے بھی مجرم نہیں لگتا تھا۔
آئیے میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔ پھر باقی فیصلہ آپ پر ہو گا۔‘‘ ان کا ہاتھ تھام کر لڑکے کی والدہ ’’
آہستہ آہستہ ربدا کے اغوا کی اصل کہانی سے پردہ اُٹھانے لگی تھیں۔
اور وہ خوفزدہ دل بھیگی آنکھیں لیے سب سننے پر مجبور تھیں۔
وہ ہسپتال میں اپنے کمرے میں تھی آج صبح سے صرف ایک مریض کے علاوہ کوئی بھی نہیں آیا
تھا۔ اس وقت وہ کتاب کھولے اسٹڈی کر رہی تھی۔ جب کسی آواز پر چونکی تھی۔
السلام علیکم…‘‘ اس کے سامنے ماما، شارقہ اور سرفراز بھائی کھڑے تھے۔’’
ارے آپ لوگ… و علیکم السلام۔‘‘ وہ ان کو ادھر دیکھ کر حیران ہو گئی۔ ماما سے اور شارقہ سے ’’
مل کر حیرت سے پوچھنے لگی۔
‘‘آپ لوگ ادھر کیسے آ گئے؟’’
ہم صبح سے آئے ہوئے تھے۔ بڑا پیارا علاقہ ہے یہ ہم تو دیکھ کر حیران رہ گئے۔‘‘ شارقہ کے بتانے پر ’’
وہ چونکی۔
‘‘صبح سے… پر میرے پاس تو اس وقت آ رہے ہیں۔’’
بس ہم نے سوچا پہلے اتنے خوبصورت علاقے کی سیر کر لیں پھر تم سے بھی ملاقات کر لیں بڑا ’’
اچھا امپریشن بٹھا رکھا ہے اس سارے علاقے میں تم نے اپنا… بڑی تعریفیں سن کر آ رہے ہیں۔‘‘
سرفراز نے بھی کہا تو وہ ہنس دی۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں… پر آپ لوگ یوں اچانک بغیر اطلاع کے کیسے آ گئے؟‘‘ وہ ابھی ’’بھی اس بات پر حیران تھی۔
یونہی تم سے ملنے کو دل چاہ رہا تھا تو ملنے آ گئے۔ تم اتنے عرصے سے اس علاقے میں ہو ہمارا ’’
بھی فرض بنتا تھا کہ ادھر آ کر تمہاری خیر خیریت دریافت کر لیا کریں۔‘‘ ماما نے ساتھ لپٹا کر بڑی
محبت سے کہا تو وہ ہنس دی۔
ایک اور سرپرائز گھر میں آپ کا منتظر ہے۔ ایک دو ہفتے کی لمبی چھٹی کی درخواست دے کر ’’
ہمارے ساتھ چلنے کی کریں۔‘‘ شارقہ کے الفاظ پر اسے دیکھا۔
…‘‘کیسا سرپرائز’’
یہ تو سیکرٹ ہے گھر جا کر بتائیں گے ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔‘‘ شارقہ کو گھور کر سرفراز نے کہا ’’
تو اس نے کندھے اچکا دئیے۔ ہو سکتا ہے اس کا اور ماما کا ویزہ لگ کر آ گیا ہو۔ مگر اتنی جلدی۔
اس نے اس سرپرائز پر دھیان نہ دیا تھا۔
سسٹر رضیہ نے فوراً مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کر لیا تھا۔ دوپہر کا کھانا کھا کر شارقہ اور
سرفراز کے بار بار کہنے پر ایک دو ہفتے کی چھٹی کی درخواست دے کر ان کے ساتھ سرفراز کی
گاڑی میں آ بیٹھی تھی۔

Read More:  Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 7

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: