Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumaira Shareef Toor – Episode 9

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 9

–**–**–

اتنی لمبی چھٹی کیوں آخر؟ اور سرپرائز کیا ہے بتاتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ سارا راستہ پوچھ پوچھ کر ’’
ان کا دماغ چاٹتی رہی تھی مگر ماما مسکراتی رہی تھیں اور وہ دونوں اسے ٹالتے رہے تھے۔
گھر آتے ان کو شام ہو گئی تھی۔ رات کے کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آئی تو شارقہ ساتھ تھی۔
اب بتا بھی دو یہ سرپرائز کیا ہے؟ اور چھٹی کیوں لی آخر…‘‘ شارقہ نے بڑی سنجیدگی سے اسے ’’
دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔
ہم نے آپ کی شادی طے کر دی ہے۔ پرسوں جمعہ کو آپ کا نکاح ہے اور شادی کے فوراً بعد تو آپ ’’
‘‘جوائن نہیں کر سکتیں نا اس لیے چھٹی لی تھی۔
کیا…‘‘ وہ اس انکشاف پر کتنی دیر تک حیرت زدہ رہ گئی تھی۔’’
امپاسبل…‘‘ وہ کتنی دیر تک اس انکشاف پر یقین کرنے کو ہی تیار نہ تھی۔’’
‘‘کون لوگ ہیں؟ اور اتنی جلدی کیسے؟’’
ماما کی کوئی ُپرانی دوست ہیں عرصے بعد ماما سے ہفتہ پہلے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کا ’’
بیٹا ہے۔ علی نام ہے اس کا ابروڈ سے تعلیم یافتہ ہے اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا ہے ہم مل چکے ہیں
اس سے… ادھر سیٹلائٹ ٹائون میں ان کی رہائش ہے، ان کی باقی فیملی کسی اور جگہ رہتی ہے۔
ان کو ماما نے تمہارے ساتھ ہونے والے حادثے کا بتایا تو پریشان ہو گئیں اور پھر انہوں نے اپنے بیٹے
کا پروپوزل دے دیا۔ بس ماما نے آناً فاناً رشتہ طے کر کے نکاح کا دن بھی دے دیا ہے۔ جمعہ کو نکاح
ہے اور ساتھ ہی ُرخصتی بھی ہو گی۔مائی گاڈ…‘‘ اس نے سر تھام لیا تھا۔’’
مگر شارقہ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ لوگ مجھے کیسے قبول کر سکتے ہیں اور ماما وہ تو ہیں ہی ’’
سدا کی نرم دل سادہ معصوم عورت۔ کوئی فراڈ نہ ہو۔ اتنی جلدی کیسے یہ سب سیٹل ہو گا؟
آئی ڈونٹ بلیو اٹ… اور وہ کون خاتون ہیں جو ماما کی دوست ہیں اور ہم بے خبر ہیں۔‘‘ شارقہ
جانتی تھی کہ وہ اتنی جلدی اور آسانی سے نہیں مانے گی۔
میں ماما کو بھیجتی ہوں وہ خود ہی تمہیں سب بتا دیں گی۔‘‘ وہ اُٹھ کر چلی گئی تھی پھر ماما ’’
نے آ کر یہی کہانی دہرائی تھی۔
بٹ… ماما یہ کیسے ممکن ہے… یہ میری ساری زندگی کا سوال ہے اگر کوئی فراڈ نکلا تو… اور ’’
‘‘اتنی جلدی۔
ماما کی ساری بات سن کر اس نے پھر وہی کچھ کہا تھا۔
بیٹا! میں بے شک تمہارے جتنا علم نہیں رکھتی مگر میں نے بھی اسی معاشرے میں زندگی ’’
گزاری ہے۔ اچھے اور بُرے کی تھوڑی بہت پہچان تو ہے ہی مجھے بھی… کیا تمہیں مجھ پر یقین
نہیں۔ کیا میں تمہیں کسی اندھے کنویں میں اپنے ہاتھوں سے دھکا دے سکتی ہوں۔‘‘ وہ ماما کے
الفاظ سے اُلجھ گئی تھی۔
بے فکر رہو بیٹا… تم نے اپنے اغوا کے بعد اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا نا تو دیکھو اس نے کیسی ’’
راہیں نکالی ہیں۔ اب بھی اس پر سب چھوڑ کر مطمئن ہو جائو میں نے آنکھیں بند کر کے کسی پر
اعتماد نہیں کیا۔ سرفراز کے ذریعے ہر طرح کی چھان بین کروا کر تبھی اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ وہ
لب سی گئی تھی۔
اپنی ماما پر بھروسہ رکھو بیٹا!‘‘ ماما نے اس کی پیشانی چوم کر محبت سے کہا تو وہ گہرا ’’
سانس فضا میں خارج کرتے اللہ کے ہاتھ میں تمام معاملات سونپے ریلیکس ہو گئی تھی۔
جس قدر عجلت میں یہ سارا معاملہ طے ہوا تھا نکاح والے دن شارقہ اسے پارلر لے گئی تھی دلہن
کے روپ میں وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ شمسہ اور آنٹی ہر
معاملے میں پیش پیش تھیں۔
نکاح کی ساری تقریب ان کے گھر کے اندر تھی۔ نکاح کے وقت وہ بہت کنفیوژ تھی۔ سرفراز بھائی
ماما اور ثوبان کے پاس نکاح کا رجسٹر لے کر آئے تھے۔ یہ وقت شاید ہر لڑکی پر بہت بھاری ہوتا ہے۔
سرفراز بھائی کی نشاندہی پر بغیر کچھ دیکھے بھالے آنکھوں میں آنسوئوں کا سمندر لیے جہاں
جہاں اُنگلی رکھتے گئے تھے وہ دستخط کرتی گئی تھی۔
نکاح کے بعد بھی اسے اسی طرح کمرے میں بیٹھے رہنے دیا تھا۔پتا نہیں سب کچھ اسے بہت عجیب سا لگ رہا تھا یا تھا ہی عجیب۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا
اسے اپنے اعصاب سخت کشیدگی کی زد میں آتے محسوس ہوئے۔
ُرخصتی کا شور بلند ہوا تو ایک بڑی سی چادر اس کے اوپر ڈال کر شارقہ، ماما، نومان اور ثوبان کے
گھیرے میں اسے باہر لے جایا گیا تھا۔
ُرخصتی کے وقت ماما، شارقہ، نومی، شمسہ سبھی شدت سے رو رہے تھے اور وہ خود بھی میک
اپ کی پروا کیے بغیر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
آپ فکر نہ کریں میرے وعدے پر یقین رکھیں میں اسے بیٹی بنا کر ہی لے کر جا رہی ہوں اور بیٹی ’’
بنا کر ہی رکھوں گی۔ آپ نے مجھ پر اعتماد کیا ہے تو کبھی مایوس نہیں کروں گی۔‘‘ ماما سے جدا
کرتے دو ہاتھوں نے اسے اپنے بازوئوں میں سمیٹ لیا تھا۔
اور روتی دھوتی ربدا فائق ایک نامعلوم سفر کے لیے روانہ ہو گئی تھی۔ پیچھے سب کو روتا چھوڑ
کر۔
رونے سے اس کی حالت اور میک اپ دونوں ہی خاصا خراب ہو چکا تھا۔ رات کا فنکشن تھا نجانے
وہ اسے کہاں لے کر آئے تھے اسے بس یہی لگ رہا تھا کہ ایک لمبا طویل سفر طے کر کے وہ اس
آرام دہ کمرے میں پہنچی تھی سارا راستہ وہ لمبا سا گھونگھٹ کیے بیٹھی رہی تھی اور گاڑی
سے اُترتے ہی کئی ہاتھوں نے اسے سہارا دئیے اسی لمبے گھونگھٹ میں بستر پر لا بٹھایا۔
ویڈیو نہ ہی تصویروں کا شور… کچھ دیر بعد ایک لڑکی اندر آ کر اس کا میک اپ درست کر گئی
تھی۔ وہ کچھ ُپرسکون ہو کر بیٹھ گئی تھی کچھ ٹائم گزرا تو چونکی اس کے پاس گھر کے مکینوں
میں سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ نہ ہی کوئی رسم نبھائی گئی تھی اور نہ ہی عام دلہنوں کی
مانند تواضع کی گئی تھی کمرہ اچھا خاصا کھلا اور کشادہ تھا۔ بڑی خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیا
ہوا تھا۔
بستر پر اور فرش پر پھولوں کی سجاوٹ ضرورت تھی۔ اس نے سر بیڈ کی کرائون سے ٹکا کر کمبل
اپنے اوپر ڈال لیا۔ یہ سردی کا موسم تھا اور اس کمرے میں ہیٹر آن ہونے کے باوجود سردی
محسوس ہو رہی تھی۔ اطراف میں دیکھتے ہوئے ڈریسنگ کے شیشے سے جھانکتے اپنے عکس کو
دیکھ کر چونکی۔
کیا یہ میں ہوں؟‘‘ سبھی اس کی بے پناہ تعریفیں کر رہی تھیں اس سمے اسے اپنا آپ بہت ’’
دلفریب اور پیارا لگا تھا۔ اس نے آج تک سادگی کو ہی ملحوظ خاطر رکھا۔ زندگی میں پہلی بار اتنا
…سجی سنوری تھی بقول شارقہ کے کہ
سسرال کے آئے زیور اور لباس کا کمال ہے سارا… روپ کیوں نہ آتا آخر۔‘‘ پتا نہیں اس کا شریک ’’سفر کس مزاج اور عادات کا مالک ہو گا۔ کمرے کی سجاوٹ دیکھ کر تو وہ اس کے ذوق کا اندازہ
لگا ہی چکی تھی مگر وہ خود کیسا ہو گا وہ اندر سے سخت گھبرائی ہوئی تھی۔ تبھی دروازے پر
ہلکا سا کھٹکا ہوا تو وہ جہاں تھی وہیں تھم گئی۔ دروازے کی ناب گھما کر آنے والے کے تصور سے
ہی اس کا سر جھک گیا تھا۔ پورے بدن پر اک معصوم سی کپکپاہٹ طاری ہو گئی تھی۔
اس قدر روایتی ماحول میں اس کا روایتی انداز تھا۔
ربدا۔‘‘ آنے والے نے سرگوشی میں پکارا تھا۔ وہ اندر کی آوازوں سے نبرد آزما اس کی پکار ہی نہ ’’
سن پائی تھی۔ بس سر مزید جھک گیا تھا۔ آنکھیں خودبخود حیاء کے بوجھ سے بند ہو گئی تھیں
آنے والا اس کے بے حد قریب اس کے پاس بیٹھ چکا تھا۔
اس نے ایک استحقاق بھری گہری نگاہ اپنے نام پر پور پور سجے اس وجود پر ڈالی جس کا سارا
وجود آنے والے لمحے کے تصور سے ہی لرز رہا تھا۔
بازل خان مبہوت سا دیکھے جا رہا تھا۔’
…کپکپاتے ہونٹ… لرزتی پلکیں… سحر طراز چہرہ اور بید مجنوں کی مانند کانپتا وجود
کیا روئے زمین میں اس سے زیادہ خوبصورت اور دلکش وجود آج کہیں اور ہو گا۔ وہ ان لمحوں کی
سحر زدہ کیفیت میں جکڑا گیا۔ سارہ کو اس نے پسند کیا تھا۔ اس کے کردار و اخلاق کی وجہ سے
اور پھر اس نے اس سے بے پناہ محبت کی تھی مگر سامنے بیٹھے وجود نے اسے تو اس کی اپنی
ذات سے ہی غافل کر دیا تھا۔
وہ کیسے اس کے حصول کے لیے بی بی جان کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور ہو گیا تھا۔ کس طرح اس
نے ماں کے سامنے اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کیا تھا۔ کیسے ہر سزا جھیلنے کو تیار ہو گیا تھا اور
اللہ کو شاید اس پر ترس آ گیا تھا اپنے تمام جرم قبول کرنے کی ادا بھا گئی تھی یا کیا تھا اس کی
جھولی بھر دی تھی اور پھر کیسے تمام مراحل بآسانی طے ہوتے چلے گئے تھے۔ وہ ابھی تک حیرت
زدہ تھا۔
وہ تو اس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ تھا اس کی نفرت بھرے اظہار سے ڈر رہا تھا۔ وہ ڈر رہا تھا کہ
اگر اس نے اسے ٹھکرا دیا اسے دھتکار دیا تو وہ کیسے یہ بوجھ سہہ پائے گا۔
اور اب اس کی یہ بند آنکھیں اس کو طلسم کی مانند اپنے سحر میں جکڑ رہی تھیں۔ اس نے بے حد
والہانہ پن لیے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں سمیٹ لیا تھا۔
ربدا…‘‘ اس نے ایک دفعہ پھر ہمت کی تھی اس بار آواز قدرے بلند تھی۔ ربدا جس کا پورا وجود ’’
اس لمحے کان بنا ہوا تھا جس کی سماعتیں پہلے ہی منتظر تھیں وہ اس پکار پر چونک گئی۔
عجب محشر برپا ہوا تھا اس کے اندر۔ اس نے فوراً گھبرا کر آنکھیں وا کر دیں۔ مگر آنکھیں پھٹ جانے
کی حد تک پھیل چکی تھیں۔ منہ کھولے آنکھیں پھاڑے وہ بازل خان کو دیکھ رہی تھی۔بازل خان…‘‘ اس کے لبوں نے حرکت کی تھی اور ایک گھٹی گھٹی آواز پورے ماحول میں چھا گئی ’’
تھی۔
نہ… نہیں…‘‘ وہ بے یقین تھی۔’’
ربدا…‘‘ اس کے تاثرات سے ڈر کر بازل خان نے فوراً پکارا تھا اور وہ جیسے ہوش میں آ گئی اس کے ’’
ہاتھوں کو فوراً جھٹک دیا تھا۔
تم…‘‘ وہ جو دھتکارے جانے سے ڈر رہا تھا اس لمحے اس کی آنکھوں میں وہی نفرت دیکھ رہا تھا۔’’
کیوں آئے ہو تم یہاں…؟‘‘ اگلے ہی پل خوفزدہ ہو کر پوچھ رہی تھی۔ وہ شاید اسے اس پل یہاں ’’
قبول نہیں کر پا رہی تھی۔
ربدا…‘‘ اس نے پھر پکارا تو وہ چیخ اُٹھی۔’’
پلیز نکل جائو یہاں سے… دیکھو کیوں تم میرے پیچھے پڑ گئے ہو۔ کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا… ’’
پلیز چلے جائو یہاں سے… ابھی میرا شوہر آ گیا تو…‘‘ وہ بازل خان کی موجودگی کو کسی اور ہی
رنگ میں لے رہی تھی۔ ایک دم رو پڑی تھی۔
ربدا… یہاں کسی کو بھی نہیں آنا… تم یہاں صرف میرے لیے آئی ہو۔ یہاں صرف مجھے ہی آنا ’’
تھا۔‘‘ وہ پل میں اس کی کیفیت سمجھا تھا۔ اس کے الفاظ نے گویا ربدا کے حواس پر بم پھوڑ دیا
تھا۔ وہ ایک دم نفی میں سر ہلا گئی۔
‘‘نہیں… جھوٹ ہے یہ… اس کا نام علی تھا… شارقہ اور ماما نے اس کا نام علی بتایا تھا۔’’
میرا مکمل نام بازل علی خان ہے۔ یہی میرا پیپر نیم ہے۔ تمہاری فیملی نے تمہارے انکار کے ’’
خوف سے میرا مکمل نام نہیں بتایا تھا۔ نکاح نامے پر بھی میرا یہی نام درج تھا تم نے شاید غور
نہیں کیا۔‘‘ انکشاف کا یہ بم پہلے سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
نہیں…‘‘ وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے گنگ سی رہ گئی۔ اس سے ساری دنیا جھوٹ بول سکتی تھی ’’
اسے دھوکہ دے سکتی تھی مگر اس کی فیملی نہیں۔
میں سچ کہہ رہا ہوں۔ بی بی جان تمہاری والدہ سے ملیں اور پھر ان کو ساری حقیقت بتائی ’’
اغوا سے لے کر اب تک کی ساری باتیں اور اصل وجہ بھی… انہوں نے مجھے معاف کر دیا تو بی بی
جان نے تمہارا رشتہ مانگا۔ پھر انہوں نے چند دن بعد تمہاری بہن اور بہنوئی سے بات چیت کر کے
ہمیں ہاں کہہ دی تھی۔ دو دن پہلے تمہاری والدہ اور بہنوئی یہاں آ کر سارے علاقے والوں سے
ملنے کے بعد شادی بلکہ نکاح کی تاریخ طے کر گئے تھے۔ بس تم سے چھپایا کہ تم انکار نہ کرو اور
ہمیں بھی کہہ دیا کہ شادی تک تم سے حقیقت بیان نہ کی جائے۔ شادی کے بعد تم خود ہی جب
‘‘حقیقت جان لو گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اوہ میرے اللہ…‘‘ وہ ایک دم بستر سے اُتر آئی تھی۔اتنا بڑا جھوٹ… اتنا بڑا دھوکہ…‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔’’
تم لوگ اتنے گھٹیا ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے پہلے جو کچھ بھی کیا میں چاہتی ’’
تو تمہارے خلاف کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی مگر میں زبان سی گئی اور اب اتنا بڑا دھوکہ…
تمہیں اس دنیا میں کوئی اور نہ ملی برباد کرنے کے لیے۔‘‘ بے دردی سے گجرے نوچ کر اس نے
قالین پر پھینکے اپنے دونوں ہاتھوں کو زیور سے آزاد کیا تھا۔
ربدا… ادھر بیٹھو… پلیز میری بات سنو… ایک دفعہ تم ساری حقیقت جان لو پھر تم جو بھی ’’
فیصلہ کرو گی میں ماننے کو تیار ہوں گا۔‘‘ اس کے اس ری ایکشن پر بازل خان نے آگے بڑھ کر کہتے
ہوئے اس کی کلائی تھامنا چاہی تھی مگر ربدا نے بُری طرح اس کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو جھٹکتے
اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
خبردار مجھے ہاتھ بھی لگایا تو… ایک قدم بھی اب میری طرف مت بڑھانا… ورنہ کھڑے کھڑے ’’
اپنی جان دے دوں گی یا تمہاری لے لوں گی۔‘‘ وہ دو دھاری تلوار بنی کھڑی تھی۔ اس کی کیفیت
بڑی غضبناک تھی وہ گم سم رہ گیا۔ گویا وہ جیتی بازی ہار گیا تھا۔
وہیں کھڑے کھڑے اس نے ایک ایک زیور نوچا تھا ہر چیز بستر پر پھینکتی گئی تھی۔ پھر نفرت بھری
نظروں سے بازل خال کو دیکھتے اپنے آنسو صاف کیے۔
میں اب یہاں ایک پل بھی نہیں ُرکوں گی۔ میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے تم لوگوں نے نفرت کرتی ’’
ہوں میں تم سے شدید نفرت… نفرت ہے مجھے تمہارے گھٹیا پن سے اور تمہاری کمینگی سے…
مجھے ابھی اور اس وقت واپس جانا ہے۔‘‘ وہ زہر اُگل رہی تھی اور بازل خان کو لگا وہ مزید ضبط نہ
کر سکے گا۔
پلیز ربدا… اسٹاپ اٹ… یوں جذباتی مت ہو… پہلے میری ساری بات سن لو۔ حقیقت جان لو۔ ’’
‘‘میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں حقیقت جان لو پھر جو بھی فیصلہ کرو گی مجھے قبول ہو گا۔
مجھے تمہارا مزید کوئی جھوٹ نہیں سننا۔ مجھے ایک بات یاد ہے تم میرے مجرم ہو۔ بے قصور ’’
مجھے اغوا کرنے والے میرے باپ کے قاتل میری فیملی کی بربادی کے ذمہ دار، بے حس بے ضمیر
انسان ہو بس…‘‘ وہ قالین پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔
میں نے جتنی تم سے نفرت کی ہے شاید کبھی کسی وجود سے کی ہو۔ میں نے اللہ سے اپنے ’’
برباد کرنے والے کی بربادی اور موت کی ُدعائیں مانگی تھیں۔ کتنا روئی تھی تمہارے سامنے تم
سے رحم کی بھیک مانگی مگر تم کو مجھ پر ترس نہ آیا۔ میں نے تو اللہ سے انصاف کی بھیک
مانگی تھی اور اللہ نے میرے ساتھ کیا کیا۔ دنیا کا سب سے زیادہ قابل نفرت گھٹیا، ذلیل اور ضمیر
‘‘فروش انسان عمر بھر کے لیے میرے مقدر میں لکھ دیا۔
وہ اس کے الفاظ پر اسے چپ چاپ کھڑا دیکھ رہا تھا۔ تبھی وہ تیزی سے اُٹھی تھی اور بغیر اس کیطرف دیکھے دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اس وقت اسے رات کے اس پہر کسی کی پروا نہ
تھی اپنی، نہ ہی بازل خان کی۔ اتنی دیر سے خود پر کنٹرول کرتا بازل خان حقیقتاً صورتحال بگڑنے
کے خدشے سے چونک کر سیدھا ہوا تھا۔
ربدا ایک منٹ… کہاں جا رہی ہو تم؟‘‘ وہ ایک دم اس کی راہ میں حائل ہوا تھا ربدا نے اپنا راستہ ’’
روکے جانے پر اسے آتشیں نظروں سے گھورا۔
آنکھوں میں سوائے نفرت کے جذبات کے کچھ بھی نہ تھا۔
تمہاری بی بی جان سے یہ پوچھے کے دعوے تو بڑے بڑے کر کے وہ لائی تھیں مگر ایک یتیم بے ’’
سہارا لڑکی پر یہ ظلم توڑتے انہیں خوف خدا نہ آیا اور تمہارے بابا صاحب سے یہ حساب مانگنے
جا رہی ہوں کہ اس علاقے میں تو وہ بڑے عامل منصف مزاج رحم دل مشہور ہیں اپنے علاقے سے
نکل کر ان کے نظریات کیوں بدل گئے ہیں کیا وہ بھی بیٹے کے قصور میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘ بی
بی جان تو ساری صورتحال جانتی تھیں اور انہوں نے اپنی فہم فراست سے اس معاملے کو صرف
اپنی ذات تک محدود رکھتے نا صرف اسے معاف کیا تھا بلکہ اس کی تمام راہیں صاف کی تھیں
بابا صاحب تو سرے سے بے خبر تھے۔ اصل معاملہ تو بی بی جان اور ربدا کی والدہ اور بہن بھائی
کو پتا تھا۔ دوسروں سے پوشیدہ ہی رکھا گیا تھا اگر ربدا اس پر بابا صاحب کے پاس پہنچ گئی آگے
کی صورتحال وہ سمجھ سکتا تھا کہ بابا صاحب نے اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا تھا۔ پہلی فرصت
میں اس سے تمام تعلقات توڑتے انہوں نے اسے حویلی سے نکال دینا تھا اور کچھ بعید ہی نہ تھا
کہ اس کے ظلم کی فہرستیں سننے کے بعد بی بی جان کی بھی شامت آ سکتی تھی اور اپنی
وجہ سے بی بی جان کو وہ کسی عذاب سے دو چار نہیں کر سکتا تھا۔
ربدا پلیز… بات کو بڑھانے کی ضرورت نہیں… بابا صاحب قطعی لا علم ہیں بلکہ بی بی جان کے ’’
علاوہ باقی سب بے خبر ہیں۔ تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی۔ جو بھی معاملہ ہے آرام و سکون
سے ادھر بیٹھو مجھ سے سنو… تب بھی تم مطمئن نہیں ہوتیں تو تمہارے فیصلے کو مقدم جانوں
‘‘گا… پلیز ربدا۔
مجھے تمہارا کوئی جھوٹ نہیں سننا… بھلا قاتل بھی کبھی خود کو قاتل کہتا ہے۔‘‘ بازل نے لب ’’
بھینچ لیے۔
تم میری بات نہیں سنو گی؟‘‘ وہ ایک دم اس صورتحال سے اُکتا گیا تھا زچ ہو کر پوچھا۔’’
نہیں…‘‘ اتنا پتھریلا اور سخت انداز تھا کہ وہ چند ثانیے تک اسے صرف دیکھے گیا تھا۔’’
اوکے… ایز یو وش… بٹ تم بابا صاحب یا حویلی میں کسی سے بھی ایک لفظ بھی نہیں کہو ’’
گی۔‘‘ وہ بھی آخر مرد تھا کب تک برداشت کرتا اپنی ُپرانی جون میں لوٹ گیاق۔ وارننگ دیتا انداز
تھا۔ہونہہ… میں کیا کہوں گی انہیں خود تم بتائو گے کہ تم کیا کچھ کر چکے ہو۔ میں کل صبح ہی ’’
یہاں سے چلی جائوں گی یہ یاد رکھو۔‘‘ اس کا وہی انداز تھا۔ بازل خان اسے گم سم انداز میں
دیکھے گیا۔ یعنی وہ کچھ بھی سننے سمجھنے کو تیار نہ تھی۔
تم اس وقت یہاں سے چلے جائو۔ میں اس وقت تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ کوئی بات ’’
بھی نہیں۔ صبح میں اپنی فیملی والوں کو بلوا لوں گی پھر جو بات ہو گی وہ تمہارے بابا صاحب
‘‘اور میرے درمیان ہو گی۔ سب کے سامنے۔
اس کا انداز قطعی لاتعلقی والا تھا۔ بازل خان کچھ دیر کھڑا اس کے تیور دیکھتا رہا اور پھر سر ہلا کر
کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
وہ کچھ دیر تو کھڑی دیکھتی رہی پھر دروازہ لاک کر کے قالین پر بیٹھ کر شدت سے رو دی۔ وہ اس
وقت سردی جیسے ہر احساس سے بے نیاز ہو کر صرف رو رہی تھی۔
اس نے صبح صبح ماما کو کال کی تھی اور ماما تو ساری رات سو نہ سکی تھیں وہ ربدا کو اچھی
طرح جانتی تھیں انہیں تو رات میں اس کی کال کی توقع تھی۔
ماما آپ سب نے میرے ساتھ اتنا بڑا ڈرامہ کیا۔ دھوکے سے اس شخص سے میری شادی کروا ’’
دی۔ جس سے میں نفرت کرتی ہوں۔ کیوں کیا آپ نے ایسا؟ ساری دنیا مجھے دھوکہ دے سکتی ہے
مگر آپ نے کیوں کیا ایسا؟‘‘ وہ ساری رات روتی رہی تھی اور اب صبح صبح ہی کال کر لی تھی۔
بیٹا! وہ شخص اتنا بُرا نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو… اس نے تمہیں بتایا نہیں کہ اس نے تمہیں ’’
کیوں اغوا کیا تھا؟‘‘ جواباً ماما کے الفاظ پر وہ حیرت زدہ رہ گئی ماما اس کے بجائے اس شخص کی
فیور کر رہی تھیں۔
مجھے کوئی جھوٹی داستان نہیں سننی… میرے لیے جاننے کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ’’
میرے باپ کا قاتل ہمیں رسوائیوں میں دھکیلنے والا ہے۔ اس کی وجہ سے ہم گھر سے بے گھر
ہوئے۔ دوسرے لوگوں کے گھر میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ اس نے جس کے بھی کہنے پر جس کے بھی
ساتھ مل کر جو بھی کیا میرے لیے وہ ظالم اور سفاک انسان ہے جو مجھے رہا کرنے کے بعد مجھے
‘‘اذیت دیتا رہا۔ مجھے پل پل مر جانے پر مجبور کرتا رہا۔
بیٹا اس کی بات سن لو پہلے پھر کوئی فیصلہ کرنا۔‘‘ ماما نے صرف یہی کہا تھا۔’’
مجھے کچھ بھی نہیں سننا… اور مجھے ادھر بھی نہیں رہنا۔ آپ شارقہ اور سرفراز آئیں میں آپ ’’
لوگوں کا انتظار کر رہی ہوں مجھے واپس آنا ہے بس میرا اس شخص کا صرف نفرت کا تعلق ہے اور
کسی تعلق کو میں ایکسپٹ نہیں کرتی۔‘‘ اس کی وہی جذباتیت تھی۔
ایک بات تم میرے دھیان سے سنو ربدا… تمہاری بات سے اندازہ ہوا تم اغوا کرنے والے کے بارے ’’
میں جانتی تھیں تم نے بے شک دھمکی کے خوف سے پولیس اور لوگروں سے ضرور چھپایا مگر ہمسے تم نے ایک لفظ نہ کہا۔ اس کے بعد تم اسی شخص کے علاقے میں جاب کرنے لگیں تم نے تب
بھی کچھ نہ بتایا کیوں؟ بیٹا میں ماں ہوں اس شخص کی ماں نے جس نے میرے پاس آ کر میرے
ہاتھ تھام کر تمام گناہوں کو قبول کیا اور اس شخص نے میرے پائوں تھام کر معافی مانگی اس
وقت میں کیا کوئی پتھر بھی ہوتا تو پگھل جاتا۔ میں نے معاف کر دیا۔ رہ گئی تمہارے پاپا کی موت
تو انسان کو اپنے وقت پر ہی مرنا ہے بے شک بہانہ کچھ بھی بنے۔ وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے تھے۔
میں بیمار عورت ہوں وہ شخص تمہاری قدر کرتا ہے۔ تمہیں عزت کے ساتھ اپنانا چاہتا تھا۔ میں نے
اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے عزت و احترام دیکھا تھا اور فیصلہ کر لیا تھا۔ اب بھی تم انکار
کرتی ہو تو یاد رکھنا میں تم سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ میں نے آج تک تمہارے ہر
فیصلے کو اہمیت دی ہے۔ ہر معاملے میں تمہاری فہم و فراست کو اولیت دی ہے۔ یہ میرا فیصلہ
ہے تم انکار کرو گی تو مجھ سے کوئی اُمید نہیں رکھنا۔ میں نے بہت عزت اور مان کے ساتھ تمہیں
وہاں ُرخصت کیا ہے اگر تم غصے اور جذباتیت سے وہاں سے نکل بھی آتی ہو تو پھر مجھ سے رابطہ
نہیں کرنا۔ بیٹا! میں ماں ہوں تمہیں کنویں میں نہیں دھکیل سکتی ابھی تم جذباتی ہو رہی ہو
مگر وقت فیصلہ کرے گا کہ میں نے اپنی بیٹی کے لیے دنیا کا سب سے اچھا انسان ڈھونڈا ہے۔‘‘ وہ
حیرت سے سن رہی تھی یہ اس کی ماما کے الفاظ تھے کیسا دھمکی آمیز انداز تھا۔
وہ اس شخص کو اس کے لیے بہترین کہہ رہی تھیں جو اس کی نگاہ میں دنیا کا سب سے بدکردار
و بدترین انسان تھا۔
تمہیں اگر میری عزت کا کوئی پاس ہے۔ تو چند دن وہاں رہ کر گزار لو۔ چند دن بیٹا اگر تب بھی ’’
تمہیں لگے کہ وہ لوگ غلط ہیں۔ وہ شخص غلط ہے۔ اس کا کردار غلط ہے تو تم جو بھی فیصلہ کرو
گی تو میں مانوں گی مگر ابھی نہیں… تم ہمیں وہاں دوبارہ آنے کو نہیں کہو گی تم آرام و سکون
سے وہاں کچھ عرصہ گزارو اس شخص کو اچھی طرح پررکھو تب بھی وہ غلط ہوا تو میں خود
‘‘تمہیں آ کر لے جائوں گی مگر اس وقت نہیں۔
اور اگر میں درست ٹھہری اور وقت نے ثابت کر دیا کہ آپ کا فیصلہ غلط ہے تو پھر آپ مجھے ادھر ’’
‘‘رہنے پر مجبور نہیں کریں گی میں تب ایک پل بھی نہیں ُرکوں گی۔
ٹھیک ہے… مگر مجھے یقین ہے تم ساری صورتحال جاننے کے بعد بازل کو انصاف کے ساتھ ’’
جسٹی فائی کرتے ہوئے ہمارے فیصلے کو قبول کر لو گی۔ بس کچھ دن انتظار کر لو۔ اور بازل کو
سن لو وہ جو کہتا ہے وہ سنو وہ غلط نہیں ہے۔‘‘ ماما کے بے پناہ یقین پر اس نے لب بھینچے سیل
آف کر دیا تھا۔
یعنی ماما کی خواہش کے مطابق اسے کچھ عرصہ مزید اپنی جان عذاب میں ڈالنا ہو گی۔ اس نے
بے بسی کے گہرے احساس سے دو چار ہوتے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا تھا۔ماما کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئی تھی وہ جانتی تھی ماما جتنی نرم خو اور سادہ مزاج ہیں
بعض معاملات میں اتنی ہی سخت ہیں۔ شارقہ سرفراز فون کرتے رہتے تھے شادی کے تین دن گزر
چکے تھے ہسپتال فون کر کے اس نے اپنی چھٹی کینسل کروا دی تھی۔
شادی کے چوتھے دن میں وہ ہاسپٹل جانے کو تیار ہو رہی تھی۔ تیار ہو کر آخری بار آئینے میں اپنا
تنقیدی جائزہ لیا۔ سادہ ہلکا گلابی لباس جس کے اوپر ہاتھ کا نفیس سا کام بنا ہوا تھا۔ اس کے
دلکش سراپے پہ یہ رنگ بہت سج رہا تھا پیروں میں ہم رنگ جوتے تھے اور جیولری کے نام پر گلے
میں صرف لاکٹ تھا یہ شادی کی اگلی صبح اسے بی بی جان نے پہنایا تھا۔ جو کہ اس وقت اس
کی گردن میں خوب جچ رہا تھا وہ مطمئن ہو کر پلٹی تو بازل خان کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ
کر اس کے خوبصورت نقوش نفرت کے سایوں سے اور بھی تیکھے ہو گئے۔ لب بھینچ کر وہ وارڈ
روب سے اپنی چادر نکالنے لگی۔
اس رات کے بعد دونوں میں بات چیت بند تھی۔
بازل خان اسے دیکھ کر چونکا تھا۔
یہ کہاں کی تیاری ہے؟‘‘ ربدا نے چادر اوڑھتے ایک ٹیڑھی نگاہ اس پر ڈالی۔ شکن آلود لباس لیے ’’
وہ شاید ابھی ہی آیا تھا۔ اس رات کے بعد وہ رات کو باہر ہی کہیں سوتا تھا۔ کہاں؟ اس کی جانے
بلا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: