Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumera Shareef Toor – Episode 1

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 1

–**–**–

وہ گھٹنوں میں سر دئیے بے پناہ سراسیمگی اور خوف آنکھوں میں لیے شدت سے رو رہی تھی۔
اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ نجانے کتنا وقت بیتا تھا۔ اس عقوبت خانے میں بند وہ رات دن کا
تصور تک بھولے ہوئے تھی۔ اسے بیتے لمحوں اور گزرتے وقت کو یاد کرنے پر یوں لگ رہا تھا کہ گویا
صدیاں بیت گئی ہیں۔
یا اللہ…‘‘ ہاتھ کی پشت سے چہرہ صاف کرتے وہ میٹرس سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ نجانے وہ کہاں ’’
تھی اور ادھر کیوں لائی گئی تھی۔ اس اندھیرے کمرے میں واحد ٹیوب تھی جو روشن تھی زمین
پر بچھا ایک میٹرس تکیہ اور چادر کے علاوہ کمرے کے کونے میں لکڑی کی چھوٹی سی ٹیبل پر
ایک جگ اور گلاس تھا۔ اس کے علاوہ کمرے میں اٹیچڈ باتھ روم تھا۔ کمرے میں کوئی کھڑکی تو
ایک طرف، ایک چھوٹا سا روزن تک نہ تھا۔
شروع میں تو وہ بیہوش سی سوتی جاگتی کیفیت میں بے خبر ہی رہی تھی کہ وہ کہاں ہے اور
کیوں ہے اور اب اسے ہوش میں آئے بھی کئی گھنٹے ہو چکے تھے۔ اس نے ایک دفعہ پھر ہاتھ میں
بندھی گھڑی دیکھی مگر وہاں وہی خوفناک حقیقت درج تھی۔ دس تاریخ اور رات ایک کا ٹائم درج
تھا اور جب وہ گھر سے ہاسپٹل کے لیے نکلی تھی تو آٹھ تاریخ اور آٹھ بجے کا وقت تھا۔ یعنی یہاں
آئے اس کی آج دوسری رات تھی۔
رونا دھونا ترک کیے وہ ایک بار پھر دروازے کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔
ارے کوئی ہے؟ مجھے یہاں سے نکالو پلیز… مجھے نکالو… ورنہ میرا دم گھٹ جائے گا۔ میں مر ’’
‘‘جائوں گی۔
ہوش میں آنے کے بعد وہ یہ عمل کئی بار دوہرا چکی تھی کہ اب کی بار اسے اپنے ہاتھ شل ہوتے ’’
محسوس ہو رہے تھے۔ جسم میں طاقت ختم ہوتی لگ رہی تھی وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی
ناکام ٹھہری تھی۔
دروازے کے دوسری طرف اس کی آواز سن کر بھی جواب کوئی نہ تھا۔ وہ دروازے کے ساتھ
پیشانی ٹکا کر سسک اُٹھی تھی۔
اسے رہ رہ کر اپنی ماں بیمار باپ معصوم بہن اور بھائیوں کے چہرے یاد آ رہے تھے۔ نجانے ان
لوگوں کا کیا حال تھا۔ پتا نہیں انہیں کسی نے بتایا بھی تھا کہ نہیں… ایک بار پھر اس نے گھٹنوں
میں سر دے لیا تھا۔ نجانے کتنا وقت بیتا تھا کہ اس کی حسیات ایک دم الرٹ ہوئی تھیں۔
…‘‘ٹک… ٹک’’
اسے دور سے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی اپنے بھاریجوتوں تلے زینے طے کرتا اسی کی طرف آ رہا ہے۔ وہ ایک دم سیدھی ہوتے میٹرس پر آ بیٹھی تھی۔
آنے والا پتا نہیں کون تھا؟ اس کے کیا مقاصد تھے اسے یہاں کیوں لایا گیا تھا؟ قدموں کی چاپ
قریب آ کر ُرک گئی تھی اور پھر چند منٹ بعد کلک کی آواز کے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا تھا۔
وہ جو دم سادھے بھیگے چہرے سمیت پوری جان سے دروازے پر نظریں گاڑے ہوئے تھی وہ اندر
آنے والے وجود کو دیکھ کر بت کی مانند ساکت ہو گئی تھی۔ وہ جو نجانے اب تک کیا کچھ سوچ
چکی تھی۔ آنے والے کو دیکھ کر کئی لمحے تک اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی تھی۔
وہ شخص دروازہ بند کر کے آگے بڑھا اور وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
تم…؟‘‘ لفظ اس کے ہونٹوں سے کیا نکلے گویا سکتہ ٹوٹ گیا تھا۔’’
ہاں میں… کیوں یقین نہیں آ رہا… دیکھ لو تم نے ایک چال چلی میں نے پانسہ ہی پلٹ دیا۔ تم ’’
خود کو عقل کل سمجھتی تھیں کیا؟‘‘ وہ شخص نہایت نفرت سے مخاطب تھا۔ لہجہ انتہائی
زہریلا اور غصیلا تھا۔ وہ ایک دم خوفزدہ سی دیکھے گئی۔
تم نے سمجھا ہو گا کہ ہو گا ایک احمق بیوقوف انسان… مگر تم نے یہ نہ سوچا کہ… جب بات ’’
عزت و غیرت اور کردار پر آ جائے تو پھر ہم کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ پھر نفع و نقصان کی پروا نہیں
کرتے اور تم نے میرے کردار پر ہی وار نہیں کیا بلکہ میری غیرت سے بھی کھیلی ہو۔‘‘ وہ بول نہیں
رہا تھا، نفرت سے پھنکار رہا تھا۔ ربدا کو اپنا وجود برف کی سل میں ڈھلتا محسوس ہو رہا تھا۔
م… مم… مجھے کیوں لائے ہو؟ میں نے کیا کیا ہے بھلا۔‘‘ خوف سے زرد پڑتے اس نے مزید لب ’’
کشائی کی تھی اور سامنے والا شخص اس کی اس درجہ لاعلمی پر گویا آتش فشاں کی طرح پھٹا
تھا۔
شٹ اپ…‘‘ ایک دم آگے بڑھ کر اس نے ربدا کا بازو تھام لیا… وہ جو پہلے ہی خوف سے بے حال ’’
تھی اس کے اس قدر سنگین لہجے اور حملے پر گویا مردہ ہو گئی۔
تم نے خود مجھے مجبور کیا ہے ربدا بی بی اس درجہ ذلت آمیز سلوک پر… یہی سوال پوچھنے ’’
کے لیے تو میں نے بھی تمہیں اُٹھوایا ہے کہ میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا… کیوں زہر گھولا تم نے میری
ہنستی بستی زندگی میں؟ کیوں کیا تم نے… بتائوں کیوں کیا۔‘‘ وحشی پن کا مظاہرہ کرتے اس کا
بازو پکڑ کر وہ اس طرح گرجا تھا کہ ربدا کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا۔
تم میری پستی، میری ذلت، میری رسوائی اور بربادی کا سبب ہو۔ جی چاہ رہا ہے کہ تنکوں کی ’’
طرح بکھیر دوں تمہیں… تمہارے کہے ہر لفظ کو سچ ثابت کر دوں۔ سچ۔‘‘ اس کی دونوں کلائیوں
پر اس کی گرفت اس قدر سخت تھی کہ ربدا ہول سی گئی۔
وہ ایک طاقتور توانا اور مضبوط شخص تھا اور وہ کئی دن سے بھوکی خوفزدہ بے بس و لاچار ایک
کمزور سی لڑکی تھی۔ نجانے وہ کیا کہہ رہا تھا۔ اس کا ذہن بالکل مائوف ہو رہا تھا۔پچھلے تین ماہ سے میں مسلسل انتقام کی آگ میں جھلسا ہوں۔ میرا اعتماد، میری محبت، ’’
میرے رشتے، میرا یقین اور بھرم سب کچھ تمہاری سلگائی گئی آگ کی نذر ہو گیا۔ میں نے موت
سے پہلے قیامت کی اذیت برداشت کی۔ میں نے بڑا خود کو روکا مگر سارہ کی موت نے مجھے
وحشی بنا ڈالا ہے۔ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا مکار عورت بتائو۔‘‘ ایک بھرپور تھپڑ سے اس
کے چہرے پر نہ صرف نشان ثبت ہوئے تھے بلکہ وہ لہرا کر دوبارہ میٹرس پر جا گری تھی۔
بتائو… ورنہ آج مجھے شیطان کا روپ دھارنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بتائو… کیوں لکھے تم ’’
نے وہ تمام خطوط اور کیوں بھیجیں وہ تصاویر…‘‘ وہ اس کے نزدیک آ کر حلق کے بل چیختے پوچھ
رہا تھا اور ربدا کو لگا آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا بس پل میں اسے نگلنے والا ہے۔ اسے اپنا سر
چکراتا محسوس ہوا۔
بولو…‘‘ اس کے پاس ہی میٹرس پر گرتے اس نے اس کا بازو پھر اپنی آہنی گرفت میں لے لیا تھا۔’’
مجھے نہیں پتا… میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں… چھوڑو مجھے۔‘‘ اپنے چکراتے سر پر دوسرا ’’
ہاتھ رکھتے وہ سسکی تھی مگر مقابل شخص کے دل میں اس کے لیے ذرا بھی رحم نہ تھا۔ بے پناہ
نفرت سے اس کو اپنی مضبوط فولادی گرفت میں سمیٹ لیا اور اس پل ربدا کو لگا اس کی تمام
قو ِت مدافعت بس آخری ہچکی لینے والی ہے۔
تم نے ابھی میری نفرت اور میرا انتقام نہیں دیکھا۔ تم ایسے نہیں مانو گی جو جیسا کرتا ہے ’’
ویسا بھرتا بھی ہے۔ میں تو ابھی تک حیرت زدہ ہوں کہ میری تم سے بھلا کیا دشمنی تھی؟ کیا لینا
دینا تھا؟ جو تم نے وہ گھٹیا کھیل کھیلا… میرے تمام رشتے مجھ سے چھین لیے تم نے… بتائوں
کیوں کیا یا کس کے کہنے پر وہ خطوط اور تصاویر بھیجیں؟ بتائو کیا مقصد تھا تمہارا۔‘‘ ربدا کو اپنا
سانس ُرکتا محسوس ہوا۔ وحشت و خوف سے آنکھیں پھٹ پڑی تھیں۔
یا اللہ…‘‘ یقینا یہ شخص ہوش میں نہ تھا۔ نجانے کیا کہنا چاہتا تھا۔ اس کے حواس مکمل طور پر ’’
اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔
مجھے چھوڑو۔‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر صرف اس کے لب ہلے تھے اور پھر اطراف میں ’’
مکمل طور پر اندھیرا چھا گیا تھا۔
مائی فٹ… آئی ڈیم اٹ…‘‘ اس شخص نے ربدا کے بیہوش وجود کو انتہائی نفرت سے دیکھ کر ’’
جھنجھوڑا تھا مگر اس کے وجود میں حرکت تک نہ ہوئی تو اس نے نفرت سے اسے میٹرس پر
پھینک دیا تھا۔
آخر کب تک تم میرے قہر سے بچو گی۔ تمہارے کہے تمام لفظوں کو اب سچا کرنا ہی میرا ’’
مقصد ہے۔‘‘ ایک حقارت بھری نظر اس کے ساکت و صامت وجود پر ڈال کر وہ شخص اپنے مضبوط
قدموں کی دھمک اس کمرے میں چھوڑتے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔وہ اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
آ جائو…‘‘ بخش دین اندر چلا آیا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی کتاب بند کی۔ بخش دین تہ خانے کی ’’
نگرانی پر معمور تھا۔ اسے سامنے دیکھ کر چونک گیا۔
‘‘ہاں بخش دین ہوش آ گیا اس لڑکی کو۔’’
جی صاحب مگر اس کی حالت بہت خراب ہے۔ کھانے کو مانگ رہی ہے۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا بازل خان ’’
نے نفرت سے ہونٹ سکیڑے۔
‘‘تو پھر کیا کیا تم نے؟’’
آپ کے حکم کے بغیر بھلا کچھ کر سکتا ہوں۔‘‘ وہ مو ٔدب کھڑا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔’’
تو ٹھیک ہے اسے کچھ کھانے کو دو… اور ہاں اس کے گھر والوں پر… نظر رکھنے کو کہا تھا اس کا ’’
‘‘کیا بنا کچھ معلومات حاصل ہوئیں؟
رفیق نے خبر دی ہے کہ اس کا باپ دو دن سے ہاسپٹل میں ہے۔ آگے پیچھے کوئی ہے نہیں جو ان ’’
کی خبر گیری کرے۔ فائق احمد نام ہے باپ کا دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ بہن اٹھارہ بیس سال کی
ہے جبکہ ایک بھائی بارہ سال کا، دوسرا چودہ سال کا۔ باپ سرکاری ملازم ہے۔ گورنمنٹ کی طرف
سے دئیے گئے گھر میں رہ رہا ہے۔ فیملی سمیت، ایک بہن ہے اس شخص کی جو کھاتے پیتے
گھرانے کی ہے۔ اس کے بیٹے سے اس لڑکی کی منگنی ہو چکی ہے مگر فائق احمد کے ہسپتال
پہنچنے کے بعد اس نے تمام تعلقات ختم کر دئیے ہیں۔‘‘ بازل خان کے چہرے پر ایک گہری
مسکراہٹ سمٹ آئی تھی۔ ایک زہریلی اور نفرت انگیز مسکراہٹ جس میں انتقامی جذبات شامل
تھے۔
کیا کنڈیشن ہے اس شخص کی…‘‘ بے تاثر لہجے میں پوچھا تھا۔’’
ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ بہت مشکل ہے بچنا اس کا۔‘‘ یہ دوسری زہریلی مسکراہٹ تھی جو ہونٹوں ’’
سے چھو گئی تھی مگر اگلے ہی پل معدوم ہو گئی تھی۔
چلو ٹھیک ہے جائو تم… اس کو کھانے کو کچھ دو اور ہاں کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو کہ تہ ’’
‘‘خانے میں کون بند ہے۔
جی صاحب…‘‘ وہ فوراً حکم بجا لایا تھا۔’’
اب جائو تم…‘‘ وہ کمرے سے باہر نکلا تو اس نے ُپرسوچ انداز میں ہاتھ میں پکڑی کتاب پھر کھول ’’
لی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد اسے لگا کہ جیسے اس کے تن مردہ میں تھوڑی سی جان پڑ گئی ہے۔ آج اسےاس عقوبت خانے میں بند ہوئے تیسرا دن تھا اور وہ تین دن بعد کھانے کی شکل دیکھ رہی تھی۔
جسم میں اتنی کمزوری و نقاہت پیدا ہو چکی تھی کہ بازل خان کو سامنے دیکھ کر پل میں خوفزدہ
ہوئی تھی۔ نجانے وہ شخص کیا کہتا رہا تھا مگر بند ہوتی آنکھوں اور گم ہوتے حواس کے ساتھ
اسے صرف یہی محسوس ہوا تھا کہ اس شخص کی نیت اس کے معاملے میں قطعی اچھی نہیں
ہے۔ نجانے اس کا کیا قصور تھا کس لیے اسے یہاں لایا گیا تھا۔ وہ ابھی تک بے خبر تھی۔ جبکہ بازل
خان کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ تو حیران و ششدر رہ گئی تھی۔ وہ تو اسے ایک اچھا سلجھا ہوا
انسان سمجھتی تھی مگر اس شخص کے ارادے دیکھ کر وہ اندر ہی اندر دہل اُٹھی تھی۔
اس کی بیہوشی نے اس کی درندگی و وحشت کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیا تھا۔ ورنہ نجانے اب
تک اس کا وہ شخص کیا حشر کر چکا ہوتا؟ مگر اس شخص سے بھلا اس کی کیا دشمنی تھی۔
ذہن کے گوشے میں صرف چند ملاقاتیں تھیں جن میں شناسائی سلام ُدعا سے نہ بڑھی تھی مگر
وہ کچھ اور بھی تو کہہ رہا تھا۔
شاید چند خطوط اور تصاویر کا ذکر کر رہا تھا اس نے اپنے ذہن پر زور ڈالنا چاہا مگر ذہن میں کچھ
بھی واضح نہ ہو پایا تھا۔ کوئی سرا نہ ملا تھا۔ اس نے بُری طرح ُدکھتے سر کو اپنے ہاتھوں میں گرا
لیا تھا۔
وہ نہا کر نکلا تو بخش دین کمرے میں نظر آیا۔
ہاں بخش دین… بولو۔‘‘ تولیے سے سر رگڑتے ہاتھ تھم گئے تھے۔’’
جی صاحب! وہ لڑکی آپ سے ملنا چاہتی ہے وہ بہت شور کر رہی ہے۔ بار بار دروازہ پیٹ رہی ہے۔‘‘ ’’
بازل خان کے چہرے کے عضلات کھنچ گئے تھے۔
ہوں…‘‘ اس نے وال کلاک کو دیکھا۔ رات کے نو بج رہے تھے۔’’
اور کچھ…‘‘ تولیہ ٹاول اسٹینڈ پر ڈالتے وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگا تھا۔’’
…‘‘نہیں صاحب’’
‘‘کھانا کھا رہی ہے۔’’
‘‘جی صاحب! مگر اسے بہت تیز بخار ہو چکا ہے۔’’
اوکے… اس وقت تو میں کہیں جا رہا ہوں۔ رات گئے لوٹوں گا۔ تم اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ’’
میرے کمرے میں چھوڑ جانا۔ شور کرے یا چیخے چلائے تو گولی حلق میں اُتار دینا۔ ایسے لوگوں کے
ساتھ انسانیت برتنا انسانیت کی توہین ہے۔‘‘ اس کا سپاٹ لب و لہجہ قطعی طور پر بے حسی لیے
ہوئے تھا۔
جی صاحب!‘‘ وہ فوراً حکم بجا لایا۔’’اور اس کے باپ کی کیا خبر ہے؟‘‘ بستر پر پڑا لباس اُٹھا کر بخش دین کو دیکھا۔’’
صاحب جی رفیق مسلسل ہاسپٹل میں ہے۔ وہ مکمل طور پر ان لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ’’
لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ تھانے میں درج ہو چکی ہے۔ چونکہ وہ گھر سے ہسپتال جانے کے لیے
نکلی تھی تو پولیس ہسپتال والوں کو ہی مشکوک ٹھہرا رہی ہے۔ رہا اس کا باپ تو ڈاکٹر مکمل
‘‘طور پر نااُمید ہو چکے ہیں۔ ابھی تک وہ صرف مصنوعی سہارے سے سانس لے رہا ہے۔
اوہ…‘‘ بازل خان نے سر ہلا دیا تھا۔ تبھی اس کا موبائل بجنے لگا تو اس نے بخش دین کو جانے کا ’’
اشارہ کرتے موبائل کان سے لگا لیا تھا۔
ہاں ایس پی جمشید صاحب۔‘‘ اس کا لہجہ نارمل تھا۔’’
‘‘کب پہنچ رہے ہو؟’’
‘‘بس نکلنے والا ہوں۔’’
جلدی کرو۔‘‘ وہ کہہ کر کال بند کر گیا۔ بازل خان نے بھی موبائل بستر پر اُچھالتے لباس لے کر ’’
دوبارہ باتھ روم کا ُرخ کیا تھا۔
وہ ہسپتال کے روم میں داخل ہوئے تو تسبیح کے دانے گراتے بی بی جان کا ہاتھ تھم گیا۔ وہ اُٹھ
کھڑی ہوئیں۔
السلام علیکم…‘‘ بابا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں سلام کیا۔’’
…‘‘و علیکم السلام’’
اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ بستر کے قریب آ کر وہاں لیٹے ننھے فرشتے کی پیشانی چوم کر پھر سر ’’
اُٹھا کر بی بی جان سے استفسار کیا تو ان کے ہونٹوں سے ایک آہ سی نکلی۔
ٹھیک ہے۔‘‘ تسبیح ایک طرف رکھ کر بچے پر پھونک مار کر وہ اس کے سرہانے ہی بیٹھ گئی تھیں۔’’
‘‘ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟’’
ان کا تو کام ہی ہے تسلیاں دینا۔‘‘ ان کی آواز رندھ گئی تھی بابا صاحب نے خاموشی سے اپنی ’’
شریک حیات کو دیکھا۔
باقی لوگ کہاں ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔’’
بینش اپنے باپ کے ساتھ آئی تھی بڑی ُدلہن اور سجاول کل سے ادھر تھے تھک گئے تھے تو میں ’’
‘‘نے بینش اور اس کے باپ کے ساتھ گھر بھیج دیا ہے۔
…‘‘ہوں’’
آپ نے بازل سے رابطہ کیا پھر…‘‘ ڈرتے ڈرتے بی بی جان نے پوچھا تو بابا صاحب نے نہایت غصے و ’’
غضب سے انہیں دیکھا۔‘‘نام مت لو اس ناہنجار ناخلف کا میرے سامنے… خاندان بھر میں نام ڈبو دیا ہے اس نے میرا۔’’
وہ باپ ہے اس کا۔‘‘ بی بی جان نے اس کا دفاع کرنا چاہا۔’’
اگر اسے اپنی اولاد کا اتنا ہی احساس ہوتا تو اسے چھوڑ کر جاتا ہی کیوں… اس کے سلوک اور ’’
‘‘حرکتوں کی وجہ سے بیوی تو اس کی قبر میں اُتر ہی گئی ہے اب بیٹے کو بھی مار ڈالے گا۔
اللہ نہ کرے۔‘‘ بی بی جان نے دہل کر کلیجے پر ہاتھ رکھا۔’’
وہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ یقین کیوں نہیں کرتے وہ ہماری اولاد ہے۔ آپ نے اسے اتنا کچھ کہہ ڈالا ’’
ہے۔ مگر پھر بھی وہ بغیر کچھ کہے سب سہہ گیا۔‘‘ انہیں بازل خان کا چہرہ یاد آیا تو رو دیں۔
تم آنکھوں دیکھی کو جھٹلا سکتی ہو مگر میں نہیں… سارہ اسی غم کو سینے میں لیے قبر میں ’’
‘‘جا اُتری اور یہ بچہ اسے اس کی بھی قطعی پروا نہیں۔
آپ اسے معاف کر دیں اسے واپس بلوا لیں یہ ننھی سی جان اسے اس کی بیماری کا تو بتا ’’
دیجیے۔ دیکھیے گا کیسے دوڑا آتا ہے۔‘‘ بی بی جان نے پھر منت بھرے لہجے میں کہا تو وہ چپ
بہا
چاپ انہیں دیکھے گئے۔ وہ اب آنسو رہی تھیں۔
اولاد سو غلطیاں کرتی ہے۔ اگر سبھی والدین ہماری طرح دھتکار دیں تو اولاد برباد ہو جاتی ہے۔ وہ ’’
‘‘جذباتی اور بہت جلد غصے میں آ جانے والا انسان ہے۔ نجانے کیا کر رہا ہو گا۔
بہت آرام و سکون سے ادھر شہر ہی میں ڈیفنس والی کوٹھی میں رہ رہا ہے۔ ایک ایک پل کی ’’
خبر مل رہی ہے مجھے اس کے بارے میں۔‘‘ انہوں نے جھنجلا کر کہا تو بی بی جان نے بہتے آنسو
صاف کیے۔
آپ جا کر اس سے بات تو کریں نا؟ مجھے یقین ہے بیٹے کی بیماری کا سن کر آرام سے نہیں رہ ’’
‘‘سکے گا۔ فوراً ساتھ آ جائے گا۔
ٹھیک ہے میں چکر لگاتا ہوں اگر وہ نہ آیا تو یاد رکھنا اس کے بعد میرا اور اس کا ہر رشتہ ختم ہو ’’
‘‘جائے گا۔
ضدیں بچوں کو ہی سجتی ہیں والدین اولاد کی ضد پر ضد میں مبتلا ہو جائیں تو گھر بکھر جاتے ’’
ہیں۔ وہ جذباتی ضدی اور جوشیلا خون ہے۔ آرام و سکون سے بات کیجیے گا تو اس کی کیا مجال
ہے کہ آپ کے سامنے سر بھی اُٹھا لے۔‘‘ بی بی جان نے پلو سے چہرہ صاف کرتے کہا تو بابا صاحب
سنجیدگی سے انہیں دیکھتے ہسپتال کے کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔
وہ پارٹی میں مصروف تھا۔ ایس پی جمشید اس کا دیرینہ دوست تھا اس کے گھر اس کے بچے کے
عقیقہ کی دعوت تھی۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے پہنچا تھا۔ ابھی کھانے کا دور باقی تھا جبھی اس کے
سیل نے بجنا شروع کر دیا تھا۔اس نے اسکرین دیکھی تو رفیق کالنگ تھا۔ اس کے ماتھے کے بل گہرے ہوتے چلے گئے۔ اس نے
رفیق کو سختی سے منع کر رکھا تھا کہ اس کے نمبر پر رابطہ مت کرے جو بھی مسئلہ ہو بخش
دین سے کہے۔
ہاں… رفیق بولو۔‘‘ مہمانوں سے قدرے ہٹ کر اس نے کال پک کی تھی۔’’
جی صاحب! وہ جس کام کے لیے آپ نے معمور کیا ہوا تھا ادھر ہی ہوں۔ فائق ہمدانی کا انتقال ہو ’’
گیا ہے۔ ابھی ابھی وہ لوگ ڈیڈ باڈی لے کر گئے ہیں۔‘‘ دوسری طرف سے ملنے والی خبر نے اسے
چند ثانیے تک بت بنا ڈالا تھا۔ اس کی نگاہوں میں سارہ کا مردہ جو دور آیا تو سختی سے لب بھینچ
لیے۔
بہرحال اس شخص کی موت اس کا مقصد نہ تھا۔ اس کا دل غم سے بوجھل ہونے لگا۔ اپنی طرف
سے اس نے رفیق کے ذریعے اس شخص کے علاج کے لیے ہر طرح کا تعاون کرنے کی کوشش کی
تھی۔
اب میرے لیے کیا حکم ہے سر؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔’’
ان لوگوں کو شک تو نہیں ہوا تم پر۔‘‘ اس نے پوچھا۔’’
نہیں صاحب! میں فائق صاحب کے ساتھ ان کے کولیگ کی حیثیت سے ساتھ ساتھ رہا ہوں اس ’’
‘‘کے علاوہ ان کی فیملی میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔
ٹھیک ہے۔ اب تمہارا کام ختم ہوا۔ اب تم اپنے علاقے میں چلے جائو۔ ہاں جاتے ہوئے اس خاندان کے ’’
‘‘متاثرین تک اپنی طرف سے کچھ رقم دے جانا اوکے۔
جی صاحب!‘‘ اس نے کال ڈراپ کی تو چند پل خاموشی سے کھڑا رہا۔ اس کے ایک عمل کی وجہ ’’
سے ایک ہنستا بستا گھر اُجڑ چکا تھا۔
نجانے یہ بے حسی کی کون سی انتہا تھی۔ اسے تو صرف اپنا شدید نقصان ہی یاد تھا۔ اس نے
دماغ سے اس احساس کو جھٹکنا چاہا مگر ضمیر کے کسی کونے میں گناہ کا ذرا سا احساس چمٹ
گیا تھا۔
مائی فٹ… جیسا وہ لڑکی میرے ساتھ کر چکی ہے اس کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہیں… میری ’’
بیوی مر گئی۔ بچہ دوسروں کے آسرے پر ُرل گیا ہے۔ میرے رشتے اعتبار سب مٹی میں ُرل گیا۔ یہ
تو بہت کم ہے۔‘‘ اس نے خود کو باور کروایا مگر اندر دل کے اندر کہیں ُدکھ کا احساس اسے
مسلسل کچوکے لگا رہا تھا۔
رکھو اپنی بیٹی کو سنبھال کر… نجانے کہاں عیاشیاں کرتی پھر رہی ہے؟ جانتی ہوں سب ڈرامے… ’’
میں تو پہلے ہی ٹھٹک گئی تھی۔ ڈاکٹر کیا بن گئی تھی طور طریقے ہی بدل گئے تھے۔ میں توبھائی کی محبت میں رشتہ جوڑ بیٹھی تھی مجھے کیا پتا تھا تمہاری بیٹی کے یہ لچھن ہیں۔ ہائے
‘‘میرے بھائی کو کھا گئی منحوس۔
ہر طرف سکتے کی کیفیت تھی ماما پاپا کی میت کو دیکھتے بے حس بیٹھی ہوئی تھیں تو دوسری
طرف پھوپھو بیگم کی زبان مسلسل طعن و تشنیع کے نشتر چلا رہی تھی۔ لومان اور ثوبان دونوں
سرہانے کی طرف بیٹھے چارپائی سے سر ٹکائے رو رہے تھے۔ شارقہ نے بڑی وحشت بھری نگاہوں
سے ارد گرد بیٹھی عورتوں کے ہجوم پر نگاہ ڈالتے اپنی پھوپھو کو دیکھا جو بھائی کی موت کا سن
کر تو آئی تھیں مگر دلجوئی کرنے کے بجائے ان کی گردنوں پر نشتر لگا رہی تھیں۔ لوگ چہ مگوئیاں
کر رہے تھے۔ ہر ایک کی اپنی ہی راگنی تھی۔ اور کوئی بھی ان پر ٹوٹنے والی قیامت پر ساتھ دینے
والا نہ تھا۔
ہائے آپی کہاں ہو تم؟ کیوں کیا تم نے ایسا؟ کچھ ہمارے بارے میں بھی سوچا ہوتا یہ ذلت یہ ’’
رسوائی ہم کیسے جھیلیں گے؟‘‘ وہ گھٹنوں میں سر دئیے بُری طرح سسک اُٹھی تھی۔
میں نہیں کروں گی اب یہ رشتہ… میں نے بھائی کی محبت میں سہارا بننا چاہا تھا مجھے کیا پتا ’’
تھا کہ یہ لچھن ہے ڈاکٹرنی کے۔‘‘ ماما گم سم پھوپھو کی شکل دیکھ رہی تھیں۔
اتنے دن بیت گئے ہیں وہ لوٹ کر نہیں آئی۔ پولیس ہر جگہ تلاش کر چکی ہے۔ تم کہتی ہو کہ ’’
تمہاری بیٹی ایسی غلط نہیں تو کہیں نہ کہیں سے تو ملتی۔ چلی گئی ہو گی کسی کے ساتھ…
اب نہیں ادھر آنے والی… آج سے میرا تمہارا ہر تعلق ختم… ویسے بھی اب کون سا بھائی میرا
زندہ رہا ہے۔‘‘ پھوپھو اپنے دل کی بھڑاس نکال کر جس طرح آئی تھیں، چلی گئیں۔
نومان اور ثوبان نے برستی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا جو بڑے ضبط سے سب جھیل رہی
تھیں۔
ماما…‘‘ شارقہ نے پکارا تو انہوں نے لب بھینچتے سسکتی بلکتی بیٹی کو بازوئوں میں سمیٹ ’’
لیا۔ ان کا سہاگ اُجڑا تھا۔ بیٹی نجانے کہاں غائب ہو گئی تھی۔ خدا جانے کن حالات و واقعات سے
دو چار تھی۔ وہ تو ابھی تک کچھ غلط نہ سوچ پائی تھیں اور یہ لوگ… انہوں نے کرب سے آنکھیں
میچ لیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: