Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumera Shareef Toor – Episode 2

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 2

–**–**–

اپنی بیٹی پر تو انہیں اپنی ذات سے بڑھ کر اعتماد تھا تو پھر کیوں ہوا ایسا؟ اگر وہ کسی حادثے کا
شکار ہو گئی تھی تو بھی کم از کم اس کے وجود کے متعلق کوئی سراغ تو ملتا… جبکہ تھانے میں
رپورٹ تک درج ہو چکی تھی۔
صبر کرو بیٹا… صبر۔‘‘ انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر روتی بلکتی بیٹی کو بازوئوں میں لے کر دلاسہ ’’
دیتے بیٹوں پر نگاہ ڈالی تو اپنی آنکھیں روانی سے بہنے لگیں۔ یقینا یہ ان کے لیے بہت بھیانک
گھڑی تھی۔وہ گھر لوٹا تو اس کے ذہن پر عجیب سا بوجھ تھا۔ فائق ہمدانی کے انتقال کی خبر نے ایسا بے
سکون کیا تھا کہ وہ پھر جمشید کے ہاں چند پل ہی ٹھہر سکا اور پھر فوراً گاڑی لے کر بے مقصد
اِدھر اُدھر گھومتا رہا تھا اور اب گھر آیا تو گاڑی سے نکلتے ہی اس کا واچ مین فوراً اس کے سامنے آ
گیا تھا۔
صاحب! بڑے صاحب آئے ہیں۔‘‘ وہ چونک گیا حیرت سے ملازم کو دیکھا۔’’
بابا صاحب؟‘‘ اس نے استفسار کیا تو ملازم نے سر ہلا دیا تھا۔’’
کب آئے اور کہاں ہیں؟‘‘ اپنی حیرت پر قابو پاتے اگلا سوال کیا۔’’
دو گھنٹے ہونے والے ہیں۔ ملازمہ نے کھانے پینے کو پوچھا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔‘‘ کئی ماہ ’’
بعد بابا صاحب کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا تھا وہ حیران نہ ہوتا تو کیا کرتا۔
ساتھ میں کون ہے؟‘‘ اس نے مزید پوچھا۔’’
اکیلے ہیں۔‘‘ وہ اندر کی طرف بڑھا تو اچانک بخش دین کا خیال آیا تو ساتھ میں اس لڑکی سے ’’
متعلق اپنا دیا گیا حکم بھی یاد آیا۔ اس نے فوراً نمبر ملایا تھا۔
‘‘ہاں بخش دین کہاں ہو؟ اور وہ لڑکی کہاں ہے؟’’
بابا صاحب آ گئے ہیں تو میں لڑکی کو لے کر نہیں آیا۔‘‘ بازل نے گہرا سانس لیا۔’’
پر صاحب جی! لڑکی کی طبیعت بہت خراب ہو چکی ہے۔ اس کا بخار اس قدر تیز ہو گیا ہے کہ وہ ’’
اب مسلسل غنودگی میں ہے۔‘‘ بازل خان نے خاموشی سے بخش دین کی بات سنی تھی۔
بابا صاحب سے ملنے کے بعد میں ادھر آتا ہوں تب تک انتظار کرو… اوکے۔‘‘ اسے کہہ کر اس نے ’’
کال بند کر دی تھی۔
وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا بابا صاحب صوفے پر بیٹھے ملے اسے دیکھ کر ان کے ماتھے کے بل
گہرے ہوئے تھے۔
السلام علیکم…‘‘ ان کو دیکھ کر بازل خان کے اندر جھیلی جانے والی تمام تر اذیت ازسر نو تازہ ہو ’’
گئی تھی۔
و علیکم السلام…‘‘ انہوں نے جواب بھی ماتھے پر بل ڈالے دیا تھا۔ بازل خان مزید اندر سے سلگ ’’
اُٹھا۔
کیسے آنے کی زحمت کر لی آپ نے؟‘‘ صوفے پر ٹکتے وہ طنز کرنے سے باز نہ آیا۔’’
جانتے ہو تین ماہ ہو گئے ہیں تمہیں حویلی سے نکلے ہوئے۔ تم نے اپنی ضد پوری کر لی۔ آج تک ’’
ہم نے اپنی کسی اولاد کو اتنی چھوٹ نہیں دی جتنی تمہیں دی ہے۔ تم ہمارے پوتے کے باپ نہ
ہوتے تو ہم پلٹ کر بھی نہ تمہیں پوچھتے۔‘‘ وہ اپنے مخصوص ُرعب و دبدبے سے مخاطب تھے۔ بازلنے اپنے لب بھینچ لیے اور جب توقف کے بعد بولا تو لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
ذرہ نوازی ہے آپ کی… مگر آپ یہ بھی بتا دیں کہ اب کیوں پلٹ کر پوچھ رہے ہیں تو مہربانی ہو ’’
گی۔‘‘ وہ بھی انہی کا بیٹا تھا۔ تلخی سے گویا ہوا تھا۔
میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی آمد کا مقصد واضح کیا تھا وہ سلگ اُٹھا۔ اتنا کچھ ہو ’’
جانے کے بعد تمام تر خسارہ اس کے حصے میں آیا تھا۔ وہ ابھی بھی تمام تر کروفر سے مخاطب
تھے۔ اس نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ آپ خود مجھ جیسے آوارہ، عیاش انسان سے ہر طرح کا تعلق ختم کر ’’
بیٹھے ہیں تو پھر یہ نئی چال کس سلسلے میں بقول آپ کے کہ ایک آوارہ بدقماش اور بازاری
طبیعت کے مالک انسان کے لیے آپ لوگوں کی زندگیوں میں کوئی گنجائش نہیں۔ تو پھر اب خود
ہی اپنے لفظوں سے کیوں منحرف ہو رہے یں۔‘‘ وہ ازحد تلخی سے کہہ گیا۔ بابا صاحب نے بڑی
غضب بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
بات کرتے ہوئے مت بھولو کہ ابھی بھی تمہارا بیٹا ہمارے پاس ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی طرف سے ’’
بہت کچھ جتانے کی کوشش کی تھی مگر وہ تو اس حوالے پر چیخ گیا تھا۔
بابا صاحب میں آپ کی رعایا یا مزارعوں میں شامل نہیں ہوں۔ بی بی جان کی منتوں کا احساس ’’
‘‘نہ ہوتا تو اپنا بیٹا ایک پل کے لیے بھی اس حویلی میں چھوڑ کر نہ آتا۔
اس کے تلخ لہجے پر انہوں نے ہاتھ اُٹھا کر ٹوک دیا۔
ہم پچھلی سب باتوں کو بھلا کر خود تمہارے پاس آئے ہیں۔ تم اگر اپنی بی بی کی وجہ سے اپنے ’’
بیٹے کو وہاں چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہو تو ہم بھی تمہاری بی بی کی ہی وجہ سے یہاں آنے پر
مجبور ہوئے ہیں۔ تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہو گا۔‘‘ انداز بڑا تحکم آمیز اور دو ٹوک تھا۔
ہر گز نہیں… مجھ پر لگے الزامات ابھی بھی اسی طرح برقرار قائم دائم ہیں۔ آپ کے آ جانے سے ’’
حقیقت بدل نہیں گئی میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جائوں گا۔‘‘ اس کا انداز اٹل تھا۔ بابا صاحب کا
چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا تھا۔
انکار کرنے سے پہلے یاد رکھنا کہ ہم سب کچھ فراموش کر کے تمہاری طرف بڑھے ہیں ورنہ ایسی ’’
ناہنجار اولاد پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘ انہوں نے سختی سے کہا۔
ایک اور بات یاد رکھو تمہاری بی بی جان کی وجہ سے میں نے سب کچھ بھلا کر تمہاری طرف ’’
قدم بڑھائے تھے۔ تب تو میں نے تمہیں صرف اپنی زندگی سے نکل جانے کا ہی حکم دیا تھا اب میں
ہمیشہ کے لیے عاق کر دوں گا۔ رہ گئی انیق کی بات تو تمہیں اس سے بھی دستبردار ہونا پڑے
گا۔‘‘ بابا جان اب اپنے مکمل غضب میں تھے۔
میں دیکھتا ہوں تم میرے پیسے اور میری ساکھ کو کیسے استعمال کرتے ہو۔ بڑا دعو ٰی ہے تمہیں ’’اپنی آکسفورڈ کی اعل ٰی تعلیم پر… جب اپنے پائوں پر اپنے بل بوتے پر کچھ بن کر دکھائو گے تو
مجھے بھی ضرور بتانا۔ نکل جائو میرے اس گھر سے گلیوں میں ُرلو گے تو پتا چلے گا کہ یہ طنطنہ،
یہ غرور کس لیے ہے۔‘‘ بابا صاحب نے تو پل میں اسے آئینہ دکھا دیا تھا۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر کھڑا ہو
گیا۔
میں خود آپ کی دی ہوئی آسائش کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں۔ آج آپ نے واضح کر دیا ہے تو ’’
ٹھیک ہے آپ انیق کو میرے حوالے کر دیں۔ میں خود بھی آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ حد
ہوتی ہے کسی بھی الزام کی۔‘‘ وہ پھٹ پڑا۔
الزام نہیں حقیقت ہے۔ ان خطوط اور تصویروں سے بھلا تم کیسے انکار کر سکتے ہو؟ اپنے گریبان ’’
میں جھانکو ذرا تم خود بھی… کسی باعصمت لڑکی کی عزت سے تم کھیل گئے۔ بیوی تمہارے ان
کرتوتوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی۔ اور اوپر سے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے یہ
طنطنہ دکھاتے، جھوٹا ڈرامہ رچائے بیٹھے ہو۔ میں اٹل اور سخت ضرور ہوں مگر اپنی روایتوں اور
اقدار سے انحراف کی اجازت تمہیں کبھی نہیں دوں گا۔ کاش مجھے پتا چل جاتا کہ وہ لڑکی کون
ہے؟ تو میں اس کے والدین کے پائوں پڑ کر تمہیں مجبور کرتا کہ اس کے سر پر عزت کی چادر ڈالو۔
میں نے آج تک کبھی ظلم کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو شہہ نہیں دی۔ میں ظلم کرنے والے ہاتھ
ہی کاٹ دیتا ہوں خواہ وہ میرا اپنا خون ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ بازل خان کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔
ایک قیامت برپا تھی اس کے اندر ایک پل میں چاہا کہ ابھی جائے اور اس لڑکی کے پرخچے اُڑا دے۔
ابھی تک یہ اس کی انسانیت، شرافت ہی تو تھی کہ وہ لڑکی اس کے پاس تھی اور اس کے غیض
و غضب سے بچی ہوئی تھی۔ ایک دم اس لڑکی کو کچل دینے مٹا دینے کی تحریک برپا ہوئی تھی۔
جب میں اتنا ہی گرا ہوا ہوں تو کیوں مجھے میرے حال پر نہیں چھوڑ دیتے۔ نکل تو آیا ہوں آپ ’’
‘‘سب لوگوں کی زندگیوں سے۔
ہاں چھوڑ دیتے اگر مجبور نہ ہو جاتے۔ کہتے ہیں اصل سے سود زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ تمہارا بیٹا ’’
سخت بیمار ہے۔ ادھر اسی شہر میں لے کر آئے ہوئے ہیں۔
اگر تھوڑی سی بھی انسانیت ہے تو آ کر مل لینا۔ میں سب کچھ بھلا کر تمہیں لینے آیا ہوں تو
صرف اس لیے کہ تم میرے پوتے کے باپ ہو اور ہم اپنے پوتے کو مرتے نہیں دیکھ سکتے۔ بھلے اس
کی ماں تمہاری حرکتوں سے مر گئی تھی۔‘‘ وہ پھر بھی طنز کرنے سے باز نہ آئے تھے مگر اس بار
وہ اپنے بیٹے کی بیماری کا سن کر ہی پریشان ہو گیا۔
کیا ہوا ہے انیق کو؟‘‘ بابا جان نے اس پر ایک عجیب سی نگاہ ڈالی تھی۔ مگر اس کے چہرے پر ’’
چھائے پریشانی کے تاثرات دیکھ کر ان کا دل پگھلنے لگا۔
ان کا بیٹا اس قدر گھٹیا نہیں ہو سکتا۔‘‘ کوئی ان کے دل میں بولا تو انہوں نے سر جھٹکا۔ وہ ’’کسی بھی قسم کی کمزوری کا شکار نہیں ہونا چاہتے تھے۔
بہت بیمار ے۔ ڈاکٹرز کوشش تو کر رہے ہیں مگر اللہ کرم کرنے والا ہے۔‘‘ اب کے ان کا لہجہ نارمل ’’
تھا۔ کسی نے بازل خان کا دل مٹھی میں لے کر بھینچ لیا۔
میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ وہ جو نفرت و انتقام کے چکر میں اس معصوم وجود کو جان ’’
بوجھ کر نظر انداز کیے ہوئے تھا اب باپ کے منہ سے اس کی حالت سن کر سب عہد بالائے طاق
رکھتے فوراً ساتھ چلنے کو تیار تھا۔
آپ بیٹھیں میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔‘‘ اچانک کچھ یاد آنے پر وہ انہیں وہیں چھوڑ کر جلدی جلدی ’’
نما
عقبی حصے کی طرف چلا آیا۔ رات کے اس پہر ہر طرف گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اسٹور
کمرے سے ہوتا ہوا وہ زینہ طے کرتے نچلے تہ خانے میں چلا آیا تھا۔ یہ ایک ُپراسرار اور خفیہ تہ خانہ
تھا۔ جس کا راستہ مکینوں کے علاوہ کسی کو بھی پتا نہ تھا۔ دروازے کے باہر چارپائی پر لیٹا بخش
دین اسے دیکھ کر فوراً کھڑا ہو گیا تھا۔
…‘‘کیا حالت ہے اب اس لڑکی کی’’
صاحب جی! رات سے کچھ نہیں کھایا صرف ایک وقت کا کھانا کھایا ہے۔ مسلسل بخار سے تپ ’’
رہی ہے۔‘‘ اس کے اشارہ کرنے پر اس نے دروازہ کھول دیا تھا۔ وہ اندر آیا تو وہ میٹرس پر پڑی ہوئی
تھی عجب نڈھال پژمردہ سا انداز تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر میٹرس پر گھٹنے ٹیکتے جھک کر اس کی کلائی تھامی تو لگا کسی آگ کو چھو
لیا ہے۔ وہ واقعی سخت بخار میں مبتلا تھی۔
سنو۔‘‘ اس نے پکارا تو اس نے بمشکل آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔ نقاہت و کمزوری نے لگتا تھا اس ’’
کے جسم سے جان نکال لی ہے۔
وہ ایک حسین وجود کی مالک بے پناہ خوبصورت لڑکی تھی۔ بیماری اور خوف سے نڈھال وہ
مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھی مگر اس کا چہرہ دیکھ کر کوئی بھی نہ کہہ سکتا تھا کہ
یہ لڑکی کسی کی زندگی برباد کر سکتی ہے۔ ایک پل کو بازل خان بھی ساکت ہو گیا۔
بات سنو لڑکی! مجھے سچ سچ بتائو تم نے وہ سب کیوں کیا؟ کس کے کہنے پر اور کیوں؟‘‘ اس ’’
لڑکی کی حالت دیکھ کر ایک لمحے کو اس کا دل بھی پگھلا تھا۔ وہ اس قدر بے رحم اور ظالم بھی
نہ تھا کہ کسی بے بس وجود کو اس طرح دیکھ کر بھی اثر نہ لیتا۔
مجھے چھوڑ دو… مجھے جانے دو… میں نے کچھ نہیں کیا؟‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ’’
تھے۔ بازل خان نے لب بھینچ لیے۔
کیا وہ واقعی بے قصور تھی۔‘‘ کوئی دل سے پکارا۔’’
جانتی ہو تمہارا باپ مر چکا ہے۔ اگر تم نے زبان نہ کھولی تو تمہارے گھر کا ایک ایک فرد برباد ہو ’’جائے گا۔ مجھے بتائو کیوں کیا تم نے ایسا؟ ورنہ تم ادھر ہی ایڑیاں رگڑتے مر جائو گی اور مجھے اس
بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ باپ کی وفات کا سن کر اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
‘‘پاپا…؟’’
تمہارا باپ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مر چکا ہے۔ تمہارے پاس کل صبح تک کا وقت ہے میں کل ’’
پھر آئوں گا۔ سوچ لو میرے ساتھ سچ بولنا ہے ورنہ میں زندہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔‘‘ غصے سے
اس کو ایک طرف دھکیلتے وہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
مجھے جانے دو۔ میں مر جائوں گی۔‘‘ وہ بلکی تھی مگر نقاہت و بیماری نے اسے بولنے نہ دیا تھا۔’’
بازل خان تیز تیز قدم اُٹھاتا باہر نکل آیا تھا۔
اسے میڈیسن دو… اور خیال رکھو مر نہ جائے یہ۔‘‘ تلخی سے کہہ کر وہ تیزی سے زینہ طے کرتے ’’
باہر نکل آیا۔
وہ جو کل صبح آنے کا کہہ کر گیا تھا اس کا اگلا پورا ہفتہ انتہائی مصروفیت میں گزرا تھا۔ بی بی
جان تو اسے دیکھ کر بے پناہ خوش ہوئی تھیں۔ باقی بھائی بہن بھی مطمئن ہو گئے تھے۔ انیق کی
طبیعت چند دن تو خاصی خراب رہی تھی اور پھر ڈاکٹرز کی کوشش سے کچھ سنبھلی تو اگلے دو
دن میں وہ خاصا بہتر ہو چکا تھا۔
چند دن ہسپتال رہنے کے بعد ڈاکٹرز نے اسے ڈسچارج کر دیا۔ بی بی جان انیق کو لے کر حویلی کی
طرف روانہ ہوئیں تو اسے بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا مگر ابھی اس کے بہت سے کام ادھورے پڑے
تھے۔ وہ پہلے اس لڑکی کے مسئلے سے نبٹنا چاہتا تھا آخر وہ کب تک اسے اس طرح قید میں ڈال
سکتا تھا۔
بی بی جان کے جانے کے بعد وہ سیدھا کوٹھی میں چلا آیا تھا۔ بخش دین سے لڑکی کے متعلق
رپورٹ تو مسلسل مل رہی تھی آتے ہی وہ سیدھا اس کے پاس آیا تھا۔ ربدا اسے دیکھ کر ایک دم
سیدھی ہو گئی۔
کیا سوچا ہے تم نے؟ میرا خیال ہے اب تمہیں سچ بتا دینا چاہیے۔ اندازہ تو تم لگا ہی چکی ہو کہ ’’
جب تک میں نہ چاہوں تمہیں اس قید سے رہائی ملنے والی نہیں۔‘‘ وہ کئی دن کے ملگجے لباس
سوجی آنکھوں بے حال حلیے اور بکھرے بال لیے اسے دیکھے گئی تھی۔
کیا سچ؟ میں تو کچھ نہیں جانتی مجھے تو ابھی تک ٹھیک سے تمہارا نام تک یاد نہیں۔ مجھے ’’
تو بس اتنا پتا ہے کہ تم بینش کے کزن ہو۔ تم سے چند ایک بار سامنا ہوا بھی تو اتنا عام سا کہ
مجھے یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آ رہا کہ میری تم سے کیا دشمنی نکلتی ہے جو تم نے مجھے اُٹھوا
لیا۔‘‘ بات کرتے کرتے وہ رو دی تھی۔ بازل خان چونک کر اسے دیکھے گیا۔اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی وہ لڑکی اپنے م ٔوقف پر قائم تھی۔سچ بتانے پر آمادہ ہی نہ تھی۔
‘‘اس کا مطلب ہے کہ تم سچ نہیں بتائو گی؟’’
کیسا سچ…‘‘ وہ چیخ اُٹھی تھی۔’’
شٹ اپ…‘‘ وہ ایک دم چپ رہ گئی۔’’
جانتی ہو اگر تم نے مجھے اس سارے ڈرامے کے بارے میں نہ بتایا تو میں تمہارے وجود کے ’’
پرخچے اُڑا دوں گا۔ تم تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ میں کس حد تک جا سکتا ہوں۔‘‘ اس کا بازو
کھینچ کر اپنے حصار میں لے لیا تھا اور ربدا پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھے گئی۔
یہ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ ابھی تک تم میرے قہر سے بچی ہوئی ہو۔ اگر رہائی چاہتی ہو تو ’’
‘‘صاف صاف اس سارے ڈرامے کا پس منظر بتا دو۔
کیسا ڈرامہ… خدا کی قسم میں تو تمہارے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی۔ مجھے تو ابھی تک ’’
اپنا قصور نظر نہیں آ رہا تمہیں کیا بتائوں؟‘‘ بازل خان نے اپنے انتہائی قریب کھڑی اس لڑکی کو
دیکھا۔
وہ چاہتا تو ایک پل میں اس لڑکی کا سارا غرور خاک میں ملا دیتا مگر اس کے باوجود وہ لڑکی سچ
بولنے پر آمادہ نہ تھی۔
کیا واقعی وہ بے قصور ہے؟‘‘ وہ اُلجھا تھا۔’’
تو پھر وہ تصاویر اور خطوط کہاں سے آ گئے؟‘‘ بازل خان کو لگا کہ اس کا دماغ پھٹ جائے گا اس ’’
گتھی کو سلجھاتے سلجھاتے۔
تم جانتی ہو میں کس حد تک جا سکتا ہوں۔ اس کے باوجود تمہیں مجھ سے خوف نہیں آ رہا۔‘‘ ’’
وہ گرجا تھا۔ وہ رو دی۔
‘‘مجھے چھوڑ دو۔ میں کچھ نہیں جانتی تم کیا پوچھ رہے ہو۔’’
تمہیں اپنے باپ کی موت کی خبر سن کر بھی کچھ اثر نہیں ہوا۔ اگر تم نے کچھ بھی نہ بتایا تو ’’
میں تمہاری بہن کو بھی ادھر لے آئوں گا… سمجھیں۔‘‘ ربدا کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ تم مار ڈالو مجھے تو بھی میں یہی کہوں گی کہ مجھے کچھ نہیں پتا کہ ’’
تم کیا کہہ رہے ہو۔ تم نے مجھے کیوں اُٹھوایا۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تو بازل خان حقیقتاً اُلجھ
گیا۔
اس کے قبضے میں موجود ایک کمزور اور بے بس لڑکی جس کا باپ اس کے اغوا کی خبر سے مر
چکا تھا بہن کی دھمکی اس پر اثر انداز نہیں ہوئی تھی وہ آخر کب تک اتنی حقیقی اداکاری کر
سکتی تھی۔ وہ کیونکر چپ رہ سکتی تھی۔
تم واقعی کچھ نہیں جانتیں کہ میں نے تمہیں کیوں اُٹھوایا ہے۔‘‘ ربدا نے بازل خان کے اس سوال ’’پر روتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
مجھے تو تمہارا نام ٹھیک سے نہیں آتا… بس اتنا پتا ہے تمہاری بیوی کا نام سارہ ہے۔ ایک دو بار ’’
بینش کے ہاں ملاقات ہوئی تھی نجانے تم کیا کیا کہہ رہے ہو۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔‘‘ بازل خان کا
جی چاہا کہ اپنا سر دیوار کے ساتھ مار لے۔ یہ لڑکی کئی دنوں سے اس کی تحویل اس کے رحم و
کرم پر تھی۔ اسے انسانوں کی اس حد تک تو پہچان تھی ہی کہ لہجوں سے جھوٹ سچ کا اندازہ
لگا سکتا۔
وہ لڑکی واقعی بے قصور تھی۔ تو پھر اس لڑکی کو اس کی لاعلمی میں استعمال کرنے والا کون
تھا۔ وہ کون تھا جس کا مقصد اس کی زندگی برباد کرنا تھا۔
اس نے ربدا کو چھوڑ دیا تھا وہ میٹرس پر گر کر شدت سے رو رہی تھی۔
اپنے باپ کو تو رو رہی ہوں اللہ کے لیے میری بہن کو کچھ نہ کہنا۔ اگر مجھے کچھ پتا ہوتا تو میں ’’
تم سے یہ کیوں پوچھتی کہ تم نے مجھے کیوں اُٹھوایا۔ خدا کے لیے مجھ پر اعتبار کرو میں جھوٹ
‘‘نہیں بولتی۔
بازل خان کتنے پل اسے بے حس و حرکت کھڑا دیکھتا رہا اور پھر تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔
ربدا نے شدت غم سے نڈھال ہو کر اپنے گھٹنوں پر اپنا سر گرا لیا۔
بہت سوچنے کے بعد بھی کوئی سرا ہاتھ نہ لگا تو وہ ایک حتمی فیصلہ کرتے اس لڑکی کے پاس
چلا آیا تھا رات کا ایک بج چکا تھا اس کے بلانے پر بخش دین ہڑبڑا کر اُٹھا تھا۔
…‘‘سلام صاحب’’
دروازہ کھولو۔ رفیق کو میں نے بلوا لیا ہے وہ گاڑی لیے منتظر ہے جب تک میں ادھر ہوں تم جا کر ’’
‘‘اپنا جلدی سے حلیہ بدل کر آ جائو۔
جی صاحب۔‘‘ اس کے کہنے پر بخش دین دروازہ کھول کر چلا گیا۔ وہ لڑکی آنکھوں پر بازو رکھے ’’
لیٹی ہوئی تھی۔
ہا
بازو کی آستین کہنی سے نیچے تک ڈھلکی ہوئی تھی جس سے اس کا دودھیا بازو واضح ہو ر
تھا۔
سنو لڑکی…‘‘ اس کی پکار پر ربدا نے تیزی سے نا صرف ہاتھ ہٹایا تھا بلکہ اُٹھ کر بھی بیٹھ گئی ’’
تھی۔
میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ جس طرح یہ لوگ تمہیں لے کر آئے تھے اسی طرح اسی ہسپتال میں ’’
یہ لوگ تمہیں چھوڑ کر آئیں گے۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور ربدا پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے
شخص کو دیکھ رہی تھی۔ یعنی اسے رہائی مل رہی تھی۔تمہارے لگائے زخموں نے مجھے اتنا وحشی بنا ڈالا تھا کہ جی چاہتا تھا کہ تمہارے خط میں لکھے ’’
ہر لفظ کو سچ کر دکھائوں۔ نجانے کس طاقت نے مجھے وحشی بننے سے روکے رکھا ورنہ جب بھی
تم سے سامنا ہوا جی چاہا کہ تمہارے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔‘‘ ربدا نے سہم کر اس کی
شکل دیکھی مگر وہ سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا۔
تم نے اپنا کوئی جرم قبول کرنا تو ایک طرف، حقیقت تک نہیں بتائی۔ تمہیں چھوڑنے کا یہ مطلب ’’
نہیں کہ مجھے تم پر اعتبار آ گیا ہے بلکہ میں تمہیں چھوڑ کر تمہاری اصلیت جاننا چاہتا ہوں۔ میں
جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے تمہیں حقیقت بتانے سے روکے رکھا۔ تم باہر کی
دنیا میں میری نگرانی میں رہو گی تمہاری ایک ایک بات، ہر عمل، ہر لفظ پر ہماری نگاہ ہو گی۔
ابھی میرے تم سے بہت سے حساب باقی ہیں مگر پھر بھی چھوڑ رہا ہوں۔‘‘ ربدا مسلسل حیرت
زدہ تھی۔
تم نے میرے ساتھ وہ ڈرامہ کیوں رچایا؟ یہی جاننا چاہتا تھا۔ تمہارے ڈرامے کی بدولت میری ’’
بیوی مجھ سے بدظن ہو گئی اور دنیا سے ہی ُرخصت ہو گئی حساب برابر رہا۔ تمہیں میں نے دنیا
کی نظر سے گرا دیا ہے۔ تمہارا باپ تمہارے اغوا کی خبر سن کر مر گیا۔ یہ حساب برابر ہے۔ میرے
رشتے مجھ سے چھینے تمہارے تمہیں رد کر دیں گے۔ لوگ تم سے نفرت کریں گے۔ ایک اغوا شدہ
لڑکی کی اس معاشرے میں کیا حیثیت ہے میرا انتقام اب ایسے پورا ہو گا۔‘‘ ربدا نے غم و اذیت
سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ کتنا ظالم اور سفاک تھا یہ انسان۔
ہاں ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو۔ نہ تم میری حیثیت سے بے خبر ہو اور نہ ہی میری ’’
پہنچ سے اور… تمہاری ایک چھوٹی خوبصورت سی بہن بھی ہے۔ رشتہ دار تمہارے اغوا کا سن
کر اور باپ کی موت کے بعد ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکے ہیں۔ اب تم لوگ دنیا کے رحم و کرم پر ہو۔ اگر
تم نے میرے متعلق زبان کھولی تو تمہاری بہن کا حشر ہی نہیں کروں گا بلکہ تمہارے دو چھوٹے
بھائی بھی ہیں۔ سنا ہے تمہیں اپنے بھائیوں اور ماں سے بہت محبت ہے۔ اب کی بار ان کو اُٹھوانے
کی غلطی نہیں کروں گا، بلکہ پورے گھرانے کو آگ لگا دوں گا۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے رہائی
چاہتی ہو تو ذہن میں کلیئر کر لو کہ باہر کی دنیا میں جا کر میرے خلاف کیا بیان دو گی آفٹر آل
تمہاری فیملی نے تمہاری گم شدگی کی رپورٹ پولیس میں درج کروا رکھی ہے۔ اب اگر تم اچانک
سامنے جائو گی تو یقینا انویسٹی گیشن بھی ہو گی اور میرا نام لیا تو جانتی ہو تمہارا پورا گھرانہ
نذر آتش کر دوں گا اور تمہاری بہن تم اس کی شکل تک پہچاننے کے قابل نہ رہو گی۔ کیا خیال ہے
‘‘منظور ہے رہائی۔

Read More:  Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 9

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: